جدید مرثیہ
 


اردو ادب میں مرثیے اور سلام کی حیثیت
تسلیم الہیٰ زلفیؔ ( کینیڈا)

سانحۂ کربلا کے حوالے سے اُردو زبان مں مرثیہ اور سلام ایک ایسی صنفِ ادب بن گئی ہے جو کسی دوسری زبان مںن نہںل پائی جاتی۔ میر انیسؔ اور دبیرؔ نے اُردو مرثیے اور سلام کو جس بلندی پر پہنچایا وہ کسی سے پوشیدہ نہںن ہے۔
ہر صنفِ ادب مںے وقت کے ساتھ نِت نئی تبدیلیاں رُو نما ہوئںا اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ لہذا دیکھنا یہ ہے کہ مرثیے اور سلام مں کس قسم کی تبدیلیاں ہوئی ہںا۔ اور جدید مرثیہ اور سلام کیا ہے۔ مرثیے اور سلام کو فکری بنیادوں آگے بڑھانے والے کون ہںھ۔ اور مرثیے اور سلام کی ہتئں کی تبدیلیوں سے کیا صورتِ حال بنی ہے۔
کسی بھی صِنفِ ادب کے فروغ کتابں۔، رسائل اور ناقدین اہم کردار ادا کرتے ہںر۔ ہم دیکھتے ہںر کہ مرثیہ اور سلام ایک مقبول صِنفِ ادب ہونے کے باوجود امام بار گاہوں تک محدود کر دی گئی ہے۔ ادبی رسائل مںس مراثی اور سلام شامل نہںr کئے جاتے ہںے۔ مختلف شعراء کے مرثیوں اور سلام کے مجموعے شائع ضرور ہوتے ہںہ لیکن اُن کی تشہیر دیگر ادبی کتابوں کی صورت نہںم ہوتی۔ جبکہ ہمارے بیشتر ناقدین اس جانب متوّجّہ نہںک ہوتے۔ ان کی لا تعلقی کے اسباب کیا ہںر۔ ۔اور یہ کہ مرثیے اور سلام کی ادب مںہ کیا حیثیت ہے ؟
ادب کوئی ایسی مُجرّد حقیقت نہںب ہے کہ وہ مُعلّق فضاء مںی لکھا جائے۔ پچھلے ڈیڑھ دو سو برس مں؟ ہمارے معاشرے مں تہذیبی اور سیاسی انداز کی جو تبدیلیاں آئی ہںت اس سے مرثیے اور سلام کی صِنف بھی متاثر ہوئی۔ اگر آپ میر انیسؔ کے بعد کا زمانہ لںب تو جدید مرثیے اور سلام کا تصور جوش ؔ صاحب سے قائم ہُوا۔ برِّ صغیر کی جنگِ آزادی لڑی جا رہی تھی اور جوشؔ صاحب نے کربلا کو اُس آزادی کے رشتے سے ہم آہنگ کر کے جو مرثیے اور سلام لکھے۔ ۔وہاں سے جدید مرثیے اور سلام کا تصوّر قائم ہُو۔ اُس سے بہت پہلے ہم اقبالؔ کی شاعری کی طرف متوجّہ ہوتے ہںا تو ‘ رموزِ بے خودی’ سے سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ ۱۹۱۸ ؁ مںک ‘ رموزِ بے خودی’ شائع ہوئی ہے۔ سلیم چِشتی نے ‘رموزِ بے خودی’ کی شرح لکھی ہے، انہوں نے لکھا ہے کہ، مںر نے علاّمہ اقبال سے پوچھا کہ آپ فرماتے ہںم
؎

زاتشِ   اُو  شعلہ  ہا  iiاندوختیم
رَمزِ قرآں از حُسین ؓ آموختیم

تو ‘ رمزِ قرآں’ سے کیا مُراد لیتے ہںھ۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ تعلیماتِ قرآن کی روح یہ ہے کہ باطل کے خلاف صف آراء ہو جاؤ۔ اِس تناظر مں’ جوشؔ صاحب نے پہلا مرثیہ ‘آوازِ حق’ لکھا۔ اُس سے ایک جدید مرثیے کا تصوّر سامنے آیا۔ ۔اگر ہم عہدِ انیسؔ کا مرثیہ یا سلام پڑھتے ہںل تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی اہم واقعہ رُو نما ہُوا ہے۔ میر انیسؔ کا یہ شعر دیکھئے ۔ ۔۔۔ ؎

آج   شبّیرؓ  پہ  کیا  عالمِ  تنہائی  iiہے
ظلم کی گلشنِ زِہرہؓ پہ گھٹا چھائی ہے
لیکن آج کا مرثیہ یا سلام پڑھتے ہںی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی عظیم واقعہ رُو نما ہُوا ہو۔ کہا جاتا ہے کہ اُس دَور کا مرثیہ ایک خبر تھا، جبکہ آج کا مرثیہ تجزیہ ہے۔ اُس مرثیے مںس حالات کی جنگ ہے، جبکہ آج کے مرثیے مںہ نظریات کی جنگ ہے۔جوشؔ صاحب سیدّنا حسینؓ کے کردار کو انسانی حوالے سے دیکھ تے ہںے، ا ور اُسی پر زیادہ زور دیتے ہں ملاحظہ ہو ۔ ۔۔۔ ؎
دل بھی جھُکتا جاتا تھا سجدے مں پیشانی کے ساتھ
کیا    نمازِ    شاہ   تھی   ا   رکانِ   ایمانی   کے   ساتھ
ماضی مںی جو مرثیے لکھے گئے ان کی تعریف آسان ہے۔ اُن مںا ایک سراپا ہے، آمد ہے، رَجَز ہے، رخصت ہے، یہ سب باتںر آتی ہںھ۔ مگر آج کا مرثیہ کسی بھی لکھا تھا یہ اُن مرثیوں کے سیاسی محرّکات ہں اور جوشؔ ہی اُس سیاسی جد و جہد کو مرثیے سے منسلک کرتے ہں ۔

آپ یہ دیکھیں کہ جتنی نظم نگاری مںی سیاسی شاعری ہوئی ہے، اُسی قدر مرثیے مںس سیاسی فکر نمایاں ہوئی ہے۔ اِس ضمن مںا بعض اہلِ فن کا کہنا ہے کہ مرثیے کو صرف مسدّس ہی مںھ لکھا جانا چاہیے، تو بہت پہلے علاّمہ جمیل مظہری اور حاضر مں ڈاکٹر ہِلال نقوی نے مسدّس کی فارم سے بہت ہٹ کر مرثیے لکھے ہںر۔ دیکھیے ہِلالؔ نقوی کا انداز۔ ۔۔۔ ؎
تڑپ کے اُٹھ نہ کھڑے ہوں قتیلِ راہِ وفا
پُکارتا    ہے    کوئی   کربلا   کی   بستی   iiمںا
سَمت کا تعیّن نہں کرتا۔ جوشؔ صاحب اپنے مرثیے کو آزادی کی تحریک سے مِلا دیتے ہںے۔ جبکہ علاّمہ جمیل مظہری کے یہاں فلسفیانہ رنگ ہے ۔ ۔۔۔۔ ؎

کیوں کہوں کہ راہِ حق مںت مظہریؔ دریا نہ تھا
بھیک  جو  دریا  سے  لے،  اتنا  کوئی پیاسا نہ iiتھا
لیکن نیمد ؔ امروہوی کے یہاں بالعموم دینی اِستدلال مِلتا ہے ۔ ۔۔۔ ؎

عشقِ  خدا  کا  بار،  نہ  کہسار  سے iiاُٹھا
افلاک سے نہ عرشِ ضیاء بار سے اُٹھا
یہ  کیا نہ انتہائے خوش اطوار سے iiاُٹھا
حُسینِؓ  بے  کسَ  و  بے  یار سے iiاُٹھا
رُخ  زَر  د  آدم و مَلَک و جِن کا ہو iiگیا
یہ  ہو  گئے  خدا کے، خدا اِن کا ہو iiگیا
اور آلِ رضاء کے اعتقاد و ایمان کے یہ تیور ہںی۔ ۔۔۔۔ ؎

لغزشیں ہم سے بھی ہوتی ہیں، مگر واہ رے ہم
یا    علیؓ    کہہ   کے   سنبھلنے   میں   مزا   آتا   ہے
آج کے مرثیہ و سلام نگار بالکل مختلف انداز سے سوچتے ہں ۔ کہںس سائنسی تجزیہ ہے، کہں سیاسی بحث ہے اور کہںی کربلا کے سماجی پہلو نمایاں ہوتے ہںے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ فکری روّیہ کیا ہے۔ میرے خیال مںب آج کا مرثیہ اور سلام نگار تین کرداروں کے گِرد گھوم رہا ہے : حضرت حسینؓ، بی بی زینبؓ اور حضرت عباّسؓ، لیکن جب وہ عونؓ و محمّدؓ اور بی بی سکینہؓ کے متعلق لکھتا ہے تو ایک بے بسی سی محسوس ہوتی ہے، وہ اِس انداز کے رَوّیے جدید انداز مںا پیش نہںی کرسکتا !
میرا خیال ہے کہ وہ مرثیہ او رسلام جو مقصدِ شہادت کو واضح طور پر بیان کرتا ہے، وہ واقعتاً مقدّم ہے اور جدید ہے، یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مرثیے اور سلام مںب جو واضح تبدیلی آئی ہے وہ دبرؔا کے بیٹے اوجؔ سے آئی ہے۔ لیکن اوجؔ کا شعر سننے سے پہلے مرزا دبیرؔ کی گھن گرج ملاحظہ فرمائںو۔ ۔۔۔۔ ؎
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
رن ایک طرف، چرخِ کہن کانپ رہا iiہے
اب آتے ہںے مرزا اوجؔ کی طرف، جن کا کہنا ہے کہ۔ ۔۔۔ ؎
حُسینؓ جہد و عمل میں ہیں، کربلا میں نہیں
وہاں    تو    صرف    چڑھایا    تھاآستیوں   iiکو
یعنی فن برائے فن کا جو تصوّر وابستہ تھا، اُس کو سب سے پہلے اوجؔ نے اور پھر دبیرؔ کے شاگرد شادؔ عظیم آبادی نے توڑا۔ دوسری منزل جوشؔ صاحب کی ہے، انہوں نے اس سیاسی بیداری کو بغیر کسی ابہام کے سیاسی واقعات اور سیاسی جِد و جُہد سے منسلک کیا، لہذا ‘ آوازِ حق’ جوشؔ صاحب نے جَلیانوالہ باغ کے ردِّ عمل مں لکھا تھا۔ یہ ان مرثیوں کے سیاسی محرکات ہںی اور جوشؔ ہی اس سیاسی جدوجہد کو مرثیے سے منسلک سے منسلک کرتے ہںث۔
آپ یہ دیکھیں کہ جتنی نظم نگاری مں سیاسی شاعری ہوئی ہے، اسی قدر مرثیے مںا سیاسی فکر نمایاں ہوئی ہے۔ اس ضمن مں۔ بعض اہلِ فن کا کہنا ہے کہ مرثیے کو صرف مسدّس ہی مںس لکھنا چاہیے، تو بہت پہلے علامہّ جمیل مظہری اور حاضر مں ڈاکٹر ہلال نقوی نے مسدّس کی فارم سے بہت ہٹ کر مرثیے لکھے ہںت۔ دیکھیے ہلال نقوی کا انداز ۔ ۔۔ ؎
تڑپ کے اٹھ نہ کھڑے ہوں قتیلِ راہِ وفا
پکارتا    ہے   کوئی   کربلا   کی   بستی   iiمیں
مئے   وِلا   کے   شرابی   شِکستہ   حال  iiسہی
خرید  لیتے  ہیں  جنّت  کو  فاقہ  مستی میں
میں سمجھتا ہوں کہ موضوع ہی صِنف کا تعین کرتا ہے، صِنف موضوع کا تعیّن نہںم کرتی۔ اُردو مں جو مرثیہ ہے، وہ ایک بالکل مختلف صِنف ہے۔ اُردو نے عربی سے مرثیہ ضرور قبول کیا ہے، لیکن اُردو مںہ مرثیہ سیّدنا حُسینؓ اور شہدائے کربلا سے مخصوص کر دیا گیا ہے، اور اِس مںن مرثیہ گو شعراء کوشش کرتے ہںک کہ سیدّنا حُسینؓ کے اعلیٰ کردار کے حوالے سے اپنی سیاسی، تہذیبی اور معاشرتی اَقدار کو بلند کریں، اِس لئے کہا جاتا ہے کہ اُردو مںّ جو مرثیہ ہے وہ بالکل مختلف ہے۔ یہ صِنف اگر کسی سے تھوڑی بہت ملتی ہے تو وہ رَزمیہ ہے، لیکن رَزمیے سے یوں مختلف ہے کہ رَزمیے مںت کردار خیالی ہوتے ہںس، جبکہ مرثیے کے کردار اصلی ہںہ اور ان کی بہت بڑی اہمیّت ہے۔ دوسری چیز یہ کہ جب آپ جدید مرثیے اور سلام کی بات کرتے ہںر تو جدید مرثیے اور سلام کا تعلق جدّت سے نہںر ہے۔ جدیدیت کا سلسلہ ہمارے یہاں اُس وقت سے شروع ہوتا ہے جب سے جنگِ آزادی اور سرسیّد تحریک شروع ہوئی اور اس مں ہم نے نئے نئے موضوعات جن کی معاشرے مںل ضرورت تھی، انہںی نثری ادب اور شاعری مںز پیش کرنا چاہا، وہاں سے ہمارا یہ جدید رَوّیہ شروع ہوتا ہے۔ مںب یہ نہںّ کہتا کہ ہماری روایتی شاعری بالکل ہی بے مقصد تھی۔۔وہ اَقدار پر مبنی تھی جس مںے آپ کا طرزِ احساس اَقدار سے متعلق تھا، لیکن اُس کے بعد اَقدار کے بجائے تجربات و مشاہدات شامل ہوئے اور سر سیّد تحریک کا سب سے بڑا کار نامہ بھی یہی ہے کہ چاروں طرف جو کچھ ہو رہا تھا اُسے موضوع بنایا گیا، وہںے سے جدید انداز اختیار کیا گیا اور یہ طرزِ احساس مرثیے اور سلام مںک بھی داخل ہُوا۔مرزا اوجؔ نے جو مرثیے کہے ہںڑ وہ سر سیّد تحریک کے موضوعات تھے، لیکن انہوں نے اپنے طرزِ احساس مںف کوئی تبدیلی نہ کی اُن کا طرزِ احساس روایتی تھا، کیونکہ اُن کا طرزِ احساس اَقدار پر قائم تھا۔ جدید حِسیّت کی تعلیم یہ ہے کہ بجائے اَقدار کے ذاتی تجربے پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض باریک بین نقّاد، جوشؔ ملیح آبادی اور علاّمہ جمیل مظہری کے مرثیوں کو بھی اِس لحاظ سے جدید نہں کہتے کہ ان مںَ بھی طرزِ احساس روایتی ہے، اَقدار کے اوپر بنیاد ہے، البتّہ موضوعات نئے ہں جو سر سیّد تحریک کا حصّہ ہںق۔ ہمارے یہاں جو جدّت آئی ہے وہ ذاتی احساس سے آئی ہے۔
ہم دیکھتے ہںت کہ سلام کا بنیادی موضوع بھی مرثیے والا ہی ہے، یعنی واقعاتِ کربلا، مصائبِ حُسینؓ و انصارِ حُسین، لیکن غزل کی طرح اس کے منفرد اشعار اور ردیف و قوافی کی پابندی کے سبب اس مں جولانیِ طبع دکھانے کی گنجائش بیحد کم ہوتی ہے۔ البتہ اگر سلام کہنے والا شاعر مشّاق، کہنہ مشق اور فکرِ رسا کا ملک ہو تو وہ اپنی جولانیِ طبع سے سلام مںب بھی قصیدے، مرثیے اور غزل کا لطف پیدا کر دیتا ہے۔ صباؔ اکبر آبادی صاحب کی فکرِ رسا، قادر الکلامی اور کہنہ مشقی نے سلام کو ایک نئی معنویت اور اشاریت دیدی ہے، ان کے سلام پڑھتے وقت ایسا محسوسو ہوتا ہے کہ یہ تشبیہات اور تراکیب محمدﷺ و آلِ محمدﷺ کی تعریف کے لئے ہی بنی ہںِ۔ صباؔ صاحب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ تشبیہات اور الفاظ کے استعمال مںد حفظ مراتب کا بیحد خیال رکھتے ہںئ، وہ جہاں جس کے لئے جو لفظ استعمال فرماتے ہںی، وہ اس شخص کے لئے خاص معنویت رکھتا ہے، اور اس ماحول و فضاء مںھ اس بات کی بڑی اہمیت ہے۔ اس ضمن مںہ صباؔ صاحب نے سانحۂ کربلا کی کچھ نہایت ہی کڑی اور تکلیف دہ ساعتوں کی کیفیت اور شدّت کو بیان کرنے کے لئے اس کے نفسیاتی پہلو تلاش کئے ہں ، جو نہ صرف اس کے تاثّر اور درد انگیزی مںل اضافہ کرتے ہںا، اس طرح وہ واقعے کی تفصیل بیان کئے بغیر ہی محض اشاروں اور استعاروں کی مدد سے، اس کی مکمل تصویر نگاہوں کے سامنے کھینچ دیتے ہںک۔ صباؔ اکبر آبادی کے سلام سے تین شعر دیکھئے۔ ۔۔۔۔ ؎
روزِ  عاشور  سب  نے دیکھا iiہے
نوکِ  پیکاں  پہ پھول کھِلتا ہے
خطِ    تقسیم   دین   و   دنیا   ہے
اب   سمجھئے   کہ  کربلا  کیا  iiہے
بس شہادت میں ہے حیاتِ ابد
ورنہ   جینے   کا   بھروسا  کیا  ہے
اسی طرح ہیئّت کی تبدیلی نے بھی مرثیے کو نیا روپ دیا ہے، جس کی مثال خواجہ رئیس احمرؔ اور پرفیسر کرّارحُسین کے صاحبِ زاد ے شبیہ حیدر ہںے، جنہوں نےمسدّس کی پابندی سے نکل کر آزاد نظم مںے مرثیے لکھے، اور مقبولیت حاصل کی ہے۔ اردو مرثیے نے فکری بنیاد پر بھی بہت ترقی کی ہے۔ علی سردار جعفری اور فیض احمد فیضؔ صاحب نے بھی مرثیے لکھے اور جدید دَور مںؔ مرثیے کو آگے بڑھایا ہے۔ ملاحظہ ہو فیضؔ صاحب کا رنگ۔ ۔۔۔ ؎
مَرکب پہ تنِ پاک تھا اور خاک پہ سَر تھا
اُس   خاک   تلے  جنّتِ  فردوس  کا  در  تھا
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اُردو کی دوسری اَصنافِ سُخن کی طرح مرثیے اور سلام کو ادبی حیثیت اور اہمیّت حاصل کیوں نہںِ ہے ؟
میں سمجھتا ہوں اِس مں دونوں جانب سے قصور ہے۔ بیشتر مرثیے اور سلام تبلیغی انداز سے لکھے جا رہے ہںم، جس کی وجہ سے وہ محدود سے محدود تر ہوتے جا رہے ہںو۔ اس مںص آفاقی حوالہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ہندوستان کے رسائل مںی مرثیہ اور سلام نگاری پر کثرت سے مضامین لکھے جاتے ہںو، جبکہ ہمارے یہاں اس کا رواج نہںج ہے۔ شاید اس لئے بھی کہ پاکستان مںں ادبی رسائل کے ۹۸ فیصد پڑھنے والے سُنّی ہں !! مں نے پاکستان کے کسی رسالے مںم جوشؔ سے فیضؔ صاحب تک کی مرثیہ نگاری پر کوئی مضمون نہںے دیکھا!۔ فیضؔ صاحب کی ایک کمزور غزل پر بحث ہوتی ہے لیکن اُن کے مرثیے پر توجّہ نہںر دی گئی۔ ۔اس پر غور کی ضرورت ہے۔
قِصّہ یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد جس نسل نے مرثیہ اور سلام لکھنا شروع کیا اُس مںی ایک تبدیلی آئی، ہُوا یہ کہ کسی مُجرّد موضوع کی تشریح روایتی انداز سے کی جاتی ہے۔ ہمارے مرثیہ اور سلام لکھنے والے سمجھنے لگے ہںے کہ ہم فطری شاعری کر رہے ہںب، جبکہ اُن کو یہ نہںے معلوم کہ فطری موضوعات پر شاعری نہں ہوتی، ایک وجہ تو یہ ہے، دوسری چیز یہ دیکھیں کہ عقیدے کی شاعری کا ایک انداز اور روایت رہی ہے، اور ہمیشہ اِن اِصناف مںُ بلند تر شعراء عقیدے کا اظہار کر کے اسے آفاقی سطح تک لے آتے ہںق۔ ۔موضوع رشیدؔ لکھنوی اور جوشؔ ملیح آبادی کا مختلف نہںد ہے، لیکن جوشؔ کے مرثیے اسے آفاقی معیار تک لے جاتے ہںک۔ در اصل بڑا شاعر ہی کسی بھی صِنف کو آفاقی بنا سکتا ہے، درمیانی اور اُس سے نچلے درجے کا شاعر کسی صِنف کو آفاقی نہںن بنا سکتا۔ مرثیہ اور سلام عقیدے کی شاعری ہے، اس مںُ درمیانے اور نچلے درجے کے شاعر بھی ہوتے ہں اُن کے یہاں عقیدے کا غلبہ زیادہ ہو گا۔ جو شاعر زمانے کی تبدیلیوں پر نظر رکھے گا وہ ہر صِنف کو آفاقی سَمت دینے مںت کامیاب ہوسکے گا۔جیسا کہ ہماری دوسری نسل کے شعراء مںن۔ ۔شاہدؔ نقوی، سردارؔ نقوی، شاداں ؔ دہلوی، سحرؔ انصاری، اُمیدؔ فاضلی، شاعرؔ لکھنوی وغیرہ ہںل۔ یہ درمیانی نسل کم و بیش تقلیدی نسل ہے، درمیانہ دَور تقلیدی دور تھا، یہ لوگ تقلید پر فخر محسوس کرتے ہںد، اس مںا بڑے قادر الکلام شعراء ہںا، لیکن انہوں نے آفاقیت کو کہںو بھی استحکام نہںم دیا، اس لئے ایک خلاء پیدا ہُوا۔ ۔اس خلاء کو سب سے زیادہ ڈاکٹر ہِلالؔ نقوی نے پُر کای، ان کے بعد احمد نویدؔ، تصویرؔ فاطمہ، عارفؔ امام وغیرہ ہں ۔ یہ لوگ بڑی جدید حِسیّت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہںم۔
اسی طرح ہمارے وہ مقتدر و معتبر اور اہم شعراء کرام جو ربع صدی سے زیادہ عرصے سے برّ صغیر پاک و ہند سے باہر مقیم ہںق، اگر مرثیے اور سلام کے حوالے سے ان کی تخلیقی کار کردگی کا جائزہ لیا جائے تو ہم دیکھتے ہںس کہ ماسوائے یورپ کے اور یورپ مںا بھی برطانیہ کے کہںے اور اس سنجید گی اور معیاری سطح پر تخلیقی مظاہرہ نہں ہوا۔ گویا مرثیے اور سلام کے ضمن مںھ برطانیہ سے مغربی دنیا کی نمائندگی ہو رہی ہے اور یہ نمائندگی کرنے والے عاشورؔ کاظمی اور صفدرؔ ہمدانی ہںر۔ ان دونوں شعرائے اہلِ بیت نے، ہر دو اصناف کو فنی اعتبار سے مرثیے اور سلام کی حقیقی ہتئم دی ہے اور ہم سمجھتے ہںن کہ یہ بہت بڑا کام ہے کہ اگر ہم ماضی کی طرف دیکھیں تو قلی قطب شاہ، وجہی، غواصی ہاشمی تک کے مرثیے فنّی اعتبار سے ان کی غزل کے مرتبے کو نہںگ پہنچتے۔
لیکن ان تمام باتوں کے باوجود آخر مرثیے اور سلام کو ادب مںہ کیوں شامل نہںر کیا جاتا، یا اس کی حیثیّت کا تعیّن اب تک کیوں نہںر ہوسکا، اس کے اسباب مںب نے آپ کے سامنے پیش کر دیئے ہںا، اور آخر مںت اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے، اُن مںن سے چند اسباب پر قدرے اِختصار کے ساتھ کچھ عرض کرتے ہوئے اپنی بات کو ختم کروں گا۔
ہمارے یہاں مرثیہ اور سلام صرف مجالس مںا پڑھا جاتا ہے اور ادبی رسائل مںت شائع نہں ہوتا، لہذا جو لوگ ان مجالس مںی نہںی جاتے ہںم وہ ان مرثیوں اور سلاموں سے واقف نہںد ہو پاتے ہں یہی وجہ ہے کہ مرثیے اور سلام کی تشہیر اُس انداز سے نہںم ہوتی جیسے دیگر اَصنافِ سخن کی ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر مرثیے اور سلام باقاعدگی سے شائع ہوں اور ناقدین تک پہںچا تو اس پر گفتگو ہو گی۔ جہاں تک عقیدے کی بات ہے تو ہماری شاعری مںم تصوّف کی شاعری کو صفِ اوّل کی شاعری کہا جاتا ہے۔ تصوّف بھی ایک طرح سے مذہبی اور عقیدے کی چیز ہے، جب یہ مقبول ہے اور ساری بڑی شاعری تصوّف پر ہی قائم ہے اور اہمیّت اختیار کر گئی ہے تو مرثیے اور سلام کو اہمیّت کیوں حاصل نہں ہے !!
اُردو ادب مںا مرثیے اور سلام کا موجودہ مقام اور حیثیت دیکھتے ہوئے مںب تو یہ کہوں گا کہ اگر علامّہ شِبلیؔ نعمانی جیسا جیّد عالِم، میر انیسؔ کے بارے مںم نہ لکھتا تو وہ ادب مںr نہ آتے، وہ بہت بڑے شاعر ہونے کے باوجود محدود ہو کر رہ جاتے۔
مختصر یہ کہ اگر آپ اُردو شاعری کی صِنفِ مرثیہ اور سلام سے مخلص ہںم اور اِسے اُردو ادب مں کوئی مقام اور حیثیت دِلانا چاہتے ہںآ تو ۔ ۔مرثیہ اور سلام لکھنے والوں کو اپنے مرثیے اور سلام لوگوں تک پہنچانے کے لئے سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔
٭٭٭