تفسیر نمونہ جلد 09
 

۱۹ وَجَائَتْ سَیَّارَةٌ فَاٴَرْسَلُوا وَارِدَھُمْ فَاٴَدْلَی دَلْوَہُ قَالَ یَابُشْریٰ ھٰذَا غُلَامٌ وَاٴَسَرُّوہُ بِضَاعَةً وَاللهُ عَلِیمٌ بِمَا یَعْمَلُونَ ۔
۲۰ وَشَرَوْہُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاھِمَ مَعْدُودَةٍ وَکَانُوا فِیہِ مِنَ الزَّاھِدِینَ۔

ترجمہ

۱۹۔اور قافلہ آپہنچا(انہوں نے) پانی پر مامور( شخص کو پانی کی تلاش) کو بھیجا، اُس نے اپنا ڈول کنویں میں ڈالا اور وہ پکارا: خوشخبری ہو، یہ لڑکا ہے
( خوبصورت اور قابلِ محبت)انہوں نے اسے ایک سرمایہ سمجھتے ہوئے دوسروں سے مخفی رکھا اور جو کچھ وہ انجام دیتے تھے خدا اس سے آگاہ ہے ۔
۲۰۔اور انہوں نے اسے چند درہموں کی معمولی قیمت پر بیچ دیا اور (اسے بیچتے ہوئے) وہ اس کے بارے میں بے اعتناء تھے( کیوں کہ وہ درتے تھے کہ کہیں ان کا راز فاش نہ ہوجائے)

سرزمینِ مصر کی جانب
یوسف (علیه السلام) نے کنویں کی وحشت ناک تاریکی اور ہولناک تنہائی میں بہت تلخ گھڑیاں گزاریں لیکن خدا پر ایمان اور ایمان کے زیرِ سایہ ایک اطمینان نے ان کے دل میں نورِ امید کی کرنیں روشن کردی تھیں اور انہیں ایک توانائی بخشی تھی تاکہ وہ اس ہولناک تنہائی کو برداشت کریں اور آزمائش کی اس بھٹی سے کامیابی کے ساتھ نکل آئیں، اس حالت میں وہ کتنے دن رہے یہ خدا جانتا ہے، بعض مفسرین نے تین دن لکھا ہے اور بعض نے دو دن، بہرحال ایک قافلہ آپہنچا“ (وَجَائَتْ سَیَّارَةٌ)۔(۱)
اور اس قافلے نے وہیں نزدیک ہی پڑاؤ ڈالا، واضح ہے کہ قافلے کی پہلی ضرورت یہی ہوتی ہے کہ وہ پانی حاصل کرے، اس لئے”انہوں نے پانی پر مامور شخص کو پانی کی تلاش میں بھیجا( فَاٴَرْسَلُوا وَارِدَھُم)(۲)، ” اُس نے اپنا ڈول کنویں میں ڈالا“( فَاٴَدْلَی دَلْوَہُ)۔
یوسف کنویں کی تہ میں متوجہ ہوئے کہ کنویں کے اوپر سے کوئی آواز آرہی ہے، ساتھ ہی دیکھا کہ ڈول اور رسی تیزی سے نیچے آرہی ہے، انہوں نے موقع غنیمت جانا اور اس عطیہ الٰہی سے فائدہ اٹھایا اور فوراً اس سے لپٹ گئے، بہشتی(۳)نے محسوس کیا کہ اس کا ڈول اندازے سے زیادہ بھاری ہے، جب اس نے زور لگاکر اسے اوپر کھینچا تو اچانک اس کی نظر ایک چاند سے بچے پر پڑی، وہ چِلّایا: خوشخبری ہو، یہ تو پانی کے بجائے بچہ ہے (قَالَ یَابُشْریٰ ھٰذَا غُلَامٌ )۔
آہستہ آہستہ قافلے میں سے چند لوگوں کو اس بات کا پتہ چل گیا لیکن اس بنا پر کہ دوسروں کو پتہ نہ چلے اور یہ خود ہی مصر میں اس خوبصورت بچے جو ایک غلام کے طور پر بیچ دیں ”اسے ا نہوں نے ایک اچھا سرمایہ سمجھتے ہوئے دوسروں سے مخفی رکھا“(وَاٴَسَرُّوہُ بِضَاعَةً )(۴)
البتہ اس جملے کی تفسیر میں کچھ اور احتمال بھی ذکر کئے گئے ہیں :
ایک یہ کہ یوسف (علیه السلام) جن کے ہاتھ لگا انہوں نے اس کا کنویں سے ملنا مخفی رکھا اور کہا کہ یہ سرمایہ ہمیں کنویں کے مالکوں نے دیا ہے تاکہ اسے ان کے لئے مصر میں بیچ دیں ۔
دوسرا یہ کہ یوسف (علیه السلام) کے بعض بھائی جواس کی خبر لینے کے لئے یا اس کو غذا دینے کے لئے کبھی کبھی کنویں کے پاس آیا کرتے تھے جب انہیں اس واقعے کا پتہ چلا تو انہوں نے اس بات کو چھپایا کہ یوسف ان کا بھائی ہے، صرف یہ کہا کہ یہ ہمارا غلام ہے جو بھاگ آیا ہے اور یہاں چھپا بیٹھا ہے اور انہوں نے یوسف کی دھمکی دی کہ اصل معاملے سے پردہ اٹھائے گا تو قتل کردیا جائے گا ۔
لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔
آیت کے آخر میں ہے : جو کچھ وہ انجام دیتے ہیں خدا اس سے آگاہ ہے(وَاللهُ عَلِیمٌ بِمَا یَعْمَلُونَ )۔
آخر کار انہوں نے یوسف (علیه السلام) کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیا ( وَشَرَوْہُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاھِمَ مَعْدُودَة)۔
یوسف (علیه السلام) کو بیچنے کے بارے میں اختلاف ہے، بعض انہیں یوسف کے بھائی سمجھتے ہیں، لیکن آیات کا ظاہر ی مفہوم یہ ہے کہ یہ کام قافلے والوں نے کیا ، کیونکہ زیرِ نظر آیت میں بھائیوں کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی اور ان سے قبل کی آیت کے اختتام پر بھائیوں سے متعلق بحث ختم ہوگئی ہے اور جمع کی ضمیریں ”ارسلوا“، ”اسروہ“ اور ”شروہ“ سب ایک ہی طرف لوٹتی ہیں (یعنی، قافلے والے)۔
یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیه السلام) کو تھوڑی سی قیمت پر کیوں بیچ دیا، قرآن نے اسے ”بثمن بخس“سے تعبیر کیاہے کیونکہ حضرت یوسف (علیه السلام) کا کم از کم ایک قیمتی غلام سمجھے جاسکتے تھے ۔
لیکن یہ معمول کی بات ہے کہ ہمیشہ چور یا ایسے افراد جن کے ہاتھ کوئی اہم سرمایہ بغیر کسی زحمت کے آجائے تو وہ اس خوف سے کہ کہیں دوسروں کو معلوم نہ ہوجائے اسے فورا ًبیچ دیتے ہیں اوریہ فطری بات ہے کہ اس جلد بازی میں وہ زیادہ قیمت حاصل نہیں کرسکتے ۔
”بخس“ اصل میں کسی چیز کو ظلم کے ساتھ کم کرنے کے معنی میں، اسی لئے قرآن کہتا ہے :
ولاتبخسوا الناس اشیائھم ۔
لوگوں کی چیزوں کو ظلم کے ساتھ کم نہ کرو۔(ہود:۸۵)
اس بارے میں کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیه السلام) کو کتنے داموں میں بیچا اور پھر یہ رقم آپس میں کس طرح تقسیم کی، اس سلسلے میں بھی مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض نے یہ رقم ۲۰ درہم ، بعض نے ۲۲ درہم ، بعض نے ۴۰ درہم اور بعض نے ۱۸ درہم لکھی ہے اور طرف توجہ کرتے ہوئے کہ بیچنے والوں کی تعداد دس بیان کی جاتی ہے، اس ناچیز رقم میں سے ہر ایک کا حصہ واضح ہوجاتا ہے ۔
آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے-:یوسف کو بیچنے کے بارے میں وہ بے اعتناء تھے ( وَکَانُوا فِیہِ مِنَ الزَّاھِدِین)۔
یہ جملہ درحقیقت گزشتہ جملے کی علت بیان کرنے کے لئے ہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر انہوں نے یوسف کر تھوڑی سی رقم پر بیچ دیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس معاملے سے کوئی دلچسپی نہ رکھتے تھے اور اس کے بارے میں بے اعتناء تھے ۔
ایسا یا اس لئے تھا کہ یوسف (علیه السلام) کو قافلے والوں نے بے مول لیا تھا اور انسان جو چیز معمولہ قمیت پر لے عموما کم قیمت پر ہی بیچتا ہے اور یا وہ ڈرتے تھے کہ مبادا ان کارازفاش ہواور کوئی مدعی پیداہوجائے اور یا اس بناء پر کہ انہیں یوسف (علیه السلام) میں غلام ہونے کی نشانیاں نظر نہیں آتی تھیں بلکہ آزادی اور حریت کے آثار ان کے چہرے سے ہویدا تھے، اسی بنا پر نہ بیچنے والے ان میں کوئی دلچسپی رکھتے تھے نہ خریدار۔
..............
۱۔کاروان کو ”سیارة“ اس لئے کہتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ حرکت میں رہتا ہے ۔
۲۔”وارد“ پانی لانے والے کے معنی میں ہے، اصل میں یہ لفظ ”ورود“ سے لیا گیا ہے جس کا معنی جیسے کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے پانی کا قصد کرنا اگر چہ بعد میں اس کے معنی میں وسعت پیدا ہوگئی اور ہر ورود و دخول کے مفہوم میں استعمال ہونے لگا ہے ۔
۳۔”بہشتی“ اردو میں پانی بھرنے والے کو کہتے ہیں ۔(مترجم)
۴۔بضاعة“ اصل میں ”بضع“ (بروزن”نظر“) کے مادہ سے گوشت کے ایک ٹکڑے کے معنی میں ہے کہ جسے جدا کرلیا جائے، بعدازاں اس معنی میں وسعت پیدا ہوگئی اور یہ لفظ مال اور سرمایہ کے اہم حصے کے لئے بھی استعمال ہونے لگا”بضاعة“ بدن کے ٹکڑے کے معنی میں ہے اور ”حسن البضع“ موٹے اور پرگوشت انسان کے معنی میں آیا ہے اور ”بضع“ (بروزن”حزب“)تین سے لے کر دس تک کے عدد کے معنی میں آیا ہے ۔

۲۱ وَقَالَ الَّذِی اشْتَرَاہُ مِنْ مِصْرَ لِامْرَاٴَتِہِ اٴَکْرِمِی مَثْوَاہُ عَسیٰ اٴَنْ یَنفَعَنَا اٴَوْ نَتَّخِذَہُ وَلَدًا وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْاٴَرْضِ وَلِنُعَلِّمَہُ مِنْ تَاٴْوِیلِ الْاٴَحَادِیثِ وَاللهُ غَالِبٌ عَلیٰ اٴَمْرِہِ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ ۔
۲۲ وَلَمَّا بَلَغَ اٴَشُدَّہُ آتَیْنَاہُ حُکْمًا وَعِلْمًا وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ ۔

ترجمہ

۲۱۔اور وہ شخص جس نے اسے سر زمینِ مصر سے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا: اس کے مقام ومنزلت کی تکریم کرنا شاید ہمارے لئے مفید ہو یا اسے ہم اپنے بیٹے کے طور پر اپنا لیں، اس طرح ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں متمکن کردیا، (ہم نے یہ کام کیا)تاکہ وہ خواب کی تعبیر سیکھ لے، خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔
۲۲۔اور جب وہ بلوغ وقوّت کے مرحلے میں داخل ہوا تو ہم نے اسے ”حکم“ اور ”علم“ عطا کئے اور ہم اس طرح نیک لوگوں کو جزاء دیتے ہیں ۔

مصر کے محل میں
حضرت یوسف (علیه السلام) کی بھرپور داستان جب یہاں پہنچی کہ بھائی انہیں کنویں میں پھینک چکے تو ہر صورت بھائیوں کے ساتھ ساتھ والا مسئلہ ختم ہوگیا، اب اس ننھے بچے کی زندگی کا ایک نیا مرحلہ مصر میں شروع ہوا، اس طرح سے کہ آخرکار یوسف مصر میں لائے گئے، وہاں انہیں فروخت کے لئے پیش کیا گیا، کیونکہ یہ نفیس تحفہ تھا لہٰذا معمول کے مطابق ” مصر“ کو نصیب ہواکہ جو درحقیقت فرعونوں کی طرف سے وزیر یا وزیرِ اعظم تھا اور ایسے ہی لوگ ”تمام پہلوؤں سے ممتاز اس غلام“ کی زیادہ سے زہادہ قیمت دے سکتے تھے، اب دیکھتے ہیں کہ مصر کے گھر یوسف (علیه السلام) پر کیا گزرتی ہے ۔
قرآن کہتا ہے:جس نے مصر میںیوسف کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے اس کی سفارش کی اور کہاکہ اس غلام کی منزلت کا احترام کرنا اور اسے غلاموں والی نگاہ سے نہ دیکھنا کیونکہ ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں ہم اس غلام سے بہت فائدہ اٹھائیں گے یا اسے فرزند کے طور پر اپنا لیںگے(وَقَالَ الَّذِی اشْتَرَاہُ مِنْ مِصْرَ لِامْرَاٴَتِہِ اٴَکْرِمِی مَثْوَاہُ عَسیٰ اٴَنْ یَنفَعَنَا اٴَوْ نَتَّخِذَہُ وَلَدًا )۔(۱)
اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر کی کوئی اولاد نہ تھی اور وہ بیٹے کے شوق میں زندگی بسر کررہا تھا، جب اس کی آنکھ اس خوبصورت اور آبرومند بچے پر پڑی تو اس کا دل آیا کہ یہ اس کے بیٹے کے طور پر ہو ۔
اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: اس طرح اس سرزمین میںہم نے یوسف کو متمکن اور صاحب نعمت واختیار کیا(وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْاٴَرْضِ)۔
یہ ”تمکین فی الارض“ اس بناء پر تھا کہ یوسف کا مصر میں آنا اور خصوصاً مصرکی زندگی میں قدم رکھنا ان کی آئندہ کی انتہائی قدرت کے لئے تمہید تھا اور یا اس بنا پر تھا کہ مصر کے محل کی زندگی کنویں کی تہ کی زندگی سے کوئی موزانہ نہ تھا ، وہ تنہائی، بھوک اور وحشت کی شدت کہاں اور یہ سب نعمت اور آسائش اور آرام وسکون کہاں ۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے:ہم نے ایسا اس لئے کیا تاکہ اسے احادیث کی تاویل کی تعلیم دیں ( وَلِنُعَلِّمَہُ مِنْ تَاٴْوِیلِ الْاٴَحَادِیثِ)۔
” تَاٴْوِیلِ الْاٴَحَادِیثِ“سے مراد ہے، جیسا ہے کہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے تعبیرِ خواب کا علم ہے کہ جس کے ذریعے یوسف آئندہ کے اسرار کے اہم حصے سے آگاہ ہوسکتے تھے اور یا اس سے مراد وحی الٰہی ہے کنونکہ حضرت یوسف (علیه السلام) کی خدائی آزمائشوں کی سنگلاخ گھاٹیوں سے گزر کر دربارِ مصر میں پہنچنے تک ایسی قابلیت پیدا کرلی تھی کہ حاملِ رسالت ووحی ہوں ۔
لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔
آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے:خدا اپنے کام پرمسلط اور غالب ہے، لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے( وَاللهُ غَالِبٌ عَلیٰ اٴَمْرِہِ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ )۔
خدا کے مظاہرِ قدرت میں سے ایک عجیب مظہر اور امور پر اس کا تسلط یوں ہے کہ بہت سے مواقع پر وہ انسان کی کامیابی اور نجات کے وسائل اس کے دشمنوں کے ہاتھوں فراہم کرتا ہے چنانچہ حضرت یوسف (علیه السلام) کے سلسلے میں اگر بھائیوں کا منصوبہ نہ ہوتا تو وہ ہرگز کنویں میں نہ جاتے اور نہ فرعون کے عجیب خواب کا معاملہ ان کے سامنے پیش ہوتا اور نہ ہی یوسف (علیه السلام) مصر بنتے ۔
درحقیقت خدا نے بھائیوں کے ہاتھوں یوسف (علیه السلام) کو تختِ قدرت پر بٹھایا اگرچہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے اسے بدبختی کے کنویں میں پھینک دیا ہے ۔
اس نئے ماحول میں جو درحقیقت مصر کا ایک اہم سیاسی مرکز تھا یوسف (علیه السلام) کو نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ایک طرف خیرہ کن طاقت اور طاغوتیانِ مصر کے محلات (جنہیں خواب سمجھا جاتا ) اور ان کی بے کراں ثروت کو دیکھتے ہوئے دوسری طرف بردہ فروشوں کے بازار کا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا، وہ ان دونوں کا موازنہ کرتے اور دیکھتے کہ عام لوگوں کی اکثریت فراواں رنج وغم اور دکھ درد کا شکار ہے تو ان کی روح اور فکر پر بہت بوجھ پرتا اور وہ سوچتے کہ اگر مجھے طاقت حاصل ہوجائے تو یہ کیفیت ختم کردوں ۔
جی ہاں! انہوں نے بہت سی چیزیں اس شوروغل کے ماحول میں سیکھیں، ان کے دل میں ہمیشہ غم واندوہ کا ایک طوفان موجزن ہوتا تھا کیونکہ ان حالات میں وہ کچھ نہیں کرسکتے تھے، اس دور میں وہ مسلسل خود سازی اور تہذیبِ نفس میں مشغول تھے ۔
قرآن کہتا ہے: جب وہ بلوغ اور جسم وروح کے تکامل کے مرحلے میں پہنچا اور انوارِ وحی قبول کرنے کے قابل ہو گیا، تو ہم نے اسے حکم اورعلم دیا(وَلَمَّا بَلَغَ اٴَشُدَّہُ آتَیْنَاہُ حُکْمًا وَعِلْمًا )۔
اور اس طرح ہم نیکو کار لوگوں کو جزاء دیتے ہیں(وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ )۔
”اشد“ ”شد“ کے مادہ سے مضبوط گروہ کے معنی میں ہے، یہاں جسمانی اور روحانی استحکام کی طرف اشارہ ہے، بعض نے کہا ہے کہ ”اشد“ جمع ہے جس کا مفرد نہیں ہے لیکن بعض نے اسے ”شد“ (بروزن”سد“)کی جمع کہا ہے، بہرحال اس کے معنی کا جمع ہونا قابلِ انکار نہیں ہے ۔
جو مذکورہ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے یوسف کی جسمانی و رحانی بلوغت پر اسے ”حکم“ اور”علم“ عطا کیا، یا تو مقامِ وحی ونبوت ہے جیسا کہ بعض مفسریننے کہا ہے اور یا ”حکم“ سے مراد عقل وفہم اور صحیح فیصلے کی قدرت ہے کہ جو ہوس پرستی اور اشتباہ سے خالی ہو اور ”علم“ سے مراد آگاہی اور دانش ہے کہ جس کے ساتھ جہالت نہ ہو، بہرحال ”حکم“ اور”علم“ جو کچھ بھی تھے دو ممتاز اور قیمتی خدائی انعام تھے کہ جو کدا نے حضرت یوسف (علیه السلام) کو ان کی پاکیزگی تقویٰ ، صبر وشکیبائی اور توکل کی وجہ سے دئے تھے اور یوسف (علیه السلام) کی یہ تمام خوبیاں لفظ”محسنین“ میں جمع ہے ۔
بعض مفسرین نے ”حکم“ اور ”علم“ کے بارے میں تمام تر احتمالات کو تین احتمالات کے طور پرذکر کیا گیا ہے :
۱۔ ”حکم“ مقامِ نبوت کی طرف اشارہ ہے (چونکہ پیغمبر برحق حاکم ہے )اور علم اشارہ ہے علمِ دین کی طرف ۔
۲۔ ”حکم“ سرکش ہواوہوس کے مقابلے میں اپنے اوپر ضبط رکھنے کے معنی میں ہے کہ جو یہاں حکمتِ عملی کی طرف اشارہ ہے اور علم اشارہ ہے نظری حکمت وعلم ودانش کی طرف اور”حکم“ کو ”علم“ پر اس لئے مقدم کیاگیا ہے کہ انسان جب تک تہذیبِ نفس اور خودسازی نہ کرلے صحیح علم تک نہیں پہنچ سکتا ۔
۳۔” حکم “اس معنی میں ہے کہ انسان نفسِ مطمئنہ کے مقام پر پہنچ جائے اور اپنے اوپر کنٹرول حاصل کرلے اس طرح کہ نفسِ امارہ اوروسوسہ پیدا کرنے والے نفس پر اسے کنٹرول ہوجائے اور علم سے مراد انوارِ قدسیہ اور فیضِ الٰہی کی شعاعیں ہیں کہ جو علم ملکوت سے پاک انسان کے دل پر پڑتی ہے (2)
..............
۱۔ ”مثوا“ کا معنی ہے مقام، یہ مادہ ”ثوی“ سے ہے جو اقامت کے معنی میں ہے لیکن یہاں حیثیت اور مقام ومنزلت کے معنی میں ہے ۔
2۔تفسیر کبیر، ج۱۸،ص ۱۱۱۔

چند اہم نکات
۱۔ مصر کا نام کیوں نہیں لیا گیا:
زیرِ نظر آیات میں جاذبِ توجہ مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ ان میں مصر کا نام نہیں لیا گیا ہے کہ وہ شخص جس نے مصر سے یوسف کو خریدا لیکن آیت میں یہ بےان نہیں ہوا کہ یہ شخص کون تھا، آئندہ آےات میں ہم دیکھتے ہےں کہ ایک ہی دفعہ اس شخص کے منصب سے پردہ نہیں اٹھتا بلکہ تدریجاََ اس کا تعارف کرواےا گیا ہے مثلا آیہ ۲۵ میں فرمایا گیا ہے:
<والفیا سید ھا لدا الباب>
جس وقت یوسف نے زلیخا کے عشق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا اور بےرونی دروازے کی طرف بھاگ کھڑا ہوا تو اس عورت کے شوہر کو اچانک دروزے پر دےکھا ۔
جب ان آےات سے گزرتے ہوے آیہ ۳۰ تک پنچتے ہےں تو اس میں ---”امراة العزیز“ (عزیز کی بیوی) کی تعبےر آئی ہے ۔
یہ تدرےجی بیان یا تو اس لے ہے کہ قرآن اپنی سنت کے مطابق ہر بات کو ضراری مقدار کے مطابق بیان کرتا ہے جو کہ فصاحت وبلاغت کی نشانی ہے اور ےا یہ کہ جسے آج کل بھی ادبےات کا معمول ہے کہ ایک داستان بیان کرتے ہوے اسے سر بستہ نکتے سے شروع کیا جاتا ہے تاکہ پڑھنے والے میں تجسس پیدا ہوا ور اس کی پوری توجہ اس داستان کی طرف کھنچ جائے ۔

۲۔ علم تعبیرِ خواب اور مصر کا محل:
دسرا سوال جومذکورہ بالا آیات سے پیدا ہوتا ہے یہ ہے کہ علمِ تعبیرِ خواب اور مصر کے محل میں حضرت یوسف (علیه السلام) کی موجود گی کا کیا رابطہ ہے کہ اس کی طرف ”لنعلمہ“ کی ”لام“ کہ جو لامِ غایت ہے کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے ۔
لیکن اگر ہم اس نکتے کی طرف توجہ دیں تو ہوسکتا ہے مذکورہ سوال کا جواب واضح ہوجائے کہ خدائے تعالیٰ بہت سی علمی نعمات وعنایات گناہ سے پرہیز اور سرکش ہوا وہوس کے مقابلے میں استقامت کی وجہ سے بخشتا ہے، دوسرے لفظوں میں یہ نعمات کہ جو دل کی نورانیت کا ثمرہ ہیں، ایک انعام ہیں کہ جو خدا اس قسم کے اشخاص کو بخشتا ہے ۔
ابن سیرین تعبیر خواب جاننے میں بڑے مشہور ہیں ، ان کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ کپڑا بیچا کرتے تھے اور بہت ہی خوبصورت تھے، ایک عورت انہیں اپنا دل دے بیٹھی، بڑے حیلے بہانے کرکے انہیں اپنے گھر میں لے گئی اور دروازے بند کرلئے، لیکن انہیں نے عورت کی ہوس کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا اور مسلسل اس عظیم گناہ کے مفاسد اس کے سامنے بیان کرتے رہے لیکن اس عورت کی ہوس کی آگ اس قدر سرکش تھی کہ وعظ ونصیحت کا پانی اسے نہیں بجھا سکتا تھا ۔
ابن سیرین کو اس چنگل سے نجات پانے کے لئے ایک تدبیر سوجھی، وہ اٹھے اور اپنے بدن کو اس گھر میں موجود گندگی کی چیزوں سے اس طرح کثیف ، آلودہ اور نفرت انگیز کر لیا کہ جب عورت نے یہ منظر دیکھا تو ان سے متنفر ہوگئی اور انہیں گھر سے باہر نکال دیا کہتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد ابن سیرین جو تعبیرِ خواب کے بارے میں بہت فراست نصیب ہوئی اور ان کی تعبیر سے متعلق کتابوں میں عجیب وغریب واقعات لکھے ہوئے ہیں کہ جو اس سلسلے میں ان کی گہری معلومات کی خبر دیتے ہیں ۔
اس بنا پر ممکن ہے کہ یہ خاص علم وآگاہی حضرت یوسف (علیه السلام) کو مصر کی بیوی کی انتہائی قوت جذب کے مقابلے میں نفس پر کنٹرول رکھنے کی بنا پر حاصل ہوئی ہو ۔
علاوہ ازیں اس زمانے میں بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار تعبیرِ خواب بیان کرنے والوں کے مرکز تھے اور یوسف (علیه السلام) جیسا ذہین نوجوان مصر کے دربارمیں دوسرے کے تجربات سے آگاہیاور علمِ الٰہی سے فیض حاصل کرنے کے لئے روحانی طور پر تیار ہوسکتا تھا ۔
بہرحال یہ نہ پہلا موقع ہے، نہ آخری کہ خدانے جہادِ نفس کے میدان میں سرکش ہوا وہوس پر کامیابی حاصل کرنے والے اپنے مخلص بندے کو علوم ودانش کی ایسی نعمات وعنایات سے نوازا ہو کہ جنہیں کسی مادی ترازو سے نہیں تولا جاسکتا، مشہور حدیث ہے:
العلم نور یقذفہ اللّٰہ فی قلب من یشاء۔
علم نور ہے خدا جس کے دل میں چاہتا ہے ڈالتا ہے ۔
یہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ یہ وہ علم ودانش نہیں جو استاد کے سامنے زانو تلمذ تہ کرکے حاصل کی جائے یا کسی کو بغیر کسی حساب وکتاب کے مل جائے، یہ تو انعامات ہیں، جہاد بالنفس میں سبقت لے جانے والوں کے لئے ۔

۳۔” بلوغ اشد“کیاہے ؟:
ہم کہہ چکے ہیں کہ ”اشد“ استحکام اور جسمانی وروحانی قوت کے معنی میں ہے اور ”بلوغ اشد“ اس مرحلے تک پہنچنے کے معنی میں ہے لیکن قرآن مجید میں اس کا اطلاق عمرِ انسانی کے مختلف مراحل پر ہوا ہے ۔
بعض اوقات یہ ”سنِ بلوغ“ کے معنی میں آیا ہے، مثلا ہم پڑھتے ہیں:
<وَلَاتَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إِلاَّ بِالَّتِی ھِیَ اٴَحْسَنُ حَتَّی یَبْلُغَ اٴَشُدَّہُ >۔
یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ سوائے حسن طریقے سے، جب تک کہ وہ حد بلوغ کو نہ پہنچ جائے(بنی اسرائیل: ۳۴)۔
کبھی چالیس سال کی عمرتک پہنچنے کے معنی میں استعمال ہواہے مثلا:
<حَتَّی إِذَا بَلَغَ اٴَشُدَّہُ وَبَلَغَ اٴَرْبَعِینَ سَنَةً >۔
یہاں تک کے بلوغ اشد کے مرحلے تک پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیا،(احقاف:۱۵)۔
اور کبھی یہ لفظ بڑھاپے سے قبل کے مرحلے کے لئے آیاہے، ارشاد ہوتا ہے:
<ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا اٴَشُدَّکُمْ ثُمَّ لِتَکُونُوا شُیُوخًا>
اس کے بعد خدا تمہیں عالمِ جنین سے بچوں کی شکل میں باہر نکالتا ہے پھر تم جسم وروح کے استحکام کے مرحلے میں پہنچ جاتے ہو اس کے بعد بڑھاپے کے مرحلے میں،(المومن:۶۸)
تعبیرات کا یہ فرق ہوسکتا ہے اس بنا پر ہو کہ روح وجسم کے استحکام کے لئے انسان کئی مراحل طے کرتا ہے اور بلا شبہ اس میں سے ہر مرحلہ ایک حد بلوغ ہے اور چالیس سال کی عمر کے عام طور پر فکر وعقل پختہ ہوتی ہے دوسرا مرحلہ ہے اور اسی طرح انسان کی عمر ڈھلنے لگے اور وہ کمزوری کی طرف مائل ہو تو یہ ایک اور مرحلہ ہے لیکن بہرحال زیرِ بحث آیت جسمانی وروحانی بلوغ کے بارے میں ہے کہ جو حضرت یوسف (علیه السلام) میں جوانی کی ابتدا ہی میں پیدا ہوگیا تھا ، اس سلسلے میں فخرالدین رازی نے ایک بات کی ہے جو ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں:
چاند کی گردش کی مدت (جس میں وہ محاق تک پہنچتا ہے)۲۷دن ہیں، جب اسے چار حصوں میں تقسیم کریں تو ہر حصہ ۷ دن کا بنتا ہے (جس سے ایک ہفتہ بنتا ہے)۔
اسی لئے دانشمندوں نے بدن انسانی کے حالات کو سات سات سال پر مشتمل چار حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔
پہلا دور اس وقت کا ہے جب انسان پیدا ہوتا ہے تو ضعیف و ناتوں ہو تا ہے جسم کے لحاظ سے بھی اور روھ کے لحاظ سے بھی، لیکن جب وہ سات سال کا ہوجاتا ہے تو اس میں فکر وہوش اور قوتِ جسمانی کے آثار ظاہر ہوجاتے ہیں ۔
دوسرا مرحلہ سات سال مکمل ہونے بعد شروع ہوتا ہے اور انسان اپنا تکامل وارتقاء جاری رکھتا ہے یہاں تک کہ یکے بعد دیگرے چودہ سال ہورے ہوجاتے ہیں ۔
تیسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے تو پندرہ سال کی عمر وہ جسمانی اور روحانی بلوغ کے مرحلے میں پہنچتا ہے، اس میں جسمانی شہوت حرکت میںآتی ہے اور(اور پندہ سال کی تکمیل پر ) وہ مکات ہوجاتاہے ، پھر وہ اپنا تکامل وارتقاء جاری رکھتا ہے یہان تک کہ تیسرا دور ختم ہوجاتا ہے ۔
چوتھا دور ختم ہونے اور ۲۸ سال کی مدت پوری ہونے پر جسمانی رشد ونمو کی مدت ختم ہوجاتی ہے اور انسان ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا ہے ۔
یہ نیا مرحلہ توقف کا مرحلہ ہے اور یہی ”بلوغ اشد “ کا زمانہ ہے اور یہ حالتِ توقف پانچویں دور کے اختتام یعنی ۳۵سال تک جاری رہتی ہے (اور اس کے بعد تنزل کا دور شروع کا دور شروع ہوجاتا ہے )۔(1)
مندرجہ بالا تقسیم اگرچہ ایک حد تک قابلِ قبول ہے لیکن دقتِ نظر سے دیکھا جائے تو درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ اول تو مرحلہ بلوغ دوسرے دور کے اختتام پر نہیں ہے، اسی طرح رشد جسمانی کی انتہا، جیسا کہ آج کل ماہرین فن کہتے ہیں ، ۵۲ سال ہے اور بعض روایات کے مطابق مکمل فکری بلوغ ۴۰ سال میں ہوتا ہے ۔
ان تمام باتوں سے قطع نظر جو کچھ سطور بالا میں کہا گیا ہے ایک ایساہماگیر شمارقانون شمار نہیں ہوتا جو سب اشخاص پر صادق آئے ۔

۴۔ نعمات الٰہی انبیاء کو بھی حساب کتاب سے ملتی ہیں:
آخری نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ ضروری ہے یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں جس وقت قرآن حضرت یوسف (علیه السلام) علم وحکمت دینے کے بارے میں بات کرتا ہے مزید کہتا ہے : ”ہم اس طرح نیکو کاروں کو جزا دیتے ہیں“ یعنی نعماتِ الٰہی انبیاء تک جو بغیر کسی حساب کتاب کے نہیں ملتیں اور ہر شخص کو اس کی نیکو کاری اور اچھائی کی مقدار کے مطابق قبضِ الہٰی کے بحرِ بے کراں سے فیض ملتا ہے اور وہ اسی حساب سے اس سے بہرور ہوتا ہے، جیسا کہ حضرت یوسف (علیه السلام) کو ان تمام مشکلات کے مقابلے میں صبرواستقامت کرنے کی وجہ سے وافر حصہ نصیب ہوا ۔
..............
1۔تفسیر فخر رازی،ج ۱۸،ص۱۱۱۔