تفسیر نمونہ جلد 09
 

۳۰ وَقَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِینَةِ امْرَاٴَةُ الْ تُرَاوِدُ فَتَاھَا عَنْ نَفْسِہِ قَدْ شَغَفَھَا حُبًّا إِنَّا لَنَرَاھَا فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ ۔
۳۱ فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَکْرِھِنَّ اٴَرْسَلَتْ إِلَیْھِنَّ وَاٴَعْتَدَتْ لَھُنَّ مُتَّکَاٴً وَآتَتْ کُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْھُنَّ سِکِّینًا وَقَالَتْ اخْرُجْ عَلَیْھِنَّ فَلَمَّا رَاٴَیْنَہُ اٴَکْبَرْنَہُ وَقَطَّعْنَ اٴَیْدِیَھُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَا ھٰذَا بَشَرًا إِنْ ھٰذَا إِلاَّ مَلَکٌ کَرِیمٌ ۔
۳۲ قَالَتْ فَذَلِکُنَّ الَّذِی لُمْتُنَّنِی فِیہِ وَلَقَدْ رَاوَدتُّہُ عَنْ نَفْسِہِ فَاسْتَعْصَمَ وَلَئِنْ لَمْ یَفْعَلْ مَا آمُرُہُ لَیُسْجَنَنَّوَلَیَکُونَ مِنَ الصَّاغِرِینَ۔
۳۳ قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اٴَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُونَنِی إِلَیْہِ وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّی کَیْدَھُنَّ اٴَصْبُ إِلَیْھِنَّ وَاٴَکُنْ مِنَ الْجَاھِلِینَ۔
۳۴ فَاسْتَجَابَ لَہُ رَبُّہُ فَصَرَفَ عَنْہُ کَیْدَھُنَّ إِنَّہُ ھُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیم۔

ترجمہ

۳۰۔شہر کی بعض عورتوں نے کہا: زوجہ مصر اپنے جوان (اپنے غلام)کو اپنی طرف دعوت دیتی ہے اور اس جوان کا عشق اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر گیا ہے، ہم دیکھتی ہیں کہ وہ کھلی گمراہی میں ہے ۔
۳۱۔جس وقت ( مصر کی بیوی)کو ان کے خیال کی خبر ہوئی تو اس نے انہیں بلوایا(اور انہیں دعوت دی) اور ان کے لئے قیمتی تکیوں سے مجلس آراستہ کی اور ہر ایک کے ہاتھ میں (پھل کاٹ نے کے لئے) چھری تھمادی اور اس موقع پر (یوسف سے )کہا: ان کی محفل میں داخل ہو، جب ان کی نگاہ اس پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئیں اور (بے اختیار )انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور کہا حاشاللّٰہ یہ بشر نہیں ہے یہ تو کوئی بزرگوار فرشتہ ہے ۔
۳۲۔( کی بیوی نے) کہا: یہ وہی ہے جس (کے عشق )کی بناء پر تم نے مجھے سرزنش کی ہے، جی ہاں ! مَیں نے اسے اپنی طرف دعوت دی ہے مگر یہ بچ نکلا اور جو کچھ مَیں کہتی ہوں اس نے انجام نی دیا تو یہ اندان میں جائے گا تو یقینا ذلیل وخوار ہوگا ۔
۳۳۔(یوسف) نے کہا: پروردگارا! جس طرف یہ لوگ مجھے بلاتے ہیں اس سے قید خانہ مجھے زیادہ محبوب ہے اور اگر تونے ان کی چالوں کو مجھ سے دور نہ کیا تو مَیں ان کے دام میں پھنس جاؤں گا اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں گا ۔
۳۴۔اس کے پرور دگار نے اس کی دعا قبول کرلی اور ان عورتوں کی چالیں اس سے دور کردیں کیونکہ وہ سننے اور جاننے والا ہے ۔

زوجہ مصر کی ایک اور سازش
زوجہ کے اظہار عشق کا معاملہ مذکورہ داستان میں اگرچہ خاص لوگوں تک تھا اور خود نے بھی اسے چھپا نے کی تاکید کی تھی تاہم ایسی باتیں چھپائے نہیں چھپتیں، خصوصاً بادشاہوں اور اہلِ دولت واقتدار کے تو محلوں کی دیواریں بھی سنتی ہیں، بہرحال آخرکار یہ راز قصر سے باہر نکل گیا اور جیسا کہ قرآن کہتا ہے:شہر کی کچھ عورتوں اس بارے میں ایک دوسرے سے باتیں کرتی تھیں اور اس بات کا چرچا کرتی تھیں کہ کی بیوی نے اپنے غلام سے راہ ورسم پیدا رلی اور اسے اپنی طرف دعوت دیتی ہے (وَقَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِینَةِ امْرَاٴَةُ الْ تُرَاوِدُ فَتَاھَا عَنْ نَفْسِہِ)،اورغلام کا عشق اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر گیا ہے( قَدْ شَغَفَھَا حُبّا)۔
پھر وہ یہ کہہ کر تنقید کرتیں کہ”ہماری نظر میں تو وہ واضح گمراہی میں ہے( إِنَّا لَنَرَاھَا فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ )۔
واضح رہے کہ ایسی باتیں کرنے والی مصر کی طبقئہ امراء کی عورتیں تھیں جن کے لئے فرعونیوں اور مستکبرین کے محلات کی گھٹیا کہانیاں بہت دلچسپ ہوتی تھیں اور وہ ہمیشہ ان کی ٹوہ میں لگی رہتی تھیں ۔
اشراف کی یہ عورتیں کہ جو خود بھی زوجہ کی نسبت ہوس رانی میں کسی طرح کم نہ تھیں ان کی چونکہ یوسف تک پہنچ نہیں تھی لہٰذا بقولے” جانماز آب می کشیدند“ مکر وفریب میں لگی ہوئی تھیں اور زوجہ کو اس کے عشق پر واضح گمراہی میں قرار دیتی تھیں، یہاں تک کہ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ یہ راز بعض زنانِ مصر نے ایک سازش کے ساتھ پھیلایا، وہ چاہتی تھیں کہ زوجہ مصر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے انہیں اپنے مھل میں دعوت دے تاکہ وہ خود وہاں یوسف کو دیکھ سکیں، ان کا خیال تھا کہ وہ یوسف کے سامنے ہوں تو ہوسکتا ہے ان کی نظر ان کی طرف مائل ہوجائے کہ جو شاید زوجہ مصر سے بھی بڑھ کر حسین تھیں اور پھر یوسف کے لئے ان کا جمال بھی نیاتھا اور پھر یوسف کے لئے مصر کی بیوی ماں یا مولی یا ولی نعمت کامقام رکھتی تھی اور ایسی کوئی صورت ان کے لئے نہ تھی لہٰذا وہ سمجھتی تھیں کہ زوجہ کی نسبت ان کے اثر کا احتمال زیادہ ہے ۔
”شغف“ ”شغاف“ کے مادہ سے ہے، یہ دل کے اوپر کی گرہ یا دل پر موجود ایک پتلا سا چھلکا جس نے غلاف کی طرح اسے ڈھاپ رکھا ہوتا ہے،کو کہتے ہیں” شَغَفَھَا حُبّا“ وہ یوسف کی اتنی شیدائی ہوگئی ہے کہ اس کی محبت اس کے دل کے اندر اتر گئی ہے اور اس کی گہرائیوں میں سما گئی ہے اور یہ شدید محبت اور یہ عشق ِ سوزاں کی طرف اشارہ ہے ۔
”آلوسی“ نے تفسیر ”روح المعانی“ میں کتاب” اسرارالبلاغہ“ سے عشق ومحبت کے کئی مراتب کاذکرکیا ہے جن میں سے بعض کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے ۔
محبت کا پہلا درجہ میلان ہے، اس کے بعد ”علاقہ“ یعنی ایسی محبت جس کا تعلق دل سے ہو، اس کے بعد” کلف“ یعنی شدید محبت ہے، پھر ”عشق“ کا درجہ ہے، اس کے بعد ”شعف“ (عین کے ساتھ) ہے یعنی وہ حالت کہ جس میں دل آتشِ عشق میں جلتا ہے اور اسے اس جلن سے لذت حاصل ہوتی ہے، اس کے بعد”لوعة“ کا مرحلہ ہے اور پھر”شغف“ کا درجہ ہے، یہ وہ مرحلہ ہے کہ جہاں عشق دل کے تمام گوشوں اور زاویوں میں اتر جاتا ہے اور اس کے بعد” تدلة“ ہے، یہ وہ درجہ ہے کہ جس میں عشق عقلِ انسانی کو لے جاتا ہے اور آخری مرھلہ ”ھیوم“ ہے کہ جو مطلق بے قراری کا نام ہے اس مرحلے میں عاشق کو بے اختیار ہر طرف کھنچتی ہے ۔(۱)
یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ کس شخص نے یہ راز فاش کیا تھا، زوجہ تو یہ رسوائی ہرگز گوارا نہیں کرتی تھی اور نے تو خود اسے چھپانے کی تاکید کی تھی، رہ گیا ہو حکیم ودانا کہ جس نے اس کا فیصلہ کیا تھا، اس سے تو ویسے ہی یہ کام بعید نظر آتاہے، بہرحال جیسا کہ ہم نے کہاکہ خرابیوں سے پُر ان محلات میں ایسی کوئی چیز نہیں کہ جسی مخفی رکھا جاسکے اور آخرکار ہربات نامعلوم افراد کی زبانوں سے دربایوں تک اور ان سے باہر کی طرف پہنچ جاتی ہے اور یہ فطری امر ہے کہ لوگ اسے زیبِ داستان کے لئے اور بڑھا چڑھاکر دوسروں تک پہنچاتے ہیں ۔
زوجہ کو مصر کی حیلہ گر عورتوں کے بارے میں پتہ چلا تو پہلے وہ پریشان ہوئی، پھر اسے ایک تدبیر سوجھی، اس نے انہیں ایک دعوت پر مدعو کیا، فرش سجایا اور قیمتی گاؤ تکےے لگادئےے، وہ آبیٹھیں تو ہر ایک کے ہاتھ میں پَھل کاٹنے کے لئے چھری تھمادی(یہ چھریاں پَھل کاٹنے کی ضرورت سے زیادہ تیز تھیں) (ا فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَکْرِھِنَّ اٴَرْسَلَتْ إِلَیْھِنَّ وَاٴَعْتَدَتْ لَھُنَّ مُتَّکَاٴً وَآتَتْ کُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْھُنَّ سِکِّینً)۔(۲)
یہ کام خود اس امر کی دلیل ہے کہ وہ اپنے شوہر کی پروہ نہیں کرتی تھی اور گزشتہ رسوائی سے اس نے کوئی سبق نہ سیکھا تھا ۔
اس کے بعد اس نے یوسف کو حکم دیا کہ اس مجلس میں داخل ہو تاکہ تنقید کرنے والے عورتیں اس کے حُسن وجمال کو دیکھ کر اسے اس کے عشق پر ملامت نہ کریں(وَقَالَتْ اخْرُجْ عَلَیْھِن)۔
”ادخل“ (داخل ہوجاؤ) کی بجائے یہاں”اخرج علیھن“ (ان کی طرف باہر نکلو) کی تعبیر استعمال ہوئی ہے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زوجہ نے حضرت یوسف (علیه السلام) کو کہیں باہر نہیں بٹھا رکھا تھا بلکہ اندر کے کسی کمرے میں کہ غالباً جہاں غذا اور پھل رکھا گیا تھا مشغول رکھا تھا تاکہ وہ محفل میںداخل ہونے والے دروازے سے نہ آئیں بلکہ بالکل غیر متوقع طور پر اور اچانک آئیں ۔
زنانِ مصر جو بعض روایات کے مطابق دس یا اس سے زیادہ تھیں جب انہوں نے زیبا قامت اور نورانی چہرہ دیکھا اور ان کی نظر یوسف کے دلربا چہرے پر پڑی تو انہیں یوں لگا جیسے اس محل میں آفتاب اچانک بادلوں کی اوٹ سے نکل آیا ہو اور آنکھوں کو خیرہ کررہا ہے، وہ اس قدر حیران اور دم بخود ہوئیں کہ انہیں ہاتھ اور پاؤںمیں اور ہاتھ اور ترنج بین میں فرق بھول گیا، انہوں نے یوسف کو دیکھتے ہی کہایہ تو غیر معمولی ہے( فَلَمَّا رَاٴَیْنَہُ اٴَکْبَرْنَہُ)، وہ خود سے اس قدر بے خود ہوئیں کہ (ترنج بین کی بجائے)ہاتھ کاٹ لئے( وَقَطَّعْنَ اٴَیْدِیَھُنَّ ) ، اور جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی دلکش آنکھوں میں تو عفت وحیا کا نور ضوفشاں ہے اور ان کے معصوم رخسار شرم وحیا سے گلگوں ہیں تو ”سب پکار اٹھیں کہ نہیں یہ جوان ہرگز گناہ سے آلودہ نہیں ہے یہ تو کوئی بزرگوار آسمانی فرشتہ ہے (وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَا ھٰذَا بَشَرًا إِنْ ھٰذَا إِلاَّ مَلَکٌ کَرِیمٌ )۔(3)
اس بارے میں کہ زنانِ مصر نے اس وقت اپنے ہاتھوں کی کتنی مقدار کاٹی تھی، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض نے یہ بات مبالغہ آمیز طور پر نقل کی ہے لیکن قرآن سے اجمالاً یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ہاتھ کاٹ لئے تھے ۔
اس وقت مصر کی عورتیں پوری طرح بازی ہار چکی تھیں، ان کے زخمی ہاتھوں سے خون بہہ رہا تھا، پریشانی کے عالم میں وہ بے روح مجسمے کی طرح اپنی جگہ چپکی سی بیٹھی تھیں، ان کی حالت کہہ رہی تھی کہ انہوں نے زوجہ سے کچھ کم نہیں کیا، اُس نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور کہا-” یہ وہ شخص ہے جس کے عشق پر تم مجھے طعنے دیتی تھیں( قَالَتْ فَذَلِکُنَّ الَّذِی لُمْتُنَّنِی فِیہِ )۔
گویا زوجہ چاہتی تھی کہ انہیں کہے کہ تم نے تو یوسف کو ایک مرتبہ دیکھا ہے اور یوں اپنے ہوش وہواس گنوا بیٹھی ہو کہ تم نے اپنے ہاتھ تک کاٹ لئے ہیں، اس کے جمال میں مستغرق ہوگئی ہو اور اس کی ثنا خوانی کرنے لگی ہو تو پھر مجھے کیونکر ملامت کرتی ہو جب کہ مَیں صبح وشام اس کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی ہوں ۔
زوجہ نے جو منصوبہ بنایا تھا اس میں اپنی کامیابی پر وہ بہت مغرور اور خوش تھی ، وہ اپنے کام کو معقول ثابت کررہی تھی، اس نے ایک ہی دفعہ تمام پردے ہٹا دئےے اور پوری صراحت کے ساتھ اپنے گناہ کا اعتراف کیا اور کہا: جی ہاں ! مَیں نے اسے اپنی آرزو پورا کرنے کے لئے دعوت دی تھی لیکن یہ بچا رہا(وَلَقَدْ رَاوَدتُّہُ عَنْ نَفْسِہِ فَاسْتَعْصَمَ ) ۔
اس کے بعد بجائے اس کے کہ اپنے گناہ پر اظہارِ ندامت کرتی یا کم از کم مہمانوں کے سامنے کچھ پردہ پڑا رہنے دیتی اور نے بڑی بے اعتنائی اور سخت انداز میں کہ جس سے اس کا قطعی ارادہ ظاہر ہوتا تھا، صراحت کے ساتھ اعلا ن کیا :اگر اس (یوسف) نے میرا حکم نہ مانااور میرے عشقِ سوزاں کے سامنے سر نہ جھکایا تا یقینا قید میں جانا پڑے گا(ولَئِنْ لَمْ یَفْعَلْ مَا آمُرُہُ لَیُسْجَنَنَّوَلَیَکُونَ مِنَ الصَّاغِرِینَ)۔
فطری امر ہے کہ جب مصر نے اس واضح خیانت پر اپنی بیوی سے فقط یہی کہنے پر قناعت کی کہ”واستغفری لذنبک“ (اپنے گناہ پر استغفار کر) تو اس کی بیوی رسوائی کی اس منزل تک آپہنچی ، اصولی طور پر جیسا کہ ہم نے کہا ہے مصر کے فرعون اور وں کے کے دربار میں ایسے مسائل کوئی نئی بات نہ تھی ۔
بعض نے تو اس موقع پر ایک تعجب انگیز روایت نقل کی ہے، وہ یہ کہ چند زنانِ مصر جو اس دعوت میں موجود تھیں وہ زوجہ کی حمایت میں اٹھ کھڑی ہوئیں اور اسے حق بجانب قرار دیا، وہ یوسف کے گرد جمع ہوگئیں اور ہر ایک نے یوسف کو رغبت دلانے کے لئے مختلف بات کی ۔
ایک نے کہا: اے جوان! یہ اپنے آپ کو بچانا ، یہ ناز ونخرے آخر کس لئے؟ کیوں اس عاشق دلدادہ پر رحم نہیں کرتے؟ کیا اس خیرہ کن جمالِ دل آرا کو نہیں دیکھتے، کیا تمہارے سینے میں دل نہیں ہے؟ کیا تم جوان نہیں ہو؟ کیا تمہیں عشق وزیبائی سے کوئی رغبت نہیں اور کیا تم پھر اور لکڑی کے بنے ہوئے ہو۔
دوسری نے کہا: مَیں حیران ہوں چونکہ حُسن وعشق کی وجہ سے مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آتا لیکن کیا تم سمجھتے نہیں ہو کہ وہ مصر اور اس ملک کے صاحبِ اقتدارکی بیوی ہے؟ کیا تم یہ نہیں سوچتے کہ اس کا دل تمہارے ہاتھ میں ہو تو یہ ساری حکومت تمہارے قبضے میں ہوگئی اور تم جو مقام چاہوتمہیں مل جائے گا ۔
تیسری نے کہا:مَیں حیران ہوں کہ نہ تو تم اس کے جمالِ زیبا کی طرف مائل ہو اور نہ اس کے مال ومقام کی طرف لیکن کیا تم یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ ایک خطرناک انتقام جُو عورت ہے اور انتقام لینے کی طاقت بھی پوری طرح اسکے ہاتھ میںہے؟ کیا تمہیں اس کے وحشتناک اور تاریک ِ زندان کا خوف نہیں؟ کیا تم اس کے قیدِ تنہائی کے عالمِ غربت وبیچار گی کے بارے میں غور وفکر نہیں کرتے؟
ایک طرف کی بیوی کی دھمکی اور ان آلودہ گناہ عورتوں کا وسوسہ تھا کہ جو اس وقت دلّالی کا کھیل کھیل رہی تھیں اور دوسری طرف یوسف کے کے لئے ایک شدید بحرانی لمحہ تھا، ہر طرف سے مشکلات کے طوفان نے انہیں گھیرطرکھا تھا لیکن وہ تو پہلے سے اپنے آپ کو اصلاح سے آراستہ کےے ہوئے تھے، نورِ ایمان، پاکیزگی اور تقوی نے ان کی روح میں ایک خاص اطمینان پیدا کررکھا تھا، وہ بڑی شجاعت اوت عزم سے اپنے موقف پر ڈٹے رہے، بغیر اس کے کہ وہ ان ہوس باز اور ہوس ران عورتوں سے باتوں میں الجھتے انہوں نے پروردگار کی بارگاہ کا رُخ کیا اور اس طرح سے دعا کرنے لگے : پروردگارا! جس طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت قید خانہ اپنی تمام تر سختیوں کے باوجودمجھے زیادہ محبوب ہے ( قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اٴَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُونَنِی إِلَیْہ)۔
اس کے بعد چونکہ وہ جانتے تھے کہ تمام حالات میں خصوصاً مشکلات میں لطفِ الٰہی کے سوا کوئی راہِ نجات نہیں کہ جس پر بھروسہ کیا جائے، انہوں نے اپنے آپ کو خدا کے سپرد کیا اور اس سے مدد مانگی اور پکارے:پروردگارا! اگر تو مجھے ان عورتوں کے مکر اور خطرناک منصوبوں سے نہ بچائے تو میرا دل ان کی طرف مائل ہوجائے گا اور میَںجاہلوں میں سے ہوجاؤں گا( وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّی کَیْدَھُنَّ اٴَصْبُ إِلَیْھِنَّ وَاٴَکُنْ مِنَ الْجَاھِلِینَ)، خداوندا! مَیں تیرے فرمان کا احترام کرتے ہوئے اور اپنی پاکدامنی کی حفاظت کرتے ہوئے اس وحشت ناک قید خانے کا استقبال کرتا ہوں، وہ قید خانہ کہ جس میں میری روح آزاد ہے اور میرا دامن پاک ہے اس کے بدلے میں اس ظاہری آزادی کو ٹھوکر مارتا ہوں کہ جس میں میری روح کو زندانِ ہوس نے قید کر رکھا ہو اور جو میرے دامن کو آلودہ کرسکتی ہے ۔
خدایا! میری مدد فرما، مجھے قوت بخش اور میری عقل، ایمان اور تقویٰ کی طاقت میں اضافہ فرما تاکہ مَیں ان شیطانی وسوسوں پر کامیابی حاصل کروں ۔
اور چونکہ خدا تعالیٰ کا ہمیشہ سے وعدہ ہے کہ وہ مخلص مجاہدین کی(چاہے وہ نفس کے خلاف برسرِ پیکار ہوں یا ظاہری دشمن کے خلاف ) مدد کرے گا، اس نے یوسف (علیه السلام) کو اس عالم میں تنہا نہ چھوڑا، حق تعالی کا لطف وکرم اس کی مدد کو آگے بڑھا، جیسا کہ قرآن کہتاہے :اس کے پرور دگار نے اس کی اس مخلصانہ دعا قبول کو قبول کیا( فَاسْتَجَابَ لَہُ رَبُّ)، ان کے مکر اور سازشوں کو پلٹا دیا( فَصَرَفَ عَنْہُ کَیْدَھُنَّ )کیونکہ وہ سننے اور جاننے والا ہے (إِنَّہُ ھُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیم)وہ بندوں کی دعا سنتا بھی ہے اور ان کے اندرونی اسرار سے بھی آگاہ ہے اور انہیں مشکلات سے بچانے کی راہ سے بھی واقف ہے ۔
..............
۱۔تفسیر روح المعانی،ج۱۲،ص ۲۰۳۔
۲۔”متکا“ اس چیز کو کہتے ہیں جس پر تکیہ کیا جائے جیسے کرسیوں اور تخت کے ٹیک یا پشت بنی ہوتی ہے اور جیسا کہ اس زمانے کے محلات میں معمول تھا لیکن بعض نے متکا کا معنی ترنج بین کیا ہے کہ جو ایک قسم کا بھل ہے، جنہوں نے اس کا معنی ٹیک کیا ہے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ترنج بین کی بنی ہوئی تھی، فارسی میں اسے بالنگ کہتے ہیں، یہ ترش مزہ پھل ہوتا ہے جس کا چھلکا موٹا ہوتا ہے اور اس کے موٹے چھلکے کا مربہ بنایاجاتا ہے، ہوسکتا ہے یہ پھل مصر میں ہمارے پھل سے مشابہ ہو اور مکمل طور پر ترش نہ ہو۔
3۔ ”حاش للّٰہ“ ”حشی“ کے مادہ سے ایک طرف کے معنی میں ہے اور ”’تحاشی“ کنارہ کرنے کے معنی میں ہے اور ”حاش للہ“ کا معنی یہ ہے کہ خدا منزہ ہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یوسف بھی پاک ومنزہ بندہ ہے ۔

چند اہم نکات
۱۔ طاغوت کے پرانے ہتھکنڈے
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کی بیوی نے اور مصر کی دوسری عورتوں نے اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے مختلف طریقے آزمائے، اظہارِ عشق کیا، شدید محبت ظاہر کی، اور تسلیم محض کا اظہار کیا، پھر لالچ دینے کی کوشش کی اور پھر ڈرایا دھمکایا، دوسرے لفظوں میں انہوں نے شہوت، زر اور زور کے تمام حربے استعمال کئے ۔ یہی ہر خود غرض اور زمانے کے طاغوت کا متفقہ اصول ہے، یہاں تک کہ ہم نے خود بارہا دیکھا ہے کہ وہ مردانِ حق کا جھکانے کے لئے پہلے تو انتہائی نرم دلی اور خوش روئی کا مظاہرہ کررتے ہیں، پھر لالچ اور طرح طرح کی امداد کے ذریعے کام نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر کچھ نہ بن پائے تو پھر اسی موقع پر نہایت سخت دھمکیاں دیتے ہیں اور ہرگز کوئی لحاظ نہیں رکھتے کہ یہ تضاد بیانی ہے اور وہ بھی ایک ہی مجلس میں، ان کا یہ طریقہ کس قدر بُرا، تکلیف دہ اور باعث تحقیرہے ۔
ان کے اس عمل کی دلیل واضح ہے، وہ تو اپنے ہدف کے متلاشی ہوتے ہیں لہٰذا ان کے لئے ذریعہ اہمیت نہیں رکھتا ، دوسرے لفظوں میں وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے ہر ذریعے سے فائدہ اٹھانا جائز سمجھتے ہیں ۔
اس دروان کمزور اور کم رُشد افراد پہلے ہی مراحل میں یا آخری مرحلہ میں جھک جاتے ہیں اورہمیشہ کے لئے ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں لیکن اولیائے حق نور ایمان کے زیرِسایہ حاصل کردہ عزم وشجاعت سے ان مراحل میں آگے نکل جاتے ہیں اور تمام تر قاطعیت سے اپنے سازش ناپذیر ہونے کا مظاہرہ کرتے ہیں اور آخری سانس تک کمال کی طرف رواں دواں رہتے ہیں ۔

۲۔ تقویٰ یہ نہیں کہ-
بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جب تک وہ گڑھے کے کنارے ہوتے ہیں تو اپنے تئیں بہت پاک دامن قرار پاتے ہیں اور تقویٰ وپارسائی کی ڈینگیں مارتے ہیں اور زوجہ جیسے آلودہ افراد انہیں ”ضلال مبین“ میں دکھائی دیتے ہیں لیکن جب ان کا اپنا پاؤں گڑھے میں جاپڑتا ہے تو پہلے ہی پاؤں پر وہ پھسل جاتے ہیں، یہ لوگ عملی طور پر ثابت کرتے ہیں کہ ان کی باتیں زبانی دعویٰ سے زیادہ کچھ نہ تھیں ۔
زوجہ تو کئی برس یوسف کے ساتھ رہنے کے بعد ان کے عشق میں گرفتار ہوئی لیکن اسے طعنے دینے والیاں تو پہلی نشست میں ہی مبتلائے عشو ہوگئیں اور ترنج بین کی بجائے اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں ۔

۳۔یوسف محفلِ زنان میں کیوں آئے؟
یہاں ایک اور سوال سامنے آتا ہے وہ یہ کہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے زوجہ کی بات کیوں مانی اور اس بات پر کیوں آمادہ ہوگئے کہ زوجہ مصر کی محفل میں قدم رکھیں کہ جو گناہ کے لئے برپا کی گئی تھی یا وہ ایک گنہگار کو بے گناہ ثابت کرنے کے لئے تھی ۔
لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اس محل میں یوسف (علیه السلام) کی حیثیت ایک غلام اور بردہ کی تھی، وہ مجبور تھے کہ وہاں خدمت کریں ہوسکتا ہے زوجہ نے خدمت کے بہانے ہی سے ایسا کیا ہو کہ انہیںکھانے کے برتن یا پینے کی کوئی چیز لانے کے بہانے محفل میں لے گئی ہو جب کہ حضرت یوسف (علیه السلام) اس منصوبے اور سازش سے آگاہ نہ تھے ۔

۴۔ ”یدعوننی الیہ” اور ”کیدھن“ کا مفہوم
”یدعوننی الیہ“ کا معنی ہے ”جس چیز کی یہ عورتیں مجھے دعوت دیتی ہیں“ اور”کید ھن“ کامعنی ہے”ان عورتوں کا منصوبہ“ ان الفاظ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مصر کی ہوس باز عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لینے اور یوسف (علیه السلام) کی فریفتہ ہونے کے بعد باری باری خود بھی وہی کام کیا جووجہ نے کیا تھا اور انہوں نے بھی یوسف کو دعوت دی کہ وہ ان کے سامنے یا زوجہ کے سامنے سر تسلیم خم کردیں اور یوسف (علیه السلام) نے ان سب کو ٹھکرادیا ۔
یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ کی بیوی اس گناہ میں اکیلی نہ تھی اور کئی ایک اس کی شریک گناہ تھیں ۔

۵۔ یوسف (علیه السلام) خدا کی پناہ میں
جب انسان مشکلات میں گھرا ہوا ور کسی مصیبت کے کنارے تک پہنچ جائے تو اسے صرف خدا کی پناہ لینا چاہیئے اور اسی سے مدد طلب کرنا چاہیئے اگر اس کا لطف وکرم اور نصرت ومدد نہ ہوتو کوئی کام بھی نہیں ہوسکتا، یہ وہ سبق ہے جو حضرت یوسف (علیه السلام) جیسے پاک دامن بزرگوار نے ہمیں دیا ہے، وہی ہیں جو کہتے ہیں:پروردگارا! اگر تُو ان کے منحوس منصوبوں سے نجات نہ دے تو مَیں بھی ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور اگر تونے مجھے ان کی ہلاکت خیز یوں میں تنہا چھوڑ دے تو طوفانِ حوادث مجھے اپنے ساتھ لے جائے ، تُو ہے کہ میرا حافظ ونگہبان ہے نہ کہ میری طاقت اور تقویٰ۔
لطف الٰہی سے وابستگی کی یہ حالت بنداگانِ خدا کو لامحدود طاقت اور عزم عطا کرنے کے علاوہ اس کے الطافِ خفی سے بہرہ ور ہونے کا سبب بنتی ہے، وہ الطاف کہ جن کی تعریف وتوصیف ناممکن ہے ان کاصرف مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور اسی طرھ ان کی تصدیق ہوسکتی ہے، ایسے ہی لوگ اس دنیا میں بھی لطفِ الٰہی سے سائے میں ہیں اور اُس جہان میں بھی لطفِ پروردگار سے ہمکنار ہوں گے، ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مروی ہے:
سبعة یظلھم اللّٰہ فی ظل عرشہ یوم لایظل الا ظلہ: امام عادل، وشاب ننشا فی عبادة اللّٰہ عزوجل، ورجل قلبہ متعلق بالمسجد اذا خرج منہ حتیٰ یعود الیہ، ورجلان کانا فی طاعة اللّٰہ عز وجل فاجتمعا علیٰ زلک وتفرقا، ورجل ذکر اللّٰہ عزوجل خالیا ففاضت عیناہ ، ورجل دعتہ امراة ذات حسن وجمال فقال انی اخاف اللّٰہ تعالیٰ، ورجل تصدیق بصدقة فاخفاھاحتیٰ لا تعلم شمالہ ماتصدیق بیمینہ!
جس روز عرش ِالہٰی کے سائے علاوہ کوئی سائی نہ ہوگا اس دن اللہ تعالیٰ سات طرح کے لوگوں کو اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا:
امام عادل،وہ جوان کی جس نے ابتدائے عمر ہی سے خدا کی بندگی میں پرورش پائی ہو،وہ شخص کہ جس کا دل مسجد اور عبادت ِالٰہی کے مرکز سے بندھا ہو، جب وہ اس سے نکلتا ہو تو اس کے خیال میں رہتا ہو یہاں تک کہ اس کی طرف لوٹ آتاہو،وہ لوگ جو فرمانِ خدا کی اطاعت میں مِل جُل کر کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے جدا ہوتے وقت ان کا روحانی رشتہ اتحاد اسی طرح برقرار رہتا ہو،وہ شخص کہ جو پروردگار کا نام سنتے وقت جس کی آنکھوں سے(احساسِ مسئولیت سے یا گناہوں کے خوف سے ) آنسو جاری ہوجاتے ہوں،وہ شخص کہ جسے حسین وجمیل عورت اپنی طرف دعوت دے اور وہ کہے کہ مَیں خدا سے ڈرتا ہوں، اوروہ شخص جوضرورت مندوں کی مدد کرتا ہو اور اپنے صدقے کو مخفی رکھتا ہو کہ دائیں ہاتھ سے دے تو بائیں کو خبر نہ ہو۔(1)
..............
1۔ سفینة البحار، ج۱،ص ۵۹۵(ظل)۔