تفسیر نمونہ جلد 09
 

۴ إِذْ قَالَ یُوسُفُ لِاٴَبِیہِ یَااٴَبَتِ إِنِّی رَاٴَیْتُ اٴَحَدَ عَشَرَ کَوْکَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاٴَیْتُھُمْ لِی سَاجِدِینَ۔
۵ قَالَ یَابُنَیَّ لَاتَقْصُصْ رُؤْیَاکَ عَلیٰ إِخْوَتِکَ فَیَکِیدُوا لَکَ کَیْدًا إِنَّ الشَّیْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُبِینٌ۔
۶ وَکَذٰلِکَ یَجْتَبِیکَ رَبُّکَ وَیُعَلِّمُکَ مِنْ تَاٴْوِیلِ الْاٴَحَادِیثِ وَیُتِمُّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکَ وَعَلیٰ آلِ یَعْقُوبَ کَمَا اٴَتَمَّھَا عَلیٰ اٴَبَوَیْکَ مِنْ قَبْلُ إِبْرَاھِیمَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبَّکَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔

ترجمہ

۴۔وہ وقت (یاد کرو)جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا: ابا جان! مَیں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند میرے سامنے سجدہ کررہے ہیں ۔
۵۔اس نے کہا:اے میرے بیٹے، اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تیرے لئے خطرناک سازش کریں گے کیونکہ شیطان انسان کا کُھلا دشمن ہے ۔
۶۔اور اس طرح تیرا پروردگار تجھے منتخب کرے گا، تجھے خوابوں کی تعبیر کا علم دے گا اور اپنی نعمت تجھ پر اور آلِ یعقوب پر تمام کرے گا جیسے اس سے پہلے تیرے باپ ابراہیم اور اسحاق پر تمام کی ہے، تیرا پروردگارعالم اور حکیم ہے ۔

امید کی کرن اور مشکلات کی ابتدا
حضرت یوسف (علیه السلام) کے واقعے کا آغاز قرآن ان کے عجیب اور معنی خیز خواب سے کرتا ہے کیونکہ یہ خواب دراصل حضرت یوسف (علیه السلام) کی تلاطم خیز زندگی کا پہلا موڑ شمار ہوتا ہے ۔
ایک دن صبح سویرے آپ بڑے شوق اور وارفتگی سے باپ کے پاس آئے اور انہیں ایک نیا واقعہ سنایا جو ظاہراً زیادہ اہم نہ تھا لیکن درحقیقت ان کی زندگی میں ایک تازہ باب کھلنے کا پتہ دے رہا تھا ۔
یوسف (علیه السلام) نے کہا-: ابا جان! مَیں نے کل رات گیارہ ستاروںکو دیکھا کہ وہ آسمان سے نیچے اترے ، سورج اور چاندان کے ہمراہ تھے، سب کے سب میرے پاس آئے اور میرے سامنے سجدہ کیا (اِذْ قَالَ یُوسُفُ لِاٴَبِیہِ یَااٴَبَتِ إِنِّی رَاٴَیْتُ اٴَحَدَ عَشَرَ کَوْکَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاٴَیْتُھُمْ لِی سَاجِدِینَ) ۔
ابنِ عباس کہتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے یہ خواب شبِ جمعہ دیکھا تھا کہ جو شب قدر بھی تھی (وہ رات جو مقدرات کے تعین کی رات ہے) ۔
یہ کہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے جب یہ خواب دیکھا اس وقت آہہ کی عمر کتنے سال تھی، اس سلسلے میں بعض نے نو سال، بعض نے بارہ سال اور بعض نے سات سال عمر لکھی ہے، جوبات مسلم ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت آپ بہت کم سن تھے ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ لفظ”راٴیت “ کا اس آیت میں تاکید اور قاطعیت کے ساتھ تکرار ہوا ہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ مَیں ان بیشتر افراد کی طرح نہیں ہوں کہ جو خواب کا کچھ حصہ بھول جاتے ہیں اور اس کے بارے میں تردد وشک سے بات کرتے ہیں، مَیںنے پورے یقین سے دیکھا ہے کہ گیارہ ستاروں، سورج اور چاند نے میرے سامنے سجدہ کیا ہے، اور اس امر میں مجھے کوئی شک وشبہ نہیں ہے ۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ یہاں ضمیر ”ھم“ استعمال ہوئی ہے کہ جو ذوی العقول کے لئے بولی جانے والی جمع مذکر کی ضمیر ہے ، اسی طرح لفظ ”ساجدین “ بھی آیا ہے ۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان کا سجدہ کرنا کوئی اتفاقی امرنہ تھا بلکہ ایک واضح پروگرام کے ماتحت وہ عاقل افراد کی طرح سجدہ کررہے تھے ۔
البتہ واضح ہے کہ سجدہ سے یہاں مراد خضوع اور احترام ہے ورنہ سورج، چاند اور ستاروں کے لئے سجدے کا مفہوم عام انسانون کے سجدے کا سا نہیں ہے ۔
اس ہیجان انگیز اور معنی خیز خواب پر خدا کے پیغمبر یعقوب (علیه السلام) فکر میں ڈوب گئے کہ سورج، چاند اور آسمان کے گیاری ستارے، وہ بھی گیارہ ستارے نیچے اُترے اور میرے بیٹے یوسف کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے، یہ کس قدر معنی آفریں ہے، یقینا سورج اور چاند مَیں اور اس کی ماں (یامَیں اور اس کی خالہ )ہے اورگیارہ ستارے اس کے بھائی ہیں میرے بیٹے کی قدر ومنزلت اور مقام اس قدر بلند ہوگا کہ آسمان کے ستارے ، سورج اور چاند اس کے آستانہ پر جبہ سائی کریں گے، یہ بارگاہ الٰہی میں اس قدر عزیز اور باوقار ہوگا کہ آسمان والے بھی اس کے سامنے خضوع کریں گے، کتنا پُر شکوہ اور پُرکشش خواب ہے ۔
لہٰذا پریشانی اور اضطراب کے انداز میں کہ جس میں ایک مسرت بھی تھی، اپنے بیٹے سے کہنے لگے: میرے بیٹے، اپنایہ خواب بھائیوں کو نہ بتانا (قَالَ یَابُنَیَّ لَاتَقْصُصْ رُؤْیَاکَ عَلیٰ إِخْوَتِک)، کیونکہ وہ تیرے خلاف خطرناک سازش کریں گے
نہ کرنا ورنہ وہ تیرے لئے خطرناک سازش کریں گے کیونکہ شیطان انسان کا کُھلا دشمن ہے ۔ ( فَیَکِیدُوا لَکَ کَیْدًا) ۔
مَیں جانتا ہوں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ( إِنَّ الشَّیْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُبِینٌ)، وہ موقع کی تاڑ میں ہے تاکہ اپنے وسوسوں کا آغازکرے، کینہ وحسد کی آگ بڑکائے، یہاں تک کہ بھائیوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنادے ۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) نے یہ نہیں کہا کہ مجھے ڈر یے کہ بھائی ترے بارے میں بُرا ارادی کریں گے بلکہ اسے ایک قطعی امر کی شکل میں خصوصا لفظ ”کیدا“ کی تکرار کے ساتھ بیان کیا ہے کہ جو تاکید کی دلیل ہے آپ اپنے سب بیٹوں کی نفسیات سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ وہ یوسف کے بارے میں کتنے حساس ہیں، شاید یوسف کے بھائی بھی خواب کی تعبیر کے بارے میں ناواقف نہ تھے ولاوہ ازیں یہ کواب ایسا تھا جس کی تعبیر زیادہ پیچیدہ نہ تھی ۔
دوسری طرف یہ خواب بچگانہ خوابوں کی طرح نہ تھا ، ہوسکتا ہے کوئی بچہ خواب میں چاند اور ستاروں کو دیکھے لیکن باشعور موجودات کی طرح چاند ستارے اس کے آگے سجدہ کریں، یہ کوئی بچگانہ خواب نہیں ہے، ان وجوہ کی بنیاد پر حضرت یعقوب (علیه السلام) بجا طور پر یوسف کے بارے میں بھائیوں کی طرف سے حسد کی آگ بھڑک اٹھنے کے بارے میں خوفزدہ تھے ۔
لیکن یہ خواب صرف مستقبل میں یوسف (علیه السلام) کے مقام کی ظاہری ومادی عظمت بیان نہیں کرتا تھا بلکہ نشاندہی کرتا تھا کہ وہ مقامِ نبوت تک بھی پہنچے گے کیونکہ آسمان والوں کا سجدہ کرنا آسمانی مقام کے بلند ی پر پہنچنے کی دلیل ہے اسے لئے تو ان کے پدر بزرگوار حضرت یعقوب (علیه السلام) نے مزید کہا:اور اس طرح تیرا پروردگار تجھے منتخب کرے گا ( وَکَذٰلِکَ یَجْتَبِیکَ رَبُّک)، اور تجھے تعبیرِخواب کا علم دے گا ( وَیُعَلِّمُکَ مِنْ تَاٴْوِیلِ الْاٴَحَادِیث)(۱) ۔
”احادیث“ ”حدیث“ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ایک واقعہ نقل کرنا،انسان چونکہ ااپنا خواب اِدھر اُدھر بیان کرتا ہے لہٰذا یہاں یہ خواب کے لئے کنایہ ہے ۔
اور اپنی نعمت تجھ ہر اور آلِ یعقوب پر تمام کرے گا (وَیُتِمُّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکَ وَعَلیٰ آلِ یَعْقُوبَ)، جیسے اس نے قبل ازیں تیرے باپ ابراہیم اور اسحاق پرکی ہے (کَمَا اٴَتَمَّھَا عَلیٰ اٴَبَوَیْک َ مِنْ قَبْلُ إِبْرَاھِیمَ وَإِسْحَاق) ۔
ہاں ! تیرا پروردگارعالم ہے اور حکمت کے مطابق کام کرتا ہے ( إِنَّ رَبَّکَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ) ۔
..............
۱۔ ”تاویل“در اصل کسی چیز کو لوٹا دینے کے معنی ہے اور کوئی کام یا بات اگر اپنے آخری مقصد تک پہنچ جائے تو اسے ”تاویل“ کہتے ہیں، خارجی طور پر خواب کا صورت پزیر ہوجانابھی ”تاویل“ کا مصداق ہے ۔

اہم نکات

۱۔ خواب دیکھنا:
رؤیا اور خواب دیکھنے کا مسئلہ ایسے مسائل میں سے رہا ہے جنہوں نے عام افراد اور ایلِ علم کی فکرِ نظر کو کئی پہلوؤں سے اپنی طرف مبذول رکھا ہے ۔
یہ اچھے اور برے، وحشتناک اور دلپزیر ، سرور آفریں اور غم انگیز مناظر جو انسان خواب میں دیکھتا ہے کیا ہیں؟
کیا یہ گزشتہ زمانے سے مربوط ہیں اور ان مناظر نے بیتے ہوئے زمانے میں انسانی روح کی گہرائیوں میں آشیانہ بنایا تھا یا یہ تغیرات کا مظہر ہیں یا آئندہ زمانے سے مربوط ہیں کہ جن کی فلم انسانی روح مخفی طریقے سے اپنے حساس کیمروں کے ذریعے بنا لیتی ہے یا پھر یہ مختلف قسم کے ہوتے ہیں جن میں سے بعض کا تعلق گزشتہ سے ہے اور بعض کا آئندہ سے اور بعض ان آرزؤں اور تمنّاؤں کا عکس ہیں کہ جو پوری نہیں ہوسکیں ۔
متعدد آیات میں قرآن تصریح کرتا ہے کہ کم از کم کچھ خواب ایسے ہیں جو کہ مستقبل بعید یا مستقبل قریب کی عکاسی کرتے ہیں ۔
حضرت یوسف (علیه السلام) کا مذکورہ بالا خواب اسی طرح اس سورہ کی آیہ ۳۶ میں مذکور قیدیوں کا خواب، نیز عزیز مصر کے خواب کا واقعہ آیہ ۴۳ میں ہے یہ مختلف خوابوں کے نمونے ہیں جو تمام تر مستقبل کے واقعات سے پردہ اٹھاتے ہیں، ان میں سے کوئی نسبتاً مستقبل بعید سے متعلق ہتے مثلاً حضرت ہوسف (علیه السلام) کا خواب کہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چالیس سال بعد صورت پذیر ہوا اور کوئی مستقبل قریب کے بارے میںہے مثلا عزیزِ مصر کا خواب اور حضرت یوسف (علیه السلام) کے ساتھی قیدیوں کا خواب کہ جو بہت جلد ہی وقوعِ پزیر ہوگئے ۔
اس سورہ کے علاوہ بھی مختلف مقامات پر تعبیردار خوابوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، مثلاً پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کا خواب کہ جس کی طرف سورہ فتح میں اشارہ ہوا ہے اور اسی طرح حجرت ابراہیم (علیه السلام) کا خواب جو سورہ صٰفٰت میں مذکور ہے (یہ خواب امرِ الٰہی بھی تھااور اس کی تعبیر بھی تھی) ۔
یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ ایک روایت میں پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے منقول ہے:
الروٴیا ثلاثة بشری من اللّٰہ وتحرین من الشیطان والذی یحدث بہ الانسان نفسہ فیراہ فی منامہ۔
خواب تین قسم کے ہیں :
کبھی خدا کی طرف سے بشارت ہوتی ہے ۔
کبھی شیطان کی طرف سے حزن وغم کا سامان ہوتا ہے اور
کبھی ایسے مسائل ہوتے ہیں جو انسانی فکر میں پلتے رہتے ہیں اور پھر وہ انہیں خواب میں دیکھتا ہے ۔ (1)
واضح ہے کہ شیطانی خواب کچھ بھی نہیں ہیں کہ ان کی کوئی تعبیر ہو، البتہ رحمانی خواب کہ جو بشارت کا پہلو رکھتے ہیں یقینا ایسے ہوتے ہیں کہ جو آئندہ کے کسی مسرت بخش واقعے سے پردہ اٹھاتے ہیں ۔
بہرحال ضروری ہے کہ ہم یہاں حقیقتِ خواب کے بارے میں مختلف نظریات کی طرف اجمالی طور پر اشارہ کریں، حقیقتِ رؤیا کے بارے میں بہت سی تفسیریںکی گئی ہیں، شاید انہیں دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکے ۔
۱۔ تفسیر مادی اور ۔
۲۔ تفسیر روحانی ۔

۱۔تفسیرمادی
مادیین کہتے ہیں کہ خواب کے چند علل واسباب ہوسکتے ہیں:
الف) ۔ ہوسکتا ہے خواب انسان کے روزمرّہ کے کاموں کا سیدھا نتیجہ ہو یعنی جو گزشتہ دنوں میں انسان کو پیش آتا ہے خواب کے وقت اس کی فکر کے سامنے وہ مجسم ہوجاتا ہے ۔
ب) ۔ ہوسکتا ہے یہ وہ آرزوئیں ہوں جو پوری نہیں ہوئیں ، جیسے پیاسا شخص خواب میں پانہ دیکھتا ہے اور جو شخص کسی کے سفر سے لوٹ آنے کے انتظار میں ہوتا ہے وہ خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ آگیا ہے ۔
پرانے زمانے سے کہاوت ہے :
شتر در خواب بیند پنبہ دانہ! ...۔
اونٹ خواب میں بنولے دیکھتا ہے.....۔
ج) ۔ ہوسکتا ہے کسی چیز کے خوف کے سبب انسان اسے خواب میں دیکھے،کیونکہ بارہا تجربہ ہوا ہے کہ جو لوگ چور سے خوفزدہ ہوتے ہیں رات کو خواب میں چور دیکھتے ہیں، مشہور ضرب المثل ہے ۔
دور از شتر بہ خواب وخواب آشفتہ نہ بین
اونٹ سے دور ہوکر سوجا تاکہ تو خوابِ پریشان نہ دیکھے ۔
یہ بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔
فرائڈ اور اس کے مکتب کے پیروکاروں نے خواب کے لئے ایک اور تفسیرِمادی بیان کی ہے ۔
وہ تفصیلی تمہیدات کے ساتھ اظہار کرتے ہیں کہ خواب نامراد وناکام آزروؤں کو پورا کرنے سے عبارت ہے کہ جو ہمیشہ تبدیل ہو کے ”میں“ کو فریب دینے کے لئے خود آگاہی کی منزل میں آتی ہیں ۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ یہ قبول کر لینے کے بعد نفسِ انسانی دو حصوں پر مشتمل ہے ایک حصہ آگاہ ہے (وہ کہ جو روز مرہ کے افکار، ارادی معلومات اور انسانی اختیارات سے مربوط ہے )دوسرا حصہ نا آگاہ ہے (وہ باطنی ضمیر میں تشنہ تمناؤںکی شکل میں پنہاں ہے )، کہتے ہیں کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہماری وہ خواہشیں جو ہم مختلف اسباب کی وجہ سے پوری نہیں کرسکتے اور ہمارے باطنی ضمیر میں جاگزیںہیں وہ عالمِ خواب میں جب خود آگاہی کا سسٹم معطل ہوجاتا ہے تو اس طرح کی تخیلاتی تکمیل کے لئے خود آگاہ مرحلے کا رخ کرتی ہیں، کبھی وہ بغیر کسی تبدیلی کے منعکس ہوتی ہیں (یعنی عاشق اپنے اس محبوب کو عالمِ خواب میں دیکھتا ہے جو اس سے جدا ہوچکا ہے ) اورکبھی اس کی شکل تبدیل ہوجاتی ہے اور وہ مناسب شکلوں میں ظاہر ہوتی ہیں، اس صورت میں خواب تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں ۔
اس تفسیر کی بنا پر خوابوں کا تعلق ہمیشہ گزشتہ زمانے سے ہوتا ہے اور وہ کبھی بھی آئندی کے بارے میں خبر نہیں دیتے اور وہ صرف ضمیرِ نا آگاہ کے پڑھنے کا اچھا وسیلہ بن سکتے ہیں ، اسی بنا پر نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لئے اکثر بیمار کے خوابوں سے مدد لی جاتی ہے کیونکہ ان کا علاج ضمیرِ نا آگاہ کے ظاہر ہونے پر منحصر ہوتا ہے ۔
غذا شناسی کے بعض ماہرین خواب اور بدن کی غذائی ضرورت کے درمیان رابطے کے قائل ہیں اور ان کا نظریہ ہے کہ مثلاً اگر انسان خواب میں دیکھے کہ اس کے دانتوں سے خون نکل رہا ہے تو لازماً اس کے بدن میں وٹامن سی کی کمی ہے اور اگر کوئی خواب میں دیکھے کہ اس کے سر کے بال سفید ہوگئے ہیں تو معلو م ہوگا کہ وہ وٹامن بی کی کمی میں گرفتار ہے ۔

۲۔تفسیر روحانی
لیکن روحانی فلاسفر خوابون کی ایک اور تفسیر کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ خواب چند قسم کے ہیں :
الف۔ وہ کواب کہ جو انسان کی گزشتہ زندگی کی آرزوؤں سے مربوط ہیں اور انسان کے خوابوں کا ایک اہم حصہ انہیں سے مربوط ہوتا ہے ۔
ب۔ وہ خواب کہ جو مفہوم سے عاری اور خیالِ پریشاں ہوتے ہیں یہ تو ہمات کا نتیجہ ہوتے ہیں(اگرچہ ممکن ہے ان کے نفسیاتی اسباب بھی ہوں)
ج۔ وہ خواب کے جو آئندہ سے مربوط ہیں اور مستقبل کے بارے میں گواہی دیتے ہیں ۔
اس میں شک نہیں کہ جو خواب انسان کی گزشتہ زندگی سے مربوط ہیں اور وہ مناظر کے جو انسان کی اپنی طویل زندگی میں دیکھے ہوئے ان کی تصویر کشی کی کوئی خاص تعبیر نہیں ہے ۔
اسی طرح خوابہائے پریشاں کہ جو افکارِ پریشاں کا نتیجہ ہوتے ہیں اور جنھیں اصطلاح میں ”اضغاث احلام“کہا جاتا ہے ان افکار کی طرح ہیں کہ جن بخار اور ہزیان کی حالت میں پیدا ہوجاتے ہیں، زندگی کے آئندی مسایل کے بارے میں ان کی بھی کوئی خاص تعبیر نہیں ہوتی، اگرچہ روحانیات اور نفسیات کے ماہرین ان سے انسان کی ناآگاہ ضمیر کو سمجھنے کا کام لیتے ہیں اور ان سے آگاہی کو نفسیاتی بیماریوں کے علاج کی کلید سمجھتے ہیں، اس بنا پر ان کی تعبیر نفسیاتی اسرار اور بیماریوں کی تشخیص کے لئے ہے ناکہ زندگی کے آئندہ حوادث وواقعات کے لئے ۔
باقی رہے وہ خواب کہ جو مستقبل سے مربوط ہیں انہیں بھی دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔
ایک قسم صریح اور واضح خوابوں کی ہے کہ جن کے لئے کسی قسم کی تعبیر کی ضرورت نہیں، بعض اوقات ایسے خواب مستقبل ِ قریب یا بعیدمیں کسی معمولی فرق کے بغیر صورت پزیر ہوجاتے ہیں ۔
دوسری قسم: آئندہ کے واقعات کی حکایت کرنے کے باوجود خاص ذہنی وروحانی عوامل کے زیرِ اثر جن کی شکل متغیر ہوجاتی ہے اور جو تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں ۔
ان خوابوں کی ہر قسم کے لئے بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ جن سب کا انکار نہیں کیا جاسکتا، نہ سرف مذہبی مصادر اور تاریخی کتب میں ان کی مثالیں مذکور ہیں بلکہ ہماری اپنی خاص زندگی میں یا ایسے افرادکی زندگی میں جنھیں ہم جانتے ہیں ان کی بہت سی مثالیںموجود ہیں اور ان کی تعداد اس قدر کم ہے کہ انہیں ہرگز اتفاقات کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔
..............
1۔بحار الانوار،ج ۱۴، ص ۴۴۱، بعض علماء نے ان خوابوں میں ایک قسم کا اضافہ کیا ہے اور وہ ایسا خواب ہے جو انسان کے مزاج اور بدن کی کیفیت کا سیدھا نتیجہ ہو، اس کی طرف آئندہ مباحث میں اشارہ ہوگا ۔

چند خواب
یہاں ہم چند ایسے خوابوں کے نمونے پیش کرتے ہیں کہ جنہوں نے عجیب انداز سے آئندہ کے واقعات سے پردہ اٹھایا ہے اور جنھیں ہم نے قابلِ اعتماد افراد سے سنا ہے ۔
۱۔ ہمدان کے ایک مشہور اور کاملاً قابلِ وثوق عالم مرحوم اخوند ملا علی نے مرحوم آقا میزا عبدالنبی سے کہ جو تہران کے بزرگ علماء میں سے تھے، اس طرح نقل کیا ہے :
جب میں سامرا میں تھا تو مازندران سے مجھے ہر سال تقریبا تقریباً ایک سو تومان (1)بھیجے جاتے تھے اور اسی وجہ سے پہلے ضرورت پڑتی تو مَیں قرض لے لیتا اور اس رقم کے پہنچنے پر اپنے سارےقرض ادا کردیتا ۔
ایک سال مجھے خبر ملی کہ اس سال فصل کی حالت بہت خراب رہی ہے لہٰذا وہ رقم نہیں بھیجی جائے گی، مَیں بہت پریشان ہوا، اسی پریشانی کے عالم میں سو گیا، اچانک میں نے خواب مین پیغمبرِ اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو دیکھا، آپ نے مجھے پکار کر کہا:
اے شخص!کھڑے ہوجاؤ ، وہ الماری کھولو(ایک الماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )، وہاں ایک سو تومان ہے وہ لے لو۔
مَیں خواب سے بیدار ہوا، تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میرے دروازے پر دستک ہوئی، زوال کے بعد کی بات ہے، مَیں نے دیکھا کہ اہلِ تشیع کے عظیم مرجع تقلید مرحوم میزا شیرازی کا بھیجا ہواقاصد ہے ، وہ کہنے لگا :میرزا تمہیں بلا رہے ہیں ۔
مجھے تعجب ہوا کہ اس وقت مجھے وہ مردِ بزرگ کس لئے بلارہے ہیں، مَیں گیا تو دیکھا کہ وہ ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے ہیں (میں اپنا خواب بھول چکا تھا )، اچانک حضرتِ میرزا شیرازی نے کہا: میرزا عبدالنبی! اس الماری کا دروزاہ کھولو اور اس میں ایک سو تومان ہیں اٹھالو۔
فوراً خواب کا واقعہ میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا، اس واقعہ سے مجھے بہت تعجب ہوا، مَیں نے چاہا کچھ کہوں لیکن دیکھا کہ میرزا اس سلسلے میں کوئی بات کرنے کے لئے مائل نہیں ہیں مَیں وہ رقم لے کر باہر آگیا ۔

۲۔ ایک قابلِ اعتماد دوست نقل کرتا ہے :
کتابِ ”ریحانة الادب“ کے ،مولف مرحوم تبریزی کا ایک لڑکا تھا ، اس کا دایاں ہاتھ خراب تھا (شاید اسے شدید رومائٹرم تھا)حالت یہ تھی کہ وہ مشکل سے قلم اٹھا سکتا تھا، طے پایا کہ وہ علاج کے لئے مغربی جرمنی جائے ۔
وہ کہتا ہے کہ مَیں جس بحری جہاز میں تھا اس میں خواب دیکھا کہ میری والدہ فوت ہوگئی ہیں ۔
مَیں نے ڈائری کھولی اور یہ واقعہ دن اور وقت کے ساتھ لکھ لیا، کچھ عرصے کے بعد مَیں ایران واپس آیا ، عزیزوں میں سے کچھ لوگ میرے استقبال کے لئے آئے، مَیں نے دیکھا کہ انھوں نے سیاہ لباس پہن رکھے ہیں تو مجھے تعجب ہوا، خواب کا واقعہ میرے ذہن سے بالکل اتر چکا تھا، آخر کار انھوں نے آہستہ آہستہ مجھے بتایا کہ میری والدہ فوت ہو گئیں ہیں ۔
مجھے فوراً وہ خواب یاد اآیا، مَیں نے ڈائری کھولی اور وفات کے دن کے بارے میں سوال کیا تو دیکھا کہ ٹھیک اسی روز میری والدہ فوت ہوئیں تھیں ۔
۳۔ مشہور اسلامی مولف سید قطب اپنی تفسیر ”فی ظلال القرآن“ میں سورہ یوسف سے مربوط آیات کے ذیل میں لکھتے ہیں:
تم نے خوابوں کے بارے میں جو تمام باتیں کہی ہیں اگر مَیں ان تمام کا انکار بھی کردوں تو بھی مَیں اس واقعے کا انکار نہیں کرسکتا جو خود میری ساتھ پیش آیا کہ جب مَیں امریکا میں تھا، وہاں مَیں نے خواب میں دیکھا کہ میرے بھانجے کی آنکھوں میں خون اتر آیاہے اور وہ دیکھ نہیں سکتا میرا بھانجہ اس وقت میرے سب افراد خانہ کے ساتھ مصر میں تھا، مَیں اس واقعے پر پریشان ہوا مَیں نے فورا گھر والوں کو مصر خط لکھ بھیجا اور اپنے بھانجے کی آنکھوں کے بارے میں خصوصیت سے سوال کیا ۔
کچھ عرصے بعد میرے خط کا جواب آیا، اس میں انھوں نے لکھا تھاکہ اس کی آنکھوں سے داخلی طور پر خون رستا ہے اور وہ دیکھ نہیں سکتا اور اس وقت زیرِ علاج ہے ۔
یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ داخلی طور پر اس کی آنکھوں سے خون اس طرح سے رِستا تھا کہ عام مشاہدے سے نہیں دیکھا جاسکتا تھا، صرف طبی آلات سے اسے دیکھنا ممکن تھا لیکن بہرحال وہ آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوچکا تھا ۔
بہر کیف مَیںنے خواب میں یہاں تک کہ داکلی طور پر رسنے والے خون کو واضح طور پر دیکھا تھا ۔
ایسا خواب کہ جن سے اسرارورموز سے سے پردہ اٹھا ہے اور آئندہ سے مربوط حقائق یا حالات منکشف ہوئے ہیں بہت زیادہ ہیں، یہاں تک کہ دیر سے یقین کرنے والے افراد بھی ان کا انکار نہیں کرسکتے اور نہ انہیں محض اتفاق قرار دے سکتے ہیں ۔
آپ اپنے قریبی دوستوں سے تحقیق کرکے عام طور پر ایسے خوابوں کی مثالیں معلوم کر سکتے ہیںکہ جن کی تفسیر مادی حوالے سے ہرگز نہیں ہوسکتی اور صرف فلاسفہ کی روحانی تفسیر اور استقلالِ روح کے اعتقاد سے ان کی تعبیر ہوسکتی ہے ۔
لہٰذا ایسے تمام خوابوں سے مجموعی طور پر ایک مستقل روح کی موجودگی کے شاید کے طور پر استفادی کیا جاسکتا ہے ۔ (2)

۲۔ حضرت یعقوب (علیه السلام) نے تعبیرکیسے بتائی
زیرِبحث آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) نے بھائیوں کے سامنے خواب بیان کرنے سے ڈرانے کے علاوہ اجمالی طور خواب کی تعبیر بھی بیان کردی، انھوں نے کہا کہ تُو برگزیدہ خدا ہوگا، خدا تجھے تعبیرِ خواب کا علم دے گا اور اپنی نعمت تجھ پر اور آلِ یعقوب پر تمام کرے گا ۔
اس امر پر یوسف کے خواب کی دلالت کہ وہ آئندہ بلند روحانی ومادی مقامات پر فائز ہوں گے بالکل قابلِ فہم ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے حضرت یعقوب (علیه السلام) کو یہ کیسے علم ہوا کہ آئندہ یوسف کو تعبیر خواب کا علم حاصل ہوگا، کیا یہ ایک اتفاقی خبر تھی جو حضرت یعقوب (علیه السلام) نے حضرت یوسف (علیه السلام) کو دی اور اس کا ان کے خواب سے کوئی تعلق نہ تھا یا یہ کہ انھوں نے یہ بات اسی خواب سے معلوم کی ۔
ظاہرًا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) نے یہ بات حضرت یوسف (علیه السلام) نے خواب ہی سے کشف کی اور ممکن ہے ایسا ان دومیں سے ایک طریقے سے ہوا ہو ۔
پہلا، یہ کہ یوسف نے اس کم سنی کے باوجود خصوصی طور پر بھائیوں کی آنکھوں سے بچ کر اپنے باپ سے خواب بیان کیا (یہ بات اس سے معلوم ہوئی کہ والد نے انہیں وصیت کی کہ اسے چھپانے کی کوشش کریں) یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ یوسف بھی اپنے خواب سے ایک خاص احساس رکھتے تھے تبھی تو اسے کسی کے سامنے بیان نہیں کیا، یوسف جیسے ایک ننھے سے بچے میں ایسا احساس پیدا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ تعبیرِ خواب کے علم کے لئے اس میں ایک روحانی صلاحیت موجود ہے، اس سے انھوں نے محسوس کیا کہ اس صلاحیّت کی پرورش سے اس سلسلے میں وہ ایک وسیع علم حاصل کر لیں گے ۔
دورسرا، یہ کہ عالمِ غیب سے انبیاء ورسل کا ارتباط مختلف ذرائع سے تھا، کبھی قلبی الہامات کے ذریعے کبھی فرشتہ وحی کے نزول کے ذریعے اور کبھی خواب کے ذریعے، حضرت یوسف (علیه السلام) اگرچہ اس وقت تک ابھی مقامِ نبوت تک نہیں پہنچے تھے تاہم یوسف کے لئے ایسے معنی خیز کواب کا ہونا نشاندہی کرتا ہے کہ وہ آئندہ اس طریق سے عالمِ غیب سے ارتباط پیدا کریں گے لہٰذا فطرتاً انہیں کواب کی تعبیر اور مفہوم کو سمجھنا چاہیئے تاکہ وہ عالمِ غیب سے اس قسم کا رابطہ رکھ سکیں ۔

۳۔رازداری کا سبق
ان آیات سے جہاں ہمیں بہت سے درس ملتے ہیں ایک درس رازدی ہے جو بعض اوقات بھائیوں تک سے اختیار کرنا پڑتی ہے، انسان کی زندگی میں ہمیشہ ایسے راز ہوتے ہیں جو اگر فاش ہوجائیں تو ہوسکتا ہے اس کا مستقبل یا معاشرے کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے ۔
اس اسرار کی حفاظت کے بارے میں اپنے اوپر کنٹرول کرنا وسعتِ ظرف اور قوتِ ارادی کی ایک نشانی ہے، ایسے بہت سے افراد ہیں جنہوں نے اس سلسلے میں کمزوری کی بنا پر اپنے انجام یا معاشرے کو خطرے میں ڈال دیا اور ایسی بہت سی پریشانیاں ہیں جو رازداری نہ رکھنے کی وجہ سے انسان کو پیش آتی ہیں ۔
ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضا (علیه السلام)سے منقول ہے :
لایکون المومن مومنا حتی تکون فیہ ثلاث خصال سنة من ربہ وسنة من نبیہ وسنة من ولیہ فاماالسنة من ربہ فکتمان السر واماالسنة من نبیہ فمدارة الناس واماالسنة من ولیہ فالصبر فی الباساء والضراء۔
مومن۔ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس میں تین خصلتیں نہ ہوں، ان میں سے ایک پروردگار کی سنت ، ایک پیغمبر کی سنت ہے اور امام وولی کی سنت ہے:
خدا کی سنت رازوں کو چھپانا ہے ۔
پیغمبر کی سنت لوگوں سے نرمی اور مدارات کرنا ہے،اور
امام کی سنت مصیبت اورپریشانیوں پر صبر کرنا ہے ۔ (3)
(البتہ یہاں مراد زیادہ تر دوسروں کے رازوں کو چھپانا ہے ) ۔
ایک حدیث میں امام صادق (علیه السلام) سے منقول ہے:
سرک من دمک فلا یجرین من غیرہ او اوداجک۔
تیرے اسرار اورراز تیرے خون کی طرح ہیں جنھیں صرف تیری ہی رگوں میں جاری ہونا چاہیئے ۔ (4)
..............
1 تومان ایرانی سکہ ہے (مترجم)
2۔ معاد وجہان پس از مرگ،ص ۳۹۷۔
3۔بحار، طبع جدید، جلد ۷۸،ص ۳۳۴۔
4۔سفینة البحار(کتم ) ۔