تفسیر نمونہ جلد 09
 

۱۱ قَالُوا یَااٴَبَانَا مَا لَکَ لَاتَاٴْمَنَّا عَلیٰ یُوسُفَ وَإِنَّا لَہُ لَنَاصِحُونَ۔
۱۲ اٴَرْسِلْہُ مَعَنَا غَدًا یَرْتَعْ وَیَلْعَبْ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ۔
۱۳ قَالَ إِنِّی لَیَحْزُنُنِی اٴَنْ تَذْھَبُوا بِہِ وَاٴَخَافُ اٴَنْ یَاٴْکُلَہُ الذِّئْبُ وَاٴَنْتُمْ عَنْہُ غَافِلُونَ۔
۱۴ قَالُوا لَئِنْ اٴَکَلَہُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّا إِذًا لَخَاسِرُون۔

ترجمہ

۱۱۔ (یوسف کے بھائی باپ کے پاس آئے اور ) کہنے لگے: ابا جان! تم (ہمارے بھائی) یوسف کے بارے میں ہم پر اطمینان کیوں نہیں کرتے حالانکہ کہ ہم اس کے خیر خواہ ہیں ۔
۱۲۔اسے کل ہمارے ساتھ(شہر سے باہر) بھیج دو تاکہ خوب کھائے پئے، کھیلے کودے اور سیر وتفریح کرے اور ہم اس کے محافظ ہیں ۔
۱۳۔باپ نے کہا: اس کے دور ہونے سے مَیں غمگین ہوں گا اور مجھے ڈر ہے کہ اسے بھیڑیا نہ کھاجائے اور تم اس سے غافل رہو۔
۱۴۔انھوں نے کہا: اگر اسے بھیڑیا کھاجائے، جب کہ ہم طاقتور گروہ ہیں، تو ہم زیا کاروں میں سے ہوں(اور ہرگز ایسا ممکن نہیں ہے)

منحوس سازش
یوسف (علیه السلام) کے بھائیوں نے جب یوسف کو کنویں میں ڈالنے کی آخری سازش پر اتفاق کرلیاتو یہ سوچنے لگے کہ یوسف (علیه السلام) کو کس طرح لے کر جائیں لہٰذا اس مقصد کے لئے انھوں نے ایک اور منصوبہ تیار کیا، اس کے لئے وہ باپ کے پاس آئے اور اپنے حق جتانے کے انداز میں، نرم ونازل لہجے میں محبت بھرے شکوے کی صورت میں کہنے لگے:ابا جان! آپ یوسف کو کیوں کبھی اپنے سے جدا نہیں کرتے اور ہمارے سپرد نہیں کرتے،آپ ہمیں بھائی کے بارے میں امین کیوں نہیں سمجھتے حالانکہ ہم یقینا اس کے خیر خواہ ہیں(قَالُوا یَااٴَبَانَا مَا لَکَ لَاتَاٴْمَنَّا عَلیٰ یُوسُفَ وَإِنَّا لَہُ لَنَاصِحُونَ) ۔
آئےے! جس کا آپ متہم سمجھتے ہیں اسے جانے دیجئے، علاوہ ازیں ہمارا بھائی نو عمر ہے، اس کا بھی حق ہے، اسے بھی شہر سے باہر کی آزاد فضا میں گھومنے پھرنے کی ضرورت ہے، اسے گھر کے اندر قید کردینا درست نہیں، کل اسے ہمارے ساتھ بھیجئے تاکہ یہ شہر سے باہر نکلے، چلے پھرے، درختوں کے پھل کھائے، کھیلے کودے اور سیر وتفریح کرے (اٴَرْسِلْہُ مَعَنَا غَدًا یَرْتَعْ وَیَلْعَب) ۔ (۱)
اور اگر آپ کو اس کی سلامتی کا خیال ہے اور پریشانی ہے تو” ہم سب اپنے بھائی کے محافظ ونگہبان ہوں گے“کیونکہ آخر یہ ہمارا بھائی اور ہماری جان کے برابر ہے ( وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ) ۔
اس طرح انھوں نے بھائی کو باپ سے جدا کرنے کا بڑا ماہرانہ منصوبہ تیار کیا، ہو سکتا ہے انھوں نے یہ باتیں یوسف (علیه السلام) کے سامنے کی ہوں تاکہ وہ بھی باپ سے تقاضا کریں اور ان سے صحرا کی طرف جانے کی اجازت لے لیں ۔
اس منصوبے میں ایک طرف باپ کے لئے انھوں نے باپ کے لئے یہ مشکل پیدا کردی تھی کہ اگر وہ یوسف کو ہمارے سپرد نہیں کرتا تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہمیں متہم سمجھتا ہے اور دوسری طرف کھیل کود اور سیر وتفریح کے لئے شہر سے باہر جانے کی یوسف (علیه السلام) کے لئے تحریک تھی ۔
جی ہاں! جو لوگ غفلت میں ضرب لگانا چاہتے ہیں ان کے منصوبے ایسے ہی ہوتے ہیں وہ اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے تمام نفسیاتی اور جذباتی پہلوؤں سے کام لیتے ہیں لیکن صاحبانِ ایمان افراد کو ”المومن کیس“ (مومن ہوشیار ہوتا ہے) کے مصداق ایسے خوبصورت ظواہر سے دھوکا نہیں کھانا چاہیئے اگرچہ ایسی سازش بھائی کی سے کیوں نہ ہو۔
حضرت یعقوب (علیه السلام) نے برادرانِ یوسف کی باتوں کے جواب میں بجائے اس کے کہ انہیں بُرے ارادے کا دیتے کہنے لگے مَیں تمہارے ساتھ یوسف کو بھیجنے پر تیار نہیں ہوں تو اس کی دو وجوہ ہیں:
پہلی یہ کہ یوسف کی جدائی میرے لئے غم انگیز ہے (قَالَ إِنِّی لَیَحْزُنُنِی اٴَنْ تَذْھَبُوا بِہِ ) ۔
اور دوسری یہ کہ ہوسکتا ہے کہ ان کے ارد گرد کے بیابانوں میں خونخوار بھیڑےے ہوں” اور مجھے ڈر ہے کہ مبادا کوئی بھیڑیامیرے فرزندِ دلبند کو کھاجائے اور تم اپنے کھیل کود ، سیر وتفریح اور دوسرے کاموں میں مشغول ہوں“(وَاٴَخَافُ اٴَنْ یَاٴْکُلَہُ الذِّئْبُ وَاٴَنْتُمْ عَنْہُ غَافِلُونَ) ۔
یہ بالکل فطری امر تھا کہ اس سفر میں بھائی اپنے آپ میں مشغول ہوں اور اپنے چھوٹے بھائی سے غافل ہوں اور بھڑیوں سے بھرے اس بیابان میں کوئی بھیڑیا یوسف کو آلے، البتہ بھائیوں کے پاس باپ کی پہلی دلیل کا کوئی جواب نہ تھا کیونکہ یوسف کی جدائی کا غم ایسی چیز نہ تھی کہ جس کی وہ تلافی کرسکتے بلکہ شاید اس بات نے بھائیوں کے دل میں حسد کی آگ کو اور بھڑدیا ہو۔
دوسری طرف بیٹے کو باہر لے جانے کے بارے میں باپ کی دلیل کا جواب تھا کہ جس کے ذکر کی چندان ضرورت نہ تھی اور وہ یہ کہ آخرکار بیٹے کو نشوونما اور تربیت کے لئے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے باپ سے جدا ہونا ہے اور اگر وہ نورستہ کے پودے کی طرح ہمیشہ باپ کے زیرِ سایہ رہے تو نشوونما نہیں پاسکے گااور بیٹے کے تکامل اور ارتقاء کے لئے باپ مجبور ہے کہ یہ جدائی برداشت کرے، آج کھیل کود ہے کل تحصیلِ علم ودانش ہے، پرسوں زندگی کے لئے کسب وکار اور سعی وکوشش ہے، آخرکار جدائی ضروری ہے ۔
لہٰذا اصلاً انھوں نے اس کا جواب نہیں دیا بلکہ دوسری دلیل کا جواب شروع کیا کہ جو ان کی نگاہ میں اہم اور بنیادی تھی”کہنے لگے: کیسے ممکن ہے ہمارے بھائی کوبھیڑیا کھاجائے حالانکہ ہم طاقتور گروہ ہیں،اگر ایسا ہوجائے تو ہم زیا کاروبد بخت ہوںگے“(قَالُوا لَئِنْ اٴَکَلَہُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّا إِذًا لَخَاسِرُون)۔
یعنی کیا ہم مُردہ ہیں کہ بیٹھ جائیں اور دیکھتے رہیں گے اور بھیڑیا ہمارے بھائی کو کھاجائے گا، بھائی کو بھائی سے جو تعلق ہوتا ہے اس کے علاوہ جو بات اس کی حفاظت پر ہمیں ابھارتی ہے یہ ہے کہ ہماری لوگوں میں عزت وآبرو ہے، ؛لوگ ہمارے متعلق کیا کہیں گے، یہی ناکہ طاقتور موٹی گردنوں والے بیٹھے رہے اور اپنے بھائی پر بھیڑے کو حملہ کرتے دیکھتے رہے، کیا پھر ہم لوگوں میں جینے کے قابل رہیں گے ۔
انھوں نے ضمناً باپ کی اس بات کا بھی جواب دیا کہ ہوسکتا ہے تم کھیل کود میں لگ جاؤ اور یوسف سے غافل ہوجاؤ اور وہ یہ کہ یہ مسئلہ گویا ساری دولت اور عزت وآبرو کے ضائع ہونے کا ہے ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ کھیل کود ہمیں غافل کردے کیونکہ اس صورت میں ہم لوگ بے وقعت ہوجائیں گے اور ہماری کوئی قدروقیمت نہیں ہوگی ۔
یہاں سوال سامنے آتا ہے کہ تمام خطرات میں سے حضرت یعقوب (علیه السلام) نے صرف بھیڑےے کے حملے کے خطرے کی نشاندہی کیوں کی تھی ۔
بعض کہتے ہیں کہ کنعان کا بیابان بھیڑیوں کا مرکز تھا، اس لئے زیادہ خطرہ اسی طرف سے محسوس ہوتا تھا ۔
بعض دیگر کہتے ہیں کہ یہ ایک خواب کی وجہ سے تھا کہ جو حضرت یعقوب (علیه السلام) نے پہلے دیکھا تھا کہ بھیڑیوں نے ان کے بیٹے یوسف پر حملہ کردیا ہے ۔
یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) نے کنائے کی زبان میں بات کی تھی اوران کی نظر بھیڑیا صفت انسانوں کی طرف تھی، جیسے یوسف کے بعض بھائی تھے ۔
بہرحال انھوں نے بہت حلیے کےے، خصوصا حضرت یوسف (علیه السلام) کے معصوم جذبات کوتحریک کی اور انھیں شوق دلایا کہ وہ شہر سے باہر تفریح کے لئے جائیں اور شاید یہ ان کے لئے پہلا موقع تھا کہ وہ باپ کو اس کے لئے راضی کریں اور بہر صورت اس کام کے لئے ان کی رضامندی حاصل کریں ۔
..............
۱۔ ”یرتع“ ”رتع“ (بروزن” قطع“) کے مادہ سے دراصل جانوروں کے چرنے اور خوب کھانے کے معنی میں ہے لیکن کبھی انسان کے لئے تفریح کرنے اور کوب کھانے پینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔

رُسوا کُن جُھوٹ
آخر کار بھائی کامیاب ہوگئے ، انہوں نے باپ کو راضی کرلیا کہ وہ یوسف (علیه السلام) کو ان کے ساتھ بھیج دے، وہ رات انہوں نے اس خوش خیالی میں گزاری کہ کل یوسف کے بارے میں ان کا منصوبہ عملی شکل اختیار کرے گااور راستے کی رکاوٹ اس بھائی کو ہم ہمیشہ کے لئے راستے سے ہٹا دیں گے، پریشانی انہیں صرف یہ تھی کہ باپ پشیمان نہ ہو اور اپنی بات واپس نہ لے لے ۔
صبح سویرے وہ باپ کے پاس گئے اور یوسف کی حفاظت کے بارے میں باپ نے ہدایت دہرائیں، انہوں نے بھی اظہارِ اطاعت کیا، باپ کے سامنے اسے بڑی محبت و احترام سے اٹھایا اور چل پڑے ۔
کہتے ہیں کہ شہر کے دروازے تک باپ ان کے ساتھ آئے اور آخری دفعہ یوسف کو ان سے لے کر اپنے سینے سے لگایا، آنسو ان کی آنکھوں سے برس رہے تھے، پھر بھی یوسف کو ان کے سپرد کرکے ان سے جدا ہوگئے لیکن حضرت یعقوب (علیه السلام) کی آنکھیں اسی طرح بیٹوں کے پیچھے تھیں، جہاں تک باپ کی آنکھیں کام کرتی تھیں وہ بھی یوسف (علیه السلام)پر نوازش اور محبت کرتے رہے لیکن جب انہیں اطمینان ہوگیا کہ اَطوٴب باپ انہیں نہیں دیکھ سکتا تو اچانک انہوں نے آنکھیں پھیر لیں، سالہاسال سے حَسد کی وجہ سے جو اُن کے اندر تہ بہ تہ بغض وکینہ موجود تھا وہ حضرت یوسف (علیه السلام) پر نکلنے لگا، ہر طرف سے اسے مارنے لگے، وہ ایک سے بچ کر دوسرے سے پناہ لیتے لیکن کوئی انہیں پناہ نہیں دیتا ۔
ایک روایت میں ہے کہ اس طوفانِ بَلا میں حضرت یوسف (علیه السلام) آنسو بہا رہے تھے اور جب وہ انہیں کنویں میں پھینکنے لگے تو اچانک حضرت یوسف (علیه السلام) ہنسنے لگے،بھائیوں کو بہت تعجب ہوا ہے کہ یہ ہنسنے کو کونسا مقام ہے، گویا یوسف (علیه السلام) نے اس مسئلے کو مذاق سمجھا ہے اور بات سے بے خبر ہے کہ سیاہ وقت اور بدبختی اس کے انتظار میں ہے لیکن یوسف (علیه السلام) نے اس ہنسنے کے مقصد سے پردہ اٹھایا اور سب کو عظیم درس دیا، وہ کہنے لگے:
مجھے نہیں بھولتا کہ ایک دن تم طاقتور بھائیوں، تمہارے قوی بازؤوں اور بہت زیادہ جسمانی طاقت پر مَیں نے نظر ڈالی تو مَیں بہت خوش ہوا اور مَیں نے اپنے آپ سے کہا کہ جس کے اتنے دوست اورمددگار ہوں اسے سخت حوادث کا کیا غم ہے، اس دن مَیں نے تم پر بھروسہ کیا اور تمہارے بازؤوں پر دل باندھا، اب تمہارے چنگل میں گرفتار ہوں اور تم سے بچ کر تمہاری طرف پناہ لیتا ہوں اور تم مجھے پناہ نہیں دیتے، خدا نے تمہیں مجھ پر مسلط کیا ہے تاکہ مَیں یہ درس سیکھ لوں کہ اس کے غیر پر یہاں تک کہ بھائیوں پر بھی بھروسہ نہ کروں ۔
بہر حال قرآن کہتا ہے:جب وہ یوسف کو اپنے ساتھ لے گئے اورانہوں نے متفقہ فیصلہ کرلیا کہ اسے کنویں کی مخفی جگہ پھنک دیں گے، اس کام کے لئے جو ظلم ستم ممکن تھا انہوں نے روا رکھا( فَلَمَّا ذَھَبُوا بِہِ وَاٴَجْمَعُوا اٴَنْ یَجْعَلُوہُ فِی غَیَابَةِ الْجُبِّ ) ۔(۱)
لفظ ”اجمعوا“ نشاندہی کررتا ہے کہ سب بھائی اس پروگرام پر متفق تھے اگر چہ حضرت یوسف (علیه السلام) کو قتل کرنے میں وہ متفق نہ تھے ۔
اصولی طور پر ”اجمعوا“ ”جمع“ کے مادہ سے اکٹھا کرنے کے معنی میں ہے اور ایسے مواقع پر آراء وافکار جمع کرنے کی طرف اشارہ ہوتا ہے ۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اس وقت ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی، اسے تسلی دی اور اس کی دلجوئی کی اور اس سے کہا غم نہ کھاؤ ”ایک دن ایسا آئے گا کہ تم انہیں ان تمام منحوس سازشوں اور منصوبوں سے آگاہ کرو گے اور تمہیں پہچان نہیں سکیں گے(وَاٴَوْحَیْنَا إِلَیْہِ لَتُنَبِّئَنَّھُمْ بِاٴَمْرِھِمْ ھٰذَا وَھُمْ لَایَشْعُرُونَ
وہ دن کہ جب تم تختِ حکومت پر تکیہ لگائے ہوگے اور تمہارے یہ بھائی تمہاری طرف دستِ نیاز پھیلائیں گے اور ایسے تشنہ کاموں کی طرح کہ جو چشمہ خوش گوار کی تلاش میں تپتے ہوئے بیابان میں سرگرداں ہوتے ہیں، تمہارے پاس بڑی انکساری اور فروتنی سے آئیں گے، لیکن تم اتنے بلند مقام پر پہنچے ہوگے کہ انہیں خیال بھی نہیں ہوگا کہ تم ان کے بھائی ہو، اس روز تم ان سے کہو گے کہ کیا تمہی نہ تھے جنہوں نے اپنے چھوٹے بھائی یوسف کے ساتھ یہ سلوک کیا اور اس دن یہ کس قدر شرمسار اور پشیمان ہوں گے ۔
اسی سورہ کی آیہ ۲۲ کے قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وحی الٰہی وحیّ نبوت نہ تھی بلکہ یوسف کے دل پر الہام تھا تاکہ وہ جان لے کہ وہ تنہا نہیں ہے اور اس کا ایک حافظ ونگہبان ہے، اس وحی نے قلب یوسف (علیه السلام) پر امید کی ضیا پاشی کی اور یاس وناامیدی کی تاریکیوں کو اس کی روح سے نکال دیا ۔
یوسف کے بھائیوں نے جو منصوبہ بنا رکھا تھا اُس پر انہوں نے اپنی خواہش کے مطابق عمل کرلیا، لیکن آخرکار انہیںواپس لوٹنے کے بارے میں سوچنا تھاکہ جاکر کوئی ایسی بات کریں کہ باپ کو یقین آجائے کہ یوسف کسی سازش کے تحت نہیں بلکہ طبیعی طور پر وادی عدم میں چلا گیا ہے اور اس طرح وہ باپ کی نوازشات کو اپنی جانب موڈ سکیں ۔
اس مقصد کے لئے انہوں نے جو منصوبہ بنایاتھا وہ بالکل وہی تھا جس کا باپ کو خوف تھا اور وہ جس کی پیش بینی کرچکے تھے، یعنی انہوں نے فیصلہ کیا کہ جاکر کہیں کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور اس کے لئے فرضی کہانیاں پیش کرں ۔
قرآن کہتا ہے: رات کے وقت بھائی روتے ہوئے آئے(وَجَائُوا اٴَبَاھُمْ عِشَاءً یَبْکُونَ)۔
ان کے جھوٹے آنسو ؤوں اور ٹسوے بہانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جھوٹا رونا بھی ممکن ہے اور صرف روتی ہوئی آنکھ سے دھوکا نہیں کھانا چاہیئے ۔
باپ جو بڑی بے تابی اور بے قراری سے اپنے فرزند دلبند یوسف کی واپسی کے انتظار میں تھا اُس نے جب انہیں واپس آتے دیکھا اور یوسف ان میں دکھائی نہ دیا تو وہ لرز گیا اور کانپ اٹھا، حالات پوچھے تو انہوں نے کہا: اب جان! ہم گئے اور باہم (سواری اور تیر اندازی کے )مقابلوں میں مشغول ہوگئے اور یوسف کہ جو چھوٹا تھا اور ہم سے مقابلہ نہیں کرسکتا تھا اسے ہم اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے، اس کام میں ہم اتنے محو ہوگئے کہ ہر چیز یہاں تک کہ بھائی کو بھی بھول گئے، اس اثنا ء میں ایک بے رحم بھیڑیا اس طرف آپہنچا اور اس نے اسے چیر پھاڑ کھایا( قَالُوا یَااٴَبَانَا إِنَّا ذَھَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَکْنَا یُوسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاٴَکَلَہُ الذِّئْبُ
لیکن ہم جانتے ہیں کہ تم ہرگز ہماری باتوں کا یقین نہیں کرو گااگر چہ ہم سچے ہوںکیونکہ تم نے پہلے ہی اس قسم کی پیش بینی کی تھی لہٰذا اسے بہانہ سمجھو گے(وَمَا اٴَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنَا وَلَوْ کُنَّا صَادِقِینَ)۔
بھائیوں کی باتیں بڑی سوچی سمجھی تھیں، پہلی بات یہ کہ انہوں نے باپ کو ”یاابانا“ (اے ہمارے والد) کے لفظ سے مخاطب کیا کہ جس میں ایک جذباتی پہلو تھا، دوسری بات یہ کہ فطری طور پر ایسی تفریح گاہ میں طاقتور بھائی بھاگ دوڑ میں مشغول ہوگئے اور چھوٹے کو ساما ن کی نگہداشت پر مقرر کریں گے اور اس کے علاوہ انہوں نے باپ کو غفلت میں رکھنے کے لئے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور روتی ہوئی آنکھوں سے کہا کہ تم ہرگز یقین نہیں کروگے اگرچہ ہم سچ بول رہے ہوں ۔
نیز اس بناء پر کہ باپ کو ایک زندہ نشانی بھی پیش کریں ”وہ یوسف کی قمیص کو جھوٹے خون میں تر کئے ہوئے تھے“ (وہ خون انہوں نے بکری یا بھیڑ کے بچے یا ہرن کا لگا رکھا تھا) ( وَجَائُوا عَلیٰ قَمِیصِہِ بِدَمٍ کَذِبٍ)۔
لیکن ”دروغ گو حافظہ ندارد“ ایک حقیقی واقعہ کے مختلف پہلو ہوتے ہیں اور اس کے مختلف کوائف اور مسائل ہوتے ہیں، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ان سب کوایک فرضی کہانی میں سمویا جاسکے لہٰذا برادرانِ یوسف بھی اس نکتے سے غافل رہے کہ کم از کم یوسف (علیه السلام) کی کرتے کو چند جگہ سے پھاڑ لیتے تاکہ وہ بھیڑئےے کے حملے کی دلیل بن سکتا وہ بھائی کی قمیص کو اس سے بدن سے صحیح سالم اتار کر خون آلودہ کرکے باپ کے پاس لے آئے، سمجھدار اور تجربہ کار باپ کی جب اس کرتے پر نگاہ پڑی تو وہ سب کچھ سمجھ گئے اور کہنے لگے کہ تم جھوٹ بولتے ہو ” بلکہ نفسانی ہوا وہوس نے تمہارے لئے یہ کام پسندیدہ بنادیاہے اور یہ شیطانی سازشیں ہیں “(قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اٴَنفُسُکُمْ اٴَمْرًا )۔
بعض روایات میں ہے کہ :
انہوں نے کرتا اٹھا لیا اور اس کا پہلا حصہ آگے کرکے پکار کر کہا:تو پھر اس میں بھیڑئےے کے پنجوں اور دانتوں کے نشان کیوں نہیں ہیں ۔

ایک اور روایت کے مطابق :
حضرت یعقوب (علیه السلام) نے کرتا اپنے منہ پر ڈال لیا، فریاد کرنے لگے اور آنسو بہانے لگے، وہ کہہ رہی تھے: یہ کیسا مہربان بھیڑیا تھا جس نے میرے بیٹے کوتو کھالیا لیکن اس کے کرتے کو ذرہ بھر نقصان نہ پہنچایا، اس کے بعد وہ بے ہوش ہوکر خشک لکڑی کی طرح زمین پر گر پڑے، بعض بھائیوں نے فریاد کی : اے وائے ہو ہم پر روزِ قیامت عدلِ الٰہی کی عدالت میں ہم بھائی بھی ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں اور باپ کو بھی ہم نے قتل کردیا ہے، باپ اسی طرح سحری تک بے ہوش رہے لیکن سہرگاہی کی نسیم سرد کے جھونکے ان کے چہرے پر پڑے تو وہ ہوش میں آگئے ۔(2)
باوجودیکہ یعقوب (علیه السلام) کے دل میں آگ لگی ہوئی تھی، ان کی روح جل رہی تھی لیکن زبان سے ہرگز ایای بات نہ کہتے تھے جو ناشکری، یاس وناامیدی اور جزع و فزع کی نشانی ہو بلکہ کہا ” مَیں صبر کروں گا،صبرِ جمیل، ایسی شکیبائی جو شکر گزاری اور حمد خدا کے ساتھ ہو(فَصَبْرٌجمیل)۔(3)
اس کے بعد یعقوب (علیه السلام) کہنے لگے:” جو کچھ تم کہتے ہو اس کے مقابلے میں مَیں خدا سے مدد طلب کرتا ہوں“( وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ عَلیٰ مَا تَصِفُونَ)، مَیں اس سے چاہتا ہوں کہ جامِ صبر کی تلقی میرے حلق میں شیریں کردے اور مجھے زیادہ تاب وتوانائی دے تاکہ اس عظیم طوفان کے مقابلے میں اپنے اوپر کنٹرول رکھ سکوں اور میری زبان نادرست اور غلط بات سے آلودہ نہ ہو ۔
انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یوسف کی موت کی مصیبت پر مجھے شکیبائی دے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یوسف قتل نہیں ہوئے بلکہ کہا کہ جو کچھ تم کہتے ہو کہ جس کا نتیجہ بہرحال اپنے بیٹے سے جدائی ہے، مَیں صبر طلب کرتا ہوں ۔
۱۔ مندرجہ بالا آیت میں ” لما“ کا جواب محذوف ہے اور اس کی تقدیر اس طرح ہے:فلما ذھبوا بہ واجمعوا ان یجعلوہ فی غیابت الجب عظمت فتنتھم(تفسیر قرطبی)۔
اور یہ حذف شاید اس بنا پر ہو کہ اس دردناک حادثے کی عظمت کا تقاضا تھا کہ کہنے والا اس کے بارے میں خاموش رہے یہ خود بلاغت کے فنون میں سے ایک فن ہے ۔(تفسیر المیزان)
2۔ تفسیر آلوسی مذکورہ آیت کے ذیل میں ۔
3۔ ”صبر جمیل“ صفت وموصوف کے قبیل میں سے ہے اور مبتدا محذوف کی خبر بھی ہے ، یہ دراصل اس طرح تھا:” صبری صبر جمیل“ ۔

چند اہم نکات

۱۔ ایک ترکِ اولیٰ کے بدلے
ابوحمزہ ثمالی نے ایک روایت امام سجاد (علیه السلام) سے نقل کی ہے ابوحمزہ کہتے ہیں:
جمعہ کے دن مَیں مدینہ منورہ میں تھا، نمازِ صبح مَیں نے امام سجاد (علیه السلام) کے ساتھ پڑھی، جس وقت امام نماز اور تسبیح سے فارغ ہوگئے تو گھر کی طرف چل پڑے، میں آپ کے ساتھ تھا ۔
آپ (علیه السلام) نے خادمہ کو آواز دی اور کہا:
خیال رکھنا جو سائل، ضرورت مند گھر کے دروازے سے گزرے اسے کھانا دینا کیونکہ آج جمعہ کا دن ہے ۔
ابوحمزہ کہتے ہیں:
مَیں نے کہا: ہروہ شخص کو مدد کا تقاضا کرتا ہے مستحق نہیں ہوتا، تو امام نے فرمایا:
ٹھیک ہے، لیکن مَیں اس سے ڈرتا ہوں کہ ان میں مستحق افراد ہوں اور ہم انہیں غذا نہ دیں اور اپنے گھر کے دروازے سے دھتکار دیں تو کہیں ہمارے گھر والوں پر وہی مصیبت نہ آن پڑے جو یعقوب (علیه السلام) اور آلِ یعقوب پر آن پڑی تھی ۔
اس کے بعد فرمایا:
ان سب کو کھانا دو کہ(کیا تم نے نہیں سنا ہے کہ) یعقوب (علیه السلام) کے لئے ہرروز ایک گوسفند ذبح کی جاتی تھی، اس کا ایک حصہ مستحقین کو دیا جاتا تھا، ایک حصہ وہ جناب خود اور ان کی اولاد کھاتے تھے ایک دن ایک سائل آیا، وہ مومن اور روزہ دار تھا، خدا کے ہاں اس کی بڑی قدرومنزلت تھی، وہ شہر(کنعان) سے گزرا، شبِ جمعہ تھی، افطار کے وقت وہ دروازہ یعقوب (علیه السلام) پر آیا اور کہنے لگا: بچی کھچی غذا سے مدد کے طالب غریب ومسافر مہمان کی مدد کرو، اس نے یہ بات کئی مرتبہ دہرائی، انہوں نے سنا تو سہی لیکن اس کی بات کو باور نہ کیا، جب وہ مایوس ہوگیا اور رات کی تاریکی ہر طرف چھا گئی تو وہ لوٹ گیا، جاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس نے بارگاہ الٰہی میں بھوک کی شکایت کی، رات اس نے بھوک ہی میں گزاری اور صبح اسی طرح روزہ رکھا جب کہ وہ صبر کئے ہوئے تھا اور خدا کی حمد وثنا کرتا تھا لیکن حضرت یعقوب (علیه السلام) اور ان کے گھر والے مکمل طور پر سیر تھے اور صبح کے وقت ان کا کچھ کھانا بچا بھی رہ گیا تھا ۔
امام (علیه السلام) نے اس کے بعد مزید فرمایا:
خدا نے اسی صبح حضرت یعقوب (علیه السلام) کی طرف وحی بھیجی: اے یعقوب! تپونے میرے بندے کو خوار کیا ہے اور میرے غضب کو بھڑکایا ہے اور تُو اور تیری اولاد نزولِ سزا کی مستحق ہوگئی ہے، اے یعقوب ! مَیں اپنے دوستوں کو زیادہ جلدی سرزنش کرتا اور سزا دیتا ہوں اور یہ اس لئے کہ مَیں ان سے محبت کرتا ہوں ۔(1)
یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ اس حدیث کے بعدہے کہ ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں:
مَیں نے امام سجاد (علیه السلام) سے پوچھا: کہ یوسف (علیه السلام) نے وہ خواب کس موقع پر دیکھا تھا؟
امام (علیه السلام) نے فرمایا: اسی رات۔(2)
اس حدیث سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء واولیائے حق سے ایک چھوٹی سی لغزش یا زیادہ صریح الفاظ میں”ترکِ اولیٰ“ کہ جو گناہ اورمعصیت بھی شمار نہیں ہوتا تھا (کیونکہ اس سائل کی حالت حضرت یعقوب (علیه السلام) پر واضح نہیں تھی) بعض اوقات خدا کی طرف سے ان کی تنبیہ کا سبب بنتا ہے اور یہ صرف اس لئے ہے کہ ان کا بلند وبالا مقام تقاضا کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی چھوٹی سے چھوٹی بات اور عمل کی طرف متوجہ رہیں کیونکہ:
حسنات الابرار سیئات المقربین۔
وہ کام جو نیک لوگوں کے لئے نیکی شمار ہوتے ہیں مقربینِ بارگاہِ الٰہی کے لئے برائی ہیں ۔
جہاں حضرت یعقوب (علیه السلام) ایک سائل کے دردِ دل سے بے خبر رہنے کی وجہ سے یہ رنج وغم اٹھائیں تو ہمیں سوچنا چاہیئے کہ وہ معاشرہ جس میں چند لوگ سیر ہوں اور زیادہ تر لوگ بھوکے ہوں کیسے ممکن ہے کہ اس پر غضب الٰہی نہ ہو اور کس طرح خدا سے سزا نہ دے ۔
..............
1، 2۔ تفسیر برہان، ج۲،ص ۲۴۳، اور نورالثقلین،ج ۲،ص ۴۱۱۔

۲۔ حضرت یوسف (علیه السلام) کی دلکش دُعا
روایات اہلِ بیت (علیه السلام) اور طرقِ اہل ِ سنت میں ہے کہ جس وقت حضرت یوسف (علیه السلام) کنویں کی تہ میں پہنچ گئے تو ان کی امید ہر طرف سے منقطع ہوگئی اور ان کی تمام تر توجہ ذاتِ پاکِ خدا کی طرف ہوگئی، انہوں نے اپنے خدا سے مناجات کی اور جبرئیل کی تعلیم سے رازونیاز کرنے لگے کہ جو روایات میں مختلف عبارتوں میں منقول ہے ۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ (علیه السلام) نے خدا سے یوں مناجات کی:
اللّٰھم یا مونس کل غریب ویا صاحب کل وحید ویا ملجا کل کائف ویا کاشف کل کربة ویا عالم کل نجوی یامنتھی کل شکوی ویا حاضر کل ملاء یاحیّ یا قیّوم اسئلک ان تقذف رجائک فی قلبی حتّیٰ لایکون لی ھم ولا شغل غیرک وان تجعل لی من امری فرجاً ومخرجاً انک علیٰ کل شیء قدیر۔
بارالہا! اے وہ جو غریب مسافرکا مونس ہے اور تنہا کا ساتھی ہے، اے وہ جو ہر خائف کی پناہ گاہ ہے، ہر غم کو برطرف کرنے والا ہے، ہر فریاد سے آگاہ ہے، ہر شکایت کرنے والے کی آخری امید ہے اور ہر مجمع میں موجود ہے، اے حیّ! اے قیّوم!(اے زندہ! اے ساری کائنات کے نگران!) مَیں تجھ سے چاہتا ہوں کہ اپنی امید میرے دل میں ڈال دے تاکہ تیرے علاوہ کوئی فکر نہ رکھوں اور تجھ سے چاہتا ہوں کہ میرے لئے اس عظیم مشکل سے راہِ نجات پیدا کردے کہ تُو ہر چیز پر قادر ہے ۔
یہ امر جاذبِ نظر ہے کہ اس حدیث کے ذیل میں یہے کہ فرشتوں نے حضرت یوسف (علیه السلام) کی آواز سُنی تو عرض کیا:
الٰھنا نسمع صوتاً ودعاء: الصوت صوت صبی والدعاء دعاء نبی!
پروردگارا! ہم آواز اور دعا سن رہے ہیں آواز تو بچے کی ہے لیکن دعاء نبی کی ہے ۔ (1)
یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ جس وقت حضرت یوسف (علیه السلام) کے بھائیوں نے انہیں کنویںمیں پھنکا تو ان کا کُرتہ اتار لیا اور ان کا بدن برہنہ ہوگیا تو یوسف نے بہت دادوفریاد کی کہ کم از کم میرا کُرتہ تو مجھے دے دو تاکہ اگر مَیں زندہ رہوں تو میرا بدن ڈھانپے اور اگر مرجاؤں تو میرا کفن ہو ، بھائی کہنے لگے: اسی سورج، چاند اور ستاروں سے کہ جنہیں خواب میں دیکھا تھا تقاضا کرو کہ اس کنویں میں تیرے مونس وغمخوار ہوں اور تجھے لباس پہنائیں ۔
حضرت یوسف علیہ السلام جب غیر خدا سے مطلقاً ناامید ہوگئے تو مذکورہ بالا دعا کی ۔(2)
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ، آپ نے فرمایا:
جب انہوں نے یوسف کو کنویں میں پھینکا تو جبرائیل ان کے پاس آئے اور کہا: بچّے! یہاں کیا کررہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا : بھائیوں نے مجھے کنویں میں پھینک دیا ہے ۔
جبرائیل کہنے لگے: کیا تم کنویں سے باہر نکلنا چاہتے ہو؟
وہ کہنے لگے: خدا کی مرضی ہے، اگر وہ چاہے گا تو مجھے باہر نکال لے گا ۔
جبرائیل نے کہا: خدا نے حکم دیا ہے کہ یہ دعا پڑھو تاکہ باہر آجاؤ۔
انہوں نے کہا کونسی دعاء؟
جبرائیل نے کہا : کہو:
اللّٰھم انی اسئلک بان لک الحمد لاالہ الا انت المنان، بدیع السمٰوٰت والارض، ذوالجلال والاکرام، ان تصلی علی محمدواٰل محمد وان تجعل لی مما انافیہ فرجاً ومکرجاً
پروردگارا ! مَیں تجھ سے دعا کرتا ہوں، اے کہ حمد و تعریف تیرے لئے ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تُو ہے جو بندوں کو نعمت بخشتا ہے، آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، صاحبِ جلال واکرام ہے، مَیں درخواست کرتا ہوں کہ محمد وآلِ محمد پر درود بھیج اور جس میں مَیں ہوں اس سے مجھے کشائش ونجات عطا فرما ۔(3)
کوئی مانع نہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ دونوں دعائیں کی ہوں ۔
..............
1، 2۔ تفسیر قرطبی،ج ۵،ص ۳۳۷۳۔
3۔ نورالثقلین،ج ۲،ص ۴۱۶۔

۳۔”واجمعوا ان یجعلوہ فی غیابت الجب“کا مفہوم
یعنی ۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ اسے کنویں کی مخفی جگہ پر ڈال دیں ۔ یہ جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیه السلام) کو کنویں میں پھینکا نہیں تھا بلکہ نیچے لے گئے تھے، کنویں کی تہ میں جہاں ایک چبوترا سا نیچے جانے والوں کے لئے بنایاجاتا ہے اور سطحِ آب کے قریب ہوتا ہے انہوں نے حضرت یوسف (علیه السلام) کی کمر میں طناب ڈال کر وہاں تک پہنچایا اور وہاں چھوڑ دیا ، مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں جو متعدد روایات وارد ہوئیں ہیں وہ بھی اس مطلب کی تائید کرتی ہیں ۔

۴۔ تسویلِ نفس سے کیا مراد ہے؟
لفظ” سوّلت“ تسویل کے مادہ سے”تزئین“ کے معنی میں ہے، بعض اوقات اس کا معنی ”وسوسہ پیدا کرنا “بھی بیان کیا جاتا ہے، ان تمام معانی کی بازگشت تقریبا ًایک ہی مفہوم کی طرف ہے یعنی تمہاری نفسیاتی خواہشات نے تمہارے لئے یہ کام مزین کردیاہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جس وقت سرکش ہواوہوس انسانی روح اور فکر پر غلبہ کرلیتی ہے تو بدترین جرائم مثلاً بھائی کو قتل کرنا یا جلا وطن کرنا وغیرہ بھی انسان کی نظر میں ایسے پسندیدہ ہوجاتے ہیں کہ وہ انہیں ایک مقدس اور ضروری چیز خیال کرنے لگتا ہے، یہاں سے نفسیاتی مسائل کی ایک عمومی بنیاد کی طرف دریچہ کُھلتا ہے وہ یہ کہ ہمیشہ کسی ایک مسئلے کی طرف افراطی میلان خصوصاً جب اس میں اخلاقی رذائل بھی شامل ہوں انسان کی قوتِ شناخت پر پردہ ڈال دیتا ہے اور اس کی نظر میں حقائق کو الٹ کر پیش کرتا ہے ۔
اسی لئے تہذیبِ نفس کے بغیر فیصلہ کرنا اور عینی حقائق کو پہچاننا ممکن نہیں ہے اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ قاضی کے لئے عدالت شرط ہے تو اس کی دلیل یہی ہے اور قرآن مجید میں سورہ بقرہ کی آیہ ۲۸۲بھی اسی طرف اشارہ ہے، جس میں فرمایا گیا ہے:
<واتقوا اللّٰہ ویعلِّمکم اللّٰہ> ۔
اور تقویٰ اختیار کرو خدا تمہیں علم ودانش دے گا ۔

۵۔ دروغ گو حافظہ ندارد
حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ بھائیوں کے سلوک کی داستان سے یہ مشہور حقیقت پھر درجہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ جھوٹا آدمی ہمیشہ کے لئے اپنا راز نہیں چھپا سکتا کیونکہ عینی حقائق جب خارجی وجود حاصل کرلیتے ہیں تو دیگر امور کے ساتھ ان کے بے شمار روابط ہوتے ہیں اور جھوٹا آدمی جو اپنے جھوٹ کے ذریعے ایک غلط منظر تخلیق کرنا چاہتا ہے تو وہ جس قدر بھی زیرک وہوشیار ہو ان تمام روابط کو محفوظ نہیں رکھ سکتا، بالفرض اگر وہ مسئلہ سے متعلق چند جعلی رابطے تیار بھی کرلے پھر بھی یہ بناوٹی رابطے حافظے میں ہمیشہ کے لئے رکھنا آسان کام نہیںہے اور اس سے تھوڑی غفلت تضاد بیانی کا سبب بن جاتی ہے، علاوہ ازیں ان میں سے بہت سے روابط غفلت میں رہ جاتے ہیں اور انہی سے آخر کار حقیقت فاش ہوجاتی ہے، اور یہ ان تمام افراد کے لئے ایک درس ہے جنہیں اپنی عزت وآبرو ہے کہ وہ کبھی جھوٹ کا طواف نہ کریں، اپنی معاشرتی حیثیت کو خطرے میں نہ ڈالیں اور اپنے لئے خدا کا غضب نہ خریدیں ۔

۶۔ صبرِ جمیل کیا ہے؟
سخت حوادث اور سنگین طوفانوں کے مقابلے میں پامردی وشکیبائی انسان کی روحانی عظمت اوربلند شخصیت کی نشانی ہے، ایسی عظمت کہ جس میں عظیم حوادث سما جاتے ہیں لیکن انسان ڈگمگاتا اور لرزتا نہیں ۔
ہوا کا ایک ہلکا سا جھونکا چھوٹے سے تالاب کے پانی کو ہلا دہتا ہے لیکن بحرِ اوقیانوس جیسے بڑے سمندروں میں بڑے بڑے طوفان آرام سے سما جاتے ہیں اور انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
بعض اوقات انسان ظاہراً پامردی وشکیبائی دکھاتا ہے لیکن بعد میں چُبھنے والی باتیں کرتا ہے کہ جو ناشکری اور عدمِ برداشت کی نشانی ہے، اس طرح وہ خود اپنے صبر وتحمل کا چہرہ بدنما کردیتا ہے لیکن با ایمان، قوی الارادی اور عالی ظرف وہ لوگ ہیں کہ ایسے حوادث میں جن کا پیمانہ صبر لبریز نہیں ہوتا اور ان کی زبان پر کوئی ایسی بات نہیں آتی جو کہ ناشکری، کفران، بے تابی اور جزع وفزع کی مظہر ہو، ان کا صبر” صبرِ زیبا“ اور ”صبرِ جمیل “ ہے ۔
اس وقت یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اس سورہ کی دوسری آیات میں ہم پڑھتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) نے اس قدر گریہ اور غم کیا کی ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی، کیا یہ بات صبرِ جمیل کے منافی نہیں؟
اس سوال کا جواب ایک جملے میں دیا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ مردانِ خدا کا دل احساسات اور عواطف کا مرکزہوتا ہے، مقامِ تعجب نہیں کہ بیٹے کے فراق میں آنسوؤں کا سیلاب امڈ پڑے، یہ ایک حساس مسئلہ ہے، اہم یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر ضبط رکھیں یعنی کوئی بات اور کوئی حرکت رضائے الٰہی کے خلاف نہ کریں، اسلامی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب پیغمبرِ اسلام اپنے بیٹے ابراہیم کی موت پر آنسو بہا رہے تھے تو اتفاقاً یہی اعتراض آپ پر کیا گیا کہ آپ ہمیں رونے سے منع کرتے ہیں لیکن آپ خود آنسو بہاتے ہیں تو پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا:
آنکھیں روتی ہیں اور دل غم زدہ ہوتا ہے لیکن ہم کوئی ایسی بات نہیں کرتے جو خدا کو ناراض کردے ۔
حدیث کے الفاظ یوں ہیں:
تدمع العین ویحزن القلب ولانقول مایسخط الرب۔
ایک اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں:
لیس ھٰذا بکاء ان ھٰذا رحمة
یہ(بے تابی کا)گریہ نہیں ہے یہ تو(جذبات کا اظہار اور) رحمت ہے ۔(1)
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ انسان کے سینے میں دل ہے پتھر نہیں اور فطری امر ہے کہ جن معاملات کا تعلق دل کے جذبات سے ہو ان پر وہ ردِّ عمل تو کرتا ہے اور اس کا سادہ ترین اظہار آنکھوں سے اشک رواں ہونا ہے، یہ عیب نہیں ہے بلکہ یہ تو حسن ہے، عیب یہ ہے کہ انسان ایسی بات کرے جس سے خدا غضب ناک ہو۔
..............
1۔ بحار، طبع جدید،ج ۲۲،ص ۱۵۷،و ۱۵۱۔