تفسیر نمونہ جلد 09
 

۱۱۶ فَلَوْلَاکَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِکُمْ اٴُوْلُوا بَقِیَّةٍ یَنْھَوْنَ عَنْ الْفَسَادِ فِی الْاٴَرْضِ إِلاَّ قَلِیلًا مِمَّنْ اٴَنْجَیْنَا مِنْھُمْ وَاتَّبَعَ الَّذِینَ ظَلَمُوا مَا اٴُتْرِفُوا فِیہِ وَکَانُوا مُجْرِمِینَ
۱۱۷ وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُھْلِکَ الْقُریٰ بِظُلْمٍ وَاٴَھْلُھَا مُصْلِحُونَ

ترجمہ
۱۱۶۔ تم سے پہلے کے زمانوں (اور قوموں) میں طاقتور علماء کیوں نہیں تھے کہ جو زمین میں فساد کو روکتے مگر یہ کہ ان میں سے بہت کم تھے کہ جنھیں ہم نے نجات دی اور جو ظلم و ستم کرتے تھے انھوں نے عیش و عشرت اور لذتوں کی پیروی کی اور وہ گنہ گار تھے (اور وہ نابود ہوگئے) ۔
۱۱۷۔ اور ایسا نہ تھا کہ تیرا پروردگار آبادیوں کو ظلم و ستم کے باعث نابود کرتا جبکہ ان کے باسی اصلاح کے درپے ہوتے ۔

معاشروں کی تباہی کا سبب
گزشتہ مباحث کی تکمیل کے لیے ان دو آیات میں ایک ایسا اہم نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ جو معاشروں کی تباہی سے نجات کا ضامن ہے اور وہ یہ کہ ہر معاشرے میں جب تک صاحبانِ عقل و فکر کا ایک متعہد اور ذمہ دار گروہ موجود ہے کہ جو مفاسد کو دیکھ کر ساکت اور خاموش ہوکر نہیں بیٹھ جاتا بلکہ ان کے خلاف مقابلے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور فکری و مکتبی حوالے سے لوگوں کی رہبری و رہنمائی اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ تو اس صورت میں یہ معاشرہ تباہی اور نابودی کی طرف نہیں جاسکتا ۔
لیکن جب بے اعتنائی اور سکوت ہر سطح اور ہر طبقے میں حکم فرما ہو اور فساد اور برائی کے عوامل کے مقابلے میں معاشرے کا کوئی دفاع نہ ہو اور اس کا کوئی حامی و مددگا رنہ ہو تو پھر فساد اور اس کے پیچھے پیچھے نابودی و تباہی یقینی ہے ۔
پہلی آیت میں ان گزشتہ اقوام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو طرح طرح کی مصیبتوں میں گرفتار تھیں، ارشاد ہوتا ہے: تم سے پہلے کے قرنوں، امتوں اور قوموں میں ایسے نیک پاک طاقتور اور صاحب شعور لوگ کیوں نہیں تھے کہ جو زمین میں فساد کو پھیلنے سے روکتے (فَلَوْلَاکَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِکُمْ اٴُوْلُوا بَقِیَّةٍ یَنْھَوْنَ عَنْ الْفَسَادِ فِی الْاٴَرْضِ) ۔
اس کے بعد استثناء کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: مگر تھوڑے سے افراد کو جنھیں ہم نے نجات دی (إِلاَّ قَلِیلًا مِمَّنْ اٴَنْجَیْنَا مِنْھُمْ) ۔
یہ چھوٹا سا گروہ اگرچہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا رہا، لیکن یہ لوگ لوط (علیه السلام) اور ان کے چھوٹے سے خاندان کی مثل نوح(علیه السلام) اور ان کے چند ایمان لانے والوں کی طرح اور صالح(علیه السلام) اور ان کے چند پیروکاروں کی مانند، اتنے کم اور اس قدر تھوڑے تھے کہ جو پورے معاشرے کی اصلاح نہ کرسکے ۔
بہرحال ظالم کہ جن کی معاشرے میں کثرت تھی ناز ونعمت اور عیش نوشی کے پیچھے لگے رہے اور بادہٴ غرور اور نعمتوں اور لذّتوں میں اس طرح سے مست ہوئے کہ طرح طرح کے گناہوں میں جاپڑے (وَاتَّبَعَ الَّذِینَ ظَلَمُوا مَا اٴُتْرِفُوا فِیہِ وَکَانُوا مُجْرِمِینَ) ۔
اس کے بعد اس حقیقت پر زرو دینے کے لئے اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: یہ تم دیکھ رہے ہو کہ خدا نے اس قوم کو دیارِ عدم کی طرف بھیج دیا تو یہ اس اس بناء پر تھا کہ ان کے درمیان اصلاح کرنے والے نہ تھے، کیونکہ خدا کسی قوم وملت اور شہر ودیار کو اس کے ظلم کی وجہ سے نابود نہیں کرتا اگر وہ اصلاح کی طرح قدم اٹھالے ( وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُھْلِکَ الْقُریٰ بِظُلْمٍ وَاٴَھْلُھَا مُصْلِحُونَ) ۔ کیونکہ عام طور پر ہر معاشرے میں ظلم اور برائی ہوتی ہے لیکن اہم یہ ہے کہ لوگ اس ظلم اور برائی کا احساسکریں اور خدا انھیں اصلاح کے لئے اقدام کی مہلت دیتا ہے اور قانونِ آفرینش ان کے لئے حقِ حیات کا قائل ہے لیکن جب یہ احساس ختم ہوجاتا ہے ، معاشرے بے پرواہی اور لااُبالی کا شکار ہوجاتے ہیں اور ظلم وفساد پوری طرح چھاجاتا ہے تو یہ ایسی منزل ہوتی ہے کہ سنتِ فطرت کے مطابق ان کے لئے زندہ رہنے کا حق نہیں رہتا، اس حقیقت کو ایک مثال واضح سے بیان کیا جاسکتا ہے ۔
انسانی بدن میں ایک قوتِ مدافعت موجود ہوتی ہے، یہ قوتِ مدافعت خون کے سفید گلبول کی صورت میں ہوتی ہے، جب یہ ہَوا، آب وغذا اور چمڑے کی خراش وغیرہ کے ذریعے بیرونی جراثیم بدن کے اندر حملہ آور ہوتے ہیں تو خون کے یہ سفید ذرّات سپاہیوں کی طرح ان کے مقابلے میں قیام کرتے ہیں اور انھیں نابود کرتے ہیں یا کم از کم ان کے پھیلاوٴ کو روکتے ہیں، ظاہر ہے کہ اگر کسی دن لاکھوں سپاہیوں کا یہ عظیم لشکر کمزور پڑجائے اور بدن کا دفاع نہ کرسکے تو بدن مضر جراثیموں کے تخت وتاراج کا میدان بن جائے گا اور طرح طرح کی بیماریاں اس پر حملہ آور ہوجائیں گی ۔
پورے انسانی معاشرے کی بھی یہی کیفیت ہے، اگر مدافع قوت اور محافظ لشکر کہ جسے ”اولوا بقیة“ کہا گیا ہے ہٹ جائے تو اجتماعی بیماری کے حامل جراثیم کہ جو معاشرے کے گوشہ وکنار میں موجود ہوتے ہیں بڑی تیزی سے نشو ونما پاتے ہیں اور کثرت حاصل کرکے معاشرے کو سرتاپا بیمار کردیتے ہیں ۔
”اولوا بقیة“ کا اثر معاشروں کی بقاء کے لئے اتنا حساس ہے کہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے بغیر معاشروں سے حقِ حیات سلب ہوجاتا ہے اور یہ وہی چیز ہے جس کی طرف مندرجہ بالا آیات اشارہ کرتی ہیں ۔

”اولوا بقیة“ کون ہیں؟
”اولوا“ کا معنی ہے ”صاحبان“ اور ”بقیة“ کا معنی ہے باقی ماندہ، لُغت عرب میں عموماً یہ تعبیر ”اولوا الفضل“ (صاحبانِ فضیلت اور نیک پاک شخصیات) کے معنی میں استعمال ہوتی ہے کیونکہ عام طور پر انسان بہتر اجناس اور زیادہ نفیس چیزوں کو سنبھال رکھتا ہے اور وہ اس کے پاس رہ جاتی ہیں، اسی لئے یہ لفظ نفاست اور نیکی کا مفہوم بھی رکھتا ہے اس کے علاوہ اجتماعی مقابلوں میں جو لوگ زیادہ ضعیف ہوجاتے ہیں میدان اور منظر سے جلدی ہٹ جاتے ہیں یا نابود ہوجاتے ہیں اور وہ افراد باقی رہ جاتے ہیں جو فکر ونظر اور جسمانی قوت کے اعتبار سے زیادہ قوی ہوتے ہیں، اسی بناپر باقی رہ جانے والے طاقتور اور قوی ہوتے ہیں، اس لئے عربوں میں ضرب امثل ہے:
فی الزوایا خبایا وفی الرجال بقای.
گوشہ وگنار میں ابھی چھپے ہوئے مسائل موجود ہیں اور مردوں میں سے باقی ماندہ شخصیتیں موجود ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ لفظ ”بقیة“ جو قرآن میں تین مواقع پر آیا ہے اسی مفہوم کا حامل ہے، طالوت وجالوت کے واقعہ میں قرآن مجید میں ہے:
<إِنَّ آیَةَ مُلْکِہِ اٴَنْ یَاٴْتِیَکُمْ التَّابُوتُ فِیہِ سَکِینَةٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَبَقِیَّةٌ>
حکومتِ طالوت کی حقانیت کی نشانی یہ ہے کہ صندوقِ عہد تمھارے ہاتھ آئے گا وہی صندوق کہ جس میں موسیٰ وہارون کے خاندان کی نفیس یادگار ہے اور تمھارے سکون کی پونجی ہے ۔ (قبرہ/۲۴۸)
نیز حضرت شعیب علیہ السلام کے واقعہ میں زیرِ بحث سورہ میں ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا:
<بَقِیَّةُ اللهِ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ>
بقیة الله تمھارے لئے بہتر ہے ۔ (ہود/۸۶)
نیز یہ جو بعض تعبیرات میں حضرت مہدی موعود علیہ السلام کو ”بقیة الله“ کہا گیا ہے وہ بھی اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ کیونکہ وہ خدا کی طرف سے ایک عظیم اور پُرفیض ذخیرہ ہیں کہ جنھیں اس جہان سے ظلم وستم کی بساط الٹنے اور عدل وداد کا پرچم گاڑنے کے لئے باقی رکھا گیا ہے ۔
یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ قیمتی شخصیتیں، بُرائی کے خلاف کام کرنے والے افراد اور ”اولوابقیة“ انسانی معاشروں پر کتان بڑا حق رکھتے ہیں کیونکہ یہ اقوام وملل کی بقاء اور ہلاکت سے نجات کا وسیلہ ہیں ۔
مندرجہ آیت میں جو دوسرا قابلِ توجہ نکتہ ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ جب تک کسی شہر اور آبادی کے رہنے والے مصلح ہیں خدا اسے نابود نہیں کرتا ”مصلح“ اور ”صالح“ میں جو فرق ہے اس کی طرف توجہ کرنے سے یہ نکتہ واضح ہوجاتا ہے کہ صرف صالحیت اور اچھا ہونا ضامن بقاء نہیں بلکہ اگر معاشرہ صالح نہ ہو لیکن اصلاح کی کوشش کرے تو وہ بھی بقاء وحیات کا حق رکھتا ہے لیکن جب نہ صالح ہوں نہ مصلح تو پھر سنتِ افرینش کےلحاظ سے اس کے لئے حقِ حیات نہیں ہے اور وبہت جلد ختم ہوجائے گا ۔
دوسرے لفظوں میں جب معاشرہ باقی رہ جاتا ہے لیکن اگر ظالم ہو اور اصلاح کے لئے قدم نہ اٹھائے تو وہ باقی نہیں رہ سکتا ۔
ایک اور نکتہ یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں ظلم وجُرم کا ایک سرچشمہ ہوس رانی، لذّت پرستی اور عیش ونوش کی پیروی کو قرار دیا گیا ہے جسے قرآن میں ”اتراف“ سے تعبیر کیا جاتا ہے ، یہ بے قید وبے عیش کوشی اور لذّت پرستی طرح طرح کے انحرافات کا سرچشمہ ہے جو معاشرے کے خوشحال طبقوں میں پیدا ہوتے ہیں کیونکہ شہوت کی مستی انھیں حقیقی انسانی اقدار اور اجتماعی حقائق کے ادراک سے روک دیتی ہے اور عصیان وگناہ میں غرق کردیتی ہے ۔

۱۱۸ وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اٴُمَّةً وَاحِدَةً وَلَایَزَالُونَ مُخْتَلِفِینَ
۱۱۹ إِلاَّ مَنْ رَحِمَ رَبُّکَ وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ وَتَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ لَاٴَمْلَاٴَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اٴَجْمَعِینَ
ترجمہ

۱۱۸۔ اور اگر تیرا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو(بغیر کسی اختلاف کے) ایک ہی امت قرار دیتا لیکن وہ ہمیشہ مختلف ہیں ۔
۱۱۹۔ مگر یہ کہ جس پر تیرا پروردگار رحم کرے اور اسی (رحمت کو قبول کرنے اور اس کے زیرِ سایہ حصولِ کمال) کے لئے انھیں پیدا کیا گیا ہے اور تیرے پروردگار کا فرمان قطعی ہے کہ وہ جہنم کو جنّوں اور انسانوں (میں سے سرکشوں اور نافرمانوں) سے بھر دے گا ۔

تفسیر
پہلی زیرِ بحث آیت میں ایک سنّت فطرت کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ جو دراصل انسان سے مربوط تمام مسائل کی حقیقی بناید ہے اور وہ انسانوں کی روح، جسم، فکر، ذوق اور عشق کی عمارت میں اختلاف وفرق اور ارادہ واختیار کی آزادی ۔ ارشاد ہوتا ہے: اگر خدا چاہتا تو تمام لوگوں کو امتِ واحدہ بنادیتا لیکن خدا نے ایسا نہیں کیا اور ہمیشہ انسان ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں (وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اٴُمَّةً وَاحِدَةً وَلَایَزَالُونَ مُخْتَلِفِینَ) ۔
اس لئے کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ انھیں اپنی اطاعت پر پروردگار کی تاکید اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر نہیں کہ ان سب کو ایک ہی راستے اور ایک ہی معین پروگرام پر چلاتا، اس لئے فرمایا گیا ہے کہ اس میں کوئی رکاوٹ نہ تھی کہ وہ تمام انسانوں کو جبری طور پر ایک ہی طرز پر خلق کرتا اور وہ سب صاحبانِ ایمان ہوتے اور ایمان کو قبول کرنے پر مجبور ہوتے لیکن ایسے ایمان کا کوئی فائدہ نہ تھا اور نہ ہی جبری ایمان کی بیناد پر ایسا اتحاد اور ہم آہنگی کہ جو غیر اداری اسباب پر قائم ہو کسی کے مقام ومرتبے کی دلیل ہے، نہ یہ حصولِ کمال اور تکامل کا ذریعہ ہے اور نہ ہی جزاء وسزا کا موجب، بالکل ایسے جیسے خدا نے شہد کی مکھّی کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی فطرت کے جبری حکم پر پھولوں کا شیرہ جمع کرتی ہے اور ملیریے کے مچھر کو اس لئے پیدا ہے کہ وہ اکیلا سوراخوں میں اپنا آشیانہ بناتا ہے اور ان میں کوئی بھی اس راستے میں خود کوئی اختیار نہیں رکھتا ۔
اصولی طور پر انسان کی قدر و قیمت اور دوسرے موجودات سے اس کا اہم ترین امتیاز یہی ارادہ و اختیار کی آزادی کی نعمت ہے ۔ اسی طرح انسان میں مختلف ذوق، سلیقے، نظریات اور تصورات موجود ہیں کہ جن میں ہر ایک معاشرے کے ایک حصّے کی تعمیر و اصلاح کرتا ہے اور اس کے کسی ایک تقاضے کو پورا کرتا ہے ۔
جب انسان کو ارادے کی آزادی میسّر آئی ہے تو پھر عقیدے اور مذہب و مکتب کے انتخاب میں اختلاف فطری بات ہے ۔ اس اختلاف سے ایک گروہ راہِ حق کو قبول کرلیتا ہے اور دوسرا باطل کا راستہ اپنا لیتا ہے لیکن اگر انسانوں کی تربیت ہو اور وہ پروردگار کے دامن رحمت اور اس کی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہوئے صحیح تعلیمات پالیں تو پھر تفاوت کے باوجود اور آزادی اختیار کے ہوتے ہوئے راہِ حق پر گامزن ہوں گے اگر چہ اس راہ میں بھی وہ مختلف ہوں گے ۔
اسی بناء پر بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: لوگ حق کو قبول کرنے کے بارے میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر وہ کہ رحمت پروردگار جن کے شامل حال ہے (إِلاَّ مَنْ رَحِمَ رَبُّکَ ) ۔ لیکن یہ رحمت الٰہی کسی خاص گروہ کے لیے مخصوص نہیں ہے ۔ سب لوگ (بشرطیکہ وہ چاہیں) اس سے استفادہ کرسکتے ہیں در حقیقت ”خدا نے لوگوں کو اس نعمت و رحمت کو قبول کرنے کے لیے پیدا کیا ہے“ (وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ) ۔جو لوگ رحمت الٰہی کے سائے میں آنا چاہتے ہیں ان کے لیے راستہ کھلا ہے، وہ رحمت کہ جس کا فیضان عقلی ادراک، ہدایت انبیاء اور کتبِ آسمانی کے ذریعے سب کے لیے عام ہے اور جب اس نعمت و رحمت سے فائدہ اٹھائیں گے تو جنت اور ابدی سعادت کے دروازے ان کے سامنے کھُل جائیں گے ۔
اور اگر یہ صورت نہ ہوئی تو ”خدا کا فرمان صادر ہوچکا ہے کہ وہ سرکش و نافرمانِ جنّوں اور انسانوں سے جہنم کو بھر دے گا“ (وَتَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ لَاٴَمْلَاٴَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اٴَجْمَعِینَ ) ۔

چندنکات
۱۔ ارادے کی آزادی ۔ اساس دعوت:
انسانی خلقت میں ارادے کی آزادی تمام انبیاء کی دعوت کی اساس ہے ۔ اصولی طور پر اس کے بغیر انسان ترقی اور کمال کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتا (یہاں انسانی اور روحانی کمال مراد ہے) اس بناء پر قرآن کی متعدد آیات میں یہ بات دہرائی گئی ہے کہ اگر خدا چاہتا تو تمام لوگوں کو جبری طور پر ہدایت کرتا لیکن اس نے ایسا نہیں چاہا ۔
خدا تو یہ کرتا ہے کہ راہ حق کی دعوت دیتا ہے، راستے کی نشاندہی کرتا ہے، نشانیاں اور علامتیں بتاتا ہے، بے راہ روی کے نتیجے سے خبردار کرتا ہے، رہبر مقرر کرتا ہے اور راستے پر چلنے اور اسے طے کرنے کا پروگرام دیتا ہے ۔
قرآن کہتا ہے:
<اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدیٰ>
راستے کی نشاندہی ہمارے ذمہ ہے ۔ (لیل/۱۲)
یہ بھی فرماتا ہے:
<اِنَّمَا اٴَنْتَ مُذَکِّرٌ، لَسْتَ عَلَیھِمْ بِمُصَیْطِرٍ>
تو صرف یاد دہانی کروانے والا نہ کہ زبردستی کرنے والا ۔ (غاشیہ/۲۱۔۲۲)
نیز سورہٴ شمس آیہ ۸ میں ہے:
<فَاٴَلْھَمَھَا فُجُورَھَا وَتَقْوَاھَا>
خدا نے انسان کو پیدا کیا اور اسے فجور و تقویٰ کا راستہ بتادیا ۔
سورہٴ دہر کی آیہ ۳ میں ہے:
<اِنَّا ھَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِراً وَاِمَّا کَفُوراً>
ہم نے انسان کو راستے کی نشاندہی کردی ہے ۔ اب وہ چاہے شکر گزاری کرے یا کفران کرے ۔
اس بناء پر محلِ بحث آیات انسانی ارادے کی آزادی اور مکتبِ جبر کی نفی پر زور دینے والی واضح ترین آیات میں سے ہیں اور اس امر کی دلیل ہیں کہ حتمی فیصلہ کرنا خود انسان ہی کا کام ہے ۔

۲۔ قرآنی آیات اور مقصد خلقت:
مقصد خلقت کے بارے میں قرآنی آیات میں مختلف بیانات موجود ہیں، ان میں سے ہرایک اس مقصد کے کسی زاویے کی طرف اشارہ ہے، ان میں سے ایک آیت یہ ہے:
<وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُونِ>
مَیں نے جنّوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔ (ذاریات/۵۶)
یعنی مکتبِ بندگی میں تکامل اور ارتقاء کو پہنچ جائیں اور اس مکتب میں انسانیت کے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچ جائیں ۔
ایک اور مقام پر ہے:
<اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اٴَحْسَنُ عَمَلاً>
وہ خدا کہ جس نے موت وحیات کوپیدا کیا تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے بہتر عمل کون کرتا ہے ۔ (یعنی ایسا آزمائش کو جس میں تربیت کی آمیزش اور جس کا نتیجہ ترقی وکمال ہو)(مُلک/۲)
زیرِ بحث آیت میں فرمایا گیا ہے : ”وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ“یعنی لوگوں کو قبولِ رحمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے، ایسی رحمت کہ جس میں ہدایت اور حتمی فیصلے کی طاقت کی آمیزش ہے ۔
جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں،یہ تمام خطوط ایک ہی نکتے پر پہنچ کر ختم ہوتے ہیں اور وہ ہے انسانوں کی پرورش، ہدایت، پیشرفت اور تکامل وارتقاء کہ جو حتمی واصلی مقصدِ خلقت شمار ہوتا ہے، ایسا مقصد کہ جس کی بازگشت خود انسان کے ساتھ ہے نہ کہ خدا کے ساتھ کیونکہ وہ ایک ایساوجود ہے کہ جس کی تمام پہلووٴں سے کوئی انتہا نہیں اور وہ ایسا معبود ہے کہ جس میں کوئی نقصان نہیں کہ وہ مخلوق کو پیدا کرکے کمی اور ضرورت کو پورا کرے ۔

۳۔ ایک نکتے کی وضاحت:
آخری آیت میں جن وانس سے جہنم کو بھرنے کے بارے میں خدا کی تاکیدی فرمان موجود ہے لیکن واضح ہے کہ اس حتمی فرمان کی صرف ایک شرط ہے اور وہ رحمت الٰہی کے دائرے سے باہر نکلنا اور اس کے بھیجے ہوئے بزرگوں کی ہدایت ورہنمائی کو ٹھکرانا، لہٰذا اس طرح سے آیت نہ صرف مکتبِ جبر کے لئے دلیل نہیں بنتی بلکہ اختیار وآزادی کے لئے تاکید مزید ہے ۔

۱۲۰ وَکُلًّا نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہِ فُؤَادَکَ وَجَائَکَ فِی ھٰذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِکْریٰ لِلْمُؤْمِنِینَ
۱۲۱ وَقُلْ لِلَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلیٰ مَکَانَتِکُمْ إِنَّا عَامِلُونَ
۱۲۲ وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ
۱۲۳ وَلِلّٰہِ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَإِلَیْہِ یُرْجَعُ الْاٴَمْرُ کُلُّہُ فَاعْبُدْہُ وَتَوَکَّلْ عَلَیْہِ وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

ترجمہ

۱۲۰۔ ہم نے پیغمبروں میں سے ہر ایک کی سرگزشت تم سے بیان کی ہے تاکہ تمھارا دل آرام وسکون پائے (اور تمھارا ارادہ قوی ہو) اور ان (واقعات) میں مومنین کے لئے حق، نصیحت اور یاددہانی آئی ہے ۔
۱۲۱۔ اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تمھارے بس میں ہے اسے انجام دو ہم بھی انجام دیتے ہیں ۔
۱۲۲۔ اور انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں ۔
۱۲۳۔ اور آسمانوں اور زمین کے غیب (اور مخفی اسرار) خدا کے لئے اور تمام امور کی بازگشت اس کی طرف ہے، اس کی پرستش کرو اور اس پرتوکل کرو اور جو کچھ تم کرتے ہو تمھارا پروردگار اس سے غافل نہیں ہے ۔

گزشتگان کے واقعات کے مطالعہ کے چار اثرات
ان آیات کے ساتھ ہی سورہٴ ہود اختتام پذیر ہوتی ہے، ان آیات میں اس سورہ کی تمام مباحث کا کلّی نتیجہ بیان ہوا ہے، اس سورہ کا چونکہ زیادہ حصّہ انبیاء کے بارے میں اور گزشتہ اقوام کے عبرتناک واقعات کے بارے میں ہے لہٰذا یہاں ان داستانوں کے گراں بہا نتائج کو چار عنوانات کے تحت بطور خلاصہ بیان کیا گیا ہے ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے انبیاء کے مختلف واقعات تجھ سے بیان کئے ہیں تاکہ تیرے دل کو مضبوط کریں اور تیرے ارادے کو تقویت دیں (وَکُلًّا نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہِ فُؤَادَکَ) ۔
لفظ ”کلا “ان سرگزشتوں کے تنوع اور ان کی مختلف اقسام کی طرف اشارہ ہے، ان میں سے ہر ایک میں انبیاء سے ایک قسم کی روگرانی، ایک قسم کے انحرافات اور ایک قسم کے عذاب کی طرف اشارہ ہے، یہ تنوع انسانی زندگی کے مختلف زاویوں اور گوشوں پر کئی طرح سے واضح روشنی ڈالتا ہے ۔
پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم کے لئے تثبیتِ قلب اور ان کے ارادے کو تقویت بخشنا (کہ جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہوا ہے)بلکہ ایک فطری امر ہے کیونکہ سخت ہٹ دھرم اور نہایت بے رحم دشمنوں کی مخالفتیں خواہ نہ خواہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم کے دل پر اثر ڈالتی تھیں کیونکہ آپ بھی انسان اور بشر تھے لیکن اس بناء پر کہ ناامیدی اور یاس کی تھوڑی سی گرد بھی آپ کے قلبِ پاک پر نہ پڑے اور آپ کا آہنی ارادہ ان مخالفتوں اور کارشکنیوں سے کمزور نہ ہو خدا تعالیٰ آپ سے انبیاء کے واقعات، ان کے کام کی مشکلات، ہٹ دھرم قوموں کے مقابلے میں ان کی استقامت وپامردی اور بالآخر کامیابی کے واعات یکے بعد دیگرے بیان کرتا ہے تاکہ رسول الله کا قلب وروح اور اسی طرح مومنین کے جو اس عظیم جنگ اور معرکے میں آپ کے دوش بدوش شریک تھے اور روز قوی تر ہوتے رہیں ۔
اس کے بعد ان واقعات کا بیان کرنے کے دوسرے نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: ان واقعاتِ انبیاء میں زندگی سے مربوط حقائق ہیں، ان میں کامیابی اور ناکامی کے عوامل تمام تر تجھے بیان کردیئے گئے ہیں (وَجَائَکَ فِی ھٰذِہِ الْحَقُّ) ۔ (۱)
ان واقعات کے بیان کا تیسرا اور چوتھا نتیجہ جو واضح ہوکر سامنے آتا ے یہ ہے کہ ”مومنین کے لئے وعظ ونصیحت اور تذکر ویاد دہانی ہے“ (وَمَوْعِظَةٌ وَذِکْریٰ لِلْمُؤْمِنِینَ) ۔
یہ جاذبِ نظر ہے کہ موٴلف المنار نے اس آیت کے ذیل میں کہا ہے کہ اس آیت میں ایجاز واختصار کا ایسا معجزہ ہے کہ گویا گزشتہ تمام واقعات کا اعجاز اس نے اپنے اند رسمولیا ہے اور چند مختصر سے الفاظ کے ذریعے اس میں اس کے تمام فوائد بیان کردیئے گئے ہیں ۔
بہرحال یہ آیت دوبارہ تاکید کرتی ہے کہ قرآن کے تاریخی واقعات کو معمولی نہ سمجھا جائے اور ان سے سننے والوں کی ضیافتِ طبع کے لئے استفادہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ زندگی کے ہترین دروس کا مجموعہ ہیں، ان میں انسانوں کے آج اور کل کے تمام زاویوں اور پہلووٴں سے راہ گشائی کی گئی ہے ۔
اس کے بعد حضرت پیغمبر کو حکم دیا گیا ہے کہ تم بھی دشمن کی طرف سختیوں اور ہٹ دھرمیوں کے مقابلے میں وہی کچھ کہو جو بعض پیغمبر اُن کے جواب میں کہتے تھے، فرمایا: وہ کہ جو ایمان لائیں گے ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تمھارے بس میں ہے وہ انجام دو اور گنجائش نہ چھوڑاور جو کچھ ہماری طاقت ہوگی ہم بھی انجام دیں گے (وَقُلْ لِلَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلیٰ مَکَانَتِکُمْ إِنَّا عَامِلُونَ) ۔ تم انتظار میں رہو اور ہم بھی انتظار کرتے ہیں تاکہ دیکھیں کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ہزیمت اٹھاتا ہے (وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ) ۔
تم ہماری شکست کے خیالِ خام میں رہو اور ہم تمھارے لئے خدا کے واقعی عذاب کے انتظار میں ہیں کہ جو یا ہمارے ہاتھوں تمھیں پہنچے گا یا براہِ راست خدا کی طرف سے ۔
ایسی دھمکیاں جو ”امر“ کی صورت میں ذکر ہوئی ہیں قرآن کے دیگر مقامات پر بھی ہیں ۔ مثلاً:
<اِعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ إِنَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ >
جوچاہو کرو خدا تمھارے اعمال سے آگاہ ہے ۔ (حم سجدہ/۴۰)
نیز یہ بہت سے مفسّرین نے کہا ہے کہ مشار الیہ سورہ ہے، ہم نے جو کچھ کہا ہے اس سے مطابقت رکھتا ہے کیونکہ سورہ کا زیادہ تر حصّہ جو گزرچکا ہے گزشتہ انبیاء کے حالات کے بارے میں ہی تھا ۔

شیطان کے بارے میں ہے:
<وَاسْتَفْزِزْ مَنْ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ وَاٴَجْلِبْ عَلَیْھِمْ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ>
اپنی آواز سے انھیں حرکت میں لے آوٴ اور اپنا سوار اور پیدا لشکر ان کی طرف بھیجو۔ (بنی اسرائیل/۶۴)
واضح رہے کہ امر کے یہ تمام صیغے کسی کام پر ابھارنے کے لئے بلکہ وہ سب کے سب دھمکی کا پہلو رکھتے ہیں ۔
اس سورہ کی آخری آیت توحید (توحیدِ علم ، توحیدِ افعالی اور تح۔وحیدِ عبادت) بیان کررہی ہے جیسا کہ اس سورہ کی ابتدائی آیات علم ِ توحید کے بارے میں تھیں ۔
درحقیقت اس آیت میں توحید کے تین پہلووٴں کی نشاندہی کی گئی ہے:
پہلا: پروردگار کی توحیدِ علمی، آسمانوں اور زمینوں کے غیبی اسرار کے ساتھ مخصوص ہیں اور وہی ہے جو تمام آشکار ونہاں بھیدوں سے باخبر ہے (وَلِلّٰہِ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ) ۔ اور اس کے غیر کا علم محدود علم اور زمین وآسمان کے طول وعرض میں موجود تمام چیزوں کے بارے میں وہ علم ذاتی پروردگار کی ذاتِ پاک کے ساتھ مخصوص ہے ۔
دوسرا: یہ کہ تمام امور کی باگ ڈور اس کے قبضہٴ قدرت میں ہے اور تمام چیزوں کی بازگشت بھی اسی کی طرف ہے (وَإِلَیْہِ یُرْجَعُ الْاٴَمْرُ کُلُّہُ) ۔ اور یہ توحیدِ افعالی کا مرحلہ ہے ۔
تیسرا: یہ کہ اب جبکہ لامحدود اوربے پایاں قدرت اس کی ذات پاک سے مخصوص ہے اور ہر چیز کی بازگشت اس کی طرف ہے لہٰذا صرف اس کی پرستش کرو (فَاعْبُدْہُ) ۔ اور اس پر توکل کرو (وَتَوَکَّلْ عَلَیْہِ) ۔ اور یہ توحیدِ عبادت کا پہلو ہے ۔
اور چونکہ نافرمانی وسرکشی گناہ ہے لہٰذا اس سے بچو کیونکہ ”جو کچھ تم انجام دیتے ہو خدا اس سے غافل نہیں ہے (وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ) ۔

چند قابل توجّہ نکات
۱۔ علمِ غیب خدا سے مخصوص ہے:
جیسا کہ ہم ساتویں جلد میں سورہٴ اعراف کی آیہ ۱۸۸ اور پانچویں جلد میں سورہٴ انعام کی آیہ۵۰ کے ذیل میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں کہ اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ اسرارِ نہاں اور اسرارِ گزشتہ وآئندہ پر آگاہی اور ان کا علم خدا کے ساتھ مخصوص ہے، قرآن مجید کی مختلف آیات بھی اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ وہ اس صفت میں اکیلا ہے اور اور کوئی شخص اس کی مانند نہیں ہے ۔
یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض آیاتِ قرآن میں علمِ غیب کے کچھ حصّوں کی نسبت انبیاء کی طرف دی گئی ہے یا بہت سی آیات ورمایات میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم، حضرت علی علیہ السلام اور دیگر آئمہ معصومین علیہم السلام کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں کہ وہ حضرات بعض اوقات آنے والے واقعات اور اسرارِ نہاں کی خبر دیتے تھے تو یہ جاننا چاہیے کہ یہ بھی خدائی تعلیم سے ہوتا ہے ۔
وہی ہے کہ جب مصلحت دیکھتا ہے تو اسرارِ غیب کا کچھ علم اپنے خاص بندوں کو تعلیم دیتا ہے لیکن یہ علم ذاتی ہے اور لامحدود بلکہ تعلیمِ الٰہی کے ذریعے سے ہے اور اتنا ہی ہوتا ہے جتنا وہ اپنے ارادے سے عطا کرتا ہے ۔
اس وضاحت سے ان تمام بدگوئی کرنے والوں کا جواب واضح ہوجاتا ہے کہ جو شیعہ عقیدے پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ انبیاء اور آئمہ کو عالم الغیب جانتے ہیں ۔
خدا نہ صرف انبیاء اور آئمہ کو مناسب موقع اور محل پر اسرارِ غیب تعلیم کرتا ہے بلکہ بعض اوقات ان کے علاوہ افراد کو بھی اس قسم کی تعلیم دیتا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہٴ گرامی کے بارے میں قرآنِ حکیم میں ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان سے کہا: ڈرو نہیں ہم یہ بچہ تمھاری طرف پلٹادیں گے اور اسے انبیاء میں سے قرار دیں گے ۔
قرآنی الفاظ میں:
<وَلَاتَخَافِی وَلَاتَحْزَنِی إِنَّا رَادُّوہُ إِلَیْکِ وَجَاعِلُوہُ مِنَ الْمُرْسَلِینَ>
یہاں تک کہ پرندے اور دوسرے جانور ضروریاتِ زندگی کے ماتحت مخفی اسرار سے آگاہی حاصل کرلیتے ہیں، حتّیٰ کہ نسبتاً مستقبل بعید کے واقعات سے بھی آگاہ ہوجاتے ہیں کہ جس کا تصور ہمارے لئے مشکل اور پیچیدہ ہے اور یوں بعض مسائل جو ہمارے لئے غیب شمار ہوتے ہیں ان کے لئے غیب نہیں ہیں ۔

۲۔ عبادت خدا کے لئے مخصوص ہے:
مندرجہ بالا آیت میں عبادت خدا کے لئے مخصوص ہونے کے بارے میں ایک لطیف دلیل بیان ہوئی ہے اور وہ یہ کہ اگر پرستش عظمت اور صفاتِ جمال وجلال کی بناء پر ہے تو یہ صفات سب سے بڑھ کر خدا میں موجود ہیں اور دوسرے اس کے مقابلے میں ناچیز وحقیر ہیں، عظمت کی سب سے بڑی نشانی علمِ لامحدود اور قدرت بے پایاں ہے کہ جن کے بارے میں زیرِ نظر آیت کہتی ہے کہ یہ دونوں اس کے ساتھ مخصوص ہیں اور اگر پرستش مشکلات کے موقع پر معبود کی پناہ لینے کی خاطر ہے تو یہ اہلیت اس میں ہے کہ جو بندوں کی تمام ضروریات، حاجات اور اسرارِ غیب سیے باخبر ہو اور ان کی دعا قبول کرنے اور ان کی آرزووٴںکو پورا کرنے کی قدرت رکھتا ہو، اسی بناء پر توحیدِ صفات توحیدِ عبادت کا سبب بن جاتی ہے ۔ (غور کیجیے گا) ۔
۳۔ تمام تر سیر وسلوک کا خلاصہ:
بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ پروردگار کی عبودیت کے ذریعے انسان کی تمام تر سیر وسلوک کا خلاصہ زیرِ بحث آیت کے دو لفظوں میں بیان کردیا گیا ہے، یعنی ”فَاعْبُدْہُ وَتَوَکَّلْ عَلَیْہِ“ کیونکہ عبادت چاہے عام عبادات کی طرح جسمانی ہو یا روحانی، مثلاً عالمِ آفرینش اور نظامِ اسرارِ ہستی میں غور وفکر، وہ اس سیر وسلوک کا آغاز ہے اور توکل یعنی طور تمام امور کو خدا کے سپرد کرنا کہ جو ایک طرح سے ”فَنَا فِی اللّٰہ“ ہے اس سیر کا آخری نقطہ ہے ۔
اس تمام راستے میں ابتداء سے لے لے انتہا تک توحیدِ صفات کی طرف توجہ راہرو کی مدد کرتی ہے اور کوشش وعشق سے ملی ہوئی جستجو پر ابھارتی ہے ۔
پروردگار! ایسا کر کہ ہم تجھے تیری صفاتِ جمال وجلال کے پہچانیں اور ایسا کر کہ ہم آگاہی اور علم کے ساتھ تیری طرف حرکت کریں ۔
پروردگار! ہمیں توفیق دے کہ ہم خلوص کے ساتھ تیری عبادت کریں اور عشق کے ساتھ تجھ پر توکّل کریں ۔
پروردگار! اس سختی کے زمانے میں جبکہ ہمارے عظیم الشان اسلامی انقلاب کے بعد روز افزوں مشکلات نے ہر طرف سے ہمیں گھیر رکھا ہے اور دشمن اس انقلاب کے نور کو بجھادینے کے درپے ہیں، ہماری امید صرف تو ہے اور ان مشکلات کے حل کے لئے ہمارا سہارا تیری ذاتِ پاک ہے ۔
پروردگار! یہاں تک کا راستہ ہم نے طے نہیں کہ بلکہ تیری آشکار اور مخفی تائیدیں تھیں کہ جنھوں اس مرحلے تک پہنچنے کے لئے ہر جگہ ہمیں توانائی بخشی، جو راستہ باقی رہ گیا ہے اس میں بھی ہمیں اس عظیم نعمت سے محروم نہ فرما، اپنا لطفِ خاص ہم سے دُور نہ کر اور ہمیں اس کی بھی توفیق دے کہ ہم اس تفسیر کو کہ جو تیری عظیم آسمانی کتاب کی طرف ایک نیا دریچہ کھولتی ہے تکمیل تک پہنچائیں ۔
..............
۱۔ جو کچھ کہا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”ھٰذہ“ ضمیر کا مرجع ”ابناء الرسل“ ہیں یہ مرجع ضمیر کے قریب بھی ہے، عبارت میں اس کا ذکر بھی ہے اور آیت میں موجودمباحث سے مناسبت بھی رکھتا ہے، اس امر کی طرف توجہ کرتے ہوئے ضمیر کا ایسے مرجع کی طرف لوٹنا بالکل واضح ہے ۔


سورہٴ ہود کی تفسیر اختتام کو پہنچی