ذبح عظیم
 

علی کرم اللہ وجھہ شہر علم و حکمت کا دروازہ
ایک حدیث عام ہے کہ تاجدار کائنات حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ مکمل حدیث یوں ہے :

9. عن ابن عباس رضي الله عنه انه قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم انا مدينة العلم و علي بابها فمن اراد العلم فليات الباب
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں شہر علم ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں پس جو کوئی علم کا ارادہ کرے وہ دروازے کے پاس آئے۔
1. المعجم الکبير لطبراني، 11 : 55
2. مستدرک للحاکم، 3 : 126 - 127، رح : 11061
3. مجمع الزوائد، 9 : 114
حدیث پاک کا دوسرا حصہ کہ پس جو کوئی علم کا ارادہ کرے وہ دروازے کے پاس آئے، بہت کم بیان کیا جاتا ہے۔ ارشاد کا مدعا یہ ہے کہ جس کو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم درکار ہے وہ علی کے دروازے پر آئے یہ در چھوڑ کر کوئی علم مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دہلیز کو نہیں پا سکتا۔

10۔ اسی طرح ایک روایت ہے کہ :
عن علي رضي اﷲ عنه قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم انا دارالحکمة و علي بابها
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔
1. جامع الترمذی، 5 : 637، کتاب المناقب باب 21
2. کنز العمال، 13، 147، ح : 36462

علی کا ذکر عبادت ہے
اصحاب رسول اخوت و محبت کے لازوال رشتے میں بندھے ہوئے تھے، یہ عظیم انسان حضور کے براہ راست تربیت یافتہ تھے ان کی شخصیت کی تعمیر اور کردار کی تشکیل خود معلم اعظم حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی تھی، حکمت اور دانائی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام کے گھر کی باندی تھی، ایثار و قربانی کا جذبہ ان کے رگ و پے میں موجزن تھا۔ مواخات مدینہ کی فضا سے اصحاب رسول کبھی باہر نہ آ سکے یہ فضا اخوت و محبت کی فضا تھی، بھائی چارے کی فضا تھی۔ محبت کی خوشبو ہر طرف ابر کرم کی طرح برس رہی تھی، صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار میں کوئی فرق نہ تھا۔ اعتماد اور احترام کے سرچشمے سب کی روحوں کو سیراب کر رہے تھے اور عملاً ثابت ہو رہا تھا کہ فکری اور نظریاتی رشتے خون کے رشتوں سے زیادہ مستحکم اور پائیدار ہوتے ہیں۔ غلط فہمیوں پر مبنی تفریق و دوری کی خودساختہ کہانیاں بعد میں تخلیق کی گئیں۔ جنگ جمل کے تلخ واقع کو ذھن میں رکھتے ہوئے عام طور پر بعض کوتاہ اندیش یہ سمجھتے ہیں کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے درمیان بغض وعداوت کی بلند و بالادیواریں قائم رہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، جنگ جمل کے اسباب کچھ اور تھے جو اس وقت ہمارے موضوع سے خارج ہیں لیکن ان دونوں عظیم ہستیوں میں مخاصمت کے افسانے تراشنے والوں کو اس روایت پر غور کرناچاہیے۔

11. عن عائشه انه قال ذکر علي عبادة
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حضرت علی کا ذکر عبادت ہے۔
1. فردوس الاخبار للديلمي، 2 : 367، ح : 2974
2. کنزالعمال، 11 : 601، ح : 32894
گھر میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سوا کوئی تیسرا شخص موجود نہ تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تنہا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سن رہی تھیں اگر چاہتیں تو باہر کسی سے بیان نہ کرتیں۔ دل میں (خدانخواستہ) کھوٹ یا میل ہوتا تو چپ سادھ لیتیں اور یہ حدیث چھپا لیتیں کہ اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان ہے۔ لیکن بلا کم و کاست فرمان رسول نقل کر دیا کیونکہ حقیقت چھپا کر رکھنا منافقت کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام اور اہلبیت اطہار کو بغض و منافقت جیسی روحانی بیماریوں سے کلیتاً صاف فرمایا تھا۔
اللہ کی عزت کی قسم اگرکسی کی ساری رات حب علی میں علی علی کرتے گزر گئی تو خدا کے حضور یہ ورد عبادت میں شمار ہو گا کیونکہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان کے مطابق علی کا ذکر عبادت ہے۔

چہرہ علی رضی اللہ عنہ کو دیکھنا بھی عبادت
12۔ اسی طرح ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی روایت کرتی ہیں۔
کان ابوبکر يکثر النظر الي وجه علي فساله عائشة فقال سمعت رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم النظر الي وجه علي عبادة
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بڑی کثرت کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کو دیکھتے رہتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ حضرت علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے۔
(الصواعق المحرقه، 177)

13۔ اسی طرح ایک اور روایت ہے :
عن عبدالله عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال النظر الي وجه علي عبادة
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت علی کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔
1. المستدرک للحاکم، 3 : 141 - 142
2. المعجم الکبير للطبراني، 10 : 77، ح، 32895
3. فردوس الاخبار للديلمي، 5 : 42، ح : 1717
4. کنز العمال، 11 : 60، ح : 32895
5. مجمع الزوائد، 9 : 111، 119
یار غار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ حضرت علی شیر خدا کا ذکر جمیل بھی عبادت ہے پھر ابوبکر کے ماننے والوں اور حضرت علی کے پیروکاروں میں یہ دوریاں کیوں؟ یہ فاصلے کیوں؟ علی کو ماننے والو! تم ابوبکر کو ماننے والوں سے دور کیوں ہو گئے ہو؟
ان مقدس ہستیوں میں کوئی مغائرت اور دوری نہیں تھی وہ توایک ہی مشعل کی نورانی کرنیں تھیں مگر آج مسلمانوں نے خود ساختہ ترجیحات نکال نکال کر کئی گروہ تشکیل دے رکھے ہیں اور آئے روز ان کے درمیان خون ریزی کا بازار گرم رہتا ہے۔
اے گرفتارِ ابوبکر و علی ہوشیار باش

حضرت علی (رض) مولائے کائنات
چونکہ ولایت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیض حضرت علی سے چلنا تھا اور ’’ذبح عظیم،، حسین کو ہونا تھا اس لئے ضروری تھا کہ ولایت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ولایت علی شیر خدا بن جائے اور ولایت علی شیر خدا ولایت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تصور کی جائے۔ روایت کے آئینہ خانے میں ایک اور عکس ابھرتا ہے غبار نفاق چھٹ جاتا ہے اور حقائق کا چہرہ مزید اجلا ہو جاتا ہے :

14. عن رياح بن الحرث قال جاء رهط الي علي بالرحبط فقالوا السلام عليکم يا مولانا قال کيف اکون مولا کم و انتم قوم عرب قالوا سمعنا رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يو غديرخم يقول من کنت مولاه فان هذا مولاه
حضرت ریاح بن حرث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک گروہ حضرت علی کے پاس رحبط کے مقام پر آیا انہوں نے کہا اے ہمارے مولا تجھ پر سلام ہو آپ نے فرمایا میں کیسے تمہارا مولا ہوں جبکہ تم عرب قوم ہو انہوں نے کہا کہ ہم نے ’’غدیرخم،، کے مقام پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ جس کا میں ولی ہوں اس کا یہ (علی) مولا ہے۔
(مسند احمدبن حنبل، 5 : 419)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا اور فرمایا کہ جس کا میں ولی ہوں علی اس کا مولا ہے۔

15۔ ایک دوسرے مقام پر آتا ہے :
عن زيد بن ارقم عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال من کنت مولاه فعلي مولاه
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں جس کا مولا ہوں اس کا علی مولا ہے۔
(جامع الترمذي، 2 : 213)
پہلے تاجدار عرب و عجم نے فرمایا کہ جس کا میں ولی ہوں علی اس کا مولا ہے پھر فرمایا جس کا میں مولا ہوں اس کا علی بھی مولا ہے۔ نبی ہونے اور نبی کا امتی ہونے کا فرق رہتا ہے لیکن دوئی کا ہر تصور مٹ جاتا ہے اس لئے کہ باطل دوئی پسند اور حق لا شریک ہے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارگاہ خداوندی میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے اور فرمایا میرے اللہ جو علی کو ولی جانے تو اس کا ولی بن جا یعنی جو علی سے دوستی کرے تو بھی اس کا دوست بن جا اور جو علی سے دشمنی کرے تو بھی اس کا دشمن ہو جا، جو علی کی مدد کرے تو بھی اس کی مدد کر اور جو علی کے ساتھ ہے تو بھی اس کے ساتھ ہو جا، ذیل میں متعلقہ حدیث پاک درج کی جا رہی ہے:

16. عن عمرو بن ذي مرو زيد بن أرقم قالا خطب رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يوم غديرخم فقال من کنت مولاه فعلي مولاه اللهم وال من والاه و عاد من عاده وانصرمن نصره و اعن من اعانه
حضرت عمرو بن ذی مرو اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم غدیرخم کے موقع پر خطبہ ارشاد فرمایا کہ جس کا میں ولی ہوں علی اس کے ولی ہیں۔ ’’ اے اللہ تو اس سے الفت رکھ جو علی سے الفت رکھتا ہے اور تو اس سے عداوت رکھ جو اس سے عداوت رکھتا ہے اور تو اس کی مدد کر جو اس کی مدد کرتا ہے اور اس کی اعانت کر جو علی کی اعانت کرتا ہے۔،،
المعجم الکبير للطبراني، 4 : 17، ح : 3514
گویا حضرت علی کے چہرہ انور کو دیکھتے رہنا بھی عبادت، ان کا ذکر بھی عبادت، حضور فرماتے ہیں کہ علی تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں ارشاد ہوا کہ جس کا ولی میں ہوں علی اس کا مولا ہے پھر ارشاد ہوا کہ جس کا میں مولا علی بھی اس کا مولا اور یہ کہ میں شہر علم ہوں اور علی اس کا دروازہ، علم کا حصول اگر چاہتے ہو تو علی کے دروازے پر آ جاؤ اور دوستی اور دشمنی کا معیار بھی علی ٹھہرے۔

17. عن ابي طفيل قال جمع علي رضي الله عنه الناس في الرحبة ثم قال لهم انشد الله کل امرئي مسلم سمع رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يقول يوم غديرخم ماسمع لما قام فقام تلاثون من الناس و قال ابو نعيم فقام ناس کثير فشهدوا حين اخد بيده فقال للناس اتعلمون اني اولي بالمومنين من انفسهم قالوا نعم يا رسول الله قال من کنت مولاه فهذا علي مولاه اللهم وال من والاه و عاد من عاداه
حضرت ابی طفیل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس رحبہ کے مقام پر بہت سارے لوگ جمع تھے ان میں سے ہر ایک نے قسم کھا کر کہا کہ ہم ميں سے ہر شخص نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے غدیرخم کے موقع پر خطاب فرمایا جس کو وہاں کھڑے ہوئے تیس آدمیوں نے سنا۔ ابو نعیم نے کہا کہ بہت سارے لوگ جمع تھے انہوں نے گواہی دی کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر لوگوں سے فرمایا کہ کیا تم جانتے نہیں کہ میں مومنین کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں انہوں نے کہا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کا میں ولی ہوں اس کا علی ولی ہے اے اللہ تو بھی الفت رکھ جو اس سے الفت رکھتا ہے اور تو اس سے عداوت رکھ جو اس کے ساتھ عداوت رکھتا ہے۔
(مسند احمد بن حنبل، 4 : 370)

اصحاب بدر کی گواہی
روایات میں مذکور ہے کہ ان تیس صحابہ میں اصحاب بدر بھی موجود تھے، غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں نے بھی گواہی دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا اور ہم نے سنا تھا اور دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر اونچا کیا اور ہم سب سے کہا تھا کہ مسلمانو! کیا تم نہیں جانتے کہ میں مسلمانوں کی جانوں سے بھی زیادہ قریب تر ہوں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا سچ فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے، آپ ہم سب کی جانوں سے بھی قریب تر ہیں، فرمایا مجھے عزیز رکھنے والو سنو! میں اس کا عزیز ہوں جو علی کو عزیز رکھتا ہے جس کا میں مولا ہوں اس کا علی بھی مولا ہے، اے مالک! تو بھی اس کا ولی بن جا جو علی کو ولی جانے۔

18. عن زياد بن ابي زياد سمعت علي بن ابي طالب ينشد الناس فقال انشد الله رجلا مسلما سمع رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يقول يوم غديرخم ما قال فقام اثنا عشر بدر يا فشهدوا
حضرت زیاد بن ابی زیاد نے حضرت علی سے سنا کہ جو لوگوں سے گفتگو فرما رہے تھے کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے غدیرخم کے موقع پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا وہ سچ ہے اور اس چیز کی بارہ بدری صحابہ نے کھڑے ہو کر گواہی دی۔
(مسند احمد بن حنبل، 1 : 88)
اس حدیث کو روایت کرنے والوں میں حضرت ابوہریرہ، حضرت انس بن مالک، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت مالک بن حویرث، ابو سعید خدری، حضرت عمار بن یاسر، حضرت براء بن عازب، عمر بن سعد، عبداللہ ابن مسعود، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔
جو شخص ولایت علی کا منکر ہے وہ نبوت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منکر ہے، جو فیض علی کا منکر ہے وہ فیض مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی منکر ہے جو نسبت علی کا منکر ہے، وہ نسبت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منکر ہے، جو قربت علی کا باغی ہے وہ قربت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا باغی ہے، جو حب علی کا باغی ہے وہ حب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی باغی ہے اور جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا باغی ہے وہ خدا کا باغی ہے۔

19۔ فرمایا رسول محتشم نے :
عن عمار بن ياسر قال قال رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم اوصي من آمن بي وصدقني بو لاية علي بن ابي طالب من تولاه فقدتولاني ومن تولاني فقد تولي الله عزوجل ومن احبه فقد اجني
حضرت عمار بن یاسر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایمان لایا اور جس نے میری نبوت کی تصدیق کی میں اس کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ علی کی ولایت کو مانے جس نے علی کی ولایت کو مانا اس نے میری ولایت کو مانا اور جس نے میری ولایت کو مانا اس نے اللہ عزوجل کی ولایت کو مانا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص قیامت تک مجھ پر ایمان لایا اور جس نے میری نبوت کی تصدیق کی میں اس کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ علی کی ولایت کو مانے۔ علی وصیت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، ولایت علی وصیت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، حضور علیہ السلام نے فرمایا جس نے علی کی ولایت کو مانا اس نے میری ولایت کو مانا جس نے میری ولایت کو مانا اس نے اللہ کی ولایت کو مانا، جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔ جس نے مجھ سے محبت کی اس نے خدا سے محبت کی، جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس نے اللہ سے بغض رکھا۔

20. ومن احبني فقد احب الله تعالي ومن ابغضه فقد ابغضي ومن ابغضي فقد ابغض الله عزوجل
اور جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے مجھ سے محبت کی اس نے خدا سے محبت کی جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا جس نے مجھ سے بغض رکھا اس نے اللہ سے بغض رکھا۔
(مجمع الزوائد، 9 : 109)
اسی مفہوم کی دیگر روایات مندرجہ ذیل کتب میں ملاحظہ کریں۔
1. مسند احمد بن حنبل، 1 : 84
2. مسند احمد بن حنبل، 1 : 119
3. مسند احمد بن حنبل، 4 : 370
4. ابن ماجه المقدمه : 43، باب 11 فضل علي ابن ابي طالب، ح : 116
5. المعجم الکبري للطبراني، 2 : 357، ح : 2505
6. المعجم الکبري للطبراني، 4 : 173، ح : 4052
7. المعجم الکبري للطبراني، 4 : 174، ح : 4053
8. المعجم الکبري للطبراني، 5 : 192، ح : 4059
9. المعجم الاوسط لطبراني، 3 : 69، ح : 2131
10. المعجم الکبري الاوسط لطبراني، 3 : 100، ح : 2204
11. المعجم الصغير، 1 : 64
12. مسند ابي يعلي، 1 : 428، 429، ح : 567
13. مسند ابي يعلي، 2 : 80 - 81، ح : 458
14. مسند ابي يعلي، 2 : 87، ح : 464
15. مسند ابي يعلي، 2 : 105، ح : 479
16. مسند ابي يعلي، 2 : 105، ح : 480
17. م سند ابي يعلي، 2 : 274، ح : 454
18. مسند ابي يعلي، 3 : 139، ح : 937
19. کنز العمال، 13 : 154، ح : 3648
20. کنز العمال، 13 : 157، ح : 36486
21. کنز العمال، 13 : 158، ح : 36487
22. مجمع الزوائد، 9 : 106، 107
23. موارد النعمان، 544، ح : 2205

بغض علي رضي اللہ عنہ بغض خدا
21۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت ملاحظہ فرمائیں :
عن ام سلمه قالت اشهد اني سمعت رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يقول من احب عليا فقد احبني ومن احبني فقد احب اﷲ ومن ابغض عليا فقد ابغضني ومن ابغضني فقد ابغض اﷲ
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ میں نے اپنے کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا تحقیق اس نے اللہ سے بغض رکھا۔
(ايضاً : 132)

دونوں جہانوں کے سید
22. عن ابن عباس رضي الله عنهما قال نظر النبي صلي الله عليه وآله وسلم الي علي فقال يا علي انت سيد في الدنيا سيد في الاخره حبيبک حبيبي و حبيبي حبيب الله وعدوک عدوي و عدوي عدوالله والويل لمن ابغضک بعدي
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور فرمایا اے علی تو دنیا میں بھی سید ہے اور آخرت میں بھی سید ہے، جو تیرا حبیب (دوست) ہے وہ میرا حبیب ہے اور جو میرا حبیب ہے وہ اللہ کا حبیب ہے، جو تیرا دشمن ہے وہ میرا دشمن ہے اور جو میرا دشمن ہے وہ اللہ کا دشمن ہے اور بربادی ہے اس شخص کیلئے جو میرے بعد تجھ سے بغض رکھے۔
(المستدرک للحاکم، 3 : 128)
بڑی واضح حدیث ہے فرمایا علی تو دنیا میں بھی سید ہے اور آخرت میں بھی سید ہے تیرا حبیب میرا حبیب ہے اور میرا حبیب خدا کا حبیب، تیرا دشمن میرا دشمن اور میرا دشمن خدا کا دشمن، آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ولایت علی کو ولایت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار دے رہے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کیوں؟ یہ حدیث اس کی وضاحت کر رہی ہے۔ مسند احمد بن حنبل میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں تکرار کے ساتھ فرمایا :

23. فانه منی و انا منه وهو وليکم بعدي
علی مجھ سے ہے میں علی سے ہوں میرے بعد وہ تمہارا ولی ہے۔
(مسند احمد بن حنبل، 5 : 356)

24۔ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت بھی ملاحظہ ہو وہ فرماتے ہیں کہ :
قال قال رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم ادعوا لي سيد العرب فقالت عائشة رضي الله عنه الست سيد العرب يا رسول الله فقال انا سيد ولد آدم و علي سيد العرب
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عرب کے سردار کو میرے پاس بلاؤ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کیا آپ عرب کے سردار نہیں ہیں یا رسول اللہ، آپ نے فرمایا کہ میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور علی رضی اللہ عنہ عرب کے سردار ہیں۔
1. مستدرک للحاکم، 3 : 124
2. مجمع الزوائد، 9 : 116
3. کنزالعمال، 11 : 619

غوثیت سے قطبیت تک وسیلہ جلیلہ
ولایت علی کے فیض کے بغیر نہ کوئی ابدال بن سکا اور نہ کوئی قطب ہوسکا۔ ولایت علی کے بغیر نہ کسی کوغوثیت ملی اور نہ کسی کو ولایت، حضرت غوث الاعظم جو غوث بنے وہ بھی ولایت علی کے صدقے میں بنے، امامت، غوثیت، قطبیت، ابدالیت سب کچھ ولایت علی ہے، اس لئے آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔

25. عن أم سلمه قالت سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول من سبعليا فقدسبني
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
(مسند احمد بن حنبل، 6 : 323)
( المتدد، للحاکم، 3 : 121)

جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھ کو گالی دی۔
اس سے بڑ ھ کردوئی کی نفی کیا ہوگی اور اب اس سے بڑھ کر اپنائیت کا اظہار کیا ہوگا کہ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے علی کو گالی دی وہ علی کو نہیں مجھے دی۔
طبرانی اور بزار میں حضرت سلمان سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا

26. محبک محبي ومبغضک مبغضي
علی تجھ سے محبت کرنے والا میرا محب ہے اور تجھ سے بغض رکھنے والا مجھ سے بغض رکھنے والا ہے۔
المعجم الکبير للطبراني، 6 : 239، رقم حديث : 6097
حدیث پاک اپنی تشریح آپ ہے۔ اوپر ہم نے اس حوالے سے سیدنا علی کے جو فضائل علی رضی اللہ عنہ بیان کئے ہیں وہ محض استشھاد ہیں ورنہ حضرت علی کو رب کائنات اور رسول کائنات نے جو فضیلتیں عطا کیں ان کا احاطہ ممکن نہیں۔