علم قافیہ


قافیہ کے وصلی حروف
بعد از روی یہ ہیں۔
(1 ) وصل :
( لغوی مینن" ملنا" ) اصطلاح میں وصل وہ حرف ہے جو روی کے بعد بلا فاصلے آئے جےسں " موڑا " اور" چھوڑا " میں " الف " ، " حیرانی" اور" ویرانی" میں " ی" : جےسر بندہ اور خندہ کی ہ ۔
نوٹ: روی اور وصل میں یہ فرق ہے کہ وصل کو حذف کرنے سے کلمہ بامعنی رہتا ہے لیکن روی کے ہٹانے سے مہمل ہو جاتا ہے ۔ مثلاً اوپر کی مثال میں " ڑ" حرفِ روی ہے ، اس کو حذف کرنے سے کلمہ بے معنی ہو جائے گا۔ لیکن " الف" ( حرفِ وصل ) کے دور کرنے سے بامعنی رہے گا۔ دوسری مثال میں " ن" حرفِ روی ہے ۔ اس کے دور کرنے سے کلمہ ، کلمہ نہیں رہے گا۔ لیکن " ی" ( حرفِ وصل ) کے حذف کرنے کے باوجود کلمہ رہے گا۔
فارسی میں وصل کے بھی دس حرف مقرر کئے گئے ہیں: ا، د، ب، ت، س، م، ک، ن، ہ ، ش ۔ ان کو یوں نظم کیا گیا ہے ۔

وہ بود وصل فارسی گویا
الف و دال و کاف و ہا و یا

حرفِ جمع و اضافت و مصدر
حرف تصغیر و رابطہ است دگر

دیگر:
ہم الف ہم دال و تا و یا و سین
میم و کاف و نون و ہا و حروف شین

اردو میں اضافت اور مصدر کی شاید ہی کوئی مثال ہو، باقی قریب قریب سب استعمال ہوتے ہیں۔
حرفِ وصل کے متعلق یاد رکھنا ضروری ہے کہ وہ خود تو ساکن ہوتا ہے لیکن روی کو متحرک بنا دیتا ہے جب روی متحرک باقی ہے تو اسے مطلق کہتے ہیں ورنہ وہ مقید کہلاتی ہے ۔

(2) خروج :
( لُغوی معنی" باہر آنا" ) اصطلاح میں خروج وہ حرف ہے جو وصل کے بعد بلا فاصلہ آئے ۔ جےسر " جانا" اور " آن " میں " نون" کے بعد کا " الف "۔
(" نون "حروفِ وصل ہے اور اس سے پہلے کا " الف" حرفِ روی ) ۔

(3) مزید :
( لُغوی معنی " زیادہ کیا ہوا" ) اصطلاح میں مزید وہ حرف ہے جو خروج کے بعد بلا فاصلہ آئے ۔ جےسس " بچائے " اور " مچائے " میں " ئے "۔
( " چ" حرفِ روی ہے اور" الف " حرفِ وصل اور " ہمزہ " حرفِ خروج ہے ) ۔

(4) نائرہ :
( لُغوی معنی " دور بھاگنے والا" ) اصطلاح میں نائرہ وہ حرف ہے جو مزید کے بعد بلا فاصلہ آئے ۔ جےس " جگائے گا" اور " گائے گا" میں آخری " الف" ۔
( پہلے " گ" کے بعد کا " الف" حرفِ روی ہے اور " ہمزہ " حرفِ وصل ہے اور " ے " حرف خروج اور " گ " حرف مزید ہے ) ۔

نوٹ:
نائرہ کے بعد جو حرف آئے اسے ردیف میں شمار کریں گے ۔

حروفِ قافیہ کو یاد رکھنے کی غرض سے یوں نظم کیا گیا:

قافیہ دراصل یک حروف است و ہشت آں راطبع
چار پیش و چار پس این مرکز آں ہا دائرہ

حرف تاسیس و دخیل و رِدف و قید آنگہ روی
بعد ازاں وصل وخروج است و مزید و نائرہ

دیگر نہ حرف کہ درقافیہ گردد ظاہر
باید کہ شوی زنام ایشاں ماہر

حرف تاسیس و دخیل و قید و رِدف است و روی
وصل است و خروج است و مزید و نائرہ

دیگر:
قافیہ ہے اصل میں ایک، آٹھ شاخیں اس کی ہیں
چار آگے چار پےچھ یوں بنا ایک دائرہ

حرف تاسیس و دخیل و رِدف و قید اور پھر روی
بعد ازاں وصل و خروج اور پھر مزید و نائرہ

دیگر:
حرف نو قافیہ کے ہیں ظاہر
چار قبل روی ہیں اور چار آخر

پہلے تاسیس و رِدف و قید و دخیل
یاد رکھ اُن کو تو اگر ہے عقیل

بعد ازاں وصل پھر خروج و مزید
پھر اس کے نائرہ بھی ہے مزید

چار پہلے روی کے ہیں اصلی
بعد کے چار حرف ہیں وصلی

یہ بات ہمیشہ مد نظر رہنی چاہے کہ روی اور اس کے بعد جتنے حروفِ قافیہ ہیں ان کا اختلاف جائز نہیں، رِدف اور قید کو بھی نہیں بدل سکتے ، البتہ تاسیس اور دخیل میں اختلاف ہوس کتا ہے ۔
اردو کے شعرا کا خیال ہے کہ روی کے بعد جتنے حروف آتے ہیں وہ ردیف میں داخل ہیں خواہ وہ مستقل کلمہ ہوں یا نہ ہوں۔ اس بنا پر اردو میں حروف قافیہ صرف تاسیس، دخیل، رِدف اور روی ہوں گے ۔
بعض اہل فن کا خیال ہے کہ شعر کی بنیاد نغمے پر ہے اور نغمہ سماعت سے تعلق رکھتا ہے ۔اس لئے قافیے میں ہم آواز حروف ایک دوسرے کی جگہ لے سکتے ہیں۔ یعنی "پاس" کا قافیہ " خاص" اور " میراث " بھی جائز ہے ۔ لیکن یہ صحیح نہیں۔ صرف عربی ضمہ ( الٹا پیش ) ، فتحہ ( کھڑی زبر ) اور کسرہ ( کھڑی زیر ) نیز تنوین کی حد تک یہ اصول درست ہے یعنی " وضو" کا قافیہ " سلہ " ، " مالا " کا قافیہ اعلیٰ ، " آ " کا قافیہ " سہی " اور " فوراً " کا قافیہ " روشن" جائز ہے ۔
ہماری زبان میں بعض قوافی ایسے بھی ۔۔۔ ۔۔ آئے ہیں جن کے حروف نہ تو رِدف اور قید کی تعریف میں آتے ہیں۔ اور نا ہی انہیں تاسیس یا دخیل کہا جا سکتا ہے مثلاً رحمت زحمت ، زینت طینت، حرکت برکت، کہیں نہیں، یہیں وہیں ۔مفضور فغفور وغیرہ میں حروفِ روی سے پہلے کے حروف۔ ان کے لے بھی کچھ نام تجویز کرنے کی ضرورت ہے ۔