9
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِِ
الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِم يَعْدِلُونَ .1
سارى تعريف اس الله كے لئے ہے جس نے آسمانوں اور زمين كو پيدا كيا ہے اور تاريكيوں اور نور كو مقرر كيا ہے اس كے بعد بھى كفر اختيار كرنے والے دوسروں كو اس كے برابر قرار ديتے ہيں (1)
1_ حمد و ستائشے مخصوص ہے اس خدا كيلئے جو آسمانوں اور زمين كا خالق اور تاريكيوں اور نور كو پيدا كرنے والا ہے_
الحمد للہ الذى خلق السموات والارض و جعل الظلمت والنور
2_ خداوند كے ہاتھوں آسمانوں و زمين كى خلقت اور نور و ظلمت كا پيدا ہونا_ اس كے ساتھ حمد و ستائشے كے مخصوص ہونے كى دليل ہے_
الحمد للہ الذى خلق
''الذى خلق'' لفظ ''اللہ'' كى صفت اور حمد كے اس سے مختص ہونے كا بيان ہے اور يہ گويا، بقول اہل ادب، حكم يعنى ''الحمد للہ'' كو، صفت يعنى ''الذى خلق'' پر معلق كرناہے_ يہ تعليق ظاہر كررہى ہے كہ حمد و ستائشے كا لائق و سزاوار فقط ''خالق كائنات'' ہے_
3_ ہر قسم كى حمد و ستائشے كى بازگشت خداوند متعال كى جانب ہوتى ہے_
الحمد للہ الذي
''الحمدللہ'' كا ''ال'' يا بمعنى جنس ہو يا استغراق (كل) دونوں صورتوں ميں ''حمد'' كے خداوند سے مختص ہونے كو ظاہر كررہاہے_ اگر كسى دوسرے كى ستائشے كى جائے تو يہ تسامح ہوگا، چونكہ ہر قسم كى زيبائي اسى سے مختص ہے، تمام تر ستائشے اور اچھائياںاسى كى جانب پلٹى ہيں_
4_ زمين اور (تمام) آسمان، حادث اور نو ايجاد مخلوقات ہيں_
الحمد للہ الذى خلق السموات والارض و جعل الظلمت والنور
خالق، اس پيدا كرنے والے كو كہتے ہيں كہ جو پہلے سے موجود كسى نمونے كے بغير كسى چيز كو ايجاد
10
كرے (الخلق ...ابداع الشيء على مثال لم يسبق اليہ_ لسان العرب)
5_ عالم خلقت ميں آسمانوں كا زيادہ و متعدد ہونا_
خلق السموات
6_ عالم خلقت ميں تاريكيوں اور گمراہيوں كا زيادہ ہونا اور نور و ہدايت كا واحد ہونا_
و جعل الظلمت والنور
''ظلمات'' كو جمع كى صورت ميں لانا اور اس كے مقابلے ميں ''نور'' كو مفرد لانا_ گمراہى و انحراف كے راستوں كى كثرت اور صراط مستقيم و ہدايت كے واحد و تنہا ہونے كى جانب ايك اشارہ ہوسكتاہے_
7_ جو لوگ خدا كے ليے مثل و شريك تصور كرتے ہيں وہ كافر ہيں_
ثم الذين كفروا بربھم يعدلون
اس مفہوم ميں ''بربھم'' يعدلون سے متعلق ہے_ اور ''يعدلون'' بھيعدل سے يعنى برابر و مساوى كے معنى ميں ليا گيا ہے_
8_ دنيا ميں ظلمت و نور كے مظاہر، آسمانوں اور زمين كى خلقت كے تابع ايك نظام ہيں_
الحمد للہ الذى خلق السَّموات ... و جعل الظلمت والنور
اس آيت ميں آسمان و زمين كى خلقت و پيدايش فعل ''خلق'' كے ساتھ بيان ہوئي ہے_ جبكہ ظلمت و نور ميں فعل ''جعل'' سے استفادہ كيا گيا ہے اس فرق كى توجيہ بعض مفسرين كے مطابق يہ ہے كہ نور و ظلمت كى پيدايش ''كل عالم ہستي'' كے تابع ہے_
9_ ''خالق ہستي'' كے غير كے ليے ربوبيت كا تصور حيرت و تعجب اور خدا كى سرزنش و ملامت كا باعث بنتا ہے_
ثم الذين كفروا بربھم يعدلون
آيت ميں حرف ''ثم'' استبعاد اور سرزنش كا معنى ديتاہے_
10_ خداوند كے ہاتھوں ''كائنات'' كى خلقت و آفرينش پر توجہ كرنے سے ''توحيد ربوبي'' كے اعتقاد كى راہيں ہموارہوتى ہيں _
الحمد للہ الذى خلق السموات والارض ... ثُمَّ الذين كفروا بربّھم يعدلون
11_ خلقت و آفرينش ميں خداوند كى يكتائي سے انكار ''عالم ہستي'' كى تدبير و ربوبيت ميں مشركانہ تصورات پيدا كرنے كى راہ ہموار كرتاہے_
الحمدللہ الذى خلق السموات والارض ... ثم الذين كفروا بربھم يعدلون
اگر ''بربّھم'' يعدلون سے متعلق ہو تو اس صورت ميں ''يعدلون'' مادہ ''عدل'' سے ہے يعنى مساوى جاننا_ اور صدر آيت كے مطابق
11
''كفروا'' خلق و پيدائشے ميں توحيد سے انكار و كفر كے معنى ميں ہے_
12_ كفر اختيار كرنا، خالق كائنات كے ليے حمد و ستائشے كے منحصر ہونے سے انكار كرنے كا باعث بنتاہے_
الحمد للہ الذى خلق ... ثمّ الذين كفروا بربھم يعدلون
اگر جملہ ''الذين ...''،''الحمدللہ'' پر عطف ہواور ''يعدلون'' بمعنى ''عدول'' ہو تو اس كا نتيجہ يہ ہوگا كہ حمد فقط خدا كے ليے ہے ليكن كفار اس حقيقت سے عدول كرتے ہيں_
13_ غير خداكى حمد وستائشے، كفر اختيار كرنے كے مترادف ہے_
الحمد للہ الذى خلق ... ثم الذين كفروا بربھم يعدلون
چونكہ آيت كى ابتداء ميں حمد كو خداوند سے مختص كيا گيا ہے_ ممكن ہے كہ ''الذين كفروا'' سے مراد وہ لوگ ہوں كہ جو حقيقت سے اپنى آنكھيں بند كرتے ہوئے (كفر اختيار كرنے كى بناء پر) خداوند كى حمد و ستائشے ميں شريك ٹہراتے ہيں_
14_ عن ابى ابراھيم قال: ''ثم الذين كفروا بربھم يعدلون''قال:يعدلون بين الظلمات والنور و بين الجور والعدل (1)
حضرت امام كاظم(ع) آيت '' ثم الذين ...'' كے بارے ميں فرماتے ہيں (جو كفار خدا كے ليے شريك قرار ديتے ہيں) ظلمت و نور اور ظلم وعدل كو برابر سمجھتے ہيں_
--------------------------------------------------
آسمان :
تعدد آسمان 5; حدوث آسمان 4; خلقت آسمان 2، 8
آفرينش:
تدبير آفرينش 11;، خلقت آفرينش 10
تاريكى :
تاريكى كا تبعى ہونا 8; تاريكى كى خلقت 2;تاريكى كى كثرت و تعدد 66; خالق تاريكى 1
توحيد :
توحيد عبادى 1، 2; توحيد ربوبى كى راہيں 10
حمد :
حمد خدا 1، 2، 3، 12 غير خدا كى حمد 3، 13
خدا تعالى :
خدا تعالى كى سرزنشيں 9; خدا تعالى كى صفات 1،2،12، خداتعالى كى نوآورى و ابداع4; خدا تعالى كے افعال 2
-------
1) تفسير عياشى ج 1 ص 354_ نور الثقلين ج/ 1 ص 701 حديث 6_
12
روايت : 14
زمين :
زمين كا حادث ہونا 4; خالق زمين 1; خلقت زمين 2، 8
شرك :
شرك افعال كے آثار 11; شرك ربوبى كى راہيں 11; شرك ربوبى 9
عصيان :
مقدمات عصيان 12
عقيدہ :
باطل عقيدہ9
علم :
آثار علم 10
كفار :
كفار كا عقيدہ 14; كفار و ظلم 14; كفار و ظلمت 14;
كفار و عدالت 14; كفار ونور 14
كفر :
آثار كفر 11، 12; كفر كے موارد 7، 13
كفران :
كفران كى راہيں12
گمراہى :
گمراہى كے راستوں كى كثرت و 6
مشركين :
مشركين كا كفر 7
نور :
نور كا تابع ہونا 8; خالق نور 1; خلقت نور 2;وحدت نور 6
ہدايت :
راہ ہدايت كى وحدت 6
13
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٍ ثُمَّ قَضَى أَجَلاً وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ ثُمَّ أَنتُمْ تَمْتَرُونَ .2
وہ خدا وہ ہے جس نے تم كو مٹى سے پيدا كيا ہے پھر ايك مدّت كا فيصلہ كيا ہے اور ايك مقررہ مدّت اس كے پاس اور بھى ہے ليكن اس كے بعد بھى تم شك كرتے ہو (2)
1_ فقط اللہ تعالى آسمانوں اور زمين كا پيدا كرنے والا، نور و ظلمت كا برقرار ركھنے والا اور انسان كا خالق ہے_
الحمد للہ الذى خلق ... ھو الذى خَلَقَكُم من طين
مسند اليہ ''ھو'' اور مسند ''الذي'' كا معرفہ ہونا حصر كا فائدہ دے رہا ہے_
2_ انسان كى خلقت كا ايك مخصوص مٹى كے خمير سے ہونا_
ھو الذى خلقكم من طين
''طين'' كا نكرہ ہونا دلالت كرتاہے كہ ايك مخصوص مٹى انسان كى آفرينش و پيدائشے ميں استعمال كى گئي ہے_
3_ اللہ تعالى (ہي) انسان كى عمر كے ليے مدت مقرر كرنے والا ہے_
ثم قضى اجلا
چونكہ انسان كى خلقت كى بات ہورہى ہے (لہذا)
''اجل'' اس دنيا ميں انسانى عمر كى انتہا كے معنى ميں ہوسكتى ہے_ راغب كے بقول : ''و يقال للمدة المضروبة لحياة الانسان اجل'' انسان كى عمر كے ليے معين شدہ مدت كو اجل كہتے ہيں_
4_ انسان كے ليے دو اجلہيں : حتمى اور غير حتمي_
ثم قضى اجلا و اجل مسمى عندہ
دو اجل كا ذكر كرنا اور ان ميں سے ايك كو ''مسمى '' كہنا كہ جس كا معنى علامت دار اور معين ہونے كے ہے دوسرى اجل كے غير معين اور معلق ہونے پر ايك قرينہ ہوسكتاہے_
5_ ''اجل مسمى '' كا ناقابل تغير ہونا اور ''اجل معلق'' ميں تبديلى و تغير كا امكان ہونا_
ثم قضى اجلا و اجل مسمى عندہ
دو اجل ميں سے ايك كا ''اجل مسمى '' و ثابت سے مقيد ہونا دوسرى اجل ميں تغير و تبديلى
14
كى حكايت كررہاہے كہ جسے ''معلق'' كہا جاتاہے_
6_ فقط اللہ تعالى ''اجل مسمى '' سے آگاہ ہے_
و اجل مسمى عندہ
7_ فقط خدا تعالى قيامت اور انسان كے حشر كے وقت سے آگاہ ہے_
و اجل مسمى عندہ
ہوسكتاہے ''اجل مسمى '' سے مراد قيامت برپا ہونے كا وقت ہوكہ جسے انسان كى خلقت و عمركے ذكر كرنے كے بعد آخرى منزل كے عنوان سے ذكر كيا گيا ہو_
8_ ارادہ و قضائے الھى ، انسان كى پيدائشے ا ور موت پر حاكم ہے_
ھو الذى خلقكم ... ثم قضى اجلا و اجل مسمّى عندہ
9_ خداوند يكتا كى خالقيت و ربوبيت ميں شك كرنا باعث حيرت اور لائق سرزنش ہے _
بربھم يعدلون، ھو الذى خلقكم من طين ثم قضى اجلا ... ثم انتم تمترون
''ثم انتم تمترون'' ميں حرف ''ثم'' استبعاد اور توبيخ (ملامت) كا فائدہ دے رہاہے_ چونكہ يہاں تراخى (وقفہ) زمانى بے معنى ہے_ اور پھر يہ بھى كہا گياہے كہ ''تمترون'' كا متعلق،گذشتہ آيت ميںموردبحث بنيادى مضامين (خالقيت و ربوبيت ميں توحيد) و غيرہ ہيں_
10_ اپنى پيدائشے و موت كى طرف توجہ كرنے سے انسان ميں خداوند يكتا كى ربوبيت كى معرفت كى راہيں ہموار ہوتى ہيں_
بربھم يعدلون ھو الذى خلقكم من طين ثم قضى اجلا ... ثم انتم تمترون
11_ انسان كى خلقت اور موت و حيات كے بارے ميں مطالعہ سے خدا كى وحدانيت ميں شك نہيں رہتا
ھو الذى خلقكم من طين ثم قضى اجلا ... ثم انتم تمترون
جملہ ''ثم انتم تمترون'' جو كہ ابتدائے آيت كے مطالب پر توجہ كرنے كے بعد خدا كى وحدانيت ميں ہر قسم كے شك و ترديد كو بعيد قرار ديتاہے (اس جملہ) سے يہى پتہ چلتاہے كہ اس توجہ كے بعد على القاعدہ توحيد اور اس پر اعتقاد ميں كسى قسم كى ترديد باقى نہيں رہنى چاہيئے_
12_ حمران عن ابى جعفر(ع) قال : سالتہ عن قولہ اللہ عزوجل: ''قضى اجلاواجل'' مسمى عندہ'' قال: ھما اجلان، اجل محتوم و اجل موقوف (1)
----------
1) كافى ج/1 ص 147 حديث 4_ نور الثقلين ج/ 1 ص 704 حديث 18_
15
حمران كہتے ہيں ميں نے امام باقر(ع) سے آيت ''قضى ...''كے بارے پوچھاتو آپ(ع) نے فرمايا: دو اجل ہيں : ايك حتمى اور دوسرى غير حتمى (معلق)
13_ عن ابى عبداللہ(ع) فى قولہ ''ثم قضى اجلا و اجل مسمى عندہ'' قال: الاجل الذى غير مسمى موقوف يقدم منہ ما شاء و يؤخر منہ ما شاء واما الاجل المسمى فھو الذى ينزل مما يريد ان يكون من ليلة القدر الى مثلھا من قابل (1)
امام صادق(ع) نے آيت ''ثم قضى ...'' كے بارے فرمايا : غير معين اجل، معلق (قابل تغيير) ہے، اس ميں سے خدا جسے چاہے مقدم كرديتاہے اور جسے چاہيے مؤخر كرديتاہے، ليكن اجل معين، ايك مقرر شدہ اجل ہے اس شيء كے بارے ميں كہ جسے خدا ايك شب قدر سے ليكر دوسرے سال كى شب قدر تك انجام دينا چاہتاہے ...
14_ عن ابى عبداللہ(ع) فى قولہ ''قضى اجلا و اجل مسمى عندہ'' قال : الاجل الاول ھو ما نبذہ الى الملائكة والرسل والانبياء و الاجل المسمى عندہ ھو الذى سترہ اللہ عن الخلائق (2)
امام صادق(ع) نے كلام خدا ''قضى اجلا ...'' كے بارے ميں فرمايا :پہلى اجل وہ اجل ہے كہ جس
سے خدانے فرشتوں، رسولول اور انبياء كو آگاہ كيا ہے اور (دوسرى اجل) اجل معين كہ جو اس كے پاس ہے، اس اجل كو خداوند نے تمام خلائق سے پنہان اور مخفى ركھا ہے_
--------------------------------------------------
آسمان :
خالق آسمان1
اجل:
اجل مسمى 4، 6، 12; اجل مسمى سے آگاہى 14; اجل معلق 4، 12;اجل معلق سے آگاہى 14; اقسام اجل 12; تغيير اجل معلق 5، 13; حتميت اجل مسمى 5، 13
انبياء :
علم انبياء 14
انسان :
اجل انسان 3، 4; انسان كا مٹى سے ہونا2; انسان كى موت 8،11; انسانوں كا محشور ہونا 7; خالق انسان 1; خلقت انسان 2، 8، 10، 11; عمر انسان 3
تاريكى :
خالق تاريكى 1
توحيد :
توحيد افعالى ميں شك 9 ; توحيد ربوبى كى راہيں 10;توحيد ربوبى ميں شك 9، 11
--------
1) تفسير عياشى ج/ 1 ص 354 حديث 5 نور الثقلين ج/ 1 ص 703_ حديث 14_
2) تفسير عياشى ج / 1 ص 355 ح /9 نور الثقلين ج/1 ص 713 ح / 17_
16
خداتعالى :
ارادہ الہى كى حاكميت 8; افعال خدا تعالى 3; قضائے الہى كى حاكميت 8; خدا تعالى كا علم غيب 6،7; خدا تعالى كى خالقيت 1; خدا تعالى كى خالقيت ميں شك 9; خدا تعالى كے ساتھ خاص 1،6،7 ;
ذكر :
ذكر موت كے آثار 10
روايت :
12، 13، 14
زمين :
خالق زمين 1
شرك :
موانع شرك 11
شك :
موانع شك 11
علم :
آثارعلم 10، 11
قيامت :
قيامت سے آگاہى 7
ملائيكہ :
علم ملائيكہ 14
نور :
خالق نور 1
وَهُوَ اللّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ .3
وہ آسمانوں اور زمين ہر جگہ كا خدا ہے وہ تمہارے باطن اور ظاہر اور جو تم كار و بار كرتے ہو سب كو جانتا ہے (3)
1_ آسمانوں اور زمين پر خدا تعالى كى يكساں اور مطلق العنان حاكميت و تدبير_
و ھو اللہ فى السموات و فى الارض
بقول اہل ادب مورد بحث آيت ميں ''فى السموات ...'' ''اللہ'' سے متعلق نہيں ہوسكتا، مگر يہ كہ اس ميں فعل كے معنى كو مد نظر ركھا
17
جائے (چنانچہ) يہاں پہلى اور بعد كى آيات كے قرينے سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ مناسب معنى ،تمام موجودات پر خداوند كى نظارت اور تدبير كا مسئلہ ہے_ (مجمع البيان)
2_ عالم كائنات، فقط اپنے خالق كى تدبير كے تحت (قائم) ہے_
الحمد للہ الذى خلق ... و ھو الذى فى السموات وفى الارض
اصل خلقت پر بحث كرنے كے بعدكائنات پر خدا كى حاكميت كے بارے ميں تاكيد سے يہ نكتہ بيان كيا جارہاہے كہ فقط خالق كائنات ہى اسے چلانے والا اور اس پر حكومت كرنے والا ہے_
3_ عالم ہستى ميں فقط خدا تعالى ہى حقيقى معبود اور لائق عبادت ہے_
و ھو اللہ فى السموات و فى الارض
اگر ''فى السموات'' كلمہ ''اللہ''سے متعلق ہو تو كلمہ ''اللہ'' تاويل مشتق كے مطابق ''الہ'' سے مشتق ہوكر معبود كے معنى ميں ليا جاسكتاہے اور مبتداء خبر كا معرفہ ہونا، ''حصر'' كا معنى دے رہاہے_
4_ عالم آفرينش ميں آسمانوں كى كثرت _
و ھو اللہ فى السموات
5_ خدا تعالى كا انسان كے ظاہر و باطن سے آگاہ ہونا_
يعلم سر كم و جھركم
6_ انسان كا ظاہر و باطن، خداتعالى كے نزديك مساوى ہے_
يعلم سركم و جھركم
مفعول ''يعلم''پر ''جھركم'' كا عطف ہونا اور فعل كا تكرار نہ ہونا، مذكورہ مطلب كو بيان كررہے ہے_
7_ پورى كائنات پر خداتعالى كى حاكميت كے نتيجے ميں اس كا انسان كے ظاہر و باطن سے آگاہ ہونا_
و ھو اللہ فى السموات و فى الارض يعلم سركم و جھركم
8_ خداتعالى كا انسان كے اعمال سے آگاہ ہونا_
و يعلم ما تكسبون
9_ خداتعالى كا انسان كے عمل كے نتيجے اورانجام سے آگاہ ہونا_
و يعلم ما تكسبون
''ما تكسبون'' سے مراد عمل كى جزا اور نتيجہ (بھي) ہوسكتاہے كہ جسے انسان اپنے عمل كے ذريعے حاصل كرتاہے_
10_ خداتعالى خالق ہونے كى وجہ سے، اپنى مخلوق سے پورى طرح آگاہ ہے_
وھو الذى خلقكم من طين ... يعلم سركم و جھركم و يعلم ما تكسبون
18
11_ خداتعالى كے علمى احاطہ كى جانب متوجہ رہنے سے، انسان كااپنے اعمال اور ارادوںميں گمراہى ا ور انحراف سے بچ جانا_
و يعلم سركم و جھركم و يعلم ما تكسبون
انسان كے ظاہر و باطن اور اعمال سے خداتعالى كى مكمل آگاہى كو بيان كرنے كا مقصد، اسے خطاء و لغزش سے روكنا ہے، لہذا اس مطلب كى جانب توجہ كا اثر دو طرح كا ہوتاہے ايك تو (خطاء سے) روكنا اور دوسرا(نيكى پر )ابھارنا ہے_
12_ عن ابى جعفر (اظنہ محمد بن نعمان) قال: سالت ابا عبداللہ(ع) عن قول اللہ عزوجل''وھو اللہ فى السموات و فى الارض، قال: كذلك ھو فى كل مكان ... محيط بما خلق علما و قدرة و احاطة و سلطانا و ملكا ... (1)
ابوجعفر (شايد يہاں محمد بن نعمان مراد ہيں) كہتے ہيں، ميں نے امام صادق(ع) سے آيت كے اس جملہ ''و ھو اللہ ...'' كے بارے ميں پوچھا_ تو آپ نے فرمايا يعنى وہ (خدا) اپنے تمام مخلوقات كا علم، قدرت، سلطنت اور حاكميت كے لحاظ سے احاطہ كئے ہوئے ہے _
--------------------------------------------------
آسمان :
آسمانوں كا حاكم 1;تدبير آسمان 1; تعدد آسمان 4
آفرينش :
تدبير آفرينش 2
انحراف :
موانع انحراف 11
انسان :
اسرار انسان 5، 6، 7; عمل انسان 8، 9
حقيقى و سچا معبود : 3
خداتعالى :
احاطہ خداتعالى 11، 12; تدبير خداتعالى 1، 2; حاكميت خداتعالى 1، 7، 12; خالقيت خداتعالى 10;خداتعالى كا علم غيب 5، 6، 7، 9; خداتعالى كے علم كا منبع 7، 10; خصوصيات خداتعالى 3; علم خداتعالى 8، 12; قدرت خداتعالى 12
ذكر :
ذكر خداتعالى كے آثار 11
رفتار و كردار :
رفتار و كردار كى بنياديں 11
روايت : 12
---------
1) توحيد صدوق ص 133 حديث 15 باب 9، نور الثقلين ج/ 1 ص 704 ح 20_
19
زمين :
تدبير زمين 1; حاكم زمين 1
عبادت :
عبادت خدا 3
نظريہ كائنات (جہان بيني) :
نظريہ كائنات اور آئيڈيالوجى 11
وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ آيَةٍ مِّنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ إِلاَّ كَانُواْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ .4
ان لوگوں كے پاس ان كے پروردگار كى كوئي نشانى نہيں آتى مگر يہ كہ يہ اس سے كنارہ كشى اختيار كر ليتے ہيں (4)
1_ زمانہ بعثت كے كفار كا شيوہ خداوند عالم كى ہر آيت (نشاني) سے روگردانى كرنا تھا_
و ما تاتيھم من ا ية من ا ى ت ربھم الاَّ كانوا عنھا معرضين
2_ آيات الہى سے روگردانى اور بے توجہى كفر ہے_
ثم الذين كفروا ... و ما تاتيھم من اية من اى ت ربھم الا كانوا عنھا معرضين
يہ آيت كفار كى ان فكرى اور نفسياتى خصوصيات كو بيان كررہى ہے كہ جو پہلى آيت ميں پيش كى گئي ہيں_ اس ليے اسے ان خصوصيات كا بيان كہہ سكتے ہيں كہ جن سے كلى طور پر ''كافر'' كا اطلاق ہواہے نہ كہ كفر كے بعد ان كے حالات بيان كيے گئے ہيں_
3_ كفار كا ہر قسم كے الہى معجزے سے منہ موڑنا اور متاثر نہ ہونا_
و ماتاتيھم من اية من ا ى ت ربھم الا كانوا عنھا معرضين
4_ بعض كفار، خداوند متعال كى جانب سے اتمام حجت ہوجانے كے با وجود آيات اور معجزات (الھي) كے مقابلے ميں سخت رويہ اختيار كرتے ہوئے ضد اور ہٹ دھرمى كا مظاہرہ كرتے ہيں_
و ما تاتيھم من ا ية ... الا كانوا عنھا معرضين
متعدد آيات اور معجزات كا آنا، گويا عذرخواہى كا رد اور اتمام حجت ہے_
20
5_ ربوبيت خداوند عالم اور لوگوں پر اسكى عنايت كا تقاضا ہے كہ آيات و معجزات بھيجے جائيں_
و ما تاتيھم من ا ية من اى ت ربھم
--------------------------------------------------
آيات الہي:
آيات الہى سے اعراض 1، 2، 4; آيات الہى كے نزول كے اسباب 5
اتمام حجت :
كفار پر اتمام حجت 4
خداتعالى :
ربوبيت خدا كے آثار 5
كفار :
صدر اسلام كے كفار 1;عصيان كفار 3; كفار اور آيات الہى 1، 4; كفار اور معجزہ 3، 4; كفار كى ہٹ دھرمى 4
كفر :
كفر كے موارد 2
معجزہ :
معجزہ سے اعراض 3، 4; نزول معجزہ كے اسباب 5
ہدايت :
اہميت ہدايت 5
|