610
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِباً أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ أُوْلَـئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُم مِّنَ الْكِتَابِ حَتَّى إِذَا جَاءتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُواْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ قَالُواْ ضَلُّواْ عَنَّا وَشَهِدُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُواْ كَافِرِينَ .37
اس سے بڑا ظالم كون ہے جو خدا پر چھوٹا الزام لگائے يا اس كى آيات كى تكذيب كرے _ ان لوگوں كو ان كى قسمت كا لكھا ملتارہے گا يہاں تك كہ جب ہمارے نمائندے فرشتے مّدت حيات پورى كرنے كے لئے آئيں گے تو پوچھيں گے كہ وہ سب كہاں ميں جن كو تم خدا كو چھوڑكر پكارا كرتے تھے _ وہ لوگ كہيں گے كہ وہ سب تم گم ہوگئے اور اس طرح اپنے خلاف خود بھى گواہى ديں گے كہ وہ لوگ كافر تھے(37)
1_ خداوندمتعال پر افترا باندھنے والے اور آيات الہى كو جھٹلانے والے افراد ہى ظالم ترين لوگ ہيں_
فمن اظلم ممن افترى على اللہ كذبا او كذب باى تہ
2_ آيات الہى كى تكذيب كى طرح، دين الہى ميں بدعت ايجاد كرنا بھى سب سے بڑا ظلم ہے_
فمن اظلم ممن افترى على اللہ كذبا او كذب باى تہ
3_ دنيا ميں ہر انسان كا حتمى طور پر حصہ اور نصيب لكھا ہوا ہے_
اولئك ينالھم نصيبھم من الكتب
4_ تمام لوگ، حتى كہ خداوند متعال پر افترا باندھنے
611
والے اور اسكى آيات كو جھٹلانے والے بھي، اپنى موت كے آنے تك، اس دنيا ميں سے اپنا تعيين شدہ حصہ اور نصيب حاصل كريں گے_
فمن اظلم ... اولئك ينالھم نصيبھم من الكتب حتى اذا جائتھم رسلنا
''الكتاب'' مصدر اور اسم مفعول كے معنى ميں ہے_ يعنى مكتوب اور مقدر جبكہ ''من'' ابتدائے غايت كے ليے ہے يعنى مقدرات الہى ميں سے جو حصہ كافروں كا ہے وہ ان تك پہنچے گا
5_ مشركين كى جان ليتے وقت موت كے فرشتوں كا ان سے گفتگو كرنا_
قالو اين ما كنتم ... قالوا ضلوا عنا
6_ بعض فرشتے خداوندمتعال كى جانب سے بہت سى ذمہ داريوں اور فرائض كے حامل ہيں_
اذا جاء تھم رسلنا يتوفونھم
7_ خداوند متعال كى جانب سے بعض فرشتے بنى آدم كى جان لينے پر مامور ہيں_
حتى اذا جائتھم رسلنا يتوفونھم
8_ انسانوں كى روح قبض كرنے كيلئے خدا نے كئي فرشتوں كو مامور كر ركھا ہے
اذا جاء تھم رسلنا يتوفونھم
9_ موت فنا اور نابودى نہيں ہے بلكہ اپنى جان فرشتوں كے سپرد كرناہے_
اذا جائتھم رسلنا يتوفونھم
مارنے كے ليے كلمہ ''توفي'' كا استعمال كرنا ( كہ جو كامل طور پر لے لينے'' كے معنى ميں ہے) نہ كہ كلمہ ہلاكت و غيرہ سے استفادہ كرنا، اس حقيقت كو ظاہر كررہاہے كہ انسان مرنے كے ساتھ ختم نہيں ہوجانا يعنى موت اسكى فنا نہيں ہے_
10_ انسان كى تمام تر حقيقت، روح ہے_
اذا جاء تھم رسلنا يتوفونھم
قرآن نے موت كو ''كامل لے لينے'' (توفي) سے تعبير كيا ہے_ جبكہ انسان كا جسم نہيں ليا جاتا_ بنابرايں، انسان كى روح اور جان ہى اسكى تمام تر حقيقت ہے_
11_ مشركين، مشكلات سے نجات اور رہائي دلوانے ميں اپنے معبودوں كے توانا اور كارساز ہونے پر عقيدہ ركھتے تھے_
اين ما كنتم تدعون من دون اللہ
12_ موت كے وقت، اپنے جھوٹے معبودوں تك مشركين كى رسائي نہ ہونا_
قالوا اين ما كنتم تدعون من دون اللہ قالوا ضلوا عنا
13_ اپنے معبودوں كے توانا اور كارساز ہوئے پر اعتقاد ركھنے كى وجہ سے مشركين كو موت كے وقت، ملائيكہ
612
كى ملامت و سرزنش كا سامنا ہونا_
قالوا اين ما كنتم تدعون من دون اللہ
جملہ ''اين ما كنتم ...'' ميں استفہام، توبيخى ہے_
14_ مشركين موت كے وقت، اپنے معبودوں كے فضول اور بيہودہ ہونے سے آگاہ ہوجائيں گے اور ان كى عاجزى كااعتراف كريں گے_
قالوا ضلوا عنا
15_ خداوندمتعال پر افترا باندھنا اور اسكى آيات كو جھٹلانا ہى اس كے ليے شريك قرار دينا ہے_
فمن اظلم ممن افترى على اللہ كذبا ... اين ما كنتم تدعون من دون اللہ
16_بدعت گذار اور جھٹلانے والے لوگ، جھوٹے معبودوں كے اسير ہيں_
فمن اظلم ممن افترى ... اين ما كنتم تدعون من دون اللہ
17_ مشركين اور آيات الہى كو جھٹلانے والوں كى مشكلات كا آغاز موت سے ہوتاہے_
حتى اذا جاء تھم رسلنا يتوفونھم قالوا
18_ تمام بنى آدم، موت كے لمحات ميں كسى طاقتور فرياد رس كى ضرورت محسوس كرتے ہيں_
اين ما كنتم تدعون من دون اللہ
19_ موت كے وقت، فقط خداوند متعال ہى انسان كى مدد كرسكتاہے_
اين ما كنتم تدعون من دون اللہ
20_ مشركين موت كے وقت اپنے كفر اور اپنے اعتقادات (خداوند واحد و يكتا كى بجائے، جھوٹے خدا كو قبول كرنے) كے بيہودہ ہونے كى گواہى ديں گے_
و شھدوا على انفسھم انھم كانوا كفرين
21_ مشركين كے خيال ميں، شرك ہى سچا ايمان اور اعتقاد ہے اور توحيد و يكتاپرستي، حيقت كا انكار اور كفر ہے_
و شھدوا على انفسھم انھم كانوا كفرين
22_ كفر اور شرك، سب سے بڑا ظلم ہے_
فمن اظلم ممن افترى على اللہ كذبا او كذب ... انھم كانوا كفرين_
جملہ ''اين ما كنتم ...'' جو كہ مشركين كے شرك كا بيان ہے، ''فمن اظلم ...'' كے مصداق كى توضيح ہے_ لہذا شرك سب سے بڑا ظلم ہے_ اور مشركين كو اس آيت كے ذيل ميں كافر كہا گيا ہے پس كفر بھى سب سے بڑا ظلم ہے_
613
--------------------------------------------------
آيات خدا :
آيات خدا كو جھٹلانا 15; آيات خدا كو جھٹلانے كا ظلم 2; آيات خدا كو جھٹلانے والوں كا انجام 4; آيات خدا كو جھٹلانے والوں كا ظلم 1; آيات خدا كو جھٹلانے والوں كى ابتلاء 17;آيات خدا كو جھٹلانے والوں كى روزى 4; آيات خدا كے مكذبّين كى موت 17
احتضار :
احتضار كے آثار 14، 18، 20; احتضار كے وقت ضرورت 18، 19
افترا :
خداوند متعال پر افترا 15; خدا پر افترا كا ظلم 1
انسان :
انسان كا دنيوى حصہ 3، 4; انسان كى حقيقت 10; انسان كى روح 10; انسان كى ضروريات 18، 19 انسان كى مقدر شدہ روزى 3، 4
ابھارنا :
ابھارنے كے علل و اسباب 18
بدعت :
بدعت كا ظلم ہونا 2
بدعت گذار :
جھوٹے خداؤں كے عقيدے كى بدعت ايجاد كرنے والے 16
خداتعالى :
خدا سے مختص امور 19; قدرت خدا 19
خدا پر افترا باندھنے والے : 1
خدا پر افتراء باندھنے والوں كى روزى 4
شرك :
شرك كا ظلم ہونا 22
ضرورت:
امداد كرنے والے كى ضرورت18
ظالمين : 1
ظلم :
سب سے بڑا ظلم 2، 22; ظلم كے مراتب 2; ظلم كے موارد 2، 22
عزرائيل :
عزرائيل اور مشركين 13;عزرائيل كا تعدد 8; عزرائيل كى طرف سے سرزنش 13; مشركين سے عزرائيل كى گفتگو 5
عقيدہ :
شرك پر عقيدہ 15
كفر :
كفر كا ظلم 22
موت :
موت كى حقيقت 9
614
مشركين :
مشركين اور احتضاركا وقت12، 13، 14، 20; مشركين اور شرك 21; مشركين اور كفر21; مشركين اور معبود 12، 13; مشركين كا اقرار توحيد21; مشركين كا عقيدہ 11، 21; مشركين كى ابتلاء 17; مشركين كى روح كا قبض ہونا 5; مشركين كى موت 17; مشركين كے عقيدے كابيہودہ ہونا 20; مشركين
كے معبودوں كا بيہودہ ہونا14; مشركين كے معبودوں كا عجز، 14; مشركين كے معبودوں كى قدرت 11، 21; مشركين اور انكے معبود 12، 13
ملائكہ :
ملائكہ كى ذمہ دارى 6; ملائكہ كے گروہ 6، 7;موت كے ملائكہ كا متعدد ہونا 8; موت كے ملائكہ 7
614
قَالَ ادْخُلُواْ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّن الْجِنِّ وَالإِنسِ فِي النَّارِ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا حَتَّى إِذَا ادَّارَكُواْ فِيهَا جَمِيعاً قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لأُولاَهُمْ رَبَّنَا هَـؤُلاء أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَاباً ضِعْفاً مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ .38
ارشاد ہوگا كہ تم سے پہلے جو جن وانس كى مجرم جماعتيں گذر چكى ميں تم بھى انھيں كے ساتھ جہنّم ميں داخل ہو جائو _ حالت يہ ہوگى كہ ہر داخل ہونے والى جماعت دوسرى پر لعنت كرے گى اور جب سب اكٹھا ہو جائيں گے تو بعد والے پہلے والوں كے بارے ميں كہيں گے كہ پروردگار انہيں نے ہميں گمراہ كيا ہے لہذا ان كے عذاب كو دو گنا كردے _ ارشاد ہوگا كہ سب كا عذاب دوگنا ہے صرف تمہيں معلوم نہيں ہے (38)
1_ خداوندمتعال قيامت كے دن، كفار كو آگ ميں داخل ہونے اور دوزخيوں ميں شامل ہونے كاحكم دے گا_
قال ادخلوا فى امم ... فى النا ر
615
2_ جہنم كى آگ وہ مقام ہے جہاں كافر جن و انس ايك ساتھ اكٹھے ہونگے_
قال ادخلوا فى امم قد خلت من قبلكم من الجن والانس فى النار
3_ جنات پر بھى بنى آدم كى طرح، انبيائے الہى كى پيروى كرنے اور دينى فرائض انجام دينے كى ذمہ دارى ہے_
قال ادخلوا ... ... من الجن و الانس فى النار
4_ جنات بھي، بنى آدم كى طرح، آيات الہى كو جھٹلانے اور كفر و شرك اختيار كرنے كى صورت ميں، عذاب الہى كے خطرے سے دوچار ہيں_
قال ادخلوا فى امم قد خلت من قبلكم من الجن والانس فى النار
5_ ہر قوم اور امت جہنم ميں داخل ہونے كے بعد، اپنى ہم مسلك قوم پر لعنت كرتے ہوئے اس سے نفرت كرے گي_
كلما دخلت امة لعنت اختھا
6_ دنيا ميں دين مخالف دوستياں آخرت ميں دشمنى اور كينے ميں تبديل ہوجائيں گي_
كلما دخلت امة لعنت اختھا
7_ اہل دوزخ، ايك دوسرے سے جدا جدا قوموں كى صورت ميں دوزخ ميں وارد ہونگے_
كلما دخلت امة لعنت اختھا
8_ جہنم ميں دوزخيوں كا داخل ہونا، درجہ بدجہ اور گروہ گروہ كى صورت ميں ہوگا_
كلما دخلت امة لعنت اختھا
9_ بہكانے والے اور گمراہ كرنے والے رہبراپنے پيروكاروں سے پہلے دوزخ ميں داخل ہونگے_
كلما دخلت امة ... قالت اخر ھم لاولھم ربنا ھؤلاء اضلونا
''ربنا ھولاء اضلونا'' كہنے كى وجہ سے ''امت اخري'' سے مراد ''پيروكار گروہ'' ہے لہذا ''اولي'' سے مراد كفر و شرك كے رہبرہيں اور ان دو گروہ كو ''اولي'' اور ''اخرى '' سے تعبير كرنا، ہوسكتاہے، دوزخ ميں وارد ہوتے وقت ان كے تقدم و تاخر كى وجہ سے ہو_
10_ جہنم، دوزخيوں كے ايك دوسرے سے جنگ و جدال كرنے كا مقام ہے_
كلما دخلت امة ... قالت اخر ھم لاولئھم ربنا
11_ پيروكار دوزخى جہنم ميں اكٹھا ہونے كے بعد جب كفر و شرك كے رھبروں سے مليں گے تو ان كے خلاف جنگ و جدال شروع كرديں گے_
حتى اذا اداركوا فيھا جميعا قالت اخرى ھم لاولئھم ربنا ھولاء اضلونا
616
''حتى اذا اداركوا ...'' يعنى جب امتيں ايك دوسرے سے مليں گى اور باہم اكٹھى ہوں گي_ ''اداركوا'' در اصل ''تداركوا'' تھا ''تائ'' كو ساكن كرنے اور اسے ''دال'' ميں ادغام كرنے كے بعد ہمزہء وصل كو اس كے ساتھ اضافہ كرديا گيا ہے_
12_ بارگاہ خداوند ميں كفر و شرك كى پيروى كرنے والے دوزخى اپنے رھبروں كے خلاف دعوى كريں گے كہ انہى كفر و شرك كے سرداروں نے انھيں بہكايا ہے اور گمراہى كى طرف وادار كيا ہے_
قالت اخرى ھم لاولئھم ربنا ھولاء اضلونا
13_ پيروكار دوزخي، اپنے سرداروں كے بہكانے اور گمراہ كرنےكى وجہ سے خداوند متعال سے تقاضا كريں گے كہ ان (سرداروں) كا عذاب دگنا كردے_
ربنا ھولاء اضلونا فاتھم عذابا ضعفا
14_ آئندہ آنے والى نسلوں كے ليے ضلالت و گمراہى كى راہيں فراہم كرنے كى وجہ سے مشرك اور گمراہ قوميں، اپنے بعد والى نسلوں كى لعنت و نفرت كا نشانہ بنے گيں_
لعنت اختھا ... قالت اخرھم لاولئھم ربنا ھولاء اضلونا
اگر آيت(35)كے قرينے كے مطابق ''ادخلوا'' كے مخاطب،تمام ''بنى آدم'' ہوں تو ''امم قد خلت ...'' سے وہ مشرك جن و انس مراد ہونگے جو بنى آدم كى نسل سے پہلے ہوگذرے ہيں_ اور اگر ''ادخلوا'' كے مخاطب وہ انسان ہوں جو نزول قرآن كے بعد پيدا ہوئے ہيں اور آئندہ پيدا ہونگے تو ''امم'' سے بنى آدم كى نسل سے وہ كافر و مشرك قوميں مراد ہيں جو گذشتہ مشرك قوم كے بعد، ميدان زندگى ميں قدم ركھتى ہيں_ مندرجہ بالا مفہوم، دوسرے احتمال كى بنا پر اخذ كيا گيا ہے_ قابل ذكر ہے كہ اس بناپر ''امت اولى سے پہلى نسل اور ''امت اخرى سے بعد والى نسل مراد ہے_
15_ اپنے رھبروں كى طرح، پيروكار كافر اور مشرك بھى آتش دوزخ كے دگنے عذاب سے دوچار ہونگے_
قال لكل ضعف
16_ لوگوں كو كفر و شرك كى طرف دعوت دينے كا گناہ اتنا ہى ہے جتنا كفر و شرك اختيار كرنے كا ہے
ربنا ھؤلاء اضلونا فاتھم عذابا ضعفا من النار قال لكل ضعف
17_ گمراہ مكتب ہائے فكر كى پيروى اور ان كے رھبروں كى تائيد كرنے كا گناہ اتنا ہى ہے جتنا، ان مكتب ہائے كے بانيوں اور سرداروں كا ہے_
ربنا ھؤلاء اضلونا ... قال لكل ضعف
617
18_ كفر و شرك كے سردار اور انكے پيروكار، ايك دوسرے كے عذاب كے دگنا ہونے سے بے خبر ہيں_
لكل ضعف و لكن لا تعلمون
''لكل ضعف'' كے قرينے سے''لا تعلمون'' كا مفعول، ''ان لكل ضعفا'' ہے_
19_ كفر و شرك كے سردار اور انكے پيروكار اپنے عذاب كے دگنا ہونے سے بے خبر ہيں_
لكل ضعف و لكن لا تعلمون
مندرجہ بالا مفہوم اس بنا پر مبنى ہے كہ دنيائے شرك كے سردار اور رہبربھى اپنے پيروكاروں كى طرح ''لا تعلمون'' كے مخاطب ہيں_
20_ اہل دوزخ، ايك دوسرے كے عذاب كى شدت سے بے خبر ہيں_
لكل ضعف و لكن لا تعلمون
21_ اہل دوزخ، ربوبيت خداوند پر يقين كركے اسے قبول كرليں گے_
قالت ... ربنا
22_ عن ابى جعفر(ع) (فى حديث طويل) ... ''قالت اخرى ھم لاوليھم ربنا ھؤلاء اضلونا ...'' و قولہ ''كلما دخلت امة لعنت اختھا ...'' برء بعضھم من بعض و لعن بعضھم بعضا يريد بعضھم ان يحج بعضا رجاء الفلج فيفلتوا من عظيم ما نزل بھم (1)
امام محمد باقر(ع) سے منقول ہے كہ آپ(ع) نے آيت ''قالت اخرى ھم ...'' كى تلاوت كے بعد فرمايا : (اہل جہنم) ميں سے بعض، بعض دوسروں سے بيزارى كا اظہار كريں گے اور ان پر لعنت كريں گے تا كہ دوسروں پر احتجاج (دليل لانے) ميں كامياب ہوجائيں اور جس عظيم عذاب ميں گرفتار ہوچكے ہيں اس سے نجات حاصل كرسكيں_
23_ فى المجمع : ''قالت اخريھم لاوليھم ربنا ھولاء اضلونا'' ... قال الصادق(ع) : يعنى ائمة الجور (2)
اما صادق(ع) سے آيت ''ھؤلاء اضلونا'' كے بارے ميں منقول ہے كہ ''ھولائ'' سے ''ظالم حكمران'' مراد ہيں_
--------------------------------------------------
آيات خدا :
آيات خدا كى تكذيب كى سزا 4
امم :
جہنمى امتيں 5، 8
--------
1)كافي، ج/ 2 ص 31، ح/ 1 نور الثقلين ج/ 2 ص 29_ ح 108_
2) مجمع البيان ج/ 4 ص 644_ نورالثقلين ج/ 2 ص 30 ح/ 109_
618
مشرك امتوں پر لعنت 14 ; گمراہ امتوں پر لعنت14
انبيا:
انبيا كى ذمہ داريوں كى حدود 3
اہل جہنم : 1، 2، 9، 15
اہل جہنم كا اپنے رھبروں كے خلاف ادعا 12; اہل جہنم كا احتجاج 22; اہل جہنم كا باہمى نزاع 10; اہل جہنم كا تبرى 22; اہل جہنم كا تقاضا 13; اہل جہنم كا جہل 20; اہل جہنم كا عذاب 20، 22; اہل جہنم كا عقيدہ 21; اہل جہنم كى دشمني، 13; اہل جہنم كے روابط 10;اہل جہنم كے گروہ 7، 8
جنّات :
جنات كى ذمہ دارى 3;جنات كے فرائض 3، 4; كافر جنات كى سزا 2، 4; مشرك جنات كى سزا 2، 4
خدا تعالى :
خداوندمتعال كے اخروى اوامر 1; قيامت كے دن خداوند متعال كے اوامر 1
دشمنى :
اخروى دشمنى كے موجبات 6
دين :
دين كے خلاف تعاون 6; دين كے خلاف جنگ كے آثار 6
دين ساز لوگ :
دين ساز لوگوں كا گناہ 17
جہنم:
جہنم كى آگ2، 15; جہنم ميں تنازعہ 10، 11 ; جہنم ميں داخل ہونے كى كيفيت 7،8، 9; جہنم ميں شكايت 11، 12; جہنم ميں لعنت5
روايت : 22، 23
رہبرين :
بہكانے والے رھبروں كا جہنم ميں جانا 9; ظالم رھبروں كا گمراہ كرنا 23;كافر رھبروں كا بہكاوا 12; كافر رہبروں كا عذاب 15; كافر رھبروں كى جہالت 18، 19; مشرك رھبروں كا بہكانا 12; مشرك رھبروں كا جہنم جانا 9; مشرك رھبروں كاعذاب 15;مشرك رھبروں كى جہالت 18، 19; منحرف رھبروں كى حمايت 17
شرك :
شرك كى سزا 4; شرك كى طرف دعوت كا گناہ 16; گناہ شرك 16
عذاب :
دگنا عذاب 15، 18، 19; دگنے عذاب كا تقاضا 13; عذاب كے مراتب 15، 20
عقيدہ :
ربوبيت خدا پر عقيدہ 21
قيامت :
قيامت كے دن لعن 14
كفار :
619
پيروى كرنے والے كفار كا عذاب 15; پيروى كرنے والے كفار كا جہنم ميں ہونا 15; پيروى كرنے والے كفار كى جہالت 19; كفار اور قيامت كا دن 1; كفار كا انجام 2; كفار كا جہنم ميں داخل ہونا 1; كفار كا عذاب 19; كفار كى سزا 2
كفر :
كفر كا گنا ہ 16;كفر كى سزا 4; كفر كى دعوت كا گناہ 16
كينہ :
اخروى كينے كے اسباب 6
گذشتہ قوميں :
گذشتہ قوموں پر لعنت 14
گمراہى :
گمراہى پھيلانے كے آثار 14
مشركين :
پيروى كرنے والے مشركين كا عذاب 18، 19; پيروى كرنے والے مشركين كى جہالت 18; مشركين كا عذاب 15;مشركين كى سزا 2
619
وَقَالَتْ أُولاَهُمْ لأُخْرَاهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ .39
پھر پہلے والے بعد والوں سے كہيں گے كہ تمہيں ہمارے اوپر كوئي فضيلت نہيں ہے لہذا اپنے كئے كا عذاب چكھؤ (39)
1_ كفر و شرك كے سردار اور انكے پيروكار جہنم ميں داخل ہونے كے بعد ايك دوسرے سے لڑنا جھگڑنا شروع كرديں گے_
قالت اخرى ھم لاولئھم ... و قالت اولئھم لاخرھم فماكان
2_ كفر و شرك كے سردار اپنے پيروكاروں كو جواب ديتے ہوئے كہيں گے، تم بھى دگنے عذاب كا استحقاق ركھنے ميں ہمارے ساتھ ہو_
و قالت اولئھم اخرى ھم فما كان لكم علينا من فضل فذوقوا العذاب
3_ كفر و شرك كے پيروكار دگنے عذاب سے نجات حاصل كرنے ميں اپنے سرداروں پر كسى قسم كا امتياز نہيں ركھتے_
فما كان لكم علينا من فضل
4_ قيامت كے دن شرك و كفر كى پيروى كرنے والوں كو
620
معلوم ہوجائے گا كہ انكے كاندھوں پر گناہ كا بوجھ، انكے سرداروں كے بوجھ سے كم تر نہيں_
فماكان لكم علينا من فضل
جملہ ''فما كان ...'' خداوندمتعال كے اس فرمان ''لكل ضعف و لكن ...'' كے جواب كا نتيجہ ہے_ پس معلوم ہوتاہے ہر دونوں گروہ (پيروكار اور انكے سردار) اس جملے سے سمجھ جائيں گے كہ دونوں ايك جيسے گناہ ميں گرفتار ہيں_
5_ اہل دوزخ كا ايك دوسرے كے بارے ميں كينہ اور دشمني_
فاتھم عذابا ضعفا من النار ... فما كان لكم علينا من فضل
6_ كفر و شرك كے سردار، اپنے پيروكاروں كى طرف سے دوزخ كا دگنا عذاب چكھنے كى دعوت پر ان كى ملامت كريں گے_
ربنا ھؤلاء اضلونا ... فذوقوا العذاب بما كنتم تكسبون
كلمہ ''العذاب'' ميں ''ال'' عہد ذكرى ہے اور اسى دگنے عذاب كى جانب اشارہ ہے كہ جو ''لكل ضعف'' سے اخذ ہوتاہے_
7_ كفر و شرك كى پيروى كرنے والوں كا اخروى عذاب، انكے دنيوى اعمال كى سزا ہے_
فذوقوا العذاب بما كنتم تكسبون
8_ اہل دوزخ بھى آخرت كے عذاب كو انسانى عمل كا رد عمل سمجھتے ہيں_
قالت ... فذوقوا العذاب بما كنتم تكسبون
--------------------------------------------------
اہل جہنم :
اہل جہنم كا عقيدہ 8;اہل جہنم كا كينہ 5; اہل جہنم كى دشمنى 5; اہل جہنم كے روابط 5
جہنم :
جہنم ميں باہمى نزاع 1; جہنم ميں ملامت 6; عذاب جہنم 6
رہبر :
كافر رہبروں كا جہنم ميں جانا 1; كافر رہبروں كا گناہ 4; كافر رہبروں كا نزاع1; كافر رہبروں كى سرزنش 6; مشرك رہبروں كا جہنم ميں ہونا 1; مشرك رہبروں كا عذاب 2; مشرك رہبروں كا گناہ 4; مشرك رہبروں كا نزاع 1; مشرك رہبروں كو دعوت 6; مشرك رہبروںكى سرزنش 6;مشرك رہبروں كى نجات 3
عذاب :
اخروى عذاب كے موجبات 8; دگنا عذاب2، 6، 7
عمل :
عمل كى سزا 7; عمل كے آثار 8
كفار :
پيروى كرنے والے كفار كا عذاب 3; پيروى
621
كرنے والے كفار كا گناہ 4;پيروى كرنے والے كافر كا نزاع1; پيروى كرنے والے كافر كى اخروى سزا ; پيروى كرنے والے كفار كى نجات3; كفار اور قيامت 4
مشركين :
پيروى كرنے والے مشركين كا عذاب2; پيروى كرنے والے مشركين كا گناہ4; پيروى كرنے والے مشركين كا نزاع1; پيروى كرنے والے مشركين كى نجات3; مشركين كا عذاب3; مشركين كى اخروى سزا8
621
إِنَّ الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُواْ عَنْهَا لاَ تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاء وَلاَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَ .40
بيشك جن لوگوںنے ہمارى آيتوںكى تكذيب كى اور غرور سے كام ليا ان كے لئے نہ آسمان كے دروازے كھولے جائيںگے اور نہ وہ جنّت ميں داخل ہو سكيں گے جب تك اونٹ سوئي كے نا كہ كے اندر داخل نہ ہو جائے اور ہم اسى طرح مجرمين كو سزا ديا كرتے ہيں (40)
1_ جو لوگ، آيات الہى كو جھٹلاتے ہيں اور تكبر و غرور كى وجہ سے معارف الہى كو قبول نہيں كرتے وہ دنيا ميں خداوند متعال كى خصوصى رحمتوں سے محروم ہيں_
ان الذين كذبوا باى تنا و استكبروا عنھا لا تفتح لھم ابواب السمائ''
اگر جملہ ''لا تفتح ...'' اس محروميت كا بيان ہو جو كہ آيات الہى كو جھٹلانے والوں كے دامن گير ہے_ تو ان كےلے آسمان كے دروازے نہ كھلنا اس بات كى جانب اشارہ ہے كہ ان پر خداوندمتعال كى رحمت خاص نازل نہيں ہورہي_
2_ خداوندمتعال كى خصوصى رحمت كا حصول، دنيا كى (پست) زندگى سے نكل كر عالم بالا كے ساتھ وابستگى سے مربوط ہے_
لا تفتح لھم ابواب السمائ
622
اگر ''لا تفتح ...'' سے، دنيا ميں خداوندمتعال كى خصوصى رحمت سے كفار كى محروميت مراد ہو تو كلمہ ''سمائ'' اس نكتے كى جانب اشارہ ہے كہ اس رحمت خاص كا اصلى خزانہ، عالم مادہ سے بالاتر كوئي دوسرا مقام ہے_
3_ خداوندمتعال كى خصوصى رحمت سے بہرہ مند ہونے كےليے عالم بالا كى جانب راہ پانے كا (سب سے بڑا) مانع كفر اور شرك ہے_
ان الذين كذبوا باى تنا واستكبروا عنھا لا تفتح لھم ابواب السمائ
4_ خداوندمتعال كى خصوصى رحمت، مختلف انواع و اقسام كى حامل ہے_
لا تفتح لھم ابواب السمائ
اگر آسمانى دروازوں كے كھلے ہونے سے مراد خداوند متعال كى خصوصى رحمت ہو تو كلمہ ''ابواب'' كو جمع كے صيغے كے ساتھ لانا اس خصوصى رحمت كى مختلف انواع و اقسام پر دلالت كرتاہے_
5_ متكبر، مغرور اور آيات الہى كو جھٹلانے والے لوگ، بہشت ميں داخل ہونے سے محروم ہونگے_
ان الذين كذبوا باى تنا و استكبروا عنھا ... لا يدخلون الجنة
6_ آيات الہى كو جھٹلانے والے اور متكبر لوگوں كا جنت ميں داخل ہونا اتنا ہى ناممكن ہے كہ جتنا اونٹ كا سوئي كے ناكے سے گذرنا ناممكن ہے_
و لا يدخلون الجنة حتى يلج الجمل فى سم الخياط
''جمل'' كا معنى ''اونٹ'' ہے اور ''سم'' سے مراد سوئي كا نا كہ (اور سوراخ) ہے كہ جس سے دھاگہ گذارا جاتاہے_
7_ آيات كو جھٹلانے والوں اور تكبر و غرور كرنے والوں كا جنت ميں داخلہ، نظام خلقت ميں جارى سنن الہى كى مخالفت ہے_
و لا يدخلون الجنة حتى يلج الجمل فى سم الخياط
سوئي كے ناكے سے اونٹ كا گذرنا اگر چہ عقلاً محال نہيں ہے_ ليكن طبعى نظام كے خلاف ہے لہذا يہاں اس ضرب المثل كا استعمال ہوسكتاہے يہ بتانے كے ليے ہو كہ اگر چہ آيات كو جھٹلانے والوں كا جنت ميں داخل ہونا عقلا ممنوع نہيں ہے ليكن سنن الہى كى مخالفت ہے_
8_ بہشت، آسمان ميں موجود ايك حقيقت ہے_
لا تفتح لھم ابواب السماء و لا يدخلون الجنة
مندرجہ بالا مفہوم اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب ''السمائ'' جملہ ''لا تفتح ...'' ميں، زمين كے مقابلے ميں ايك حقيقت كا نام ہو_ اس صورت ميں آسمان كے دروازے نہ كھلنے سے مراد، بعد والے جملے كے قرينے سے يہى ہے كہ وہ دروازے، كفار كے بہشت ميں داخل ہونے كے
623
ليے نہيں كھولے جائيں گے_
9_ بہشت كے حامل آسمان ميں داخل ہونے كے ليے متعدد دروازے اور مختلف راستے ہونا_
لا تفتح لھم ابواب السماء و لا يدخلون الجنة
10_ آيات الہى كى تكذيب اور معارف دين كے مقابلے ميں تكبر و غرور، بہشت ميں داخل ہونے كے تمام دروازوں كے بند ہوجانے كا باعث بنتاہے
لا تفتح لھم ابواب السماء و لا يدخلون الجنة
مندرجہ بالا مفہوم ميں، جملہ ''و لا يدخلون ...'' كو، جملہ ''لا تفتح لھم ...'' كى تفسير كے طور پر اخذ كيا گياہے_
11_ مجرموں كو سزا دينے ميں سنت الہى يہ ہے كہ انھيں رحمت سے ابدى طور پر محروم ركھا جائے_
و كذلك نجزى المجرمين
12_ تكبر كى وجہ سے معارف دين كو قبول نہ كرنے والے اور آيات الہى كو جھٹلانے والے ہى گناہگار اور متجاوز (حد سے بڑھنے والے) لوگ ہيں_
و كذلك نجزى المجرمين
''جرم'' كا معنى ، گناہ اور تعدّ ى (حد سے بڑھنا) ہے_
--------------------------------------------------
آسمان :
آسمان كے دروازے 9
آفرينش :
عوالم آفرينش 20
آيات خدا :
آيات خدا كى تكذيب كے آثار 1، 10; آيات خدا كے مكذبين كا انجام 7; آيات خدا كے مكذّ بين كا گناہ 12; آيات خدا كے مكذبّين كى محروميت 1، 5، 6
بہشت :
بہشت سے محروم لوگ 5، 6; بہشت كا آسمان ميں ہونا 8، 9; بہشت كا مكان 8، 9;بہشت كے دروازوں كا متعدد ہونا 9; بہشت ميں ورود كے موانع 7، 10
تشبيہات :
سوئي كے ناكے سے اونٹ كے گذرنے كى تشبيہ 9
تكبر :
تكبّر كے آثار 1، 10، 12
خدا تعالى :
خدا كى خصوصى رحمت 2، 3، 4; رحم خدا كى اقسام 4; رحمت خدا كے اسباب 2; رحمت خدا كے موانع3; سنن خدا 7، 11
دين :
دين سے اعراض كا گناہ 12;دين سے اعراض كے
624
آثار 10
رحمت خدا :
رحمت خدا سے محروميت 1، 11
رشد :
رشد و ترقى كے موانع 3
سركشي:
سركشى كے آثار1
شرك :
شرك كے آثار 3
قرآن :
قرآنى تشبيہات 6
كفر :
كفر كے آثار 3
گناہگار افراد : 12
متجاوز (حد سے بڑھنے والے) افراد : 12
متكبرين :
متكبرين كى محروميت 1
مجرمين :
مجرمين كى سزا 11; مجرمين كى محروميت 11
مستكبرين :
مستكبرين كا انجام 7; مستكبرين كى محروميت 5، 6
624
لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ .41
انكے لئے جہنّم ہى كا فرش ہوگا اور ان كے اوپر اسى كا اوڑھنا بھى ہوگا اور ہم اسى طرح ظالموں كو ان كے اعمال كا بدلہ ديا كرتے ہيں( 41)
1_ مجرموں كو جہنم كى آگ سر سے ليكر پاؤں تك گھير لے گى _
لھم من جہنم مھاد و من فوقھم غواش
''مھاد'' كا معنى ، بچھؤنا (بستر) ہے_ اور ''غواش'' كا مطلب، اوڑھنا ہے (غواش،
غاشية كى جمع ہے) اور ''من فوقھم'' اس كےليے حال ہے يعنى ''لھم من جہنم غواش من فوقھم''_ (يعنى ان كا اوڑھنا بچھونا جہنم كى آگ ہوگي_
2_ آيات الہى كو جھٹلانے والے اور ان سے منہ پھيرنے
625
والے افراد، آتش جہنم كے بچھونے پر ہوں گے جبكہ ان كے سروں پر آتشيں تودوں كى چادر پڑى ہوگي_
لھم من جھنم مھاد و من فوقھم غواش
3_ جہنم مجرمين كيلئے ايك بند اور گھٹن زدہ ماحول كى حامل ہے_
لھم من جھنم من مھاد و من فوقھم غواش
كلمہ ''غواش'' كو جمع كے صيغے كے ساتھ لانے اور ''من فوقھم'' سے اسے مقيد كرنے سے مندرجہ بالا مفہوم اخذ ہوتاہے_
4_ ظالموں كو سزا كے طور پر دوزخ كى آگ ميں ڈالنا، سنت الہى ہے_
و كذلك نجزى الظلمين
5_ مجرمون كا شمار ظالموں ميں سے ہونا_
كذلك نجزى الظلمين
6_ جو لوگ آيات الہى كو جھوٹ سمجھتے ہيں اور تكبر كى وجہ سے ان كا انكار كرتے ہيں وہى ظالم ہيں_
ان الذين كذبوا ... كذلك نجزى الظلمين
7_ ظالموں كے ساتھ وابستگى سے بچنے اور ان كے (برے) انجام (سزا) ميں گرفتار نہ ہونے كے سلسلے ميں خداوندمتعال كا تمام انسانوں كو خبردار كرنا_
و كذلك نجزى الظلمين
8_ رسالت پيغمبر(ص) كا انكار كرنے والوں اور (آيات كے)جھٹلانے والوں كے انجام كو بيان كركے خداوندمتعال كا پيغمبر(ص) كو تسلى دينا_
و كذلك تجزى الظلمين
''ذلك'' ميں حرف ''ك'' پيغمبر(ص) سے خطاب ہے_ رسالت الہى كے منكرين كے كفر كو بيان كرنے كے بعد اس خطاب كا مقصد آپ(ص) كو تسلى دينا ہے_
9_ عن رسول اللہ(ص) : يكسى الكفار لو حين من نار فى قبرہ فذلك قولہ : ''لھم من جھنم مھاد و من فوقھم غواش'' (1)
رسول خدا(ص) سے منقول ہے كہ : قبر ميں كافر كو آگ كى دو الواح (بچھونے اور اوڑھنے) سے ڈھانپا جائے گا_ چنانچہ خداوند متعال كا فرمان ہے كہ ''كفار كے ليے دوزخ كى آگ كا بچھونا ہوگا اور ان كے اوپر سے (وہي) انكا اوڑھنا ہے_
10_ عن النبي(ص) انہ تلاھذہ الاية ثم قال : ھى طبقات من فوقہ و طبقات من تحتہ لا يدرى ما فوقہ اكثر او ماتحتہ، غير انہ ترفعہ الطبقات السفلى و تضعہ الطبقات
------
1) الدر المنثور ح/ 3 ص 457_
626
العليا و يضيق فيما بينھما (1)
رسول اكرم(ص) سے منقول ہے كہ آپ(ص) نے آيت ''لھم من جھنم ...'' كى تلاوت كرنے كے بعد فرمايا : كفار كے جہنم كے كچھ طبقات اوپر ہيں اور كچھ نيچے_ معلوم نہيں، اوپر والے طبقات زيادہ ہيں يا نيچے والے البتہ نيچے والے طبقات كافر كو اوپر لے جاتے ہيں اور اوپر والے والے طبقات، اسے نيچے لے آتے ہيں اور وہ اوپر اور نيچے كے طبقات كے درميان تنگى و سختى ميں رہتاہے_
--------------------------------------------------
آنحضرت(ص) :
آنحضرت(ص) كو جھٹلانے والے كا انجام 8; آنحضرت(ص) كو تسلى 8
آيات خدا :
آيات خدا سے اعراض كرنے كى سزا، 2;آيات خدا كے مكذبيّن 6; مكذبين آيات كى سزا 2
انسان :
انسانوں كو خبردار كيا جانا 7
تكبر :
تكبر كے آثار 6
جہنم :
آتش جہنم 1، 2، 4، 9; جہنم كا ماحول 3; صفات جہنم 3; طبقات جہنم 10
جہنمى :
اہل جہنم : 2، 4
خدا تعالى :
خداوند متعال كا خبردار كرنا 7; سنن خدا 4
روايت : 9، 10
ظالمين : 5، 6
ظالمين سے دور رہنا 7; ظالموں كى سزا 4
كفار :
كفار كا جہنم ميں ہونا 10; كفار كا عذاب قبر 9
مجرمين :
مجرمين كا جہنم ميں ہونا1، 3; مجرمين كا ظلم 5; مجرمين كى سزا 11
-------
1) الدر المنثورح2/ص457_
|