تفسیر نمونہ جلد 09
 

۲۳ وَرَاوَدَتْہُ الَّتِی ھُوَ فِی بَیْتِھَا عَنْ نَفْسِہِ وَغَلَّقَتْ الْاٴَبْوَابَ وَقَالَتْ ھَیْتَ لَکَ قَالَ مَعَاذَ اللهِ إِنَّہُ رَبِّی اٴَحْسَنَ مَثْوَایَ إِنَّہُ لَایُفْلِحُ الظَّالِمُونَ۔
۲۴ وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہِ وَھَمَّ بِھَا لَوْلَااٴَنْ رَاٴَی بُرْھَانَ رَبِّہِ کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّہُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِینَ ۔

ترجمہ

۲۳۔اور جس عورت کے گھر میں یوسف رہتا تھا اس نے اس سے اپنے مطلب کے حصول کی خواہش کی اور دروازے بند کردئے اور کہا کہ اس چیز کی طرف جلدی آؤ جو تمہارے لئے مہیا ہے،(یوسف نے)کہا : مَیں خدا سے پناہ مانگتا ہوں وہ ( مصر)میرا صاحبِ نعمت ہے اور اس نے مجھے محترم جانا(تو کیا ممکن ہے کہ مَیں اس پر ظلم کروں اور اس سے خیانت کروں)یقینا ۻظالم کامیاب نہیں ہوں گے اور فلاح نہیں پائیں گے ۔
۲۴۔اس عورت نے تو یہ ارادہ کیا اور وہ بھی اگر پروردگار کی برھان نہ دیکھتا تو ارادہ کرتا، ہم نے ایسا اس لئے کیا تاکہ بدی اور فحشاء کو اس سے دور رکھیں کیونکہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھا ۔

مصر کی بیوی کا عشقِ سوزاں
حضرت یوسف (علیه السلام) نے اپنے خوبصورت، پرکشش اور ملکوتی چہرے سے نہ صرف مصر کو اپنی طرف کرلیا بلکہ کی بیوی بھی بہت جلدی آپ (علیه السلام) کی گرویدہ ہوگئی، آپ (علیه السلام) کا عشق اس کی روح کی گہرایوں میں اتر گیا ، جُوں جُوں وقت گزرتا گیا اس عشق کی حدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا لیکن یوسف (علیه السلام) کہ جو پاکیزہ اور پرہیزگار انسان تھے انہیںخدا کے علاوہ کسی کی بھی فکر وسوچ نہ تھی، ان کا دل فقط عشقِ الٰہی کا گرویدہ تھا ۔
کچھ اور امور بھی شامل ہوگئے جنہوں نے کی بیوی کے عشقِ سوزاں کو اور بھڑکادیا ۔
ایک تو اسے اولاد نہ ہونے کا ارمان تھا، دوسرا اس کی رنگینیوں سے بھر پور اشراف کی زندگی تھی، تیسرا داخلی زندگی میں اسے کو ئی پریشانی اور مسئلہ نہ تھا جیسا کہ اشراف اور نازونعمت میں پلنے والوں کی زندگی ہوتی ہے اور چوتھا دربار نصر میں کسی قسم کی کوئی پابندی اور قدغن نہ تھا، ان حالات میںوہ عورت کہ جو ایمان وتقویٰ سے بھی بے بہرہ تھی شیطانی وسوسوں کی موجوں میں غوطہ زن ہوگئی، یہاں تک کہ اس نے ارادہ کرلیا کہ اپنے دل کا راز یوسف سے بیان کرے اور اپنے دل کی تمنا ان سے پورا کرنے کا تقاضا کرے ۔
اپنے مقصد کے حصول کی خاطر اس نے ہر ذریعہ اور ہر طور طریقہ اختیار کیا اور بڑی خواہش کے ساتھ کوشش کی کہ ان کے دل کو متاثر کرے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: جس عورت کے گھر میں یوسف تھے اس نے اپنی آرزو پورا کرنے کے لئے پیہم ان سے تقاضا کیا ( وَرَاوَدَتْہُ الَّتِی ھُوَ فِی بَیْتِھَا عَنْ نَفْسِہ)۔
”راودتہ“ اصل میں ”مرودة“ کے مادہ سے چراگاہ کی تلاش کے معنی میں ہے ، مثل مشہور ہے:
الرائد لایکذب قومہ۔
جو چراگاہ کی تلاش میں جاتا ہے وہ اپنی قوم قبیلے سے جھوٹ نہیں بولتا ۔
یہ بھی اسی مذکورہ معنی کی طرف اشارہ ہے ۔
اسی طرح سرما سلائی کہ جس سے آنکھوں میں آرام آرام سے سرما لگاتے ہیں کو”مِروَد“(بروزن مِنبر)کہا جاتا ہے ۔
بعد ازاں یہ لفظ ہر اس کام کے لئے بولا جانے لگا جو نرمی ، ملائمت اور آرام سے کیا جائے ۔
یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ زوجہ نے اپنا مقصود پانے کے لئے بڑی نرمی سے اور کسی قسم کی دھمکی کے بغیر ملائمت اور اظہار محبت سے یوسف (علیه السلام) کو دعوت دی ۔
آخرکار جو آخری راستہ اسے نظر آیا یہ تھا کہ ایک دن انہیں تنہا اپنی خلوت گاہ پھنسا نے اور ان کے جذبات ابھارنے کے لئے تمام وسائل سے کام لے، جاذب ترین لباس پہنے، بہترین بناؤ سنگار کرے بہت مہک دار عطر لگائے اور اس طرح سے آرائش وزیبائش کرے کی یوسف (علیه السلام) جیسے قوی انسان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے ۔
قرآن کہتا ہے: اس نے دروازوں کو اچھی طرح بند کرلیا اور کہا آؤ مَیں تمہارے لئے حاضر ہوں( وَغَلَّقَتْ الْاٴَبْوَابَ وَقَالَتْ ھَیْتَ لَکَ)۔
لفظ” غلقت“ مبالغہ کا معنی دیتا ہے اور نشاندہی کرتا ہے کہ اس نے تمام دروازے مضبوطی سے بند کےے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یوسف کو محل کی ایسی جگہ پر لے گئی کہ جہاں کمروں کے اندر کمرے بنے ہوئے تھے اور جیسا کہ بعض روایات میں آیاہے اس نے سات دروازے بند کےے تاکہ یوسف (علیه السلام) کے لئے فرار کی کوئی راہ باقی نہ رہے ۔
علاوہ ازیں شاید وہ اس طرح حضرت یوسف (علیه السلام) کو سمجھانا چاہتی تھی کہ وہ راز فاش ہونے سے پریشان نہ ہوں کیونکہ ان بند دروازوں کے ہوتے ہوئے کسی شخص کے بس میں نہیں کہ وہ اندر آسکے ۔
جب حضرت یوسف (علیه السلام) نے دیکھا کہ تمام حالات لغزش وگناہ کی حمایت میں ہیں اور ان کے لئے کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا تو انہوں نے زلیخاکو بس یہ جواب دیا: مَیں خدا سے پناہ مانگتا ہوں (قَالَ مَعَاذَ الله)۔
اس طرح حضرت یوسف (علیه السلام) نے زوجہ کی خواہش کو قطعی وحتمی طور پررد کردیا اور اسے سمجھایا کہ وہ ہرگز اس کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے، آپ نے ضمناً اسے اور تمام افراد کو یہ حقیقت سمجھا دی کہ ایسے سخت اور بحرانی حالات میں شیطانی وسوسوں اور ان سے کہ جو شیطانی عادات واخلاق رکھتے ہیں نجات کے لئے ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ خدا کی طرف پناہ لی جائے، وہ خدا کہ جس کے لئے خلوت اور بزم ایک سی ہے اور جس کے ارادے کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہرسکتی ۔
اس مختصر سے جملے سے انہوں نے عقیدے اور عمل کے لحاظ سے خدا کی وحدانیت کا اعتراف کیا، اس کے بعد مزید کہا کہ تما م چیزوں سے قطعِ نظر ”مَیں ایسی خواہش کے سامنے کس طرح سے سرِ تسلیم خم کرلوں جب کہ مَیں مصر کے گھر میں رہتا ہوں، اس کے دستر خوان پر ہوں اور اسنے مجھے بہت احترام سے رکھا ہوا ہے “(ِ إِنَّہُ رَبِّی اٴَحْسَنَ مَثْوَایَ )، کیا یہ واضح خیانت نہ ہوگی ،”یقیناستمگار فلاح نہیں پائیں گے(إِنَّہُ لَایُفْلِحُ الظَّالِمُونَ)۔
اس جملے میں ”رب“سے کیا مراد ہے؟
اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے ، اکثر مفسرین نے مثلا مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں اور مولف المنار نے المنار میں ”رب“ کو اس کے وسیع معنی میں لیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مراد مصر ہے کہ جس نے حضرت یوسف (علیه السلام) کے احترام واکرام میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی اور شروع ہی میں ”اکرمی مثواہ“ کہہ کر یوسف ع کے لئے اپنی بیوی سے سفارش کی تھی ۔
یہ گمان بالکل غلط ہے کہ لفظ”رب“ اس معنی میں استعمال نہیں ہوتا کیونکہ اس سورة میں متعدد مقامات پر لفظ”رب“ کا اطلاق غیرِ خدا پر ہوا ہے، کبھی حضرت یوسف (علیه السلام) کی زبان سے اور کبھی کسی اور کی زبان سے ، مثلا قیدیوں کے خواب کے واقعہ میں ہم پڑھتے ہیں کہ جس قیدی کو آپ(علیه السلام) نے آزادی کی بشارت دی تھی اس سے کہا کہ اپنے رب ” مصر“ سے میرا ذکر کرنا ۔
<وَقَالَ لِلَّذِی ظَنَّ اٴَنَّہُ نَاجٍ مِنْھُمَا اذْکُرْنِی عِنْدَ رَبِّک>(آیت۴۲)۔
نیز حضرت یوسف (علیه السلام) کی زبانی ہے کہ :
< فَلَمَّا جَائَہُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلیٰ رَبِّکَ فَاسْاٴَلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِی قَطَّعْنَ اٴَیْدِیَھُن> (آیت:۵۰)
جب فرعونِ مصر کا فرستادہ ان کے پاس آیاتو انہوں نے کہا اپنے رب (فرعون)کے واپس جا ؤ اور اس سے تقاضاکرو کہ وہ تحقیق کرے کہ زناِن مصر نے اپنے ہاتھ کیوں کاٹ لئے تھے ۔
اس سورہ کہ آیہ ۴۱ میں حضرت یوسف (علیه السلام) کی زبانی اور آیہ ۴۲ میں قراان کی زبانی لفظ”رب“ کا اطلاق مالک اور صاحبِ نعمت پر ہوا ہے ۔
لہٰذا آپ دیکھ رہے ہیں کہ زیرِ بحث آیت کے علاوہ اسی سورہ میں چار مرتبہ لفظ”رب“ کا اطلاق غیر خدا پر ہوا ہے اگرچہ اسی سورہ میں اور قرآن کی دوسری سورتوں میں یہ لفظ بار ہا پروردگارعالم کے لئے استعمال ہوا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ یہ ایک مشترک لفظ ہے اور اس کا اطلاق دونوں معانی پر ہوتا ہے ۔
بہرحال بعض مفسرین نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ زیر بحث آیت ”انہ ربی احسن مثوای“ ، میں لفظ ”رب“ ”خدا“ کے معنی میں ہے کیونکہ لفظ ”اللہ“ کہ جو ساتھ ذکر ہوا ہے ، سبب بنتا ہے کہ ضمیر اسی کی طرف لوٹے، لہٰذا اس صورت میں جملے کا معنی یوں ہوگا:
مَیں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ جو میرا پروردگار ہے اور جس نے میرے مقام کو محترم قرار دیا ہے اور مجھے حاصل نعمت اسی کی طرف سے ہے ۔
لیکن ”اکرمی مثوای“ کے لفظوں سے مصر کی سفارش کی طرف توجہ کی جائے تو اسی لفظ ”مثوای“ کا تکرار زیر ِ بحث آیت میں ہوا ہے، اس سے پہلے معنی کو تقویت ملتی ہے، تورات کی فصل ۳۹ شمارہ ۸،۹ اور ۱۰ میں یوں ہے-:
اور اس کے بعد یہ ہوا کہ اس کے آقا کی بیوی نے اپنی آنکھیں یوسف پر مرکوز کردیں اورکہنے لگی: میرے ساتھ سوجا ۔
لیکن اس نے انکار کردیا اور اپنے آقا کی بیوی سے کہا: جو کچھ اس گھر میں میرے ساتھ ہورہا ہے میرا آقا اس سے آگاہ نہیں ہے ، اس نے اپنی تمام ملکیت میرے سپرد کررکھی ہے، اس گھرمیں مجھ سے بڑا کوئی نہیںہے اور میرے کسی چیز کے لینے میں اس نے کوئی مضائقہ نہیں سمجھا، سوائے تیرے کہ جو اس کی بیوی ہے لہٰذا مَیں یہ قباحت ِ عظیم کیسے انجام دوں گا کہ جوخدا کا معصیت ہے ۔
تورات کے یہ جملے بھی پہلے معنی کی تائید کرتے ہیں ۔
یہاںیوسف اور زوجہ کا معاملہ نہایت باریک مرحلے اور انتہائی حساس کیفیت تک پہنچ جاتا ہے جس کے متعلق قرآن بہت معنی خیز انداز میں گفتگو کرتا ہے: مصر کی بیوی نے اس کا قصد کیا اور اگر یوسف بھی برھانِ پروردگار نہ دیکھتا تو ارادہ کرتا( وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہِ وَھَمَّ بِھَا لَوْلَااٴَنْ رَاٴَی بُرْھَانَ رَبِّہِ )۔
اس جملے کے معنی کے متعلق مفسرین میں بہت اختلاف ہے، اس کا خلاصہ درج ذیل تین تفسیر میں کیا جاسکتا ہے:
۱۔ مصر کی بیوی نے یوسف سے اپنی آزادی کو پورا کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا اور اس کے لئے اپنی انتہایہ کوشش کی ، یوسف بھی نوخیز جوان تھے، ابھی تک ان کی شادی بھی نہ ہوئی تھی اور نہایت ہیجان انگیز جنسی کیفیت ان کے سامنے تھی وہ بھی طبع بشری کے تقاضے سے ایسا ارادہ کرلیتے اگر برھان ِ پروردگار یعنی روح ، ایمان وتقویٰ ، تربیتِ نفس اور آخرکار مقامِ عصمت اس میں حائل نہ ہوتا ۔
اس بنا پر مصر کی بیوی کے ”ھم“ (قصد)اور یوسف کے قصد کے درمیان فرق یہ تھا کہ یوسف کی طرف سے ایک شرط سے مشروط تھا کہ جو حاصل نہ ہوئی (یعنی برھانِ پروردگار کا عدم وجود)لیکن کی بیوی کی طرف سے مطلق تھا اور چونکہ وہ اس قسم کے مقامِ تقویٰ وپرہیزگاری کی حامل نہ تھی اس لئے اس نے یہ ارادہ کرلیا اورآخری مرحلے تک اس پر قائم رہی، یہاں تک کہ اس کی پیشانی پتھر سے ٹکرائی ۔
ایسے جملوں کی نظیر عربی اور فارسی ادب میں بھی موجود ہے ، مثلا ہم کہتے ہیں کہ بے لگام افرادنے فلاں کسان کے پھلوں کا باغ غارت کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا ہے، مَیں نے بھی اگر سالہا سال مکتبِ استاد میں تربیت حاصل نہ کی ہوتی تو اس قسم کا ارادہ کرتا ۔
اس بناء حضرت یوسف (علیه السلام)کا ارادہ ایک شرط سے مشروط تھا، جو حاصل نہ ہوئی اور یہ شرط نہ صرف حضرت یوسف (علیه السلام) کے مقامِ عصمت اور تقویٰ کے منافی نہیں بلکہ اس بلند مقام کی وضاحت ہے ۔
اس تفسیر کے مطابق حضرت یوسف (علیه السلام) سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہیںہوئی کہ جو ان کے ارادہ گناہ کی نشانی بنے بلکہ انہوں نے دل میں بھی ایسا ارادہ نہیں کیا ۔
لہٰذا بعض ایسی روایات کہ جن میں ہے کہ یوسف (علیه السلام) مصر کی بیوی سے خواہش پورا کرنے کے لئے آمادہ ہوگئے تھے یہاں تک کہ لباس بھی اتار لیا تھا اور ایسی ہی دوسری عبارتیں کہ جنہیں نقل کرتے ہوئے شرم آتی ہے، سب بے بنیاد، مجہول اور جعلی ہیں اور ایسے اعمال آلودہ ، بے لگام، ناپاک اور غلط افراد سے صادر ہوتے ہیں حضرت یوسف (علیه السلام)اپنی پاکیزگی روح اور بلند مقامِ تقویٰ کے حامل تھے انہیں ایسے کاموں سے کس طرح متہم کیا جاسکتا ہے ۔
یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ حضرت امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے ایک حدیث میں یہی تفسیر بہت ہی جچی تلی اور مختصر عبارت میں بیان ہوئی ہے، حدیث کچھ یوں ہے:
عباسی خلیفہ مامون امام(علیه السلام) سے پوچھتا ہے: کیا آپ حضرات نہیں کہتے کہ انبیاء معصوم ہیں ۔
فرمایا: جی ہاں ۔
اس نے کہا-: پھر قرآن کی اس آیت کی تفسیر کیا ہے-” وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہِ وَھَمَّ بِھَا لَوْلَااٴَنْ رَاٴَی بُرْھَانَ رَبِّہِ“ ۔
امام نے فرمایا:
وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہِ و لَوْلَااٴَنْ رَاٴَی بُرْھَانَ رَبِّہِ لھم بھا کماھمت بہ لکن کان معصوما والمعصوم لا یھم بذنب ولا یاتیہ۔۔۔
یعنی ۔ زوجہ نے یوسف (علیه السلام) سے اپنی خواہش کی تکمیل کا ارادہ کیا اور یوسف بھی اگر اپنے پروردگار کی برھان نہ دیکھتے تو مصر کی بیوی کی طرح ارادہ کرتے لیکن وہ تو معصوم تھے اورمعصوم کبھی بھی گناہ کا ارادہ نہیں کرتا اور گناہ کے پیچھے نہیں جاتا ۔
مامون کو اس جواب پر بہت لطف آیا، اس نے کہا:
للہ درک یا ابالحسن
آفرین آپ پر اے ابالحسن!
۲۔ مصر کی بیوی اور یوسف (علیه السلام) میں سے کسی کا ارادہ بھی جنسی خواہش سے مربوط نہ تھا بلکہ حملہ کرنے اور ایک دوسرے کو مارپیٹنے کا ارادہ تھا ۔ زوجہ چونکہ عشق میں شکست خوردہ تھی اس لئے اس میں انتقام کا جذبہ پیدا ہوگیا تھا اور یوسف (علیه السلام) اپنا دفاع کرنا چاہتے تھے اور اس عورت کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیںکرنا چاہتےء تھے ۔
اس امر کے لئے جو قرائن ذکر کئے گئے ہیں ا ن میں سے ایک یہ ہے کہ زوجہ نے مطلب براری کا اراہ تو بہت پہلے سے کیا ہوا تھا اور اس کے لئے اس نے تمام لوازمات پورے کررکھے تھے لہٰذا اس بات کا کوئی موقع نہیں تھا کہ قرآن کہے کہ اس نے اس کام کا ارادہ کیا کیونکہ ارادے کا موقع نہ تھا ۔
دوسرا یہ کہ اس شکست کے بعد سختی اور انتقام جوئی کی کیفیت پیدا ہونا فطری ہے کیونکہ یوسف (علیه السلام) سے نرمی اور پیار محبت کے لئے جو کچھ اس کے بس میں تھا وہ کرچکی تھی اور چونکہ اس طرح ان پر اثر انداز نہیں ہوسکی تھی اس لئے اس نے دوسرا ہتھیار استعمال کرنا چاہا اور یہ سختی کا ہتھیار تھا ۔
تیسرا یہ کہ آیت میں :”کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ“(، ہم نے بدی اور فحشاء دونوں کو یوسف سے دُور کردیا) ”فحشاء“ کا معنی عہی بے حیائی اور آلودہ ہونا ہے، اور ”سوء“ مصر کے تشدد سے نجات ہے ۔
لیکن یوسف (علیه السلام) نے چونکہ برھانِ پروردگار کو دیکھ لیا تھا لہٰذا اپنے آپ کو اس عورت سے دست وگریبان ہونے سے بچایا تا کہ کہیں وہ حملہ کرکے انہیں زخمی نہ کردے اور یہ پھر ان کے ارادہ تجاواز کی دلیل بن جائے لہٰذا انہوں نے اس بات کو ترجیح دی کہ اس جگہ سے دُور چلے جائیں اور وہ دروازے کی طرف بھاگے ۔
۳۔ اس میں شک نہیں کہ یوسف (علیه السلام) جوان تھے، جوانی کے تمام احساسات اور جذبات بھی ان میں موجود تھے اگر چہ ان کے قوی جذبات ان کی عقل اور ایمان کے کے ماتحت تھے لیکن فطری بات یہ کہ جب ایسا انسان کسی انتہائی ہیجان انگیز موقع سے دوچار ہوتو اس کے اندر ایک طوفان پیدا ہوتا ہے ، جزبات اور عقل ایک دوسرے کے خلاف جنگ کے لئے اٹھ گھڑے ہوتے ہیں، جزبات کو بھڑکانے والے عوامل کی موجیں جس قدر زیادہ قوی ہوں گی اس کا پلڑا بھاری ہوگا، یہاں تک کہ ہوسکتا ہے کہ ایک انتہائی مختصر لمحے کے لئے ان کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ قدم تھوڑا سا آگے پڑے تو ہولناک لغزش کا سامنا کرنا پڑے ۔
اچانک ایمان وعقل کی قوت ہیجان میں آجاتی ہے اور اصلاح کے مطابق آمادہ جنگ ہوجاتی ہے اور مخالف فوج کو شکست دے دیتی ہے اور جذبار کی قوت کے جو قعرِ مذلت کے کنارے پہنچ جاتی ہے اسے پیچھے دھکیل دیتی ہے ۔
یہ مختصر حساس اور بحرانی لحظہ کہ جو اطمینان وسکون کے دو زمانوں کے درمیان تھا، قرآن نے اس کی تصویر کشی کی ہے، اس بناء پر ”وھم بھا لولا ان را برھان ربہ“ سے مراد ہے کہ جذبات اور عقل کی کش مکش میں یوسف (علیه السلام) قعرِ مزلت وگناہ کے لبوں تک آپہنچے تھے کہ اچانک ایمان وعقل کی بہت زیادہ قوت جمع ہوگئی اور اس نے جذبات کے طوفان کو شکست دے دیاب کوئی یہ گمان نہ کرے کہ یوسف (علیه السلام) اگراس پھسلن اور گرنے کی جگہ سے بچ گئے تو یہ کوئی معمولی کام تھا کیونکہ گناہ اور ہیجان کے عوامل ان کے وجود سے بہت کمزور تھے، نہیں ایسا ہرگز نہیں بلکہ آپ (علیه السلام) اپنی پاکیزگی کی حفاظت کے لئے اس حساس ترین لمحے میں جہاد بالنفس کے انتہائی شدید معرکے سے گزرے ۔

برہانِ پروردگار سے کیا مراد ہے؟
”برھان“ در اصل ”برہ“ کا مصدر ہے کہ جس کا معنی ہے”سفید ہونا“ بعد ازاں ہر محکم وقوی دلیل کو برھان کہا جانے لگا تو مقصودواضح ہونے کا سبب بنے، اس بناء پر برھانِ الٰہی کہ جو نجاتِ یوسف (علیه السلام) کا سبب بنی ایک قسم کی واضح خدائی دلیل ہے، اس کے بارے میں مفسرین نے بہت سے احتمالات ذکر کئے ہیں ، ان میں سے بعض یہ ہیں:
۱۔ علم وایمان، انسانی تربیّت اور برجستہ وعمدہ صفات۔
۲۔ زنا کے حکمِ تحریمی کے بارے میں آگاہی وعلم۔
۳۔ مقامِ نبوت وگناہ سے معصوم ہونا ۔
۴۔ ایک قسم کی الہٰی امداد و نصرت جو ان کے نزدیک نیک اعمال کی وجہ سے اس حساس لمحے میں انہیں میسّر آئی ۔
۵۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ ایک بُت تھا کہ جو زوجہ (علیه السلام) مصر کا معبود شمار ہوتا تھا، اچانک اس عورت کی نگاہ اس بُت پر پڑی، اسے یوں محسوس ہوا جیسے اسے وہ گھور رہا ہے اور اس کی خیانت آمیز حرکات کو غیض و غضب کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے، وہ اٹھی اور اس بُت پر پردہ ڈال دیا، یوسف (علیه السلام) نے یہ منظر دیکھا تو ان کے دل میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا، وہ لرز گئے اور کہنے لگے تُو تو اس بے عقل، بے شعور، حس وتشخیص سے عاری بُت سے شرم کرتی ہے، کیسے ممکن ہے کہ مَیں اپنے پروردگار سے شرم نہ کروں کہ جو تمام چیزوں کو جانتا ہے اور تمام مکفی امور اور خلوت گاہوں سے باخبر ہے ۔
اس احساس نے یوسف (علیه السلام) یوسف (علیه السلام) کو ایک نئی توانائی اور قوت بخشی اور شدید جنگ کہ جو ان کی روح کہ گہرائیوں میں جذبات اور عقل کے درمیان جاری تھی اس میں ان کی مدد کی تاکہ وہ جذبات کی سرکش موجوں کو پیچھے دھکیل سکیں ۔(۱)
اس کے باوجود کوئی مانع نہیں کہ یہ سب معانی یکجامراد ہوں کیونکہ ”برھان“ کے وسیع مفہوم میں سب موجود ہیں اور قرآنی آیات وروایات میں لفظ”برھان“ کا مندرجہ بالا اکثر معانی پر اطلاق ہوا ہے ۔
باقی رہیں وہ بے بنیاد روایات جو مفسرین نے نقل کی ہیں کہ جن کے مطابق حضرت یوسف (علیه السلام) نے گناہ کا ارادہ کرلیا تھا کہ اچانک حالتِ مکاشفہ میں جبرائیل یا حضرت یعقوب (علیه السلام) کو دیکھا کہ جو اپنی انگلی دانتوں سے کاٹ رہے تھے انہیں دیکھا تو یوسف (علیه السلام) پیچھے ہٹ گئے ۔ ایسی روایات کی کوئی معتبر سند نہیں ہے، یہ اسرائیلیات کی طرح ہیں اور کوتاہ فکر انسانوں کے دماغوں کی پیداوار ہیں جنہوں نے مقامِ انبیاء کو بالکل نہیں سمجھا ۔
اب ہم باقی آیت کی تفسیر کی طرف توجہ کرتے ہیں، قرآن مجید کہتا ہے: ہم نے یوسف کو اپنی ایسی برھان پیش کی تاکہ بدی اور فحشاء کو اس سے دور کریں(کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ ) ، کیونکہ وہ ہمارے برگزیدہ اور مخلص بندوں میں سے تھا(إِنَّہُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِینَ)۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ہم نے جو اس کے لئے غیبی اور روحانی امداد بھیجی تاکہ وہ بدی اور گناہ سے رہائی پائے تو یہ بے دلیل نہیں تھا، وہ ایک ایسا بندہ تھا جس نے اپنے آپ کو آگاہی ، ایمان، پرہیزگاری اور پاکیزہ عمل سے آراستہ کیا ہوا تھا اور اس کا قلب وروح شرک کی تاریکیوں سے پاک اور خالص تھا، اسی لئے وہ ایسی خدائی امداد کی اہلیت و لیاقت رکھتا تھا، اس دلیل کا ذکر نشاندہی کرتا ہے کہ ایسی کدائی امداد جو طغیانی وبحرانی لمحات میں یوسف (علیه السلام) جیسے انبیاء کو میسّر آتی تھی ان سے مخصوص نہ تھی بلکہ جو شخص بھی خدا کے خالص بندوں اور ”عباد اللّٰہ المخلصین“ کے امرے میں آتا ہو ایسی نعمات کے لائق ہے ۔
..............
۱۔ نور الثقلین،ج۲،ص ۴۲۲و تفسیر قرطبی، ص ۳۳۹۸،ج ۵۔

چند اہم نکات
1نفس سے جہاد:
ہم جانتے ہیں کہ اسلام میں افضل ترین جہاد جہادِبا نفس ہے جیسے پیغمبر ِ اکرم نے اپنی ایک مشہورحدیث میں ”جہادِ اکبر“ کا نام دیا ہے یعنی بڑے دشمن سے جہاد کہ جسے جہاد ِ اصغر کا نام دیا گیا ہے میں اصولی طور پر اس وقت تک کامیابی ممکن نہیں جب تک کہ حقیقی معنی میں انسان جہادِ اکبرکے مرحلے سے نہ گزرے ۔
قرآن مجید جہاد ِ اکبر کے میدان میں انبیاء اور دیگر اولیائے خدا سے مربوط بہت سے مناظر کی تصویر کشی کی گئی ہے، ان میں سے نہایت اہم حضرت یوسف (علیه السلام) کی سرگزشت اور زوجہ مصر کے عشقِ سوازاں کی داستان میں ہے، اگر چہ اس کے تمام پہلوؤ ں کی قرآن نے اختصار کے سبب وضاحت نہیں کی تاہم ایک مختصر جملے” وھم بھا لولا ان را برھان ربہ“ کے ذریعے اس طوفان کی شدت کو بیان کیا ہے ۔
اس میدانِ مقابلہ سے حضرت یوسف (علیه السلام) رو سفید نکلے ، ان کی کامیابی کی تین وجوہ ہیں :
پہلی یہ کہ آپ (علیه السلام)نے اپنے تئیں خدا کے سپرد کیا اور اسکے لطف وکرم کی پناہ لی(قال معاذاللّٰہ)۔
دوسری یہ کہ آپ ع نے مصر کے احسانات کی طرف توجہ کی، جس کے گھرمیں آپ (علیه السلام) زندگی بسر کررہے تھے ۔
یا یہ کہ خدا کی لامتناہی نعمات کی طرف توجہ کی کہ جس نے انہیں وحشتناک کنویں کی تہ سے نکال کر امن وامان وسکون وآرام کے ماحول میں پہنچا دیا، اس امر نے آپ (علیه السلام) کو اس بات پر ابھارا کہ اپنے گزشتہ اور آئندہ پر زیادہ غور وفکر کریں اور اپنے آپ کو زود گزر طوفانوں کے حوالے نہ کریں ۔
تیسری یہ کہ یوسف (علیه السلام) کی کود سازی وبندگی کہ جس میں خلوص شامل تھا اور جو”انہ من عبادنا المخلصین“ سے معلوم ہوتی ہے نے آپ (علیه السلام) کو قوت بخشی کہ اس عظیم میدان میں کئی گنا وسوسوں کے مقابلے میں کہ جو اندر اور باہر سے آپ (علیه السلام) پر حملہ آور ہوتے تھے گھٹنے نہ ٹیک دیں ۔
اور یہ درس ہے تمام آزاد انسانوں کے لئے کہ جو جہادِ نفس کے میدان میں اس خطرناک دشمن پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام دعائے صباح میں بہت دلکش پیرائے میں فرماتے ہیں:
وان خذلنی نصرک عند محاربة النفس والشیطان فقد وکلنی خذ لانک الیٰ حیث النصب والحرمان۔
بار الہا! اگر نفس اور شیطان سے مقابلے کے وقت ہم تیری نصرت سے محروم رہ جائیں تو یہ محرومیت ہمیں رنج وحرمان کے سپرد کردے گی اور ہماری نجات کی امید نہیں رہے گی ۔
ایک حدیث میں ہے:
ان النبی(ص)بعث سریة فلما رجعوا قال مرحباً بقوم قضوا الجھاد الاصغر وبقی علیھم الجھاد الاکبر، فقیل یا رسول اللّٰہ ماالجھاد الاکبر، قال جھاد النفس۔
رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے کچھ مسلمانوں کو ایک جنگ پر بھیجا، جب وہ (تھکے، ماندے اور مجروح بدن) واپس آئے تو فرمایا: آفرین ہے ان لوگوں پر کہ جنہوں نے جہادِ اصغر انجام دیا ہے لیکن اب جہادِ اکبر کی ذمہ داری ان پر باقی ہے ۔
انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ جہادِ اکبر کیا ہے؟
فرمایا: نفس کے ساتھ جہاد۔(1)
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
المجاھد من جاھد نفسہ۔
حقیقی مجاہد وہ ہے جو نفس کی سرکش خواہشوں کے خلاف جہاد کرے ۔(2)
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:
من ملک نفسہ اذا رغب، واذا رھب، واذا اشتھی، واذا غضب، واذا رضی، حرم اللّٰہ جسدہ علی النار۔
جو شخص چند حالت میں خود پر کنٹرول رکھے ۔
جب اسے کسی کی طرف رغبت ہو،جب خوف میں ہو،جب شعلہ شہوت بھڑکتا ہو،جب عالمِ غیض وغضب میں ہو اورجب کسی پر خوش ہو۔ (اپنے ارادے سے ان جذبات کو اس طرح کنٹرول میں رکھے کہ یہ اسے حکمِ خدا سے منحرف نہ کردیں)تو خدا اس کا بدن جہنم پر حرام کردے گا ۔( 3)
..............
1۔وسائل الشیعہ، ج ۱۱،ص ۱۲۲۔
2۔وسائل الشیعہ، ج ۱۱،ص ۱۲۴۔
3-وسائل الشیعہ، ج ۱۱،ص ۱۲۳۔

۲۔ اخلاص کی جزا
جیسا کہ مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں اشارہ کیاجا چکا ہے کہ قرآن مجید اس خطرناک گرداب کہ جو زوجہ مصر نے پیدا کردیا، سے یوسف (علیه السلام) کی نجات کی نسبت خداکی طرف دیتا ہے اور کہتا ہے:
ہم نے ”سوء“ اور ”فحشاء“ کو یوسف سے دُور کردیا ۔
لیکن ۔ بعد کا جملہ کہ جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھا، کی طرف توجہ کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ان بحرانی لمحات میں خدا اپنے مخلص بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا اور ان کے لئے اپنی معنوی امداد سے دریغ نہیں کرتا بلکہ اپنے غیبی الطاف وامداد سے کہ جن کی تعریف وتوصیف کسی طرح بھی ممکن نہیں اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے اور یہ درحقیقت ایسی جزا ہے کہ جو خدائے بزرگ وبرتر ایسے بندوں کو عطا فرماتا ہے ۔ یہ در اصل پاکیزگی، تقویٰ اور اخلاص کی جزاء ہے ۔
ضمنی طور پر اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں حضرت یوسف (علیه السلام) کا ذکر ”مُخلَص“ (بروزن”مطلق“ )بصورتِ اسمِ مفعول ہوا ہے یعنی ”خالص کیا ہوا“ نہ کہ بصورتِ ”مُخلِص“ (بروزن”مُحسِن“) اسمِ فاعل کی شکل میں جس کا معنی ہے ”خالص کرنے والا“۔
غور وخوض سے معلوم ہوتا ہے کہ ”مُخلِص“(لام کے نیچے زیر کی صورت میں)زیادہ تر ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے کہ جہاںانسان تکامل و ارتقاء کے ابتدائی مراحل میں ہو اور ابھی خود سازی کے عمل سے گزررہا ہو، جیساکہ قرآنِ حکیم میں ہے:
فَإِذَا رَکِبُوا فِی الْفُلْکِ دَعَوْا اللهَ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّین
جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں خدا کو خلوص سے پکارتے ہیں ۔(عنکبوت:۶۵)
اسی طرح ایک اور آیت میں ہے:
وما امروا الا لیعبداللّٰہ مخلصین لہ الدین۔
انہیں حکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ خدا کی خلوص کے ساتھ پرستش کریں ۔(بینة: ۵)
لیکن” مُخلَص“ (لام پر زبر کی صورت میں) اعلیٰ مرحلے کے لئے بولا جاتا ہے کہ جو ایک مدت تک جہادِ بالنفس سے حاصل ہوتا ہے وہی مرحلہ کہ جب شیطان انسان میں اپنے وسوسے پیدا کرنے سے مایوس ہوجاتا ہے، در حقیقت اس مرحلے میں خدا کی طرف سے بیمہ ہوجاتا ہے ۔
ارشاد الٰہی ہے:
قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَاٴُغْوِیَنَّھُمْ اٴَجْمَعِینَ، إِلاَّ عِبَادَکَ مِنْھُمَ الْمُخْلَصِین۔
شیطان نے کہا: تیری عزت کی قسم! ان سب کو گمراہ کروں گا مگر تیرے مخلص بندوں کو(۸۲۔۸۳)۔
یوسف (علیه السلام) اس مرحلہ پر پہنچے ہوئے تھے کہ اس بحرانی حالت میں انہوں نے پہاڑ کی طرح استقامت دکھائی اور کوشش کرنا چاہیئے کہ انسان اس مرحلے تک پہنچ جائے ۔

۳۔ متین وپاکیزہ کلام
قرآن کے عجیب وغریب پہلوؤں میں سے ایک کہ جو اعجاز کی ایک نشانی بھی ہے ، یہ ہے کہ اس میں کوئی چھپنے والی ، رکیک ، ناموزوں، متبذل اور عفت وپاکیزگی سے عاری تعبیر نہیں ہے اور کسی عام اَن پڑھ اور جہالت کے ماحول میں پرورش پانے والے کا کلام ہرگز اس طرز کا نہیں ہوسکتا، کیونکہ ہر شخص کی باتیں اس کے افکار اور ماحول سے ہم رنگ ہوتی ہیں ۔
قرآن کی بیان کردہ تمام داستانوں میں ایک حقیقی عشقیہ داستان موجود ہے اور یہ حضرت یوسف (علیه السلام) اور مصر کی بیوی کی داستان ہے ۔
یہ ایک خوبصور ت اور ہوس آلودہ عورت کے ایک زیرک اور پاک دل نوجوان سے شعلہ ور عشق کی داستان ہے ۔
کہنے والے اور لکھنے والے جب ایسے مناظر تک پہنچتے ہیں تو وہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ یا تو ہیرو اور اس واقعے کے اصلی مناظرکی تصویر کشی کے لئے قلم کو کھلا چھوڑ دیں اور با زبانِ اصطلاح حقِ سخن ادا کردیں اگرچہ اس میں ہزارہا تحریک آمیز، چھبنے والے اور غیر اخلاقی لفظ آجائیں ۔
یا وہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ زبان وقلم کی نزاکت وعفت کی حفاظت کے لئے کچھ مناظر کو پردہ ابہام میں لپیٹ دیں اور سامعین وقارئین کو سربستہ طور پر بات بتائیں ۔
کہنے والا اور لکھنے والا کتنی بھی مہارت رکھتا ہو اکثر اوقات ان میں سے کسی ایک مشکل سے دوچار ہوجاتا ہے ۔
کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ ایک اَن پڑھ شخص ایسے شور انگیز عشق کے نہایت احساس لمحات کی دقیق اور مکمل تصویر کشی بھی کرے لیکن بغیر اس کے کہ اس میں معمولی سی تحریک آمیز وعفت سے عاری تعبیر استعمال ہوں ۔
لیکن قرآن اس داستان کے حساس ترین مناظر کی تصویر کشی شگفتہ انداز میں متانت وعفت کے ساتھ کرتا ہے، بغیر اس کے کہ اس میں کوئی واقعہ چھوٹ جائے اور اظہارِ عجز ہو، جب کہ تمام اصولِ اخلاق وپاکیزگی بیان بھی محفوظ ہو ۔
ہم جانتے ہیں کہ اس داستان کے تمام مناظر میں سے زیادہ حساس ”خلوت گاہ وعشق“ کا ماجرا ہے جیسے زوجہ مصر کی بیقراری اور ہواوہوس نے وجود بخشا ۔
قرآن اس واقعے کی وضاحت میں تمام کہنے کی باتیں بھی کہہ گیا ہے لیکن پاکیزگی اور عفت کے اصول سے ہٹ کر اس نے تھوڑی سی بات بھی نہیں کی، قرآن اس طرح سے کہتا ہے:
وَرَاوَدَتْہُ الَّتِی ھُوَ فِی بَیْتِھَا عَنْ نَفْسِہِ وَغَلَّقَتْ الْاٴَبْوَابَ وَقَالَتْ ھَیْتَ لَکَ قَالَ مَعَاذَ اللهِ إِنَّہُ رَبِّی اٴَحْسَنَ مَثْوَایَ إِنَّہُ لَایُفْلِحُ الظَّالِمُونَ۔
جس خاتون کے گھر یوسف تھے، اس نے ان سے تقاضااور اظہار تمنا کی اورتمام دروازے بند کرلئے اور کہنے لگی :جلدی آؤ،اس کی طرف جو و تمہارے خاطر مہیا ہے،انہوںنے کہا : مَیں اس کام سے خداکی پناہ مانگتا ہوں ، ( مصر)بزرگ اور میرا مالک ہے،اس نے مجھے بڑی عزت سے رکھا ہے ،یقینا ظالم (اور آلودہ دامن افراد ) فلاح نہیں پائیں گے (یوسف:۲۳)۔
اس آیت میں یہ الفاظ قابلِ غور ہیں :
۱۔ لفظ”وارد“ وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں کوئی شخص دوسرے سے کوئی چیز بڑی محبت اور نرمی سے مانگے(لیکن زوجہ مصر یوسف سے جو کچھ طلب کرتی تھی )چونکہ یہاں واضح تھی لہٰذا قرآن نے اسی واضح کنایہ پر کفایت کی ہے اور نام نہیں لیا ۔
۲۔ یہاں قرآن لفظ” امراة ال“(یعنی ۔ مصر کی بیوی)تک استعمال نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے” الَّتِی ھُوَ فِی بَیْتِھَا“ (وہ خاتون کہ یوسف جس کے گھرمیں رہتا تھا )یہ اس لئے ہے تاکہ کلام پردہ پوشی اور عفتِ بیاں سے زیادہ قریب ہو ۔
ضمنی طور پر اس تعبیر سے قرآن نے حضرت یوسف (علیه السلام) کی حسِ حق شناسی کو بھی مجسم کیا ہے، یعنی یوسف (علیه السلام) نے تمام مشکلات کے باوجود اس کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا جس کے پنجے میں آپ کی زندگی تھی ۔
۳۔ َ”غَلَّقَتْ الْاٴَبْوَابَ “ کہ جو مبالغے کا معنی دیتا ہے، دلالت کرتا ہے کہ تمام دروازے مضبوطی اور سختی سے بند کر دےے اوریہ اس ہیجان انگیز منظر کی تصویر کشی ہے ۔
۴۔” وَقَالَتْ ھَیْتَ لَک“ اس کا معنی ہے ”جلدی آؤ اس کی طرف جوتمہارے لئے مہیا ہے “ یا ”آجاؤ کہ مَیں تمہارے اختیار میں ہوں “۔
اس جملے کے وصالِ یوسف سے ہمکنار ہونے کے لئے زوجہ مصر کی آخری بات پیش کی گئی ہے لیکن ایک وزنی، پرمتانت اور معنی خیز انداز میں بغیر کسی تحریک آمیز اور بد آموزی کے ۔
۵۔” مَعَاذَ اللهِ إِنَّہُ رَبِّی اٴَحْسَنَ مَثْوَایَ“یہ جملہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے اس حسین ساحرہ کی دعوت کے جواب میں کہااکثر مفسرین کے بقول اس کا معنی ہے:”مَیں خدا کی پناہ مانگتا ہوں ، تیرا شوہر مصر میرا بزرگ اور مالک ہے اور وہ میرا احترام کرتا ہے اور مجھ پر اعتماد کرتا ہے، مَیں اس سے کسی طرح کی خیانت کروں ، یہ کام خیانت بھی اور ظلم بھی “” إِنَّہُ لَایُفْلِحُ الظَّالِمُونَ“۔
اس طرح قرآن حضرت یوسف (علیه السلام) کے بارے میں بیان کرتا ہے کہ انہوں نے مصر کی بیوی کے احساسات بیدار کرنے کی کوشش کی ۔
۶۔”وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہِ وَھَمَّ بِھَا لَوْلَااٴَنْ رَاٴَی بُرْھَانَ رَبِّہِ “ ایک طرف قرآن اس خلوت گاہ عشق کے انتہائی حساس مناظر کی تصویر کشی کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ کیفیت اس قدر تحریک آمیز تھی کہ اگر حضرت یوسف (علیه السلام) عقل، ایمان یاعصمت کے بلند مقام پر نہ ہوتے تو گرفتار ہوجاتے، دوسری طرف آیت کے اس حصے میں قرآن طغیان گر شہوت کے دیو پر حضرت یوسف (علیه السلام) کی آخری کامیابی پر ایک خوبصورت انداز میں خرات تحسین پیش کررہا ہے ۔
یہ بات قابل ِ توجہ ہے کہ لفظ”ھم “ استعمال ہوا ہے یعنی مصر کی بیوی نے پختہ ارادہ کررکھا تھا اور یوسف (علیه السلام) نے بھی اگر برھان پروردگار نہ دیکھی ہوتی تو وہ بھی ارادہ کرتے ۔
کیا کوئی لفظ یہاں قصد وارادہ سے بڑھ کر متانت آمیز استعمال کیا جاسکتا ہے؟