علم قافیہ


حرکاتِ قافیہ
قافیہ کی حرکتیں ( زیر، زبر، پیش ) چھ طرح سے آتے ہیں ۔مختلف حالتوں میں ان کے نام یہ ہیں۔
1۔ رس
2۔ اشباع
3۔ حذو
4۔ توجیہہ
5۔ مجریٰ اور
6۔ نفاذ

قافیہ راشش بود حرکت بقول او ستاؤ
رس و اشاعست و مجری حذو و توجہہ و نِفاؤ

1۔ رس :
( لغوی معنی " ابتدا کرنا " ) وہ زبر ہے جو الف تاسیس سے پہلے آتی ہے ۔ جےس " ظَاہر" اور " مَاہر" میں " ظ " اور " م" کی زبر۔

2 ۔ اشباع :
( اسیر کرنا ) حرفِ دخیل کی حرکت کا نام ہے ( حرکت کا نام ہے ( حرکت تینوں میں سے کوئی بھی ہو ) مثلاً " چادر" اور" نادر" میں " دال" کی زبر ،" خاطر" اور " شاطر" میں " ط" کی زیر، " تغافُل" اور تجاہُل" میں " ف" اور "ہ" کی پیش۔

نوٹ:
اختلافِ اشباع جائز نہیں۔ یعنی " عالَم " اور " عالِم" ہم قافیہ نہیں ہو سکتے لیکن جب حرف روی وصل سے مل کر متحرک ہو جائے تو جائز ہے ۔مثلاً برابری اور شاطری میں ایک جگہ " ر" سے پہلے حرف ( ب) پر زبر ہے اور دوسری جگہ ( ط) کے نےچق زیر ۔

3 ۔حذو :
( دو چیزوں کا برابر کرنا) رِدف اور قید سے پہلے جو حرکت ہو اسے حذو کہتے ہیں جےسے " غبار " اور" شمار" میں " ب" اور" م " کی زبر" دور" اور " نور" میں " د" اور "ن" کی پیش ، " وزیر" اور " امیر" میں " ز " اور " م" کی زیر۔
نوٹ: اختلافِ حذو رِدف میں تو قطعاً جائز نہیں یعنی "دلیل" اور طُفیل " ہم قافیہ نہیں ہو سکتے ۔ البتہ حرف روی وصل سے مل کر متحرک ہو جائے تو بعض کے نزدیک قید میں جائز ہے مثلاً ، " شُستہ" اور " رَستہ " میں " ش" پر پیش سے اور " ر" پر زبر۔

4 ۔ توجہ :
( منہ پھرنا ) اس روی ساکن کے ماقبل کی حرکت کا نام ہے جس سے پہلے کوئی اور حرفِ قافیہ نہ ہو جےس "علم" اور " قلم" کے " ل" کی زبر۔

نوٹ:
اختلاف توجیہہ جائز نیںر " یعنی " ہم " اور" تُم" ہم قافیہ نہیں ہو سکتے ۔ البتہ جب حرف روی وصل سے مل کر متحرک ہو جائے تو جائز ہے ۔ جےسم " ہٹانا " اور " مٹانا" میں "ہ" پر زبر ہے اور " م" کے نےچز زیر ۔ لیکن ایسی حالت میں یہ حرکت ماقبل روی کہلاتی ہے ۔

5 ۔ مجریٰ :
( جاری ہونے کی جگہ) متحرک حرف روی کی حرکت کا نام ہے ۔ جےسل "حیرانی" اور " پیشانی" میں "ن" کی زیر۔

نوٹ: حرکتِ مجریٰ میں اختلاف جائز نہیں ہے ۔

6 ۔ نفاذ :
( فرمان کا جاری ہونا) حرفِ وصل کی حرکت کا نام ہے ۔ مثلاً " جائےے " اور "کھائےر " میں ہمزہ کی زیر۔
نوٹ: خروج اور نائرہ کی حرکات بھی نفاذ کہلاتی ہیں۔ نفاذ کے اختلاف کی نہ اجازت ہوتی ہے اور نہ گنجائش۔

عیوبِ قافیہ
عیوبِ قافیہ چار ہیں۔
بنزو عجم عیب چار است و آنہا
سناد است و اقوا و اکفا ایط
قافیہ میں عیب کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔

(1) اِکفا :
؛ حروف روی میں اختلاف۔ مثلاً " کتاب" کا قافیہ " آپ" لائیں۔ صلاح و تباہ ۔

(2) غلُّو :
حرفِ ایک جگہ ساکن ہو اور دوسری جگہ متحرک مثل
نہ پوچھ مجھ سے کہ رکھتا ہے اضطراب جگر
نہیں ہے مجھ کو خبر دل سے لے کے تا بہ جگر

(3) سِناد :
اختلافِ رِدُف قید کو کہتے ہیں مثلاً گوشت اور پوست، نَار اور نُور، صبر اور قہر، زماں و زمین وغیرہ۔

(4) اقوا :
اختلاف حذو اور اختلافِ توجیہہ کا نام ہے ۔ مثلاً طوُل اور ہول، ست اور مَسُت، جَست، جُست۔ وغیرہ۔

(5 ) تعدّی :
حرف وصل ایک جگہ ساکن ہو اور دوسری جگہ متحرک، اردو میں اس عیب کی کوئی مثال نہیں پائی جاتی البتہ عربی میں کئی مثالیں موجود ہیں۔

( 6 ) اِیطا :
مطلع میں قافیہ کی تکرار کو کہتے ہیں اس کا دوسرا نام قافیہ شائگان ہے ۔ اور اس کی دو قسمیں ہیں۔ (1) جلی اور ( 2 ) خفی۔
ایطائے جلی وہ ہے جس میں تکرار صاف ظاہر ہو مثلاً " درد مند" اور " حاجت مند" میں " مند" کی تکرار۔ گریاں و خنداں۔
ایطائے خفی وہ ہے کہ تکرار صریحی طور پر معلوم نہ ہوتی ہو مثلاً " دانا" اور " بینا" میں الف کی تکرار ۔ آب و گلاب۔

( 7 ) قافیہ معمولہ :
اس کی دو صورتیں ہیں۔ اگر کوئی لفظ اکیلا قافیہ نہ ہو سکے تو اس کے ساتھ دوسرا لفظ بڑھا کر قافیہ بنا لیں۔ یہ قافیہ معمولہ ترکیبی کہلاتا ہے ۔ مثلاً " پروانہ ہوا" ، " دیوانہ ہوا" وغیرہ قوافی ہوں تو " اچھا نہ ہُوا" بھی ان کے ساتھ لے آئیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ ایک لفظ کے دو ٹکڑے کر کے پہلے کو داخل قافیہ کر دیں اور دوسرے کو شریکِ ردیف مثل

درد منت کشِ دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہُوا بُرا نہ ہو

رہزنی ہے کہ دلستانی ہے
لے کے دل دلستاں روانہ ہوا

یہاں " نہ ہوا" ردیف تھی۔ضرورت شعری کی وجہ سے "روانہ " باندھنا پڑا " یعنی روانہ سے " نہ" کو کاٹ کر داخلِ ردیف کیا اس کو قافیہ معمولہ تخلیلی کہتے ہیں۔