تفسیر نمونہ جلد 09
 

۷ لَقَدْ کَانَ فِی یُوسُفَ وَإِخْوَتِہِ آیَاتٌ لِلسَّائِلِینَ۔
۸ إِذْ قَالُوا لَیُوسُفُ وَاٴَخُوہُ اٴَحَبُّ إِلیٰ اٴَبِینَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ اٴَبَانَا لَفِی ضَلَالٍ مُبِینٍ۔
۹ اقْتُلُوا یُوسُفَ اٴَوْ اطْرَحُوہُ اٴَرْضًا یَخْلُ لَکُمْ وَجْہُ اٴَبِیکُمْ وَتَکُونُوا مِنْ بَعْدِہِ قَوْمًا صَالِحِینَ۔
۱۰ قَالَ قَائِلٌ مِنْھُمْ لَاتَقْتُلُوا یُوسُفَ وَاٴَلْقُوہُ فِی غَیَابَةِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْہُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ إِنْ کُنتُمْ فَاعِلِینَ۔

ترجمہ

۷۔یوسف اوران کے بھائیوں (کے واقعے )میں سوال کرنے والوں کے لئے (ہدایت کی)نشانیاں تھیں ۔
۸۔جس وقت کہ (بھائیوں نے) کہا: یوسف اور اس کا بھائی (بنیامین)باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم زیادہ طاقتور ہیں، یقینا ہمارا باپ کُھلی گمراہی میں ہے ۔
۹۔یوسف کو قتل کردو یا اسے دور دراز کی زمین میں پھنک آؤ تاکہ باپ کی توجہ صرف تمہاری طرف ہو اور اس کے بعد (اپنے گناہ سے توبہ کرلینا اور)نیک بن جانا ۔
۱۰۔ان میں سے ایک نے کہا: یوسف کو قتل نہ کرو اور اگر کچھ کرنا ہی چاہتے ہو تو اسے کسی اندھے کنویں میں پھینک دو تاکہ قافلوں میں سے کوئی اسے اٹھا لیں(اور اسے اپنے ساتھ کسی دور کے مقام پر لے جائیں) ۔

بھائیوں کی سازش
یہاں سے یوسف (علیه السلام) کے بھائیوں کی یوسف (علیه السلام) کی خلاف سازش شروع ہوتی ہے، پہلی آیت میں ان بہت سے اصلاحی دروس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس داستان میں موجود ہے، ارشاد ہوتا ہے:یقینایوسف اوراس کے بھائیوں (کی داستان میں سوال کرنے والوں کے لئے نشانیاں تھیں (لَقَدْ کَانَ فِی یُوسُفَ وَإِخْوَتِہِ آیَاتٌ لِلسَّائِلِینَ) ۔
اس بارے میں کہ ان سوال کرنے والوں سے کون سے اشخاص مراد ہیں، بعض مفسرین (مثال قرطبی نے تفسیر جامع میں اور دوسرے حضرات نے ) کہا ہے کہ یہ سوال کرنے والے مدینہ کے یہودیوں کی ایک جماعت تھی جو اس سلسلے میں پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مختلف سوالات کیاکرتے تھے لیکن ظاہری طور پر آیت مطلق ہے اور کہتی ہے کہ اس واقعے میں تمام جستجو کرنے والوں کے لئے آیات، نشانیاں اور دروس چھپے ہوئے ہیں ۔
اس سے بڑھ کر کیا درس ہوگا کہ چند طاقتور افراد ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہ جس کا سرچشمہ حسد تھا ظاہراً ایک کمزور اور تنہا شخص نابود کرنے کے لئے اپنی تمام تر کوشش صرف کرتے ہیں مگر اسی کام سے انہیں خبر نہیں ہوتی کہ وہ اسے ایک حکومت کے تخت پر بٹھارہے ہیں اور ایک وسیع مملکت کا فرماں روا بنارہے ہیں اور آخرکار وہ سب اس کے سامنے سرِ تعظیم وتسلیم خم کرتے ہیں، یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ جب خدا کسی کا م کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اتنی طاقت رکھتا ہے کہ اس کام کو اس کے مخالفین کے ہاتھوں پایہ تکمیل تک پہنچادے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ ایک پاک اور صاحب ایمان انسان اکیلا نہیں ہے اور اگرسارا جہان اس کی نابودی پر کمر باندھ لے لیکن خدا نہ چاہے تو کوئی اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا ۔
حضرت یعقوب (علیه السلام) کے بارہ بیٹے تھے، ان میں یوسف (علیه السلام) اور بنیامین ایک ماں سے تھے، ان کی والدہ کا نام راحیل تھا، یعقوب (علیه السلام) ان دونوں بیٹوں سے خصوصا یوسف (علیه السلام) سے زیادہ محبت کرتے تھے کیونکہ ایک تو یہ ان کے چھوٹے بیٹے تھے لہٰذا فطرتا زیادہ توجہ اور محبت کے محتاج تھے اور دوسرا ان کی والدہ (راحیل)فوت ہوچکی تھیں اس بنا پر بھی انہیں زیادہ محبت کی ضرورت تھی علاوہ ازیں خصوصیت کے ساتھ حضرت یوسف (علیه السلام) میں نابغہ اور غیر معمولی شخصیت ہونے کے آثار نمایاں تھے، مجموعی طور پر ان سب باتون کی بنا پر حجرت یعقوب (علیه السلام) واضح طور پر ان سے زیادہ پیار محبت کا برتاؤ کرتے تھے ۔
حاسدبھائیوں کی توجہ ان پہلوؤں کی طرف نہیں تھی اور وہ اس پر بہت نارحت اور ناراض تھے، خصوصا شاید ماؤں کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے بھی فطرتا ان میں رقابت موجود تھی لہٰذا وہ اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ یوسف اور اس کے بھائی کوباپ ہم سے زیادہ پیار کرتا ہے حالانکہ ہم طاقتوراور مفید لوگ ہیں اور باپ کے امور کو بہتر طور پر چلا سکتے ہیں،اس لئے اسے ان چھوٹے بچوں کی نسبت ہم سے زیادہ محبت کرنا چاہیئے جب کہ ان سے تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا (إِذْ قَالُوا لَیُوسُفُ وَاٴَخُوہُ اٴَحَبُّ إِلیٰ اٴَبِینَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَة ) ۔ (۱)
اس طرح یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے انہون نے اپنے باپ کے خلاف کہا کہ ہمارا باپ واضح گمراہی میں ہے (اِنَّ اٴَبَانَا لَفِی ضَلَالٍ مُبِینٍ) ۔
حسد اور کینے کہ آگ نے انہیں اجازت نہ دی کہ وہ معاملے کے تمام اطراف پر غوروفکر کرتے اور ان دو بچوں سے اظہارِ محبت پر باپ کے دلائل معلوم کرتے کیونکہ ہمیشہ ذاتی مفادات ہر شخص کی فکر پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور اسے یکطرفہ فیصلوں پر ابھارتے ہیں کہ جن کا نتیجہ حق وعدالت کے راستے سے گمراہی ہے ۔
البتہ ان کی مراد دین ومذہب کے اعتبار سے گمراہی نہ تھی بلکہ بعد میں آنے والی آیات نشاندہی کرتی ہیں کہ اپنے باپ کی عظمت اور نبوت پر ان کا عقیدہ تھا اور انہیں صرف ان کے طرزِ معاشرت پر اعتراض تھا ۔
بغض، حسد اور کینے کے جذبات نے آخر کار بھائیوں کو ایک منصوبہ بنانے پر آمادہ کیا، وہ ایک جگہ جمع ہوئے اور دو تجاویز ان کے سامنے تھیں کہنے لگے:یایوسف کو قتل کردو یا اسے دور دراز کے کسی علاقے میں پھنک آؤ تاکہ باپ کی محبت کا پورا رخ تمہاری طرف ہو جائے ( اقْتُلُوا یُوسُفَ اٴَوْ اطْرَحُوہُ اٴَرْضًا یَخْلُ لَکُمْ وَجْہُ اٴَبِیکُم) ۔
ٹھیک ہے کہ تمہیں اس کام پر احساس گناہ ہوگا اور وجدان کی مذمت ہوگی کیونکہ اپنے چھوٹے بھائی پر یہ ظلم کروگے لیکن اس گناہ کی تلافی ممکن ہے، توبہ کرلینا اوراس کے بعد صالح جمعیت بن جانا ( وَتَکُونُوا مِنْ بَعْدِہِ قَوْمًا صَالِحِینَ) ۔
اس جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان کی مراد یہ تھی کہ یوسف (علیه السلام) کو باپ کی آنکھوں سے دور کرنے کے بعد ان کے ساتھ تمہارا معاملہ ٹھیک ہوجائے گا اور اس طرف سے تمہیں جو پریشانی ہے وہ ختم ہوجائے گی ۔
ان میں سے پہلی تفسیر صحیح معلوم ہوتی ہے ۔
بہرحال یہ جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس عمل کے بارے میں انہیں احساسِ گناہ تھا اور اپنے دل کی گہرائیوں میں وہ تھوڑا سا خوفِ خدا رکھتے تھے، اسی بنا پر وہ یہ گناہ انجام دینے کے بعد توبہ تجویز کررہے تھے لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ انجام جرم سے پہلے توبہ کے بارے میں گفتگو کرنا درحقیقت وجدان کو دھوکا دینے کے مترادف ہے اور گناہ کے لئے راستہ ہموار کرنے کے لئے ہے اور بات کسی طرح بھی پشیمانی اور ندامت کی دلیل نہیں بنتی ۔
دوسرے لفظوں میں حقیقی توبہ یہ ہے کہ گناہ کے بعد انسان میں ندامت اور شرمندگی کی حالت پیدا ہوجائے لیکن گناہ سے پہلے توبہ کے بارے میں گفتگو کرنا توبہ نہیں ہے ۔
اس کی وضاحت یوں ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان جب گناہ کا ارادہ کرتا ہے تو اسے ضمیر کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا مذہبی اعتقادات اس کے سامنے بندباندھ دیتے ہیں اور گناہ کی طرف قدم اٹھانے سے روکتے ہیں، اس موقع پر وہ شخص اس بند سے گزرنے کے لئے اور گناہ کی طرف راستہ ہموار کرنے کے لئے اپنے ضمیر اور مذہب کو دھوکا دیتاہے کہ میں گناہ کرلینے کے فورا بعد اس کی تلافی کرلوں گا، ایسا نہیں ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاؤں گا، مَیں توبہ کرلوں گا، بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوں گا، نیک عمل بجالاؤں گا اور آخرکار ٓاثارِ گناہ دھوڈالوں گا، یعنی جس طرح انجامِ گناہ کے لئے ایک شیطانی منصوبہ بناتا ہے ضمیر کو دھوکا دینے اور مذہبی عقائد پر مسلط ہونے کے لئے بھی ایک شیطانی منصوبہ بناتا ہے اور اکثر اوقات یہ شیطانی منصوبہ بھی بیت موثر ثابت ہوتا ہے اور اس محکم دیوار کو اس ذریعے سے اپنے راستے سے ہٹا دیتا ہے، حضرت یوسف (علیه السلام) کے بھائیوں نے بھی یہی راستہ اختیار کیا ۔
دوسرا نکتہ یہ کہ انھوں نے کہا کہ یوسف کوراستے سے ہٹا لینے کے بعد باپ کی توجہ اور نگاہ تمیاری طرف ہوجائے گی ( یَخْلُ لَکُمْ” وَجْہ“ اٴَبِیکُم)، یہ نہیں کہا کہ باپ کا دل تمہاری طرف مائل ہوجائے گا ( یَخْلُ لَکُمْ”قلب“ اٴَبِیکُم)، کیونکہ انہیں اطمینان نہیں تھا کہ باپ اتنی جلدی اپنے بیٹے یوسف کو بھول جائے گا، یہی کافی ہے کہ باپ کی ظاہری توجہ ان کی طرف ہو ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ اگر باپ کا رخ اور نظر مائل ہوجائے تو یہ دل کے مائل ہونے کی بنیاد بن جائے گا، جب باپ کی نظر ان کی طرف ہوئی تو آہستہ آہستہ دل بھی ہوجائے گا ۔
لیکن بھائیوں میں سے ایک بہت سمجھدار تھا یا اس کا ضمیر نسبتا زیادہ بیدار تھا اسی لئے اس نے یوسف کو قتل کرنے کے منصبوبے کی مخالفت کی اور اسی طرح کسی دور دراز علاقے میں پھنک آنے کی تجویز کی بھی ، کیونکہ ان منصوبے میں یوسف (علیه السلام) کی ہلاکت کا خطرہ تھا، اس نے ایک تیسرا منصوبہ پیش کیا، وہ کہنے لگا :اگر تمہیں ایسا کام کرنے پر اصرار ہی ہے تو یوسف (علیه السلام) کو قتل نہ کرو بلکہ اسے کسی کنویں میں پھینک دو (اس طرح سے کہ وہ زندہ رہے) تاکہ راہ گزاروںکے کسی قافلے کے ہاتھ لگ جائے اوروہ اسے اپنے ساتھ لے جائیں اور اس طرح یہ ہماری اور باپ کی آنکھوں سے دور ہوجائے (قَالَ قَائِلٌ مِنْھُمْ لَاتَقْتُلُوا یُوسُفَ وَاٴَلْقُوہُ فِی غَیَابَةِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْہُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ إِنْ کُنتُمْ فَاعِلِینَ) ۔
..............
۱۔ ”عصبة“ ایسی جماعت اور گروہ کے معنی میں ہے کہ جس کے افراد باہم شریکِ کار ہوں اور کسی کام کی انجام دہی میں ہم آہنگ ہوں، یہ لفظ جمع کا معنی دیتا ہے اور اس کا مفرد نہیں ہے ۔

چند نکات

۱۔”غیابات الجب“ کا مفہوم:
”جُب“ اس کنویں کو کہتے ہیں جسے پتھروں سے چُنا گیا ہو، شاید زیادتر بیابانی کنویں اسی قسم کے ہوتے ہیں اور ”غیابت“ کنویں میں پوشیدہ جگہ کو کہتے ہیں کہ جونگاہوں سے غیب اور اوجھل ہو، یہ تعبیر گویا اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ جو معمولاً بیابانی کنوؤںمیں ہوتی ہے اوروہ یہ کہ کنویں کی تہ میں پانی کی سطح کے قریب، کنویں کی دیوار میں طاقچہ کی صورت میں ایک چھوٹی سی جگہ بنا دیتے ہیں تاکہ اگر کوئی کنویں کی تہ میں جائے تو اس پر بیٹھ سکے اور جو برتن اپنے ساتھ لے جائے، خود پانی میں جائے بغیر اسے بھر لے، ظاہر ہے کہ اگر کنویں کے اوپر سے دیکھا جائے تو یہ جگہ صحیح طور پر نظر نہیں آتی، اسی بنا پر اسے ”غیابات“ کہا گیا ہے ۔ (1)
ہمارے ہاں بھی اس قسم کے کنویں پائے جاتے ہیں ۔

۲۔ اس تجویز کا مقصد:
اس میں شک نہیں کہ یہ تجویز پیش کرنے والے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ یوسف (علیه السلام) کو کنویں میں اس طرح پھینکا جائے کہ وہ ختم یوجائے بلکہ اس کا مقصدیہ تھا کہ وہ کنویں کے پنہاں مقام پر رہے تاکہ صحیح وسالم قافلوں کے ہاتھ لگ جائے ۔

۳۔ ”ان کنتم فاعلین“ کا مطلب:
اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہنے والے نے حتیٰ یہ تجویز بھی ایک قطعی اور فیصلہ کن بات کے طور پر پیش نہیں کی شاید وہ ترجیح دیتا تھا کہ یوسف کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے ۔

۴۔ کنویں والی تجویز کس نے پیش کی:
کنویں والی تجویز پیش کرنے والے کا نام کیا تھا، اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض نے کہا ہے کہ اس کا نام”روبین“ تھا کہ جو ان سب سے زیادہ سمجھدار شمار ہوتا تھا، بعض نے ”یہودا“ کا نام لیا ہے اور بعض نے ”لاویٰ“ کا ذکر کیا ہے ۔

۵۔انسانی زندگی میں حسد کے تباہ کن اثرات :
ایک اور اہم درس جو ہم اس واقعے سے سیکھتے ہیں یہ ہے کہ کس طرح حسد انسان کو بھائی کے قتل یا اس سے بھی زیادہ سخت تکلیف دہ مقام تک لے جاتا ہے اور اگر اس اندرونی آگ پر قابو نہ پایا جائے تو یہ کس طرح دوسروں کو بھی آگ میں دھکیل دیتی ہے اور کود حسد کرنے والے کو بھی ۔
اصولاً جب کوئی نعمت کسی دوسرے کو میسر آتی ہے اور خود انسان اس سے محروم رہ جاتا ہے تو اس میں چار مختلف حالتیں پیدا ہوتی ہیں :
پہلی یہ کہ وہ آرزو کرتا ہے کہ جس طرح یہ نعمت دوسروں کو حاصل ہے مجھے بھی ہو، اس حالت کو” غبطہ “(رشک) کہتے ہیں اور قابلِ تعریف حالت ہے کیونکہ یہ انسان کو ایسی اصلاحی کوشش کی طرف ابھارتی ہے اورمعاشرے پر کوئی برا اثر مرتب نہیں کرتی ۔
دوسری یہ کہ وہ خواہش کرتا ہے کہ یہ نعمت دوسروں سے چھن جائے اور وہ اس مقصد کے لئے کوشش کرنے لگتا ہے، یہی وہ تنہائی مذموم حالت ہے جسے ”حسد“ کہتے ہیں ، یہ حالت انسان کو دوسروں کے خلاف غلط کوشش پر ابھارتی ہے اور خوداپنے بارے میں کسی اصلاحی کوشش پر آمادہ نہیں کرتی ۔
تیسری یہ کہ وہ تمنا کرے کہ خود یہ نعمت حاصل کرلے اور دوسرے اس سے محروم رہ جائیں، اسی حالت کو ”بخل“ اور اجارہ داری کہتے ہیں یعنی ہر چیز انسان اپنے لئے چاہے اور دوسروں کی اس سے محرومیت پر لذت محسوس کرے ۔
چوتھی یہ کہ وہ چاہے کہ دوسرا اس نعمت میں رہے اگرچہ وہ خود مھرومیت میں زندگی بسر کرے، یہاں تک کہ وہ اس پر بھی تیار ہو کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ بھی دوسروں کو دے دے اور اپنے مفادات سے صرفِ نظر کرے اس بالاوبرتر حالت کو ”ایثار“ کہتے ہیں کہ جو اہم ترین اور بلند انسانی صفات میں سے ہے ۔
بہرحال حسد نے صرف بردرانِ یودف کو اپنے بھائی کے قتل کی سرحد تک نہیں پہنچایا بلکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ حسد انسان کو خود اس کی اپنی نابودی پر بھی ابھارتا ہے اسی بنا پر اسلامی احادیث میں اس گھٹیا صفت کے خلاف جہاد کے لئے ہلا دینے والی تعبیرات دکھائی دیتی ہیں، نمونے کے طور پر ہم یہاں چند ایک احادیث نقل کرتے ہیں ۔
پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:
خدا نے موسیٰ بن عمران کو حسد سے منع کیا اوران سے فرمایا:
ان الحاسد ساخط لنعمی صاد لقسمی الذی قسمت بین عبادی ومن یک کذٰلک فلست منہ ولیس منی
یعنی ۔ حسد کرنے والا میرے بندوں کو ملنے والی نعمتوں پر ناخوش رہتا ہے اور اپنے بندوں میں جو کچھ میں نے تقسیم کیا ہے اس میں رکاوٹ ڈالتا ہے، جو شخص ایسا ہو نہ وہ مجھ سے ہے اور نہ مَیں اس سے ہوں ۔ (2)
امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:
آفة الدین الحسد والعجب والفخر ۔
دین کے لئے تین چیزیں آفت اور مصیبت ہیں حسد، خودپسندی اور غرور۔
ایک اور حدیث میں اسی امام (علیه السلام) سے منقول ہے:
ان المومن یغبط ولایحسد، والمنافق یحسد ولا یغبط۔
اہل ایمان رشک کرتے ہیں حسد نہیں کرتے لیکن منافق حسد کرتے ہیں رشک نہیں کرتے ۔ (3)

۶۔ماں باپ کے لئے ایک سبق:
اس واقعے کے اس حصے سے یہ درس بھی لیا جاسکتا ہے کہ ماں باپ کو اولاد سے اظہارِ محبت میں بہت زیادہ غور وخوض کرنا چاہیئے، اگرچہ اس میں شک نہیں کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) نے اس معاملے میں کسی خطا کا ارتکاب نہیں کیا تھا اور وہ حضرت یوسف (علیه السلام) اور ان کے بھائی بنیامین سے جو اظہارِ محبت کرتے تھے وہ کسی اصول اور وجہ کے تحت تھا اور جس کی طرف ہم اشارہ کرچکے ہیں تاہم یہ ماجرا نشاندہی کرتا ہے کہ ضروری ہے کہ اس مسئلے میں انسان بہت حساس ہو اور اس پہلو کو سختی سے ملحوظ رکھے کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک بیٹے سے اظہار ِ محبت دوسرے بیٹے کے دل میں ایسے جذبات پیدا کردیتا ہے کہ وہ ہرکام کرگزرنے پر تیار ہوجاتا ہے، اس طرح وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی اپنی شخصیت درہم برہم ہوگئی ہے اور پھر وہ اپنے بھائی کی شخصیت کو نقصان پہنچانے کے لئے کسی حد کو خاطر میں نہیں لاتا، یہاں تک کہ اگر وہ خود کسی ردِّ عمل کا مظاہرہ نہ کرسکے تو اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے اور بعض اوقات نفسیاتی بیماری کا شکار ہوجاتا ہے ۔
ایک واقعہ مجھے نہیں بھولتا کہ میرے ایک دوست کا چھوٹا بچہ بیمار تھا، فطری طور پر اسے زیادہ محبت کی ضرورت تھی، باپ نے بڑے بیٹے کو اس کی خدمت پر لگا دیا، تھوڑا ہی عرصہ گزراتھا کہ بڑا بیٹا ایک ایسی نفسیاتی بیماری میں گرفتار ہوگیا کہ جس کی شناخت نہیں ہوتی تھی، میں نے اس عزیز دوست سے کہا کہ اس کی وجہ اظہارِ محبت میں عدمِ عدالت ہی نہ ہو؟ وہ میری اس بات کا یقین نہیں کرتا تھا، وہ ایک ماہرِ نفسیات کے طبیب کے پاس گیا، طبیب نے کہا کہ تمہارے بیٹے کو کوئی خاص بیماری نہیں ہے اس بیماری کی وجہ یہ ہے کہ وہ محبت کی کمی کے مسئلے میں گرفتار ہے اور اس کی شخصیت پر ضرب لگی ہے جب کہ اس کے چھوٹے بھائی کو یہ تمام محبت حاصل ہوئی ہے ۔
اسی لئے اسلامی احادیث میں ہے کہ:
ایک روز امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
بعض اوقات مَیں اپنے کسی بچے سے اظہارِ محبت کرتا ہوں ، اسے اپنے زانو پر بٹھاتا ہوں، اسے بکری کی دستی دیتا ہوں اور اس کے منہ میں چینی ڈالتا ہوں، حالانکہ مَیں جانتا ہوں کہ حق دوسرے کا ہے لیکن پھر بھی یہ کام اس لئے کرتا ہوں تاکہ وہ میرے دوسرے بچوں کے خلاف نہ ہوجائے اور جیسے برادرانِ یوسف نے ہوسف کے ساتھ کیا وہ اس طرح نہ کرے ۔ (4)
..............
1۔ تفسیر المنار سے اقتباس، مذکورہ آیت کے ذیل میں ۔
2۔ اصول کافی، ج۲،ص ۳۰۷۔
3۔اصول کافی، ج۲، س ۳۰۷۔
4۔بحار، ج۴،ص ۷۸۔