علم قافیہ


قافیہ کے اصلی حروف
اہل عجم نے قافیہ کے آٹھ حروف قرار دیئے ہیں چار قبل اور چار بعد از روی۔
قبل از روی مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ تاسیس ؛
(لغوی معنی " بنیاد رکھنا") اصطلاح میں تاسیس وہ الف ساکن ہے جو روی سے پہلے آئے اور حروف روی اور اس الف کے درمیان ایک حرف بطور واسطہ کے واقع ہو۔ جےسو شامل اور کامل کا الف۔
ہر طرف غُل اِدھر آ پیار کے قابل قاتل
کہیں ہے ہے کہیں اُف اُف کہیں قاتل قاتل
اس شعر میں قابل اور قاتل کا " ل" تو روی ہے اور الف تاسیس

نوٹ :
تاسیس کا لانا ہر قافیہ میں لازمی نہیں اگر مطلع میں عامل اور شامل قوافی لائے گئے ہوں تو پھر "دل" اور "مکمل" کو قوافی بنانا جائز نہیں ہوگا اور مطلع میں "قاتل" اور "بسمل" قوافی آئے ہوں تو بعد کے شعروں میں تاسیس کی پابندی ضروری نہیں

2۔ دخیل:
( لغوی معنی بیج میں آنے والا ) اصطلاح میں دخیل وہ حرف متحرک ہے جو تاسیس اور روی کے درمیان آئے ۔ مثلاً مندرجہ بالا شعر میں "قابل" کی "ب" اور "قاتل" کی "ت" یا مثلاً "کامل" اور "شامل" میں "م" ۔

نوٹ :
یہ ضروری نہیں کہ ہر قافیہ میں حرف دخیل بار بار لایا جائے ۔ یعنی " کابل" کے قوافی لازماً "عامل" اور "شامل" ہی سمجھے جائیں بلکہ "ساحل" اور "باطل" بھی اس کے قوافی ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر مطلع میں حرفِ دخیل کی تکرار واقع ہو تو پھر یہ تکرار تمام اشعار میں لازم ہوگی۔
3۔ رِدف : ( لغوی معنی کسی کے پےچھ پےچھ آنا ) اصطلاح میں رِدف وہ حرف مدّہ ہے جو روی سے پہلے بلا فاصلہ آئے ۔ مثلاً مال ، حور وغیرہ۔

الف کی مثال :
چمن میں گل نے جو کل دعویٰ جمال کیا
صبا نے مارا طمانچہ منہ اس کا لال کی
اس شعر میں " جمال " اور " لال " کا " ل" تو حرف روی ہے اور اس سے متصل " الف " رِدف

" ی" کی مثال:
ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھ
اس شعر میں " تاخیر" اور " عناں گیر" کی " ر " حرف روی ہے اس سے متصل " ی " رِدف
واؤ کی مثال:
ہے حرفِ خامہ دلِ زدہ حسنِ قبول کا
یعنی خیال سر میں ہے نعتِ رسول ک
اس شعر میں " قبول " اور " رسول " کا " ل" حرف روی ہے اور اس سے پہلے " واؤ " رِدف۔
__________
(١) حرف مدہ یہ ہیں (ا) الف ساکن ماقبل مفتوح مثلاً " بہار" اور " بخار" میں۔ (٢) یائے ساکن ماقبل مکسور مثلاً " اسیر" اور " امیر" اور (٣ ) واؤ ساکن ماقبل مضموم مثلاً " سرور " اور نفور " میں
_________
اگر حرفِ روی اور حرفِ مدّہ کے درمیان کے حرفِ ساکن بطور واسطہ واقع ہو تو وہ حرفِ ساکن " رِدف زائد" کہلاتا ہے ۔ جےس بانٹ اور چھانٹ میں " نون " دوست اور پوست میں " س "۔ جس رِدف میں رِدف زائد آئے اسے رِدف اصلی کہتے ہیں اور جس میں رِدف زائد نہ آئے وہ رِدف علی الاطلاق کہلاتی ہے ۔
" ردف زائد کے لئے یہ چھے حف مخصوص ہیں ش۔ر۔ف۔خ۔ن ان کا مجموعہ " شرف سخن" بنتا ہے ۔ جےسک بہ آسانی یاد رکھا جا سکتا ہے ۔
خواجہ نصیر الدین محققِ طوسی نے معیارالاشعار میں " رِدف زائد " کو " روی مضاعف" کا نام دیا ہے مگر عام طور پر ردف زائد ہی مستعمل ہے ۔

نوٹ :
1۔ شعرائے عرب و عجم نے رِدف کے اختلاف کو جائز رکھا ہے ۔ جےسں وجود کا قافیہ "وعید" لیکن اردو میں اختلاف ردف کسی طرح بھی جائز نہیں ۔
2۔ قافیے کا مدار تلفظ پر ہے کتابت پر نہیں ۔ پس واؤ معدولہ کو قافیے میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ یعنی " خواب" کا قافیہ " ماب" اور "خور" کا قافیہ " دُر " ہو سکتا ہے ۔
3۔ قید ( لغوی معنی بیڑی ، کتاب کا شیرازہ، یا شکنجہ ) اصطلاح میں حروفِ مدّہ کے سوا اور کوئی حرفِ ساکن حرفِ روی سے پہلے بلا فاصلہ آئے تو اسے قید کہتے ہیں مثلاً " رزم" اور " بزم " کی " ز" جےسر " درد " اور " فرد" میں ر ۔
اگر حرفِ ردف سے پہلے کی حرکت موافق نہ ہو ( یعنی " الف" سے پہلے " زبر" اور" ی" سے پہلے " زیر" اور " واؤ" سے پہلے " پیش" نہ ہو) تو حرف رِدف نہیں بلکہ قید سمجھا جائے گا جےسح جَور اور غَور میں واؤ اور خَبر اور غَیر میں " ی" ۔
عربی میں حرفِ قید متعدّد ہیں لیکن اہل عجم نے دس مقرر کئے ہیں؛ ب ، خ، ر، ز، س، ش، غ، ف، ن، اور ہ ۔ ان حرف کو مختلف اشعار میں نظم کیا گیا ہے ۔

1۔ در عجم واں وہ حروفِ قید یعنی با و خا
را و زا و سین و شین و فا و نون و ہ

2۔ با و خا و سین و شین و را و زا
غین و فا و نون و ہا گفتم تر

3۔ با و خا، را و زا ، سین و شین
غین و فا و نون و ہا می واں یقین

بعض اہل فن کے نزدیک فارسی میں حرفِ قید بارہ ہیں

حرفِ قید اندر زبانِ فارسی
وہ دو بالا ہست بشنو اے فت

با و خا، را و زا ، سین و شین
غین و فا و نون و واؤ ، ہا و ی

مگر اردو میں اس کی تعداد مقرر نہیں کی گئ۔