تفسیر نمونہ جلد5
 

۱۰۸ وَلاَتَسُبُّوا الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ فَیَسُبُّوا اللهَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اٴُمَّةٍ عَمَلَہُمْ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ مَرْجِعُہُمْ فَیُنَبِّئُہُمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ۔
ترجمہ:
۱۰۸۔ایسے لوگوں (کے معبود) کو جو خدا کے علاوہ کسی کو پکارتے ہیں گالیاں نہ دو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ (بھی) ظلم وجہالت کی وجہ خدا کو گالیاں دےنے لگ جائیں، ہم نے ہر امت کے لئے ان کے عمل کو اسی طرح زینت دی اس کے بعد ان کی بازگشت تو ان کے پروردگار کی طرف ہی ہے، اور وہ انھیں ان کے اس عمل سے جو وہ کیا کرتے تھے آگاہ کرے گا(اور اس کی جزا یا سزا دے گا) ۔
تم مشرکین کے بتوں اور معبودوں کو کبھی گالیاں نہ دو
اس بحث کے بعد جو تعلیمات اسلامی کے منطقی ہونے، اور دعوت کے استدلال کے ذریعہ لازم ہونے اور جبری طریقہ سے نہ ہونے کے بارے میں گذشتہ آیات میں گزری ہے، ان آیات میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیاہے: تم مشرکین کے بتوں اور معبودوں کو کبھی گالیاں نہ دو کیوں کہ عمل سبب بن جائے گا کہ وہ بھی یہی کام خدا وند تعالی کی شان اقدس میں ظلم وستم اور جہل ونادانی کی وجہ سے دینے لگیں(وَلاَتَسُبُّوا الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ فَیَسُبُّوا اللهَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ
جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مومنین کا ایک گروہ مسئلہ بت پرستی وسخت برہمی کی بنا پر بعض اوقات مشرکین کے بتوں کو برا بھلا کہتے ہوئے انھیں گالیاں دیتا تھا ، قرآن نے صراحت سے انھیں اس بات سے منع کیا، اور اصول ادب وعفت اور شیریں بیان کو بیہودہ ترین اور بدترین مذہب وادیان کے مقابلہ میں بھی لازم وضروری قرار دیا۔
اس موضوع کی دلیل واضح ہے کیوں کہ گالی دینے اور برا بھلا کہنے سے کسی کو غلط راستے سے نہیں پھرایاجاسکتا ، بلکہ اس کے برعکس جہالت آمیز شدید تعصب جو اس قسم کے افراد میں ہوتا ہے اس بات بات کا سبب بن جاتا ہے کہ بقول :”روی دندئہ لجاحت افتادہ“(یعنی اپنی ہٹ دھرمی پر اڑ جانا) کے مطابق اپنے باطل دین اور زیادہ راسخ ہوجائے، اس صورت میں یہ بات آسان ہوجائے گی کہ خدا وند تعالی کی شان اقدس میں بدگوئی اور توہین کے لئے زبان کھولیں کیوں کہ ہر گروہ اور ہر مذہب کے لوگ اپنے عقائد واعمال میں متعصب ہوتے، جیسا کہ قرآن بعدوالے جملے میںکہتا ہے: ہم نے اس طرح ہر گروہ کے لئے ان کے عمل کو زینت دے دی ہے(کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اٴُمَّةٍ عَمَلَہُمْ )۔
اور آیت کے آخر میں کہتا ہے کہ: ان سب کی بازگشت خدا ہی کی طرف ہے اور وہ انھیں خبر دے گا کہ انھوں نے کون سے عمل انجام دئے ہیں(ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ مَرْجِعُھُمْ فَیُنَبِّئُہُمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ)۔

قابل توجہ نکات
۱۔ خدا زینت دیتا ہے؟ اوپر والی آیت میں ہر شخص کے اچھے اور برے اعمال کو اس کی نظر میں زینت دینے کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ، ہوسکتا ہے کہ یہ بات بعض لوگوں کے لئے تعجب کا باعث ہو کہ کیا یہ بات ممکن ہے کہ خدا وندتعالی کسی کے عمل بد کو اس کی نظر میں زینت دے۔
اس سوال کا جواب وہی ہے جو ہم بارہا بیان کرچکے ہیں کہ اس قسم کی تعبیرات عمل کی خاصیت اور اثر کی طرف اشارہ ہوتی ہے، یعنی جس وقت انسان کسی کام کو بار بار انجام دے تو آہستہ آہستہ اس کی قباحت اور بدی اس کی نگاہ میں ختم ہوجاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس کی نظر میں ایک عمدہ صورت اختیار کرلیتا ہے اورچونکہ علت العلل اور مسبب الاسباب اور ہر چیز کا خالق خدا ہے اور تمام تاثیرات خدا ہی کی طرف منتہی ہوتی ہیں لہٰذا قرآن کی زبان میں اس قسم کے آثار کی بعض اوقات اس کی طرف نسبت دے دی جاتی ہے(غور کیجئے گا)۔
زیادہ واضح تعبیر میں” زین لکل امةعملھم “ کا معنی یہ ہے کہ ہم نے انھیں ان کے برے اعمال کے نتیجے میں گرفتار کردیا ہے یہاں تک کہ برائیاں ان کی نظر میں اچھائیاں معلوم ہونے لگی۔
اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جو بعض آیات قرآن میں عمل کو زینت دینے کی نسبت شیطان کی طرف دی گئی ہے وہ بھی اس بات سے اختلاف نہیں رکھتی کیوں کہ شیطان انھیں برے عمل کے انجام دینے کا وسوسہ کرتا ہے اور وہ شیطان کے وسوسے کے سامنے جھک جاتے ہیں آخر کار وہ اپنے عمل کے نتائج بد میں گرفتار ہوجاتے ہیں،علمی تعبیر کے لحاظ سے سببیت توخدا کی طرف سے ہے لیکن ایجاد سبب ان افراد اور شیطانی وسوسوں کے ذریعے ہوتا ہے ۔(۱)

۲۔ گالیاں نہ دینے کا حکم:اسلامی روایات میں بھی گمراہ اور منحرف لوگوں کو گالیاں نہ دینے کی قرآنی منطق کی پیروی کی گئی ہے اس لام کے بزرگ پیشوا ؤں اور رہنماؤں نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ ہمیشہ منطق واستدلال کا سہارا لیں اور مخالفین کے اعتقادات کے بارے میں گالی دینے کے لاحاصل حربے کو وسیلہ نہ بنائیں، ہم نہج البلاغہ میں پڑھتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام اپنے اصحاب کی ایک جماعت کو جو جنگ صفین کے دنوںمیں معاویہ کے پیروکار کو گالیاں دے رہی تھی، فرماتے ہیں:
انی اکرہ ان تکونواسبابین ولاکنکم لو وصفتم اعمالھم وذکرتم حالھم کان اصوب فی القول وابلغ فی العذر۔
مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم فحش گوئی کرنے والے اور گالیاں دینے والے بنو، اگر تم گالیاں دینے کے بجائے، ان کی کارگزاریوں کو بیان کرو اور ان کے حالات کا تذکرہ کرے(اور ان کے اعمال کا تجزیہ وتحلیل کرو) تو یہ بات حق وراستی کے زیادہ قریب ہے اور اتمام حجت کے لئے بہتر ہے۔(2)
۳۔بت پرست اور خدا کے بارے میں بدگوئی؟ بعض اوقات یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ بت پرست خدا کے بارے میں بدگوئی کریں جب کہ ان کی اکثریت اللہ کا اعتقاد رکھتی تھی اور بتوں کا اس کی بارگاہ میں شفیع قرار دیتی تھی۔
لیکن اگر ہم ہٹ دھرم اور متعصب عوام کی وضع و کیفیت میں غور وفکر کریں تو ہم دیکھے گے کہ یہ بات کوئی زیادہ تعجب کا باعث نہیں ہے اس قسم کے لوگ جب غصہ میں آجاتے ہیں تو پھر کوشش کرتے ہیں کہ وہ مد مقابل کو جس طرح بھی ممکن ہو تکلیف اور دکھ پہنچائیں، چاہے اس کے لئے طرفین کے مشترک عقائد کی ہی بدگوئی کرنی پڑے، مشہور سنی عالم آلوسی تفیر روح المعانی میں نقل کرتے ہیں کہ جاہل عوام میں سے بعض نے جب یہ دیکھا کہ شیعہ شیخین کو برا بھلا کہتے ہیں تو انھیں غصہ آگیا اور انھوں نے حضرت علی - کی شان میں گستاخی اور اہانت شروع کردی، ایسے ایک شخص سے جب یہ پوچھا گیا کہ تو حضرت علی - کی جو تیری نزدیک بھی قابل احترام ہے کیوں اہانت کرتا ہے؟ تو وہ یہ کہنے لگا کہ میں یہ چاہتا تھا کہ شیعوں کو اس طرح سے تکلیف اور دکھ پہنچاؤں، کیوں کہ میں نے انھیں اس چیز سے زیادہ اور کسی چیز کو دکھ دینے والا نہیں دیکھا اور بعد میں اسے اس عمل سے توبہ کرنے پر آمادہ کیا۔(3)
..............
۱۔ آیات قرآن میں ۸ مقامات پر برے اعمال کے زینت دینے کی نسبت شیطان کی طرف دی گئی ہے اور دس ۱۰ مقامات پر فعل مجہول کی شکل میں (زین) آیا ہے اور دو مقامات پر خدا کی طرف نشبت دی گئی ہے، اوپر جو کچھ بیان ہوا ہے اس پر توجہ کرتے ہوئے تینوں مقامات کا معنی واضح ہوجاتا ہے۔
2۔نہج البلاغہ، کلام ۲۰۶صبحی صالح۔
3۔ تفسیر روح المعانی آلوسی جلد۷ صفحہ ۲۱۸۔

۱۰۹ وَاٴَقْسَمُوا بِاللهِ جَہْدَ اٴَیْمَانِہِمْ لَئِنْ جَائَتْہُمْ آیَةٌ لَیُؤْمِنُنَّ بِہَا قُلْ إِنَّمَا الْآیَاتُ عِنْدَ اللهِ وَمَا یُشْعِرُکُمْ اٴَنَّہَا إِذَا جَائَتْ لاَیُؤْمِنُونَ
۱۱۰ وَنُقَلِّبُ اٴَفْئِدَتَہُمْ وَاٴَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوا بِہِ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُہُمْ فِی طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُونَ
ترجمہ:
۱۰۹۔انھوں نے بہت ہی اصرارسے اللہ کی قسم کھائی کہ اگر کوئی نشانی(معجزہ) ان کے لئے آجائے تو وہ یقینی طور پر اس پر ایمان لے آئیں گے (اے رسول تم یہ) کہہ دو کہ معجزات خدا کی طرف سے ہوتے ہیں( اور یہ بات میرے اختیار میں نہیں ہے کہ میں تمھاری خواہش پر معجزہ لے آؤں) اور تم نہیں جانتے کہ وہ معجزات کے آجانے کے باوجود ایمان نہیں لائےںگے۔
۱۱۰۔ اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو اوندھا کردیں گے کیوں کہ وہ ابتدا میں ایمان لائے تھے اور انھیں طغیان وسرکشی کے عالم میں خود ان کی حالت مین چھوڑ دےں گے تاکہ وہ سرگرداں ہوجائیں۔

شان نزول
مفسرین کی ایک جماعت نے اس آیت کی شان نزول کے بارے میں یہ نقل کیا ہے کہ قریش کا ایک گروہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ تم موسیٰ- اور عیسیٰ - کے بڑے بڑے معجزات بیان کرتے ہو اوراسی طرح دوسرے انبیاء کے بھی، تم بھی ہمیں کوئی ایسا ہی کام کرکے دکھاؤ تاکہ ہم ایمان لائیں، پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ تم کونسا کام چاہتے ہو کہ میں اسے تمھارے لئے انجام دوں ، انھوں نے کہا کہ تم خدا سے درخواست کرو کہ وہ کوہ صفا کو سونے میں تبدیل کردے اور ہمارے بعض پہلے کے مرے ہوئے مردے زندہ ہوجائیں اور ہم ان سے تیری حقانیت کے بارے میں سوال کریں اور ہمیں فرشتے بھی دکھا جو تیرے بارے میں گواہی دیں یا خدا اور فرشتوں کا اکھٹا اپنے ساتھ لے آ۔
پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ میں اگر ان میں سے بعض کام انجام دے دوں تو کیا تم ایمان لے آؤ گے؟ انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم ہم ایسا کریں گے( یعنی ایمان لے آئیں گے) مسلمانوں نے جب مشرکین کا اس سلسلہ میں اصرار دیکھا تو پیغمبر سے تقاضا کیا کہ آپ ایسا کریں شاید یہ ایمان لے آئیں، جونہی پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم دعا کرنے کے لئے آمادہ ہوئے کہ ان میں سے بعض مطالبات کے لئے خدا سے دعا کریں( کیوں کہ ان میں سے بعض تو نامعقول اور محال تھے) کہ امین وحی خدا نازل ہوئے اور یہ پیغام لائے کہ اگر آپ چاہیں تو آپ کی دعا قبول ہوجائے گی لیکن اس صورت میں (چونکہ ہر لحاظ سے اتمام حجت ہوجائے گا اور یہ حسی طور پر ظاہر بظاہر کھل کر سامنے آجائے گا) اگر پھر بھی یہ ایمان نہ لائے تو سب کو سخت عذاب ہوگا( اور نیست ونابود ہوجائیں گے) لیکن اگر ان کے تقاضوں کو پورا نہ کیا جائے اور تم انھیں ان کی اپنی اسی حالت پر چھوڑ تو ممکن ہے کہ ان میں سے بعض آئندہ توبہ کرلیں اور راہ حق اختیار کرلیں، پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے اسے قبول کرلیا اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں۔
انھوں نے انتہائی اصرار کے ساتھ یہ قسم کھائی
گذشتہ آیات میں توحید کے بارے میں متعدد منطقی دلیلیں بیان ہوئی ہیں کہ جو خدا کی وحدانیت اور اثبات اور شرک وبت پرستی کی نفی کے لئے کافی تھیں لیکن اس کے باوجود ہٹ دھرم اور متعصب مشرکین کی ایک جماعت نے سرتسلیم خم نہ کیا اور وہ بہانے تراشنے لگے اور منجملہ ان کے، پیغمبر ﷺسے عجیب غریب خارق العادات کے لئے کہ جن میں سے بعض تو بنیادی طور پر محال تھے، مطالبہ کرنے لگے اور دروغ بیانی کے ساتھ یہ دعوا کرنے لگے کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ اس قسم کے معجزات دیکھ کر ایمان لے آئیں، قرآن پہلی آیت میں ان کی کیفیت اور وضع کو اس طرح بیان کرتا ہے : انھوں نے انتہائی اصرار کے ساتھ یہ قسم کھائی کہ اگر ان کے لئے معجزہ آجائے تو وہ ایمان لے آئیں گے(وَاٴَقْسَمُوا بِاللهِ جَہْدَ اٴَیْمَانِہِمْ لَئِنْ جَائَتْہُمْ آیَةٌ لَیُؤْمِنُنَّ بِہَا)۔(۱)
قرآن ان کے جواب میں دو حقیقتوں کو بیان کرتا ہے: پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ تو ان سے یہ کہہ دے کہ یہ کام میرے اختیار میں نہیں ہے کہ میں تمھارے ہر مطالبے اور ہر تقاضے کو پورا کردوں، بلکہ معجزات تو صرف خدا ہی کی طرف سے (ہوتے) ہیں اور اسی کے فرمان سے ظہور پذیر ہوتے ہیں


( قُلْ إِنَّمَا الْآیَاتُ عِنْدَ اللهِ)۔
اس کے بعد روئے سخن ان سادہ لوح مسلمانوں کی طرف کرتے ہوئے کہ جو ان کی سخت اور شدید قسموں سے متاثر ہوگئے تھے کہتا ہے: تم نہیں جانتے کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں اوراگر یہ معجزات اور ان کی درخواستوں کے مطابق مطلوبہ نشانیاں دکھا بھی دی جائیں تب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لایئں گے( وَمَا یُشْعِرُکُمْ اٴَنَّہَا إِذَا جَائَتْ لاَیُؤْمِنُونَ )۔(2)
پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے ان کے ساتھ ٹکراؤ کے مختلف مناظر اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ یہ گروہ حق کی جستجو میں نہیں تھا بلکہ ان کا ہدف اور مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو بہانہ تراشیوں میں لگائے رکھیں اور شک وشبہ کے بیج ان کے دلوں بکھیرتے رہیں۔
بعد والی آیت میں ان کی ہٹ دھرمی کی علت کی اس طرح وضاحت کی گئی ہے کہ وہ کجروی، جاہلانہ تعصبات اور حق کے مقابلہ میں سرتسلیم خم نہ کرنے پر اصرار کی وجہ سے قوت ادراک اور صحیح نظر کھو بیٹھے ہیں، اور حیران وپریشان اور گمراہ ہوکر سرگردانی کے عالم میں پھر رہے ہیں چنانچہ قرآن اس طرح کہتا ہے: ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو دگرگوں کردےں گے جیسا کہ وہ آغاز میں اور دعوت کی ابتدا میں ایمان نہیں لاتے تھے( وَنُقَلِّبُ اٴَفْئِدَتَہُمْ وَاٴَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوا بِہِ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ)۔
یہاں بھی اس کام کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے جس کی ایک نظیر قبل کی آیات میں گزرچکی ہے، یہ حقیقت میں خود ان ہی کے اعمال کا نتیجہ اور عکس العمل ہے، اس کی خدا کی طرف نسبت اس عنوان سے ہے کہ وہ علت العلل اور عالم ہستی کا سرچشمہ ہے اور ہر چیز میں جو بھی خاصیت ہے وہ اسی کے ارادہ سے ہے، دوسرے لفظوں میں خداوند تعالی نے ہٹ دھرمی، کجروی اور اندھے تعصبات میں یہ اثر پیدا کیا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ انسان کے ادراک اور فکرونظر کو بے کار کردیتے ہیں۔
آیت کے آخر میں کہتا ہے: ہم انھیں طغیان وسرکشی کی حالت میں ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ سرگرداں پھرتے رہیں( وَنَذَرُہُمْ فِی طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُون)۔(3)

۱۱۱ وَلَوْ اٴَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَیْہِمْ الْمَلاَئِکَةَ وَکَلَّمَہُمْ الْمَوْتَی وَحَشَرْنَا عَلَیْہِمْ کُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَا کَانُوا لِیُؤْمِنُوا إِلاَّ اٴَنْ یَشَاءَ اللهُ وَلَکِنَّاٴَکْثَرَہُمْ یَجْہَلُونَ۔
ترجمہ:
۱۱۱۔ اور اگر ہم ان پر فرشتوں کو نازل کردیتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اورتمام چیزوں کو ان کے سامنے جمع کردیتے تو بھی وہ ہرگز ایمان نہ لاتے، مگر یہ کہ خدا چاہے ، لیکن ان میں سے اکثر نہیں اجانتے۔

تفسیر
۱۔ ”جھد“ کسی بھی کام کام کرنے کے لئے سعی وکوشش کو کہتے ہیں اور یہاں تاکیدی قسموں کے لئے کوشش کرنا مراد ہے۔
2۔اس بارے میں کہ اوپر والے جملے میں ”ما“ استفہامیہ ہے یا نافیہ اور اسی طرح جملے کی ترکیب کی کیفیت میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف پایا جاتا ہے، بعض نے ”ما“ استفہام انکاری قرار دیا ہے، حالانکہ اگر ایسا ہوتو جملہ کا معنی یہ ہوگا کہ :تم کہاں سے جانتے ہو کہ اگر معجزہ آگیا تو یہ ایمان نہیں لائیں گے، یعنی ہوسکتا ہے کہ وہ ایمان لے آئیں اور یہ مفہوم مقصود آیت کے بالکل برخلاف ہے، لہٰذا بعض نے ”ما“ کو نافیہ قرار دیا ہے (اور ذہن سے زیادہ نزدیک بھی یہی ہے) تو اس بنا پر جملے کا معنی اس طرح ہوگا: تم نہیں جانتے کہ اگر یہ معجزات دکھا بھی دئے جائیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے، اس صورت میں ”یشعر“ کا فاعل لفظ”شیء“ ہے جو مقدر ہے اور ”یشعر“ کے دومفعول ہیں پہلا مفعول”کم“ اور دوسرا ”انھا‘۔(غور کیجئے گا)
3۔ ”یعمھون“،”عمہ“(بروزن”قدح“)کے مادہ سے سرگردانی اور تحیر کے معنی میں ۔
خدا وند تعالی ہم سب کو اس قسم کی سرگردانی سے جو ہمارے بے سوچے سمجھے اعمال کا نتیجہ ہے محفوظ رکھے اور ہمیں قوت ادراک اور ایسی کامل نظر مرحمت فرمائے کہ ہم حقیقت کے چہرے کو اس کی اصلی ہیئت وصورت میں دیکھ لیں۔

ہٹ دھرم لوگ راہ راست پر کیوں نہیں آتے؟۔
یہ آیت گذشتہ آیات کے ساتھ مربوط ہے ، یہ سب آیات ایک ہین حقیقت کو بیان کرتی ہیں، ان چندآیات کا مفہوم یہ ہے کہ ان عجیب وغریب معجزات کا تقاضا کرنے والوں میں سے بہت سے اپنے تقاضوں میں سچے نہیں ہیں اور کا ہدف حق کو قبول کرنا نہیں ہے لہٰذا ان کے مطالبات میں میں سے بعض (مثلا خدا کا ان کے سامنے آنا) اصولا محال ہے۔
وہ اپنے گمان کے مطابق چاہتے یہ ہےںکہ ان عجیب وغریب معجزات کا تقاضا کرکے مومنین کے افکار کو متزلزل کردیں اور حق طلب لوگوں کے نظریے خلط ملط ہوں اور یہ انھیں اپنی طرف مشغول کرنا چاہتے ہیں۔
قرآن زیر نظر آیت میں صراحت کے ساتھ کہتا ہے:اگر ہم (جس طرح انھوں نے درخواست کی تھی) فرشتوں کو ان پر نازل کردیتے، اور مردے بھی آجاتے اور ان سے باتیں کرتے اور خلاصہ یہ کہ جو جومطالبات اور تقاضے وہ کررہے تھے ان سب کو جمع کردیتے تو پھر بھی وہ ایمان نہ لاتے(وَلَوْ اٴَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَیْہِمْ الْمَلاَئِکَةَ وَکَلَّمَہُمْ الْمَوْتَی وَحَشَرْنَا عَلَیْہِمْ کُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَا کَانُوا لِیُؤْمِنُوا)۔(۱)
اس کے بعد تائید مطلب کے لئے فرماتا ہے: صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ وہ ایمان لے آئیں اور وہ یہ ہے کہ خدا وند تعالی اپنی جبری مشیت کے ذریعہ انھیں ایمان کے قبول کرنے پر آمادہ کردے اور یہ بات ظاہر ہے کہ اس قسم کا ایمان کوئی تربیتی فائدہ اور تکاملی اور ارتقائی اثر نہینں رکھتا( إِلاَّ اٴَنْ یَشَاءَ اللهُ )۔
آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے کہ ان میں سے اکثر جاہل اور بے خبر ہیں (وَلَکِنَّاٴَکْثَرَہُمْ یَجْہَلُون)۔
اس بارے میں کہ اس جملے میں ضمیر ”ھم“ سے کون سے اشخاص مراد ہیںمفسرین کے درمیان اختلاف ہے ممکن ہے یہ اشارہ ان مومنین کی طرف ہو جو یہ اصرار کررہے تھے کہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کفار کے اس گروہ مطالبات پورا کردیں اور جس جس معجزہ کے لئے وہ تقاضا کررہے ہیں وہ لے آئیں۔
ان مومنین میں سے کیوں بہت سے اس واقعیت سے بے خبر تھے اور اس بات کی طرف متوجہ نہیں تھے کہ وہ اپنے تقاضے میں سچے نہیں ہیں، لیکن خدا جانتا تھا کہ یہ مدعی جھوٹ بول رہے ہیں، اسی بنا پر ان کے مطالبات کو پورا نہ کیا، لیکن اس بنا پر کہ دعوت پیغمبر معجزہ کے بغیر نہیں ہوسکتی لہٰذا خاص مواقع پر ان کے ہاتھ پر مختلف معجزات ظاہر کئے۔
یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر”ھم“ کا مرجع اور بازگشت تقاضا کرنے والے کفار ہوں، یعنی ان میں سے بیشتر اس واقعیت سے بے خبر ہیں کہ خدا ہر قسم کے خارق العادات فعل پر قدرت رکھتا ہے، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کی قدرت کو محدود جانتے ہیں، لہٰذا جب بھی پیغمبر کوئی معجزہ دکھاتے تھے تو وہ اسے جادو یا نظر فریبی پر محمول کرتے تھے جیسا کہ ہم دوسری آیت میں پڑھتے ہیں:
”وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِیہِ یَعْرُجُونَ لَقَالُوا إِنَّمَا سُکِّرَتْ اٴَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ“
”اگر ہم آسمان سے کوئی دروازہ ان کے اوپر کھول دیتے اور وہ اس کے ذریعے اوپر جڑھ جاتے تو کہتے کہ ہماری تو نظروں کو دھوکہ دیا گیا ہے اور ہمارے اوپر جادو کردیا گیا ہے“۔(حجر:۱۴۔۱۵)
اس بنا پر وہ نادان اور ہٹ دھرم گروہ ہے، لہٰذا ان کی اور ان کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں کرنا چاہئے۔
..............
۱۔ حَشَرْنَا عَلَیْہِمْ کُلَّ شَیْء“سے مراد یہ ہے کہ تمام چیزیں او ان کے تمام مطالبات پورے کردئے جائیں، کیوں کہ”حشر“ اصل میں جمع کرنے اور ایک دوسرے کے گرد لانے کے معنی میں ہے، اور” قبلا“ کا معنی روبرو اور مدمقابل ہونا ہے ، یہ احتمال بھی ہے کہ” قبلا“ قبیل کی جمع ہو، یعنی گروہ در گروہ فرشتے اور مردے اور ----ان کے سامنے حاضر ہوں۔

۱۱۲ وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیَاطِینَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ یُوحِی بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوہُ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ ۔
۱۱۳ وَلِتَصْغَی إِلَیْہِ اٴَفْئِدَةُ الَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَلِیَرْضَوْہُ وَلِیَقْتَرِفُوا مَا ہُمْ مُقْتَرِفُونَ ۔
ترجمہ:
۱۱۲۔ اس طرح ہم نے ہر نبی کے مقابلے میں شیاطین جن وانس سے کچھ دشمن قرار دئے ہیں کہ جوپر فریب اور بے بنیاد باتیں (لوگوں کو غافل رکھنے کے لئے) مخفی طور (اور کانوں میں ) ایک دوسرے سے کہتے تھے اور اگر تیرا پرور دگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے (اور وہ انھیں جبری طور پر روک سکتا تھا لیکن اجبار واکراہ کا کوئی فائدہ نہیں ہے) اس بنا پر انھیں اوران کی تہمتوںکو ان کی حالت پر چھوڑ دو۔
۱۱۳۔ اور(شیطانی وسوسوں اور شیطان صفت افراد کی تبلیغات کا ) نتیجہ یہ ہوگا کہ ان لوگوں کے دل جو روز قیامت پر ایمان نہیں رکھتے ان کی طرف مائل ہوجائیں گےاور وہ اس پر راضی وجائیں گے اور جو گناہ بھی وہ انجام دینا چاہیں گے، دیں گے۔

تفسیر
اس آیت میں اس بات کی وضاحت کی جارہی ہے کہ اس قسم کے سخت اور ہٹ دھرم دشمنوں کا پیغمبر اسلام (ص)کے مقابلہ میں وجود کہ جس کی طرف گذشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے صرف آنحضرت کی ذات کے لئے ہی منحصر نہیں تھا بلکہ تمام انبیاء ہی کے مقابلہ میں شیاطین جن وانس میں سے دشمن موجود تھے ( وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیَاطِینَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ) اور ان کاکام یہ ہوتا تھا کہ ”وہ پر فریب باتیں اور ایک دوسرے کو غافل کرنے کے لئے پر اسرار طریقے پر بھی اور ظاہر بظاہر بھی ایک دوسرے کے کان میں کہتے تھے( یُوحِی بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا)۔
لیکن اشتباہ نہیں ہونا چاہئے کہ ”اگر خدا چاہتا تو وہ جبرا سب کو روک سکتا تھا“تاکہ کوئی شیطان یا شیطان صفت انبیاء اور ان کی دعوت کے راستے میںکوئی معمولی سے معمولی رکاوٹ بھی نہ ڈال سکے( وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوہُ)۔
لیکن خدا وند تعالی نے یہ کام نہیں کیا کیوں کہ وہ یہ چاہتا تھا کہ لوگ آزاد رہیں تاکہ ان کی آزمائش اور ارتقاو پرورش کے لئے میدان موجود ہیں، جب کہ جبرا ور سلب آزادی اس ہدف کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتے، اس کے علاوہ اس قسم کے سخت اور ہٹ دھرم دشمنوں کاوجود ( اگر چہ ان کے اعمال خود ان کی خواہش وارادہ کے ماتحت تھے ) نہ صرف یہ کہ وہ سچے مومنین کے لئے کوئی ضرر نہیں رکھتا، بلکہ غیر مستقیم طریقہ سے ان کے ان کے تکامل میں مدد کرتا ہے چونکہ ہمیشہ تکامل وارتقا تضادات میں پنہاں ہوتا ہے اورایک طاقتور دشمن کا ہونا انسان کی قوتوں کے اجتماع اور اس کے ارادوں کی تقویت کے لئے موثر ہے ۔
لہٰذا آیت کے آخر میںخدائے تعالیٰ پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ تم اس کی شیطانیتوں کی کسی طرح بھی پرواہ نہ کرو اور انھیں اور ان کی تہمتوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دو( فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ )۔

چند قابل توجہ نکات
۱۔ مندرجہ بالا آیت میں خدا وند تعالی شیاطین جن وانس کے وجود کی نسبت اپنی طرف دے رہا ہے اور کہتا ہے: ”وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا“ (ہم نے ایسا قرار دیا)ن اس جملے کے معنی کے بارے میں اختلاف ہے، لیکن جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ انسانوں کے تمام اعمال ایک لحاظ سے خدا کی طرف بھی منسوب کئے جاسکتے ہیں، کیوں کہ ہر شخص جو کچھ بھی رکھتا ہے وہ خدا ہی کی طرف سے ہے ، اس کی قدرت اسی کی طرف سے ہے جیسا کہ اس کا اختیار اور اس کی آزادی بھی اسی کی طرف سے ہے، لیکن ایسی تعبیرات کا مفہوم ہرگز جبر اور سلب اختیار نہیں ہے کہ خدا نے کچھ لوگوں کو اس طرح سے پیدا کیا ہو کہ وہ انبیاء کے مقابلے میں دشمنی کے لئے کھڑے ہوجائیں۔
کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو ضروری تھا کہ وہ اپنی عداوت ودشمنی میں کسی قسم کی کوئی مسئولیت اور جوابدہی نہ رکھتے ہوتے بلکہ ان کا کام ایک رسالت کی انجام دہی شمار ہوتا، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔
البتہ اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس قسم کے دشمنوں کا وجود چاہے وہ خود ان کے اپنے اختیار سے ہی ہو، مومنین کے لئے بلا واسطہ طور پر اصلاح کنندہ اثر رکھتا ہے، اور بہتر لفظوں میں سچے مومنین ہرقسم کے دشمن کے وجود سے مثبت اثر لے سکتے ہیں اور اسے اپنی آگاہی و آمادگی اور مقاومت کی سطح بلند کرنے کا وسیلہ بناسکتے ہیں کیوں کہ دشمن کا وجود انسان کی قوتوں کے اجتماع کا سبب اور باعث ہوتا ہے۔
۲۔ لفظ”شیاطین“ ”شیطان“ کی جمع ہے اور یہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور وہ ہر سرکش باغی اور موزی موجود کے معنی میں، لہٰذا قرآم میں پست ، خبیس اور سرکش انسانوں پر بھی لفظ شیطان بولا گیا ہے، جیسا کہ اوپر والی آیت میں لفظ شیطان کا انسانی شیطانوں پر بھی اور ایسے غیر انسانی شیطانوں پر بھی جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں، اطلاق میں وہ تمام شیاطین کا رئیس وسردار ہے، اس بنا پرشیطان کا اسم خاص ہے کہ جوحضرت آدم علیہ السلام کے مقابل میں آیا تھا اور حقیقت میں وہ تمام شیاطین کا رئیس وسردار ہے، اس بنا پر شیطان اسم جنس ہے اور ابلیس اسم خاص ہے۔(۱)
۳۔ ”زخرف القول“ پر فریب باتوں کو کہتے ہیں، جن کا ظاہر خوشنما اور باطن قبیح اور برا ہوتا ہے اور غرور کا معنی غفلت میں رکھنا ہے۔(۲)
۴۔ زیر نظر آیت میں وحی کی تعبیر اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ اپنے شیطانی گفتار واعمال میں ایسے اسرار آمیز پروگرام رکھتے ہیں کہ جن کو وہ رازدارانہ طریقے سے ایک دوسرے کی طرف ارتقا کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگ ان کے کاموں سے آگاہ نہ ہوں اور ان کی سازشیں کامل طور پر کامیابی سے ہمکنار ہوجائیں، کیوں کہ ”وحی“ کے معانی میں سے ایک معنی لغت میں آہستہ اور کان میں بات کرنا بھی ہے ۔
بعد والی آیت میں شیاطین کی پر فریب تلقینات وتبلیغات کے نتیجے کو اس طرح بیان کیا گیا ہے : ان کے کام کا سر انجام یہ ہوگا کہ بے ایمان افراد یعنی وہ کہ جو قیامت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کی باتوں کو کان لگا کر سنیں گے اور ان کے دل ان کی طرف مائل ہوں گے ( وَلِتَصْغَی إِلَیْہِ اٴَفْئِدَةُ الَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ)۔
آیت کی ترتیب کے بارے میں اوریہ کہ لفظ ”وَلِتَصْغَی“ کا عطف کس پر ہے مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، آیت کے مفہوم کے ساتھ جو بات زیادہ مناسب ہے وہ یہ ہے کہ اس کا عطف ”یوحیٰ“ پر ہونا چاہئے اور اس کی ”لام“ عاقبت کی لام ہے، یعنی شیاطین کے کام کا انجام یہ ہوگا کہ وہ پر فریب باتیں ایک دوسرے سے کہیں گے، اور بے ایمان افراد ان کی طرف مائل ہوجائیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ”غرورا“ کے اوپر عطف ہو جو ”مفعول لاجلہ “ ہے، یعنی ”لیفترو اولتصغیٰ“ کیوں کہ انسان مرحلہ اول میں فریب کھاتا ہے اور پھر میلان پیدا رکرتا ہے(غور کیجئے گا)۔
”لتصغی“ ،”صغو“ (بروزن سرو) کے مادہ سے کسی چیز کی طرف میلان پیدا کرنے کے معنی میں ہے لیکن زیادہ تر اس میلان ورغبت پر بولا جاتا ہے کہ جو سماعت اور کان کے وسیلہ سے حاصل ہو اور اگر کوئی شخص کسی کی بات پر موافقت کی نظر سے کان دھرے تو اس کو ”صغو“ اور ”اصغاء“ کہتے ہیں۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ اس میلان کا انجام شیطانی پروگراموں پر کامل طور پر راضی ہونے کی صورت میں نکلے گا( وَلِیَرْضَوْہ )۔
اور ان سب کا نتیجہ مختل قسم کے گنہاہوں کے ارتکاب اور برے اور ناپسندیدہ اعمال کی صورت میں رونما ہوگا (وَلِیَقْتَرِفُوا مَا ہُمْ مُقْتَرِفُون)۔
..............
۱۔ اس سلسلہ میں ہم تفسیر نمونہ کی پہلی جلد صفحہ ۱۶۶ پر بھی بحث کرچکے ہیں۔
۲۔اس طرف توجہ رکھنی چاہئے کہ ”زخرف“ اصل میں ”زینت“ کے معنی میں اور اسی طرح ”سونے“ کے معنی میں بھی کہ جو زینت کا ایک ذریعہ ہے، بعد ازاں دھوکہ اور فریب دینے والی باتوں پر بھی کہ جن کا ظاہر زیبا اور خوبصورت ہو”زخرف“ اور ”مزخرف“ بولاجانے لگا۔