تفسیر نمونہ جلد 09
 

سورہٴ یوسف
چند ضروری امور
اس سورہ کی تفسیر شروع کرنے پہلے چند امور کا ذکر ضروری ہے:

۱۔ یہ سورہ کہاں نازل ہوئی؟
اس بارے میں یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی مفسرین میں کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ صرف ابن عباس سے منقول ہے کہ اس کی چار آیات (پہلی تین آیات اور ایک ساتویں آیت) مدینہ میں نازل ہوئیں ۔
لیکن دوسری آیات سے ان آیات کے ربط پر غور و فکر کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انھیں دیگر آیات سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔ اس بناء پر ان چار آیات کے مدینہ میں نازل ہونے کا احتمال بہت ہی ضعیف ہے ۔

۲۔ سورہ کا مضمون:
اس سورہ کی چند آخری آیات کے سوا تمام آیات خدا کے پیغمبر حضرت یوسف کے نام سے موسوم ہے ۔نیز اسی بناء پر قرآن مجید میں جو مجموعتاً حضرت یوسف (علیه السلام) کا نام ۲۷ مرتبہ آیا ہے اس میں سے ۲۵ مرتبہ اسی سورة میں ذکر ہوا ہے ۔ صرف دو مواقع پر دیگر سورتوں (سورہ غافر آیہ ۳۴ اور سورہٴ انعام آیہ ۸۴) میں آپ کا نام آیا ہے ۔
قرآن کی دیگر سورتوں کے برعکس اس سورہ کا پورا مضمون ایک دوسرے سے مربوط اور ایک واقعہ کے نشیب و فراز سے متعلق ہے ۔ دس سے زیادہ حصوں میں بیان ہونے والی یہ داستان نہایت واضح، جاذب، جچی تُلی، عمیق اور ہیجان خیز ہے ۔
بے ہدف داستان پردرازوں نے یاپست اور غلیظ مقاصد رکھنے والوں نے اس اصلاح کنندہ واقعہ کو ہوس بازوں کے لیے ایک عشقیہ داستان بنانے اور حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے واقعات کے حقیقی چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہاں تک کہ انھوں نے اسے ایک رومانی فلم بنا کر پردہ سیمیں پر پیش کرنا چاہا ہے، لیکن قرآن کہ جس کی ہر چیز نمونہ اور اسوہ ہے اس واقعے کے مختلف مناظر پیش کرتے ہوئے اعلیٰ ترین عفت و پاکدامنی ،خودداری، تقویٰ، ایمان اور ضبط نفس کے درس دیئے ہیں ۔ اس طرح سے کہ ایک شخص اسے جتنی مرتبہ بھی پڑھے ان قوی جذبوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔
اسی بناء پر قرآن نے اسے ”احسن القصص“ (بہترین داستان) جیسا خوبصورت نام دیا ہے اور اس میں اولوا الالباب (صاحبان فکر و نظر) کے لیے کئی عبرتیں بیان کی ہیں ۔

۳۔ یہ سورہ قرآن کا ایک اور اعجاز:
اس سورہ کی آیات میں غور و فکر سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قرآن تمام پہلوؤں سے معجزہ ہے اور اپنے واقعات میں جو ہیر و پیش کرتا ہے وہ حقیقی ہیر و ہوتے ہیں نہ کہ خیالی ۔ کہ جن میں سے ہر ایک اپنی نوعیت کے اعتبار سے بے نظیر ہوتا ہے ۔

حضرت ابراہیم (علیه السلام):
وہ بت شکن ہیرو، جن کی روح بلند تھی او جو طاغوتیوں کی کسی سازش میں نہ آئے ۔

حضرت نوح (علیه السلام):
طویل اور پر برکت عمر میں ۔ صبرو استقامت ، پامردی اور دلسوزی کے ہیرو۔

حضرت موسیٰ (علیه السلام):
وہ ہیرو کہ جنھوں نے ایک سرکش اور عصیان گر طاغوت کے مقابلے کے لیے ایک ہٹ دھرم قوم کو تیار کرلیا ۔

حضرت یوسف (علیه السلام):
ایک خوبصورت، ہوس باز اور حیلہ گر عورت کے مقابلے میں پاکیزگی، پارسائی اور توقویٰ کے ہیرو۔
علاوہ ازیں اس واقعے میں قرآنی وحی کی قدرت بیان اس طرح جھلکتی ہے کہ انسان حیرت زدہ ہوجاتا ہے کیونکہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کئی مواقع پر یہ واقعہ عشق کے بہت ہی باریک مسائل تک جاپہنچتا ہے اور قرآن انھیں چھوڑا کر ایک طرف سے گزرے بغیر ان تمام مناظر کو ان کی باریکیوں کے ساتھ اس طرح سے بیاں کرتا ہے کہ سامع میں ذرہ بھر منفی اور غیر مطلوب احساس پیدا نہیں ہوتا ۔ قرآن تمام واقعات کے متن سے گزرتا ہے لیکن تمام مقامات پر تقویٰ و پاکیزگی کی قوی قوی شعاعوں نے مباحث کا احاطہ کیا ہوا ہے ۔

۴۔حضرت یوسف (علیه السلام) کا واقعہ اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد:
اس میں شک نہیں کہ قبل از اسلام بھی داستان یوسف لوگوں میں مشہور تھی کیونکہ تورات میں سفر پیدائش کی چودہ فصلوں (فصل ۳۷ تا ۵۰) میں یہ واقعہ تفصیل سے مذکور ہے، البتہ ان چودہ فصلوں کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ تورات میں جو کچھ ہے وہ قرآن سے بہت ہی مختلف ہے، ان اختلاات کے موازنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ قرآن میں آیا ہے وہ کس حد تک پیراستہ اور ہر قسم کے خرافات سے پاک ہے، یہ جو قرآن پیغمبر سے کہتا ہے:”اس سے پہلے تو غافل تھا“ اس عبرت انگیز داستان کی خالص واقعیت سے ان کی عدم آگہی کی طرف اشارہ ہے (اگر احسن القصص سے مراد واقعہٴ یوسف ہو) ۔
موجودہ تورات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے جب حضرت یوسف علیہ السلام کی خون آلود قمیص دیکھی تو کہا: یہ میرے بیٹے کی قبا ہے جسے جانور نے کھالیا ہے، یقیناً یوسف چیر پھاڑ ڈالا گیا ہے ۔
پھر یعقوب نے اپنا گریبان چاک کیا، ٹاٹ اپنی کمر سے باندھا اور مدیِ دراز تک اپنے بیٹے کے لئے گریہ کرتے رہے، تمام بیٹوں اور بیٹیوں نے انھیں تسلی دینے میں کسر اٹھا نہ رکھی لیکن انھیں قرار نہ آیا اور کہا کہ مَیں اپنے بیٹے کے ساتھ اسی طرح غمزدہ قبر میں جاوٴں گا ۔
جبکہ قرآن کہتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام فراست سے بیٹوں کے جھوٹ کو بھانپ گئے اور انھوں نے اس معصیت میں داد وفریاد نہیں کی اور نہ اضطراب دکھایا جیسا کہ انبیاء کی سنت ہے اس مصیبت کا بڑے صبر سے سامنا کیا، اگرچہ ان کا دل جل رہا ہے، آنکھیں اشکبار تھیں، فطری طور پر کثرتِ گریہ سے ان کی بینائی جاتی رہی، لیکن قرآن کی تعبیر کے مطابق انھوں نے صبرِ جمیل کا مظاہرہ کیا اور اپنے اوپر قابو رکھا (کظیم) ۔ انھوں نے گریبان چاک کرنے، داد وفریاد کرنے اور پھٹے پرانے کپڑے پہننے سے گریز سے کیا جوکہ عزاداری کی مخصوص علامات تھیں ۔
بہرحال اسلام کے بعد بھی یہ واقعہ مشرق و ومغرب کے موٴرخین کی تحریروں میں بعض اوقات حاشیہ آرائی کے آیا ہے، فارسی اشعار میں سب سے پہلے ”یوسف وزلیخا“ ہے اور اس کے بعد نویں صدی کے مشہور اعر عبدالرحمٰن جامی کی ”یوسف زلیخا“ ہے ۔ (1)

۵۔ داستانِ یوسف ایک ہی جگہ کیوں بیان ہوئی؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دیگر انبیاء کے واقعات کے برعکس حضورت یوسف کا واقعہ ایک ہی جگہ بیان ہوا ہے جبکہ اس کے برعکس باقی انبیاء کے حالاتِ زندگی علیحدہ علیحدہ حصّوں کی شکل میں قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں پھیلے ہوئے ہیں ۔
یہ خصوصیت اس بناپر ہے کہ اس واقعے کی کڑیاں خاص وضع وکیفیت کے باوجود اگر ایک دوسرے سے جُدا ہوجائیں تو ان کا باہمی ربط ختم ہوجاتا ہے، مکمل نتیجہ اخذ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سارا واقعہ ایک ہی جگہ ذکر ہو، مثلاً حضرت یوسف کے خواب کا آخری حصّہ بیان نہ کیا جائے تو اس پہلے حصّے کا کوئی مفہوم نہیں بنتا، یہی وجہ ہے کہ سورہ کے آخر میں ہے کہ جس وقت حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کے بھائی مصر میں آئے اور ان کے باعظمت مقام کے سامنے جھک گئے تو حضرت یوسف نے اپنے والد گرامی کی طرف رخ کرکے کہا:
<یَااٴَبَتِ ھٰذَا تَاٴْوِیلُ رُؤْیَای مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَھَا رَبِّی حَقًّا>
اے میرے پدر بزرگوار! یہ ہے میرے خواب کی تعبیر کہ جو مَیں نے ابتداء میں دیکھا تھا، خدا نے اسے سچ کردکھایا ہے ۔ (یوسف/۱۰۰)
یہ مثال اس وقعہ کے آغاز واختتام کے درمیان نہ ٹوٹنے والے تعلقات کو واضح کرتی ہے، جبکہ ددسرے انبیاء کے واقعات اس طرح نہیں ہیں اور ان کے واقعات کا ہر حصّہ الگ نتیجہ رکھتا ہے ۔
اور ایک خصوصیت اس سورہ کی یہ ہے کہ قرآن مجید میں دیگر انبیاء کے حالات وواقعات آئے ہیں عام عام طور ان پر ان میں سرکش اقوام کے ساتھ ان کے مقابلوں کی تفصیل ہے کہ جن میں آخرکار ایک گروہ ایمان لے آتا ہے اور دوسرا اپنی مخالفت عذاب الٰہی سے نابود ہوجانے تک جاری رکھتا ہے لیکن داستان یوسف میں اس سلسلے میں بات نہیں کی گئی بلکہ زیادہ تر خود حضرت یوسف کی زندگی کے بارے میں ہے اور زندگی کی سخت وادیوں سے ان کے گزرنے کی داستان ہے کہ جس میں آخرکار انھیں ایک طاقتور حکومت حاصل ہوجاتی ہے اور یہ واقعہ اپنی مثال آپ ہے ۔

۶۔ سورہٴ یوسف کی فضیلت:
اسلامی روایات میں اس سورہ کی فضیلت کے بارے میں مختلف فضائل مذکور ہیں، ان میں سے ایک حدیث حضرت امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں:
من قرء سورة یوسف فی کل یوم اٴوفی کل لیلة بعثہ الله یوم القیامة وجمالہ مثل مال یوسف ولایصیبہ فزع یوم القیامة وکان من خیار عباد الله الصالحین.
جو شخص ہر روز یہ ہر سب سورہٴ یوسف کی تلاوت کرے گا، خدا اسے روزِ قیامت اس حالت میں اٹھائے گا کہ اس کا حُسن وجمال حضرت یوسف علیہ السلام کا سا ہوگا اور اسے روزِ قیامت کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور وہ خدا کے بہترین صالح اور نیک بندوں میں سے ہوگا ۔ (2)
ہم نے بارہا کہا ہے کہ قرآن کی سورتوں کی فضیلت میں جو روایات آئی ہیں ان کا مطلب سطحی مطالعہ نہیں ہے اور ان کا مقصد یہ نہیں کہ بغیر غوروفکر اور بغیر عمل کے پڑھا جائے بلکہ ان سے مراد ایسی تلاوت ہے کہ جو وفکر کی تمہید ہے اور ایسا غور وفکر کہ جو عمل کا سرآغاز ہے ۔
اس سورہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی سزندگی کا طرزِ عمل اس سورہ کی روشنی میں مرتب کرے اور ہوا وہوس، مال ومنال، جاہ وجلال اور مقام ومنصب کے شدید طوفانوں کے مقابلے میں اپنے آپ پر قابو رکھے، یہاں تک کہ زندان کی تاریکیوں میں پاکدامنی محفوظ رکھنے کو برائی سے آلودہ قصرِ شاہی پر مقدم رکھے تو ایسے شخص کے قلب وروح کا حُسن وجمال حضرت یوسف کے حُسن وجمال کی طرح ہے اور قیامت کے دن کہ جب اندر کی ہر چیز نمایاں ہوجائے گی وہ خیرہ کن زیبائی حاصل کرے گا اور خدا کے صالح اور نیک بندوں کی صف میں شامل ہوگا ۔
اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ چند ایک روایات میں عورتوں کو اس سورہ کی تعلیم دینے سے منع کیا گیا ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عزیر مصر کی بیوی اور مصر کی ہوس باز عورتوں سے مربوط آیات اگرچہ پورے عفتِ بیان کے ساتھ ہیں مگر ہوسکتا ہے بعض عورتوں کے لئے تحریک کا باعث ہوں اور اس کے برعکس تاکید کی گئی ہے کہ عورتوں کو سورہٴ نور کی تعلیم دی جائے کہ جس میں حاب کے بارے میں آیات ہیں ۔
لیکن ان روایات کی اسناد ہرگز قابلِ اعتماد نہیں ہیں جبکہ اس برعکس روایات بھی موجود ہیں کہ جن میں گھروالوں کو اس سورہٴ کی تعلیم دینے کا شوق دلایا گیا ہے ۔
علاوہ ازیں اس سورہ میں غور وخوض کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں نہ صرف یہ کہ عورتوں کے لئے کوئی نقطہٴ ضعف موجود نہیں ہے بلکہ عزیزِ مصر کی بیوی کا واقعہ ان سب کے لئے درسِ عبرت ہے کہ جو شیطانی وسوسوں میں گرفتار ہوتی ہیں ۔
..............
1۔ کشف الظنون: حاج خلیفہ، ج۲، ص۶۶۱.
2۔ مجمع البیان، محل بحث سورہ کے ضمن میں.

سورہٴ یوسف
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
۱ الٓر تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ الْمُبِینِ
۲ إِنَّا اٴَنزَلْنَاہُ قُرْآنًا عَرَبِیًّا لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ
۳ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اٴَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ ھٰذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ کُنتَ مِنْ قَبْلِہِ لَمِنَ الْغَافِلِینَ

ترجمہ

خدا کے نام سے جو بخشنے والا مہربان ہے ۔
۱۔ الٓر وہ واضح کتاب کی آیات ہیں ۔
۲۔ ہم نے اس پر عربی قرآن نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھو (اور غور وفکر کرو) ۔
۳۔ ہم ننے تیرے سامنے بہترین واقعہ بیان کیا ہے، تجھ پر اس قرآن کی وحی کرکے، اگرچہ اس سے پہلے تُو غافلین میں سے تھا ۔

یہ داستان، ”احسن القصص“ ہے
اس سورہ کا آغاز بھی حروف مقطعات (الف۔ لام۔راء) سے ہوا ہے کہ جو عظمتِ قرآن کی نشانی ہے اور اس بات کی مظہر ہے کہ یہ عمیق اور معنی خیز حروف الف با کے سادہ ترین اجزاء سے ترکیب دی گئی ہیں ۔
قرآن کے حروف مقطعات کے بارے میں اب تک تین مواقع پر (سورہٴ بقرہ، آل عمران اور اعراف کی ابتداء میں) کافی بحث ہوچکی ہے لہٰذا اب تکرار کی ضرورت نہیں اور ہم یہ ثابت کرچکے ہیں کہ یہ حروف عظمت قرآن پر دلالت کرتے ہیں ۔
شاید یہی وجہ ہے کہ حروفِ مقطعات کے فوراً بعد عظمتِ قرآن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ”یہ کتاب بیّن کی آیت ہیں“ وہ کتاب جو ضوفشاں ہے، حق کو باطل سے جدا کرکے دکھانے والی ہے، صراطِ مستقیم کی رہنما ہے اور نجات وکامیابی کا راستہ بتانے والی ہے (الٓر تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ الْمُبِینِ) ۔
یہ بات لائقِ توجہ ہے کہ اس آیت میں دُور کے اسم اشارہ (تِلْکَ) سے استفادہ کیا گیا ہے کہ جس کی نظیر سورہٴ بقرہ اور بعض دیگر سورتوں کی ابتداء میں بھی موجود ہے، اس کے بارے میں ہم کہہ چکے ہیں کہ ایسی تمام تعبیرات ان آیات کی عظمت کی طرف اشارہ ہیں، یعنی یہ آیات ایسی بلند وبرتر ہیں کہ گویا ان کا مقام بہت ہی بالا ہے، آسمانوں کی بلندی پر بیکراں فضاوٴں کی گہرائیوں میں کہ جن تک پہنچنے کے لئے بہت تگ ودو کی ضرورت ہے، ایسے ہی گرے پڑے مطالب کی طرح نہیں ہیں کہ جو ہر قدم پرانسان کو مل جاتے ہیں ۔
ایسی تعبیر کے نمونے فارسی ادب میں بھی ہیں کہ ایک بلند مرتبہ شخصیّت کے حضور ہم کہتے ہیں آنجناب ، آنمقام محترم.....وغیرہ۔
اس کے بعد ان آیات کے نزول کا مقصد یوں بیان کیا گیا ہے: ہم نے اسے عربی قرآن بھیجا ہے تاکہ تم اسے اچھی طرح سمجھ سکو (إِنَّا اٴَنزَلْنَاہُ قُرْآنًا عَرَبِیًّا لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ) ۔
قصد صرف ان آیات کی قرائت، تلاوت اور تبرکاً پڑھنا نہیں ہے بلکہ اصل انھیں سمجھنا ہے اور یہ تمام انسانی وجود کو عمل کی دعوت ہے ۔
باقی رہا قرآن عربی میں ہونا تو اس کی شہادت دنیا کی مختلف زبانوں کا مطالعہ کرنے والوں نے دی ہے کہ یہ ایسی وسیع زبان ہے کہ جو لسان وحی کی ترجمان ہوسکتی ہے اور خدا کی باتوں کے مفہوم اور باریکیوں کو واضح کرتی ہے، اس کے علاوہ مسلّم ہے کہ اسلام نے جزیرة عربستان سے طلوع کیا ہے کہ جو تاریکی، ظلمت، وحشت اور بربریت کا مرکز ہے، ظاہر ہے کہ سب سے پہلے اسے وہاں کے لوگوں ہی کو اپنے گرد جمع کرنا تھا اور اسے اس طرح سے گویا واضح ہونا چاہے تھا کہ اَن پڑھ اور علم ودانش سے بے بہرہ افراد کو تعلیم دیتا اور تعلیم ہی کے ذریعے انھیں تبدیل کرتا اور اس دین کے نفوذ کے لئے ایسا حقیقی بیج بوتا کہ دنیا کے تمام علاقے اس کے زیرِ سایہ آجاتے ۔
البتہ قرآن ایسی زبان کا حامل ہونے کے باوجود ساری دنیا کے لوگوں کے لئے قابل فہم نہیں ہے (اور اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو پھر بھی یہی کچھ ہوتا) کیونکہ ہمارے پاس کوئی ایسی عالمی زبان نہیں ہے کہ جسے ساری دنیا کے لوگ سمجھتے ہوں لیکن یہ بات ساری دنیا کے لوگوں کے لئے اس کے تراجم کے ذریعے اس سے فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ نہیں ہے یا اس سے بالاتر یہ بات اس میں رکاوٹ نہیں کہ اس زبان سے تردیجی طور پر آشنا ہوکر خود آیات کو سمجھ سکیں اور مفاہمِ وحی کا اسی کے الفاظ میں ادراک کرسکیں ۔
بہرحال قران کے عربی ہونے کا ذکر کہ جو قرآن میں دس مواقع آیا ہے ان لوگوں کا جواب ہے جنھوں نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم پر تہمت لگائی کہ انھوں نے یہ بات ایک عجمی شخص سے یاد کی ہیں اور قرآن کے مضامین میں ایک فکر کا نتیجہ ہیں نہ کہ سرچشمہٴ وحی سے پھوٹے ہیں ۔
ضمنی طور پر پے درپے یہ تعبیرات تمام مسلمانوں کے لئے اس ذمہ داری کا تعیّن کرتی ہیں کہ وہ سب کوشش کریں اور عربی زبان کو اپنی دوسری زبان کے طور پر سیکھیں اس لئے کہ یہ وحی کی زبان ہے اور حقائقِ اسلام کے سمجھنے کی کلید ہے ۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے: ہم وحی کے ذریعے اور یہ قرآن بھیج کر تم سے ایک بہترین قصّہ بیان کر رہے ہیں اگرچہ اس سے پہلے تُو غافلین میں تھے (نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اٴَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ ھٰذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ کُنتَ مِنْ قَبْلِہِ لَمِنَ الْغَافِلِینَ) ۔
بعض مفسّرین کا نظریہ ہے کہ ”اٴَحْسَنَ الْقَصَص“ پورے قرآن کی طرف اشارہ ہے اور وہ ”بِمَا اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ ھٰذَا الْقُرْآنَ“کو اس کے لئے قرینہ قرار دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ لفظ ”قصہ“ یہاں صرف داستان اور واقعہ کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اصل لغت کے لحاظ سے کسی چیز کے آثار کی جستجو کرنے کے معنی میں ہے اور جو چیز ایک دوسرے کے پیچھے ہو عرب اسے ”قصہ“ کہتے ہیں اور چونکہ ایک موضوع کو بیان کرتے وقت کلمات اور جملے پے درپے بیان ہوتے ہیں اس لئے کام کو ”قصہ“ کہا جاتا ہے ۔
بہرحال خدا نے اس قرآن کو ”اٴَحْسَنَ الْقَصَص“ قرار دیا ہے کہ جس کا بیان نہایت زیبا ہے اور جس کے الفظ انتہائی فصیح وبلیغ ہیں اور جس کے الفظ کے معانی نہایت اعلیٰ اور عمیق ترین ہیں، جو ظاہری نظر سے بہت زیبا، انتہائی شریں اور خوشگوار اور باطنی لحاظ سے بہت ہی معنی خیز ہے ۔
متعدد روایات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تعبیر پورے قرآن کے لئے بھی استعمال ہوئی ہے اگرچہ یہ احادیث زیرِ بحث آیت کی تفسیر کے طور پر نہیں ہیں، (غور کیجئے گا) ۔
مثلاً ایک حدیث علی بن ابراہیم نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے نقل کی ہے، آپ نے فرمایا: ”اٴحسن القصص ھٰذا القرآن؛ بہترین قصّہ یہ قرآن ہے“۔ (۱)
روضة الکافی میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے ایک خطبہ میں ہے:
انّ اٴحسن وابلغ الموعظة واٴنفع التذکر کتاب الله عزّ ذکرہ.
بہترین قصّہ بلیغ ترین وعظ ونصیحت اور مفید ترین تذکر اور یاددہانی کتابِ خدا ہے ۔ (۲)
لیکن اس کے بعد آیات کی جن میں حضرت یوسف کی سرگزشت بیان کی گئی ہے کا تعلق زیرِ بحث سے ملتا ہے کہ ذہن انسانی زیادہ تر اس معنی کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور خدا نے حضرت یوسف کے واقعے کو ”اٴحسن القصص“ کا نام دیا ہے یہاں تک کہ شاید اس سورہ کی ابتدائی آیات کا مطالعہ کرتے وقت بہت سے لوگوں کے ذہن میں اس کے معنی کے علاوہ کوئی دوسرا مفہوم نہیں آئے گا ۔
مگر ہم نے بارہا کہا ہے کہ کوئی مانع نہیں کہ ایسی آیات دونوں معانی کرنے کے لئے ہوں، قرآن بھی بطورِ عموم ”اٴحسن القصص“ ہے اور حضرت یوسف کی داستان بھی بطور خصوص ”اٴحسن القصص“ ہے ۔
یہ واقعہ کیسے بہترین نہ ہو جبکہ اس کے ہیجان انگیز پیچ وخم میں زندگی کے اعلیٰ ترین دروس کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔
اس واقعے میں ہر چیز پر خدا کے ارادے کی حاکمیت کا ہم اچھی طرح مشاہدہ کرتے ہیں ۔
حسد کرنے والوں کا منحوس انجام ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور ان کی سازشوں کو نقشِ بر آب ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔
بے عفتی کی عار وننگ اور پارسائی وتقویٰ کی عظمت وشکوہ اس کی سطور میں ہم مجسم پاتے ہیں ۔
کنویں کی گہرائی میں ایک ننھے بچے کی تنہائی، زندان کی تاریک کوٹھری میں بے گناہ قیدی کے شب وروز، یاس وناامیدی کے سیاہ پردوں کے پیچھے نورِ امید کی تجلی اور آخرکار ایک وسیع حکومت کا عظمت وشکوہ کہ جو آگاہی وامانت کا نتیجہ ہے، یہ تمام چیزیں اس داستان میں انسان کی آنکھوں کے سامنے ساتھ ساتھ گزرتی ہیں ۔
وہ لمحے کہ جب ایک معنی خیز خواب سے ایک قوم کی سرنوشت بدل جاتی ہے ۔
وہ وقت کہ جب ایک قوم کی زندگی ایک بیدار خدائی زمام دار کے علم وآگہی کے زیر سایہ نابودی سے نجات پالیتی ہے ۔
اور ایسے ہی دسیوں درس، جس داستان میں موجود ہوں وہ کیوں نہ ”اٴحسن القصص“ ہو۔
البتہ یہی کافی نہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی داستان ”حسن القصص“ہے اہم بات یہ ہے کہ ہم میں یہ لیاقت ہو کہ یہ عظیم درس ہماری روح میں اتر جائے ۔
بہت سے ایسے لوگ ہیں جو حضرت یوسف(علیه السلام) کے واقعے کو ایک اچھے رومانوی واقعے کے عنوان سے دیکھتے ہیں، ان جانوروں کی طرح جنھیں ایک سرسبز واداب اور پھل پھول سے لدے ہوئے باغ میں صرف گھاس نظر آتی ہے کہ جو اُن کی بھوک زائل کردے ۔
ابھی تک بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ جو اس داستان کو جھوٹے پر وبال دے کر کوشش کرتے ہیں کہ اس سے ایک سیکسی (sexy) داستان بنالیں جبکہ اس واقعہ کے لئے یہ بات ناشائستہ ہے اور اصل داستان میں تمام اعلیٰ انسانی قدریں جمع ہیں، آئندہ صفحات میں دیکھیں گے کہ اس واقعے کے جامع اور خوبصورت پیچ وخم کو نظر انداز کرکے نہیں گزرا جاسکتا، ایک اعر شیریں سخن کے بقول:
کبھی کبھی اس داستان کے پُر کشش پہلووٴں کی مہک انسان کو اس طرح سرمست کردیتی ہے کہ وہ بے خود ہوجاتا ہے ۔

انسان کی زندگی پر اس داستان کا اثر
قرآن کا بہت سا حصّہ گزشتہ قوموں کی سرگزشت اور گزرے ہوئے لوگوں کے واقعاتِ زندگی کی صورت میں ہے، اس پہلو پر نظر کرنے سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ایک تربیت کنندہ اور انسان ساز کتاب میں یہ سب تاریخ اور داستانیں کیوں ہیں ۔
لیکن ذیل کے چند نکات کی طرف توجہ کرنے سے یہ مسئلہ واضح ہوجاتا ہے:
1۔ تاریخ انسانی زندگی کے مختلف مسائل کی تجربہ گاہ ہے اور جو چیزیں انسان عقلی دلائل سے اپنے ذہن میں منعکس کرتا ہے انھیں تاریخ کے صفحات میں عینی صورت میں کھلا ہوا پاتا ہے اور اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ معلومات میں سے زیادہ قابلِ اعتماد وہ ہیں جو حسّی پہلو رکھتی ہیں، واقعاتِ زندگی میں تاریخ کا اثر واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے، انسان اپنی آنکھوں سے صفحاتِ تاریخ میں اختلاف وانتشار کی وجہ سے کسی وم کی مرگ بار شکست دیکھتا ہے اور اسی طرح اتحاد وہم بستگی کے باعث کسی دوسری قوم کی درخشاں کامیابی کا مشاہدہ کرتا ہے، تاریخ اپنی زبانِ بے زبانی سے ہر قوم کے مکتب، روش اور طرزِ عمل کے قطعی اور ناقابل انکار نتائج بیان کرتی ہے ۔
گزشتہ لوگوں کے حالات ان کے نہایت قیمتی تجربات کا مجموعہ ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ زندگی کا ماحصل تجربے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔
تاریخ ایک آئینہ ہے جو اپنے اندر تمام انسانی معاشروں کا ڈھانچہ منعکس کرتا ہے، یہ آئینہ ان کی برائیاں، اچھائیاں، کامیابیاں، ناکامیاں، فتوحات، شکستیں اور ان سب امور کے عوامل واسباب دکھاتا ہے، اسی بناپر گزشتہ لوگوں کی تاریخ کا مطالعہ انسان کی عمر کو بالکل ان کی عمر جتنا طویل کردیتا ہے کیونکہ اس طرح وہ ان کی پوری عمر کے تجربات سمیٹ لیتا ہے، اسی بناپر حضرت علی علیہ السلام اپنے آبرومند فرزند کے نام اپنے تاریخی وصیت نامہ میں فرماتے ہیں:
ای بنی انّی وان لم اٴکن عمرت عمر من کان قبلی فقدنظرت فی اٴعمالھم وفکرت فی اخبارھم وسرت فی آثارھم حتّیٰ عدت کاٴحدھم بل کاٴنّی بما انتھیٰ الیٰ من امورھم قدعمرت من اولھم الیٰ آخرھم.
اے میرے! بیٹے اگر گزشتہ لوگوں کی عمر یکجا مجھے حاصل نہیں تاہم مَیں نے ان کے اعمال دیکھے ہیں، ان کے واقعات میں غور فکر کیا ہے اور ان کے آثار کی سیر وسیاحت کی ہے اس طرح سے گویا مَیں ان میں سے ایک ہوگیا ہوں بلکہ اس بناپر کہ مَیں نے ان کی تاریخ کے تجربات معلوم کئے ہیں تو گویا مَیں نے ان کے اولین وآخرین کے ساتھ زندگی گزاری ہے ۔
البتہ، یہاں تاریخ سے مراد وہ تاریخ ہے جو خرافات، اتہامات، دروغ گوئیوں، چاپلوسیوں، ثناخوانیوں، تحریفوں اور مسخ شدہ واقعاات سے خالی ہو لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسی تاریخیں بہت کم ہیں، اس سلسلے میں قرآن نے حقیقی تاریخی کے جو نمونے پیش کئے ہیں اس کے اثر کو نظر سے اوجھل نہیں رہنا چاہیے ۔
ایسی تاریخ کی ضرورت ہے کہ جو آئینے کی طرح صاف ہو نہ کہ کثر نما ہو، ایسی تاریخ کہ جو صرف واقعات ذکر نہ کرے بلکہ اس کی بنیاد اور نتائج بھی تلاش کرے ۔
ان حالات میں قرآن کہ جو تربیت کی ایک اعلیٰ کتاب ہے تاریخ سے استفادہ کیوں نہ کرے اور گزشتہ لوگوں کے واقعات سے مثالیں اور شواہد پیش نہ کرے ۔
۲۔ علاوہ ازیں تاریخ ایک خاص قوتِ جاذبہ رکھتی ہے اور انسان بچپن سے بڑھاپے تک اپنی عمر کے تمام ادوار میں اس زبردست قوِ جاذبہ کے زیر اثر رہتا ہے، اسی بناپر دنیا کی ادبیات کا ایک اہم حصّہ اور اشاء پردازوں کے عظیم آثار اور واقعات پر مشتمل ہیں ۔
شعراء اور عظیم مصنفین کے بہترین آثار چاہے وہ فارسی میں ہوں یا دوسری زبانوں میں یہی داستانیں اور واقعات ہیں، گلستانِ سعدی، شاہنامہ فردوسی، خمسہٴ نظامی اور معاصر مصنفین کے دلکش آثار، اسی طرح ہیجان آفرین فرانسیسی مصنف ویکٹرہوگو، برطانیہ کے شکسپیئر اور جرمنی کے گوئٹے سب کی تصانیف داستان کی صورت میں ہیں ۔
داستان اور واقعہ چاہے نظم کی صورت میں ہو یا نشر کی، نمائش کے انداز میں یا فلم کے پڑھنے والے اور دیکھنے والے پر اثرا انداز ہوتا ہے اور ایسی تاثیر عقلی استدلالات کے بس کی بات نہیں ہے ۔
اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ انسان عقلی سے پہلے حسّی ہے اور وہ جس قدر فکری مسائل میں غور وفکر کرتا ہے اس سے زیادہ حسّی مسائل میں غوطہ زن ہوتا ہے زندگی کے مختلف مسائل جس قدر میدانِ حسّ سے دُور ہوتے ہیں اور خالص حوالے سے ہونے میں اسی قدر ثقیل اور سنگین ہوتے ہیں اور اتنی ہی دیر سے ہضم ہوتے ہیں ۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیشہ عقلی استدلالات کو مضبوط بنانے کے لئے حسّی مثالوں سے مدد لی جالتی ہے، بعض اوقات ایک مناسب اور برمحل مثال استدلال کا اثر کئی گناہ زیادہ کردیتی ہے، اسی لئے کامیاب علماء وہ ہیں جو بہترین مثالیں انتخاب کرنے پر زیادہ دسترس رکھتے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ عقلی استدلال حسّی، عینی اور تجرباتی مسائل کا ماحصل ہیں ۔
۳۔ داستان اور تاریخ ہر شخص کے لئے قابل فہم ہے جبکہ اس کے برعکس استدلالت کی رسائی میں سب لوگ برابر کے شریک نہیں ہیں ۔
اسی لئے وہ کتاب کہ جو عمومیت رکھتی ہے اور سب کے لئے ہے، نیم وحشی، اُن پڑھ عرب کے بیابانی بدّو سے لے کر عظیم مفکر اور فلسفی تک کے استفادہ کے لئے ہے اسے حتمی طور پر تاریخ، داستانوں اور مثالوں کا سہارا لینا چاہیے ۔
ان تمام پہلووٴں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ تمام تاریخیں اور داستانیں بیان کرکے قرآن نے تعلیم وتربیت کے لحاظ سے بہترین راستہ اپنایا ہے ۔
خصوصاً اس نکتے کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن نے کسی موقع پر بھی خالی تاریخی واقعات ہی بیان نہیں کردیئے بلکہ ہر قدم پر اس سے نتائج اخذ کئے ہیں اور اس سے تربیتی حوالے سے استفادہ کیا ہے، چنانچہ آپ اسی صورت میں اس کے کئی نمونے دیکھیں گے ۔
..............
۱۔ نور الثقلین: ج۲، ص۴۹.
۲۔ نور الثقلین: ج۲، ص۴۹.