علم قافیہ


سرقہ غیر ظاہر کی قسمیں:
سرقہ غیر ظاہر معیوب نہیں بلکہ اگر اچھا تصرف ہے تو مستحسن سمجھا جاتا ہے ۔
(1) دو شاعروں کے اشعار میں معنوی مشابہت کا ہونا۔
(2) ایک کے شعر میں دعویٰ خاص ہو اور دوسرے شعر میں عام۔
(3) کسی کے مضمون کو تصرف سے نقل کرنا۔
(4) دوسرے شعر کے مضمون کا پہلے شعر سے متضاد و مخالف ہونا۔
(5) پہلے شعر کے مضمون میں مستحسن تصرف کرنا اور یہ بہت مستحسن ہے ۔

نوٹ:
کسی خاص غرض میں شعرا کا اتفاق سرقہ نہیں کہلاتا ( جےس شجاعت یا سخاوت وغیرہ سے کسی کی تعریف کرنا ) کیونکہ ایسی باتیں تمام لوگوں کی عقول و عادات میں مذکور ہوتی ہیں۔ البتہ اس غرض پر دلالت کرنے کے لئے جو تشبیہات اور استعارات و کنایت استعمال کئے جائیں ان میں سرقہ ہو سکتا ہے ۔ مگر جو استعارات و تشبیہات نہایت مشہور ہیں جےس شجاع کو اسد سے تشبیہ دینا اور سخی کو دریا سے وغیرہ وغیرہ ان میں سرقہ نہیں ہوتا۔
سرقہ شعری کے ذکر میں، میں نے متداولہ رائے سے کسی قدر اختلاف کیا ہے ۔ متداولہ رائے یہ ہے کہ اگر کوئی شعر بجنسہ یا بتغیر الفاظ کسی دوسرے کلام میں پاتا جائے تو اس کو سرقہ سمجھنا چاہےb میں نے اس پر اتنا اضافہ کیا ہے کہ سرقہ اس وقت سمجھا جائے گا اگر اس دوسرے شاعر نے باوجود علم کے بدنیتی سے یعنی لوگوں پر یہ ثابت کرنے کے لےا کہ یہ میرا شعر ہے وہ شعر بجنسہ یا اس کا مضمون بتغیر الفاظ چرایا ہو۔ مثلاً غالب کا مطلع ہے ۔

دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
زخم کے بھرنے تلک ناخن بڑھ آئیں گے کی

اور شاد لکھنوی کہتے ہیں
کوئی دم راحت جنوں کے ہاتھ پائیں گے کیا
زخم بھر جائیں گے تو ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا۔

اس میں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ شاد کو غالب کے شعر سے آگاہی تھی تو یقیناً یہ سرقہ کی حد میں آتا ہے ۔
البتہ اس قاعدے سے وہ اشعار مستثنیٰ ہیں جن میں کوئی محاورہ یا مثل باندھی جائے ۔ مثلاً سانپ نکل گیا اب لکیر پیٹا کرو ایک مثل ہے جس سے یہ مطلب ہے کہ ایک زریں موقعہ ہاتھ سے جاتا رہا اب اس کی کوشش بیکار ہے اس مثل کو ان چار شاعروں نے باندھا ہے ۔

خیالِ زلف دو تا میں نصیر پیٹا کر
گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹ کر
(شاہ نصیر دہلوی)

سانپ تو بھاگ گیا پےٹت ہیں لوگ لکیر
خوب پوشیدہ کئے تم نے دکھا کر گیسو
( تمنا )

سردے دے مارو گیسوئے جاناں کی یاد میں
پیٹا کرو لکیر کو کالا نکل گیا
(رند)

دکھلا کے مانگ گسو ؤں والا نکل گیا
پیٹا کرو لکیر کو کالا نکل گیا
( شاد لکھنوی)

ان میں کوئی شعر کسی دوسرے شعر کا سرقہ نہیں کہا جا سکتا ۔ کیونکہ ہر شاعر نے ضرب المثل کو باندھا ہے مگر تعبس ہے کہ شاد ایسا استاد اور کہنہ مشق شاعر نے رند کا پورے کا پورا مصرعہ بلا کیسی تغیر و تبدیل کر کے اپنے کلام میں شامل کر لیا۔

تضمین و اقتباس
تعریف: دوسرے کے کلام کو شامل کر لینا۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔
(1) دوسرے کا کلام کو اپنے کلام میں اس طرح شامل کر لینا کہ یہ معلوم ہو کہ یہ دوسرے کا کلام نہیں۔
(2 ) دوسرے کے کلام کو اپنے کلام میں اس طرح شامل کرنا کہ یہ نہ معلوم ہو کہ یہ اسی کا کلام ہے بلکہ اشاراً بتا دینا کہ یہ دوسرے کا کلام ہے ۔ مثل
درد نے گویا کہا تھا یہ انہیں کے واسطے
اپنے اپنے بوریئے پر جو گدا تھا شیر تھ

ہدایت:
جب تک با وثوق ذرائع سے یہ علم نہ ہو کہ سرقہ کیا گیا ہے اس وقت تک کسی شعر پر سرقہ کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔