علم قافیہ


اقسام قافیہ بہ اعتبارِ روی
حرفِ روی کے لحاظ سے قافیہ کی چھ قسمیں ہیں:
( ١ ) جس قافیے میں حرفِ تاسیس ہوتا ہے اسے موسَس کہتے ہیں جےس قابل اور جاہل۔
( ٢ ) جس قافیہ میں حرفِ دخیل ہوتا ہے اسے مدخول کہتے ہیں جےس ماہر اور طاہر۔
( ٣ ) جس قافیے میں حرفِ ردف ہوتا ہے اسے مروّّف کہتے ہیں۔ جےسی کمال اور زوال۔
( ٤ ) جس قافیہ میں حرفِ قید ہوتا ہے اسے مقیّد کہتے ہیں جےسل برف اور ظرف۔
( ٥ ) جس قافیہ میں صرف حرفِ وصل یا وصل اور خروج یا وصل، خروج اور مزید وصل، خروج، مزید اور نائرہ بھی ہوں اسے مصولہ کہتے ہیں۔
( ٦ ) جس قافیے میں روی کے علاوہ اور کوئی حروف نہ ہو اُسے مجرّد کہتے ہیں۔

نوٹ :
موسَس، مدخول، مروف، مقیّد اور مجرّد سب کے سب قافیے کے اوصاف ہیں ان سب کا ایک ہی قافیے میں آنا ضروری نہیں۔

اقسام قافیہ بہ اعتبارِ وزن
وزن کے لحاظ سے قافیے کی پانچ قسمیں ہیں:

( ١ ) مترادف :
جس قافیے کے آخر میں دو ساکن بلا فصل واقع ہوں مثل
ہنگامہ گرم، ہستیِ نا پائیدار کا
چشمک ہے برق کی کہ تبسم شرار ک

( ٢ ) متواتر :
جس قافیے کے آخر میں دو ساکنوں کے درمیان ایک متحرک واقع ہو مثل
ہیں باغ و بہار دونوں وقف دشمن کے لےا
چند کانٹے رہ گئے ہیں میرے دامن کے لےں

( ٣ ) متدارک :
جس قافیے کے آخر میں دو ساکنوں کے درمیان متحرک واقع ہوں مثل
کہاں وہ ہجر میں اگلا سا ولولہ دل کا
کہو کہ موت کرے آ کے فیصلہ دل ک

( ٤ ) متراکب :
جس قافیے کے آخر میں دو ساکنوں کے درمیان تین متحرک واقع ہوں۔
تیغ ابرو سے جو عذر نہ کرے
اس کی آئی ہے موت کیوں نہ کیوں نہ مرے

( ٥ ) متکاؤس :
جس قافیے کے آخر میں دو ساکنوں کے درمیان چار متحرک واقع ہوں۔ اس قافیے کی مثالیں عربی تو موجود ہیں لیکن اردو، فارسی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
مترادف، متواتر، متدارک میخواں
متراکب متکاوسِ لقب قافیہ واں