تفسیر نمونہ جلد 09
 

۴۳ وَقَالَ الْمَلِکُ إِنِّی اٴَریٰ سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ یَاٴْکُلُھُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنْبُلَاتٍ خُضْرٍ وَاٴُخَرَ یَابِسَاتٍ یَااٴَیُّھَا الْمَلَاٴُ اٴَفْتُونِی فِی رُؤْیَای إِنْ کُنتُمْ لِلرُّؤْیَا تَعْبُرُونَ
۴۴ قَالُوا اٴَضْغَاثُ اٴَحْلَامٍ وَمَا نَحْنُ بِتَاٴْوِیلِ الْاٴَحْلَامِ بِعَالِمِینَ
۴۵ وَقَالَ الَّذِی نَجَا مِنْھُمَا وَاِدَّکَرَ بَعْدَ اٴُمَّةٍ اٴَنَا اٴُنَبِّئُکُمْ بِتَاٴْوِیلِہِ فَاٴَرْسِلُونِی
۴۶ یُوسُفُ اٴَیُّھَا الصِّدِّیقُ اٴَفْتِنَا فِی سَبْعِ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ یَاٴْکُلُھُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنْبُلَاتٍ خُضْرٍ وَاٴُخَرَ یَابِسَاتٍ لَعَلِّی اٴَرْجِعُ إِلَی النَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَعْلَمُونَ
۴۷ قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِینَ دَاٴَبًا فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوہُ فِی سُنْبُلِہِ إِلاَّ قَلِیلًا مِمَّا تَاٴْکُلُونَ
۴۸ ثُمَّ یَاٴْتِی مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَاٴْکُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَھُنَّ إِلاَّ قَلِیلًا مِمَّا تُحْصِنُونَ
۴۹ ثُمَّ یَاٴْتِی مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیہِ یُغَاثُ النَّاسُ وَفِیہِ یَعْصِرُونَ

ترجمہ

۴۳۔ بادشاہ نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں انھیں سات دبلی پتلی گائیں کھارہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور سات خشک شدہ خوشے ہیں (اور خشک شدہ خوشے سبز خوشوں پر لپٹے ہوئے ہیں اور انھیں ختم کردیا ہے) اے سردار! اگر تم خواب کی تعبیر کرسکتے ہو تو میرے خواب کے بارے میں کوئی نقطہٴ نظر پیش کرو۔
۴۴۔ انھوں نے کہا یہ تو خوابِ پریشان ہیں اور ہم اس قسم کی خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے ۔
۴۵۔ ان دو افراد میں سے ایک جسے نجات مل گئی تی اسے ایک مدت کے بعد یاد آیا، کہنے لگا: میں تمھیں اس کی تعبیر بتاوٴں گا، مجھے (اس قیدی جو ان کے پاس ہے) بھیج دو۔
۴۶ ۔ یوسف! اے بہت سچّے! اس خواب کے بارے میں رائے دو کہ سات موٹی تازی گائیں انھیں ساتھ دبلی پتلی گائیں کھارہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور ساتھ خشک شدہ خوشے ہیں، تاکہ مَیں لوگوں کے پاس لوٹ جاوٴں اور وہ آگاہ ہوں ۔
۴۷۔ اس نے کہا: سات سال تک خوب محنت سے کاشت کاری کرو اور جو کچھ کاٹو اس میں سے تھوڑی سی مقدار کھالو اور باقی کو خوشوں میں رہنے دو (اور ذخیرہ کرلو)۔
۴۸۔ اس کے بعد سات سال سخت (خشکی اور قحط کے) آئیں گے کہ جو کچھ تم نے ان کے لئے ذخیرہ کیا ہوگا اسے کھالیں گے مگر قدر قلیل کہ جو تم (بیج کے لئے) بچاوٴگے پاوٴگے ۔
۴۹۔ اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ لوگوں کو خوب بارش نصیب ہوگی اور اس سال (رس پھل اور روغن دار دانے) پائیں گے ۔

بادشاہِ مصر کا خواب
حضرت یوسف علیہ السلام سات برس تک قید خانے میں تنگی وسختی میں ایک فراموش شدہ انسان کی طرح رہے، وہ خود سازی، قیدیوں کو ارشاد وہدایت، بیماروں کی عیادت اور دردمندوں کی دلجوئی میں مصروف رہے، یہاں تک کہ ایک ظاہراً چھوٹا سا واقعہ رونما ہوا جس نے نہ صرف ان کی بلکہ مصر اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کی سرنوشت کو بدل کے رکھ دیا ۔
بادشاہِ مصر کہ جس کا نام کہا جاتا ہے کہ ولید بن ریان تھا (اور عزیر مصر اس کا وزیر تھا) نے ایک خواب دیکھا یہ ظاہراً ایک پریشان کن خواب تھا، دن چڑھا تو اس نے خواب کی تعبیر بتانے والوں میں اور اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور کہنے لگا: مَیں نے خواب دیکھا ہے کہ سات کمزور سی گائیں ہیںاور سات موٹی تازی گائیں ہیں اور دبلی پتلی گائیں ان پر حملہ آور ہوئی ہیں اور انھیں کھارہی ہیں، نیز سات ہرے بھرے اور سات خشک شدہ خوشے ہیں اور خشک شدہ خوشے سبز خوشوں پر لپٹ گئے ہیں اور انھیں ختم کردیا ہے (وَقَالَ الْمَلِکُ إِنِّی اٴَریٰ سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ یَاٴْکُلُھُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنْبُلَاتٍ خُضْرٍ وَاٴُخَرَ یَابِسَاتٍ)۔
اس کے بعد اس نے ان کی طرف روئے سخن کیا اور کہنے لگا: اے میرے سردار! میرے خواب کے بارے میں اپنا نقطہٴ نظر بیان کرو اگر تم خواب کی تعبیر بتاسکتے ہو (یَااٴَیُّھَا الْمَلَاٴُ اٴَفْتُونِی فِی رُؤْیَای إِنْ کُنتُمْ لِلرُّؤْیَا تَعْبُرُونَ)۔ لیکن سلطان کے حواریوں نے فوراً کہا کہ یہ خوابِ پریشان ہیں اور ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے (قَالُوا اٴَضْغَاثُ اٴَحْلَامٍ وَمَا نَحْنُ بِتَاٴْوِیلِ الْاٴَحْلَامِ بِعَالِمِینَ)۔
”اضغاث“ ”ضغث“ (بروزن ”خرص“ )کسی جمع ہے، اس کا معنی ہے لکڑیوں، خشک گھاس، سبزی یا کسی اور چیز کا گھٹا ۔
”احلام“ ”حلم“ پریشان اور خلط ملط خوابوں کے معنی میں ہے ، یعنی مختلف چیزوں کے مختلف گھٹے لفظ ”احلام“ کو جو ”مَا نَحْنُ بِتَاٴْوِیلِ الْاٴَحْلَامِ بِعَالِمِینَ“ میں الف لامِ ع۔ہد کے ساتھ آیا ہے اس طرف اشارہ ہے کہ ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں کرسکتے ۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ان کا اظہار عجز حقیقتاً اس بناپر تھا کہ چونکہ اس خواب کا حقیقی مفہوم ان پر واضح نہیں تھا لہٰذا انھوں نے اسے خوابِ پریشاں قرار دیا کیونکہ ان کے نزدیک خوابوں کی دو قسمیں تھی ایک بامعنی وبامفہوم خواب کہ جو قابل تعبیر تھے اور دوسری خوابِ پریشان اور بے معنی خواب کہ جن کی تعبیر ان کے پاس کوئی نہ تھی ایسے خوابوں کو وہ قوتِ خیال کی فعالیت کا نتیجہ سمجھتے تھے جبکہ اس کے برخلاف پہلی قسم کے خوابوں کو وہ روح کے عالمِ غیب سے اتصال کا نتیجہ سمجھتے تھے ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ وہ اس خواب کو آئندہ کے پریشان کن حوادث کی دلیل سمجھ رہے تھے لیکن جیسا کہ بادشاہوں اور طاقتوں کے حاشیہ نشینوں کا طریقہ ہے وہ انھیں صرف وہی امور بتلاتے ہیں کہ جو شاہی مزاج کے لئے باعثِ انبساط ہوا اور جو چیز ان کی ”ذات مبارک“ کو مضطرب کردے اس کا ذکر نہیں کرتے، ایسی جابر اور ظالم حکومتوں کے زوال اور بدبختی کی ایک وجہ یہ بھی ہے ۔
یہاں یہ سوال پیش آتا ہے کہ انھوں نے کس طرح جرئت کی شاہِ مصر کے سامنے اس رائے کا اظہار کریں کہ وہ اسے خواب پریشان دیکھنے کا الزام دیں جبکہ ان حاشیہ نشینوں کا معمول یہ ہے کہ وہ ان کی ہر چھوٹی بڑی اور بے معنی حرکت کے لئے کوئی فلسفہ گھڑتے ہیں اور بڑی معنی خیز تفسیریں کرتے ہیں ۔
یہ ہوسکتا ہے کہ یہ اس لئے ہو کہ انھوں نے دیکھا تھا کہ بادشاہ یہ خواب دیکھ کر پریشان ومضطرب ہے اور وہ پریشانی میں حق بجانب بھی تھا کیونکہ اس نے خواب دیکھا تھا کہ کمزور اور لاغر گائیں توانا اور موٹی تازی گاوٴں پر حملہ آور ہوتی ہیں اور انھیں کھا رہی ہیں اور یہی صورت خشک خوشوں کی تھی، کیا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کمزور لوگ اچانک اس کے ہاتھ سے حکومت چھین لیں گے، لہٰذا انھوں بادشاہ کے دل کا اضطراب دور کرنے کے لئے اسے خواب پریشاں قرار دے دیا، یعنی پریشانی کی کوئی بات نہیں، یہ کوئی خاص معاملہ نہیں ہے، ایسے خواب کسی چیز کی دلیل نہیں ہوتے ۔
بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ”اضغاث احلام“ سے ان کی مراد یہ نہ تھی کہ تیرے خواب کی کوئی تعبیر نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ یہ ایک پیچیدہ سا خواب ہے مختلف امور اس میں جمع ہوگئے ہیں اورذ ہم تو صرف ایک قسم کے خوابوں کی تعبیر کرسکتے ہیں نہ کہ اس قسم کے خوابوں کی، لہٰذا انھوں نے اس بات کا انکار نہیں کیا کہ ممکن ہے کوئی ماہر استاد مل جائے اور وہ اس کی تعبیر بیان کرسکے البتہ انھوں نے خود اظہارِ عجز کیا ہے ۔
اس موقع پر بادشاہ کا ساقی کہ جو چند سال قبل قید خانے سے آزاد ہوا تھا، اسے قید خانے کا خیال آیا، اُسے یاد آیا کہ یوسف اس خواب کی تعبیر بیان کرسکتے ہیں، اس نے بادشاہ کے حاشیہ نشینوں کی طرف رُخ کرکے کہا: مَیں تمھیں اس خواب کی بتا سکتا ہوں، مجھے اس کام کے ماہر استاد کے پاس بھیجو کہ جو زندان میں پڑا ہے تاکہ تمھیں بالکل صحیح خبر لاکر دوں (وَقَالَ الَّذِی نَجَا مِنْھُمَا وَاِدَّکَرَ بَعْدَ اٴُمَّةٍ اٴَنَا اٴُنَبِّئُکُمْ بِتَاٴْوِیلِہِ فَاٴَرْسِلُونِی)۔ جی ہاں! اس گوشٴ زندان میں ایک روشن ضمیر، صاحبِ ایمان اور پاک دل انسان زندگی کے دن گزار رہا ہے کہ جس کا دل حوادثِ آئندہ کا آئینہ ہے، وہ ہے کہ جو اس راز سے پردہ اٹھا سکتا ہے اور خواب کی تعبیر بیان کرسکتا ہے ۔
لفظ ”فَاٴَرْسِلُونِی“ (مجھے بھیج دو) ہوسکتا ہے اس طرف اشارہ ہے کہ قید خانے میں حضرت یوسف(علیه السلام) سے ملاقات پر پابندی ہو اور وہ بادشاہ اور اس کے حواریوں سے اس کی اجازت لینا چاہتا ہو۔
اس کی اس بات نے محفل کی کیفیت ہی بدل دی، سب کی آنکھیں ساقی پر لگ گئیں، آخرکار اسے اجازت ملی اور حکم ملا کہ جتنی جلدی ہوسکے اس کام کے لئے نکل کھڑا ہو اور جلد نتیجہ پیش کرے، ساقی زندان میں آیا اور اپنے پرانے دوست یوسف(علیه السلام) کے پاس پہنچا، وہی دوست یوسف(علیه السلام) کہ جس سے بڑی بے وفائی کی گئی تھی لیکن شاید وہ جانتا تھا کہ اس کی عظمت سے توقع نہیں کہ وہ دفتر شکایت کھول یٹھے ۔
اس نے حضرت یوسف(علیه السلام) سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: یوسف! اے سراپا صداقت! اس خواب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو کہ کسی نے دیکھا ہے سات لاغر گائیں موٹی تازی کو کھارہی ہیں، نیز سات ہرے خوشے ہیں اور سات خشک شدہ (کہ جن میں سے دوسرا پہلے سے لپٹ گیا ہے اور اسے نابود کردیا ہے) (یُوسُفُ اٴَیُّھَا الصِّدِّیقُ اٴَفْتِنَا فِی سَبْعِ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ یَاٴْکُلُھُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنْبُلَاتٍ خُضْرٍ وَاٴُخَرَ یَابِسَاتٍ)۔ شاید مَیں اس طرح ان لوگوں کے پاس لوٹ کے جاوٴں تو وہ اس خواب کے اسرار سے آگاہ ہوسکیں (لَعَلِّی اٴَرْجِعُ إِلَی النَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَعْلَمُونَ)۔
لفظ ”الناس“ ہوسکتا ہے اس طرف اشارہ ہو کہ چاپلوس حاشیہ نشینوں کے ذریعے بادشاہ کا خواب اس وقت کے ایک اہم واقعے کے طور پر لوگوں میں پھیل چکا تھا اور اس پریشانی کو دربار سے عام لوگوں تک کھینچ لائے تھے ۔
بہرحال حضرت یوسف علیہ السلام نے بغیر کسی شرط کے اور بغیر کسی صلے کے تقاضے کے فوراً خواب کی واضح اور نہایت اعلیٰ تعبیر بیان کی، اس میں آپ نے کچھ چھپائے بغیر درپیش تاریک مستقبل کے بارے میں بتیا ساتھ ہی اس کے لئے راہنمائی کردی اور ایک مرتب پرگرام بتادیا، آپ(علیه السلام) نے کہا: سات سال پیہم محنت سے کاشت کاری کرو کیونکہ ان سات برسوں میں بارش خوب ہوگی لیکن جو فصل کاٹو اسے خوشوں سمیت انباروں کی صورت میں جمع کرلو سوائے کھانے کے لئے جو تھوڑی سی مقدار ضروری ہو (قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِینَ دَاٴَبًا فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوہُ فِی سُنْبُلِہِ إِلاَّ قَلِیلًا مِمَّا تَاٴْکُلُونَ)۔(۱)
لیکن جان لو کہ ان سات برسو کے بعد سات برس خشک سالی،بارش کی کمی اور سختی کے آئیں گے کہ جن میں صرف اس ذخیرے سے استفادہ کرنا ہوگا جو گزشتہ سالوں میں کیا ہوگا،ورنہ ہلاک ہوجاوٴ گے (ثُمَّ یَاٴْتِی مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَاٴْکُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَھُنَّ)۔
البتہ خیال رہے کہ خشکی اور قحط کے ان سات سالوں میں تمام ذخیر ہ شدہ گندم نہ کھا جانا بلکہ کچھ مقدار بیج کے طور پر آئندہ کاشت کے لئے رکھ چھوڑنا کیونکہ بعد کا سال اچھا ہوگا (إِلاَّ قَلِیلًا مِمَّا تُحْصِنُونَ)۔
اگر خشک سالی اور سختی کے یہ سال تم سوچے سمجھے پروگرام اور پلان کے تحت ایک ایک کرکے گزار لو تو پھر تمھیں کوئی خطرہ نہیں ۔اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا خوب باران رحمت ہوگی اور لوگ اس آسمانی نعمت سے خوب بہرہ مند ہوںگے ۔(ثُمَّ یَاٴْتِی مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیہِ یُغَاثُ النَّاس)۔
اس سے نہ صرف زراعت اور اناج کا مسئلہ حل ہوجائے گا بلکہ رَس دار پھل اور روغن دار دانے بھی فراواں ہوں گے کہ لوگ جن سے رَس اور روغن حاصل کریں گے(وَفِیہِ یَعْصِرُونَ)۔
..............
۱۔ ”داٴب“ (بروزن ”مصر“) در اصل مسلسل چلتے رہنے کے معنی میں ہے اور مستقل عادت کے معنی میں بھی آیا ہے، لہٰذا اس کا معنی یہ ہوگا کہ تم اپنی عادت کے مطابق زرا میں زراعت کو زیارہ اہمیت دیتے ہو، اسے معمول کے مطابق جاری رکھو لیکن اسے ہاتھ روک کر استعمال کر، یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مراد یہ تھی جتنی ہوسکے زراعت میں محنت کرو کیونکہ ”داٴب ودوٴب“ خشکی ومحنت کے معنی میں بھی آیا ہے یعنی اتنا کام کرو کہ تھک جاوٴ۔

چند اہم نکات
۱۔ جچی تُلی تعبیر:
حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بیان کی وہ کس قدر جچی تلی تھی ۔قدیمی کہانیوں میں گائے سال کا سنبل سمجھی جاتی تھی اور اس کا توانا ہونا فراواں نعمت کی دلیل ہے جبکہ لاغر ہونا مشکلات اور سختی کی دلیل ہے ۔سات لاغر گائیں سات تونا گاوٴں پر حملہ آور ہوئیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سختی کے سات سالوں میں قبل کے سالوں کا ذخائر سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔اور سات خشک شدہ خوشے جو سات سبز خوشوں سے لپٹ گئے تویہ فراوانی نعمت اور خشک سالی کے دو مختلف ادوار کے لیے ایک اور دلیل تھی ۔اس میں اس نکتے کا اضافہ تھا کہ اناج کو خوشوں کی شکل میں ذخیرہ کیا جانا چاہیئے تاکہ جلد خراب نہ ہو اور سات برس تک چل سکے ۔
نیز یہ کہ لاغر گائیں اور خشک شدہ خوشے سات سات سالوں کے بعد نہ تھے یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان سخت سات سالوں کے بعد یہ کیفیت ختم ہوجائے گی اور فطری طور پر بیج کی فکر بھی کرنا چاہیے اور ذخیرے کا کچھ حصہّ اس کے لیے محفوظ رکھنا چاہیے ۔
حضرت یوسف(علیه السلام) در حقیقت کہ عام تعبیر خواب بیان کرنے والے شخص نہ تھے بلکہ ایک رہبر تھے کہ جو گوشہ زندان میں بیٹھے ایک ملک کے مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کررہے تھے اور انھیں کم از کم پندرہ برس کے لیے مختلف مراحل پر مشتمل ایک پلان دے رہے تھے اور جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ یہ تعبیر جو آئندہ کے لئے منصوبہ بندی اور راہنمائی پر مشتمل تھی نے جابر بادشاہ اور اس کے حواریوں کو ہلا کے رکھ دیا اور اہل مصر کے ہلاکت خیز قحط سے نجات مل گئی ۔

۲۔ قدرت الہی کا عظیم مظہر:
یہ داستان ہمیں پھر یہ عظیم درس دیتی ہے کہ قدرت الہی اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا کہ ہم سوچتے ہیں ۔ خدا وہ ہے کہ جو ایک دور کے جابر حکمران کے ایک معمولی سے خواب کے ذریعے ایک بہت بڑی ملت کو ایک عظیم مصیبت سے نجات عطا کردے اور ساتھ ہی ایک خاص بندے کو بھی سالہا سال کی مصیبت سے رہائی دے دے ۔
اس سارے معاملے میں ضروری تھا کہ بادشاہ خواب دیکھے ۔ وہ خواب بیان کرے تو ساقی موجود ہو اور یہ بھی کہ اسے قید خانے میں دیکھا ہوا اپنا خواب یاد آجائے اور آخر کار اہم واقعات رونما ہوں ۔ خدا وہ ہے کہ جو ایک چھوٹے سے عظیم واقعات پیدا کردیتا ہے ۔ جی ہاں!ہمیں ایسے خدا سے دل باندھنا چاہیے ۔

۳۔ علمِ تعبیرِ خواب۔ حضرت یوسف(علیه السلام) کا معجزہ:
اس سورہ میں متعدد خوابوں کا ذکر ہوا ہے حضرت یوسف(علیه السلام) کا خواب اور فرعون مصر کا خواب۔ یہ تمام خواب اس بہت زیادہ اہمیت کی نشاندہی کرتے ہیں جو اس زمانے کے لوگ تعبیر خواب کو دیتے تھے ۔ اصولاً اس زمانے میں علم تعبیر خواب زمانے کی پیش رفت کے علوم میں سے شمار ہوتا تھا ۔ شاید اسی وجہ سے اس زمانے کے پیغمبر یعنی حضرت یوسف(علیه السلام) اس علم میں درجہ کمال پر فائز تھے کہ جو در اصل ایک معجزہ شمار ہوتا تھا ۔
کیا ایسا ہی نہیں کہ ہر پیغمبر کا معجزہ اپتے زمانے کے ترقی یافتہ ترین میں سے ہونا چاہیے تا کہ اس کے مقابلے میں اس زمانے کے علماء عاجز ہو کر یقین حاصل کریں کہ اس علم کا سرچشمہ علوم الہی ہے نہ کہ انسانی اور بشری ۔