قرآن اور عورت
مصنف: حافظ ریاض حسین نجفی
عورت کا مقام قرآن کی روشنی میں

قرآن اور عورت
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلاة والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین محمد وآلہ الطاھرین المعصومین اما بعد ! حضرت انسان میں سلسلہ تفاضل، ابتداء خلقت انسان سے موجود ہے۔سب سے پہلے تفاضل یعنی ایک دوسرے پہ فضیلت کا دعویٰ حضرت آدم - اور ملائکہ کے درمیان ہوا۔جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے۔ وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَۃِ إِنِیّ جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُوْا أَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاءَ ج وَنَحْنُ نُسِبِّحُ بِحَمْدِکَ ونُقَدِّسُ لَکَ "اور تیرے رب نے جب فرشتوں سے کہا: میں اس زمین میں ایک خلیفہ ( نائب ، نمائندہ ) بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں اس کو خلیفہ بنائے گا جو وہاں فساد پھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا جب کہ ہم تیری حمد و ثناء کی تسبیح اور پاکیزگی کا ورد کرتے رہتے ہیں۔" (بقرہ ۳۰) پھر یہ سلسلہ تفاضل و تفاخر قابیل و ہابیل میں ہوا جب خدا وند قدوس نے ایک کی قربانی قبول فرمائی اور دوسرے کی رد کر دی۔ وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَأَ ابْنَیْ آدَمَ بِالْحَقِّ م إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّکَ قَالَ إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِینَ۔ "اور آپ انہیں آدم کے بیٹوں کا حقیقی قصہ سنائیں۔ جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی تو اس نے کہامیں ضرور تجھے قتل کر دوں گا (پہلے نے کہا ) اللہ تو صرف تقویٰ رکھنے والوں سے قبول کرتا ہے ۔" (مائدہ :27) یہ سلسلہ تفاضل و تفاخر یعنی ایک دوسرے پر فوقیت کا دعویٰ آج بھی موجود ہے ہر جگہ رائج ہے حالانکہ مرد اور عورت دونوں انسان ہیں، دونوں کی خلقت مٹی سے ہوئی ہے جیسا کہ ارشاد ہوا ۔ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ "وہی تو ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ۔" (موٴمن :67) وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِیْنٍ ج ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَة ً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ۔ "ضاور بتحقیق ہم نے انسان کو مٹی سے بنایا پھر ہم نے اسے محفوظ جگہ میں نطفہ بنا دیا۔" ( الموٴمنون :12.13) مرداور عورت خلقت کے لحاظ سے مساوی اور برابر ہیں، دونوں کی خلقت مٹی سے ہوئی، نطفہ سے پیدائش کے بعد تمام مراحل میں ایک جیسے ہیں پھر ذکر و انثیٰ یعنی مرد اور عورت کی پیدائش کے حوالے سے ارشاد رب العزت ہو رہا ہے : یَاأَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّأُنثٰی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۔ "اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا ،پھر تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔"(حجرات: 13) ہاں تو خلقت ایک جیسی، محل خلقت ایک جیسا ، اساس خلقت ایک ، اس کے باوجود تفاضل و تفاخر کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔ آخر کیوں ؟ اسلام نے خواہ مرد سے مرد کا مقابلہ ہو یا عورت کا عورت سے تقابل ہو، یا مردا ور عورت کا آپس میں تفاخر ہو، ان سب میں برتری کا معیار صرف تقویٰ، خوف خدا اور عظمت ِرب کے احساس کو قرار دیا ہے ارشاد ہو رہا ہے: إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہ أَتْقَاکُمْ۔ "اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز و مکرم وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہے " (حجرات :13) مرد اور عورت کے باہمی فخر و مباہات کا سلسلہ ایسا چلا کہ عورت کو بے چارا بنا دیا گیا۔ قبل از اسلام تو انسانیت کے دائرہ سے بھی خارج قرار دیا گیاتھا، یونانیوں میں عورت کا وجود ناپاک اور شیطانی تصور کیا جاتا تھا۔ عورت فقط خدمت اورنفسانی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ تھی۔ رومی لوگ عورت کو روح انسانی سے خالی جانتے تھے وہ اسے قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔ساسانی بادشاہوں کے زمانے میں عورت کا شمار اشیاء خرید و فروخت میں ہوتا تھا، یہودیوں میں عورت کی گواہی نا قابل قبول تھی۔ زمانہ جاہلیت کے عرب تو بیٹی کی پیدائش کو اپنے لئے موجب ننگ و عار جانتے تھے۔ہندو اور پارسی ،عورت کو ہر خرابی کی جڑ ، فتنہ کی بنیاد اور حقیر ترین چیز شمار کرتے تھے۔ چین کے فلسفی (کونفوشیوس) کا قول ہے عورت حکم و احکام دینے کے قابل نہیں ہے ،عورت کو گھر میں بند رہنا چاہئے تاکہ لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں۔قبل از اسلام جزیرہ نما عرب میں عورت زندہ رہنے کے قابل نہیں سمجھی جاتی تھی۔ بیٹی کی پیدائش ننگ و عار اور فضیحت و شرمساری کا موجب تھی ۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا اور ایسی عظمت دی جس کا تصور کسی غیر مسلم معاشرے میں ممکن نہیں ہے ۔ اسلام میں عورت کی عظمت کا کیا کہنا کہ جب بیٹی ملنے آتی تو علت غائی ممکنات ، انبیاء کے سرداربنفس نفیس تعظیم کیلئے کھڑے ہو جاتے اور اپنی مسند پر بٹھاتے عظمت عورت کا ذریعہ جناب فاطمہ ہیں ۔ قبل از اسلام اہل عرب بیٹی کو زندہ در گور کر دیا کرتے تھے ۔جیساکہ قرآن مجید میں ارشاد رب العزت ہے۔ وَاِذَا الْمَوْء دَةُ سُئِلَتْ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ۔ "اور جب زندہ در گور لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ میں ماری گئی ۔" (تکویر :9-8) یہ قبیح رسم اس قدر عام تھی کہ جب عورت کے وضع حمل کا وقت قریب آتا تو زمین میں گڑھا کھودکر اسے وہاں بیٹھا دیا جاتا پھراگر نوزائیدہ لڑکی ہوتی تو اسے اس گڑھے میں پھینک دیا جاتا اور اگر لڑکا ہوتا تو اسے زندہ چھوڑ دیا جاتا ،اسی لئے اس دور کے شعراء میں ایک شاعر بڑے فخریہ انداز میں کہتا ہوا نظر آتا ہے: سمیتھا اذا ولدت تموت والقبر صہرضامن زمیت (مجمع البیان ج 10ص444) "میں نے اس نوزائدہ لڑکی کا نام اس کی پیدائش کے وقت تموت (مر جائے گی) رکھا اور قبر میرا داماد ہے، جس نے اسے اپنی بغل میں لے لیا اور اسے خاموش کر دیا۔" بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے کی رسم بڑی دردناک ہے۔ ان واقعات کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا، اس نے (متأثر ہونے کے بعد سچا اسلام قبول کیا ) ایک آپ کی خدمت میں آ کر عرض کرنے لگا یا۔ رسول اللہ اگر میں نے کوئی بہت بڑا گناہ کیا ہو تو کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا: "خد ا رحم الراحمین ہے ۔" اس نے عرض کیا یا رسول اللہ !میرا گناہ بہت بڑا ہے۔ فرمایا! وائے ہو تجھ پر تیرا گناہ کتنا ہی بڑا ہی کیوں نہ ہو خدا کی بخشش سے تو بڑا نہیں ؟۔ اس نے کہا !اگر یہ بات ہے تو میں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں زمانہ جاہلیت میں ،میں دور دراز سفر پر گیا ہوا تھا، ان دنوں میری بیوی حاملہ تھی چار سال بعد گھر لوٹاتو میری بیوی نے میرا ستقبال کیا ،گھر میں ایک بچی پر نظر پڑی، میں نے پوچھا یہ کس کی بیٹی ہے ؟ بیوی نے کہا !ایک ہمسائے کی بیٹی ہے۔ میں نے سوچا یہ ابھی اپنے گھر چلی جائے گی، لیکن مجھے اس وقت بہت تعجب ہوا جب وہ نہ گئی ،آخر کار مجھے پوچھنا ہی پڑا ،میں نے بیوی سے پوچھا ۔سچ بتایہ کس کی بیٹی ہے ؟ بیوی نے جواب دیا۔ آپ سفر پر تھے، یہ پیدا ہوئی، یہ تمہاری ہی بیٹی ہے۔ وہ شخص کہتا ہے۔ میں نے ساری رات پریشانی میں گزاری ،کبھی آنکھ لگتی اور کبھی بیدار ہو جاتا، صبح قریب تھی میں بستر سے اٹھا میں نے بچی کو ماں کے ساتھ سویا ہوا دیکھا ، بڑی خوبصورت لگ رہی تھی اسے جگایا اور کہا۔ میرے ساتھ چلو ہم نخلستان کی طرف چلے وہ میرے پیچھے پیچھے چل رہی تھی، جب ہم نخلستان میں پہنچے میں نے گڑھا کھودنا شروع کیا، وہ میری مدد کرتی رہی ،مٹی باہر پھینکتی رہی، میں نے اسے بغل کے نیچے سے ہاتھ رکھ کر اٹھایا اور اسے گڑھے میں پھینک دیا۔ یہ سننا تھا رسول اعظم کی آنکھیں بھر آئیں ۔ اس نے بات کو آگے بڑھایا، میں نے اپنا بایاں ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا تاکہ وہ باہر نہ نکل سکے اور دائیں ہاتھ سے مٹی ڈالنے لگا اس نے بہت کوشش کی اور بڑی مظلومانہ انداز میں فریاد کرتی تھی اور بار بار کہتی تھی بابا جان! کچھ مٹی آپ کی داڑھی اور کپڑوں میں پڑ گئی ہے، وہ ہاتھ بڑھا کر اس مٹی کو صاف کرنے لگی ،لیکن میں پوری قساوت اور سنگدلی سے اس پر مٹی ڈالتا رہا، یہاں تک اس کے نالہ و فریاد کی آخری آواز آئی اور وہ خاک میں دم توڑ گئی۔ حضرت رسول اعظم نے دکھی حالت میں یہ داستان سنی، پریشانی ظاہر تھی۔اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے فرمایا: اگر رحمت خدا کو اس کے غضب پر سبقت نہ ہوتی تو حتمًاجتنا جلدی ہوتا خدا اس سے انتقام لیتا۔ (القرآن ،یواکب الدہر،ج 2ص 214) جزیرہ عرب کے کفار توہین کے انداز میں ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور فرشتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ بیٹی کی پیدائش پر ان کا چہرہ مارے غصہ کے سیاہ ہو جاتاہے جیسا کہ ارشاد خدا ندی ہے: أَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنَاتٍ وَّأَصْفَاکُمْ بِالْبَنِیَنَ وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُہُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَانِ مَثَلاً ظَلَّ وَجْہُہ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ أَوَمَنْ یُنَشَّأُ فِی الْحِلْیَةِ وَہُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ وَجَعَلُوا الْمَلاَئِکَةَ الَّذِینَ ہُمْ عِبَادُ الرَّحْمَانِ إِنَاثًا أَشَہِدُوْا خَلْقَہُمْ ۔ "کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے (اپنے لیے)بیٹیاں بنا لیں ہیں اور تمہیں بیٹے چن کردیئے حالانکہ ان میں سے جب کسی ایک کوبھی بیٹی کامثردہ سنایا جاتا ہے جو اس نے خدا ئے رحمان کی طرف منسوب کی تھی تواندر اندر غصے سے پیچ و تاب کھا کر اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے۔ کیا وہ جو ناز و نعم کے زیورمیں پلی ہے اور جھگڑے کے وقت (اپنا) مدعا بھی واضح نہیں کرسکتی۔ (اللہ کے حصہ میں آتی ہے؟) اورا ن لوگوں نے فرشتوں کو جو خدا کے بندے ہیں (خدا کی)بیٹیاں بنا ڈالا ۔ کیا وہ فرشتوں کی پیدائش کو کھڑے دیکھ رہے تھے؟ (زخرف،16تا19)
ہو سکتاہے کہ یہ خیال زمانہ جاہلیت کی خرافات سے عربوں تک پہنچا ہو لیکن عرب ظلم و جور میں بہت آگے بڑھ گئے وہ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے ۔ (زخرف،16تا19) ارشاد خدا وندی ہے: وَیَجْعَلُونَ لِلَّہِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَہ وَلَہُمْ مَّا یَشْتَہُوْنَ وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُہُمْ بِالْأُنْثَی ظَلَّ وَجْہُہ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْءِ مَّا بُشِّرَ بِہ أَیُمْسِکُہ عَلٰی ہُوْنٍ أَمْ یَدُسُّہ فِی التُّرَابِ أَلاَسَاءَ مَا یَحْکُمُوْنَ "اور انہوں نے اللہ کے لیے بیٹاں قرار دے رکھی ہیں جس سے وہ پاک و منزہ ہے اور یہ لوگ اپنے لیے وہ اختیار کرتے ہیں جو یہ پسند کریں یعنی لڑکے اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو غصے کی وجہ سے ان کا منہ سیاہ ہوجاتاہے اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا انہیں اس ذلت کے ساتھ زندہ رہنے دیا جائے یا انہیں زیر خاک دفن کردیا جائے۔دیکھو کتنا برا فیصلہ ہے جو یہ کر رہے ہیں۔ " ( سورہ نحل آیت 57-58-59 ) بہر حال اسلام سے قبل بیٹی( لڑکی) انسان ہی نہیں سمجھی جاتی تھی اور آج بھی بیٹے کی پیدائش پر خوشیوں کے شادیانے بجتے ہیں ، مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں ،ہدیہ تبریک پیش کیا جاتاہے ۔
اوربیٹی کی پیدائش پر بس سردمہری ،سکوت اورخاموشی کا مظاہرہ ہوتا ہے آخر ایسا کیوں ہے؟

عرب کی بد قسمتی کے اسباب
نعمان ابن منذر کے زمانے میں جنگ کے بعد عورتیں (لڑکیاں) قید ہوئی تھیں، مصالحت کے بعد ہر چیز کی واپسی شروع ہو ئی تو بعض لڑکیاں واپس نہ آئیں۔ انہوں نے قبیلے میں آنے سے انکار کر دیا اور اپنے شوہروں کے پاس رہنے کو ترجیح دی یعنی جن کے پاس رہ رہی تھیں وہیں رہنا پسند کیا ۔ عرب پریشان ہوئے ایک تو قید ہونے کا خدشہ تھا دوسرا بیٹے کام کرتے ہیں،کمائی کرنے والے ہوتے ہیں اور بیٹیاں خرچ خرچ کرتی ہیں لہٰذا احتمال ہے کہ ان دو وجہوں سے یہ (زندہ درگور کرنے کی) قبیح رسم رواج پکڑگئی ہو ۔ اسلام نے جس طرح انسانیت کی عظمت کو اجاگر کیا اور انسان کو اس کے مکرم و محترم اشرف المخلوقات ہونے کی طرف متوجہ کیاہے ۔ اسی طرح عورت کونہ صرف مرد کی طرح مخلوق قرار دیا بلکہ انسانیت میں مکمل حصہ دار قراردیا۔ عورت کی بے چارگی کو دورکیا اور اس کی عزت و عظمت کو واضح کیا ہے ۔ مغربی لوگوں نے عورت کو کھلونا اور کاروبار کا ذریعہ اوراپنی خواہشات کی تکمیل کا وسیلہ بنایا ،یہ آزادی نہیں بلکہ بدترین غلامی ہے ۔اسلام نے واضح کیا کہ (اے مرد)عورت بھی تیری ہی طرح انسان ہے ، تیری ہی طرح اشرف المخلوقات ہے۔ تیری ہی طرح مکرم اورمعزز مخلوق ہے بلکہ(اے مرد ) جب عورت ماں کا درجہ پاتی ہے تو تیری جنت کی ضامن بن جاتی ہے۔ اسی کے قدموں میں جنت ہے، اسی کی خدمت میں صلہ میں تو جنت کا حقداربنتاہے پس(اے مرد) تو انسانیت اختیار کراور عورت کو انسان سمجھ ۔اس کی عزت کر تاکہ تیری عزت ہو ۔ ارشاد خدا وندی ہے۔ یَاأَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَاءً ج " لوگو اپنے خدا سے ڈرو جس نے تمہیں ایک فرد سے پیدا کیا اور اسی(خمیر) سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بکثرت مرد عورت (روئے زمین پر) پھیلائے۔"(نساء:1) مزیدارشاد ہے: ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِیَسْکُنَ إِلَیْہَا۔ "وہی ہے جس نے تمہیں ایک شخص سے پیدا کیا اور پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے۔ "(اعراف :189) اسلام اور قرآن عورتوں کا مذاق اڑانے اور ان سے مسخرہ کرنے سے منع کرتے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد خدا ندی ہے: یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَیَسْخَرْ قَومٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰی أَنْ یَّکُونُوْا خَیْرًا مِّنْہُمْ وَلاَنِسَاءٌ مِّنْ نِّسَاءٍ عَسٰی أَنْ یَّکُنَّ خَیْرًا مِّنْہُنَّ ج "اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم سے مسخرہ نہ کرلے ہو سکتاہے وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اورنہ ہی عورتیں (یا مرد)عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے یہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔ ( سورہ حجرات آیت 11) اے مومنون !قرآن ایک دوسرے کی عزت کا درس دیتاہے ایک دوسرے کا احترام اورعورتوں کی عزت ۔عورت مرد ہی کا حصہ ہے۔ مرد کی تخلیق سے بچی ہوئی خاک سے پیداہوتی ہے، مرد کی اولادکا ظرف ہے: مرد کی حصہ دار ہے، مرد کے سکون کا ذریعہ ۔اورمرد کی ساتھی ہے یہ مرد کا لباس ہے اور مرد اس کالبا س ہے۔ ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّط "وہ تمہارے لیے لباس ہیں ا ور تم ان کے لیے لباس ہو"۔ ( سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۸۷) عورت کی بدقسمتی تذلیل کا ایک سبب یہ غلط تصور ہے کہ حضرت آدم ں کی مشکلات کی موجب جناب حوا ہیں۔ انہیں کی وجہ سے حضرت آدم ں جنت سے نکالے گئے ،انہیں کی وجہ سے در بدر اورپریشان حال ہوئے اور مصیبت میں پھنس گئے۔ اسرائیلی روایات سے قطع نظر اس نظریہ کی کوئی اساس نہیں ہے اور قرآن مجید کے مطالعہ سے بخوبی واضح ہوجاتاہے کہ جنت میں عیش وآرام،جنت سے نکلنے اورشیطانی وسوسوں وغیرہ کاجب بھی ذکر ہوا ہے تو آدم و حوا دونوں کا تذکرہ ہو ہے حضرت آدم علیہ السلام مسجود ملائکہ قرار پائے ، فرشتوں کے ساتھ علمی مقابلہ میں غالب رہے۔ حضرت آدم علیہ السلام ہی کو الٰہی نمائندگی ملی لیکن جب جنت میں رہائش اخراج اور پریشانی کا ذکر ہوا تو کسی ایک جگہ بھی حضرت حوا کو مورد الزام نہیں ٹھہریا گیا اور جب بھی ذکر ہوا تو دونوں ہی کا ہوا۔ جیساکہ ارشاد خدا وندی ہے : وَقُلْنَا یَاآدَمُ اسْکُنْ أَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ وَکُلاَمِنْہَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا وَلاَتَقْرَبَا ہَذِہِ الشَّجَرَةَ فَتَکُوْنَا مِنْ الظَّالِمِیْنَ ۔ "اور ہم نے کہا اے آدم تم اور تمہاری زوجہ جنت میں سکون کے ساتھ قیا م کرو، جہاں سے چاہو کھاؤ لیکن ا س درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم دونوں زیادتی کا ارتکاب کرنے والوں میں سے ہوجاوٴ گے۔" (سورہ بقرہ آیت نمبر ۳۵) مزید ارشاد ہوا ہے: وَیَاآدَمُ اسْکُنْ أَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ فَکُلاَمِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَلَاتَقْرَبَا ہَذِہِ الشَّجَرَةَ فَتَکُوْنَا مِنْ الظَّالِمِیْنَ ۔ "اے آدم! تم اور تمہاری زوجہ اس جنت میں سکونت اختیار کرو جہاں سے چاہو کھاؤ مگر اس درخت کے نزدیک نہ جانا ورنہ تم دونوں ظالموں(زیادتی کرنے والوں میں ) سے ہو جاؤگے ۔ " ( سورہ اعراف آیت نمبر۱۹) ان آیات قرآنی میں آدم علیہ السلام و حوا دونوں کا ذکر ہواہے اور جب شیطانی وسوسہ کا تذکرہ ہوتو بھی دونوں کا ذکر کیا گیا ۔ ارشادِ خداو ندی ہے: فَأَزَلَّہُمَا الشَّیْطَانُ عَنْہَا فَأَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ "پس شیطان نے ان دونوں کو پھسلایا اورجس (نعمت) میں دونوں قیام پذیر تھے اس سے نکلوادیا۔ ( سورہ بقرہ ۳۶) نیز ارشاد ہے : فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیْطَانُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَا ورِیَ عَنْہُمَا مِنْ سَوْآتِہِمَا وَقَالَ مَا نَہَاکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ہَذِہِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ أَنْ تَکُوْنَا مَلَکَیْنِ أَوْ تَکُوْنَا مِنَ الْخَالِدِیْنَ وَقَاسَمَہُمَا إِنِّی لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِیْنَ فَدَلاَّہُمَا بِغُرُوْرٍ۔ج "پھر شیطان نے انہیں بہکایا تاکہ اس طرف سے ان دونوں کے لیے پوشیدہ مقامات جو ان سے چھپائے گئے تھے ان کے لیے نمایاں ہوجائیں اور کہا تمہارے رب نے تمہیں اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا تھا کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ یا زندہ جاوید نہ بن جاؤ ۔ " (سورہ اعراف آیت نمبر ۲۰۔۲۱) ان قرآنی آیات میں شیطان کے وسوسے کاتعلق دونوں سے ہے اور اس طرح پھسلائے اوربہکائے جانے والے بھی آدم علیہ السلام حوا دونوں ہیں لہٰذا صرف حوا کو مورد الزام ٹھہرانا صحیح نہیں ہے ۔ پھرجب جنت سے نکل جانے کاحکم ہو اتو دونوں ہی کو بلکہ شیطان کو بھی حکم دیا اورشیطان کی دشمنی کا تذکرہ بھی دونوں کے لیے ہوا۔ جیساکہ ارشادِ خداوندی ہے : قُلْنَا اہْبِطُوْا مِنْہَا جَمِیْعًا "ہم نے کہا تم سب یہاں سے نیچے اترجاؤ ۔ " (سورہ بقرہ آیت نمبر۳۸) نیزارشاد خدا وندی ہے: قَالَ اہْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ج وَلَکُمْ فِی الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ إِلٰی حِیْنٍ ۔ "ایک دوسرے کے دشمن بن کے نیچے اتر جاؤ اور زمین پر ایک مدت تک تمہارا قیام و سامان ہوگا۔اللہ کی طرف سے یہ فرمان دونوں کے لیے آیا تھا۔" ( سورہ اعراف آیت نمبر۲۴) مزیدارشاد ہوا ہے: وَنَادَاہُمَا رَبُّہُمَا أَلَمْ أَنْہَکُمَا عَنْ تِلْکُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَّکُمَا إِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ۔ "اور ان کے رب نے انہیں پکارا کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت(کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور تمہیں بتایا نہ تھاکہ شیطان یقینا تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ ( سورہ اعراف آیت نمبر۲۲) ارشاد خداو ندی ہے: فَقُلْنَا یَاآدَمُ إِنَّ ہَذَا عَدُوٌّ لَّکَ وَلِزَوْجِکَ فَلاَیُخْرِجَنَّکُمَا مِنْ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰی ۔ "پھر ہم نے کہا اے آدم! یہ تم اور تمہاری زوجہ کا دشمن ہے کہیں یہ تم دونوں کو جنت سے نکلوا نہ دے پھر تم پر مصیبتیں نہ آپڑیں ۔" ( سورہ طہ ۔۱۲۲) قرآنی آیات کے مطالعہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ درخت سے دونو ں کو منع کیا گیا تھا ۔وسو سہ شیطانی دونوں کے لیے تھا۔ جنت سے اترنادونوں کے لیے تھا۔شیطان کے دشمن ہونے کا تذکرہ دونوں کے لیے تھا۔بلکہ دشمنی کے سلسلہ میں خطاب بھی دونوں کوہوا۔ لہٰذا واضح ہوا کہ اس مسئلہ میں جنا ب حوا ہی تنہا قصور وار نہیں ہیں البتہ شوہر نامدار کی شریک کار ضرور ہیں۔ ایک آیت میں تو براہ راست صرف آدم علیہ السلام کیلئے ہی وسوسہ شیطانی کا ذکر ہوا ۔ جیساکہ ارشاد خدا وندی ہے: فَوَسْوَسَ إِلَیْہِ الشَّیْطَانُ قَالَ یَاآدَمُ ہَلْ أَدُلُّکَ عَلیٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَّایَبْلٰی "پھر شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا آے آدم! کیا میں تمہیں اس ہمیشگی کے درخت اور لازوال سلطنت کے بارے میں نہ بتاؤں ۔ ( سورہ طہ ۔۱۲۰) بہرحال بحسب الظاہر حضرت آدم علیہ السلام ہی کے لیے احکام تھے خدا کے فرامین انہیں کیلئے ہی تھے زحمت ودقت بھی ان کیلئے ہی تھی لباس کااترنا بھی انہی کے لیے تھا حضرت حوا بہ حیثیت زوجہ ان امورمیں مبتلا ہوئیں ۔ جیسا کہ ایک مقام پر خدا وند نے یہاں تک فرمایا ہے : وَلَقَدْ عَہِدْنَا إِلٰی آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَہ عَزْمًا "اور تحقیق ہم نے اس سے پہلے آدم سے عہد لیا تھا لیکن وہ بھول گئے( ترک کر دیا ) ہم نے ان میں کوئی عزم نہیں پایا ۔ (سورہ طہ ۔۱۲۰) قرآن کاعظیم احسان ہے کہ اس نے عورت کی بے چارگی اورمظلومی کو اجاگرکیااوربتایاکہ حضرت حوا زوجہ ہونے کی وجہ سے شریک کار تھیں ۔خدا کے نمائندے آدم علیہ السلام پر ہی احکام کانزول ہوا اور انہی سے عہد لیا گیا تھا جو پورا نہ ہو سکا۔ کیوں؟ کیا اس کی وجہ سے عصمت میں فرق نہیں پڑے گا ۔ اس کا تذکرہ کسی مناسب مقام پر کریں گے۔ حضرت حوا ان معاملات میں مورد الزام نہیں ٹھہرتیں لہٰذا بے چاری عورت پر اشکال کوئی معنی نہیں رکھتا۔ عورت بھی انسان ہے، عورت بھی مکلف ہے، مردوں کی طرح سے عورتیں بھی صالح ہیں اور عظمت عورت میں کوئی کلام نہیں ۔مرد کی طرح عورت بھی اشرف المخلوقات اور انسان ہے ۔ عورت مرد کے مساوی ہے فرق صرف فضیلت اور تقویٰ کی وجہ سے ہے ۔ مرد وعورت احکام میں برابر ہیں صرف خون کے مسائل میں عورت کے احکام جدا ہیں اور جہاد عورت سے ساقط… وگرنہ احکام میں مساوی ہیں۔ جز او سزا میں بھی مساوی ہیں ، اعزاز و اکرام اور اہانت و تذلیل میں مساوات ہے، خلقت و زندگی ایک ہے اور اساس زندگی بھی ایک ہی ہے ۔ پس جب معیارِ تفاضل بھی ایک جیساہے لہٰذا جزا وسزا بھی ایک جیسی ہی ہے ۔ جیسا کہ ارشاد خدا وندی ہے: وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنثٰی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَأُو۱لٰئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَلَایُظْلَمُونَ نَقِیرًا ۔ "اور جو نیک اعمال بجا لائے خواہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہوں تو لہٰذا( سب) جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہوگا۔( سورہ نساء ۔۱۲۴ ) ارشاد خدا وندی ہے: مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنثٰی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہ حَیَاةً طَیِّبَةً وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ أَجْرَہُمْ بِأَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ "جو نیک عمل کرے خواہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہو تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور ہم انہیں ان کے اعمال کی بہترین جزا ضرور دیں گے۔( سورہ نحل ۔ ۹۷) بہرحال عورت و مرد اعمال اور جزا میں مساوی ہیں ہرکسی نے اپنا انجام خود بنانا ہے اورہر فرد اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہو گا ۔ جیساکہ ارشاد خدا وندی ہے: وَلاَتَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ أُخْرٰی "کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ( سورہ بنی اسرائیل ۔۱۵) یہ تصور کہ مرد حاکم ہے ۔یہ انتظامی معاملہ ہے اورنظام کی درستگی کیلئے ہے ، جیسے مرد حاکم ہے اورکئی اشخاص اس کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ گھر کا سربراہ مرد ہے وگرنہ کوئی مرد ہے جو سیدہ سلام اللہ علیہا کے ہم پلہ ہو ؟ کوئی ہے جس کی کار گزاری اورجس کا کام ثانی زہراء جیساہو پس مساوات ہی مساوات ہے اور فضیلت کا معیار تقویٰ ہے ۔ بہر حال قرآن مجید کی رو سے مرد و زن کی خلقت کا طریق کار ایک ہے، معیار تفاضل و تفاخر ایک ہے اوروہ ہے عمل خیر ! جیساکہ ارشاد خدا وندی ہے: أَنِّی لَاأُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثٰی بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ "تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں ہو گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت کیونکہ تم ایک دوسرے کا حصہ ہو۔" ( سورہ آل عمران ۔۱۹۵) مرد عورت دونوں کی اہمیت ہے اور دونوں کا عمل وزنی ، معتبر اور قابل اعتبار ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کا حصہ ہیں تو پھرفوقیت اور چودھراہٹ کیسی ؟ نظام خانوادگی میں ایک ہیں، نظام تناسل میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں، سکون حاصل کرنے میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں ۔دونوں ایک ہیں اورمن تو شدم تو من شدی کے مصداق ہیں۔ جیسا کہ ارشاد خدا وندی ہے: وَمَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِنْ ذَکَرٍ اَ وَ اُنْثیٰ وَھُوْ مَوٴْمِنٌ فَاوٴُلٰئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْھَا بِغَیْرِ حِسَابٍ۔ " اورجو نیکی کرے گا مرد ہو یا عورت اوروہ صاحب ایمان بھی ہو تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے جس میں انہیں بے شمار رزق ملے گا ۔ ( سورہ مومن ۔۴۰) درحقیقت بعضکم من بعض فرما کر یہ واضح کردیا گیا کہ زندگی کی َضروریات اور تدبیر امور میں دونوں برابر ہیں اور ایک دوسرے کا حصہ ہیں۔ دونوں (مرد عورت) ایک جیسے ہیں ،اس کے علاوہ عورت کودو امتیازی صفات دی گئیں ہیں۔ ۱۔ عورت کی وجہ سے نوع انسان کی بقا و ارتقا ء ۲۔ عورت واجد لطاقت و حساسیت ہے جس کی معاشرہ میں اہمیت ہے اور پھردنیاو آخر کے سب امور میں اشتراک ہے۔ ارشاد رب العزت ہے: وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللہ بِہ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِمَّا اکْتَسَبُوْا وَلِلنِّسَاءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَط وَاسْأَلُوا اللہ مِنْ فَضْلِہ ط اِنَّ کَانَّ اللہ کَانَ بِکُلِّ شَیْیءٍ عَلِیْمًا۔ "اور جس چیز میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی اسکی تمنا نہ کیا کرو، مردوں کو اپنی کمائی کا صلہ اور عورتوں کو اپنی کمائی کا صلہ مل جائے گا اور اللہ سے اس کا فضل وکرم مانگتے رہو حقیقتاً اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھتاہے۔" (سورہ نساء ۔ ۳۲) بحسب الظاہر دنیاکا کام نظرآرہا ہے لیکن آیت میں عمومیت ہے ۔ دنیا وآخرت کا کام جو بھی کرے گا ۔ جس قدر کرے گا ۔ جس خلوص و محنت سے کرے گا ۔ اسی قدر نتیجہ اورثمر حاصل کرے گا ۔(خواہ وہ مرد ہو یا عورت ) اے انسان مومن توتکبر سے باز آ۔ غرور نہ کر ۔ خود کو کسی سے برتر بہتر نہ سمجھ ۔ تیرے گھر میں مزدوری کرنے والا، اللہ کے نزدیک تجھ سے زیادہ عزت والا ہو ہوسکتا ہے ۔
یہ بھی ممکن ہے کہ تیری زوجہ عمل و کردار میں تجھ سے زیادہ بہتر ہو پس معیار فضیلت تقوی ٰ ہے۔

قرآن مجید میں بعض عورتوں کا تذکرہ
ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ،ام البشر جناب حوا ، آدم علیہ السلام کی(تخلیق سے) بچی ہوئی مٹی سے پیدا ہوئیں۔جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے: وَخَلَقَ مِنْھَا زَوْجُھَا ۔ "اوراس کا جوڑا اسی کی جنس سے پیدا کیا۔" (نساء:۱) وَمِنْ آیَاتِہ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْکُنُوْا إِلَیْہَا ۔ "اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارا جوڑا تمہیں سے پیدا کیا تاکہ تمہیں اس سے سکون حاصل ہو۔" (روم:۲۱) وَاللہ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجًا۔ "اللہ نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں۔" (نحل:۷۲) تمہاری ہی مٹی سے پیدا ہونے والی عورت تمہاری طرح کی انسان ہے، جب ماں باپ ایک ہیں تو پھر خیالی اور وہمی امتیاز و افتخار کیوں؟ اکثر آیات میں آدم اور حوا اکٹھے مذکور ہوئے ہیں ،پریشانی کے اسباب کے تذکرہ میں بھی دونوں کا ذکر باہم ہوا ہے۔دو آیات میں صرف آدم کا ذکر کر کے واضح کیا گیا ہے کہ اے انسان کسی معاملہ میں حوا کو مورد الزام نہ ٹھہرانا ،وہ تو شریک سفر اور شریک زوج تھی۔ وَلَقَدْ عَہِدْنَا إِلٰی آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَہ عَزْمًا ۔ "اور ہم نے پہلے ہی آدم سے عہد لے لیا تھا لیکن وہ اس میں پر عزم نہ رہے۔" (طہ:۱۱۵) قَالَ یَاآدَمُ ہَلْ أَدُلُّکَ عَلٰی شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَّا یَبْلٰی ۔ "ابلیس نے کہا اے آدم! کیا میں تمہیں اس ہمیشگی کے درخت اور لازوال سلطنت کے بارے میں نہ بتاؤں۔ (طہٰ:۱۲۵) آپ لوگوں نے ملاحظہ کیا کہ ان آیات میں حضرت حوا شریک نہیں ہیں اور تمام امور کی نسبت حضرت آدم ہی کی طرف ہے۔ (۲)زوجہ حضرت نوح علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام پہلے نبی ہیں جو شریعت لے کر آئے جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے: شَرَعَ لَکُمْ مِّنْ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہ نُوْحًا وَّالَّذِیْ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ۔ "اللہ نے تمہارے دین کا دستور معین کیا جس کا نوح کو حکم دیا گیا اور جس کی آپ کی طرف وحی کی ۔"(شوریٰ :۱۳) حضرت نوح علیہ السلام نے ۹۵۰سال تبلیغ کی ۔ارشاد رب العزت ہے: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوْحًا إِلٰی قَوْمِہ فَلَبِثَ فِیْہِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلاَّ خَمْسِیْنَ عَامًا "بتحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وہ ان کے درمیان ۵۰سال کم ایک ہزار سال رہے۔" (عنکبوت:۱۴) حضرت نوح کو کشتی بنانے کا حکم ہوا ۔ وَاصْنَع الْفُلْکَ بِأَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا ۔ "اور ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم سے کشتی بنائیں اور حکم ہوا کہ اللہ کے حکم سے کشتی کو بناؤ۔"(ہود:۳۷) وَقَالَ ارْکَبُوْا فِیْہَا بِاِسْمِ اللہ مَجْرَاًہَا وَمُرْسَاہَاط إِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَحِیْمٌ وَہِیَ تَجْرِیْ بِہِمْ فِیْ مَوْجٍ کَالْجِبَالِ ۔ "اور نوح نے کہا کہ کشتی میں سوار ہو جاوٴ اللہ کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے بتحقیق میرا رب بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے اور کشتی انہیں لے کر پہاڑ جیسی موجوں میں چلنے لگی ۔ (ہود:۴۲۔۴۱) حضرت نوح نے اپنے بیٹے سے کشتی میں سوار ہونے کیلئے کہا اس نے (اور زوجہ نوح نے ) انکار کیا اور کہا میں پہاڑ پر چڑھ جاوٴں گا اور محفوظ رہوں گا۔جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے: یَابُنَیَّ ارْکَبْ مَّعَنَا وَلاَتَکُنْ مَّعَ الْکَافِرِیْنَ قَالَ سَآوِیْ إِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَاءِ ط قَالَ لَاعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللہ إِلاَّ مَنْ رَّحِمَ وَحَالَ بَیْنَہُمَا الْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ۔ "نوح نے اپنے بیٹے سے کہا ہمارے ساتھ سوار ہو جاؤ اور کافروں کے ساتھ نہ رہو اس نے کہا میں پہاڑ کی پناہ لوں گا وہ مجھے پانی سے بچالے گا ۔ نوح ۔ نے کہا آج اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں مگر جس پر اللہ رحم کرے پھر دونوں کے درمیان موج حائل ہو گئی اور وہ ڈوبنے والوں میں سے ہو گیا ۔ (ہود:۴۳۔۴۲) اور کشتی کوہ جودی پر پہنچ کر ٹہر گئی ۔جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے: وَقِیْلَ یَاأَرْضُ ابْلَعِیْ مَائَکِ وَیَاسَمَاءُ أَقْلِعِیْ وَغِیْضَ الْمَاءُ وَقُضِیَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوْدِیِّ وَقِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ ۔ "اور کہا گیا اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا ۔ اور پانی خشک کر ہو گیا اور کام تمام ہوگیا اور کشتی کوہ جودی پر ٹھہر گئی اور ظالموں پر نفرین ہو گئی ۔ (ہود :۴۴) کشتی ہی بچاؤ کا واحد کا ذریعہ تھی۔ قرآن مجید نے حضرت نوح ۔کی زوجہ کو خیانت کار قرا دیا ہے نبی کی بیوی ہونے کے با وجود جہنم کی مستحق بن گئی ۔ ارشاد رب العزت ہے : ضَرَبَ اللہ مَثَلاً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا امْرَأَةَ نُوْحٍ وَّامْرَأَةَ لُوْطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتَاہُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْہُمَا مِنَ اللہ شَیْئًا وَّقِیْلَ ادْخُلاَالنَّارَ مَعَ الدَّاخِلِیْنَ "خدا نے کفر اختیا رکرنے والوں کیلئے زوجہ نوح اور زوجہ لوط کی مثال دی ہے یہ دونوں ہمارے نیک بندوں کی زوجیت میں تھیں لیکن ان سے خیانت کی تو اس زوجیت نے خدا کی بارگاہ ان کو میں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور ان کیلئے کہہ دیا گیا کہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ تم دونوں بھی داخل ہو جاؤ۔(تحریم :۱۰) اپنا عمل ہی کامیابی کا ضامن ہے رشتہ داری حتی نبی کا بیٹا ہونا کچھ بھی فائدہ نہیں دے گا ۔ (۳)زوجہ حضرت لوط حضرت لوط ،حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے ان کی قوم سب کے سامنے کھلم کھلا برائی میں مشغول رہتی ۔ لواطت ان کا محبوب مشغلہ تھا ۔ پتھروں کی بارش سے انہیں تباہ کر دیا گیا ۔حضرت لوط۔کی زوجہ بھی تباہ ہونے والوں میں سے تھی جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے : وَلُوْطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِہ أَتَأْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ أَئِنَّکُمْ لَتَأْ تُوْنَ الرِّجَالَ شَہْوَةً مِّنْ دُونِ النِّسَاءِ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْہَلُوْنَ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہ إِلاَّ أَنْ قَالُوْا أَخْرِجُوْا آلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ إِنَّہُمْ أُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوْنَ فَأَنْجَیْنَاہُ وَأَہْلَہ إِلاَّ امْرَأَتَہ قَدَّرْنَاہَا مِنَ الْغَابِرِیْنَ وَأَمْطَرْنَا عَلَیْہِمْ مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ "اور لوط کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم آنکھیں رکھتے ہوئے بدکاری کا ارتکاب کر رہے ہو کیا تم لوگ شہوت کی وجہ سے مردوں سے تعلق پیدا کر رہے ہو اور عورتوں کو چھوڑے جا رہے ہو در حقیقت تم بالکل جاہل لوگ ہو ۔ تو ان کی قوم کا کوئی جواب نہ تھا سوائے اس کے کہ لوط کے خاندان کو اپنی بستی سے باہر نکال دو کہ یہ لوگ بہت پاک باز بن رہے ہیں تو لوط اور ان کے خاندان والوں کو بھی (زوجہ کے علاوہ) نجات دے دی اس (زوجہ) کو ہم نے پیچھے رہ جانے والوں میں قرار دیا تھا اور ہم نے ان پر عجیب قسم کی بارش کر دی کہ جس سے ان لوگوں کو ڈرایا گیاتھا ان پر(پتھروں) کی بارش بہت بری طرح برسی ۔ " (نمل، ۵۴ تا ۵۵)
حضرت لوط کی زوجہ خیانت کار نکلی اور عذاب میں مبتلا ہوئی جیسا کہ حضرت نوح ۔کی زوجہ کا حا ل ہوا جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے ۔ ضَرَبَ اللہ مَثَلاً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا امْرَأَةَ نُوْحٍ وَّاِمْرَأَةَ لُوْطٍ "خدا نے کفر اختیا رکرنے والوں کیلئے زوجہ نوح اور زوجہ لوط کی مثال دی ہے۔" (تحریم :۱۰) زوجہ نوح کی طرح زوجہ لوط بھی ہلاک ہو گئی ۔ (۴)زوجہ حضرت ابراہیم - حضرت ابراہیم خلیل اللہ عظیم شخصیت کے مالک ہیں انہیں جد ّالانبیاء سے تعبیر کیا گیا ہے اورتمام ادیان ان کی عظمت پر متفق ہیں۔ حضرت ابراہیم کی قوم بت پرست تھی دلائل و براہین کے ساتھ انہیں سمجھایا پھر ان کے بتوں کو توڑا توبت شکن کہلائے ۔ ان کو آگ میں ڈالا گیا تو وہ گلزار بن گئی۔ خواب کی بنا پربیٹے کو ذبح کرنا چاہا تو اس کا فدیہ ذبح عظیم فدیہ کہلایا ۔ ابراہیم خانہ کعبہ کی تعمیرکی اور مکہ کی سر زمین کو آباد کیا ۔ ہمارا دین ،دین ابراہیم سے موسوم ہوا ۔ ان کی بت شکنی کے متعلق ارشاد رب العزت ہو رہا ہے : وَتَاللہ لَأَکِیْدَنَّ أَصْنَامَکُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِینَ فَجَعَلَہُمْ جُذَاذًا إِلاَّ کَبِیْرًا لَّہُمْ لَعَلَّہُمْ إِلَیْہِ یَرْجِعُوْنَ قَالُوْا أَنْتَ فَعَلْتَ ہَذَا بِآلِہَتِنَا یَاإِبْرَاہِیْمُ قَالَ بَلْ فَعَلَہ کَبِیْرُہُمْ ہَذَا فَاسْأَلُوْہُمْ إِنْ کَانُوْا یَنْطِقُوْنَ ۔ فَرَجَعُوْا إِلٰی أَنْفُسِہِمْ فَقَالُوْا إِنَّکُمْ أَنْتُمُ الظَّالِمُوُنَ ثُمَّ نُکِسُوْا عَلٰی رُئُوْسِہِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا ہٰؤُلَاءِ یَنْطِقُوْنَ۔ "اور اللہ کی قسم جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے ان بتوں کی خبر لینے کی ضرور تدبیرسوچوں گا چنانچہ حضرت ابراہیم نے ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا سوائے ان کے بڑے (بت ) کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں ۔ (انبیاء ۵۷ں۵۸) کہا اے ابراہیم !کیاہمارے ان بتوں کا یہ حال تم نے کیا ہے؟ ابراہیم نے کہا بلکہ ان کے اس بڑے (بت) نے ایسا کیا ہے تم ان سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہیں ( یہ سن کر) وہ ضمیر کی طرف پلٹے او ر دل ہی دل میں کہنے لگے حقیقتاً تم خود ہی ظالم ہو پھر انہوں نے اپنے سروں کو جھکا دیا اور (ابراہیم سے) کہا تم جانتے ہو کہ یہ نہیں بولتے ۔ (انبیاء۔۶۲تا۶۵) نمردو کے حکم سے اتنیآگ روشن کی گئی کہ اس کے اوپر سے پرندہ نہیں گزر سکتا تھا۔پھر ابراہیم کو گوپھن میں رکھ کرآگ میں ڈال دیاگیا۔ مزید ارشاد فرمایا: قَالُوْا حَرِّقُوْہُ وَانْصُرُوْا آلِہَتَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ فَاعِلِیْنَ قُلْنَا یَانَارُ کُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلَامًا عَلٰی إِبْرَاہِیْمَ ۔ "وہ کہنے لگے اگر تم کو کچھ کر نا ہے تو اسے جلا دو اور اپنے خداوٴں کی نصرت کرو ۔ہم نے کہا اے آگ تو ٹھنڈی ہو جا اور ابراہیم کیلئے سلامتی بن جا ۔" (انبیاء :68-69) ابراہیم و نمرود کا مباحثہ أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْ حَاجَّ إِبْرَاہِیْمَ فِیْ رَبِّہ أَنْ آتَاہُ اللہ الْمُلْکَ إِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ رَبِّی الَّذِیْ یُحْیِی وَیُمِیْتُ قَالَ أَنَا أُحْیی وَأُمِیْتُ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ فَإِنَّ اللہ یَأْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُہِتَ الَّذِیْ کَفَرَ وَاللہ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ۔ "کیا تم نے اس شخص کا حال نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے ان کے رب کے بارے میں اس بناء پر جھگڑا کیا کہ اللہ نے اسے اقتدار دے رکھا تھا جب ابراہیم نے کہا میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے تو اس نے کہا زندگی او رموت دینا میرے اختیار میں بھی ہے ابراہیم نے کہا اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال کے دکھا! یہ سن کر وہ کافر مبہوت ہوکر رہ گیا اور اللہ ظالموں کی راہنمائی نہیں کرتا۔" (بقرہ:۲۵۸) حضرت ابراہیم اسماعیل اور ہاجرہ کو مکہ چھوڑ آئے تو ارشاد فرمایا : رَبَّنَا إِنِّی أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ۔ "اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو تیرے محترم گھر کے نزدیک ایک بنجر وادی میں بسایاہے۔" (ابراہیم:۳۷) خواب کی وجہ سے اسماعیل کا ذبح ارشاد رب العزت ہے: قَالَ یَابُنَیَّ إِنِّیْ أَرٰی فِی الْمَنَامِ أَنِّیْ أَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَی قَالَ یَاأَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِی إِنْ شَاءَ اللہ مِنَ الصَّابِرِیْنَ فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّہ لِلْجَبِیْنِ وَنَادَیْنَاہُ أَنْ یَّاإِبْرَاہِیْمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ إِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْبَلاَءُ الْمُبِیْنُ وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ۔ " ابراہیم نے کہااے بیٹا !میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں پس دیکھ لو تمہاری کیا رائے ہے اسماعیل نے کہا اے ابا جان ! آپ کو جو حکم ملا ہے اسے انجام دیں اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبرکرنے والوں میں پائیں گے۔پس جب دونوں نے حکم خدا کو تسلیم کیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا تو ہم نے ندا دی اے ابراہیم !تو نے خواب کو سچ کر دکھایاہے۔بیشک ہم نیکوکاروں کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں ۔یقینا یہ بڑا سخت امتحان تھا۔ہم نے ایک عظیم قربانی سے اس کا فدیہ دیا۔

حضرت ابراہیم و اسماعیل اور تعمیر کعبہ
ارشاد رب العزت ہے: وَإِذْ یَرْفَعُ إِبْرَاہِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَإِسْمَاعِیْلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّکَ وَأَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ "(وہ وقت بھی یاد کرو)جب ابراہیم اور اسماعیل اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے اور دعا کر رہے تھے۔ اے ہمارے رب ہم سے (یہ عمل) قبول فرما کیونکہ تو خوب سننے اور جاننے والا ہے۔اے ہمارے رب ہم دونوں کو اپنا مطیع اور فرمانبردار بنا۔اور ہماری ذریت سے اپنی ایک فرمانبردار امت پیدا کر اور ہمیں ہماری عبادت کی حقیقت سے آگاہ فرما اور ہماری توبہ قبول فرما۔یقینا تو بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔"(بقرہ:۱۲۷ ،۱۲۸) امتحان میں کامیابی کے بعد امامت کا ملنا وَإِذِ ابْتَلٰی إِبْرَاہِیْمَ رَبُّہ بِکَلِمَاتٍ فَأَتَمَّہُنَّ قَالَ إِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ قَالَ لَایَنَالُ عَہْدِی الظَّالِمِیْنَ ۔ "اور(وہ وقت بھی یاد کرو)جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات سے آزمایا اور انہوں نے ان کو پورا کر دیا۔تو ارشاد ہوا میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔انہوں نے کہا اور میری اولاد سے بھی۔ارشاد ہوا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔"(بقرہ :۱۲۴) کیا کہنا عظمت اور خلّت ِابراہیم کا،وہ واقعاً ایک امت تھے۔انہوں نے اللہ کے کاموں میں پوری وفا کی۔ارشاد ہوا۔ وَاِبرَہِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی "اور ابراہیم جس نے (حق اطاعت) پورا کیا۔" (نجم:۳۷) لیکن ان کی زوجہ محترمہ کی وفا مثالی اور کردار عالی تھا۔حضرت ابراہیم کے ہر قول پر امنا وصدقنا کی حقیقی مصداق تھیں،اور ہر تکلیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار رہتیں۔ چھوٹے بچے اسماعیل اور ہاجرہ کو اکیلے مکہ جیسی بے آب و گیاہ زمین میں چھوڑ رہے ہیں نہ پینے کا پانی ہے اور نہ کھانے کیلئے خوراک بننے والی کوئی چیز ۔ سایہ کیلئے کوئی درخت بھی نہیں۔ نہ تو کوئی انسان موجود ہے اور نہ کوئی متنفس لیکن ہاجرہ رضائے خدا ، رضائے ابراہیم پر راضی کھڑی ہیں اللہ نے اس بی بی کو اس قدر عظمت دی کہ اسماعیل کے ایڑیاں رگڑنے سے زم زم جیسے پانی کا تحفہ میّسر ہوابیچاری ہاجرہ پانی کی تلاش کیلئے بھاگ دوڑ میں ہی مشغول رہیں۔ صفا و مروہ شعائر اللہ اور حج کا عظیم رکن بن گئے مکہ آباد ہوا اور اللہ والوں کا مرکز ٹھہرا ۔ ارشاد رب العزت ہوا : رَبَّنَا إِنِّیْ أَسْکَنتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیْ إِلَیْہِمْ وَارْزُقْہُمْ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُوْنَ۔ "اے ہمارے پروردگار! میں اپنی اولادمیں سے بعض کو تیرے محترم گھر کے قریب بے آب و گیا ہ وادی میں چھوڑ رہا ہوں تاکہ وہ یہاں نماز قائم کریں اور(اے اللہ)تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف موڑ دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار بندے بن جائیں ۔" ( ابراہیم :۳۷) اب اس گرم تپتی ہوئی زمین پر صرف دو انسان موجود ہیں ایک عورت اور دوسرا چھوٹا سا بچہ، ماں اور بیٹے کو پیاس لگی۔ ماں صفا اور مروہ پہاڑ وں کے درمیان پانی کی تلاش میں بھاگ دوڑ کر رہی ہیں ارشاد رب العزت ہوتا ہے ۔ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللہ "بے شک صفا اور مروہ دونوں پہاڑیاں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔" (بقرہ :۱۵۸) ادھر اسماعیل رو رہے ہیں ایڑیاں رگڑ رہے ہیں خدا نے پانی کا چشمہ جاری کر دیا ہاجرہ تھکی ہوئی آئیں پانی دیکھا تو خوش ہو گئیں ارد گرد مٹی رکھ دی اور کہا زم زم ( رک جا رک جا) تو چشمہ کا نام زم زم پڑ گیا ۔ جب حضرت ابراہیم جانے لگے تو بے چاری عورت نے صرف اتنا کہا۔ اِلیٰ مَنْ تَکِلُنِیْ مجھے کس کے سپرد کر کے جا رہے ہو ۔ ابراہیم ۔نے کہا اللہ۔یہ سن کر ہاجرہ مطمئن ہو گئیں ۔ عورت کا خلوص اور ماں کی مامتا اس بات کی موجب بنی کہ جب وہ پانی کی تلاش میں کبھی صفا اور کبھی مروہ کی طرف جاتی تو اللہ کو یہ کام اتنا پسند آیا کہ اس نے صفا و مروہ کے درمیان سات چکروں کو حج کا واجب رکن قرار دیا ۔ پانی ملا اورجب اس پر ہر طرف سے بند باندھا تو زم زم کہلایا ،حج کے موقع پر یہاں سے پانی لینا مستحب ہے اس پانی سے منہ اور بدن دھونا بھی مستحب ہے۔ آج پوری دنیا میں آب زم زم تبرک کے طور پر پہنچ کر گواہی دے رہا ہے کہ جناب ہاجرہ نے خدا و رسول کی جو اطاعت کی اس کے صدقے میں ہاجرہ کی پیروی کس قدر ضروری ہے۔ پھر آب زم زم کو یہ قدر و منزلت اور عظمت اس بی بی (عورت) کی وجہ سے نصیب ہوئی ۔ ابراہیم ۔کا کام قابل احترام ہے لیکن زوجہ کا احترام بھی ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے گا۔ (۵) یوسف اور زلیخا خدا وند عالم نے حضرت یوسف کو بہت بلند درجہ عطا فرمایا ان کے قصہ کو احسن القصص (بہترین قصہ) قرار دیا انہیں منتخب فرمایا ان پر نعمتیں عام کیں اور انہیں حکمرانی عطا فرمائی۔ البتہ یہ حقیقت ہے ابتدا میں بھائیوں نے بہت پریشان کیا کنویں میں ڈالا پھربازار فروخت ہوئے اور بعد میں عورتوں نے بھی بہت پریشان کیا لیکن کامیابی وکامرانی آخر کار حضرت یوسف کوہی نصیب ہوئی۔ ارشاد رب العزت ہوا : وَکَذٰلِکَ یَجْتَبِیْکَ رَبُّکَ وَیُعَلِّمُکَ مِنْ تَأْوِیْلِ الْأَحَادِیْثِ وَیُتِمُّ نِعْمَتَہ عَلَیْکَ وَعَلٰی آلِ یَعْقُوبَ کَمَا أَتَمَّہَا عَلٰی أَبَوَیْکَ مِنْ قَبْلُ إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبَّکَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ ۔ "تمہارا رب تم کو اسی طرح برگزیدہ کر دے گاتمیں خوابوں کی تعبیر کا علم سکھائے تم اور آل یعقوب پر اپنی نعمت اسی طرح پوری کریگا جس طرح اس سے پہلے تمہارے اجداد ابراہیم و اسحاق پر کر چکا ہے بے شک تمہارا رب بڑے علم اور حکمت والا ہے۔" (یوسف :۶) بھائیوں کی سازشوں ، ریشہ دانیوں اور ظلم سے حضرت یوسف بک گئے اور پھر عزیز ِمصر کے پاس آگئے۔ اب عورتوں نے اس قدر پریشان کیا کہ خدا کی پناہ ! ارشاد رب العزت ہوا : وَرَاوَدَتْہُ الَّتِیْ ہُوَ فِیْ بَیْتِہَا عَنْ نَّفْسِہ وَغَلَّقَتِ الْأَبْوَابَ وَقَالَتْ ہَیْتَ لَکَ قَالَ مَعَاذَ اللہ إِنَّہ رَبِّیْ أَحْسَنَ مَثْوَایَ إِنَّہ لَایُفْلِحُ الظَّالِمُوْنَ وَلَقَدْ ہَمَّتْ بِہ وَہَمَّ بِہَا لَوْلَاأَنْ رَّأ بُرْہَانَ رَبِّہ کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّہ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیْصَہ مِنْ دُبُرٍ وَّأَلْفَیَا سَیِّدَہَا لَدٰ الْبَابِ قَالَتْ مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَہْلِکَ سُوْئًا إِلاَّ أَنْ یُّسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ قَالَ ہِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْ أَہْلِہَا إِنْ کَانَ قَمِیْصُہُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَہُوَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ وَإِنْ کَانَ قَمِیْصُہ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَہُوَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ فَلَمَّا رَأَ قَمِیصَہ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ إِنَّہ مِنْ کَیْدِکُنَّ إِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ ۔ "اور یوسف جس عورت کے گھر میں تھے ۔اس نے انہیں اپنے ارادہ سے منحرف کرکے اپنی طرف مائل کرناچاہا اور سارے دروازے بند کر کے کہنے لگی آ جاوٴ۔ یوسف نے کہا پناہ بہ خدا! یقینا میرے رب نے مجھے اچھا مقام دیا ہے بے شک ظالموں کو فلاح نہیں ملا کرتی اور اس عورت نے یوسف کا ارادہ کر لیا اور یوسف بھی اس کا ارادہ کر لیتے اگر وہ اپنے رب کے برہان نہ دیکھ چکے ہوتے ۔ اس طرح ہوا ، تاکہ ہم ان سے بدی اور بے حیائی کو دور رکھیں کیونکہ یوسف ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھے ۔ث دونوں آگے نکلنے کی کوشش میں دروازے کی طرف دوڑ پڑے اور اس عورت نے یوسف کا کرتا پیچھے سے پھاڑ دیا اتنے میں دونوں نے اس عورت کے شوہر کو دروازے پر موجود پایا۔ عورت کہنے لگی جو شخص تیری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی سزا کیا ہو سکتی ہے سوائے اس کے کہ اسے قید میں ڈالا جائے یا دردناک عذاب دیا جائے۔ یوسف نے کہا یہی عورت مجھے اپنے ارادہ سے پھسلانا چاہتی تھی اور اس عورت کے خاندان کے کسی فرد نے گواہی دی کہ اگر یوسف کا کرتا آگے سے پھٹا ہے تو یہ سچی ہے اور یوسف جھوٹا اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو یہ جھوٹی ہے اور یوسف سچا ہے جب اس نے دیکھا تو کرتا تو پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تواس (کے شوہر ) نے کہا بے شک یہ تو تمہاری فریب کاری ہے بتحقیق تم عورتوں کی فریب کاری تو بہت بھاری ہوتی ہے ۔" (یوسف: ۲۳تا ۲۸) یہ بہت بڑا واقعہ تھا ایک طرف بے چارا اور زر خرید غلام ہے جبکہ دوسری طرف بادشاہ کی بیوی ۔ چہ مگوئیاں ہوئیں ۔تو شاہ مصر کی زوجہ نے محفل سجائی عورتوں کو دعوت میں بلایااور میوا جات رکھ دیئے گئے پھر ان سے کہا گیا کہ چھری کانٹے ہاتھ میں لے لو ۔ دعوت ِ خورد و نوش شروع ہوئی، ادھر سے پھل کٹنا شروع ہوئے اُدھر سے یوسف کو بلا لیا گیا۔ وہ عورتیں حسنِ یوسف سے اس قدر حواس باختہ ہو گئیں کہ بہت سی عورتوں نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں کاٹ لیں ۔واہ رے حسنِ یوسف! ارشاد رب العزت ہے : وَقَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَأَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتَاہَا عَنْ نَّفْسِہ قَدْ شَغَفَہَا حُبًّا إِنَّا لَنَرَاہَا فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَکْرِہِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَیْہِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَہُنَّ مُتَّکَأً وَّآتَتْ کُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْہُنَّ سِکِّیْنًا وَّقَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْہِنَّ فَلَمَّا رَأَیْنَہ أَکْبَرْنَہ وَقَطَّعْنَ أَیْدِیَہُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّہِ مَا ہَذَا بَشَرًا إِنْ ہَذَا إِلاَّ مَلَکٌ کَرِیْمٌ قَالَتْ فَذَلِکُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْہِ وَلَقَدْ رَاوَدْتُّہ عَنْ نَّفْسِہ فَاسْتَعْصَمَ وَلَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَا آمُرُہ لَیُسْجَنَنَّ وَلَیَکُونًا مِّنَ الصَّاغِرِیْنَ قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْ إِلَیْہِ ۔ "شہر کی عورتوں نے کہنا شروع کر دیا کہ عزیز مصر کی بیوی اپنے غلام کو اس کے ارادہ سے پھسلانا چاہتی ہے اس کی محبت اس کے دل کی گہرائیوں میں اثر کر چکی ہے ہم تو اسے یقینا صریح گمراہی میں دیکھ رہے ہیں پس اس نے جب عورتوں کی مکارانہ باتیں سنیں تو انہیں بلا بھیجا اور ان کیلئے مسندیں تیار کیں اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھری دے دی (کہ پھل کاٹیں) پھر اس نے یوسف سے کہا ان کے سامنے سے گزرو۔ پس جب عورتوں نے انہیں دیکھا تو انہیں بڑا حسین پایا اور وہ اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور کہے اٹھیں سبحان اللہ یہ بشر نہیں ہو سکتا یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے! اس نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں اور بے شک میں نے اس کو اپنے ارادہ سے پھسلانے کی کوشش کی تھی مگر اس نے اپنی عصمت قائم رکھی اور اگر یہ میرا حکم نہ مانے گا تو ضرور قید کر دیا جائے گا اور خوار بھی ہوگا۔ یوسف نے کہا:اے میرے رب! مجھے اس چیز سے قید زیادہ پسند ہے جس کی طرف یہ عورتیں دعوت دے رہی ہیں۔" (یوسف ۳۰تا ۳۳) یوسف قید میں ڈال دئے گئے اور وہاں انہوں نے دو قیدیوں کے خواب کی تعبیر بیان کی اس کی خبر عزیز مصر کو ہو گئی پھر بادشاہ کے خواب کی تعبیربھی بتائی جو ملک و ملت کیلئے مفید تھی تب بادشاہ نے یوسف کو قید خانے سے بلا بھیجا جب قاصد یوسف کے پاس آیا توکہا : وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہ فَلَمَّا جَاءَ ہُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ إِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الَّتِیْ قَطَّعْنَ أَیْدِیَہُنَّ إِنَّ رَبِّیْ بِکَیْدِہِنَّ عَلِیْمٌ قَالَ مَا خَطْبُکُنَّ إِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوسُفَ عَنْ نَّفْسِہ قُلْنَ حَاشَ لِلَّہِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْہِ مِنْ سُوْءٍ قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِیْزِ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدْتُّہ عَنْ نَّفْسِہ وَإِنَّہ لَمِنَ الصَّادِقِیْنَ ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ أَنِّیْ لَمْ أَخُنْہُ بِالْغَیْبِ وَأَنَّ اللہ لاَیَہْدِیْ کَیْدَ الْخَائِنِیْنَ "اور بادشاہ نے کہا یوسف کو میرے پاس لاوٴ پھر جب قاصد یوسف کے پاس آیا تو انہوں نے کہا اپنے مالک کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا مسئلہ کیا تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے میرا رب تو ان کی مکاریوں سے خوب واقف ہے۔ بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا اس وقت تمہارا کیا حال تھا جب تم نے یوسف کو اپنے ارادے سے پھسلانے کی کوشش کی تھی؟ سب عورتوں نے کہا ہم نے یوسف میں کوئی برائی نہیں دیکھی۔(اس موقع پر) عزیز کی بیوی نے کہا اب حق کھل کر سامنے آگیا ہے میں نے یوسف کو اس کی مرضی کے خلاف پھسلانے کی کوشش کی تھی اور یوسف یقینا سچوں میں سے ہیں (یوسف نے کہا)ایسا میں نے اس لئے کیا تاکہ وہ جان لے کہ میں نے عزیز مصر کی عدم موجودگی میں اس کے ساتھ کوئی خیانت نہیں کی اور اللہ خیانت کاروں کے مکر و فریب کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کرتا۔" (یوسف :۵۰تا ۵۲) بہرحال حضرت یوسف بادشاہ کے بلانے پر فورا نہیں گئے بلکہ اپنی برائت کے اثبات کے بعد با عزت و عظمت اور عصمت کے ساتھ بادشاہ کے ہاں گئے ۔ عورتوں کے مکر سے محفوظ رہے عصمت پر کوئی دھبہ نہیں لگنے دیا اسی طرح بھائیوں کی ریشہ دانیاں نا کارہو گئیں اور یوسف عزت و عظمت کی بلندیوں تک پہنچے ۔ وہی بھائی تھے ، انہوں نے معذرت کی ۔ ماں و باپ خوش ہوئے اور سجدہ شکر بجا لائے اللہ کا فرمان ثابت رہا کہ تو میرا بن جا میں تیرا بن جاؤں گا ۔ اس واقعہ سے معلوم ہواکہ مردوں میں بھی اچھے برے موجود ہیں اور یہی حال عورتوں کا بھی ہے۔ یوسف کے بھائی غلط نکلے، عورتیں مکار ثابت ہوئیں لہذا مرد بحیثیت مرد عورتوں سے ممتاز نہیں ہے۔ بلکہ عورت و مرد میں معیار تفاضل تقویٰ ہے جو تقوی رکھتا ہوگا خواہ مرد ہو یا عورت ،وہ اللہ کا بندہ اور مومن ہوگا اور جو تقوی سے خالی ہے خواہ مرد ہو یا عورت، ظاہری طور پر انسان ہوگالیکن حقیقت میں حیوان ہوگا ۔

زوجہ حضرت ایوب
ارشاد رب العزت ہے : وَاذْکُرْ عَبْدَنَا أَیُّوْبَ إِذْ نَادٰی رَبَّہُ أَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطَانُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ہَذَا مُغْتَسَلٌ م بَارِدٌ وَّشَرَابٌ وَوَہَبْنَا لَہ أَہْلَہ وَمِثْلَہُمْ مَّعَہُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِکْرٰی لِأُوْلِی الْأَلْبَابِ وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِہ وَلاَتَحْنَثْ إِنَّا وَجَدْنَاہُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّہ أَوَّابٌ ۔ "اور ہمارے بندے ایوب کا ذکر کیجئے ۔ جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا۔ شیطان نے مجھے تکلیف اور اذیت دی ہے ( ہم نے کہا ) اپنے پاوٴں سے(زمین پر)ٹھوکر مارو! یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کیلئے ،ہم نے انہیں اہل و عیال دیئے اور اپنی خاص رحمت سے ان کے ساتھ اتنے ہی اور دے دیئے اورعقل والوں کے لئے نصیحت و عبرت قرار دی۔ اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو تھام لو اسے مارو اور قسم نہ توڑ وبتحقیق ہم نے انہیں صابر پایا وہ بہترین بندے تھے بے شک وہ (اپنے رب کی طرف) رجوع کرنے والے تھے۔" (ص :۴۱تا ۴۴) حضرت ایوب کی حیران کن زندگی صبر و استقامت کی اعلیٰ مثال تھی ان کی زوجہ محترمہ کا بے مثال ایثار مشکلات میں گھرے ہوئے انسانوں کیلئے مشعل راہ ہے ۔ حضرت ایوب کی فراوان دولت، کھیتیاں، بھیڑ بکریاں اور آل و اولاد سب ختم ہو گئے اور وہ نان جویں کے محتاج ہوگئے، رشتہ دار اور دوست و احباب اور ماننے والے سب چھوڑ گئے وہ تن و تنہا اپنی پردہ دار زوجہ ،نبی کی بیٹی زوجہ کے ساتھ زندگی گذارتے رہے ایسی کہ زوجہ لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے گذر بسر کرتی رہی اورپھر دوسری طرف شماتت اعداء کا ہجوم تھا۔ حضرت ایوب سے پادریوں کا ایک وفد ملا اور کہنے لگا جناب ایوب ! لگتا ہے آپ سے کوئی بہت بڑا گناہ ہوا ہے حالانکہ حقیقت یہ تھی ایوب صابر و شاکر تھے اللہ نے ان کی بہت تعریف کی تو شیطان نے کہا جب ایوب کے پاس سب کچھ موجود ہے تو وہ صبر و شکر نہ کرے تو کیا کرے؟ بات تو تب ہے جب کچھ نہ ہو تو پھر صبر کرے ۔ امتحان شروع ہوا سب کچھ ختم ہوگیایکہ و تنہا ، بے یار و مددگار، مریض اور لاچار ہو گئے لیکن کیا کہنا عظمت زوجہ کا کہ انہوں نے بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ مزدوری کی زحمت اٹھائی ۔ایک دن کسی حکیم نے کہا میں دوا دیتا ہوں ٹھیک ہو جائیں گے لیکن ایک شرط ہے۔ آپ کو کہنا ہوگا کہ مجھے حکیم نے شفا دی ہے ان کی بیوی نے ہاں کردی حضرت ایوب نے بہت برا منایا اور سزا دینے کی قسم کھا لی ۔ اب جب مصائب کا تلاطم ختم ہوا اورنصمات لوٹ آئیں تو قسم پوری کرنے کا مسئلہ پیدا ہوا خدا نے فرمایا : ایسی بے مثال زوجہ توکسی کو نصیب نہیں ہوئی اس بے چاری کی اس قدر خدمات ہیں اس کے باوجودتم سزا کا سوچ رہے ہیں ہرگز نہیں بلکہ اللہ کا نام سب سے بڑا ہے تم جھاڑو لے لو اور اسے سزا کا آلہ قرار دو تاکہ قسم نہ ٹوٹے اور بات بھی پوری ہو جائے ۔ ایوب نبی تھے صابر تھے عبد خاص تھے ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے ان تمام صفات کے ساتھ وہ نبی تھے۔ کیا کہنا زوجہٴ ایوب کا (عورت کی عظمت ) کہ سب چھوڑ گئے لیکن اس کا ایثار اور اس کی خدمت میں کوئی کمی نہیں آئی اسی لئے کہا گیا کہ اے مرد زوجہ کی اچھائی پورے گھر کو جنت میں بدل دیتی ہے عورت کی ذہانت اور اخلاق سے تیرا گھر جنت بن جاتا ہے تو بھی اچھا رہے عورت بھی اچھی رہے جبکہ آج کے زمانے میں برا گھر ہی تیرے لئے جنت بنا ہوا ہے۔ ۷۔ مادر موسیٰ ۔ ۸۔ خواہر موسیٰ ۔

آسیہ زوجہ فرعون
قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ ایک سو اکیس مرتبہ ہوا ۔ ان کے مفصل واقعات ہیں جنہیں میں کئی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ولادت کا مخفی ہونا ، بعد از ولادت کے واقعات جس میں موسیٰ کی والدہ کا کردار، صبر و استقامت، بہن کا کردار، جدت و ہوشیاری کے ساتھ اس صندوق کا تعاقب جس میں حضرت موسیٰ سوئے ہوئے تھے اورپھر جناب آسیہ کا کردار جس نے فرعون کے دل میں ان کی محبت ڈالی اسے راضی کیا اور پھر اپنے گھر میں بہترین انداز سے موسیٰ کی پرورش کی ۔ خوف کی حالت میں مصر سے روانگی اور مَدْیَنِ آمد، شادی و تزویج ، خدمت حضرت شعیب۔ شعیب جیسی بہترین شخصیت کا سہارا ثابت ہوئی۔ شادی ہو گئی کام مل گیا اور باعزت زندگی بسر ہونے لگی ۔ ۳۔ مدین سے مصر واپسی ، نبوت کا علان ، فرعون سے تخاطب، جاوگروں کا واقعہ اور اس میں کامیابی اور عصا کے معجزات ۔ ۴۔ فرعون کے غرق ہونے کے بعد قوم میں تبلیغ ، ان میں وحدت قائم رکھنا ، قوم کی ریشہ دوانیاں اور پھر عذاب کی مختلف صورتیں۔ ظاہر ہے سب کا تذکرہ تو ہمارے اس مختصر سے رسالہ میں مشکل ہے صرف بعد از ولادت کے چند واقعات کو آیات قرآن کی حدود میں رہتے ہوئے ذکر کریں گے ۔ ارشاد رب العزت ہے : وَأَوْحَیْنَا إِلٰی أُمِّ مُوْسَیٰ أَنْ أَرْضِعِیْہِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَیْہِ فَأَلْقِیْہِ فِی الْیَمِّ وَلاَتَخَافِیْ وَلَاتَحْزَنِیْ إِنَّا رَادُّوْہُ إِلَیْکِ وَجَاعِلُوہُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔ " ہم نے مادر موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ان کو دودھ پلالو اور جب اس کے بارے میں خوف محسوس کرو تو اسے دریامیں ڈال دو اور بالکل رنج وخوف نہ کرنا کریں ہم اسے تمہاری طرف پلٹا نے والے ہیں اور اسے پیغمبروں میں شامل کرنے والے ہیں ۔ وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَیٰ فَارِغًا إِنْ کَادَتْ لَتُبْدِیْ بِہ لَوْلَاأَنْ رَّبَطْنَا عَلٰی قَلْبِہَا لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَقَالَتْ لِأُخْتِہ قُصِّیْہِ فَبَصُرَتْ بِہ عَنْ جُنُبٍ وَّہُمْ لَایَشْعُرُوْنَ وَحَرَّمْنَا عَلَیْہِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ ہَلْ أَدُلُّکُمْ عَلٰی أَہْلِ بَیْتٍ یَّکْفُلُوْنَہ لَکُمْ وَہُمْ لَہ نَاصِحُوْنَ فَرَدَدْنَاہُ إِلٰی أُمِّہ کَیْ تَقَرَّ عَیْنُہَا وَلاَتَحْزَنْ وَلِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ اللہ حَقٌّ وَّلٰکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَیَعْلَمُوْنَ "ادھر مادر موسیٰ کا دل بے قرار ہو گیا قریب تھاکہ رازکو فاش کردیتی اگر ہم نے اس کے دل کو مضبوط نہ کیا ہوتاکہ وہ یقین رکھنے والوں میں سے ہو جائے۔ اور مادر موسیٰ نے ان کی بہن (کلثوم)سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے چلی جا تو وہ موسیٰ کو (دور سے) دیکھتی رہی کہ دشمنوں کو اس کام پتہ نہ چل جائے اور ہم نے موسیٰ پر دودھ پلانے والیوں کے دودھ کو پہلے سے حرام قرار دیا تھاچنانچہ موسیٰ کی بہن نے کہا کہ میں تمہیں ایسے گھرانے کا پتہ دوں جو اس بچے کو تمہارے لئے پالیں اور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہوں۔ " (قصص:۱۰تا۱۴) موسی ٰ کے پیدا ہوتے ہی دایہ نے چاہا کہ حکومت کو خبر کردوں کہ بچے کے نور کی چمک سے اس بچہ کی محبت پیدا ہوگئی دایہ نکلی توحکومتی افراد گھر میں داخل ہوئے ماں نے موسیٰ کو تندور میں ڈال دیا۔ حکومتی افراد کے جانے کے بعدبچے کے رونے کی آ واز آئی دیکھا کہ آتش تندور سلامتی او برد بن چکی تھی صندوق بنایا گیا بہن ساتھ چلی ماں نے آخری بار دودھ پلا کر نیل کی موجوں کے سپرد کر دیا ۔ فرعون اور اسکی ملکہ دریا کے کنارے محل میں موجود دریا کا نظارہ کررہے ہیں صندوق نظر آیا تو حکم ہواکہ فوراً جائیں اور صندوق لے کر آئیں۔ حضرت موسیٰ کی نجات کے لیے صندوق کا ڈھکنا کھولا گیاملکہ نے بچہ دیکھا تو اس کی محبت نے دل میں گھرکر لیا وَقَالَتِ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ قُرَّةُ عَیْنٍ لِّیْ وَلَکَ لاَتَقْتُلُوْہُ عَسٰی أَنْ یَّنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَہ وَلَدًا وَّہُمْ لاَیَشْعُرُوْنَ۔ "اور فرعون کی زوجہ نے کہا یہ بچہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کرو ممکن ہے کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو ہم اسے بیٹابنا لیں اور وہ (انجام سے )بے خبر تھے ۔ " (قصص:۹) اللہ کی عجیب قدرت ہے کہ آسمان وزمین کے لشکروں سے کسی قوم کو نیست و نابود کردے یا خود مستکبرین کے ہاتھوں برباد ی کاسامان ظہور پذیر ہو ۔ موسیٰ کی دایہ قبطی دریا سے نکالنے والے، متعلقین فرعون ڈھکنا کھولنے والا فرعون اور پھر موسیٰ غلبہ و اقتدار، موسیٰ جوان ہو گئے، بازار میں دو آدمیوں کو لڑا ئی کرتے دیکھا ایک کے مدد طلب کرنے پر دوسرے کو جان لیوا مکا مارا، اب مخفیانہ طور پر مصر کو چھوڑکر چلے ۔ وَلَمَّا تَوَجَّہَ تِلْقَاءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسَیٰ رَبِّیْ أَنْ یَّہْدِیَنِیْ سَوَاءَ السَّبِیْلِ وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْہِ أُمَّةً مِّنْ النَّاسِ یَسْقُوْنَ وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمُ امْرَأَتَیْنِ تَذُوْدَانِ قَالَ مَا خَطْبُکُمَا قَالَتَا لَانَسْقِیْ حَتّٰی یُصْدِرَ الرِّعَاءُ وَأَبُوْنَا شَیْخٌ کَبِیْرٌ فَسَقیٰ لَہُمَا ثُمَّ تَوَلَّی إِلٰی الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّی لِمَا أَنزَلْتَ إِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیرٌ فَجَائَتْہُ إِحْدَاہُمَا تَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِیْ یَدْعُوْکَ لِیَجْزِیَکَ أَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا فَلَمَّا جَائَہ وَقَصَّ عَلَیْہِ الْقَصَصَ قَالَ لَاتَخَفْ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ ۔ "اور جب موسیٰ نے مدین کا رخ کیا اور کہا کہ اب پروردگار مجھے سیدھے راستے کی ہدایت فرمائے گا اور جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچے تو انہوں نے دیکھاکہ لوگوں کی ایک جماعت اپنے جانوروں کو پانی پلا رہی ہے اور دیکھا کہ ان کے علاوہ دو عورتیں اپنے جانور لیے ہوئے کھڑی ہیں موسیٰ نے کہا کہ آپ دونوں کا کیا مسئلہ ہے؟ وہ دونوں بولیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کرواپس نہ چلے جائیں ہم پانی نہیں پلا سکتیں اور ہمارے والدبڑی عمر کے بوڑھے ہیں۔ موسیٰ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا یا پھر سایہ کی طرف ہٹ گئے اور کہا کہ پالنے والے جو چیزیں تو مجھ پرنازل کرتاہے میں اس کا محتاج ہوں پھر ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک حیا کے ساتھ چلتی ہوئی موسیٰ کے پاس آئی کہنے لگی میرے والدتم کو بلا رہے ہیں تاکہ تم نے جو ہمارے جانوروں کو پانی پلا یا ہے تمہیں کو اس کی اجرت دیں جب موسیٰ ا ن کے پاس آئے اور اپنا سارا قصہ انہیں سنا یا تو وہ کہنے لگے خو ف نہ کرو تم اب ظالموں سے نجات پا چکے ہو ۔" (قصص:۲۲تا ۲۵)

دختر جناب شعیب
حضرت شعیب کی خدمت میں موسیٰ کی آمد ۔ شعیب کی طرف سے شادی کی پیش کش ۔حق مہر کا تعین ۔کئی سال کاکام ۔پھر واپس روانگی۔ راستہ میں بچے کی ولادت اور نبوت کا ملنا ان واقعات میں موسیٰ کی ماں کا مامتا پر ضبط، خواہر موسی کی جفا کشی اورخبرداری پھر زوجہ ٴ فرعون کا ہر مرحلہ میں حضرت موسیٰ کا تحفظ ۔ان مراحل میں عورت کی عظمت، عورت کی محبت وایثار اورنبی کی جان کے تحفظ ۔ایسے واقعات ہیں جن سے عورت کی عظمت واضح و آشکار ہوتی ہے ۔ تزویج موسیٰ قَالَتْ إِحْدَاہُمَا یَاأَبَتِ اسْتَأْجِرْہُ إِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْأَمِیْنُ قَالَ إِنِّی أُرِیْدُ أَنْ أُنْکِحَکَ إِحْدَی ابْنَتَیَّ ہَاتَیْنِ عَلٰی أَنْ تَأْجُرَنِی ثکَلنِیَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِکَ وَمَا أُرِیْدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَیْکَ سَتَجِدُنِیْ إِنْ شَاءَ اللہ مِنَ الصَّالِحِیْنَ قَالَ ذٰلِکَ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ أَیَّمَا الْأَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلاَعُدْوَانَ عَلَیَّ وَاللہ عَلٰی مَا نَقُوْلُ وَکِیْلٌ "ان دونوں میں سے ایک لڑکی نے کہا اے ابا اسے نوکر رکھ لیں کیونکہ جیسے آپ نوکر رکھنا ہو تو ان سب سے بہتر وہ ہے جو طاقت ور، امانت دار ہو شعیب نے کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں ایک کا نکا ح اس شرط پر تمہارے ساتھ کروں کہ تم آٹھ سال میری نوکری کرو اور اگر تم دس سال پورے کرو تو یہ تمہاری مرضی ہے اور میں تمہیں تکلیف نہ دوں گا انشا ء اللہ تم مجھے صالحین میں سے پاوٴگے ۔موسیٰ نے کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان وعدہ ہے میں ان دونوں میں سے جو بھی مدت پوری کروں مجھ سے کوئی زیادتی نہ ہو اوریہ جو کچھ ہم یہ کہہ رہے ہیں ا س پر اللہ ضامن ہے ۔" (قصص:۲۶تا۲۸) فَلَمَّا قَضٰی مُوْسَی الْأَجَلَ وَسَارَ بِأَہْلِہ آنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا قَالَ لِأَہْلِہ امْکُثُوْا إِنِّیْ آنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْ آتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِنَ النَّارِ لَعَلَّکُمْ تَصْطَلُونَ فَلَمَّا أَتَاہَا نُودِی مِنْ شَاطِئِی الْوَادِ الْأَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبَارَکَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَنْ یَّامُوسٰی إِنِّیْ أَنَا اللہ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ وَأَنْ أَلْقِ عَصَاکَ فَلَمَّا رَآہَا تَہْتَزُّ کَأَنَّہَا جَانٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ یَامُوْسٰی أَقْبِلْ وَلَاتَخَفْ إِنَّکَ مِنَ الْآمِنِیْنَ اُسْلُکْ یَدَکَ فِیْ جَیْبِکَ تَخْرُجْ بَیْضَاءَ مِنْ غَیْرِ سُوْءٍ ۔ "پھر جب موسیٰ نے مدت پوری کی اور وہ اپنے اہل کو لیکر چل دیے تو کوہ طور کی طرف سے ایک آگ دکھائی دی وہ اپنے اہل سے کہنے لگے ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شائد وہاں سے کوئی خبر لاوٴں یاآگ کا انگارہ لے کر آوٴں تاکہ تم تاپ سکو جب موسیٰ وہاں پہنچے تو وادی کے دائیں کنارے ایک مبارک مقام میں درخت سے ندا آئی اے موسیٰ میں ہی عالمین کا پر ورد گار اللہ ہوں ۔ اور اپنا عصا پھینک دیجیے پھر جب موسیٰ نے عصا کوسانپ کی طرح حرکت کرتے دیکھا تو پیٹھ پھیر کر پلٹے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا ہم نے کہااے موسیٰ آگے آیئے اور خوف نہ کیجیے یقینا آپ محفوظ ہیں اے موسیٰ اپنا ہاتھ گریبان میں ڈل دیجیے وہ بغیر کسی عیب کے چمکدار ہو کر نکلے گا ۔" (قصص:۲۹تا۳۲) حضرت موسیٰ کے واقعہ کا عجیب منظر ہے ۔ایک طرف ماں کی مامتا پھر بہن کی جفا کشی اوربھائی کے صندوق کے ساتھ چل کر اپنی محبت کا ثبوت۔ آسیہ کا اخلاص اور نور کی چمک سے ا س کے دل کی روشنی پھر مصیبت میں مبتلا حضرت موسیٰ کوان کی نیکی ۔بے چاروں کی مدد سے اب شفیق و مہربا ں بزرگ سے ملاقات۔ جس نے ان کے کام سے خوش ہوکر داماد بنا لیا ۔ جہاں حضرت موسیٰ جیسے بیٹے اور دامادکی طرح آٹھ دس سال سکون سے رہے۔ قدم قدم عورت وسیلہ سکون و راحت حضرت موسیٰ بن رہی ہے۔ کیا کہنا عظمتِ عورت کا ۔ (۱۱) ملکہ ٴ سبا حضرت سلیمان کی حکومت عظیم تھی چرند پرند حیوانات جن وغیرہ انکے تابع ، جب سفر کر تے ہوا کے دوش پر سوار سائیباں کے طور پر پرندے بالا سر ہوتے تاکہ دھوپ سے بچ جائیں ،جگہ خالی دیکھی معلوم ہوا کہ ہد ہد نہیں ہے ۔ ناراضگی کا اظہار کیا ہد ہد نے حاضری کے بعد ملکہ سبا کی حکومت کا تذکرہ کیا۔ ارشا د رب العزت ۔: إِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَأَةً تَمْلِکُہُمْ وَأُوْتِیَتْ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ وَّلَہَا عَرْشٌ عَظِیمٌ وَجَدْتُّہَا وَقَوْمَہَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللہ ۔ " میں نے ایک عورت دیکھی جو ان پر حکمران ہے اسکے پاس ہر قسم کی نعمت موجود ہے اور اسکاایک عظیم الشان تخت ہے میں نے دیکھا کہ وہ اور اسکی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔ " (نمل: ۲۲تا۲۳) حضرت سلیمان نے خط دیا کہ وہاں ڈال آئے ۔ خط کا مضمو ن إِنَّہ مِنْ سُلَیْمَانَ وَإِنَّہ بِاِسْمِ اللہ الرَّحْمَانِ الرَّحِیْمِ أَلاَّ تَعْلُوْا عَلَیَّ وَأْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ ۔ (ملکہ نے کہا دربار لگاؤ میری طر ف ایک محترم خط آیا ہے یہ سلیمان کی جانب سے ہے اور وہ یہ ہے) خدا کے رحمان و رحیم کے نا م سے شروع ۔ تم میرے مقابلہ میں بڑائی مت کرو اور فرماں بردار ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔ (نمل: ۳۰تا۳۱) امراء و وزراء سے مشورہ کیا۔ عام طور پر بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو معزز لوگ بھی ذلیل ہو جاتے ہیں ۔ طے ہوا کہ ہدیہ بھیج کر دیکھا جائے کہ کیا صورت حال ہے۔ حضرت سلیمان نے ہدیہ قبول نہیں کیا۔ فرمایا کون ہے ۔ جوتخت بلقیس کو لائے۔ عفریت (جو جن تھا)کہنے لگا میں حاضر۔ لیکن ایک وزیر آصف بن برخیا تھا عرض کرنے لگا۔ پلک جھپکنے میں پیش کر سکتا ہوں پھر دیکھا کہ تخت سامنے موجود ہے۔ جب ملکہ بھی آ گئی ۔ تو اسے محل کی طرف بلایا گیا۔ ارشاد رب العزت : قِیْلَ لَہَا ادْخُلِی الصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّةً وَّکَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْہَا قَالَ إِنَّہ صَرْحٌ مُمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ قَالَتْ رَبِّ إِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمَانَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ . "ملکہ سے کہا گیا محل میں داخل ہو جائیے ۔ جب سامنے محل کو دیکھا تو خیال کیا کہ وہاں گہرا پانی ہے اور اس نے اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا یہ شیشہ سے مرصع محل ہے۔ ملکہ نے کہا۔ پروردگار میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور اب میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں۔" (نمل:۴۴) جب تک یہ عورت سورج پرست تھی ۔ کافرہ مشرکہ سزا کی مستوجب جب ایمان لائی۔ صالح عمل بجا لائی تو بارگاہ رب العزت میں معزز و مکرم ٹھہری۔ اصل مسئلہ ارتباط بہ خدا ہے اوریہاں مرد و عورت میں مسابقت ہے پس جو بازی لے جائے۔

حضرت مریم
ماں نے نذر مانی خیال تھا بیٹا ہوگا مگر حضرت مریم کی ولادت ہوئی۔ اللہ نے بیٹی کو بھی خدمت بیت المقدس کے لئے قبول کر لیا۔ وَإِنِّیْ سَمَّیْتُہَا مَرْیَمَ وَإِنِّیْ أُعِیذُہَا بِکَ ۔ "میں نے اس لڑکی کا نام مریم رکھا۔ میں اسے شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ (آل عمران:۳۶) پھر بڑی ہوگئیں۔ خدا کی طرف سے میوے آتے ۔ ذکریا پوچھتے۔ بتاتیں۔ من عنداللہ ۔ اللہ کی طرف سے ہیں ۔حتیٰ کہ جوان ہو گئیں۔ ارشاد رب العزت ہے: وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ إِذَ انْتَبَذَتْ مِنْ أَہْلِہَا مَکَانًا شَرْقِیًّا فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِہِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَیْہَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیًّا قَالَتْ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِالرَّحْمَانِ مِنْکَ إِنْ کُنْتَ تَقِیًّا قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِأَہَبَ لَکِ غُلَامًا زَکِیًّا قَالَتْ أَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلَامٌ وَلَمْ یَمْسَسْنِی بَشَرٌ وَّلَمْ اَ کُ بَغِیًّا قَالَ کَذٰلِکِ قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ وَلِنَجْعَلَہ آیَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَکَانَ أَمْرًا مَقْضِیًّا فَحَمَلَتْہُ فَانتَبَذَتْ بِہ مَکَانًا قَصِیًّا فَأَجَائَہَا الْمَخَاضُ إِلٰی جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ یَالَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ہَذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا فَنَادَاہَا مِنْ تَحْتِہَا أَلاَّ تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا وَہُزِّیْ إِلَیْکِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَیْکِ رُطَبًا جَنِیًّا فَکُلِیْ وَاشْرَبِیْ وَقَرِّی عَیْنًا فَإِمَّا تَرَیِنَ مِنَ الْبَشَرِ أَحَدًا فَقُوْلِی إِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمَانِ صَوْمًا فَلَنْ أُکَلِّمَ الْیَوْمَ إِنْسِیًّا فَأَتَتْ بِہ قَوْمَہَا تَحْمِلُہ قَالُوْا یَامَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا یَاأُخْتَ ہَارُوْنَ مَا کَانَ أَبُوْکِ امْرَأَ سَوْءٍ وَّمَا کَانَتْ أُمُّکِ بَغِیًّا فَأَشَارَتْ إِلَیْہِ قَالُوْا کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِی الْمَہْدِ صَبِیًّا قَالَ إِنِّیْ عَبْدُ اللہ آتَانِیَ الْکِتَابَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا وَّجَعَلَنِیْ مُبَارَکًا أَیْنَ مَا کُنْتُ وَأَوْصَانِیْ بِالصَّلَاةِ وَالزَّکَاةِ مَا دُمْتُ حَیًّا وَبَرًّا بِوَالِدَتِیْ وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا وَالسَّلَامُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُ وَیَوْمَ أَمُوتُ وَیَوْمَ أُبْعَثُ حَیًّا . "( اے محمد) اس کتاب میں مریم کا ذکر کیجئے۔ جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر مشرق کی جانب گئی تھیں۔ یوں انہوں نے ان سے پردہ اختیار کیا تھا۔ تب ہم نے ان کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا۔ پس وہ ان کے سامنے مکمل انسان کی شکل میں ظاہر ہوا۔ مریم نے کہا۔ اگر تو پرہیز گار ہے تو میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں۔ اس نے کہا میں تو بس آپ کے پروردگار کا پیغام رساں ہوں۔ تاکہ آپ کو پاکیزہ بیٹا دوں۔ مریم نے کہا۔ میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا۔ مجھے تو کسی بشر نے چھوا تک نہیں۔ اور میں کوئی بدکردار بھی نہیں ہوں۔ فرشتے نے کہا۔ اسی طرح ہوگا ۔ آپ کے پروردگار نے فرمایاہے کہ یہ تو میرے لئے آسان ہے اور یہ اس لئے ہے کہ ہم اس لڑکے کو لوگوں کے لئے نشانی قرار دیں۔ اور وہ ہماری طرف سے رحمت ثابت ہو اور یہ کام طے شدہ تھا اور مریم اس بچہ سے حاملہ ہو گئیں اور وہ اسے لیکر دور چلی گئیں۔ پھر زچگی کا درد انہیں کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ کہنے لگیں۔ اے کاش میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور صفحہ فراموشی میں کھو چکی ہوتی۔ فرشتے نے مریم کے پیروں کے نیچے سے آواز دی غم نہ کیجئے آپ کے پروردگار نے آپ کے قدموں میں ایک چشمہ جاری کیا ہے اور کھجور کے تنے کو ہلائیں تو آپ پر تازہ کھجوریں گریں گی۔ پس آپ کھائیں پئیں اور آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اگر کوئی آدمی نظر آئے تو کہہ دیں۔ میں نے رحمان کی نذر مانی ہے۔ اس لئے آج میں کسی آدمی سے بات نہیں کروں گی۔ پھر وہ اس بچے کو اٹھا کر اپنی قوم کے پاس لے آئیں۔ لوگوں نے کہا اے مریم۔ تو نے غضب کی حرکت کی۔ اے ہارون کی بہن۔ نہ تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدکردار تھی۔ "پس مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ لوگ کہنے لگے ہم ا س کیسے بات کریں۔ جو بچہ ابھی گہوارہ میں ہے۔ بچے نے کہا میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب دی ہے۔ اور مجھے نبی بنایا ہے اور میں جہاں بھی ہوں مجھے بابرکت بنایا ہے۔۔ اور زندگی بھر نماز اور زکوة کی پابندی کا حکم دیا ہے اور اپنی والدہ کے ساتھ بہتر سلوک کرنے والا قرار دیا ہے اور اس نے مجھے سرکش اور شقی نہیں بنایا۔ اور سلام ہو مجھ پر جس روز میں پیدا ہوا جس روز میں وفات پاؤں گا اور جس روز دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔" (مریم:۱۶تا۳۳) حضرت مریم خدا کی خاص کنیز ۔بیت المقدس میں ہر وقت رہائش ۔ اللہ کی طرف سے جنت کے کھانے و میوے۔ برگزیدہ مخلوق۔ بہت بڑے امتحان میں کامیاب ہوئی۔ ۳ گھنٹہ یا ۳ دن کے بچے نے اپنی نبوت اپنی کتاب اور اپنے بابرکت ہونے کی خبر دے کر کے اپنی والدہ ماجدہ کی عصمت کی گواہی دی اوربتایا مجھے والدہ ماجدہ سے بہترین سلوک کا حکم ملا ہے۔ پھر مریم کے پاؤں کے نیچے چشمہ جاری ہوا۔ خشک درخت سے تر و تازہ کھجوریں۔یہ اللہ کی طرف سے اظہارہے کہ جو میرا بن جائے خواہ عورت ہو یا مرد۔ میں اس کا بن جاتا ہوں ، عزت کی محافظت میرا کام، اشکالات کے جوابات میری طرف سے اوروہ سب کو ایسے برگزیدہ لوگوں (مرد ہو یا عورت)کے سامنے جھکا دیتا ہے ۔تومیرے سامنے جھک جا۔دنیا تیرے سامنے سرنگوں ہو گی۔ حضرت مریم کی تعریف و ثناء ارشاد رب العزت ہے: وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِکَةُ یَامَرْیَمُ إِنَّ اللہ اصْطَفَاکِ وَطَہَّرَکِ وَاصْطَفَاکِ عَلٰی نِسَاءِ الْعَالَمِیْنَ یَامَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّکِ وَاسْجُدِیْ وَارْکَعِیْ مَعَ الرَّاکِعِیْنَ "اور (وہ وقت یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا اے مریم۔ اللہ نے تمہیں برگزیدہ کیا ہے اور تمہیں پاکیزہ بنایا ہے اور تمہیں دنیا کی تمام عورتوں سے برگزیدہ کیا ہے اے مریم اپنے رب کی اطاعت کرو اور سجدہ کرتی رہو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہو۔" (آل عمران :۴۲۔۴۳) إِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِکَةُ یَامَرْیَمُ إِنَّ اللہ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَةٍ مِّنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْہًا فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَہْدِ وَکَہْلًا وَّمِنَ الصَّالِحِیْنَ قَالَتْ رَبِّ أَنّٰیْ یَکُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ قَالَ کَذٰلِکِ اللہ یَخْلُقُ مَا یَشَاءُ إِذَا قَضٰی أَمْرًا فَإِنَّمَا یَقُوْلُ لَہ کُنْ فَیَکُوْنُ وَیُعَلِّمُہُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِیْلَ۔ " جب فرشتوں نے کہا اے مریم۔ اللہ تجھے اپنی طرف سے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہو گا وہ دنیا و آخرت میں آبرو مند ہوگا اور مقرب لوگوں میں سے ہوگا اور وہ لوگوں سے گہوارہ میں گفتگو کرے گا اور صالحین میں سے ہوگا۔ مریم نے کہا۔ پروردگار! میرے ہاں لڑکا کس طرح ہو گا مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ فرمایا ایسا ہی ہوگا۔ اللہ جو چاہتا ہے خلق فرماتا ہے۔ جب وہ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس سے کہتا ہے ۔ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔ اور (اللہ) اسے کتاب و حکمت اور توریت و انجیل کی تعلیم دے گا۔" (آل عمران :۴۵۔۴۸) اللہ حضرت مریم کو طاہرہ، منتخب ہو اور پاکیزہ ہونے کی سند کے ساتھ عالمین کی عورتوں کی سردار قرار دے رہا ہے۔ کلمة اللہ ۔ روح اللہ کی ماں اعجاز خدا کا مرکز ۔ طہارة و پاکیزگی کا مرقع ایسے ان لوگوں کی اللہ تعریف کرتا ہے مرد ہو یا عورت۔ "عورت بھی خداکی معزز مخلوق ہے۔"

ازواج نبی اعظم
ارشاد رب العزت: النَّبِیُّ أَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ وَأَزْوَاجُہ أُمَّہَاتُہُمْ ۔ نبی مومنین کی جانوں پر خود ان سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہے اور نبی کی ازواج ان کی مائیں ہیں۔" (احزاب :۶) ازواج میں بدکرداری و زنا وغیرہ کا تصور نہیں۔ حرم رسول ہیں۔ ا ن میں اس طرح کی خرابی نہیں ہو سکتی۔ ارشاد رب العزت : إِنَّ الَّذِیْنَ جَائُوْا بِالْإِفْکِ عُصْبَةٌ مِّنْکُمْ لَاتَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَّکُمْ بَلْ ہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ لِکُلِّ امْرِءٍ مِّنْہُمْ مَّا اکْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہ مِنْہُمْ لَہ عَذَابٌ عَظِیْمٌ لَوْلاَإِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنْفُسِہِمْ خَیْرًا وَّقَالُوا ہَذَا إِفْکٌ مُّبِیْنٌ لَوْلاَجَائُوْا عَلَیْہِ بِأَرْبَعَةِ شُہَدَاءَ فَإِذْ لَمْ یَأْتُوْا بِالشُّہَدَاءِ فَأُوْلٰئِکَ عِنْدَ اللہ ہُمُ الْکَاذِبُوْنَ ۔ "جو لوگ بہتان باندھتے ہیں وہ یقینا تمہارا ہی ایک گروہ ہے۔ اسے اپنے لئے برا نہ سمجھنا بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے۔ ان میں سے جس نے جتنا گناہ کمایا اس کا اتنا ہی حصہ ہے اور ان میں سے جس نے اس میں سے بڑا بوجھ اٹھایا اس کے لئے بڑا عذاب ہے۔ جب تم نے یہ بات سنی تھی تو مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک گمان کیوں نہیں کیا اور کیوں نہیں کہا یہ صریح بہتان ہے۔ وہ لوگ اس بات پر چار گواہ کیوں نہ لائے۔ اب چونکہ وہ گواہ نہیں لائے ہیں تو وہ اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں۔" (نور:۱۱تا۱۳) نبی اعظم کی زوجہ (عورت) پر تہمت لگی تو سختی کے ساتھ دفاع کیا گیا تاکہ عورت کی عظمت پر داغ نہ لگ جائے اور مومن مردوں کے ساتھ مومنہ عورتوں سے بھی کہا گیا آپ لوگوں کی پہلی ذمہ داری تھی کہ دفاع کرتے۔ احکام میں دونوں برابر۔(مرد و عورت) اللہ کے احکام امہات المومنین کے نام ۔ لیکن ان میں سب عورتیں شریک ہیں۔ ارشاد رب العزت ہے: یَاأَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّأَزْوَاجِکَ إِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ أُمَتِّعْکُنَّ وَأُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا وَإِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللہ وَرَسُوْلَہ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللہ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْکُنَّ أَجْرًا عَظِیْمًا یَانِسَاءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّأْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضَاعَفْ لَہَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللہ یَسِیْرًا وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُولِہ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِہَا أَجْرَہَا مَرَّتَیْنِ وَأَعْتَدْنَا لَہَا رِزْقًا کَرِیْمًا یَانِسَاءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ إِنَ اتَّقَیْتُنَّ فَلَاتَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَاتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّةِ الْأُوْلٰی وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِیْنَ الزَّکَاةَ وَأَطِعْنَ اللہ وَرَسُولَہ۔ "اے نبی اپنی ازواج سے کہدیجئے ۔ اگر تم دنیاوی زندگی اور اس کی آسائش کی خواہاں ہو توآؤ میں تمہیں کچھ مال دے کرشائستہ طریقہ سے رخصت کر دوں۔ لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور منزل آخرت کی خواہاں ہو تو تم میں سے جو نیکی کرنے والی ہیں ان کے لئے اللہ نے اجر عظیم مہیا کر رکھا ہے۔ اے نبی کی بیویو۔ تم میں سے جو کوئی صریح بے حیائی کی مرتکب ہو جائے اسے دگنا عذاب دیا جائیگا اور یہ بات اللہ کے لئے آسان ہے اور تم میں سے جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل انجام دے گی اسے ہم اس کا دگنا ثواب دیں گے اور ہم نے اس کے لئے عزت کا رزق مہیا کر رکھا ہے۔ اے نبی کی بیویو۔ تم دوسری عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم تقویٰ رکھتی ہو تو (غیروں کے ساتھ) نرم لہجہ میں باتیں نہ کرناکہ کہیں وہ شخص لالچ میں نہ پڑ جائے جس کے دل میں بیماری ہے اور معمول کے مطابق باتیں کیا کرو۔اور اپنے گھر میں جم کر بیٹھی رہو اور قدیم جاہلیت کے طریقت سے اپنے آپ کو نمایاں نہ کرتی پھرو۔ نیز نماز قائم کرو اور زکوة دیا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ " (احزاب:۲۸تا ۳۳) ان آیات میں بعض چیزوں سے روکاگیا اور بعض کا حکم دیا گیا تاکہ غلط روی سے عورت بچ جائے اور فضائل و کمالات سے اپنے آپ کو آراستہ و پیراستہ کرے۔ اس میں کامیابی و کامرانی کا راستہ ہے۔ قرآن مجید نے ازواج نبی میں سے دو کا تذکرہ کیا ہے چنانچہ اپنی طرف سے تبصرہ کے بجائے آیات اور ان کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔ ارشاد رب العزت ۔ یَاأَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللہ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاةَ أَزْوَاجِکَ وَاللہ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ قَدْ فَرَضَ اللہ لَکُمْ تَحِلَّةَ أَیْمَانِکُمْ وَاللہ مَوْلَاکُمْ وَہُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِیُّ إِلٰی بَعْضِ أَزْوَاجِہ حَدِیْثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِہ وَأَظْہَرَہُ اللہ عَلَیْہِ عَرَّفَ بَعْضَہ وَأَعْرَضَ عَنْ م بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّأَہَا بِہ قَالَتْ مَنْ أَنْبَأَکَ ہَذَا قَالَ نَبَّأَنِیْ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ إِنْ تَتُوْبَا إِلَی اللہ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا وَإِنْ تَظَاہَرَا عَلَیْہِ فَإِنَّ اللہ ہُوَ مَوْلاَہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمَلاَئِکَةُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَہِیْرٌ عَسٰی رَبُّہ إِنْ طَلَّقَکُنَّ أَنْ یُّبْدِلَہ أَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَیِّبَاتٍ وَّأَبْکَارًا ۔ "اے نبی ! تم کیوں اس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہے۔(کیا اس لئے) کہ تم اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہو۔ اللہ معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ اللہ نے تم لوگوں کے لئے اپنی قسموں سے نکلنے کا طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ اللہ تمارا مولیٰ اور وہی علیم و حکیم ہے۔ (ترجمہ آیات از تفہیم القرآن مولانا مودودی ) (اور یہ معاملہ بھی قابل توجہ ہے کہ) نبی نے ایک بات اپنی ایک بیوی سے راز میں کہی تھی۔ پھر جب اس بیوی نے (کسی اور) وہ راز ظاہر کر دیا اور اللہ نے نبی کو اس (افشاء راز) کی اطلاع دیدی۔ تو نبی نے ا س پر کسی حد تک (اس بیوی کو) خبردار کیا اور کسی حد تک اس سے در گزر کیا۔ پھر جب نبی نے اسے (افشاء راز کی) یہ بات بتائی تو اس نے پوچھا آپ کو اس کی کس نے خبر دی۔ نبی نے کہا۔ مجھے اس نے خبر دی جو سب کچھ جانتا ہے اور خوب باخبر ہے۔ اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو (تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے) کیونکہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں اور اگر نبی کے مقابلہ میں تم نے باہم جتھہ بندی کی تو جان رکھو کہ اللہ اس کا مولیٰ ہے اور اس کے بعد جبرائیل اور تمام صالح اہل ایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اور مددگار ہیں ۔ بعید نہیں کہ اگر نبی تم سب بیویوں کو طلاق دے دے۔ تو اللہ اسے ایسی بیویاں تمہارے بدلے میں عطا فرما دے۔ جو تم سے بہتر ہوں ، سچی مسلمان ، باایمان ، اطاعت گزار ، توبہ گزار، عبادت گزار اور روزہ دار ۔ خواہ شوہر دیدہ ہو ں یا باکرہ۔ جناب مولانا مودودی کے ترجمہ سے واضح ہو رہا ہے (اور باقی تراجم بھی اسی طرح ہی ہیں) کہ حال پتلا ہے کچھ اچھا نہیں۔ خدا خیر کرے۔ (۱۴)جناب خدیجة الکبریٰ (زوجہٴ رسول اعظم ) واقعاً ایک تاریخ ساز خاتون جس نے گھر میں بیٹھ کر تجارت کی۔ مختلف دیار اور امصار میں پھیلی ہوئی تجارت کو سنبھالے رکھا۔ سب سے زیادہ مالدار ۔ لیکن عرب شہزادوں ، قبائلی سرداروں اور رؤساء کے پیغام ہائے عقد کو ٹھکرا کر رسول اعظم سے ازدواج کیا اور عورت کی عظمت کو چار چاند لگا دئیے۔ عورت کھلونا نہیں۔ عورت عظمت ہے۔ عورت شرافت ہے۔ عورت جانتی ہے کہ میرا شوہر کون ہو سکتا ہے۔ سب کو ٹھکرا دیا کسی کی خوبصورتی، مالدار ہونا سامنے نہیں رکھا بلکہ نور الہی کو پسند کر کے اللہ و رسول کی خوشنودی کو ترجیح دی۔ واہ رے تیری عظمت اے خدیجہ! خویلد کے اس معزز ترین خاندان کی فرد۔ جو تین پشتوں کے بعد چوتھی میں رسول اعظم سے مل جاتا ہے۔ تزویج سے قبل طاہرہ و سیدہٴ قریش کے لقب سے پکاری جاتی تھی۔ قال زبیر کانت تدعٰی فی الجاھلیہ طاہرہ استیعاب برحاشیہ اصابہ جلد ۴ ص ۲۷۹ کانت تدعی فی الجاھلیة بالطاہرہ و کان قیل لہا السیدہ قریش ۔ (سیرت حلبیہ جلد۱، ص۱۸۷) حضور مدنی زندگی میں اکثر خدیجہ کا ذکر کرتے رہتے اور فرماتے تھے۔: رزقنی ا لله اولادھا و حرمنی اولاد النساء ۔ خدا نے خدیجہ سے مجھے اولاد عطا کی جب کہ اور عورتوں سے نہیں ہوئی، کبھی ارشاد فرماتے : آمنت اذا کفرالناس و صدقتنی اذکذبنی الناس ۔ (اصابہ جلد ۴ ص ۲۸۳) وہ مجھ پر تب ایمان لائیں جب کہ لوگ منکر تھے اور انہوں نے میری اس وقت تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلاتے تھے۔ تربیتی انداز میں قرآن مجید کی آیات( جن میں امہات المومنین ازواج نبی کو بعض چیزوں سے منع اور بعض کا حکم دیا گیا ہے) مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ حضرت خدیجہ اس قدر تربیت یافتہ ۔ سلیقہ شعار۔ خدا و رسول کے فرامین پر عمل پیرا۔ رسول اعظم کے اشاروں و کنایوں کو سمجھنے والی۔ رسول اعظم کی قلبی راز دار۔ کہ ان کے زمانہ میں ایسے احکام کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ وہ خود عاملہ صالحہ مومنہ کاملہ تھیں۔ تاریخ عالم میں برگزیدہ و عظیم خواتین گزری ہیں لیکن رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے معیار (بہترین عادات و خصائل ۔ اعلیٰ خدمات اور عظیم قربانیوں کے عنوان سے) چارعورتیں ہی پوری اتریں۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیر نساء العالمین اربع ۔ مریم بنت عمران و ابنة مزاح، امراة فرعون و خدیجہ بنت خویلد و فاطمہ بنت محمد۔ (استیعاب بر حاشیہ اصابہ۔ جلد۴، ۳۸۴) نوٹ: مریم بنت عمران، اینہ مزا، زوجہ فرعون، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد یہ پانچ خواتین ہوتی ہیں جبکہ حدیث مین چار بتائی گئی ہیں۔ (۱۵) امہات المومنین میں سے زینب بنت جحش جناب زینب کے ساتھ حضور کی تزویج بڑا مشکل اور حساس مسئلہ ہے اللہ کے حکم ہی نے اس مسئلہ کو انتہا تک پہنچایا ، یہ تزویج اللہ کی طرف سے ہوئی۔ جناب زینب فرمایا کرتی تھیں: میرے جیسا کون ہے سب کی شادیاں رسول اعظم کے ساتھ ان کی خواہش یا والدین کی طرف سے ہوئیں اور میری تزویج براہ راست خدا کی طرف سے ہے۔ جناب زینب حضور کی پھوپھی زادہ ، خاندان بنی ہاشم کی چشم و چراغ ۔ لیکن حضور نے خود ان کی تزویج اپنے آزاد کردہ غلام اور پھر جس کو متبنیٰ (منہ بولے بیٹے ) زید بن حارث کے ساتھ کی۔ کافی دیر ملا پ رہا لیکن اختلاف بھی رہا۔ بالآخر انہوں نے طلاق دے دی تو اللہ کا حکم ہواکہ حضور شادی کر لیں۔ اب مشکل درپیش ہے۔ ۱۔ متبنی ۔(منہ بولے بیٹے) کی زوجہ سے شادی کا فیصلہ ۲۔ آزاد کردہ غلام کی مطلقہ سے شادی وہ بھی حضور کی۔ لیکن اللہ کا ارادہ حکم بن کر آیا اور خدا کی طرف سے شادی ہو گئی۔ ارشاد رب العزت ہے: وَإِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْ أَنْعَمَ اللہ عَلَیْہِ وَأَنْعَمْتَ عَلَیْہِ أَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللہ وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللہ مُبْدِیْہِ وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللہ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاہُ فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنَاکَہَا لِکَیْ لاَیَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ حَرَجٌ فِیْ أَزْوَاجِ أَدْعِیَائِہِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا وَکَانَ أَمْرُ اللہ مَفْعُوْلًا مَا کَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللہ لَہ سُنَّةَ اللہ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَکَانَ أَمْرُ اللہ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا ۔ "اور(اے رسول یاد کریں وہ وقت) جب آپ اس شخص سے جس پر اللہ نے اور آپ نے احسان کیا تھا کہہ رہے تھے۔ اپنی زوجہ کو نہ چھوڑو اور اللہ سے ڈرو۔ اور وہ بات آپ اپنے دل میں چھپا ئے ہوئے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا ہے اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔ پھر جب زید نے اس (خاتون) سے اپنی حاجت پوری کر لی۔ تو ہم نے اس خاتون کا نکاح آپ سے کر دیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے شادی کرنے) کے بارے میں کوئی حرج نہ رہے۔ جب کہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کر چکے ہوں اور اللہ کا حکم نافذ ہو کر رہے گا۔"نبی کے لئے اس (عمل کے انجام دینے میں) کوئی مضائقہ نہیں جو اللہ نے اس کے لئے مقرر کیا ہے۔ جو (انبیاء) پہلے گذر چکے ہیں ان کے لئے بھی اللہ کی سنت یہی رہی ہے۔ اور اللہ کا حکم حقیقی انداز سے طے شدہ ہوتا ہے۔" (سورہ احزاب آیت ۳۷۔۳۸) اس میں کوئی شک نہیں کہ کائنات کی عظیم شخصیت اور سب سے برتر اور معزز شخصیت حضور کی ذات ہے۔ بعد از خدا توئی قصہ مختصر حضور کی محبت کا تقاضا۔ ان کے متعلقین سے پیاراور ان کی عزت کرنا ہے۔ لہٰذا ازواج نبی عزت و عظمت کی مالک ہیں۔ اللہ نے ان کودو خصوصیات عطا کی ہیں۔ ۱۔ ازواج نبی۔ مومنین کی مائیں ہیں ۔ وَأَزْوَاجُہ أُمَّہَاتُہُمْ۔( سورہ احزاب آیت ۶) ۲۔ نبی کی ازواج سے اگرچہ طلاق ہو جائے کسی کو شادی کا حق نہیں۔ وَلَاأَنْ تَنْکِحُوْا أَزْوَاجَہ مِنْ م بَعْدِہ أَبَدًا ۔ سورہ احزاب آیت ۵۳ اور ان کی ازواج سے ان کے بعد کبھی بھی نکاح نہ کرو۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ بے اعتدالی اور حد سے تجاوز ان سے بھی ہوا ہے حکم تھا کہ گھر میں جم کر بیٹھی رہو ۔ وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ آیَاتِ اللہ وَالْحِکْمَةِ إِنَّ اللہ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا ۔ "اوراللہ کی ان آیات اورحکمت کو یاد رکھو جن کی تمہارے گھروں میں تلاوت ہوتی ہے۔ اللہ یقیناً باریک بین خوب باخبر ہے۔" (احزاب۔۳۴) لیکن گھر سے باہر جانا ہوا حوأب کے کتوں نے بھونکتے ہوئے متوجہ کیا، پھر جنگ جمل کی کمان ، نبی اعظم کے خلاف جھة بندی۔ سازش، اللہ کی طرف سے دل ٹیڑھے ہونے کا تذکرہ ۔ إِنْ تَتُوْبَا إِلَی اللہ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا وَإِنْ تَظَاہَرَا عَلَیْہِ فَإِنَّ اللہ ہُوَ مَوْلاَہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمَلاَئِکَةُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَہِیْرٌ (سورہ تحریم: ۴) اللہ کی طرف سے دھمکی آمیز فرمان ،تم کو طلاق بھی ہو سکتی ہے اور تم سے بہتر ازواج مل سکتی ہیں۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ عورت بڑے گھر میں رہنے کے باوجود عورت ہی رہتی ہے۔ بڑے گھر میں آنے سے حقیقی عظمت پیدا نہیں ہوتی۔ لیکن باین ہمہ ازواج نبی انتہائی قابل عزت ، قابل تکریم ہیں کوئی ایسا کلمہ نہ کہا جائے جو عظمت کے منافی ہو۔ خداوند عالم نے ایک طرف ازواج کی طرف سے رسول اعظم کے خلاف سازش۔ دل کا ٹیڑھا ہونے کا تذکرہ کیا ہے دوسری طرف نوح و لوط کی بیویوں کی مخالفت اور کفر کا ذکر کیا نیز زوجہٴ فرعون کی عظمت اور مادر عیسیٰ کی تکریم و ثناء کر کے واضح کیا ہے کہ صرف کسی نبی کی زوجہ ہو نا کافی نہیں اصل میں دیکھنایہ ہوگا کہ فرامین خداوندی پر کس قدر عمل ہوا۔ ارتباط بہ خدا کس قدر ہے نبی کی اطاعت کا پیمانہ کیا ہے۔ مثبت پہلو رکھنے والی زوجہ انتہائی عظیم۔ منفی پہلو رکھنے والی زوجہ اپنی سزا کی مستحق۔

حضرت فاطمة الزہراء
رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی اکلوتی بیٹی ، پر عظمت بیٹی ، معصومہ بیٹی جس کی رضا خدا کی رضا، جس کی ناراضگی خدا کی ناراضگی، باپ کا میوہ ٴدل، جس کے متعلق حضور کا فرمان ۔ فاطمہ ہی ام ابیہا ۔ بغقہ منی میرا ٹکڑا۔مھجة قلبی۔ دل کا ٹکڑا ۔ جس کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے اپنی مسند پر بٹھاتے تھے۔ حضرت مریم علیہا السلام کی عظمت و طہارة قرآن میں مذکور ۔ جناب فاطمہ زہراء کی عظمت کا ذکر قرآن مجید کر رہا ہے، سیدہ زاہراء سلام علیہا کو قرآن نے مصطفی (فاطر۔۳۲) مرتضیٰ (جن،۲۷) مجتبیٰ (آل عمر ان :۱۷۰) اور پھر اذہاب رجس اور یطرکم تطہیرا سے نوازا گیا(احزاب :۳۳)۔ فاطمہ زہرا ، ان کے شوہر اوران کی اولاد کی محبت اجرر سالت قرار پائی۔ (شوریٰ ۲۳) نصاریٰ نجران کے مقابل میں مباہلہ میں شرکت۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ فَلَاتَکُنْ مِّنْ الْمُمْتَرِینَ فَمَنْ حَاجَّکَ فِیْہِ مِنْ م بَعْدِمَا جَائَکَ مِّنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَائَنَا وَأَبْنَائَکُمْ وَنِسَائَنَا وَنِسَائَکُم ْوَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَةَ اللہ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ (آل عمران ۶۱) زہرا ،حسین و زینب کبری کی ماں جنہوں نے جان و چادر دیکر اسلام کو زندہٴ و جاوید بنا دیا۔ فدک کی مالک فاطمہ ، دربار میں خطبہ دینے والی فاطمہ ، پانی جس کا حق مہر فاطمہ ، جس کی تزویج پہلے عرش عُلیٰ پر پھر زمین پرہوئی ۔ فاطمہ ، بس فاطمہ ۔ فاطمہ ،فاطمہ ہی ہے، فاطمہ و اولاد فاطمہ اللہ کے محبو ب۔ جان کا نذرانہ پیش کرنے والے۔ جنہوں نے بچے دئیے ، بھتیجے دئیے، بھانجے دئیے، بھائی دئیے، اصحاب و انصار دئیے ، جان کا نذرانہ پیش کیا۔ چادر دی، ہتکڑیاں و طوق پہنے جن کے ہاتھ پس پشت باندھے گئے۔ سیدانیوں کو درباروں ، بازاروں میں پھرایا گیا۔ سب کچھ برداشت ، سب کچھ قبول۔کیوں؟ اسلام بچ جائے۔ انسانیت کی عظمت محفوظ رہے۔ انسانیت کی محافظ ، فاطمہ بنت فاطمہ ، اولاد فاطمہ ۔ زینب (عورت) کی عظمت کہ حسین کے کارنامہ کو بازاروں ، درباروں میں خطبہ دے کے واضح و آشکار کیا۔ جب بھی عورت کی عظمت میں تذبذب ، شک ہو تو زینب ، رباب ، ام لیلیٰ ، کلثوم ، سکینہ کے کارنامے دیکھ لیا کرو۔ گردن جھک جائے گی۔ مرد قوام علی النساء۔ لیکن فاطمہ فاطمہ ہے۔ زینب زینب ہے۔ ان کی برابری کیسے ہو؟ عورت بیٹی ، زوجہ ، والدہ بیٹی اللہ کی طرف سے رحمت اوربیٹا نعمت ہے ۔نعمت سے رحمت کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے رحمت ہی سے نظام چل رہاہے ۔ باران رحمت انسانی زندگی کے لیے عظیم تحفہ ہے بہرحال قرآن رحمت رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )رحمت ، رحمت جباریت و قہاریت سے زیادہ وسیع ہے اور بیٹی بھی رحمت۔ جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے : إِذْ قَالَتِ امْرَأةُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ فَلَمَّا وَضَعَتْہَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّیْ وَضَعْتُہَا أُنْثٰی وَاللہ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَیْسَ الذَّکَرُ کَالْأُنْثٰی وَإِنِّیْ مَّیْتُہَا مَرْیَمَ وَإِنِّیْ أُعِیْذُہَا بِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَّأَنْبَتَہَا نَبَاتًا حَسَنًا وَّکَفَّلَہَا زَکَرِیَّا کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْہَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَہَا رِزْقًا قَالَ یَامَرْیَمُ أَنّٰی لَکِ ہَذَا قَالَتْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللہ إِنَّ اللہ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَاءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ "(اور وہ وقت یاد کرو) جب عمران کی عورت نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے شکم میں ہے اسے تیری نذر کرتی ہوں وہ اورباتوں سے آزاد ہوگاتو میری طرف سے قبول فرما بے شک تو بڑا سننے والا۔ جاننے والا ہے ۔ پھر جب اسے جن چکی تو کہنے لگی، مالک۔ میں نے تو بیٹی جنی ہے ۔ اللہ کے بارے میں بہتر جانتا ہے کہ جو اس (مادر مریم )نے جنا ۔ اور بیٹا اس بیٹی جیسا نہیں ہو سکتا اور میں نے اس (بیٹی)کا نام مریم رکھا ہے اور میں اسے اور اسکی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں چنانچہ اسکے رب نے اسکی نذر (لڑکی) کو بوجہ احسن قبول کیا اوار اس کی بہترین نشوونما کا اہتمام کیااور زکریا کو اس کا سر پر ست بنادیا جب زکریا اس کے حجرہ عبادت میں آتے تو اسکے پاس طعام موجود پاتے پوچھا اے مریم یہ (کھانا) تمہارے پاس کہاں سے آتاہے ۔ وہ کہتی اللہ کے ہاں سے ۔ بے شک خدا جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتاہے ۔" )سورہ آل عمران آیت نمبر ۳۵۔۳۶۔۳۷۔( عام طور پر نذر لڑکوں کی ہوتی ہے ادر مریم بھی پریشان ہوئی لیکن اللہ نے اس کی نذر کو بوجہ احسن قبول فرمایا ارشا د ہو ایس الذکر کالانثی یعنی لڑکا ،لڑکی جیسا نہیں ہو سکتا معلوم ہوا کہ بیٹی کی اہمیت اس کا م میں بھی (جس کی نذر کی تھی)بیٹے سے کم نہیں ہے کہ جسے بوجہ احسن قبول فرمایا گیا ۔ پھر جب زکریاجیسے نبی ہی کھانا و طعام ملاحظہ فرماتے ہیں تواللہ کی طرف سے ان نعمات کی آمد پر شکر بجالاتے ۔ بیٹی کی عظمت کی دلیل بیٹی کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ خدا نے رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کو بیٹی ہی دی ۔ صرف ایک بیٹی ۔ لیکن وہ اس عظمت کی مالک کہ جب تشریف لاتیں تورسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) بنفس نفیس تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاتے ۔ جب ارشاد رب العزب ہوا: وآتِ ذَا الْقُرْبیٰ حَقَّہ۔ "قریبی رشتہ داروں کو انکا حق دیا کرو۔" (بنی اسرائیل:۲۶) تب رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے جناب فاطمہ الزہرا کو فدک دے دیا ۔ الدر المنثور جلد ۴ ص ۳۲۰ روایت حضرت ابن عباس ۔ اسی طرح ارشاد رب العزت ہے: قُلْ لاَأَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی "کہہ دیجیے کہ میں اس تبلیغ پر کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اپنے قریب ترین رشتہ داروں کی محبت کے۔" ( سورہٴ شوریٰ: ۲۳ ) اس آیت میں بھی قربت کا محور جناب سیدہ ہیں۔ مزید ارشاد رب العزت ہے: إِنَّمَا یُرِیْدُ اللہ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا۔ "اے اہل بیت اللہ کا ارادہ بس یہی ہے کہ ہر طرح کی ناپاکی کو آپ سے دور رکھے اور آپ کو ایسا پاکیزہ رکھے جیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔ "( سورہ ٴاحزاب: ۳۳ ) آیت تطہیر کا محور بھی جناب سیدہ دختر رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )ہیں چنانچہ وقت تعارف کہا گیا ہے ہم فاطمة وابوھا وبعلھا وبنوھا یعنی مرکز تعارف بیٹی ہی بن رہی ہے ۔ عورت( بیٹی) کا مقام سیدہ زینب بنت علی کیوں نہ ایک اور بیٹی کاذکر بھی کر دیا جائے جس نے باپ کے زانو پر بیٹھے ہوئے پوچھا تھابابا آپ کو ہم سے محبت ہے ۔ حضرت نے فرمایا تھا جی ہاں عرض کی یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ سے محبت بھی ہو اور بیٹی سے محبت بھی ہو پھر خود کہا ہاں ۔ اللہ سے محبت۔ بیٹی اوراولاد پر شفقت ہے ۔ کیا کہنا عظمتِ ثانی زہرا ء ۔ کیا شان ہے دختر مرتضی کی جس نے اپنے خطبات سے اسلام کو زندہ وپائندہ بنادیا ۔ حق کوروز روشن کی طرح پوری دنیا کے سامنے واضح کیا کہ حسین ۔باغی نہیں نواسہ ٴرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )ہے بہرحال تم بیٹی یعنی عورت کو کم درجہ کی مخلوق نہ سمجھو مرد کے کام کی تکمیل عورت ہی کرتی ہے عورت و مرد کا کوئی فرق نہیں ہے۔ معیار ِتفاضل صرف تقویٰ اور ارتباط بہ خداہے۔ عورت …زوجہ شادی اورتزویج فطرت کی تکمیل ہے ۔ حدیث میں ہے کہ شادی کے بغیر مرد کادین آدھاہے تزویج سے اسکے دین کی تکمیل ہو گی ۔ بعض روایات میں غیر شادی شدہ مرد کو بد ترین کہا گیاہے ارشاد ہوتا ہے ۔ شرا ء کم عزابکم تم میں سے بد ترین افراد غیر شادی شدہ ہیں۔(تفسیر مجمع البیان ) شادی ہی سے اجتماعیت کا تصور پید ا ہوتا ہے اس وقت انسان خود سے ہٹ کر سوچنے کاسلسلہ شروع کرتا ہے ۔قرآن مجید نے دعاکی تلقین کی ہے اے انسان یہ دعا طلب کیاکر : رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْیُنٍ "پرودگار ہماری ازواج او رہماری اولا دسے ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک عطا فرما ۔" (سورہ فرقان : ۷۴) ارشاد رب العزت ہے: وَأَنْکِحُوْا الْأَیَامٰی مِنْکُمْ وَالصَّالِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَإِمَائِکُمْ إِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَاءَ یُغْنِہِمُ اللہ مِنْ فَضْلِہ وَاللہ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ "تم میں سے جو لوگ بے نکاح ہوں ۔ اور تمہارے غلاموں کنیزوں میں سے جو صالح ہوں ان کے نکاح کردو اگروہ نادار ہو ں تواللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر د ے گا او راللہ بڑا وسعت والا علم والا ہے۔" (سورہ نور:۳۲) انسانیت کی بقا کے لیے سلسلہ تناسل کا جاری رہنا ضروری ہے سلسلہ تناسل کے لیے عورت اسکا لازمی جز وہے ۔انسانیت کی بقا ء مرد و عورت دونو ں کی مرہون منت ہے مرد کی طرح عورت بھی اہمیت رکھتی ہے۔عورت کاوجود لازمی او رضروری ہے۔ اس لیے حکم دیاگیاکہ بے نکاح لوگوں کے نکاح کرو یعنی ایسے اسباب مہیا کرو کہ ان کی شادی ہو سکے نکاح کے اسباب وسائل مہیا کرو تا کہ صالح مرد او ر صالحہ عورتوں کے ملاپ سے انسانیت کی بقاء ہو ۔ بہرحال اسلام نے بہترین توازن پیدا کیا اورایسا نظام دیا جس میں ان دونوں کی عزت ،عظمت اور اہمیت ظاہرر ہے۔ خطبہ طلب زوجہ بھی (شادی کرنے کی خواہش کا اظہار)مرد کی طرف سے ہے برات مرد کی طرف سے ہے لیکن برأت کے آنے سے نکاح کا صیغہ عورت کی طرف سے ہوگا ۔گویا عورت برات کا استقبال کررہی ہے ۔ ایجاب عورت کی طرف سے ہو رہا ہے۔ اب اس عزت واحترام کے ساتھ عورت کاورود مرد کے گھرمیں ہوتا ہے تاکہ عورت (زوجہ ) کی اہمیت واضح ہو جائے ۔ مرد سمجھے کہ کسی نے اپنے جگر کا ٹکڑا اس کے پاس امانت کے طور پر رکھوایا ہے ۔ اسی لیے تو اس لڑکی کا باپ یہ کہہ رہا ہوتاہے کہ میری امانت آپ کے حوالے ہے ۔

عظمت ِعورت بہ حیثیت زوجہ
رسول اعظم کا فرمان ہے کہ لولا علی لما کان لفاطمة کفو۔ علی سید الاولیا ء ، علی ۔نفس رسول علی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے بھا ئی نورِ علی رسول اعظم کے نور میں شریک ۔ علی مدینة العلم ، علی منبرسلو نی کے داعی ، فاطمہ کے کفو صرف علی ہیں۔ اس سے واضح ہو ا کہ فاطمہ زہر ا کس قدر عظمت کی مالک ہیں۔ اے انسان عورت زوجہ کی شکل میں اب تیری مشیر ،تیر ے گھر کی ملکہ ،تیری غم گسار ،تیری عزت کا نشان ،تیرے بچوں کی ماں،تیرے بچوں کی مربی ،اس کی عزت کر۔ اس کی عظمت کا قائل ہو جا۔ اسی میں تیری عزت وعظمت ہے ۔ عورت (والدہ) والدین ( ماں باپ ) کی اہمیت قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے اس میں بھی باپ کیساتھ عورت ( ما ں) کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ یہ بتا یا جاسکے ماں عورت ہونے کی وجہ سے درجہ میں کم نہیں ہے بلکہ بعض روایات میں ماں کی عظمت بہتر انداز میں ذکر کی گئی ہے ارشاد ہے کہ الجنة تحت اقدام الامہات ۔ جنت ما ں کے قدمو ں کے نیچے ہے ۔ نیزارشاد رب العزت ہے: وَإِذْ أَخَذْنَا مِیثَاقَ بَنِی إِسْرَائِیلَ لاَتَعْبُدُونَ إِلاَّ اللہ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا "او ر جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا ( اور کہا ) کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو او راپنے والدین پر احسان کرو ۔" ( سورہ بقرہ : ۸۳) پھر ارشاد رب العزت ہے : کُتِبَ عَلَیْکُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَکَ خَیْرَاًن الْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَالْأَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ۔ "تمہارے لیے یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے او روہ کچھ مال چھوڑے جا رہا ہو تو اسے چاہیے کہ والدین اور رشتہ دارو ں کے لیے مناسب طور پروصیت کرے۔" سورہ بقرہ: ۱۸۰ نیزارشاد رب العزت ہے : وَوَصَّیْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا وَإِنْ جَاہَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا "او رہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کاحکم دیا ہے اگر تیرے ماں باپ میرے ساتھ شرک پر مجبور کریں جس کا تجھے کو ئی علم نہ ہو توان دونوں کا کہنا نہ ماننا۔" (سورہ عنکبوت : ۸) اللہ تبارک وتعالیٰ نے بعض آیات میں اپنی عبادت اورشرک نہ کرنے کے فوراً بعد والدین کے ساتھ اچھے برتاؤ کا حکم دیا ہے ۔ جیساکہ ارشاد رب العزت ہے: وَاعْبُدُوا اللہ وَلَاتُشْرِکُوْا بِہ شَیْئًا وَّبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا۔ "او رتم لوگ اللہ ہی کی بندگی کرو او رکسی کو اسکا شریک قرار نہ دو او رماں باپ کے ساتھ احسان کرو۔" (سورہ نساء : ۳۶) اللہ نے دس حقوق انسانی کا تذکرہ کرتے ہوئے پہلے اپنے ساتھ شرک نہ کرنے اور والدین سے اچھائی کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ارشاد رب العزت ہے: قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ أَلاَّ تُشْرِکُوْا بِہ شَیْئًا وَّبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا۔ "کہہ دیجئے آو ٴمیں تمہیں وہ چیزیں بتا دوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کر دی ہیں وہ یہ ہیں کہ تم لوگ کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ اور والدین پر احسان کرو۔" (انعام: ۱۵۱) مزید ارشاد رب العزت ہے: وَقَضٰی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُوْا إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ أَحَدُہُمَا أَوْ کِلَاہُمَا فَلَا تَقُلْ لَّہُمَا أُفٍّ وَّلَاتَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیرًا۔ "اورتمہارے کے پروردگار کا فیصلہ ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بوڑھے ہو جائیں تو خبر دار ان سے اف تک نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں بلکہ ان سے عزت و تکریم سے بات کرنا اور ان کیلئے خاکساری کے ساتھ کاندھوں کو جھکا دینا اور ان کے حق میں دعا کرتے رہنا کہ پروردگارا ان دونوں پر اسی طرح رحمت نازل فرما جس طرح کہ انہوں نے بچپنے میں مجھے پالا ہے۔" ( بنی اسرائیل :۲۳تا ۲۴) ماں باپ کی عظمت کا کیا کہنا اللہ کا فیصلہ ہے کہ میری عبادت کرواور پھر والدین کے ساتھ احسان کرو۔ پھر اف کہنے تک کی اجازت نہیں ہے بہرحال اس حکم میں ماں بھی شریک ہے جیساکہ انبیاء اور اولیاء بھی اپنی دعاوٴں میں باپ کے ساتھ ماں کا تذکرہ بھی کرتے ہیں ۔ جیساکہ حضرت نوح کے متعلق ارشاد رب العزت ہے: رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ۔ "پروردگار! مجھے اور میرے والدین ، اور جو ایمان کی حالت میں میرے گھر میں داخل ہو ، اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما ۔" (نوح :۲۸) اس دعا میں ماں اور ہر مومن عورت کا تذکرہ موجود ہے ۔ اسی طرح حضرت ابراہیم کے متعلق ارشاد رب العزت ہے: رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۔ "پروردگار! مجھے ، میرے والدین اور ایمان والوں کو بروز حساب مغفرت سے نواز۔"(ابراہیم :۴۱) حضرت سلیمان بھی اپنے معصوم اورنبی باپ کے ساتھ اپنی والدہ کو بھی دعا میں شریک کر رہے ہیں جیساکہ ارشاد رب العزت ہے: رَبِّ أَوْزِعْنِیْ أَنْ أَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ۔ "پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر بجا لاؤں جن سے تو نے مجھے اور میرے والدین (ماں باپ) کو نوازا ہے ۔"( احقاف :۱۵) اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ - کو ان پر ان کی والدہ پرکیے گئے احسان کا تذکرہ فرمارہا ہے: إِذْ قَالَ اللہ یَاعِیَسٰی ابْنَ مَرْیَمَ اذْکُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْکَ وَعَلی وَالِدَتِکَ ۔ "جب حضرت عیسیٰ بن مریم سے اللہ نے فرمایا:یاد کیجئے میری اس نعمت کو جو میں نے آپ اور آپ کی والدہ کو عطا کی۔" (مائدہ :۱۱۰) حضرت عیسیٰ اللہ سے اپنی ماں کے ساتھ نیکی کی خواہش کر رہے ہیں۔ وَبَرًّا بِوَالِدَاٰتِیْ وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا۔ ( اللہ نے) مجھے اپنی والدہ کے ساتھ بہتر سلوک کرنے والا قرار دیا اورمجھے سرکش اور شقی نہیں بنایا۔" (مریم :۳۲) الٰہی کتاب قرآن مجید کی رو سے ،عورت اور مرد میں خلقت،اعمال، کردار،اخلاق ، نیکی ، بدی، جزا و سزا، انعام و اکرام ، حیات طیبہ ، وغیرہ میں سے کسی لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے۔ البتہ اللہ نے معیار ِتفاضل ، معیار ِبہتری اور معیارِبلندی صرف تقویٰ اور خوف خدا کو قرار دیا ہے۔ اے انسان! عورت تیری طرح کی اورتیرے ہی جیسی انسان ہے۔وہ بیٹی بن کرتجھ پر رحمت برساتی ہے۔بیوی بن کر تیرے دین اور ایمان کی تکمیل کرتی ہے اور ماں بن کر تجھے جنت کا تحفہ پیش کرتی ہے۔ جب بیٹی بنے تو خوش ہو جا کہ تجھ پر رحمت خدا کا نزول ہوا ہے۔جب وہ زوجہ نہیں بنی تھی تو،تو اکیلا تھا لیکن اب تجھے دوست، شریک کار ،ساتھی،اور مشیر مل گیاہے ۔جب ماں بنی تو ،تو اس کے پاوٴں پکڑ کر خدمت کر کیونکہ تجھے جنت کا وسیلہ مل گیا ہے۔ خدایا تو ہم سب کو حقیقی مسلم اور موٴمن بننے کی توفیق عطا فرما۔ احکام و حقوق میں مرد و عورت کا اشتراک ارشاد رب العزت : وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ " اور عورتوں کو بھی دستور کے مطابق ویسے ہی حقوق حاصل ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں۔" ( سورہ بقرہ آیت ۲۲۸) مدینہ سے بعض مسلمان مکہ آئے۔ مخفیانہ حضور کے دست مبارک پر بیعت کی ان میں دو عورتیں تھیں۔ نسیبہ بنت کعب ۔ اسماء بنت عمرو ابن عدی۔ فتح مکہ کے وقت عورتوں سے باقاعدہ علٰیحدہ بیعت لی گئی۔ ارشاد رب العزت ہے: یَاأَیُّہَا النَّبِیُّ إِذَا جَائَکَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰی أَنْ لَّایُشْرِکْنَ بِاللہ شَیْئًا وَّلَایَسْرِقْنَ وَلَایَزْنِینَ وَلاَیَقْتُلْنَ أَوْلاَدَہُنَّ وَلاَیَأْتِیْنَ بِبُہْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہ بَیْنَ أَیْدِیْہِنَّ وَأَرْجُلِہِنَّ وَلاَیَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْہُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَہُنَّ اللہ إِنَّ اللہ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۔ "اے نبی جب مومنہ عورتیں اس بات پر آپ سے بیعت کرنے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرئیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کا ارتکاب بنائیں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان (غیر قانونی اولاد) گھڑ کر (شوہر کے ذمے ڈالنے) لائیں گی اور نیک کاموں میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔ تو ان سے بیعت لے لیں۔ اور ان کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کریں۔ اللہ یقینا بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ (سورہ ممتحنہ : ۱۲) اسلام کی نظر میں عورت کی پہچان ۔ اس عنوان سے ہے کہ اجتماعیت کا تکامل اسی وجہ سے ہے خواہ عورت بیٹی ہو ، زوجہ ہو یا ماں۔ اسلامی قانون میں عورتیں ، کسب معاش ، تجارت ، عبادت و وظائف میں مردوں کے مساوی ہیں۔ ارشاد رب العزت ہے: وََلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللہ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا وَلِلنِّسَاءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ وَاسْأَلُوا اللہ مِنْ فَضْلِہ إِنَّ اللہ کَانَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا ۔ "اور جس چیز میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی تمنا نہ کیا کرو۔ مردوں کو اپنی کمائی کا صلہ اور عورتوں کو اپنی کمائی کا صلہ مل جائے گا اور اللہ سے اس کا فضل و کرم مانگتے رہو یقینا اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے۔" ( النساء :۳۲) آسمان و زمین کی خلقت ،لیل و نہار کی آمد ، رات و دن عبادت خدا، خلقت عام میں تفکر، دعاؤں کا طلب کرنا، معارف اسلامی کی معرفت اور عملی عقیدہ ان سب امور میں۔ مرد و عورت شریک۔ ثواب و جزاء کے حق دار، کسب معارف، حمل امانت الٰہی میں سب برابر ہیں۔ ارشاد رب العزت ہے : یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ یَسْعٰی نُوْرُہُمْ بَیْنَ أَیْدِیْہِمْ وَبِأَیْمَانِہِمْ بُشْرَاکُمُ الْیَوْمَ جَنَّاتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیہَا ذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۔ "قیامت کے دن آپ مومنین و مومنات کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا (ان سے کہا جائے گا) آج انہیں ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، جن میں تمہیں ہمیشہ رہنا ہوگا، یہی تو بڑی کامیابی ہے۔ " (سورہ حدید:۱۲) نورکی موجودگی میں عورت مرد مساوی مدارج۔ عبادات اسلام و ایمان میں مساوی۔ ارشاد رب العزت ہے: إِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِیْنَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِیْنَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِیْنَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِیْنَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِیْنَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِیْنَ فُرُوْجَہُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاکِرِیْنَ اللہ کَثِیْرًا وَّالذَّاکِرَاتِ أَعَدَّ اللہ لَہُمْ مَّغْفِرَةً وَّأَجْرًا عَظِیْمًا ۔ "یقینا مسلم مرد اور مسلمہ عورتیں۔ مومن مرد اور مومنہ عورتیں۔ اطاعت گزار مرد اوراطاعت گزار عورتیں۔ راست باز مرد اور راست باز عورتیں صبر کرنے وال مرد اور صبرکرنے والی عورتیں۔ فروتنی کرنے والے مرد اور فروتن عورتیں۔ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں۔ روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں ۔ اپنی عفت کے محافظ مرد اور اپنی عفت کی محافظ عورتیں خدا کو یہ کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں ۔وہ ہیں جن کے لئے اللہ نے مغفرت اور اجر عظیم مہیا کر رکھا ہے۔ " (احزاب ۳۵) حفظ قانون ، نظارت امن ، باہمی اجتماع کا وجود عورت و مرد دونوں کا وظیفہ قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد رب العزت ہے: وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاءُ بَعْضٍ یَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنَ الْمُنْکَرِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلَاةَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکَاةَ وَیُطِیْعُوْنَ اللہ وَرَسُوْلَہ أُوَلَئِکَ سَیَرْحَمُہُمْ اللہ إِنَّ اللہ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ۔ " اور مومن مرد و مومنہ عورتیں ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں وہ نیک کاموں کی ترغیب دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوة ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ رحم فرمائے گا۔ بے شک اللہ بڑا غالب آنے والا حکمت والا ہے۔" (سورہ توبہ: ۷۱) ازواج نبی اعظم کو حکم ہے معارف قرآن کے حصول اور آپس میں مذاکرہ کرنے کا : وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ آیَاتِ اللہ وَالْحِکْمَةِ إِنَّ اللہ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا ۔ "اور اللہ کی ان آیات و حکمت کو یاد رکھو۔ جن کی تمہارے گھروں میں تلاوت ہوتی ہے۔ اللہ یقینا بڑا باریک بین اور خوب با خبر ہے۔" (احزاب ۳۴) گویا ہر گھر میں موجود عورت کو حکم ہے معارف قرآنی کے حصول اس کی دوسری عورتوں کو ترغیب اور عمل پیرا ہونے کا۔ یہی اسلامی فریضہ ہے جو مرد و عورت دونوں نے بروئے کار لاناہے ۔ اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا جس میں عورت مرد شریک ہیں ۔ ارشا د رب العزت ہے : وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلاَمُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَی اللہ وَرَسُولُہ أَمْرًا أَنْ یَّکُوْنَ لَہُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ أَمْرِہِمْ وَمَنْ یَّعْصِ اللہ وَرَسُولَہ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِیْنًا "اور کسی مومن مرد و مومنہ عورت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جب اللہ اور اسکا رسول کسی معاملہ میں فیصلہ کریں تو انہیں اپنے معاملہ میں اختیار حاصل رہے۔اور جس نے اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی کی وہ صریح گمراہی میں مبتلا ہو گیا۔" (احزاب :۳۶) عزیز من !ان آیا ت سے معلوم ہو اکہ مرد و عورت کا امتیاز اعمال و کردار کی بلندی و پستی کی بدولت ہے جو اللہ سے زیادہ مربوط ہو گا وہی عالی درجہ پر فائز ہوگا ۔

عورت و مرد میں مساوات
معارف اسلامی، نظریات و عقائد اصول شرعیہ میں عورت و مرد برابر۔ اللہ پر ایمان واجبات کا بجا لانا محرمات کے ارتکا ب سے بچنا نماز و زکوٰة خمس وحج میں مساوی وضو و غسل تیمم نیز تعلیم و تعلم دونوں کا حق تجارت و ملکیت ،خرید و فروخت میں مساوات ،جزاو عقاب میں برابر۔ چوری، زنا کی خرابیوں میں مساوی غرضیکہ حکم الٰہی سب کے لیے عورت ہو یامردہو۔ انسان و انسانیت میں برابر لذا احکام الٰہی میں بھی مساوی! اسلام و خانوادہ (فیملی) خاندا ن وخانوادہ کی نشو ونما میں محبت ،الفت اورباہمی تعاون ایک دوسرے کے لیے تضا من دخیل ہیں گھر کے سکون گھر کے اطمینان کے لیے یہ چیزیں لازمی ہیں ۔ ارشادِ رب ِالعزت ہوتا ہے : وَاللہ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ م بُیُوْتِکُمْ سَکَنًا۔ " اوراللہ نے تمہارے گھروں کو تمہارے لیے سکون کی جگہ بنایا ہے ۔" (سورہ نحل:۸۰) عورت بچے کی خواہش مردسے زیادہ اور گھر کی خوبی کا زیادہ احساس رکھتی ہے ۔ عورت ہی ہے جو گھر کوگھر بناتی ہے ۔ اپنے ہشا ش بشاش چہرے سے گھر کو جنت کا درجہ دے دیتی ہے ،مرد کا کا م گھر بنانا ہے عورت کا کام گھر سجانا ہے ۔گھر کی اہمیت اس قدر کہ فرمان رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہے کہ مسجدکیطرف جانا پھر گھر کی طرف واپس آنا ثواب میں برابر ہیں ۔ (الخلق الکامل: جلد 2 ،ص 183 ) رہبانیت ۔ہر وقت مسجد و محراب میں عبادت کا تصور اسلام میں نہیں ۔ اسلام مسجد و گھر دونوں میں توازن کا قائل ہے ۔کسی نبی کے لیے بھی اہم ترین نعمت زوجہ اور اولاد ہے۔ ارشا د رب العزت ہے : وَلَقِدْاَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً۔ " بتحقیق ہم نے آ پ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے اور انہیں ہم نے اولا د و ازوا ج سے بھی نوازا۔" (رعد:۳۸) اللہ نے اپنی تعلیمات کا تذکرہ کرتے ہوئے اولا د کی نسبت ازواج کی طرف دے کر عورت کی اہمیت واضح کر دی ۔ ارشا د رب العزت ہے ۔: وَاللہ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجًا وَّجَعَلَ لَکُمْ مِّنْ أَزْوَاجِکُمْ بَنِیْنَ وَحَفَدَةً وَّرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبَاتِ أَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللہ ہُمْ یَکْفُرُوْنَ " اوراللہ نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے بیویا ں بنائیں اور اس نے تمہاری ان بیویوں سے تمہیں بیٹے اور پوتے عطا فرمائے اور تمہیں پاکیزہ چیزیں عنایت کیں تو کیا یہ لوگ باطل پر ایمان لائیں گے اور اللہ کی نعمت کا انکار کریں گے ؟ " (سورہ نحل:۷۲) اولا د کی نسبت عورتوں کی طرف یعنی بیویوں کی طرف کیوں ظاہر ہے کہ مرد کا مقصد جماع سے ہر وقت بچہ ہی نہیں ہوتا۔ عورت ملی ہے کہ وہ قطرہ کو اپنے رحم میں جگہ دیتی ہے اور پھر وہ بچہ کی صورت میں پیدا ہوتاہے ۔ کھجوریں کھانے والا کھجوریں کھا کر اس کی گٹھلی پھینک دیتا ہے ۔ لیکن اسی سے کھجور پید اہوتی ہے اور مالک ِ زمین کی ملک ِ بن جاتی ہے۔ قطرہ کو کئی ماہ پیٹ میں رکھنا اپنا خون دینا اپنی انرجی صرف کرنا بے چاری زوجہ کا کام ہے ۔ مرد تو بعد از لذت و تلذذ اپنے آپ کو فارغ سمجھ لیتاہے۔ بیویوں کی نسبت مرد کی طرف کہ وہ تمہاری ہی جنس سے ہیں، وحدت و یگانگی کی بہترین مثال ہے اور پھر اولا دکی نسبت زوجہ کی طرف دینے سے انسان کو متوجہ کرنا ہے کہ جنت ماں کے قدموں میں ملے گی۔ گھر اللہ کا بنایا ہواایک حصار ہے جس میں محبت اور الفت و پیار کا دور دورہ گھر کو جنت معا شرہ کو مثالی بنا دیتاہے ۔ گھر مرد نے بنا یا اسکوجنت عورت نے بنانا ہے مرد کاکام حفاظت اور خوبصورتی پیداکرنا عورت کا کرشمہ ہے ۔ عورت و مرد ایک دوسرے کا لباس ایک دوسرے کی عزت و تکریم ہیں ۔کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ تم مردان کے محافظ ہوتم سے ان کے متعلق سوال کیاجائے گا۔ ارشاد رب العزت ہے : یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا قُوْا أَنفُسَکُمْ وَأَہْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَیْہَا مَلاَئِکَةٌ غِلاَظٌ شِدَادٌ لَّایَعْصُوْنَ اللہ مَا أَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ۔ "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچا و،جسکاایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ اس پر تند خواو ر سخت مزاج فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے ۔ اور جو حکم انہیں ملتاہے بجا لاتے ہیں ۔" (سورہ تحریم :۶) حدیث میں ارشاد ہے کہ اس مرد پرخدا کی رحمت ہے جو نماز شب کے لیے بیدار ہوتاہے ۔ اور اپنی زوجہ کو بیدار کرتاہے ۔ تاکہ وہ بھی نماز شب پڑ ھ سکے۔ خدا اس عورت پر رحیم کرتا ہے جو نماز شب کے لئے خود بیدار ہو اور شوہر کو بیدار کرے تاکہ وہ بھی نماز شب پڑھ سکے۔ درحقیقت یہ کام متوجہ کر رہاہے کہ عورت و مرد کا باہمی تعلق اس قدر قوی ہے کہ مرد چاہتاہے عورت بھی اس کی نیکی میں ساتھی بنے۔ ساتھی عورت خواہش کرتی ہے کہ مردبھی اس نیکی میں میرا ساتھ دے تاکہ پورے خانوادہ کے لیے جنت حق واجب بن جائے ۔ ارشادِ رب العزت ہے: وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِإِیْمَانٍ أَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَمَا أَلَتْنَاہُمْ مِّنْ عَمَلِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ کُلُّ امْرِءٍ بِمَا کَسَبَ رَہِیْنٌ ۔ "اور جو لوگ ایمان لے آئے اورانکی اولاد نے بھی ایمان لانے میں انکی پیروی کی تو ان کی اولاد کوبھی جنت میں ہم ان سے ملا دیں گے اور انکے عمل میں سے ہم کچھ بھی ضائع نہیں کریں گے ہرشخص اپنے عمل کا گروی ہے ۔" (طور :۲۱) حضرت نوح کی دعا جس میں گھر کی اہمیت اور عورت و مردکے لیے مغفرت کی خواہش ہے رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلاَتَزِدِ الظَّالِمِیْنَ إِلاَّ تَبَارًا ۔ "پروردگار! مجھے اور میرے والدین اور جو ایمان کی حالت میں میر ے گھر میں داخل ہو اور تمام ایماندار مردوں اورایماندار عورتوں کو معاف فر ما اور کافروں کی ہلاکت میں مزید اضافہ فرما۔" (سورہ نوح : ۲۸)

عورت اورحجاب
حجا ب کے متعلق آیات قرآنی (۱) قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ أَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ ذٰلِکَ أَزْکٰی لَہُمْ إِنَّ اللہ خَبِیْرٌم بِمَا یَصْنَعُوْنَ وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَہُنَّ وَلَایُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلاَّ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوبِہِنَّ وَلَایُبْدِیْنَ زِینَتَہُنَّ إِلاَّ لِبُعُوْلَتِہِنَّ أَوْ آبَائِہِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِہِنَّ أَوْ أَبْنَائِہِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِہِنَّ أَوْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِیْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِیْ أَخَوَاتِہِنَّ أَوْ نِسَائِہِنَّ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُنَّ أَوِ التَّابِعِیْنَ غَیْرِ أُولِی الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوْا عَلٰی عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلاَیَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ وَتُوْبُوا إِلَی اللہ جَمِیْعًا أَیُّہَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ "آپ مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کو بچا کر رکھیں یہ ان کے لیے پاکیزگی کا باعث ہے۔اور مومنہ عورتوں سے بھی دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کر یں اوراپنی شرمگاہوں کو بچائے رکھیں اوراپنی زیبائش کی جگہوں کو ظاہر نہ کریں سوائے اسکے جو خود ظاہر ہو اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی زیبائش کو ظاہر نہ ہونے دیں سوائے اپنے شوہروں آبا ء شوہر کے آبا ء اپنے بیٹوں، شوہر کے بیٹوں اپنے بھائیوں بھائیوں کے بیٹوں بہنوں کے بیٹوں اپنی ہم صنف عورتوں، اپنی کنیزوں، ایسے خادموں جو عورتوں کی خواہش نہ رکھتے ہوں اور ا ن بچوں کے جو عورتوں کی پردے کی بات سے واقف نہ ہوں اور مومن عورتوں کو چاہیے کہ چلتے ہوئے اپنے پاوٴں زور سے نہ رکھیں کہ ان کی پوشیدہ زینت ظاہر ہوجائے ۔اور اے مومنو سب مل کر اللہ کے حضور توبہ کرو امید ہے کہ تم فلاح پا وٴ گے ۔ (سورہ نور :۳۰،۳۱) (۲ ) یَاأَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِہِنَّ ذٰلِکَ أَدْنٰی أَنْ یُّعْرَفْنَ فَلاَیُؤْذَیْنَ وَکَانَ اللہ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ۔ "اے نبی! اپنی ازواج اور بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادریں تھوڑی نیچی کر لیا کریں ۔ یہ امر ان کی شناخت کے لیے (احتیاط کے) قریب تر ہو گا ۔ پھرکوئی انہیں اذیت نہیں دے گا ۔ اور اللہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے ۔" (سورہ احزاب :۵۹) (۳) وَإِذَا سَأَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَاءِ حِجَابٍ ذٰلِکُمْ أَطْہَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوبِہِنَّ ۔ "اور جس وقت وسائل زندگی میں سے کوئی چیز عاریتاً ان رسول کی بیویوں سے طلب کرو درمیان میں پردہ حائل ہونا چاہیے یہ کا م تمہارے اور انکے دلوں کو زیادہ پاک رکھتاہے۔" ( سورہ احزاب :۵۳) (۴) وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَاتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّةِ الْأُوْلَی ۔ "اور اپنے گھروں میں جم کر بیٹھی رہو اور قدیم جاہلیت کی طرح اپنے آپ کو نمایاں نہ کرتی پھرو ۔" ( سورہ احزاب :۳۳) (۵) وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللاَّ تِیْ لاَیَرْجُوْنَ نِکَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ أَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ م بِزِیْنَةٍ وَأَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّہُنَّ وَاللہ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۔ "اور جو عورتیں ضعف السنی کی وجہ سے گھروں میں خانہ نشین ہو گئی ہوں اور نکاح کی توقع نہ رکھتی ہوں ان کے لیے اپنے حجاب کے اتار دینے میں کوئی حرج نہیں ۔ بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں ۔ تاہم عفت کاپاس رکھنا ان کے حق میں بہتر ہے اور اللہ بڑا سننے والا جاننے والا ہے ۔" ( سورہ نور:۶۰) پردہ ہر زمانہ میں شافت و عظمت کی نشانی سمجھا جاتا رہاہے اسلام نے اس کاحکم دے کرایک عورت کی عظمت کی حفاظت کی ہے ۔ پردہ چادر برقعہ دو پٹہ غرضیکہ ایسا کپڑ ا جس سے عورت کا بدن اور اس کے بال نظر نہ آئیں ۔ ۱)حکم ہے کہ نرم لہجہ میں ہنستے ہوئے غیر مردسے بات نہ کریں ۔ ارشاد رب العزت ہوتاہے : فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہِ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۔ "نرم لہجہ میں بات نہ کرو کہیں وہ شخص لالچ میں نہ پڑ جائے جس کے دل میں بیماری ہے اور معمول کے مطابق باتیں کیا کرو۔" ( سورہ احزاب : ۳۲ ) ۲) میک اپ بن سنور کا بازار یاباہر کسی جگہ جاناممنوع ،زینت صرف شوہر وں کے لیے ہونا چاہیے۔ہاں محرموں کے سامنے آنے میں کوئی حرج نہیں۔ وَلاَیُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلاَّ لِبُعُوْلَتِہِنَّ ۔ "اپنی زیبائش کو ظاہر نہ ہونے دیں مگر شوہر وں اور محروں کے لئے ۔"(سورہ نور:۳۱) ۳) چلتے ہوئے کوئی ایسی علامت نہیں ہونی چاہیے جس سے لوگ متوجہ ہوں مثل پاؤں زور سے مارنا پا زیب یا اس طرح کا زیور جس سے آواز پید اہو پرفیوم عطریات جس سے لوگ خصوصی توجہ شروع کریں ۔ ارشاد رب العزت ہوتاہے : لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ ۔ "جس سے پوشیدہ زینت ظاہرہو جائے ۔ " (سورہ نور:۳۱) ۴)ایسی چادر دوپٹہ اوڑھیں جس سے بدن کے اعضا سینہ گردن بال ظاہر نہ ہوں ۔ ارشاد ِرب العزت ہے : وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّ ۔ "اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی زیبائش ظاہر نہ ہونے دیں۔(نور:۳۱) ۵)ا رشادِ رب العزت ہے : یُدْنِینَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیبِہِنَّ ذَلِکَ أَدْنَی أَنْ یُعْرَفْنَ ۔ اپنی چادراور اوڑھنی اس طرح ڈالے رکھیں تاکہ ان کی پہچان ہو سکے ۔ ۶) ارشاد رب العزت ہے : فَاسْأَلُوہُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ۔ عورتوں سے ضرورت کی کوئی چیز طلب کرنا ہو تو پردہ یا دروازے کے پیچھے رہ کر طلب کرو۔ (احزاب :۵۳) ۷)بناؤ سنگھار کے ساتھ باہر نکلنا اسلام سے پہلے کا (جاہلیت)طور طریقہ ہے، اسلام کے بعد ایسا کرنا گویا جاہلیت کی طرف پلٹناہے ۔ ارشاد رب العزت ہوتاہے : وَلاَتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّةِ الْأُوْلٰی "قدیم جاہلیت کی طرح اپنے آپ کو نمایاں نہ کرتی پھرو "۔(سورہ احزاب ۳۳) آخر بحث میں رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کافرمان وجناب سیدہ سلام اللہ علیھا کا جواب : قال رسول اللہ لابنتہ فاطمةعلیھا السلام ایُّ شیء خیر للمرئة قالت ان لا تری رجلا ولا یراھا رجل۔ رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے اپنی بیٹی فاطمہ زہرا سے پوچھا کہ عورت کے لیے سب سے بہتر کیا ہے؟ عرض کیا عورت مرد کو نہ دیکھے او رمرد اس عورت کونہ دیکھ سکے ۔ عورت کی عظمت جناب سیدہ سلام اللہ علیہا جن کی تعظیم کے لیے رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )بنفس نفیس کھڑے ہو جاتے تھے ،اے بیٹی !اے ماں! جس قدر سیرت زہرا پرعمل ہوگا اسی قدر تیری عزت وعظمت ہوگی ۔ قرآن مجید و ازدواج ازدواج او رنکاح مرد و عورت کے درمیان اتصال۔ جس میں حدود شرعی کو مدنظر رکھتے ہوئے جسمانی وروحانی لذت کا حصول اورنسل انسانی کی بقاء مقصود ہوتی ہے ۔ النکاح سنتی فمن رغب عن سنتی فلیس منی فطری لذت بھی حاصل او رانسانیت کی بقاء بھی موجود ۔ فرمان رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) المحجة البیضاء جلدنمبر ۳ ص۵۴ نکاح میری سنت ہے میری سنت سے روگردانی کرنے والامیرا نہیں ہو سکتا۔ نکاح کا ذکر قرآن مجید میں ۲۴ دفعہ آیا ہے ۔ فطرت انسانی میں مرد بہ عنوان طالب او ر محب او رعورت پھول او رشمع کی حیثیت رکھتی ہے مرد۔ مائل جاتا ہے او رعورت اسکا مقصود بنتی ہے لذا اسی فطرت کے مطابق خطبہ ازدواج کی خواہش مرد کی طرف سے ہوتی ہے، ناز ونعم میں پروردہ عورت کے لیے افتخار مرد کی بار بار آمد تاکہ قبولیت ہوجائے۔ مرد محبت خرید رہا ہے ، محبت اور چاہت رکھتا ہے اس بیوی کو اپنے گھر میں لانا چاہتا ہے اوراس شمع سے اپنے گھر کو روشن چاہتا ہے ۔یہ ہے اظہار۔ محبت اسی میں عورت کا شرف او رعورت کی عظمت ہے ۔ پھر برات مرد کی طر ف سے جاتی ہے تاکہ عزت کے ساتھ اپنے گھر میں اس عظیم شخصیت اس محبوبہ کو لایا جاسکے تاکہ گھر میں رونق ہو گھرمیں چہل پہل ہو مرد کیلئے سکون واطمینان ہو۔ لیکن جب صیغہ نکاح پڑھاجاتا ہے تو عورت کی طرف سے ابتدا ہوتی ہے انشاء عورت کی طرف سے او رقبول مرد کی طرف سے یہ در حقیقت مرد کا استقبال ہے ۔ اپنی طرف سے رضا مندی کا اظہار ہے تا کہ مرد سمجھ لے کہ اسکی محنت رائگاں نہیں گئی ۔ مجھے محبت کاجواب محبت سے ملا ہے ۔کتنی چاہت کے ساتھ کتنی خوشی کے ساتھ مرد اس عورت کو اپنے گھرلے جاتا ہے ۔ جو گھر مرد کا تھا بنانے والے مرد کا تھا لیکن اب اس گھر کی سجاوٹ عورت ہے ۔ گھر کی زینت عورت ہے، گھرمیں روشنی عورت سے، گھر میں خوشبو عورت سے ۔مردگھر سے باہر ہوتے ہوئے بھی فورا گھر جانے کی خواہش رکھتا ہے تاکہ اپنے اس پھول کی خوشبو سے مستفید ہو ۔ یہ ہے خداکا عطیہ یہ ہے فطری ملاپ ملاپ بھی ایسا کہ ((تو من شدی من تو شدم)) کا مصداق ہیں۔ ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ " وہ تمہارے لباس اور تم ان کے لبا س ہو ۔" (بقرہ:۱۸۷) ارشا د رب العزت ہے: وَمِنْ آیَاتِہ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْا إِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً إِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُوْنَ "اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے ۔ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے ازواج پید ا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کردی۔ غور و فکر کرنے والوں کے لیے یقینا ان میں(خداکی) نشانیاں ہیں ۔" (روم :۲۱) عورت کی طرف سے محبت او رپیار مرد کی طرف سے محبت کے ساتھ رحمت و مہربانی تاکہ باہمی ارتباط مضبوط سے مضبوط تر ہو جائے خد ا کرے یہ شادی یہ خوشی دائمی ہو ساری زندگی ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی ملاپ و صل و ارتباط ہو۔ ارشادِ رب العزت : ہُمْ وَأَزْوَاجُہُمْ فِیْ ظِلَالٍ عَلَی الْأَرَائِکِ مُتَّکِئُوْنَ "وہ اور انکی ازواج سا یوں میں مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے ۔" (یٰسین:۵۶) انسانی فطر ت میں اس محبت کوودیعت کیا گیاہے ۔ صحیح محبت حدود شرعی میں رہتے ہو ئے محبت فطری کہلائے گی۔ ارشاد رب العزت ہے: زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْث " لوگوں کوان کی مرغوب چیزوں یعنی بیویوں، بیٹیوں ، سونے چاندی کے خزانے۔ عمدہ گھوڑوں اورمریشیوں اورکھیتوں کی الفت و زینت دکھا دی گئی ہے۔ " (آل عمران:۱۴) لیکن یہ تو دنیا وی سامان ہے انجام و عاقبت میں بھی ازواج و عورت کی اہمیت واضح ہے ۔ ارشاد رب العزت ہے : قُلْ أَؤُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِکُمْ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَأَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَةٌ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللہ وَاللہ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ ۔ "کہہ دیجیے کیامیں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز نہ بتادوں جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس باغا ت ہیں جن کے نیچے نہریں جا ری ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ نیز ان کے لیے پاکیزہ بیویا ں ہیں اور اللہ کی خوشنودی ہوگی اورا للہ بندوں پر خوب نگاہ رکھنے والا ہے ۔"

انتخاب عورت
شادی سے پہلے انسان سعی و کوشش کرکے بہترین رشتہ تلاش کرے بہترین رشتہ حسن وزبیاتی ۔تعلیم و تربیت ۔اخلاق و کردا رسے متصف ہو ۔خاندان شریف ۔ عورت عفیفہ پاک دامن۔ اور ولود(بچہ جننے والی) بانجھ عقیم سے اجتناب کیا جائے صرف مال و دولت اور خوبصورتی کافی نہیں ہے ۔ بد کردار خاندانی لڑکی ایسے ہے جیسے کوڑا کرکٹ کے وسط میں پھول ۔اس سے اجتناب ضروری ہے۔ ارشاد رب العزت ہے: وَلَاتَنْکِحُوْا الْمُشْرِکَاتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِنْ مُشْرِکَةٍ وَّلَوْ أَعْجَبَتْکُمْ وَلَاتُنْکِحُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُشْرِکٍ وَّلَوْ أَعْجَبَکُمْ أُوْلٰئِکَ یَدْعُونَ اِلٰی النَّارِ وَاللہ یَدْعُوْا إِلَی الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِہ وَیُبَیِّنُ آیَاتِہ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ. "تم مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں چونکہ مومنہ کنیزاس مشرکہ عورت سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں زیادہ پسند ہو نیز (مومنہ عورتوں کو) مشرک مردوں کے عقد میں نہ دینا۔ خواہ وہ مشرک تمہیں پسند ہی ہو کیونکہ وہ جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتاہے ۔ اور اللہ اپنی نشانیوں کو لوگوں کے سامنے کھول کر پیش کر تا ہے ۔شائد کہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔ ارشادِ رب العزت ہے: اَلْخَبِیْثَاتُ لِلْخَبِیثِیْنَ وَالْخَبِیْثُونَ لِلْخَبِیْثَاتِ وَالطَّیِّبَاتُ لِلطَّیِّبِینَ وَالطَّیِّبُونَ لِلطَّیِّبَاتِ أُوْلٰئِکَ مُبَرَّئُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُونَ لَہُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ ۔ "خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کی لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں وہ ان باتوں سے پاک ہیں جو وہ لوگ بناتے ہیں انکے لیے مغفرت اور باعزت روزی ہے۔" ( سورہ نور:۲۶) پیسہ دیکھ کر شادی عورت کی دولت کی وجہ سے اسکے ساتھ شادی، حسن کو مدنظر رکھتے ہوئے ترویج نہیں بلکہ اصل چیز شرافت دیانت اور اخلاق وکردار کی پاکیزگی ہے ،رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ إِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَاءَ یُغْنِہِمْ اللہ مِنْ فَضْلِہ "اگر مرد نادار و فقیر ہے تو اسے اللہ اپنے فضل سے غنی کر دے گا ۔ " (سورہ نور : ۳۲ )

حق مہر او ر قرآن
مہر ،اللہ کی طرف سے عورت کے لیے عطیہ ہے مہر دینا مرد کا احسان نہیں بلکہ عورت کا حق اور خدائی ہدیہ ہے ۔ ارشاد رب العزت ہے: وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِہِنَّ نِحْلَةً فَإِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ہَنِیئًا مَّرِیْئًا ۔ "اور عورتوں کے مہر انکو خوشی سے دیا کرو اگر وہ کچھ حصہ اپنی مرضی سے معاف کردیں تو اسے خوشگواری لے کر صرف سکتے ہو ۔ " (سورئہ نساء:۴) مہر کی مقدار حضرت علی علیہ السلام نے اپنی زرہ بیچ کر اسکی قمیت حضور کی خدمت میں پیش کی حضور نے اسی مہر کی رقم ۴۸۰ درہم سے جہیز خرید ا۔ چاند ی کی قیمت جس وقت ۴۵ روپے فی تولہ تھی اس وقت ۴۸۰ درہم یعنی ۱۴۵۵۵ روپے بنتے ہیں یہی مہر فاطمی ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو مہر فاطمی کے مطابق مہر ادا کرتے ہیں لیکن جہاں تک مہر شرعی کا تعلق ہے اس کی مقدار متعین نہیں بلکہ دونوں خانوادوں کی باہمی رضا مندی جس مقدار پر ہو جائے ۔ وہ جائز ہے۔ ارشاد رب العزت ہے: وَإِنْ أَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ وَّآتَیْتُمْ إِحْدَاہُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوْا مِنْہُ شَیْئًا أَتَأْخُذُوْنَہ بُہْتَانًا وَّإِثْمًا مُّبِیْنًا وَکَیْفَ تَأْخُذُوْنَہ وَقَدْ أَفْضٰی بَعْضُکُمْ إِلٰی بَعْضٍ وَّأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا "اگر تم لوگ ایک زوجہ کی جگہ دوسری زوجہ لینا چاہو اورایک کو بہت سا مال بھی دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لینا کیا تم بہتان اورصریح گناہ کے ذریعہ مال لینا چاہتے ہو اور دیاہوا مال تم کیسے واپس لے سکتے ہو جب کہ تم اسکے ساتھ مباشر ت کر چکے ہو اور وہ تم سے شدید عہد وقرار لے چکی ہیں ۔ " ( سورہ نساء :۲۰۔۲۱ ) حضرت عمر ابن خطاب نے ایک دفعہ کہا حق مہر اگر زیادہ لیاگیاتو بحق سرکار ضبط کر لیا جائے گا ایک مخدرہ نے اٹھ کر یہ آیت پڑھی اور کہا جب اللہ نے زیادہ مہر لینے کا کہا تو آپ کیسے منع کرتے ہیں ۔۔ظاہر ہے جب "پل " کی مندرجہ رقم ہوئی تو کافی زیادہ ہوگی۔ بہر حال حق مہر عورت کا حق ہے عورت کے لیے اللہ کی طرف سے عطیہ ہے اور مرد کی محبت کا اظہار ہے ۔ ادائیگی ضروری ہے ۔

وہ عورتیں جن سے نکاح حرام ہے
ارشاد رب العزت ہے: حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ أُمَّہَاتُکُمْ وَبَنَاتُکُمْ وَأَخَوَاتُکُمْ وَعَمَّاتُکُمْ وَخَالَاتُکُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّہَاتُکُمُ اللاَّ تِیْ أَرْضَعْنَکُمْ وَأَخَوَاتُکُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّہَاتُ نِسَائِکُمْ وَرَبَائِبُکُمُ اللاَّ تِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَائِکُمُ اللاَّ تِیْ دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَإِنْ لَّمْ تَکُونُوا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْکُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ أَصْلَابِکُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْأُخْتَیْنِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللہ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا وَّالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ کِتَابَ اللہ عَلَیْکُمْ وَأُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَاءَ ذٰلِکُمْ أَنْ تَبْتَغُوْا بِأَمْوَالِکُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسَافِحِیْنَ ۔ "تم پر حرام ہیں تمہاری مائیں تمہاری بیٹیاں تمہاری بہنیں تمہاری وہ مائیں جو تمہیں دودھ پلا چکی ہیں تمہاری پھوپھیاں،تمہاری خالائیں، تمہاری بھتیجیاں، تمہاری بھانجیاں اور تمہاری دودھ شریک بہنیں تمہاری بیویوں کی مائیں اور جن بیویوں سے تم مقاربت کر چکے ہو ان کی وہ بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں رہی ہوں ۔ لیکن اگر ان سے تم نے صرف عقد کیا ہو مقاربت نہ کی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔نیز تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں اور دو بہنوں کا باہم جمع کرنا مگر جو پہلے سے ہو چکا ہوبے شک اللہ بڑا بخشنے والا،رحم کرنے والا ہے اور شوہردار عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آجائیں یہ تم پر اللہ کا فرض ہے اور ان کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال ہیں ان عورتوں کوتم مال خرچ کر کے اپنے عقد میں لاسکتے ہو۔ بشرطیکہ(نکاح کا مقصد) عفت قائم رکھنا ہو بے عفتی نہ ہو۔" ارشاد رب العزت ہے: وَلَاتَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ آبَاؤُکُمْ مِّنْ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَةً وَّمَقْتًا وَسَاءَ سَبِیْلًا ۔ "اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نکاح کر چکے ہیں مگر جو کچھ جو چکا ہے سو ہو چکا یہ ایک کھلی بے حیائی ہے اور ناپسندیدہ عمل اور برا طریقہ ہے ۔" (سورہ نساء:۲۲)

کنیزوں سے نکاح
کافر عورتیں جو قید ہوکر آئیں ان سے بھی ان کی مالک کی اجازت سے نکاح کیا جاسکتاہے ۔ان کا حق مہر اور دوسری ضروریات آزاد عورت کی نسبت کم ہوتی ہیں۔ غلط کاری میں سزا بھی کم ہو تی ہے ۔ لیکن کنیزوں سے ویسے مقاربت سے نا جائزہے کسی کو حق نہیں کہ کنیز سے مجا معت کرے یہ کام حرام ہے البتہ نکاح جائز ہے ۔ ارشادِ رب العزت ہے: وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا أَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیَاتِکُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللہ أَعْلَمُ بِإِیْمَانِکُمْ بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ فَانْکِحُوْہُنَّ بِإِذْنِ أہْلِہِنَّ وَآتُوْہُنَّ أُجُوْرَہُنَّ بِالْمَعْرُوُفِ مُحْصَنَاتٍ غَیْرَ مُسَافِحَاتٍ وَّلَامُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْکُمْ وَأَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ وَاللہ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۔ "اگر تم میں سے کوئی مالی مشکلات کی وجہ سے آزاد عورتوں سے نکاح کی قدرت نہ رکھتاہو تو اسے چاہئے کہ وہ تمہاری مملوکہ مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرے اللہ تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتاہے ۔ تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کا حصہ ہو لہذا ان کے سرپر ستوں سے اجازت لے کر ان کے ساتھ نکاح کرو اور شائستہ طریقہ سے ان کا مہر ادا کرو کہ وہ نکاح کے تحفظ میں رہنے والی ہوں بد چلنی کا ارتکاب کرنے والی نہ ہوں ۔نہ در پردہ آشنا رکھنے والی ہوں پھر نکاح میں آنے کے بعد بد کاری کا ارتکاب کریں توانکے لیے سزا کا نصف ہے جو آزاد عورتوں کیلیے مقرر ہے یہ اجازت اسے حاصل ہے جسے شادی نہ کرنے(سے) تکلیف ومشقت کا خطرہ حق ہو لیکن اگر صبر کرو تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا ہے رحم کرنیوالا ہے ۔" (نساء:۲۵)

نکاح متعہ
نکاح کی دو قسمیں ہیں نکاح دائمی و موقت ۔ مذہب جعفریہ کے علماء کا اجماع ہے کہ نکاح متعہ جائز ہے۔ نکاح دائمی ومتعہ میں چند چیز مشترک ہیں ۔ ۱) عورت عاقلہ بالغہ راشدہ اور تمام موانع سے خالی ہو ۔ ۲) آپس کی رضا کافی نہیں بلکہ صیغہ شرعی پڑھنا ضروری ہے ۔ ۳) نکاح سے جو چیزیں عورت پر حرام ہو جاتی ہیں ان میں دونوں شریک ہیں ۴) اولاد کے سلسلہ میں دونوں برابر دائمی کی طرح متعہ میں بھی اولاد شوہر کی ہوتی ہے ۵) مہر دونوں میں ضروری ہے متعہ میں مہر کا ذکر نہ ہو تو نکا ح نہیں ہو گا ۔ ۷) نکاح میں طلاق کے بعد اورمتعہ میں مقررہ مدت کے اختتام کے بعد عدت ضروری ہے ۔ عقدِ متعہ اور عقدِنکاح میں فرق ۱) نکاح متعہ میں مدت کا ذکر کرنا ضروری ہے ۔ ۲) مہر۔ نکاح متعہ کا رکن ہے اس کے ذکر کے بغیر نکاح نہیں ہو گا ۳) نکاح دائمی میں نفقہ دینا واجب ہے اور نکاح متعہ میں اگر شرط کر لی جائے تو واجب ہے ۔ ۴) نکاح دائمی ۔ طلاق کے بغیر ختم نہیں ہو تا متعہ ۔مدت کے اختتام پر ختم ہوجاتاہے۔ بہرَ حال دونوں ہی نکاح ہیں دونوں ہی شرعی ہیں دونوں کی حقیقت ایک ہے صرف چند امور میں فرق ہے ۔ فقہاء اسلام سنی و شیعہ سب کا اتفاق ہے کہ نکاح متعہ اسلام میں مشروع ۔ اور جائز قرار دیا گیاہے ۔ ارشاد رب العزت ہے: فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہ مِنْہُنَّ فَآتُوْہُنَّ أُجُوْرَہُنَّ فَرِیْضَةً وَلَاجُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا تَرَاضَیْتُمْ بِہ مِنْم بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ إِنَّ اللہ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا "پھر جن عورتوں سے تم نے متعہ کیا ہے ا نکا طے شدہ مہر بطور فرض ادا کرو البتہ طے کرنے کے بعد آپس میں رضا مندی سے مہر میں کمی بیشی کرو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے یقینا اللہ بڑا جاننے والا حکمت والاہے ۔" ( سورہ نساء :۲۴) متعہ کے جواز :مشروعیت میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں لذا مفسر کبیر فخرالدین رازی کاقول ہے ۔یہ واضح ہے اور ہم اس کے منکر نہیں کہ متعہ مباح تھا لیکن داعی ہیں کہ متعہ منسوخ ہو گیا ہے نسخ مشکوک ۔جوازو اباحت یقینی۔ لہٰذا مباح ہی ہو گا۔ متعہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو بکر ، حضرت عمر ابن خطاب کے زمانہ تک جائز تھا، حضرت عمرنے منع کیا ۔ ابو نَضرہ کہتے ہیں عہد کہتا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ،ابن زبیر متعہ ممنوع قرار دیتے ہیں ۔ ابن عباس کے نزدیک جا ئز ہے جابر نے بتایا کہ ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر حضرت عمر کے زما نہ میں متعہ کیا لیکن حضرت عمرنے کہا منع کیا۔ رسول اللہ وہی رسول ہیں۔ قرآن وہی قرآن ہے لیکن حضرت عمر نے کہا : متعتان کانتا فی عہد رسول اللہ انا انہی عنہما واعاقب علیہا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے زمانہ میں دومتعہ جائز تھے میں ان کو ممنوع قرار دیتاہوں اور جو ان کا مرتکب ہو گااسے سزادوں گا ۔ (سنن بیہقی جلد ۷، ۲۰۶) رازی، بخاری، عسقلانی ، اور ابن حجر وغیرہ ذکر کرتے ہیں روایت عمران ابن حصین متعہ کے متعلق آیت نازل ہوئی کسی آیت میں نسخ کیا ،رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے فرمایا ، پھر منع نہیں فرمایا پھر ایک صاحب (عمر ابن خطاب)نے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ ممنوع ہے ۔ حضرت امیر کا فرمان ہے : لولاان عمر رضی اللہ عنہ نھی عن المتعة ما زنی الا شقی (تفسیر کبیر جلد۵ ص۱۳) ابو سعید الخدری جابر ابن عبداللہ انصاری حضرت عمر کے نصف زمانہ تک متعہ ہو تا رہا پھر حضرت عمر نے منع کیا۔(عمدة القاری للعینی جلد۸ ص۳۱۰) خلاصہٴ کلام متعہ کا جواز متفق علیہ مشروعیت اجماعی ہے نسخ ہوا یا نہیں، شدیداختلاف ہے۔ کیوں اب نہیں ہورہا چونکہ حضرت عمر نے منع فرمایا ۔ حضرت عمر کا فرمان سیاسی تھا کسی کی مرضی اس فرمان کو لے یا قرآن کے فرمان کو لے ۔ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہِ مِنْہُنَّ فَآتُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ فَرِیضَةً ۔ پھر جن عورتوں سے تم نے عقد متعہ کیا ہے ان کا طے شدہ مہر، بطور فرض ادا کرو۔( نساء ۲۴)

ایک سے زیاہ ز وجہ
قبل از اسلام تعدد ازواج کا رواج تھا عام طورپر محبت یا بچوں کی کثرت ایک سے زیادہ ازواج کی سبب تھی۔ بعض اوقات یہ تصور بھی کہ خاندان میں عورتیں زیادہ اور مرد کم ہیں اورعورت کو تحفظ کی ضرورت ہے لہذا تعددازواج کا سلسلہ چل نکلا ۔ اسمیں کوئی قید نہیں تھی، امراء مال دار لوگ بہت زیادہ شادیاں رچا لیتے تھے ۔ جو عورت اچھی محسوس ہوتی اسے اپنے گھر لے آتے ۔ اسلام نے فطرت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک سے زیادہ نکاح کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ عورت کو تحفظ حاصل ہو ۔ جس سے محبت ہے زناکاری میں نہ پڑ جائے یا اس کی خواہش پوری ہو جائے لیکن اس کو محدود کر دیا…صرف چار میں ۔ پھرباقاعدہ حکم و اجازت ایک شادی کی ہے، دوسری شادی مشروط بشرط ہے اور وہ ہے انکے مابین انصاف و عدالت ۔ گویا تعداد کے لحاظ سے مہدود ۔ پھر عدالتسے بھی مشروط۔ تاکہ ضرورت کومدنظر رکھتے ہوئے دوسری شادی کرلی جائے لیکن انصاف کادامن چھوٹنے نہ پاتے۔ایسا نہ ہو کہ یہاں پہلی بیوی کے حقوق غصب ۔ اوردوسری راحت وعیش میں ۔ نہیں نہیں انصاف و عدالت لازم اورپھر خدائی پرستش بھی ہوگی۔ ارشادِ رب العزت ہے: فانکحوا اما طاب لکم من النساء امثنی و ثلاث و رباع فان خفتم الاقد لوا فواحدة او ما ملکت ایمانکم ذلک ادنیٰ ان لا تعولوا۔ جو دوسری عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو یا تین یا چار سے نکاح کرلو۔ تمہیں خوف ہو کہ ان میں عدل نہ کر سکوگے کہ تو ایک ہی عورت یا لونڈی جس کے تم مالک ہو کافی ہے ۔ یہ ناانصافی سے بچنے کی بہتر ین صورت ہے ۔ (نساء،۳) جو رواج پہلے چل رہے تھے کہ لوگ کثرت سے شادیاں رچاتے تھے بعض تو سو سے بھی زیادہ شادیاں کرلیتے تھے ۔اسلام نے اسے دو شرطوں سے مشروط کردیا ۔ ۱) صرف چارتک محدود کر دیا ۔ اس سے زیادہ کی اجازت نہیں دی ۔ ۲) عدالت و انصاف لازمی ہے عدم انصاف کا خوف ہو تو دوسری شادی جائز نہیں یہ سب کچھ کیوں ۔بے سہارا عورت کو سہارا مل جائے۔کثرت سے عورتوں کا نکاح ہو جائے ۔ کسی کی چاہت دل میں ہے تو غلط راستہ کی بجائے صحیح راستہ سے خواہش پوری ہوجائے ۔آج مغرب کی حالت دیکھیں بعض ممالک میں ۳۵فیصدسے زیادہ حرام زادے موجو د ہیں ۔ عورت کھلونا بن چکی ہے کمائی کا ذریعہ بن گئی ہے ۔عورت کی بے چارگی ا س قدر کہ اس کا کوئی سہارا نہیں چند دن اس کو ساتھ پھر ایا پھر چھوڑ دیا پھر کہیں اور …عظمت عورت کا تقاضا اچھے مرد کا ساتھ ہے جو عزت کا محافظ ،غیرت کا محافظ اور ضروریات زندگی کا ضامن ہو ۔یہ ہے عورت کی شان

مرد عورت کا گھر
اس میں کوئی شک نہیں کہ گھر میں مرد عورت بچے موجودہوتے ہیں نظام ایسا مثالی ہونا چاہیے کہ یہ گھر جنت بن جائے اکھاڑہ نہ ہو جس میں ہر وقت خرافات لڑائی جھگڑا اور چپقلش ہو ظاہر ہے کہ ایک سربرا ہ ہونا چاہئے کہ اختلاف کی صور ت میں اسکی بات سب کے لیے قابل قبول ہو اسلام نے سر براہی مر د کو دی ہے ۔ ارشاد رب العزت ہے : الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللہ بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَا أَنفَقُوْا مِنْ أَمْوَالِہِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللہ مرد عورتوں پر حاکم ہیں ان فضیلتوں کی بنا پر جو اللہ نے بعض کو بعض پر دی ہیں اور یہ کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں نیک عورتیں وہی ہیں جوشوہروں کی اطاعت کرنے والی ہوں ان کی غیبت میں ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہوں جن کی خدا نے حفاظت ملی ہے ۔ (سورہ نساء : ۳۳ ) اچھی عورت جس کے وجود سے گھر جنت بن جائے جس کی خوش اخلاقی کی وجہ سے مرد گھر میں آنے پر خوشی محسوس کرے ۔ ان کی صفات قرآن مجید نے بیان کی ہیں ارشاد رب العزت ہے: عَسٰی رَبُّہ إِنْ طَلَّقَکُنَّ أَنْ یُّبْدِلَہ أَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ۔ اگر بنی تمہیں طلاق دے دیں تو بعید نہیں کہ ان کا رب تمہارے بدلے انہیں تم سے بہتر بیویاں عطا فرمائے (بہتر بیویوں کی صفات) وہ عورتیں جو مسلمان مومنہ اطاعت گذار تو بہ کرنے والی عبات گذار رب پربھروسہ رکھنے والی ہوں۔(تحریم،۵) ارشاد رب العزت ہے : وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَةٌ وَاللہ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ۔ "عورتوں کو بھی دستور کے مطابق ویسے ہی حقوق ہیں جو مردوں کو حاصل ہیں اللہ کی طرف سے مردوں کو عورتوں پر بر تری حاصل ہے ۔ اللہ بڑا غالب آنے والا حکمت والا ہے ۔"(سورہ بقرہ :۲۲۸ ) گھر کی چار دیواری میں نظام عورت نے چلانا ہے ۔ مرد کا حق عورت اسکی اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم نہ رکھے کھانا پکا نا صفائی کرنا دوسرے گھر کے دوسرے کام کاج کرنا عورت کا تفضل ہے مہربانی ہے اچھائی ہے نہ کہ واجبات میں سے ہیں اس میں مرد عورت برابر کے انسان ہیں ۔ تیری تکمیل تیری نسل کی بقا کا دارو مدار عوت پر ہے تیرے گھرمیں تیری دعوت پر دوست کی حیثیت سے بیوی کی حیثیت سے شریک کار کی حیثیت سے آئی ہے ۔ نوکرانی نہیں کنیز نہیں اچھا برتاؤ کرو یاد رکھو مرد ناراض تو عورت جنت سے دور عورت کے حقوق اد ا نہیں ہوتے تو مرد جنت سے بے بہرہ رہے گا۔

نشوزہ( نافرمان) عورت
ایک ہی جگہ ایک ہی ہے گھر میں رہنے والے انسا ن آپس میں اختلاف بھی کرتے ہیں اورکبھی کبھی اختلاف لڑائی جھگڑے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ہو سکتاہے عورت خیال کرے کہ مرد کی توجہ میری طرف نہیں مرد مجھ سے نفرت کر رہاہے ۔ ارشاد رب العزت ہے: وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ م بَعْلِہَا نُشُوْزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلاَجُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَہُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَیْرٌ وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ وَإِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللہ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کیطرف سے بے رخی کا اندیشہ ہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کہ دونوں ( عورت و مردصلح کی خاطر اپنے کچھ حقوق سے صرف نظر کرکے) اور صلح کر لیں اور صلح توبہرہال بہتر ہی ہے اور بخل تو ہر نفس کے سامنے دھرا رہتاہے ۔ لیکن اگر تم نیکی کرو تقویٰ اختیار کرو تو اللہ تمہارے سارے اعمال سے یقینا خوب واقف ہے ۔( سورہ نساء ۱۲۸) اختلاف کی بنیاد عام طو رپر ذات اور انا ہوتی ہے ۔ باہمی رفاقت کے لیے اگر اس سے صرف نظر کیا جائے تو مصالحت ہو جاتی ہے مصالحت کے ساتھ اکٹھے وقت گزارنا ہی اچھائی بردباری اور کامیابی کی علامت ہے ۔ عورت نافرمان ہوجائے تو اسکا طریقہ کار قرآن میں ارشا د ہے ۔ ارشاد رب العزت ہے: وَاللاَّتِیْ تَخَافُونَ نُشُوْزَہُنَّ فَعِظُوہُنَّ وَاہْجُرُوْہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْہُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَیْہِنَّ سَبِیْلًا إِنَّ اللہ کَانَ عَلِیًّا کَبِیرًا (۳۴) وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ أَہْلِہ وَحَکَمًا مِّنْ أَہْلِہَا إِنْ یُّرِیْدَا إِصْلاَحًا یُّوَفِّقٰ اللہ بَیْنَہُمَا إِنَّ اللہ کَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا ۔ "اور جن عورتوں کی سر کشی کا تمہیں خوف ہو تو انہیں نصیحت کرو اور اگر وہ باز نہ آئیں تو اپنی خوابگاہ سے الگ کردو۔پھر بھی نہ سمجھیں تو انہیں مارو پھر اگر وہ فرمانبرداربنا جائیں تو ان کے خلاف بہانہ تلاش نہ کرو یقینا اللہ بالا تر ااور بڑا ہے ۔ اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیاں ناچاقی کا اندیشہ ہو تو ایک منصف مرد کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو اور ایک منصف عورت کے رشتہ داروں میں مقرر کرو اور اگر وہ دونوں ان کے درمیان صلح کی کوشش کریں تو اللہ ان کے درمیان اتفاق پیدا کرے گا یقینا اللہ بڑا علم والا ہے اور باخبر ۔"( سورہ نساء ۳۴۔۳۵) کردار سازی عورت مرد کی اچھائی ،نیکی تقویٰ اور پرہیزگاری میں ہے ۔ عورت کے لئے کسی اور مردسے تعلق رکھنا بہت بڑا گناہ ہے اور اسی طرح مرد کے لئے بھی۔ شرافت و دیانت مردو عورت کا زیور ہے عور ت مرد میں جب کردار کی خرابی پید اہو جائے وہ بدکردار ہو جائیں تو اسلام نے اس غلط کا م کی بیخ کنی کیلیے سخت سزا معین کی ہے ۔ ارشاد رب العزت ہے: یَاأَیُّہَا النَّبِیُّ إِذَا جَائَکَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰی أَنْ لَّایُشْرِکْنَ بِاللہ شَیْئًا وَّلَایَسْرِقْنَ وَلَایَزْنِیْنَ ۔ "اے نبی! جب مومنہ عورتیں اس بات پر آپ سے بیعت کرنے آپ کے پاس آئیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کا ارتکا ب کریں گیں تو( آپ بیعت لے لیں ۔"(سورہ ممتحنہ آیت ۱۲) ارشادِ رب العزت ہے : وَلَاتَقْرَبُوْا الزِّنٰیْ إِنَّہ کَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِیلًا ۔ اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ یقینا یہ بڑ ی بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔(سورہ اسرائیل :۳۲) ارشاد رب العزت ہے: اَلزَّانِیَةُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَّلاَتَأْخُذْکُمْ بِہِمَا رَأْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللہ إِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَلْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَائِفَةٌ مِّنْ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ زنا کار مرد اور عورت دونوں کو ایک سو کوڑے مارو اور دین خدا کے معاملہ میں تم کو ان پر ترس نہ آنا چاہیے اگرتم اللہ او ر روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور انکی سزا کے وقت مومنین کی ایک جماعت موجود رہے۔ (سورہ نور:۲) زنا کی سزا سخت ہے لیکن زنا ثابت نہ ہونے پر تہمت کی سزا بھی بہت زیادہ ہے ۔ ارشاد رب العزت ہے: وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوْا بِأَرْبَعَةِ شُہَدَاءَ فَاجْلِدُوْہُمْ ثَمَانِیْنَ جَلْدَةً وَّلَاتَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَةً أَبَدًا وَأُولٰئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُوْنَ إِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَأَصْلَحُوْا فَإِنَّ اللہ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ ۔ "اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں پھر اس پر چار گواہ نہ لائیں تو انہیں اسی(۸۰) کوڑے مارے جائیں اور انکی گواہی (پھرکبھی )ہر گز قبول نہ کرو اور یہی فاسق لوگ ہیں سوائے ان لوگوں کے جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اس صور ت میں اللہ بڑا معاف کرنے والا رحم کرنے والاہے ۔" (سورہ نور ۴۔۵) ارشاد رب العزت ہے : اَلزَّانِیْ لاَیَنْکِحُ إلاَّ زَانِیَةً أَوْ مُشْرِکَةً وَّالزَّانِیَةُ لَایَنْکِحُہَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ ۔ زانی مرد صرف زانی یامشرکہ سے نکاح کرے گا اور زانیہ صرف زانی یا مشرک سے نکاح کرے گی اور یہ کام مومنوں پر حرام کیا گیا ہے ۔(سورہ نور : ۳) زنا بہت ہی گھناوٴنی برائی ہے زنا نسل کی خرابی۔ زنا سے برکت کا اٹھ جانا۔ زنا بارانِ رحمت کا انقطاع۔ ایسے خاندان میں نکاح نہ ہو جن کی شرافت مسلم نہیں ، ایسے نکاح بدکاروں کو ہی راس آتے ہیں۔ شرفاء کو چاہیے کہ شریف گھرانہ تلاش کریں اگرچہ وہاں افلاس نے سایہ ڈال رکھا ہو لیکن بدکاروں سے نکاح و ارتباط نہ کریں۔

عورت کے احکام
حیض فطرت کے مطابق ہر عورت کے لیے مخصوص ایام ہوتے ہیں جن میں وہ خون دیکھتی ہے۔ خون کی تین صورتیں ہیں حیض استحاضہ نفاس۔ حیض سرخ رنگ سیاہی مائل تیزی جلن اور حرارت رکھتا ہے جس کی مد ت کم از کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے(حسب العادت عموماً ۶۔۷ دن ہوتا ہے جوعورت کے مزاج پر موقوف ہے ۔ استحاضہ عام پور زرد رنگ پتلاٹھنڈا اور دباؤ ۔ جلن سوزش کے بغیر باہر آتاہے اس کی مقدار و مدت معین نہیں ہے۔ نفاس وقت زچگی خون کا آنا، یہ ایک منٹ کے لیے بھی ہو سکتاہے اس کی زیادہ سے زیادہ مدت دس دن اور عام طور پر حیض کی عادت کے مطابق ہوتا ہے ۔۔ ارشاد رب العزت ہے: وَیَسْأَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ہُوَ أَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِی الْمَحِیْضِ وَلَا تَقْرَبُوْہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ فَإِذَا تَطَہَّرْنَ فَأْتُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ أَمَرَکُمُ اللہ إِنَّ اللہ یُحِبُّ التَّوَّابِینَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ ۔ "وہ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دیجے یہ ایک گندگی ہے پس حیض کے دنوں میں عورتوں سے کنارہ کش رہو اور وہ جب تک پاک نہ جائیں ان کے قریب نہ جاؤ پس جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس اس طریقہ سے جاؤ کہ جس طرح تمہیں اللہ نے حکم دیاہے ۔ بے شک اللہ توبہ کرنے والوں ہے اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتاہے ۔"( سورہ بقرہ : ۲۲۲) ارشاد رب العزت ہے: نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَأْتُوْا حَرْثَکُمْ أَنّٰی شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِکُمْ وَاتَّقُوا اللہ وَاعْلَمُوْا أَنَّکُمْ مُلَا قُوہُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ "تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں پس اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاونیز اپنے لئے نیک اعمال کو اگے بھیجو اور اللہ کے عذا ب سے بچو اور یاد رکھو تمہیں ایک دن اسکی بارگاہ میں جانا ہے ۔ اور اے رسول ایمانداروں کو(نجات کی) بشارت سنا دو "۔ (سورہ بقرہ ۲۲۳) اللہ نے عورت اور مرد کے درمیان کھیت اور کسان کا تعلق قراردیا ہے کسان کھیت میں تفریح سیر سیاحت کے لیے نہیں جاتا بلکہ اس لیے جاتاہے کہ پیدا وار حاصل کر ے نسل انسانی کے کسان کو انسانیت کی اس کھیتی میں نسل کیلیے جانا ہے نیز سابقہ آیت میں فرمان ہے کہ فأتو ھنمن حیث امرکم اللہ ان کے پاس اس طرح جاو ٴ جسں طرح اللہ نے حکم دیاہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتاہے کہ دبر میں وطی جائز نہیں اس سے اجتناب کیا جائے قدموا لاانفسکم وہ نسل چھوڑ جائیے جو آپکی آخرت کے لیے کام آئے وہ تربیت یافتہ ہو تاکہ آپ کو یادرکھے۔ ایلا ء میاں بیوی کے درمیان جدائی کے سلسلہ میں ایلاء وہ رسم ہے جو زمانہ جاہلیت میں عام تھی۔ ایلا کا مفہوم میاں بیوی والے تعلقات ترک کرنے کی قسم کھانا ہے۔جو انسان (میاں) اپنی بیوی سے ناراض ہوتا تو قسم کھا لیتا کہ میں جماع نہیں کروں گا۔ وہ اپنی بیوی کو اپنے اس غیر انسا نی سلوک سے ایک شدید عذاب میں مبتلا کر دیتا ،نہ رسمی طور پر طلاق دیتاہے نہ ہی اس کے قریب بھٹکتاہے ۔ ارشاد رب العزت ہے: وَلَا تَجْعَلُوا اللہ عُرْضَةً لِّأَیْمَانِکُمْ أَنْ تَبَرُّوْا وَتَتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ وَاللہ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ لاَ یُؤَاخِذُکُمْ اللہ بِاللَّغْوِ فِیْ أَیْمَانِکُمْ وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ وَاللہ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَائِہِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْہُرٍ فَإِنْ فَائُوْا فَإِنَّ اللہ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ ۔ اور اللہ کو اپنی ان قسموں کا نشانہ مت بناؤ جن سے نیکی کرنے تقویٰ اختیارکرنے او رلوگوں میں صلح و آشتی سے باز رہنا مقصود ہو اور اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے ۔ اللہ ان قسموں پر تمہاری گرفت نہیں کرتا جو تم بے توجہی سے کھاتے ہوہاں جو قسمیں سچے دل سے کھاتے ہو ان کا مواخذہ ہو گا اورا للہ خوب در گذ ر کرنے والابردبار ہے جولوگ اپنی عورتوں سے الگ رہنے کی قسم کھاتے ہیں ان کے لیے چار ما ہ کی مدت ہے اور اوراگر(اس دوران) رجوع کریں تو اللہ یقینا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔( سورہ بقرہ ۲۲۴۔۲۲۵۔۲۲۶) ایسے شخص کو چار ماہ کی مدت دی جائے گی قسم توڑلے اور تعلق قائم کرلے یا طلاق دے ڈالے ،تعلق روابط پیدا کرنے کی صورت میں کفارہ لازم ہے ۔جو کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلا نا یا دس مسکینوں کو لباس دینا ہے ۔

ظہار
شوہر بیوی سے کہے انت علیّ کظہر امی تم میری ماں جیسی ہو یااس طرح کا کوئی لفظ جس میں بیوی کو ماں جیسا قرار دے زمانہ جاہلیت میں یہ طلاق تھی اسلام نے اس کا کفارہ معین کیا ہے ۔ ارشادِ رب العزت ہے: قَدْ سَمِعَ اللہ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْ إِلَی اللہ وَاللہ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا إِنَّ اللہ سَمِیْعٌ م بَصِیْرٌ الَّذِیْنَ یُظَاہِرُوْنَ مِنْکُمْ مِّنْ نِّسَائِہِمْ مَّا ہُنَّ أُمَّہَاتِہِمْ إِنْ أُمَّہَاتُہُمْ إِلاَّ اللاَّئِیْ وَلَدْنَہُمْ وَإِنَّہُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنْ الْقَوْلِ وَزُوْرًا وَإِنَّ اللہ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ وَالَّذِیْنَ یُظَاہِرُوْنَ مِنْ نِّسَائِہِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ أَنْ یَّتَمَاسَّا ذٰلِکُمْ تُوْعَظُونَ بِہ وَاللہ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا ذٰلِکَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللہ وَرَسُوْلِہِ وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللہ وَلِلْکَافِرِیْنَ عَذَابٌ أَلِیْمٌ "اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار اوراللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی اوراللہ آپ دونوں میں گفتگو سن رہا تھا اللہ یقینا بڑا سننے والا دیکھنے والاہے ۔ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں (انہیں ماں کہہ دیتے ہیں )وہ ان کی مائیں نہیں انکی مائیں تو صرف وہی ہے جنہوں نے انہیں جناہے ۔ اور بلا شبہ یہ لوگ نا پسندیدہ باتیں کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں اورا للہ یقینا بڑا در گذر کرنے والا مغفرت کرنے والاہے ۔ اور جولوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں پھر اپنے قول سے ہٹ جائیں تو انہیں باہمی مقاربت سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا چاہیے اس طرح تمہیں نصیحت کی جاتی ہے جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب باخبرہے ۔پس جسے غلام نہ ملے وہ باہمی مقاربت سے پہلے متواتر دو ماہ کے روزے رکھے اور جو ایسا بھی نہ کر سکے وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا ئے یہ اس لیے ہے کہ تم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان رکھویہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں اور کفار کیلئے درد ناک عذاب ہے۔"( سورہ مجادلہ۱۔۴)

ولادت و رضاعت
بعد از شادی جو بچہ متولد ہووہ انہی ماں باپ کا ہو گا خدانخواستہ زناکاشائبہ ہو تب بھی بچہ باپ کا ہی سمجھاجائے گا ۔ان امھاتھم الّا لایٴ ولدنھمان کی مائیں وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنا ہے اور باپ وہی ہے جو شوہر ہے الولد للفراش ولد ماھر الحجر بچہ شوہر کاہوتا ہے زانی کے لئے پتھراوٴ کی سزا ہے ۔ استقرار نطفہ کے بعد سقط کرانا ناجائز او ر حرام ہے۔سقط کرانا قتل سمجھا جائے گا۔ ارشاد رب العزت ہے: وَلَا تَقْتُلُوْا أَوْلَادَکُمْ خَشْیَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُہُمْ وَإِیَّاکُمْ إِنَّ قَتْلَہُمْ کَانَ خِطْئًا کَبِیْرًا "او رتم اپنی اولاد کو تنگ دستی کے خوف سے قتل نہ کرو ہم انہیں رزق دیں گے او رتم کو بھی ان کا قتل یقینا بہت بڑا گناہ ہے ۔" ( سورہ بنی اسرائیل: ۳۱) عورت بیما رہو معاملہ دائر ہو بچہ بچ جائے یا بچے کی ماں سقط نہ کرانے کی صورت میں ماں کی زندگی کو خطرہ ہے توسقط میں حرج نہیں ارشاد رب العزت ہے لَاتُضَارَّ وَالِدَةٌ م بِوَلَدِہَا وَلَامَوْلُوْدٌ لَّہ بِوَلَدِہ ۔ ماں کو بچہ کی وجہ سے تکلیف میں نہ ڈالا جائے او ر نہ باپ کو اس بچہ کی وجہ سے ضرر پہنچایا جائے ( سورہ بقرہ :۲۳۳) خرچ اخراجات کے معاملہ میں بھی او رزندگی کے معاملہ میں بھی ۔شادی کے چھ ماہ بعد بچہ پیدا ہو توباپ ہی کا ہو گا کسی او ر کا نہیں ! ارشادِ رب العزت ہے : وَوَصَّیْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ إِحْسَانًا حَمَلَتْہُ أُمُّہ کُرْہًا وَّوَضَعَتْہُ کُرْہًا وَحَمْلُہ وَفِصَالُہ ثَلاَثُوْنَ شَہْرًا ۔ "ہم نے انسان کو اپنے ما ں باپ پر احسان کرنے کا حکم دیا اسکی ما ں نے تکلیف سہ کراسے پیٹ میں اٹھائے رکھا او رتکلیف اٹھا کر اسے جنا اور اسکے حمل او ردودھ چھڑانے میں تیس ماہ لگ جاتے ہیں دودھ پلانا دوسال حمل چھ ماہ ہو جائیں گے۔ ۳۰ ماہ رضاعت دودھ پلائے۔"( سورہ احقاف : ۱۵) بچہ کا حق ہے کہ اسے دو سال دودھ پلایا جائے ۔ ارشاد رب العزت ہے : وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلَادَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَی الْمَوْلُوْدِ لَہ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ لاَتُکَلَّفُ نَفْسٌ إِلاَّ وُسْعَہَا لَاتُضَارَّ وَالِدَةٌم بِوَلَدِہَا وَلَامَوْلُودٌ لَہ بِوَلَدِہ وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْہُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَاجُنَاحَ عَلَیْہِمَا وَإِنْ أَرَدْتُّمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوْا أَوْلَادَکُمْ فَلَاجُنَاحَ عَلَیْکُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَّا آتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَاتَّقُوا اللہ وَاعْلَمُوْا أَنَّ اللہ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ۔ "او رمائیں اپنے بچوں کو پو رے دوسال دودھ پلائیں ( یہ حکم )ان لوگوں کے لئے ہے جو پوری مدت دودھ پلوانا چاہتے ہیں او ر بچے والے کے ذمے دودھ پلانے والی ماؤں کی روٹی کپڑا معمول کے مطابق ہو گا کسی پر اسکی گنجائش سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے نہ ماں کو بچہ کی وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے او رنہ باپ کو اس بچہ کی وجہ سے کوئی ضرر پہنچایا جائے اور اس طرح کی ذمہ داری وارث پر بھی ہے ۔ پھر اگر طرفین باہمی رضا مندی او رمشورے سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہتے ہیں تو کوئی مضائقہ نہیں ۔" نیز "اگر تم اپنی اولاد کو ( کسی اور سے ) دودھ پلوانا چاہوتوتم پر کوئی مضائقہ نہیں بشرطیکہ تم عورتوں کو معمول کے مطابق طے شدہ معاوضہ ادا کرو او راللہ کا خوف کرواو رجان لو کہ تمہارے اعمال پر اللہ کی خوب نظر ہے ۔ "( سورہ بقرہ :۲۳۳) کسی عورت سے دودھ پلوایا جائے تووہ رضا عی ماں کہلوائے گی ۔ ارشادِ رب العزت ہے: وَأُمَّہَاتُکُمُ اللاَّ تِیْ أَرْضَعْنَکُمْ وَأَخْوَاتُکُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ ۔ او روہ مائیں جو تمہیں دودھ پلوا چکی ہیں اور تمہاری دودھ شریک بہنیں۔ ( سورہ نساء :۲۳) رضاعی ماں ، ماں ہے اور رضاعت کا سلسلہ خاندان میں جاری رہے گا۔ دودھ پلانے کے لیے اجرت بھی دینی چاہیے ارشاد رب العزت ہے : فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَکُمْ فَآتُوْہُنَّ أُجُوْرَہُنَّ ۔ اگر وہ تمہارے کہنے پردودھ پلائیں تو انہیں اس کی اجرت دے دیا کرو۔ (سورہ طلاق : ۶) خواہ چپقلش کے بعد ما ں دودھ پلا رہی ہو او راجرت کی طلبگا رہو یا او رکو ئی عورت دودھ پلا نے والی ہو ۔ماں کی طرح دودھ پلانے والی بھی (رضاعی ) ماں کہلائے گی۔

لعان
میاں بیوی کے درمیان ایک خاص مباہلہ کو لعان کہتے ہیں جس کا اثر یہ ہے کہ شرعی حد سے بچاؤ ہوجاتا ہے او ربچے کی نفی ہوجاتی ہے ۔ مرد اپنی بیوی کو کسی غیر مرد کے ساتھ مقاربت کرتے دیکھتاہے اور کہتا ہے عورت نے بد کاری کی ہے گواہ پیش نہیں کرتا عورت انکاری ہے نیز مرد یہ کہتا ہے بچہ میرا نہیں عورت مدعی ہے کہ بچہ اسکا ہے اللہ نے اسکا حل لعان کی صورت میں پیش کیا ۔ مرد اپنا بیان چار دفعہ دہرائے چار دفعہ گواہی دے پانچویں دفعہ جھوٹے ہونے میں اپنے اوپر اللہ کی لعنت کا تذکرہ کرے یہی کام عورت کرے ۔ حد جاری نہیں ہو گی او ربچہ کی بھی نفی ہو جائے گی ۔ ارشاد رب العزت ہے : وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ أَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُمْ شُہَدَاءُ إِلاَّ أَنفُسُہُمْ فَشَہَادَةُ أَحَدِہِمْ أَرْبَعُ شَہَادَاتٍم بِاللہ إِنَّہ لَمِنَ الصَّادِقِیْنَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللہ عَلَیْہِ إِنْ کَانَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ وَیَدْرَأُ عَنْہَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْہَدَ أَرْبَعَ شَہَادَاتٍم بِاللہ إِنَّہ لَمِنَ الْکَاذِبِیْنَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللہ عَلَیْہَا إِنْ کَانَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ وَلَوْلَافَضْلُ اللہ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہ وَأَنَّ اللہ تَوَّابٌ حَکِیْمٌ ۔ "او رجو لوگ اپنی بیو یو ں پرزنا کی تہمت لگا ئیں او ر انکے پا س خود ان کے سوا کو ئی گواہ نہ ہو تو انمیں سے ایک شخص یہ شہادت دے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ سچا ہے او رپانچویں بار کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو او رعورت سے سزا اس صور ت میں ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ یہ شخص جھوٹا ہے او رپانچویں مرتبہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ سچا ہے او راگرتم پراللہ کا فضل ا ور اسکی رحمت نہ ہوتی( توتمہیں اس کی خلاصی نہ ملتی )او ر یہ کہ اللہ بڑا توبہ کو قبول کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ "( سورہ نور : ۶ تا ۹) صیغہ طلاق کے بغیر عورت مرد کا باہمی رابطہ ختم او ربچہ کی مرد سے نفی ہو جائے گی دونوں سے حد ٹل جائے گی یعنی مرد سے حد قذف (تہمت ) ۸۰ کوڑے او رعورت سے حد زنا ۱۰۰ کوڑے ٹل جائیں گے ۔

طلاق
طلاق امر شرعی ہے لیکن اللہ وصل کو پسند کرتا ہے فصل کو نہیں ملاپ کو پسندکرتاہے انقطاع کو نہیں مل جل کر رہنے اتحاد و اتفاق کے ساتھ زندگی گزارنے کو پسندیدہ قرار دیا ہے ۔ جدائی، تفریق بچوں کی پریشانی خاندان میں باہمی عداوت کا موجب طلاق بارگاہ خداوندی میں نا پسندیدہ ہے لیکن اگر کو ئی صور ت وصل کی نہیں تو پھر حکم ہے کہ اچھے انداز سے اچھے طریقے سے لڑائی جھگڑا کئے بغیر جدا ہو جانا چاہیے جدا ہونے کا نام طلاق ۔ طلاق مقاربت سے پہلے۔ ارشاد رب العزت ہے: لاَجُنَاحَ عَلَیْکُمُ إِنْ طَلَّقْتُمْ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْہُنَّ أَوْ تَفْرِضُوْا لَہُنَّ فَرِیْضَةً وَّمَتِّعُوْہُنَّ عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہ مَتَاعًام بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ وَإِنْ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلاَّ أَنْ یَعْفُوْنَ أَوْ یَعْفُوَ الَّذِیْ بِیَدِہ عُقْدَةُ النِّکَاحِ وَأَنْ تَعْفُوْا أَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَلَاتَنْسَوْا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ إِنَّ اللہ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ۔ "اس میں کو ئی مضائقہ نہیں کہ تم عورتو ں کو ہاتھ لگانے او ر مہر معین کرنے سے پہلے طلاق دے دواس صورت میں انہیں کچھ دے کررخصت کرو مالدار اپنی وسعت کے مطابق او رغریب آدمی اپنی حیثیت کے پیش نظردستور کے مطابق دے یہ نیکی کرنے والوں پر حق ہے ۔ او راگر تم عورتوں کو ہاتھ لگانے سے قبل اور ان کے لیے مہر معین کر چکنے کے بعد طلاق دے دو تو اس صورت میں تمہیں اپنے مقرر کردہ مہر کا نصف اد ا کرنا ہو گا مگر یہ کہ وہ اپنا حق چھوڑ دیں یا جس کے ہاتھ میں عقد کی گرہ ہے وہ حق چھوڑ دے اور تمہارا اس مال چھوڑ دینا تقویٰ کے زیادہ نزدیک ہے اور تم آپس کی فضیلت کو نہ بھولو یقینا تمہارے اعمال پر اللہ کی خوب نگا ہ ہے ۔ "( سورہ بقرہ : ۲۳۶۔۲۳۷) عورت غیر مدخولہ ( یعنی مقاربت نہ کی گئی ) کو طلاق دینے کی صورت میں نصف حق مہر دینا ہو گا ۔ طلاق مقاربت کے بعد ارشاد رب العزت ہے: وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَأَمْسِکُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ أَوْ سَرِّحُوہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَلَا تُمْسِکُوْہُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہ وَلَاتَتَّخِذُوْا آیَاتِ اللہ ہُزُوًا وَّاذْکُرُوا نِعْمَةَ اللہ عَلَیْکُمْ وَمَا أَنزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنُ الْکِتَابِ وَالْحِکْمَةِ یَعِظُکُمْ بِہ وَاتَّقُوا اللہ وَاعْلَمُوْا أَنَّ اللہ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ۔ "او رجب تم اپنی عورتوں کو طلا ق دے دواو روہ عدت کے آخری دنوں میں پہنچ جائیں تو انہیں یا تو شائستہ طریقے سے اپنے نکاح میں رکھو ( رجوع کرلو ) یا شائستہ طور پر رخصت کردو او رصرف ستانے کی خاطر۔ زیادتی کرنے کے لیے۔ انہیں روکے نہ رکھو او رجوایسا کرے گا وہ اپنے اوپر ظلم کرے گا او رتم اللہ کی آیا ت کا مذاق نہ اڑاؤاو راللہ نے جونعمت تمہیں عطا کی ہے اسے یادرکھو او ر( یہ بھی یاد رکھو )کہ تمہاری نصیحت کے لیے اس نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے ۔ او راللہ سے ڈرو او ریہ جان لو کہ اللہ کو ہر چیز کا علم ہے ۔"( سورہ بقرہ : ۲۳۱) طلا ق دینے والے کیلئے ضروری ہے کہ وہ بالغ عاقل بااختیار ہو اپنی مرضی سے طلاق دے مجبورشدہ شخص سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ عورت ایام حیض میں نہ ہو دو عادل گواہ طلاق کے وقت موجود ہو ں عادل جن کے گنا ہ وبرابی کا کسی کوعلم نہ ہو اور عمومی شہرت اچھی ہو پھر صیغہ طلاق پڑھا جائے ان شرائط میں سے کوئی ایک مفقود ہو جائے تو طلاق واقع نہیں ہو گی ۔

تین طلاقیں
ایک ہی نشست میں ایک ہی طلاق ہوتی ہے خواہ صیغہ جس قدر تعداد میں پڑھا جائے جیسے نکاح کے صیغے بار بارپڑھنے سے نکاح ایک ہی ہوتاہے ۔ ارشاد رب العزت ہے: اَلطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإمْسَاکٌم بِمَعْرُوْفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَایَحِلُّ لَکُمْ أَنْ تَأْخُذُوْا مِمَّا آتَیْتُمُوْہُنَّ شَیْئًا إِلاَّ أَنْ یَخَافَا أَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللہ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللہ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہ تِلْکَ حُدُوْدُ اللہ فَلَا تَعْتَدُوْہَا وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُوْدَ اللہ فَأُوْلٰئِکَ ہُمْ الظَّالِمُوْنَ ۔ "طلاق دو بار ہے یا تو پھر شائستہ طور پر عورتوں کو اپنی زوجیت میں رکھ لیا جائے یا اچھے پیرائے میں انہیں رخصت کر دیا جائے اور یہ جائز نہیں کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ لے لو مگر یہ کہ زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود قائم نہیں رکھ سکیں گے پس اگر تمہیں خوف ہو کہ زوجین اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو (اس مال میں) کوئی مضائقہ نہیں جو عورت بطور معاوضہ دے (کر خلع کرائے)یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں سو ان سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدودالٰہی سے تجاوز کرتے ہیں پس وہی ظالم ہیں ۔"( سورہ بقرہ :۲۲۹) جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتاہے تین ماہ گذر گئے عورت جداہو گئی اب وہ پھر نکاح کر سکتاہے (یہ ہے ایک طلاق) اختلاف ہو اطلاق کی نوبت آگئی طلاق دیدی ۔تین ماہ گذر گئے اب پھر نکاح کر سکتاہے (یہ ہیں دو طلاقیں )اب اگر پھر ضرورت محسوس ہوئی کہ طلاق دے اور طلاق کے بعد تین ماہ گذر گئے اب اس کو پھر نکاح کرنے کا حق نہیں ہے مگر حلالہ کے بعد ۔ ارشاد رب العزت ہے : فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہ مِنْ م بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَّتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللہ وَتِلْکَ حُدُودُ اللہ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۔ "اگر( تیسری بار) طلاق ہوگئی تو یہ عورت اس مرد کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہوگی جب تک کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے ہاں پھر اگر دوسرا شوہر اسے طلاق دے( اپنی مرضی اور اختیار سے) اور وہ عورت و مرد دونوں ایک دوسرے کی طرف رجوع کریں تو کوئی حرج نہیں بشرطیکہ انہیں امید ہو کہ وہ حدود الہی کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ ہیں اللہ کی مقررکردہ حدود جنہیں اللہ دانشمندوں کے لیے بیان کرتا ہے۔"(سورہ بقرہ :۲۳۰) مفتی اعظم شیخ محمود شلتوت رئیس جامعہ ازہر نے بھی اسی مسلک کو قبو ل کیاہے ۔ فرمایامیں ہے ایک عرصہ مشرق کے کالج میں مذاہب کی تحقیق میں لگا رہا اور انکے درمیان موازنہ و مقابلہ میں مصروف رہاکئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ میں کئی مسائل میں مختلف مذاہب کے آرا ء و نظریا ت کی طرف رجوع کرتا بہت سے مقامات پر میں نے شیعہ مذہب کے استدلالات کو محکم اور استوار دیکھا تو ان کے سامنے جھکا او ر میں نے ان میں اے اہل اسلام غور و فکر کرو کہ شیعہ نظریہ کو انتخاب کر لیا ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے ڈالی جاتی ہیں۔ جیسا کہ آجکل جہلا کا عام طریقہ ہے تو یہ شریعت کی رو سے سخت گنا ہ ہے۔ مولانا مودودی تعلیم اتورن ملت مسلمہ فکر کرو عورت مرد کے ما بین اختلاف ہو ہی جاتا ہے غصہ میں آکر زبانی یا تحریر ی طور پر طلاق طلاق طلاق کہہ دینے سے وہ مکمل جدا۔ پھر حلالہ ۔یعنی کسی اور سے شادی اور جماع ۔لاحول و لاقوة الا باللّٰہ تو کوئی کسی کو پکڑ لیتاہے ڈرا دھمکا کر طلاق لے لیتا ہے تو عورت جدا ۔اور پھر حلالہ۔ یہ قول خلاف عقل ہے ۔ خلاف فرمان رسول ہے ۔ خدا ہمیں ان مفاسد سے بچا ئے طلاق ۔وقت گزرنے کے بعد نکاح طلاق اول طلاق ۔وقت گزرنے کے بعد نکاح طلاق دوم طلاق ۔وقت گرنے کے بعد نکاح طلاق سوم اب پھر اجازت نہیں۔اب کہ حلالہ ہو گا لیکن کیا کبھی اس کی نوبت آسکتی ہے ہم نے تو تاریخ میں اس طرح کا واقعہ نہ پڑھا نہ دیکھا لہٰذا اس قول سے انسان حلالہ سے مستقلًا چھٹکارا پا لیتا ہے بلکہ اللہ کی طرف سے بہت بڑی دھمکی ہے کہ اگر سلسلہ طلاق کا اس طرح جا رہا اور تیسری دفعہ پھر طلاق دی تو پھر تیری بیوی کو کسی اور مرد سے مجامعت کرنا ہوگی تب توشادی کر سکے گا ۔ کیایہ تیری غیرت کو قبول ہے؟ انسان کہے گا ہر گز نہیں! لہٰذا طلاق کا اس طرح کا سلسلہ ہی نہیں ہو گا ۔

عدّت
عدت طلاق : بعد از نکاح ۔مقاربت سے پہلے اگر طلاق دی جائے توعدت نہیں ہوگی۔ ارشاد رب العزت ہے: یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِذَا نَکَحْتُمْ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوْہُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْہِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَہَا فَمَتِّعُوْہُنَّ وَسَرِّحُوْہُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا ۔ "اے مومنو! جب تم مومنات سے نکاح کرو اور پھر ہاتھ لگانے سے پہلے انہیں طلاق دے دو تو تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ انہیں عدت میں بٹھاؤ لہذا انہیں کچھ مال دو اورشائستہ انداز میں انہیں رخصت کرو ۔" عدت در حقیقت نسل انسانی کی محافظت ہے ۔ کہ اگرحمل ہے تو تین ماہ میں واضح ہو جائے گا نیز عورت مرد جنہوں نے کئی سال باہمی انس و محبت کے ساتھ گذارے ہیں انہیں پھر موقع مہیا کرنا ہے کہ تین ماہ میں جب چاہیں مل بیٹھیں اور پھر اکٹھا رہنے کا فیصلہ کریں کیونکہ طلاق جائز ہونے کے باجود ایسا جائز امرہے کہ جس سے عرش الٰہی کانپ جاتا ہے ۔ ارشاد رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )ہے تزوجو ا ولا تطلقوا فان الطلاق یھتزمنہ العرش ( وسائل الشیعہ باب طلاق ص ۲۶۸) نکاح کرو ۔ طلاق نہ دینا کہ طلاق دینے سے عرش الٰہی کانپ اٹھتا ہے۔ پھر طلاق ساری زندگی موجب پریشانی رہے گی ۔ کیوں ؟ ۱: میاں بیوی کا اس قدرباہمی وقت گزارنا یا دسے محونہیں ہو گا گزرے ہوئے لمحات ذہن میں گردش کرتے رہیں گے۔ ۲: عورت کے لئے بعض اوقات دوسری شادی کرنا مشکل بعض اوقات آئیڈیل نہیں ملتا یہی حال مرد کا ہوگا۔ پھر خاندانی معاملات میں طلاق زہر والاکا م کرتی ہے صرف یہ دونوں نہیں پورا خاندان یا دونوں خاندان پریشانی میں مبتلا ر ہیں گے ۳: سب سے بڑی مشکل یہ کہ بچے کہاں جائیں گے باپ کے پاس یا ماں کے پاس اگرچہ اللہ نے معین کر دیا ہے پہلے ماں کے پاس پھر ۳ سال کا لڑکا ۷ سال کی لڑکی باپ کی حفاظت میں رہیں گے ظاہرہے جس کے پاس ہوں گے ماں یا باپ میں سے دوسرے کی کمی ستاتی رہے گی لہٰذا اپنے لیے نہیں تو کم از کم اولاد کی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر طرف سے طعن و تشیع کے تیر چلیں گے یہ بے چارے دبے سمے ہی رہیں گے۔ طلاق سے اجتناب کرنا چاہیے اللہ وصل چاہتاہے فصل نہیں۔

طلاق کی شرائط
عورت ماہانہ عادت میں نہ ہو انہی دنوں شوہر سے اختلاط نہ ہوہوا دو گواہ عادل۔ جن کا کوئی عیب نظر میں نہ ہوان کی موجودگی لازمی ہے باقاعدہ صیغہ جاری کیا جائے ۔ پھر بعد طلاق عدت کے ایام کا حساب مرد نے رکھنا ہے تاکہ طلاق کا احساس رہے ہو سکتا ہے پلٹ آئے۔ رجوع کرے یا عورت اسی گھر میں رہنا چاہے۔ عورت کے ا خراجات ادا کرنے ہوں گے اپنی حیثیت کے مطابق عام عدت ۳ ماہ۔ حاملہ کی عدت وضع حمل ارشاد رب العزت ہے: یَاأَیُّہَا النَّبِیُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوْہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللہ رَبَّکُمْ لَاتُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ م بُیُوْتِہِنَّ وَلَایَخْرُجْنَ إِلاَّ أَنْ یَّأْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللہ وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللہ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہ لَاتَدْرِیْ لَعَلَّ اللہ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ أَمْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَأَمْسِکُوْہُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّأَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ مِّنْکُمْ وَأَقِیْمُوْا الشَّہَادَةَ لِلّٰہِ ذٰلِکُمْ یُوعَظُ بِہ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللہ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ۔ "اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دے دیا کرو اور عدت کا شمار رکھو اور اپنے رب سے ڈرو تم انہیں (عدت کے دنوں)ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ عورتیں خود نکل جائیں مگر یہ کہ وہ کسی نمایاں برائی کا ارتکاب کریں اوریہ اللہ کی حدود ہیں اور جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا تواپنے نفس پر ظلم کیا تجھے کیامعلوم اس کے بعد اللہ کوئی صورت پیدا کرے پھر جب عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کو آئیں تو انہیں اچھی طرح سے اپنے عقد میں رکھو یا انہیں اچھے طریقے سے علیحدہ کردو اور اپنوں میں سے دو صاحبان عدل کو گواہ بناوٴ اور اللہ کی خاطر درست گواہی دو یہ وہ باتیں ہیں جن کی تمہیں نصیحت کیجاتی ہے ہر اس شخص کیلئے جو اللہ اورروز آخرت پر ایمان رکھتاہو۔" ارشاد رب العزت ہے: وَاللاَّ ئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِسَائِکُمْ إِنْ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلاَ ثَةُ أَشْہُرٍ وَّاللاَّ ئِیْ لَمْ یَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یَجْعَلْ لَّہ مِنْ أَمْرِہ یُسْرًا ۔ "تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے ناامید ہو گئی ہوں ان کے بارے میں اگر تمہیں شک ہو جائے (کہ خون کا بند ہونا سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے یا کسی اور عارضہ کی وجہ سے ہے) تو ان کی عدت تین ماہ ہوگی اور یہی حکم ان عورتوں کے لیے ہے جنہیں حیض نہ آیا ہو اورحاملہ عورتوں کی عدت ان کا وضع حمل ہے اور جو اللہ سے تو ڈرتاہے وہ اس کے معاملے میں آسانی پید ا کردیتا ہے۔" ارشاد رب العزت ہے: ذٰلِکَ أَمْرُ اللہ أَنزَلَہ إِلَیْکُمْ وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّئَاتِہ وَیُعْظِمْ لَہ أَجْرًا أَسْکِنُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِکُمْ وَلَاتُضَارُّوْہُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْہِنَّ وَإِنْ کُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَکُمْ فَآتُوْہُنَّ أُجُوْرَہُنَّ وَأْتَمِرُوْا بَیْنَکُمْ بِمَعْرُوْفٍ وَإِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَہ أُخْرٰی لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِہ وَمَنْ قُدِرَ عَلَیْہِ رِزْقُہُ فَلْیُنفِقْ مِمَّا آتَاہُ اللہ لاَیُکَلِّفُ اللہ نَفْسًا إِلاَّ مَا آتَاہَا سَیَجْعَلُ اللہ بَعْدَ عُسْرٍ یُسْرًا ۔ "یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے اور جوا للہ سے ڈرے گا اللہ اسکی برائیاں دور کردے گا اور ا س کے لیے اجر کو بڑھا دے گا ان عورتوں کو( زمانہ عدت میں)بقدر امکان وہاں سکونت دو جہاں تم خو د رہتے ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے تکلیف نہ پہنچاؤ اگر وہ حاملہ ہوں تو انکو زمانہ وضع حمل تک خرچہ دو پھر اگر وہ تمہارے کہنے پر دودھ پلائیں تو انہیں (اس کی) اجر ت دو اور احسن طریقہ سے باہم مشورہ کر لیا کرو (اور اجرت طے کرنے میں) اگر تمہیں آپس میں دشواری پیش آئے تو ماں کی جگہ اور کوئی عورت دودھ پلائے گی وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچہ کرے اور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو اسے چاہیے کہ جتنا اللہ نے اسے د ے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرے اللہ نے جس کوجتنا دیا ہے اس سے زیادہ مکلف نہیں بناتا جنت تنگدستی کے بعد عنقریب اللہ آسانی پیدا کرے گا ۔ "( سورہ طلاق: ۵،۷) ارشاد رب العزت ہے: وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِہِنَّ ثَلَا ثَةَ قُرُوْءٍ وَلَایَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللہ فِیْ أَرْحَامِہِنَّ إِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللہ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَبُعُوْلَتُہُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیْ ذٰلِکَ إِنْ أَرَادُوْا إِصْلَاحًا وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَةٌ وَاللہ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ۔ "اور طلاق یافتہ عورتیں (تین مرتبہ ماہواری سے پاک ہونے تک )انتظار کریں اور اگر وہ اللہ اور روز آخرت پر یقین رکھتی ہیں تو ان کے لیے جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو کچھ رکھا ہے اسے چھپائیں ان کے شوہر اصلاح و سازگاری کے خواہاں ہیں تو عدت کے دنوں میں انہیں اپنی زوجیت میں واپس لینے کے پورے حق دار ہیں اور عورتوں کو بھی دستور کے مطابق ویسے ہی حقوق حاصل ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں البتہ مردوں کو عورتوں پر برتری حاصل ہے اورا للہ بڑا غالب آنے والا حکمت والا ہے "۔( سورہ بقرہ: ۲۲۸) گویا بعد از طلاق عدت کے ایام میں مرد کو رجوع کا حق حاصل ہے لیکن رجوع سے مقصد اصلاح ہو باہمی اکٹھا رہنا ہو یہ خیال رہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق ہیں ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے ۔

عدت وفات
جیسے طلاق کے بعد عدت کی ضرورت ہے اسی طرح اگر شوہر فوت ہو جائے تو بھی اسلام نے عدت کا حکم دیا ہے ارشاد رب العزت ہے: وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِہِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْہُرٍ وَّعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلَاجُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِی أَنفُسِہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَاللہ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ۔ "اور تم میں جو وفات پاجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں چار ماہ دس دن اپنے آپ کو انتظار میں رکھیں پھر جب ان کی عدت پوری ہو جائے تو شریعت کے مطابق اپنے بارے میں جو فیصلہ کریں اسکا تم پر کوئی گناہ نہیں اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے "۔ ( سورہ بقرہ : ۱۳۴) ارشادِ رب العزت ہے: وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ أَزْوَاجًا وَّصِیَّةً لِّأَزْوَاجِہِمْ مَّتَاعًا إِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَاجُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْ أَنفُسِہِنَّ مِنْ مَّعْرُوفٍ وَاللہ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ۔ اور تم میں سے جو وفات پاجائیں انہیں چاہیے کہ بیویوں کے بارے میں وصیت کر جائیں ایک سال تک انہیں (نان و نفقہ سے) بہر ہ مند رکھا جائے اور گھر سے نہ نکا لی جائیں اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں تو دستور کے دائرہ میں رہ کر جو بھی اپنے لیے فیصلہ کرتی ہیں تمہارے لیے کوئی مضائقہ نہیں اور اللہ بڑا غالب آنے والا ،حکمت والا ہے ۔( سورہ بقرہ : ۲۴۰) عدت کے اختتام کے بعد اگرعورت شادی کرنا چاہیے تودستور کے مطابق کر سکتی ہے کوئی مرد اس سے شادی کا خواہاں ہے تو شادی کے لیے خطبہ کر سکتاہے ۔ ارشاد رب العزت ہے: وَلاَجُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَکْنَنْتُمْ فِیْ أَنفُسِکُمْ عَلِمَ اللہ أَنَّکُمْ سَتَذْکُرُوْنَہُنَّ وَلَکِنْ لَّا تُوَاعِدُوْہُنَّ سِرًّا إِلاَّ أَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا وَلَاتَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّکَاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتَابُ أَجَلَہ وَاعْلَمُوْا أَنَّ اللہ یَعْلَمُ مَا فِیْ أَنفُسِکُمْ فَاحْذَرُوْہُ وَاعْلَمُوْا أَنَّ اللہ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ ۔ "اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ تم ان عورتوں کے ساتھ نکاح کا اظہار اشارے کنائے میں کرو یا اسے تم اپنے دل میں پوشیدہ رکھو اللہ کو تو علم ہے کہ تو ان سے ذکر کرو گے مگر ان سے خفیہ قول و قرار نہ کرو ہاں اگر کوئی بات کرنا ہے تو دستور کے مطابق کرو البتہ عقد کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک عدت پور ی نہ ہو جائے اور جان رکھو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ کو سب معلوم ہے لہذا اس ے ڈرو اور جان رکھو اللہ بڑا بخشنے والا ، بردبار ہے "۔( سورہ بقرہ :۲۳۵) عدت کے دنوں میں نکاح کرنے سے( خصوصا مقاربت بھی کرلی جائے) عورت ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے اصطلاح شرع میں اسے کہتے ہیں حرام موٴبد۔ لہٰذا انتظار ضروری ہے عدت ختم ہوجائے تو نکاح کر لیا جائے ۔ جس طرح عدت کے دوران نکاح حرمت ابدی کا باعث ہے اسی طرح شوہردار عورت کے ساتھ نکاح کرنا بھی حرمت ابدی کا موجب ہوتا ہے پس یہ جانتے ہوئے کہ یہ شوہردار ہے کوئی شخض اگر اس سے نکاح کرے تو وہ عورت ہمیشہ کے لیے اس شخص پر حرام ہو جائے گی ۔

طلاق خلع
عورت شوہر کو پسند نہیں کرتی اس سے شدید نفرت کرتی ہے اس کے ساتھ رہنے کو کسی صورت قبول نہیں کرتی تو طلاق کی مانگ عورت کی طرف سے ہوگی حق مہر کی واپسی یا کسی او ر چیز کے دینے پر مرد طلاق دے گا اس طلاق میں مردکو رجوع کا حق نہیں طلاق کی باقی عام شرئط موجود ہونی چاہئیں ۔ اس طلاق کا نام خلع ہے۔ ہاں البتہ عورت نے جوکچھ دیا ہے اگر اس میں رجوع کرتی ہے اور اپنی چیزیں واپس طلب کرتی ہے تومردکواس طلاق میں بھی رجوع کاحق حاصل ہوگا۔

عورت کی گواہی
حقوق الٰہی و حقوق انسانی کے اثبات کے لیے بعض اوقات شہادت گواہی کی ضرورت ہوتی ہے کئی معاملات میں عورت کی گواہی مقبول ہے ۔ ارشاد ِرب العزت ہے: فَإِنْ لَّمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاہُمَا فَتُذَکِّرَ إِحْدَاہُمَا الْأُخْرٰی ۔ "اگر دو مرد نہ ہوں تو اپنی پسند کے مطابق ایک مرد اور دو عورتوں کوگواہ بناوٴ تاکہ اگر ان میں ایک بھول جائے تو دوسری اسے یا د دلائے "۔ حقوق انسان میں حق غیر مالی طلاق وغیرہ کے معاملات میں دو مرد گواہ ہونا چاہئیں۔ حقوق مالی،شادی کے معاملات وغیرہ میں دو مردوں کی گواہی یا ایک مرد ور دو عورتوں کی گواہی کفایت کرتی ہے۔ جو مسائل عورتوں سے مربوط ہیں مردوں کے لیے ان پر اطلاع پانامشکل ہے اس میں صرف عورتوں کی گواہی کافی ہے اسی طرح میراث اورو صیت کے مسائل میں عورتوں کی گواہی کافی ہے غرضیکہ گواہی کے سلسلہ میں اللہ نے عورت کوبہت اہمیت دی ہے ۔ ارشاد رب العزت ہے: وَلَایَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللہ فِیْ أَرْحَامِہِنَّ إِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللہ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ۔ "اگر وہ اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کے لیے جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جو کچھ خلق کیا ہے اسے چھپائیں گویا بتانا ضروری ہے اور یہی عورتون کی گواہی ہے"۔ ( سورہ بقرہ :۲۲۸)

عورت و میراث
بیٹی کی وراثت اگر مرنے والے کی اولاد صرف ایک بیٹی ہو تو نصف مال اس کاحق ہے اور دیگر عزیزوں کے نہ ہونے کی صورت میں باقی نصف بھی اسے مل جائے گا۔
ارشاد رب العزت : وَإِنْ کَانَتْ وَاحِدَةً فَلَہَا النِّصْفُ ۔ اور اگر صرف اس کی صرف ایک ہی لڑکی ہے تو نصف ترکہ اسکا حق ہے۔ ( سورہ نساء : ۱۱)

ماں
مرنے والے کی اولاد ہونے کی صورت میں ماں کا چھٹا حصہ ہے نہ ہونے کی صورت میں تیسرا حصہ ہے۔ ارشاد رب العزت ہے: وَلِأَبَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ إِنْ کَانَ لَہ وَلَدٌ فَإِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہُ وَلَدٌ وَّوَرِثَہ أَبَوَاہُ فَلِأُمِّہِ الثُّلُثُ ۔ "اور میت کی اولاد ہونے کی صورت میں والدین میں سے ہر ایک کو ترکہ کا چھٹا حصہ ملے گا اور اگر میت کی اولاد نہ ہو بلکہ صرف ماں باپ وارث ہوں تو اسکی ماں کو تیسرا حصہ ملے گا ۔"( سورہ نسا ء :۱۱)

بیوی
ارشاد رب العزت ہے : وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ إِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّکُمْ وَلَدٌ فَإِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِنْ م بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِہَا أَوْ دَیْنٍ ۔ "اگر تمہاری اولاد نہ ہوتو انہیں( بیویوں کو) تمہارے ترکے میں سے چوتھائی ملے گی اور اگر تمہاری اولاد ہو تو انہیں تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ملے گا یہ تقسیم تمہاری وصیت پر عمل کرنے اور قرض اد اکرنے کے بعد ہوگی "۔( سورہ نساء:۱۲)

بہن
ارشاد رب العزت ہے : وَإِنْ کَانَ رَجُلٌ یُّورَثُ کَلَالَۃً أَوِ امْرَأَةٌ وَّلَہ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ فَإِنْ کَانُوْا أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَہُمْ شُرَکَاءُ فِی الثُّلُثِ مِنْم بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰی بِہَا أَوْ دَیْنٍ غَیْرَ مُضَارٍّ وَصِیَّةً مِّنَ اللہ وَاللہ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌ "اور اگر کوئی مرد یا عورت بے اولاد ہو اور والدین بھی زندہ نہ ہوں اور اسکا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو بھائی اور بہن میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا ۔ اگر اس کے بہن بھائی زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی حصہ میں شریک ہوں گے ۔یہ تقسیم وصیت پر عمل کرنے اور قرض ادا کرنے بعد ہوگی بشرطیکہ ضرررساں نہ ہو ۔ یہ نصیحت اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ بڑا دانا اور بردبارہے "۔ ( سورہ نساء :۱۲) ارشاد رب العزت ہے : یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللہ یُفْتِیْکُمْ فِیْ الْکَلَا لَةِ إِنِ امْرُؤٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہ وَلَدٌ وَّلَہ أُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَکَ وَہُوَ یَرِثُہَا إِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہَا وَلَدٌ فَإِنْ کَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَہُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَکَ وَإِنْ کَانُوْا إِخْوَةً رِّجَالًا وَّنِسَاءً فَلِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَیَیْنِ یُبَیِّنُ اللہُ لَکُمْ أَنْ تَضِلُّوْا وَاللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ۔ "لوگ آپ سے کلالہ کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ان سے کہہ دیجے اللہ کلالہ کے بار ے میں تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ اگرکوئی مرد مرجائے اور اسکی اولاد نہ ہو اور ایک بہن ہو تو اسے بھائی کے ترکے سے نصف ملے گا اگر بہن مر جائے اور اسکی کوئی اولاد نہ ہو تو بھائی کو بہن کا پورا ترکہ ملے گا اگر بہنیں دو ہو ں تو دونوں کو بھائی کے ترکے سے دو تہائی ملے گااگر بہن بھائی دونوں ہوں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہو گا۔ اللہ تمہارے لیے احکام بیاں فرماتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور اللہ ہر چیز کا پورا پوراعلم رکھتاہے "۔(سورہ نساء :۱۷۶)