تفسیر نمونہ جلد 09
 

۳۵ثُمَّ بَدَا لَھُمْ مِنْ بَعْدِ مَا رَاٴَوْا الْآیَاتِ لَیَسْجُنُنَّہُ حَتَّی حِینٍ۔
۳۶ وَدَخَلَ مَعَہُ السِّجْنَ فَتَیَانِ قَالَ اٴَحَدُھُمَا إِنِّی اٴَرَانِی اٴَعْصِرُ خَمْرًا وَقَالَ الْآخَرُ إِنِّی اٴَرَانِی اٴَحْمِلُ فَوْقَ رَاٴْسِی خُبْزًا تَاٴْکُلُ الطَّیْرُ مِنْہُ نَبِّئْنَا بِتَاٴْوِیلِہِ إِنَّا نَرَاکَ مِنَ الْمُحْسِنِینَ۔
۳۷ قَالَ لَایَاٴْتِیکُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِہِ إِلاَّ نَبَّاٴْتُکُمَا بِتَاٴْوِیلِہِ قَبْلَ اٴَنْ یَاٴْتِیَکُمَا ذَلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِی رَبِّی إِنِّی تَرَکْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَایُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَھُمْ بِالْآخِرَةِ ھُمْ کَافِرُونَ۔
۳۸ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِی إِبْرَاھِیمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ مَا کَانَ لَنَا اٴَنْ نُشْرِکَ بِاللهِ مِنْ شَیْءٍ ذٰلِکَ مِنْ فَضْلِ اللهِ عَلَیْنَا وَعَلَی النَّاسِ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَشْکُرُون۔

ترجمہ

۳۵۔جب (وہ یوسف کی پاکیزگی کی )نشانیاں دیکھ چکے تو انہوں نے مصمم ارادہ کرلیا کہ اسے ایک مدت تک قید خانے میں رکھیں ۔
۳۶۔اور دونوجوان اور اس کے ساتھ قید خانے میںداخل ہوئے ام میں سے ایک نے کہا: مَیں نے خواب میں دیکھا کہ شراب کے لئے (انگور) نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا: مَیں نے خواب میں دیکھا کہ مَیں روٹیاں اپنے سر پر اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے ان میں سے کھارہے ہیں، ہمیں ان کی تعبیر بتاؤ کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم نیکو کاروں میں سے ہو۔
۳۷۔یوسف نے کیا: اس سے پہلے کہ تمہارے کھانے کا راشن تم تک پہنچے مَیں تمہیں تمہارے خواب کی تعبیر سے آگاہ کردوں گا، یہ وہ علم ہے کہ جس کی تعلیم میرے پروردگارنے مجھے دی ہے، مَیں نے ان لوگوں کے دین کو ترک کر رکھا ہے جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں(اسی لئے مَیں ایسی نعمت کے لائق ہوا ہوں)
۳۸۔مَیں نے اپنے آباء ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کی پیروی کی ہے، ہمارے لئے یہ مناسب نہیں تھا کہ کسی کوخدا کا شریک قرار دیں، یہ خدا کا ہم لوگوں پر فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزاری نہیں کرتے ۔

بے گناہی کے پاداش میں قید
قصرِ میں یوسف (علیه السلام) کی موجود گی میں زنانِ مصر کی حیران کن محفل اس شور وغوغا کے عالم میں تمام ہوئی، فطری بات تھی کہ یہ خبر کے کان تک پہنچ گئی، ان کے تمام واقعات سے واضح ہوگیا کہ یوسف (علیه السلام) کو معمولی انسان نہیں ہے اور اس قدر پاکیزہ ہے کہ کوئی طاقت اسے گناہ پر ابھار نہیں سکتی، مختلف حوالوں سے اس کی پاکیزگی کی نشانیاں واضح ہوئیں ۔
یوسف (علیه السلام) کی قمیص کا پیچھے سے پھٹا ہونا ، زنانِ مصر کے وسوسے کے مقابلے میں استقامت کا مطاہرہ کرنا، قید خانے میں جانے کے لئے آمادہ ہونا اور زوجہ کی طرف سے قید اور عذابِ الیم کی دھمکیوں کے سامنے سر نہ جھکانا یہ سب اس کی پاکیزگی کی دلیل تھیں، یہ ایسے دلائل تھے کہ کوئی شخص نہ اسے چھپا سکتا تھا نہ ان کا انکار کرسکتا تھا ، ان کا لازمی نتیجہ زوجہ مصر کی ناپاکی اور جرم تھا ، یہ جرم ثابت ہونے کے بعد عوام میں خاندانِ کی جنسی حوالے سے رسوائی کا خوف بڑھ رہا تھا، مصر اور اس کے مشیر وں کو اس کے لئے صرف یہی چارہ دکھائی دیا کی یوسف (علیه السلام) کو منظر سے ہٹایا جائے، اس طرح سے کہ لوگ اسے اور اس کا نام بھول جائیں ، اس کے لئے ان کی نظر میں بہترین راستہ اسے تاریک قید خانے میں بھیجا تھا کہ جس سے ہوسف (علیه السلام) کو بھلا بھی دیا جائے گا اور وہ یہ بھی سمجھے گے کہ اصلی مجرم یوسف (علیه السلام) تھا، ایس لئے قرآن کہتا ہے:جب انہوں نے (وہ یوسف کی پاکیزگی کی )نشانیاں دیکھ لیںتو پختہ ارادہ کرلیا کہ اسے ایک مدت تک قید میں ڈالا جائے(ثُمَّ بَدَا لَھُمْ مِنْ بَعْدِ مَا رَاٴَوْا الْآیَاتِ لَیَسْجُنُنَّہُ حَتَّی حِینٍ)۔
”بدا“ کامعنی ”نئی رائے پیدا ہونا“یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ پہلے اس کے بارے میں ان کا کوئی ارادہ نہ تھا اور پہلی مرتبہ زوجہ نے بات احتمال کے طورپر پیش کی تھی، بہرحال اس طرح یوسف (علیه السلام) کی پاکدامنی کے گناہ میں قید خانے میں پہنچ گئے اور یہ پہلی مرتبہ نہ تھا کہ ایک قابل اور لائق انسان پاکیزگی کے جرم میں زندان میں گیا ۔
جی ہاں! ایک آلودہ اور گندے ماحول میں آزادی تو ان آلودہ لوگوں کے لئے ہوتی ہے جو پانی کے بہاؤ کے ساتھ چلتے ہیں، ایسے ماحول میں نہ صرف آزادی بلکہ سب کچھ انہیں کو میسر ہوتا ہے اور یوسف جیسے پاکدامن اور قیمتی افراد کہ جو اس ماحول کے رنگ میں رنگے نہیں جاتے اور پانی کے بہاؤ کے مخالف چلتے ہیں انہیں ایک طرف ہوناپڑتاہے لیکن کب تک؟ کیا ہمیشہ کے لئے؟ نہیں ، یقینا نہیں ۔
یوسف کے ساتھ زندان میں داخل ہونے والے دوجوان بھی تھے(وَدَخَلَ مَعَہُ السِّجْنَ فَتَیَانِ)۔
جب انسان کسی معمول کے طریقے سے خبروں تک رسائی حاصل نہ کر سکے تو تو اس کے لئے دوسرے احساسات کو استعمال کرتا ہے تاکہ حوادث کا اندازہ لگا سکے، خواب بھی اس مقصد کے لئے کار آمد ہوسکتا ہے ۔
اس بنا پر دو نوجوان کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ کے گھر مشروبات پر مامور تھا اور دوسرا باورچی خانے کا کنٹرولر ، دشمنوں کی چغلخوری اور بادشاہ کو زہر دینے کے الزام میں قید تھے، ایک روز یوسف (علیه السلام) کے پاس آئے، دونوں نے اپنا گزشتہ شب کا خواب سنا یا جو کہ ان کے لئے عجیب تھا، ایک نے کہا: مَیں نے خواب میں دیکھا ہے کہ شراب بنانے کے لئے انگور نچوڑ رہا ہوں ( قَالَ اٴَحَدُھُمَا إِنِّی اٴَرَانِی اٴَعْصِرُ خَمْرًا )۔
دوسرے نے کہا: مَیں نے خواب میں دیکھا کہ مَیں نے کچھ روٹیاں سر پر اٹھارکھی ہیں اورآسمان کے پرندے آتے ہیںاوران میں سے کھاتے ہیں(وَقَالَ الْآخَرُ إِنِّی اٴَرَانِی اٴَحْمِلُ فَوْقَ رَاٴْسِی خُبْزًا تَاٴْکُلُ الطَّیْرُ مِنْہ)۔
اس کے بعد انہوں نے مزید کہا:، ہمیں ہمارے خواب کی تعبیر بتاؤ، کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم نیکو کاروں میں سے ہو(نَبِّئْنَا بِتَاٴْوِیلِہِ إِنَّا نَرَاکَ مِنَ الْمُحْسِنِینَ)۔
یہ کہ ان دونوں جوانون کو کیسے معلوم ہوا کہ یوسف (علیه السلام) تعبیر کواب کے بارے میں اتنا وسیع علم رکھتے ہیں ،اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے ۔
بعض نے کہا ہے کہ یوسف (علیه السلام) نے خود سے قید خانے میں قیدیوں سے اپنا تعارف کرایا تھا کہ وہ تعبیرِ خواب کے بارے میں وسیع علم رکھتے ہیں ۔
بعض دیگر نے کہا ہے کہ یوسف (علیه السلام) کی ملکوتی صفات نشاندہی کرتی تھیں کہ وہ ایک عام آدمی نہیں ہے بلکہ آگاہ اور صاحبِ فکر وبینش انسان ہے، اسی سے انہون نے سمجھا کہ ایساانسان تعبیرِ خواب کے بارے میں درپیش مشکل کوحل کرسکتا ہے ۔
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے قید خانے میں آتے ہی اپنا نیک اطوار ، حسنِ اخلاق اور قیدیوں کی دلجوئی، خدمت اور بیمارون کی عیادت سے یہ ظاہر کردیا تھاکہ وہ ایک نیک اور گرہ کشا انسان ہیں، اسی لئے قیدی مشکلات میں انہیں کہ پناہ لیتے تھے اور ن سے مدد مانگتے تھے ۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ یہاں قرآن نے لفظ ”عبد“ یا ”بردہ“ کی بجائے لفظ”فتی“ (جوان) استعمال کیا ہے جو کہ ایک قسم کا احترام ہے، ایک حدیث میں ہے : لا یقولون احدکم عبدی وامتی ولاکن فتای وفتاتی ۔
تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میرا گلام اورمیری کنیز بلکہ کہو میر اجوان (لڑکا یا لڑکی)۔(۱)
(یہ اس لئے تھا کہ اسلام نے غلاموں کی آزادیکے لئے جو دقیق پرگرام بنایا ہے اس تدریجی آزادی کے دَور میں بھی گلام ہر قسم کی تحقیر و تذلیل سے محفوظ رہے )۔
جملہ” انی اعصر خمرا“ (مَیں شراب نچوڑ رہاہوں)، یا اس بنا پر ہے کہ اس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ شراب بنانے کے لئے انگور نچوڑ رہا تھا یا وہ انگور جو خم میں تھا شراب ہوشکا تھا اسے وہ صاف کرنے کے لئے اورشراب بنانے کے لئے باہر نکال کر نچوڑ رہا تھا یا یہ کہ انگور نچوڑ رہا تھا تاکہ کہ انگورکا پانی بادشاہ کو دے، بغیر شراب بنائے ہوئے کیسے دے دیتا لیکن چونکہ یہ انگور شراب میں تبدیل ہونے کے قابل ہے اس لئے اس کے لئے لفظ ”خمر“ استعمال کیا گیا ہے ۔
”انی ارانی“ (مَیں دیکھ رہا ہوں)، یہ جملہ حالیہ ہے حالانکہ قائدتاً اسے کہنا چاہیئے تھا کہ ”مَیں نے خواب میں دیکھا ہے“ یعنی بیان کرتے ہوئے وہ اپنے تئیں خواب فرض کرتا ہے اور اس حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے اسے بیان کرتا ہے ۔
بہرحال وہ یوسف (علیه السلام) کہ جو قیسیوں کی ہدایت اور راہنمائی کو کوئی موقع ہاتھ سےنہ جانے دیتے تھے انہوں نے ان قیدیوں کی طرف سے تعبیر ِ خواب کے للئے رجوع کرنے کو غنیمت جانا اور اس بہانے سے ایسے اہم حقائق بیان کئے جو ان کی تعبیرِ خواب سے متعلق اپنی آگاہی کے بارے میں کہ جو ان دو قیدیوںکے لئے بہت اہمیت رکھتے تھے، اور تمام انسانون کے لئے راستہ کھولنے والے تھے، آپ (علیه السلام)نے پہلے تو ان کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے ان سے کہا:تمہارے کھانے کا راشن آنے سے پہلے مَیں تمہیں خواب کی تعبیر سے آگاہ کردوں گا(قَالَ لَایَاٴْتِیکُمَا )۔
اس طرح آپ نے انہیں اطمینان دلایا کہ کھانا آنے سے پہلے وہ اپنامقصود پالیں گے ۔
اس جملے کی تفسیر کے بارے میں مفسرین نے بہت سے احتمال ذکر کئے ہیں ۔
ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام)نے کہا کہ مَیں حکمِ پروردگار سے کچھ اسرار سے آگاہ ہوں اور نہ سرف تمہارے خواب کی تعبیر بتاؤں گا بلکہ مَیں یہ بھی بتاسکتا ہوںکہ تمہارے لئے آج کونسی اور کس قسم کی غذا لائی جائے گی اور مَیں اس کی خصوصیات بھی بتا سکتا ہوں، اس بناء پر ”تاویل“ سے یہاں مراد ”غذا کی خصوصیات“ ہیں (البتہ اس معنی میں ”تاویل“ کا استعمال بہت کم ہوا ہے خصوصاً گزشتہ جملے میں یہ لفظ تعبیر خوبکے معنی میں ہے) ۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام) کی مراد یہ تھی کہ تم جس قسم کا طعام خواب میں دیکھو مَیں تم سے اس کی تعبیر بیان کرسکتاہوں، لیکن یہ احتمال”قبل ان یاتیکما“ کے جملے سے مناسبت نہیں رکھتا ۔
اس بناء پر مذکورہ جملے کی بہترین تفسیر وہی ہے جو ہم نے ابتدائے سخن میں پیش کی تھی ۔
اسکے بعد با ایمان اور خدا پرست یوسف(علیه السلام) کہ جن کے وجود کی گہرائیوں میں توحید پوری وسعت سے جڑ پکڑ چکی تھی، نے یہ واضح کرنے کے لئے کہ امرِ الٰہی کے بگیر کوئی چیز حقیقت کا روپ اختیار نہیں کرتی، اپنی بات کو اسی طرح سے جاری رکھا ::تعبیرِ خواب کے متعلق میرا یہ علم ودانش ان امور میں سے ہے کہ جن کی تعلیم میرے پروردگارنے دی ہے( ذَلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِی رَبیِّ)۔
نیز اس بناء پر کہ وہ یہ کیال نہ کریں کہ خدا کوئی چیز بغیر کسی بنیادکے بخش دیتاہے، آپ (علیه السلام) نے مزید فرمایا: مَیں نے ان لوگوں کے دین کو ترک کر رکھا ہے کہ جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے منکر ہیں اور اس نورِایمان اور تقویٰ نے مجھے اس نعمت کے لائق بنایا ہے( إِنِّی تَرَکْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَایُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَھُمْ بِالْآخِرَةِ ھُمْ کَافِرُونَ)۔
اس قوم وملت سے مسر کے بُت پرست لوگ یا کنعان کے بُت پرست لوگ مراد ہیں ۔
مجھے ایسے عقائدسے دور ہی ہونا چاہیئے کیونکہ یہ انسان کی پاک فطرت کے خلاف ہیں، علاوہ ازیں مَیں نے ایسے خاندان میں پرورش پائی ہے کہ جو وحی ونبوت کا خاندان ہے،”مَیں نے اپنے آباء واجداداور بزرگوںابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کی پیروی کی ہے(اتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِی إِبْرَاھِیمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ)
شاید پہلا موقع تھا کہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے قیدیوں سے اپنا تعارف کروایا تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ وہ وحی ونبوت کے گھرانے سے ہیں اور دیگر بہت سے قیدیوں کی طرح کہ جو طاغوتی نظاموں میں قید ہوتے ہیں، بےگناہ زندان میں ڈالے گئے ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا:”، ہمارے لئے یہ مناسب نہیں کہ کسی چیزکوخدا کا شریک قرار دیں“ کیونکہ ہمارا خاندان خاندانِ توحید ہے، بُت شکن ابراہیم کا خاندان ہے

( وَ مَا کَانَ لَنَا اٴَنْ نُشْرِکَ بِاللهِ مِنْ شَیْء)، اور یہ ہم پر اور تمام لوگوں پر خدا کی نعمات میں سے ہے( ذٰلِکَ مِنْ فَضْلِ اللهِ عَلَیْنَا وَعَلَی النَّاسِ )۔
لہٰذا یہ خیال نہ کرنا کہ خدا کا یہ فضل اورمحبت صرفہم خانوادہ نبوت کے شاملِ حال ہوتی ہے بلکہ یہ ایسی نعمت ہے جو عام ہے اورتمام بندگانِ خدا کے شاملِ حال ہے کہ جو ان کی روح کے اندر ایک فطرت کے عنوان سے ودیعت کی گئی ہے اور یہ انبیاء کی رہبری وہدایت کے ذریعے کمال حاصل ہوتی ہے ۔
لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ”کثر انسان ان خدائی نعمات کی شکر گزاری نہیں کرتے“ وہ راہ توحید سے منحرف ہوجاتے ہیں(وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَشْکُرُون)۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں حضرت اسحاق (علیه السلام) کا نام حضرت یوسف (علیه السلام) کے ”آباء“ کے زمرے میں آیا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں حضرت یوسف(علیه السلام) حضرت یعقوب (علیه السلام) کے بیٹے ہیں اور حضرت یقوب (علیه السلام) حضرت اسحاق (علیه السلام) کے فرزند ہیں، یہ اس لئے ہے کہ لفظ”اب“ کا طلاق”جد“ پر بھی ہوتا ہے ۔
..............
۱۔ مجمع البیان،،ج ۵،ص ۲۳۲۔