تفسیر نمونہ جلد 09
 

۵۰ وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُونِی بِہِ فَلَمَّا جَائَہُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلیٰ رَبِّکَ فَاسْاٴَلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِی قَطَّعْنَ اٴَیْدِیَھُنَّ إِنَّ رَبِّی بِکَیْدِھِنَّ عَلِیمٌ
۵۱ قَالَ مَا خَطْبُکُنَّ إِذْ رَاوَدتُّنَّ یُوسُفَ عَنْ نَفْسِہِ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْہِ مِنْ سُوءٍ قَالَتْ امْرَاٴَةُ الْ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ اٴَنَا رَاوَدتُّہُ عَنْ نَفْسِہِ وَإِنَّہُ لَمِنَ الصَّادِقِینَ
۵۲ ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ اٴَنِّی لَمْ اٴَخُنْہُ بِالْغَیْبِ وَاٴَنَّ اللهَ لَایَھْدِی کَیْدَ الْخَائِنِینَ
۵۳ وَمَا اٴُبَرِّءُ نَفْسِی إِنَّ النَّفْسَ لَاٴَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّی إِنَّ رَبِّی غَفُورٌ رَحِیمٌ

ترجمہ
۵۰۔ بادشاہ نے کہا: اسے میرے پاس لے آوٴ لیکن جب اس کا فرستادہ اس (یوسف) کے پاس آیا تو اس نے کہا: اپنے صاحب کے پاس واپس جاوٴ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا ماجرا کیا تھا جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے بے شک میرے خدا نے مجھے ان کے مکر وفریب سے آگاہ کیا ہے ۔
۵۱۔ (بادشاہ نے ان عورتوں کو بلوایا اور) کہا: جب تم نے یوسف کی اپنی طرف دعوت دی تھی تمھیں کیا معاملہ پیش آیا تھا ۔ انھوں نے کہا: حاشَ لِلّٰہ! ہم نے اس میں کوئی عیب نہیں دیکھا ۔ (اس موقع پر) زوجہٴ نے کہا: اس وقت حق آشکارا ہوگیا، وہ مَیں ہی تھی جس نے اسے اپنی طرف دعوت تھی اور وہ سچّوں میں سے ہے ۔
۵۲۔ یہ بات مَیں نے اس لئے کہی ہے کہ تاکہ وہ جان لے کہ مَیں نے اس کی غیبت میں اس سے خیانت نہیں کی اور خدا خیانت کرنے والوں کی مکاری چلنے نہیں دیتا ۔
۵۳۔ مجھے ہرگز اپنے نفس کی براٴت کا اعلان نہیں کرنا کیونکہ (سرکش) نفس تو بدیوں پر اُکساتا ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے، میرا پروردگا غفور ورحیم ہے ۔

یوسف ہر الزام سے بری ہوگئے
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے شاہِ مصر کے خواب کی جو تعبیر بیان کی وہ اس قدر جچی تُلی اور منطقی تھی کہ اس نے بادشاہ اور اس کے حاشیہ نشینوں کو جذب کرلیا، بادشاہ نے دیکھا کہ ایک غیرمعروف قیدی نے کسی مفاد کی توقع کے بغیر اس کے خواب کی مشکل بغیر کس بہترین طریقے سے بیان کردی ہے اور ساتھ ہی آئندہ کے لئے نہایت جچا تُلا پروگرام بھی پیش کردیا ہے ۔
اجمالاً اس نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی غلام قیدی نہیں ہے بلکہ غیر معلولی شخصیت ہے کہ جو کسی پر اسرار ماجرے کے باعث قید میں ڈلا گیا ہے لہٰذا اُسے اس کے دیدار کا شوق پیدا ہوا لیکن ایسا نہیں کہ سلطنت کا غرور ایک طرف رکھ کر وہ دیدارِ یوسف کے لئے چل پڑے بلکہ اس نے حکم دیا کہ ”اسے میرے پاس لے آوٴ“ (وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُونِی بِہِ)۔
لیکن جب اس کا فرستادہ یوسف(علیه السلام) کے پاس آیا تو بجائے اس کے یوسف(علیه السلام) اس خوشی میں پھولے نہ سماتے کہ سالہا سال قید خانے کے گڑھے میں رہنے کے بعد اب نسیم آزادی چل رہی ہے، آپ(علیه السلام) نے بادشاہ منفی جواب دیا اور کہا کہ مَیں اس وقت تک اس زندان سے باہر نہیں اوٴںگا جب تک کہ تُو اپنے مالک پاس جاکر اس سے یہ نہ پوچھے کہ وہ عورتیں جنھوں نے تیرے وزیر ( مصر) کے محل میں اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے، ان کا ماجرا کیا تھا (فَلَمَّا جَائَہُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلیٰ رَبِّکَ فَاسْاٴَلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِی قَطَّعْنَ اٴَیْدِیَھُنَّ)۔
وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایسے ہی جیل سے رہا ہوجائیں اور بادشاہ کی طرف سے معافی کی رسوائی قبول کرلیں، وہ نہیں چاہتے تھے کہ آزادی کے بعد وہ بادشاہ کی طرف سے معاف کئے گئے ایک بار مجرم یا کم از کم ایک ملزم کی صورت میں زندگی بسر کریں، وہ چاہتے تھے کہ سب سے پہلے ان کی قید کے سبب کے بارے میں تحقیق ہو اور ان کی بے گناہی اور پاکدامنی پوری طرح درجہٴ ثبوت کو پہنچ جائے اور براٴت کے بعد وہ سربلندی سے آزاد ہوں اور ضمناً حکومتِ مصر کی مشینری کی آلودگی بھی ثابت ہوجائے اور یہ ظاہر ہوجائے کہ اس کے وزیر کے دربار میں کیا گزرتی ہے ۔
جی ہاں! وہ اپنے عز و شرف کو آزادی سے زیادہ اہمیت دیتے تھے اور یہی ہے حریت پسندوں کا راستہ۔
یہ امر جاذب توجہ ہے کہ حضرت یوسف(علیه السلام) نے اپنی گفتگو میں اس قدر عظمت کا مظاہرہ کیا کہ یہاں تک تیار نہ ہوئے کہ مصر کی بیوی کا نام لین کہ جو اُن پر الزام لگانے اور جیل بھینے کا اصلی عامل تھی بلکہ مجموعی طور پر زنانِ مصر کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا کہ جو اس ماجرا میں دخیل تھیں ۔
اس کے بعد آپ(علیه السلام) نے مزید کہا: اگرچہ اہلِ مصر نہ جانیں اور یہاں تک دربارِ سلطنت بھی بے خبر ہو کہ منصوبہ کیا تھا اور کن افراد کی وجہ سے پیش آیا ”میرا پروردگار ان کے مکر وفریب اور منصوبہ سے آگاہ ہے“(إِنَّ رَبِّی بِکَیْدِھِنَّ عَلِیمٌ)۔
شاہ کا خاص نمائندہ اس کے پاس لوٹ آیا اور یوسف (علیه السلام) کی تجویز بیان کی ۔ یہ تجویز کہ جس سے عالی ظرفی اور بلند نظری جھلکتی تھی، بادشاہ نے سنی تو وہ یوسف(علیه السلام) کی بزرگواری سے بہت زیادہ متاقر ہوا ۔ لہٰذا اس نے فوراً اس ماجرے میں شریک عورتوں کو بلا بھیجا ۔ وہ حاضر ہوئیں توان سے مخاطب ہوکر کہنے لگا: بتاؤ میں دیکھوں کہ جب تم نے یوسف(علیه السلام) سے اپنی خواہش پورا کرنے کا تقاضا کیا تو اصل معاملہ کیا تھا (قَالَ مَا خَطْبُکُنَّ إِذْ رَاوَدتُّنَّ یُوسُفَ عَنْ نَفْسِہِ) ۔
سچ کہنا ، حقیقت بیان کرنا کہ کیا تم نے اس میں کوئی عیب، تقصیر اور گناہ دیکھا ہے؟
ان کے خوابیدہ ضمیر اس سوال پر اچانک بیدار ہوگئے اور سب نے متفقہ طور پر یوسف(علیه السلام) کی پاکدامنی کی گواہی دی اور کہا: منزہ ہے خدا، ہم نے یوسف(علیه السلام) میں کوئی گناہ نہیں دیکھا ( قُلْنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْہِ مِنْ سُوءٍ)۔
مصر کی بیوی وہاں موجود تھی ۔ بادشاہ اور زنان مصر کی باتیں سن رہی تھی بغیر اس کے کہ کوئی اس سے سوال کرے، ضبط نہ کرسکی، اس نے محسوس کیا کہ اب وہ موقع آگیا ہے کہ ضمیر کی سالہا سال کی شرمندگی کی یوسف کی پاکیزگی اور اپنی گنہگاری کے اظہار سے تلافی کرے ۔ خصوصاً جبکہ اس نے یوسف کی بے نظیر عظمت کو اس پیغام میں جو انہوں نے بادشاہ کو بھیجا تھا دیکھ لیا کہ پیغام میں انہوں نے اس کے بارے میں تھوڑی سی بات بھی نہیں کی اور اشارتاً صرف زنانِ مصر کے بارے میں بات کی ہے ۔ اس کے اندر گویا ایک ہلچل مچ گئی وہ چیخ اٹھی: اب حق آشکار ہوگیا ہے ۔ میں نے اس سے خواہش پوری کرنے کا تقاضا کیا تھا، وہ سچا ہے اور میں نے اس کے بارے میں اگر کوئی بات کی ہے تو وہ جھوٹ تھی، بالکل جھوٹ تھی(قَالَتْ امْرَاٴَةُ الْ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ اٴَنَا رَاوَدتُّہُ عَنْ نَفْسِہِ وَإِنَّہُ لَمِنَ الصَّادِقِینَ)۔
زوجہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: میں نے یہ صریح اعتراف اس بناء پر کیا ہے تاکہ یوسف کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کے بارے میں خیانت نہیں کی (ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ اٴَنِّی لَمْ اٴَخُنْہُ بِالْغَیْبِ)۔
کیونکہ اتنی مدت میں اور اس سے حاصل ہونے والے تجربات کے بعد میں نے سمجھ لیا ہے کہ خدا خیانت کرنے والوں کے مکر و فریب کو چلنے نہیں دیتا( وَاٴَنَّ اللهَ لَایَھْدِی کَیْدَ الْخَائِنِینَ)۔
(اگر چہ یہ جملہ مصر کی بیوی کا ہے، جیسا کہ ظاہر عبارت کا تقاضا ہے تو) در حقیقت اس نے یوسف کی پاکیزگی اور اپنی گنہگاری کے صریح اعتراف کے لیے دو دلیلیں قائم کیں:
پہلی یہ کہ اس کا ضمیر اور احتمالاً یوسف (علیه السلام) سے اس باقی ماندہ لگاؤ اسے اجازت نہیں دیتا کہ حق کی اب وہ اس سے زیادہ پردہ پوشی کرے اور عدم موجود گی میں اس پاکدامنی نوجوان سے خیانت کرے اور
دوسری یہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ اور درس عبرت حاصل کرنے کے بعد یہ حقیقت اس پر واضح ہوگئی کہ خدا پاک اور نیک لوگوں کا حامی و مددگار ہے اور کبھی بھی خیانت کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیتا اور اسی لیے محلوں کی پُر خواب زندگی کے پردے آہستہ آہستہ اس کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹ گئے اور وہ زندگی کی حقیقتوں کو سمجھنے لگی ۔ خصوصاً عشق میں شکست نے اس کے افسانوی غرور پر جو ضرب لگائی اس سے اس کی نگاہِ حقیقت اور کھل گئی ۔
اس حالت میں تعجب کی بات نہیں کہ وہ اس طرح کا صریح اعتراف کرے ۔
اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا: میں ہرگز اپنے نفس کی براٴت کا اعلان نہیں کرتی کیونکہ میں جانتی ہوں کہ یہ نفس امارہ مجھے برائیوں کا حکم دیتا ہے (وَمَا اٴُبَرِّءُ نَفْسِی إِنَّ النَّفْسَ لَاٴَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ)۔
”مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے“ اور اس کی حفاظت اور نصرت و مدد کے باعث بچ جاؤں ( إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّی)۔
بہر حال اس گناہ پر میں اس سے عفو و بخشش کی امید رکھتی ہوں ”کیونکہ میرا پروردگار غفور و رحیم ہے“(إِنَّ رَبِّی غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔
بعض مفسّرین نے آخری دو آیتوں کو حضرت یوسف(علیه السلام) کی گفتگو سمجھا ہے اورکہا ہے کہ یہ دونوں آیتیں در حقیقت اس پیغام کا آخری حصہ ہیں جو حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کے فرستادہ شخص کے ذریعے اسے بھیجا اور وہ ان آیات کا معنی یہ کرتے ہیں: اگر میں مصر کی عورتوں کے بارے میں تحقیق کا تقاضا کرتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بادشاہ (یا اس کا وزیر غزیز مصر) جان لے کہ میں نے زوجہ غزیز کے معاملے میں اس سے کوئی خیانت نہیں کی اور خدا خیانت کرنے والوں کا مکر و فریب چلنے نہیں دیتا اس کے باوجد میں اپنی براٴت کا اعلان نہیں کرتا کیونکہ نفسِ سرکش تو انسان کو برائی کا حکم دیتا ہے مگر یہ کہ خدا رحم کرے کیونکہ میرا پروردگار غفور و رحیم ہے ۔
ظاہراً اس مخالفِ ظاہر تفسیر کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے زوجہ مصر کی اس قدر دانش و معرفت کو قبول نہیں کرنا چاہا کہ وہ ایسے مخلصانہ لہجے میں بات کرے کہ جو عبرت آموزی اور بیداری کی حکایت کرے، حالانکہ بعید نہیں کہ انسان کی زندگی میں جب اس کا پاؤں کسی پتھر سے ٹھوکر کھائے تو اس میں بیداری، احساسِ گناہ اور ندامت کی ایسی کیفیت پیدا ہوجائے ۔ خصوصاً جبکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عشقِ مجازی میں شکست انسان پر عشق حقیقی (عشق الٰہی) کا راستہ کھول دیتی ہے ۔
اور آج کے علم نفسیات (تصید)کی تعبیر میں ”شدید جذبات جب ملامت سے دوچار ہوتے ہیں تو اوپر کی طرف اٹھتے ہیں اور ختم ہوئے بغیر اعلیٰ ترین شکل کے بارے میں منقول ہیں وہ بھی اس عبرت آموزی اور بیداری کی دلیل ہیں“۔
علاوہ ازیں ان دو آیات کو حضرت یوسف (علیه السلام) سے مربوط کرنا اس قدر بعید اور خلافِ ظاہر ہے کہ جو کسی بھی ادبی معیار پر پورا نہیں اترتا ۔ کیونکہ:
اولاً”ذلک“ کہ جو زوجہ ہی کی گفتگو ہے اور اسے کلامِ یوسف سے نتھی کرنا بہات ہی عجیب ہے کہ جو گزشتہ آیات میں فاصلے پر آیا ہے ۔
ثانیاً اگر یہ آیات کلامِ یوسف ہوں تو اس میں ایک طرح کا تضاد پیدا ہوگا کیونکہ ایک طرف تو یوسف کہتے ہیں کہ میں نے کصر سے کوئی خیانت نہیں کی اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ میں اپنے آپ کو بری نہیں کرتا نفسِ سرکش برائیوں کا حکم دیتا ہے ۔ ایسی بات تو وہی شخص کہہ سکتا ہے جس سے کوئی لغزش سرزد ہوئی ہو اگر چہ وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو جبکہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت یوسف سے کوئی لغزش سرزد نہیں ہوئی ۔
ثالثاً اگر مراد یہ ہے کہ غزیز مصرجان لے کہ وہ بے گناہ ہیں تو وہ تو شروع ہی میں (شاہد کی گواہی کے بعد)اس حقیقت کو جان چکا تھا اور اگر مراد یہ ہے کہ ”میں نے شاہ سے خیانت نہیں کی“ تو اس معاملے کا شاہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا اور یہ عذر پیش کرنا کہ وزیر کی بیوی سے خیانت جابر بادشاہ سے خیانت ہے تو ایک کمزور اور مہمل عذر معلوم ہوتا ہے خصوصاً جبکہ درباری لوگ عام طور پر ان مسائل کی پابندی نہیں کرتے ۔
خلاصہ یہ کہ آیات کا ربط نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تمام باتیں مصر کی بیوی نے کی تھیں کہ جو کچھ عبرت حاصل کرچکی تھی اور تھوڑی بہت بیدار ہوچکی تھی لہٰذا اس نے ان حقائق کا اعتراف کرلیا ۔

چند اہم نکات
۱۔ پاکیزگی اور دشمن کا اعتراف:
واقعہ یوسف کے اس حصّے میں ہم نے دیکھا ہے کہ آخر کار ان کے یب سے بڑے دشمن نے ان کی پاکیزگی کا اعتراف کرلیا اور اپنی گنہگاری اور ان کی بیگناہی کا بھی اعتراف کرلیا ۔ یہ ہے تقویٰ، پاکبازی اور گناہ سے پرہیز کا انجام اور یہ ہے اس فرمان کا مفہوم کہ:
<وَمَنْ یَتَّقِ اللهَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَایَحْتَسِبُ>
جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے خدا اس کےلیے راہِ کشائش کھول دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے کہ جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا ۔(طلاق ۔۲۔۳)
یعنی ۔ تو پاک رہ اور پاکیزگی کی راہ اختیار کر، استقامت دکھا، خدا اجازت نہیں دے گا کہ نا پاک لوگ تیری حیثیت کو برباد کرسکیں ۔

۲۔ کبھی شکست بھی بیداری کا سبب بن جاتی ہے:
کبھی ناکمیاں بھی بیداری کا سبب بن جاتی ہیں بلکہ بہت سے مواقع پر ظاہراً شکست ہوتی ہے لیکن در حقیقت وہ ایک طرح کی معنوی کامیابی شمار ہوتی ہے ۔ ایسی ہی ناکامیاں انسان کی بیداری کا سبب بن جاتی ہیں اور غرور و غفلت کے پردوں کو چاک کردیتی ہیں اور انسان کی زندگی میں احساس کی بیداری کی بنیاد بن جاتی ہیں ۔
مصر می بیوی (کہ جس کا نام ”زلیخا“ یا ”راعیل“ تھا)اگر چہ اپنے معاملے میں بدترین ناکامیوں میں مبتلا ہوئی لیکن گناہ کے اس راستے پر اس کی یہ ناکامیاں اس کے متنبہ اور بیدار ہونے کا باعث بن گئیں ۔ اس کا خوابیدہ ضمیر بیدار ہوگیا اور وہ اپنے برے کردار پر پشیمان ہوئی اوراس نے درگاہِ الٰہی کی طرف رخ کرلیا ۔ احادیث میں جو واقعہ حضرت یوسف(علیه السلام) سے اس کی ملاقات کے بارے میں ہے، جبکہ یوسف مصر ہوگئے، وہ بھی اس دعویٰ کی دلیل ہے ۔ لکھا ہے کہ زلیخا نے حضرت یوسف(علیه السلام) کی طرف روئے سخن کرکے کہا:
الحمد للّٰہ الذی جعل البعید ملوکا بطاعتہ و جعل الملوک عبیداً بمعصیتہ
”حمد ہے اس خدا کی جس نے غلاموں کو اپنی اطاعت کی بناٴپر بادشاہ بنادیا اور بادشاہوں کو اپنی نافرمانی کے باعث غلام بنادیا ۔
اس حدیث کے آخر میں ہے کہ آخر کار حضرت یوسف(علیه السلام) نے اس کے ساتھ شادی کرلی“۔(۱)
وہ لوگ خوش بخت ہیں جو ناکامیوں سے فتح حاصل کرلیتے ہیں اور اپنے اشتباہات اور غلطیوں سے زندگی کی صحیح راہ تلاش کرلیتے ہیں اور سیاہ بختیوں میں نیک بختی کو پالتے ہیں ۔
البتہ سب لوگ شکست پر ایسے ردِّ عمل کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔ کم ظرف لوگ شکست کے موقع پر یاس و ناامیدی کی اتھاہ گہرائیوں میں جا پڑتے ہیں اور بعض اوقات وہ خودکشی تک جا پہنچتے ہیں جو کہ کامل شکست ہے لیکن وہ لوگ کہ جو کچھ ظرف کے حامل ہوتے ہیں کوشش کرتے ہیں کہ ناکامی کو اپنی کامیابی کا زینہ قرار دیں ۔

۳۔ شرفِ انسانی ظاہری آزادی سے بہتر ہے:
ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نہ صرف اپنی پاکدامنی کی حفاظت کے لیے قید خانے میں گئے بلکہ اعلانِ آزادی کے بعد بھی قید خانہ چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے یہاں تک کہ بادشاہ کا نمائندہ خالی ہاتھ لوٹ گیا اس لیے کہ پہلے مصر کی عورتوں سے یوسف کے بارے میں کافی تحقیق کی جائے اور اس کے بے گناہی ثابت ہوجائے تاکہ وہ عزت و آبرو کے ساتھ قید خانے سے آزاد ہوں نہ کہ ایک آلودہ مجرم، بے حیثیت انسان اور شاہ کے معاف کیے ہوئے شخص کے طور پر کہ جو خود ایک عظیم ننگ و عار ہے ۔
اور یہ تمام گزشتہ، آج کے اور کل کے انسانوں کے لیے ایک عظیم درس ہے ۔

۴۔ نفسِ سرکش:
علماء اخلاق نے نفس (انسانی جذبات، میلانات اور احساسات) کو تین مراحل میں تقسیم کیا ہے کہ جن کی طرف قرآن مجید نے اشارہ کیا ہے ۔
پہلا ”نفس امارہ“، نفس سرکش ہے کہ جو انسان کو گناہ کی ترغیب دیتا ہے اور اسے ہر طرف کھینچتا ہے اس لیے اسے ”امّارہ“کہتے ہیں ۔ اس مرحلے میں ابھی عقل و ایمان اتنا قوی نہیں ہوتا کہ نفس سرکش کو لگام دے سکے بلکہ اکثر اوقات اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیتا ہے یا اس سے دست و گریبان ہو تو نفسِ سرکش اسے پٹخ دیتا ہے اور شکست دے دیتا ہے ۔
اسی مرحلے کی طرف مذکورہ بالا آیات میں زوجہ مصر کی گفتگو میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہی انسان کی تمام تر بدبختیوں کا سرچشمہ ہے ۔
دوسرا ”نفس لوامہ“ہے ۔ اس مرحلے پر انسان تعلیم و تربیت اور مجاہدہ سے پہنچتا ہے ۔ اس مرحلے میں ہو سکتا ہے انسان بعض اوقات غرائز اور جذبات کے طغیان کے نتیجے میں غلیطیوں اور گناہوں کا مرتکب ہو لیکن فوراً پشیمان ہوجاتا ہے اور اپنے آپ کو ملامت شروع کردیتا ہے اور اس طرح ممکن ہے وہ گناہ کی تلافی کا عزم کرے اور قلب و روح کو آپ توبہ سے پاک کرلے ۔ دوسرے لفظوں میں عقل اور نفس کے مقابلے میں کبھی عقل کامیاب ہوجاتی ہے اور کبھی نفس۔ بہرحال عقل و ایمان کا پلڑا بھاری رہتا ہے ۔
البتہ اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے جہاد اکبر ضروری ہے ۔ اس مرحلے میں کافی ریاضت، مکتبِ استاد میں تربیت، ارشادِ الٰہی اور سنت آئمہ سے الہام لینا لازمی ہے ۔
اس مرحلے کی قرآن مجید نے سورہ قیامت میں قسم کھائی ہے کہ جو اس کی عظمت کی دلیل ہے:
<لَااٴُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیَامَةِ وَلَااٴُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ>
قسم ہے روز قیامت کی اور سرزنش کرنے والے نفس کی ۔
تیسرا ”نفسِ مطمئنہ“ ہے ۔ یہ وہ مرحلہ ہے کہ جس تک انسان قلب و روح کی صفائی، تہذیب اور کامل تربیت کے بعد پہنچتا ہے ۔ اس میں سرکش غرائز رام ہوجاتے ہیں اور ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور عقل و ایمان کے مقابلے کی تب نہیں رکھتیں ۔ یہی سکون و اطمینان کا مرحلہ ہے ایسا سکون و اطمینان کہ جو عظیم بحرِ اوقیانوس پر حکومت کرتا ہے وہ سمندر کہ سخت طافانوں پر بھی جن کی جبین پر شکن نہیں پڑتی ۔
یہ انبیاء اولیاء اور ان کے سچے پیروکاروں کا مقام ہے ۔ وہ لوگ کہ جنہوں نے مرد ان خدا کے مکتب میں ایمان و تقویٰ کا درس حاصل کیا ہے، سالہا سال تہذیب نفس کی ہے اور جہادِ اکبر کے آخری مرحلے تک آپہنچے ہیں ۔
اسی مرحلے کی طرف قرآن مجید نے سورہ فجر میں اشارہ کیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے:
<یَااٴَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ، ارْجِعِی إِلَی رَبِّکِ رَاضِیَةً مَرْضِیَّةً، فَادْخُلِی فِی عِبَادِی، وَادْخُلِی جَنَّتِی>
اے مطمئن و باسکون نفس اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آکہ تو بھی اس سے خوش اور وہ بھی تجھ سے راضی ہے اور میرے خاص بندوں کے زمرے میں داخل ہوجا اور میری جنت میں قدم رکھ۔
پروردگارا! ہماری مدد فرما کہ ہم تیرے قرآن کی نورانی آیات کے زیر سایہ ”نفس امارہ“ سے ”نفس لوامہ“اور اس سے ”نفس مطمئنہ“ کی طرف ارتقاٴ کریں ۔ اور ایک مطمئن اور پر سکون روح پیدا کریں کہ جسے طوفانِ حوادث متزلزل و مضطرب نہ کرسکے اور ہم دشمنوں کے مقابلے میں قوی تر ہوں، دنیا کی رنگینیوں سے بے اعتناء ہوں اور سختیوں میں صابر و بردبار ہوں ۔
بار الٰہا اب جبکہ ہمارے اسلامی انقلاب کو ڈیڑھ برس سے زیادہ عرصہ گزررہا ہے متاسفانہ ہمارے فوجیوں میں اختلاف کی نشانیاں ظاہر ہو رہی ہیں ۔ ایسی نشانیاں کہ جنہوں نے اسلام کے تمام شیدائیوں، انقلاب کے فدائیوں اور شہداء کے خون کے پاسداروں کو پریشان کر رکھا ہے ۔(2)
خداوندا! ہم سب کو ایسی عقل عطا فرما کہ ہم سرکش ہوا وہوس پر کامیاب ہوں اور اگر ہم غلطظ پر ہیں تو توفیق و ہدایت کے روشن چراغ سے ہماری راہ کو منور فرما ۔
الٰہی! ہم نے یہاں تک کا راستہ اپنے قدموں سے طے نہیں کیا بلکہ ہر مرحلے میں تمھارا رہبر و رہنما تھا ۔ اپنا لطف و کرم ہم سے دور کر اور اگر تیری ان سب نعمتوں کی ناشکری تیری سزا کے استحقاق کا موجب بنی ہے تو اس سے پہلے کہ ہم سزا و غذاب میں گرفتار ہوں، ہمیں بیدار فرما ۔

آمین یا رب العالمین
..............
۱۔ سفینہ، ج ۱،ص ۵۵۴
2۔ فوج میں جس اختلاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ سابق صدر ایران بنی صدر کا پیدا کردہ تھا جو اس کی معزولی کے بعد دور ہوگیا ۔(مترجم)