تفسیر نمونہ جلد 09
 

۳۵ثُمَّ بَدَا لَھُمْ مِنْ بَعْدِ مَا رَاٴَوْا الْآیَاتِ لَیَسْجُنُنَّہُ حَتَّی حِینٍ۔
۳۶ وَدَخَلَ مَعَہُ السِّجْنَ فَتَیَانِ قَالَ اٴَحَدُھُمَا إِنِّی اٴَرَانِی اٴَعْصِرُ خَمْرًا وَقَالَ الْآخَرُ إِنِّی اٴَرَانِی اٴَحْمِلُ فَوْقَ رَاٴْسِی خُبْزًا تَاٴْکُلُ الطَّیْرُ مِنْہُ نَبِّئْنَا بِتَاٴْوِیلِہِ إِنَّا نَرَاکَ مِنَ الْمُحْسِنِینَ۔
۳۷ قَالَ لَایَاٴْتِیکُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِہِ إِلاَّ نَبَّاٴْتُکُمَا بِتَاٴْوِیلِہِ قَبْلَ اٴَنْ یَاٴْتِیَکُمَا ذَلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِی رَبِّی إِنِّی تَرَکْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَایُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَھُمْ بِالْآخِرَةِ ھُمْ کَافِرُونَ۔
۳۸ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِی إِبْرَاھِیمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ مَا کَانَ لَنَا اٴَنْ نُشْرِکَ بِاللهِ مِنْ شَیْءٍ ذٰلِکَ مِنْ فَضْلِ اللهِ عَلَیْنَا وَعَلَی النَّاسِ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَشْکُرُون۔

ترجمہ

۳۵۔جب (وہ یوسف کی پاکیزگی کی )نشانیاں دیکھ چکے تو انہوں نے مصمم ارادہ کرلیا کہ اسے ایک مدت تک قید خانے میں رکھیں ۔
۳۶۔اور دونوجوان اور اس کے ساتھ قید خانے میںداخل ہوئے ام میں سے ایک نے کہا: مَیں نے خواب میں دیکھا کہ شراب کے لئے (انگور) نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا: مَیں نے خواب میں دیکھا کہ مَیں روٹیاں اپنے سر پر اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے ان میں سے کھارہے ہیں، ہمیں ان کی تعبیر بتاؤ کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم نیکو کاروں میں سے ہو۔
۳۷۔یوسف نے کیا: اس سے پہلے کہ تمہارے کھانے کا راشن تم تک پہنچے مَیں تمہیں تمہارے خواب کی تعبیر سے آگاہ کردوں گا، یہ وہ علم ہے کہ جس کی تعلیم میرے پروردگارنے مجھے دی ہے، مَیں نے ان لوگوں کے دین کو ترک کر رکھا ہے جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں(اسی لئے مَیں ایسی نعمت کے لائق ہوا ہوں)
۳۸۔مَیں نے اپنے آباء ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کی پیروی کی ہے، ہمارے لئے یہ مناسب نہیں تھا کہ کسی کوخدا کا شریک قرار دیں، یہ خدا کا ہم لوگوں پر فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزاری نہیں کرتے ۔

قید خانہ یا مرکزِ تربیّت
جس وقت حضرت یوسف(علیه السلام) نے گزشتہ گفتگو کے بعد ان قیدیوں کے دلوں کو حقیقتِ توحید قبول کرنے کے لیے آمادہ کرلیا تو ان کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے کہا: اے میرے قیدی ساتھیو! کیا منتشر خدا اور متفرق معبود بہتر ہیں یا یگانہ و یکتا اور قہار اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا خدا (یَاصَاحِبَیِ السِّجْنِ اٴَاٴَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَیْرٌ اٴَمْ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ)۔
گویا یوسف (علیه السلام) انھیں سمجھانا چاہتے تھے کہ کیوں تم فقط عالمِ خواب میں آزادی کو دیکھتے ہو بیداری میں کیوں نہیں دیکھتے، آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا اس کا سبب تمھارا انتشار، تفرقہ بازی اور نفاق نہیں کہ جس کا سرچشنہ شرک، بت پرستی اور ارباب متفرق ہیں جن کی وجہ سے ظالم طاغوت تم پر غالب آگئے ہیں ۔ تم لوگ پرچم توحید کے تلے کیوں جمع نہیں ہوتے اور ”اللهُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ“ کا دامن پرستش کیوں نہیں تھامتے تاکہ ان خود غرض ستمگروں کو اپنے معاشرے سے نکال باہر کرو کہ جو تمھیں بے گناہ اور صرف الزام کی بنیاد پر قید میں ڈال دیتے ہیں ۔
اس کے بعد انہوں نے مزید کہا: یہ غیر خدا معبود تم نے بنارکھے ہیں ان کی حیثیت اسماء بلامسمیٰ کے کچھ نہیں کہ جنہیں تم نے اور تمھارے آباء و اجداد نے خدا کا نام دے رکھا ہے (مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِہِ إِلاَّ اٴَسْمَاءً سَمَّیْتُمُوھَا اٴَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ)۔
”یہ ایسے امور ہیں کہ جن کے لیے خدا نے کوئی دلیل و مدرک نازل نہیں فرمایا“ بلکہ یہ تمھارے کمزور ذہن کی پیدا وار ہیں ( مَا اٴَنزَلَ اللهُ بِھَا مِنْ سُلْطَانٍ)۔
”جان لو کہ حکومت خدا کے علاوہ کسی کے لیے نہیں ہے“ اور اسی لیے تمھیں ان بتوں، طاغوتوں اور فرعونوں کی تعظیم کے لیے سر نہیں جھکانا چاہیے ( إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّٰہِ )۔
انہوں نے مزید تاکید کے لیے اضافہ کیا : خدانے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کرو (اٴَمَرَ اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاہُ)۔”یہ ہے مستحکم و مستقیم دین“ کہ جس میں کسی قسم کا کوئی پیچ و خم نہیں ( ذٰلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ)۔
یعنی توحید ہر لحاظ سے ۔ عبادت، معاشرے پر حکومت، ثقافت اور ہر چیز میں مستحکم اور مستقیم دین ہے ۔
لیکن کیا کیا جائے کہ لوگ ہی آگاہی نہیں رکھتے اور اسی عدمِ آکہی کے باعث شرک کی بھول بھلیوں میں سرگردان ہیں اور اپنے آپ کو غیر اللہ کی حکومت کے سپرد کردیتے ہیں اور اس طرح انھیں کیسی کیسی سختیوں، قید و بند اور بخبتیوں کا سامنا کرنا پڑ تا ہے ( وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ)۔
اپنے دو قیدی ساتھیوں کو رہبری و ارشاد اور انھیں حقیقت توحید کی طرف مختلف پہلووٴں کے حوالے سے دعوت دینے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے ان کے خواب کی تعبیر بیان کی کیونکہ وہ دونوں اسی مقصد کے لیے آپ کے پاس آئے تھے اور آپ نے بھی انھیں قول دیا تھا کہ انھیں ان کے خوابوں کی تعبیر بتائیں گے لیکن آپ نے موقع غنیمت جانا اور توحید کے بارے میں اور شرک کے خلاف واضح اور زندہ دلائل کے ساتھ گفتگو کی ۔
اس کے بعد آپ نے ان دو قیدی ساتھیوں کی طرف رُخ کرکے کہا: اے میرے قیدی ساتھیو! تم میں سے ایک آزاد ہوجائے گا اور اپنے ”ارباب“ کو شراب پلانے پر مامور ہوگا (یَاصَاحِبَیِ السِّجْنِ اٴَمَّا اٴَحَدُکُمَا فَیَسْقِی رَبَّہُ خَمْرًا)۔لیکن دوسرا سولی پر لٹکایا جائے گا اور اتنی دیر تک اس کی لاش لٹکائی جائے گی کہ آسمانی پرندے اس کے سر کو نوچ نوچ کر کھائیں گے (وَاٴَمَّا الْآخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاٴْکُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَاٴْسِہِ)۔
ان دونوں مذکورہ خوابوں کی مناسبت سے اگر چہ اجمالاً واضح تھا کہ ان میں سے کون آزاد ہوگا اور کون سولی پر لٹکایا جائے گا لیکن حضرت یوسف (علیه السلام) نے نہ چاہا کہ یہ ناگوار خبر اس سے زیادہ صراحت سے بیان کریں لہٰذا آپ(علیه السلام) نے”تم میں سے ایک“ کہہ کر گفتگو کی ۔
اس کے بعد اپنی بات کی تائید کے لیے مزید کہا: یہ معاملہ جس کے بارے میں تم نے مجھ سے سوال کیا ہے اور مسئلہ پوچھا ہے حتمی اور قطعی ہے (قُضِیَ الْاٴَمْرُ الَّذِی فِیہِ تَسْتَفْتِیَانِ)۔یہ اس طرف اشارہ تھا کہ یہ خواب کی کوئی معمولی سی تعبیر نہیں ہے بلکہ ایک غیبی خبر ہے جسے میں نے الٰہی تعلیم سے حاصل کیا ہے لہٰذا اس مقام پر تردد و شک اور چون و چرا کی کوئی گنجائش نہیں ۔
بہت سی تفاسیر میں اس جملے کے ذیل میں مرقوم ہے کہ جب دوسرے شخص نے یہ ناگوار خبر سنی تو وہ اپنی بات کی تکذیب کرنے لگا: میں نے جھوٹ بولا تھا، میں نے ایسا کوئی خواب نہیں دیکھا تھا، میں نے مذاق کیا تھا ۔
اس کا خیال تھا کہ اگر وہ اپنے خواب کی تردید کردے گا تو اس کی سرنوشت تبدیل ہوجائے گی ۔ لہٰذا حضرت یوسف (علیه السلام) نے ساتھ ہی یہ بات کہہ دی کہ جس چیز کے بارے میں تم نے دریافت کیا وہ نا قابلِ تغیرّ ہے ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ حضرت یوسف(علیه السلام) کو اپنی تعبیرِ خواب پر اس قدر یقین تھا کہ انہوں نے یہ جملہ تاکید کے طور پر کہا ۔
لیکن جس وقت آپ نے محسوس کیا کہ یہ دونوں عنقریب ان سے جدا ہوجائیں گے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ ان کے ذریعے آزادی کا کوئی دریچہ کھل جائے اور روشنی کی کوئی کرن پھوٹے اور جس گناہ کی آپ (علیه السلام) کی طرف نسبت دی گئی تھی اس سے اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت کریں، ”آپ نے ان دو قیدی ساتھیوں میں سے جس کے بارے میں جانتے تھے کہ وہ آزاد ہوگا اس سے فرمائش کی کہ آپ نے مالک و صاحبِ اختیار (بادشاہ) کے پاس میرے متعلق بات کرنا“ تاکہ وہ تحقیق کرے اور میری بے گناہی ثابت ہوجائے (وَقَالَ لِلَّذِی ظَنَّ اٴَنَّہُ نَاجٍ مِنْھُمَا اذْکُرْنِی عِنْدَ رَبِّکَ)۔
لیکن اس فراموش کار غلام نے یوسف کا مسئلہ بالکل بھلا دیا جیسا کہ کم ظرف لوگوں کا طریقہ ہے کہ جب نعمت حاصل کرلیتے ہیں تو صاحبِ نعمت کو فراموش کردیتے ہیں ۔ البتہ قرآن نے یہ بات یوں بیان کی ہے: جب وہ اپنے مالک کے پاس پہنچا تو شیطان نے اس کے دل سے یوسف کی یاد بھلادی (فَاٴَنسَاہُ الشَّیْطَانُ ذِکْرَ رَبِّہِ)۔ اور اس طرح یوسف فراموش کردیےٴ گئے ”اور چند سال مزید قید خانے میں رہے“( فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِین)۔
اس بارے میں کہ ”اٴَنسَاہُ الشَّیْطَانُ“ کی ضمیر بادشاہ کے ساقی کے لیے ہے یا حضرت یوسف(علیه السلام) کے لئے ، اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے ۔
بہت سوں کے نزدیک یہ ضمیر یوسف (علیه السلام) کی طرف لوٹتی ہے ۔ اس احتمال کی بناء پر جملے کا معنی اس طرح ہوگا: شیطان، یادِ خدا یوسف (علیه السلام) کے دل سے لے گیا اور اسی بناء پر وہ غیر خدا سے متوسل ہوئے ۔
لیکن گزشتہ جملے کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یوسف (علیه السلام) نے اس سے فرمائش کی تھی کہ میرا تذکرہ اپنے صاحب و مالک سے کرنا ، ظاہری مفہوم یہ نکلتا ہے کہ یہ ضمیر ساقی کی طرف لوٹتی ہے ۔ اور لفظ ”رب“ کا دونوں جگہ ایک ہی مفہوم ہے ۔
علاوہ ازیں ”واذکر بعد امة“(ایک مدت کے بعد اسے یاد آیا)۔ یہ جملہ بھی بعد کی چند آیات میں اس داستان کے ذیل میں ساقی کے بارے میں آیا ہے، جو نشاندہی کرتا ہے کہ بھول جانے والا وہی تھا نہ کہ حضرت یوسف علیہ السلام۔
البتہ زندان یا دیگر مشکلات سے نجات کے لیے ایسی کوشش عام افراد کے لیے کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے اور طبیعی اسباب سے کام لینے کے ضمن میں ہے لیکن ایسے افراد کے لیے کہ جو نمونہ ہوں اور ایمان و توحید کی بلند سطح پر فائز ہوں ان کے لیے اشکال سے خالی نہیں ہوسکتی ۔ شاید اسی بناء پر خدانے یوسف کے اس ”ترکِ اولیٰ“ کو نظر انداز نہیں کیا اور اس وجہ سے ان کی قید چند سال مزید جاری رہی ۔
پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے ایک روایت میں ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا:
مجھے اپنے بھائی یوسف پر تعجب ہوتا ہے کہ انہوں نے کیونکر خالق کی بجائے مخلوق کی پناہ لی اور اس سے مدد طلب کی ۔(۱)
ایک اور روایت میں امام صادقعلیہ السلام سے منقول ہے:
اس واقعے کے بعد جبرائیل یوسف(علیه السلام) کے پاس آئے اور کہا: کس نے تمھیں سب لوگوں سے زیادہ حسین بنایا؟
کہنے لگے: میرے پروردگار نے ۔
کہا: کس نے تمھارے باپ کے دل میں تمھاری اس قدر محبت ڈالی؟
بولے: میرے پروردگار ہے ۔
کہا: کس نے قافلے کو تمھاری طرف بھیجاتا کہ وہ تمھیں کنویں سے نجات دے؟
کہنے لگے: میرے پروردگار نے ۔
پوچھا: کس نے اس پتھر کو (جو انہوں نے کویں کے اوپر سے گرایا تھا) تم سے دور رکھا؟
بولے: میرے پروردگار نے ۔
پوچھا: کس نے تمھیں کنویں سے نجات دی؟
کہنے لگے: میرے پروردگار نے ۔
کہا: کس نے مصر کی عورتوں کے مکر و فریب سے تمھیں دور رکھا؟
کہنے لگے: میرے پروردگار نے ۔
اس پر جبرائیل نے کہا: تمھارا پروردگار کہہ رہا ہے کس چیز کے سبب تم اپنی حاجت مخلوق کے پاس لے گئے ہو اور میرے پاس نہیں لائے ہو۔ لہٰذا چاہیٴے کہ چند سال زندان میں رہو ۔(2)

چند اہم نکات
۱۔ قید خانہ مرکز ہدایت یا برائی کا دبستان:
دنیا میں زندان کی تاریخ بہت ہی دردناک اور غم انگیز ہے ۔بدترین مجرم اور بہترین انسان دونوں قید خانہ ہمیشہ بہترین اصلاحی یا بدترین بری چیزیں سکھا نے کا مرکز رہا ہے ۔قید خانے میں اگر تباخہ کار اور برے لوگ ایک جگہ جمع ہوجائیں تو در حقیقت یہ برائی کی ایک بڑی سطح کی تربیت گاہ بن جاتی ہے ۔ان قید خانوں میں تخریبی منصوبوں پر تبادلہ خیالات ہوتا ہے اور مجرم اپنے تجربات ایک دوسرے تک پہنچاتے ہیں اور ہر مجرم در اصل اپنا خصوصی درس دوسروں تک پہنچاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ جیل سے نکل کر آزادی کے بعد پہلے سے بہتر اور زیادہ ماہرانہ انداز میں اپنے جراتم جاری رکھتے ہیں ۔یہ لوگ آپس میں مربوط ہوکر اور نئے انداز میں اپنا کام شریع کردیتے ہیں ۔البتہ جیل کے نگران اس سلسلے میں رکھتے ہوئے کہ یہ لوگ عام طور پر با صلاحیت ہوتے ہیں تو انھیں صالح مفید اور اصلاح شدہ افراد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔
رہے وہ زندان کے جن میں پاک نیک ،بے گناہ ،حق و آزادی کے مجاہدیوں ہوتے ہیں،وہاں عقائد، علمی جہاد کے طریقوں اور اصلاحی امور کی تدریس ہوتی ہے ۔ایسے زندان راہ حق کے مجاہدیں کے لیے اچھا موقع مہیا کرتے ہیں کہ وہ آزادی کے بعد اپنی کاوشوں کوہم آہنگ اور متشکل کرسکیں ۔
حضرت یوسف کہ جو روجہ مصر جیسی ہوس باز،حیلہ گر اور ہٹ دھرم عورت کے خلاف کامیاب ہوئے تھے ان کی کوشش تھی کہ قید خانے کے ماحول کو ارشاد و ہدایت اور تعلیم و تربیت کے مرکز میں بدل دیں یہاں تک کہ اپنی اور دوسروں کی آزادی کی بنیاد انہی پر و گراموں پر رکھ دیں ۔
یہ سرگزشت ہمیں یہ اہم درس دیتی ہے کہ ارشاد اور تعلیم و تربیت کسی معین مرکز مثلاً مسجد و مدرسہ میں محدود و محصور نہیں ہے بلکہ اس مقصد کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیئے ۔یہاں تک کہ قید خانے میں بھی اور اسیری کی زنجیروں میں جکڑے ہونے کی حالت میں بھی ۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قید کی مجموع مدت سات سال تھی لیکن بعض کا کہنا ہے کہ آپ قیدیوں کے خواب کے واقعہ سے پہلے پانچ سال قید میں رہے اور اس کے بعد بھی سات سال قید رہے ۔یہ بہت رنج و زحمت کے سال تھے لیکن ارشاد و ہدایت اور اصلاح و تربیت کے لحاظ سے بہت پر برکت تھے ۔(3)

۲۔جہاد نیک سولی پر لٹکائے جاتے ہیں :
یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس داستان میں ہے کہ جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ شراب کا جام بادشاہ تھما رہا ہے وہ رہا ہوگیا اور جس نے دیکھا کے روٹیوں کا طبق اس کے سر پر ہے اور فضا کے پرندے اسی میں سے کھارہے ہیں وہ سولی پر لٹکا دیا گیا ۔
کیا اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ فاسد اور گندے ماحول میں طاغوتی حکومتوں میں وہ لوگ آزاد ہیں جو اپنی شہوات کی راہ پر چلتے ہیں اور جو معاشرت کی خدمت ،مدد اور بھو کوں کو روٹی کھلانے کی کوشش کرتے ہیں وہ زندگی کا حق نہیں رکھتے ،ایسے لوگوں ما انجام موت ہے ۔
جس معاشرے پر خراب اور فاسد نظام حکمران ہو اس کی یہی کیفیت ہوتی ہے اور ایسے معاشرے میں اچھے اور برے لوگوں کی ایسی ہی کیفیت ہوتی ہے ۔

۳۔ آزادی کا عظیم درس:
ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام)نے قیدیوں کو جو سب سے بالا درس دیا ہے وہ توحید پرستی کا درس ہے ۔وہی درس کہ جس کا خلاصہ حریت و آزادی ہے ۔
وہ جانتے تھے کہ ”ارباب متفرقون“ منتشر مقاصد اور مختلف معبود ، تفرقہ اور پراگندگی کا سرچشمہ ہیں اور جب تک تفرقہ اور انتشار موجود ہے طاغوت اور جابر افراد لوگوں پر مسلط ہیں گے لہٰذا آپ(علیه السلام) نے ان کی جڑ کاٹنے کا حکم دیا اور اس کے لیے توحید کی شمشیر برّاں سے کام لینے کے لیے کہا تا کہ آزادی کو صرف خواب میں نہ دیکھے رہیں بلکہ عالم بیداری میں دیکھیں ۔
لیکن جابر اور ستمگر لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوتے ہیں اگر چہ وہ کم ہوتے ہیں مگر تفرقہ بازی اور نفاق سے کام لیتے ہیں ۔یہ لوگ ”ارباب متفرقون“ کے ذریعے معاشرے کی طاقت کومنتشر کودیتے ہیں اور اس طرح عوام کی عظیم کثرت پر حکومت کرنا ان کے لئے ممکن ہوجاتا ہے ۔
جس دن قومیں توحید اور وحدتِ کلمہ کی طاقت سے آشنا ہوں گی اور سب لوگ ”الله واحد القھار“ کے پرچم تلے جمع ہوں گے اور اپنی عظیم قوت کا ادراک کرلیں گے وه دن جابروں اور ستمگروں کی نابودی کا دن ہوگا، یہ درس ہمارے آج کے لئے ، ہمارے کل کے لئے تمام انسانی معاشروں کے لئے اور پوری تاریخ کے سب انسانوں کے لئے بہت اہم ہے ۔
خصوصاً اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ یوسف(علیه السلام) کہتے ہیں حکومت مخصوص ہے خدا کے لئے ”إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّٰہِ“ اور اس کے بعد تالکید کرتے ہیں کہ پرستش، خضوع اور تسلیم بھی صرف اسی کے حکم کے سامنے ہونا چاہیے (اٴَمَرَ اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاہُ) پھر تاکید کرتے ہیں کہ مستقیم اور مستحکم آئین اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں (ذٰلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ)۔
لیکن آپ(علیه السلام) نے اس کا انجام بھی بتادیا کہ ان سب چیزوں کے باوجود افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اکثر لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں (وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ)۔ لہٰذا اگر لوگ صحیح تربیت وآگہی حاصل کریں اور ان میں حقیقتِ توحید زندہ ہوجائے تو ان کی یہ ساری مشکلات حل ہوجائیں ۔

۴۔ایک اصلاحی شعار سے سوء استفادہ:
”إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّٰہِ“ قرآن کا ایک مثبت شعار ہے اور یہ تعرہ الله کی حکومت اور الله تک پہنچنے والی حکومت کے علوہ ہر حکومت کی نفی کرتا ہے، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تاریخ کے ایک طویل دَور میں اس سے عجیب وغریب غلط فائدہ اٹھایا گیا ہے، ان میں سے جیسا کہ ہم جانتے ہیں نہروان کے خوارج بھی تھے، یہ بہت ظاہر بین، جامدِفکر، احمق اور بدسلیقہ لوگ تھے ۔ جنگ صفین کے موقع پر یہ لوگ حکیمت اور تحکیم کی نفی کے لئے اس شعار سے چمٹ گئے اور کہنے لگے کہ جنگ ختم کرنے یا خلیفہ معین کرنے کے لئے حکم کا تعین گناہ ہے کیونکہ خدا کہتا ہے: ”إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّٰہِ“(حکومت وحکمیت خدا سے مخصوص ہے)۔
وہ اس واضح مسئلے سے غافل تھے یا انھوں نے اپنے آپ کو غافل بنالیا تھا کہ اگر حکمیت کا تعین پیشواوٴں کی طرف سے ہو۔ وہ پیشوا کہ جن کے رہبر کا حکم خدا کی طرف سے صادر ہو تو ان کا حکم بھی حکم خدا ہے کیونکہ آخرکار یہ حکم اس تک جاپہنچا ہے ۔
یہ ٹھیک ہے کہ جنگ صفین کے موقع پر حکم (اور فیصلہ کرنے والوں کا تعین) حضرت علی علیہ السلام کی طرف سے نہیںہوا تھا لیکن اگر ایسا ہوتا تو اُن کا حکم حکم، علی(علیه السلام) کا حکم اور پیغمبرِ اکرم کا حکم پیغمبرِ اکرم کا حکم خدا کا حکم ہے ۔
اصولی طور پر کیا خدا براہِ راست انسانی معاشرے پر حکومت اور قضاوت کرتا ہے؟ کیا اس کے لئے اس کے علاوہ کوئی صورت ہے کہ نوعِ انسانی میں سے کچھ افراد۔ البتہ فرمانِ خدا سے اس امر کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیں؟
لیکن خوارج نے اس واضح حقیقت کی طرف توجہ کیے بغیر اصلاً حضرت علی علیہ السلام پر واقعہ حکمیت اور تحکیم کے بارے اعتراض کیا، یہاں تک کہ اسے معادذ الله آپ(علیه السلام) کے اسلام سے انحراف کی دلیل سمجھا، افسوس ہے ۔ اس خود خواہی، جہالت اور جمود پر۔
ایسے اصلاحی پروگرام جب جاہل ونادان افراد کے ہاتھ جاپڑیں تو بد ترین تباہ کن وسائل میں بدل جاتے ہیں ۔
آج بھی وہ گروہ کہ در حقیقت خوارج کی نفسیات رکھتے ہیں اور جہالت اور ہٹ دھرمی میں اس سے کم نہیں مندرجہ بالا آیت کو مجتہدین کی تقلید کی نفی یا ان سے صلاحیتِ حکومت کی نفی پر دلیل سمجھتے ہیں ۔ لیکن ان سب کا جواب مندرجہ بالا سطور میں دیا جاچکا ہے ۔
..............
۱۔ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
ُ2۔ مجمع البیان، ج ۵ ص ۲۳۵۔
3۔ مزید وضاحت کے لئے تفسیر المنار،, قرطبی، المیزان اور تفسیر کبیر کی طرف رجوع کریں ۔

غیر خدا کی طرف توجہ
توحید کا خلاصہ اور معنی طرف یہ نہیں کہ خدا یگانہ ویکتا ہے بلکہ توحید پرستی کو انسان کے تمام پہلووٴں میں عملی صورت اختیار کرنا چاہیے اور اس کی روشن ترین نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ موحّد انسان غیرِ خدا پر بھروسہ نہیں کرتا اور اس کے غیر کی پناہ نہیں لیتا ۔
مَیں یہ نہیں کہتا کہ عالمِ اسباب کی پرواہ نہیں کرتا اور زندگی میں وسیلے اور سبب سے کام نہیں لیتا بلکہ مَیں کہتا ہوں کہ تاثیرِ حقیقی کو سبب میں نہیں سمجھتا بلکہ تمام اسباب کا سرا ”مسبب الاسباب“ کے ہاتھ میں جانتا ہے، دوسرے لفظوں میں اسباب کے لئے استقلال کا قائل نہیں ہے اور ان سب کو ذاتِ پاک پروردگار کا پڑتو سمجھتا ہے، ہوسکتا ہے اس عظیم حقیقت سے عدمِ واقفیت عام لوگوں کے بارے چشم پوشی کے قابل ہو لیکن اولیائے حق کے لئے اس بنیاد سے سرِمُو بے توجہی مستوجبِ سزا ہے، اگرچہ اس کی حیثیت ترکِ اولیٰ سے زیادہ نہیں ہے اور ہم نے دیکھا ہے کہ اس سے حضرت یوسف(علیه السلام) کی لحظہ بھر کی بے توجہی سے ان کی قید کی مدت طویل ہوگئی تاکہ حوادث کی بھٹی میں وہ زیادہ پختہ اور آبدیدہ ہوجائیں اور طاقت اور طاغوتیوں کے خلاف جہاد کے لئے زیادہ ہوجائیں اور جان لیں کہ اس راستے میں الله کی قوت وطاقت پر بھروسہ کرنا ہے اور ان محروم اور ستم رسیدہ لوگوں پر بھروسہ کرنا ہے جو الله کی راہ میں قدم اٹھاتے اور یہ اس راہ کے تمام راہیوں اور سچّے مجاہدین کے لئے ایک عظیم درس ہے کہ جو ایک شیطان کی سرکوبی کے لئے اپنے اندر دوسرے یطان کی محبت کو داخل نہیں ہونے دیتے، وہ مشرق ومغرب کی طرف نہیں جھکتے اور صراطِ مستقیم کہ جو امتِ وسط کی شاہراہ ہے اس کے علاوہ کسی راستے پر قدم نہیں رکھتے ۔