علم قافیہ


ردیف
لُغت میں ردیف اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو کسی کے پےچھ سوار ہو۔ اصطلاح میں ایک یا ایک سے زیادہ کلمے یا حروف مستقل کو جو قافیے کے بعد بار بار آئے ردیف کہتے ہیں۔ یہ اہل فارس کی اختراع ہے ۔ قدیم عربی زبان میں اس کا وجود نہیں پایا جاتا البتہ اب عرب شعرا بھی ردیف لاتے ہیں۔
ردیف کا بصورت ِ لفظ یا الفاظ مستقل ہونا ضروری ہے مگر منعا بھی ایک ہونا لازم نہیں۔ مراد اس سے یہ کہ بلحاظ کتابت شکل ایک ہونی چاہئے ۔ مثل

نویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لئے
رہے نہ طرزِ ستم کوئی آسماں کے لئے

گدا سمجھ کے وہ چپ تھا، مری جو شامت آئی
اٹھا اور اُٹھ کے قدم نے پاسباں کے لئے

ان اشعار میں " جان" ، " آسمان" ، اور " پاسبان " قوافی ہیں اور " کے لئے " ردیف ۔ دوسرے شعر میں ردیف کے وہ معنی نہیں رہے جو پہلے دو دو مصرعوں میں ہیں۔
اگر ردیف قافیے سے پہلے آئے یا دو قافیوں کے درمیان واقعہ ہو تو ایسی ردیف کو حاجب کہتے ہیں

مثال اول
ملنا ہمارا ان کا تو کب جائے جائے ہے
البتہ آدمی سو کبھی جائے جائے ہے ۔

مثال دوم

کہیں آنکھوں سے خوں ہوکے بہا
کہیں دل میں جنوں ہوکے رہ

ردیف کا تقابل فصحا کے نزدیک عیب ہے یعنی جو کلمہ ردیف ہو وہ پورا کلمہ ( سوائے مطلع کے ) پہلے مصرع میں نہیں آنا چاہئے ۔

اگر ہوتی رسائی عاشق مضطر کی قسمت میں
تو وہ اب تک پہونچ جاتا کبھی کا ان کی محفل میں

لیکن اگر ردیف کا کوئی جز پہلے مصرعے کے آخر میں آ جائے تو وہ معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ مثلاً۔

دادِ جاں بازی ملے گی آپ سے امید ہے
آج جانبازوں کا میلہ آپ کی محفل میں ہے ۔

شعر میں ردیف کا ہونا لازمی نہیں ہے ۔ صرف قافیہ کی پابندی لازم ہے ۔ جس شعر میں ردیف ہو اس کو مردّف کہتے ہیں۔ردیف کے لئے کوئی خاص مقدار بھی مقرر نہیں ہو سکتا ہے کہ ایک شعر صرف قافیے اور ردیف ہی پر مشتمل ہو۔