تفسیر نمونہ جلد 09
 

۱۰۹ فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ مِمَّا یَعْبُدُ ھٰؤُلَاءِ مَا یَعْبُدُونَ إِلاَّ کَمَا یَعْبُدُ آبَاؤُھُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِنَّا لَمُوَفُّوھُمْ نَصِیبَھُمْ غَیْرَ مَنقُوصٍ
۱۰۱۰ وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِیہِ وَلَوْلَاکَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ وَإِنَّھُمْ لَفِی شَکٍّ مِنْہُ مُرِیبٍ
۱۱۱ وَإِنَّ کُلًّا لَمَّا لَیُوَفِّیَنَّھُمْ رَبُّکَ اٴَعْمَالَھُمْ إِنَّہُ بِمَا یَعْمَلُونَ خَبِیرٌ
۱۱۲ فَاسْتَقِمْ کَمَا اٴُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ وَلَاتَطْغَوْا إِنَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ

ترجمہ

۱۰۹۔ جن معبودوں کی پرستش کرتے ہیں تم ان کے بارے میں شک میں نہ پڑنا ۔ یہ تو ان معبودوں کی ایسے ہی پرستش کرتے ہیں جیسے پہلے ان کے آباء واجداد کرتے تھے اور ہم انھیں ان کا حصّہ بے کم وکاست دیں گے ۔
۱۱۰۔ ہم نے موسیٰ آسمانی کتاب دی، اس کے بعد ان لوگوں نے اس میں اختلاف کیا اور اگر پہلے سے (ان کی آزمائش اور اتمامِ حجت کے بارے میں) خدا کا فرمان نہ ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ ہوجاتا ۔
۱۱۱۔ اور تیرا پروردگار ہر خص کا عمل بے کم وکاست اسے دے گا وہ ان کی کارگزاری سے آگاہ ہے ۔
۱۱۲۔ لہٰذا تمھیں جس طرح حکم ہوا ہے استقامت اختیار کرو اور اسی طرح وہ لوگ بھی جو تیرے ساتھ خدا کی جانب آئے ہیں اور سرکشی نہ کرو کیونکہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسے دیکھتا ہے ۔

استقامت کا دامن تھامے رکھو
یہ آیات در حقیقت پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی دلجوئی اور تسلّی کی خاطر اور ان کی مسئولیت وذمہ داری بیان کرنے کے لئے نازل ہوئی ہیں ۔
در اصل گزشتہ قوموں کے حالات سے جو اہم نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے کہ پیغمبر اور ان کے بعد سچّے مومنین دشمنوں کی کثرت سے خوفزدہ نہ ہوں اور جس بت پرست اور ظالم قوم کا انھیں سامنا ہے اس کی شکست کے بارے میں شک وشبہ میں نہ پڑ یں اور خدائی امداد پر مطمئن رہیں ۔
اسی لئے پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: اس چیز کے بارے میں شک وشبہ میں نہ پڑو کہ جس کی یہ پرستش کرتے ہیں کیونکہ یہ بھی اسی راستے پر گامزن ہیں جس پر گزشتہ لوگوں کا ایک گروہ گیا ہے اور یہ بھی اسی طرح پرستش کرتے ہیں جیسے پہلے ان کے بڑے کیا کرتے تھے لہٰذا ان کا انجام ان سے بہتر نہیں ہوگا (فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ مِمَّا یَعْبُدُ ھٰؤُلَاءِ مَا یَعْبُدُونَ إِلاَّ کَمَا یَعْبُدُ آبَاؤُھُمْ مِنْ قَبْلُ) ۔ (۱)
لہٰذا بلافاصلہ فرمایا گیا ہے: ”ہم یقیناً سزا اور عذاب میں سے ان کا حصّہ انھیں بے کم وکاست دیں گے“ اور اگر وہ راہِ حق کی طرف پلٹ آئیں تو ہماری جزا میں ان کا حصّہ محفوظ ہے (وَإِنَّا لَمُوَفُّوھُمْ نَصِیبَھُمْ غَیْرَ مَنقُوصٍ)
باوجودیکہ لفظ ”موفّوھم“ خود حق کی مکمل ادائیگی کے معنی میں ہے لفظ ”غَیْرَ مَنقُوص“(بے کم وکاست) بھی اس مسئلے پر تاکید کے لئے ذکر کیا گیا ہے ۔
در اصل یہ آیت اس حقیقت کو مجسّم کرتی ہے کہ گزشتہ سرگزشت ہم نے پڑھی ہے وہ ناول یا افسانہ نہیں تھا نیز وہ انجام گزشتہ لوگوں کے ساتھ مخصوص نہیں تھا بلکہ یہ ایک ابدی اور جاودانی سنت ہے اور تمام انسانوں کے بارے میں ہے، کل آج اور آئندہ کل کے لئے البتہ یہ عذاب اور سزائیں بہت سی گزشتہ قوموں میں ہولناک اور عظیم بلاوٴں کی صورت میں عمل پذیر ہوئیں لیکن پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے دشمنوں کے لئے ایک اور شکل میں ظاہر ہوئیں، وہ صورت یہ تھی کہ خدا نے اپنے پیغمبر کو اس قدر قدرت اور طاقت دی کہ آپ(علیه السلام) ہٹ دھرم اور بے رحم دشمنوں کو کہ جو کسی طور پر بھی راہِ مستقیم پر آنے کے لئے تیار نہ تھے گروہِ مومنین کے ذریعے درہم وبرہم کرسکیں ۔
دوبارہ پیغمبر اکرم کی تسلّی کے لئے فرمایا گیا ہے: اگر تیری قوم تیری آسمانی کتاب کے بارے میں یعنی قرآن کے متعلق بہانہ جوئی کرتی ہے توپریشان نہ ہو کیونکہ ہم نے موسیٰ کو آسمانی کتاب (تورات) دی تھی، ان کی قوم نے اس میں اختلاف کیا بعض نے قبول کرلیا اوربعض نے انکار کردیا (وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِیہِ) ۔
اگر تم دیکھتے ہو کہ تمھارے دشمنوں کو سزا دینے کے بارے میں ہم جلدی نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قوم کی تعلیم وتربیت اور ہدایت کے حوالے سے جو مصلحتیں ہیں وہ ایسا تقاضا نہیں کرتیں اور اگر یہ مصلحت نہ ہوتی اور وہ پروگرام جو تیرے پروردگار نے اس سلسلے میں پہلے سے شروع کررکھا ہے تاخیر کا تقاضا نہ کرتا تو لازماً ان کے درمیان فیصلہ ہوجاتا اور سزا انھیں دامنگیر ہوجاتی (وَلَوْلَاکَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ) ۔ اگرچہ انھیں اس حقیقت کا ابھی تک یقین نہیں آیا اور اس کے بارے میں اسی طرح شک وشبہ میں ہیں ایسا شک وشبہ جس میں سوءِ ظن اور بدبینی کی آمیزش ہے (وَإِنَّھُمْ لَفِی شَکٍّ مِنْہُ مُرِیبٍ) ۔ (2)
”مُرِیب“ مادہٴ ”ریب“ سے ایسے شک وشبہ کے معنی میں ہے جو بد بینی، سوء ظن اور مخالف قرائن کی آمیزش رکھتا ہو، اس بناء پر اس لفظ کا مفہوم یہ ہوگا کہ بُت پرست نہ صرف حقانیتِ قرآن کے بارے میں اور تباہ کاروں پر نزولِ عذاب کے معاملے میں شک کرتے ہیں بلکہ مدّعی ہیں کہ اس کے خلاف قرائن بھی ہمارے پاس ہیں ۔
”اس قوم کے لوگ ابھی تک کتاب موسیٰ کے بارے میں تردّد وشک میں ہیں“۔
لیکن بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ پہلی ضمیر مشرکینِ مکّہ اور دوسری قرآن (یا ان کی سزا اور عذاب) کی طرف لوٹتی ہے اس طرف توجہ کرتے ہوئے قبل اور بعد کی آیات پیغمبر اسلام کی دلجوئی اور تسلّی کے لئے ہیں، دوسری تفسیر زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے اور ہم نے بھی متن میں اسی ہی منتخب کیا ہے ۔
”راغب “ نے مفردات میں ”ریب“ کا معنی شک کیا ہے کہ جس سے چہرے سے بعد میں پردہ اٹھ جائے اور وہ یقین میں بدل جائے، اس بناء پر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ عنقریب تیری دعوت کی حقانیت سے اور اسی طرح تباہ کاروں کی سزا اور عذاب سے پردہ اٹھ جائے گا اور حقیقتِ امر ظاہر ہوگی ۔
مزید تاکید کے لئے اضافہ کیا گیا ہے: تیرا پروردگار ان دو گروہوں (مومنین اور کافرین) میں سے ہر ایک کو ان کے اعمال کو پوری جزا دے گا اور ان کے اعمال بے کم وکاست خود انہی کی تحویل میں دے دے گا (وَإِنَّ کُلًّا لَمَّا لَیُوَفِّیَنَّھُمْ رَبُّکَ اٴَعْمَالَھُمْ) ۔ خدا کے یہ کام مشکل نہیں کیونکہ وہ ہر چیز سے آگاہ ہے اور جو کچھ بھی انجام دیتے ہیں اس سے باخبر ہے (إِنَّہُ بِمَا یَعْمَلُونَ خَبِیرٌ) ۔
یہ بات جاذب نظر ہے کہ فرمایا گیا ہے کہ ہم انھیں ان کے اعمال دے دیں گے اور یہ مسئلہ تجسیمِ اعمال کی طرف ایک اور اشارہ ہے اور اس بات کی طرف نشاندہی ہے کہ جزا اور سزا دراصل انسان کے اعمال ہی کی مختلف شکل ہے جو اس تک پہنچ جاتے ہیں ۔
گزشتہ انبیاء اور قوموں کی سرگزشت اور ان کی کامیابی کی رمزِ بیان کرنے کے بعد اور اسی طرح پیغمبر اسلام کی دلجوںئی اور ان کے ارادے کی تقویت کے بعد اگلی آیت میں پیغمبر اکرم کو اہم ترین حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: استقامت وپامردی اختیار کرو جیسا کہ تمھیں حکم دیا گیا ہے (فَاسْتَقِمْ) ۔
تبلیغ وارشاد کی راہ میں استقامت اختیار کرو، جہاد وپیکار کے راستے میں استقامت اختیار کرو، خدائی ذمہ داریوں کی انجام دہی اور تعلیماتِ قرآن کو عملی کل دینے میں استقامت اختیار کرو۔ لیکن یہ استقامت اِسے اور اُسے خوش کرنے کے لئے نہ ہو، نہ ظاہرداری اور ریاکاری کے لئے ہو، نہ غلبے اور تسلط کے لئے، نہ مقام ومنصب اور ثروت ودولت کے لئے ہو اور نہ طاقت واقتدار کے لئے ہو، بلکہ صرف فرمانِ خدا کی خاطر ہو اور جس طرح تجھے حکم دیا گیا اسی طرح ہونا چاہیے (کَمَا اٴُمِرْتَ) ۔
لیکن یہ حکم صرف تجھ سے مربوط نہیں تمھیں بھی استقامت کرنا چاہیے ”اور وہ تمام لوگ بھی جو شرک سے ایمان کی طرف لوٹے ہیں اور انھوں نے الله کی دعوت کو قبول کیا ہے“ (وَمَنْ تَابَ مَعَکَ) ۔
ایسی استقامت جو افراط وتفریط سے پاک ہو، جو کمی بیشی سے خالی اور جس میں سرکشی نہ ہو (وَلَاتَطْغَوْا) کیونکہ خدا تمھارے اعمال سے آگاہ اور باخبر ہے اور حرکت وسکون، گفتگو اورپروگران اس سے مخفی نہیں ہے (إِنَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ) ۔

پُر معنی اور روح فرسا آیت
ابن عباس سے مروی ایک مشہور حدیث میں ہے:
ما نزل علیٰ رسول الله (ص) آیة کانت اٴشد علیہ ولا اٴشق من ہٰذہ الآیة،ولذلک قال لاٴصحابہ حین قالوا اٴسرع الیک الشبیب یا رسول الله! شیبتی ھود والواقعة.
پیغمبرِ خدا پر اس آیت سے زیادہ شدید اور گراں آیت نازل ہوئی، اسی لئے جب اصحاب نے آنحصرت سے پوچھا کہ یا رسول الله! آپ کے بال اتنی جلدی کیوں سفید ہوگئے اور پیری کے آثار اتنی جلدی کیوں نازل ہوگئے تو آپ نے فرمایا: مجھے سورہٴ واقعہ نے بوڑھا کردیا ہے ۔ (3)
ایک اور روایت میں ہے کہ جس وقت مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم نے فرمایا:
شمروا، شمروا، فما رئی ضاحکاً.
دامن سمیٹ لو، دامن سمیٹ لو (کہ کام اور کوشش کا وقت ہے) اور اس کے بعد آپ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔ (4)
اس کی دلیل بھی واضح ہے کیونکہ اس آیت میں چار اہم احکام موجود ہیں کہ جن میں سے ہر ایک انسان کے کندھے پر بارِگراں کی مانند ہے ۔
ان میں سے سب سے اہم حکم استقامت ہے ”استقامة“ جو ”قیام“ کے مادہ سے لی گئی ہے، اس لحاظ سے کہ انسان حالتِ قیام میں اپنے کام کاج پر زیادہ مسلط ہوتا ہے ۔
استقامت جو طلبِ قیام کے معنی میں ہے یعنی اپنے آپ میں ایسی حالت پیدا کر کہ تجھ میں سُستی کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ کیسا سخت اور سنگین حکم ہے ۔
ہمیشہ کامیابیاں حاصل کرنا نسبتاً آسان کام ہے لیکن ان کی نگہداشت کرنا اور انھیں محفوظ رکھنا بہت ہی مشکل ہے وہ بھی ایسے معاشرے میں جو پسماندہ اور عقل ودانش سے دُور ہو، ایسے لوگوں کے مقابلے میں جو ہٹ دھرم اور سخت مزاج ہوں( کثیراور مصمم ارادے والے دشمنوں کی درمیان) صحیح، سالم، سربلند، باایمان اور آگے بڑھنے والے معاشرے کی تعمیر کے راستے میں استقامت کوئی آسان کام نہیں تھا ۔
دوسرا حکم یہ کہ یہ استقامت ایسی ہو کہ اس کا ہدف صرف خدائی ہو اور اس کا سبب حکمِ خدا ہو اور یہ ہر قسم کے شیطانی وسوسے سے دور رہے یعنی بہت بڑی سیاسی اور اجتماعی طاقت ہاتھ میں لینے کے لئے ہو اور وہ بھی صرف خدا کی خاطر ۔
تیسرا مسئلہ ان لوگوں کی رہبری کا ہے کہ جو راہ حق کی لوٹے ہیں اور انھیں استقامت پر ابھارنا اور آمادہ کرنا ہے، اور
چوتھا حق وعدالت کے راستے میں جہاد کی رہبری کرنا اور ہر قسم کے تجاوز اور سرکشی کو روکنا ہے کیونکہ اکثر ایساہوتا ہے کہ بہت سے افرا مقصد تک پہنچنے کے لئے انتہائی استقامت وپامردی دکھاتے ہیں لیکن عدالت کا لحاظ نہیں رکھتے اور وہ اکثر اوقات طغیان وسرکشی اور حد سے تجاوز کرنے لگتے ہیں ۔
جی ہاں! یہ تمام احکام جمع ہوگئے اور پیغمبر اکرم پر ذمہداریوں کا ایسا بوجھ لاد دیا کہ آپ نے مسکرانا چھوڑدیا اور آپ کو بوڑھا کردیا ۔
بہرحال یہ حکم صرف کل کے لئے نہیں تھا بلکہ آج کے لئے اور آئندہ کل اور اس کے بعد کے لئے بھی ہے ۔
آج بھی ہم مسلمانوں کی ذمہ داری، خصوصاً رہبرانِ اسلام کی ذمہ داری کا خلاصہ یہی چار جملے ہیں: استقامت، خلوص، مومنین کی رہبری اور سرکشی وتجاوز سے اجتناب، اور ان اصولوں کو پلّے باندھے بغیر ان دشمنوں پر کامیابی ممکن نہیں جنھوں نے داخلی اور خارجی طور پر ہمار احاطہ کررکھا ہ اور جو تمام ثقافتی، فرہنگی، سیاسی، اقتصادی، اجتماعی اور فوجی وسائل ہمارے خلاف استعمال کرتے ہیں ۔
..............
۱۔ ”مِریَة“ (بروزن ”جزیہ“ اور بروزن ”قریَة“بھی آیا ہے) عزم وارادے میں تردّد وشک کے معنی میں ہے ، بعض نے اسے ایسے شک کے معنی میں لیا ہے جس میں قرائنِ تہمت موجود ہوں، بنیادی طور پر اس کا معنی اوٹنی کے پستان سے دودھ دوھ لینے کے بعد اسے اس امید پر نچوڑنا کہ اگر کچھ دودھ پستان میں باقی ہے تو وہ نکل آئے، یہ کام چونکہ تردّد وشک کے عالم میں انجام پاتا ہے لہٰذا اس لفظ کا اطلاق ہر قسم تردّد وشک پر ہونے لگا ۔
2۔ اس بارے میں اس آیت میں ”ھم“ کی ضمیرز اور اسی طرح ”منہ“ کی ضمیر کس طرف لوٹتی ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے،بعض کا نظریہ ہے کہ ”ھم“کی ضمی قومِ موسیٰ کی طرف اور ”منہ“کی ضمیر کتاب موسیٰ کی طرف لوٹتی ہے اور آیت کا معنی یوں ہے:
3۔ تفسیر مجمع البیان: ج۵، ص۱۹۹.
4 درّا لمنثور: مذکورہ آیت کے ذیل میں.

۱۱۳ وَلَاتَرْکَنُوا إِلَی الَّذِینَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّکُمْ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ اٴَوْلِیَاءَ ثُمَّ لَاتُنصَرُونَ

ترجمہ

۱۱۳۔ ظالموں پر بھروسہ نہ کرو کہ جو اس بات کا باعث ہوگا کہ آگ تمھیں چھُولے اور اس حالت میں خدا کے سوا تمھارا کوئی ولی وسرپرست نہیں ہوگااور تمھاری مدد نہیں کی جائے گی ۔

ظالموں پر بھروسہ نہ کرو
یہ آیت ایک نہایت بنیادی، اجتماعی، سیاسی، فوجی اور نظریاتی لائحہ عمل بیان کررہی ہے، تمام مسلمانوں کو مخاطب کرکے ان کی ایک قطعی اور حتمی ذمہ داری کے طور پر ان سے کہا گیا ہے: ان لوگوں پر بھروسہ نہ کرو کہ جنھوں نے ظلم وستم کیا ہے، نہ اُن پر اعتماد کرو، نہ ان کا سہارا لو اور نہ پر تمھارا تکیہ ہو (وَلَاتَرْکَنُوا إِلَی الَّذِینَ ظَلَمُوا) ۔ کیونکہ اس کام کے سبب آتشِ جہنم کا عذاب تمھیں دامنگیر ہوجائے (فَتَمَسَّکُمْ النَّارُ) ۔ اور خدا کے علاوہ تمھارا کوئی ولی، سرپرست اور یاور نہ ہوگا (وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ اٴَوْلِیَاءَ) ۔ اور واضح رہے کہ اس حالت میں کوئی تمھاری مدد نہیں کرے گا (ثُمَّ لَاتُنصَرُونَ) ۔

چند قابلِ توجہ نکات
۱۔ ”رکون“ کا مفہوم:
”رکون“ مادہٴ ”رُکن“ سے ستون اور ان دیواروں کے معنی میں ہے جو کسی عمارت یا دوسری چیزوں کو کھڑا کئے رکھتی ہیں، بعد ازاں یہ لفظ کسی پر اعتماد اور تکیہ کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔
مفسرین نے سا آیت کے ذیل میں اس لفظ کے لئے بہت سے معانی ذکر کئے ہیں لیکن وہ سب یا ان میں سے زیادہ تر ایک جامع اور کلی مفہوم کی طرف لوٹتے ہیں مثلاً بعض نے اس کا معنی ”تمایل“ کیا ہے، بعض نے ہمکاری“، بعض نے ”اظہارِ رضایت“ یا ”دوستی“، بعض نے ’خیرخواہی“ اور بعض نے اس کا معنی ”اطاعت“کیا ہے کہ جو سب کے سب تکیہ، اعتماد اور وابستگی کے جامع مفہوم میں جمع ہیں ۔

۲۔ کِن امور میں ظالموں سے وابستگی نہیں کرنی چاہیے:
واضح رہے کہ سب سے پہلے تو ان ظلم وستم میں شرکت نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ایسے کام میں ان سے مدد لینا چاہیے ۔ اس کے بعد ان چیزوں میں ان سے تعلق نہیں رکھنا چاہیے جو اسلامی معاشرے کے ضعف وتوانائی کا باعث ہو، استقلال اور خود کفالت کھودینے کا سبب ہو اور ایک عضوِ ناتواں اور وابستہ میں تبدیل کردینے کا ذریعہ ہو، ایسے امور میں ان پر اعتماد اور بھروسہ نہیں کرنا کرنا چاہیے کیونکہ ایسے سہاروں کا نتیجہ اسلامی معاشروں کے لئے شکست، ناکامی اور کمزوری کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا ۔
باقی رہا مثال کے طور پر مسلمانوں کا غیر مسلمان معاشروں سے تجارتی یا علمی روابط ایس بنیاد پر رکھنا کہ اسلامی معاشروں کے مفادات، استقلال اور ثبات محفوظ رہیں تو ایسے روابط ظالمین سے ”رکون“ اور وابستگی کے مفہوم میں داخل نہیں اور نہ ہی اسلام کی نظر میں ایسی کوئی چیز ممنوع ہے، خود پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اور بعد کے ادوار میں ہمیشہ ایسے روابط موجود رہے ہیں ۔

۳۔ ظالموں سے وابستگی کی حرمت کا فلسفہ:
ظالموں پر تکیہ کرنا ان کی تقویت کا باعث ہے اور ان کے تقویت معاشروں میں ظلم، فساد اور تباہی پھیلانے کا باعث ہے ۔
احکامِ اسلامی میں ہے کہ جب تک انسان مجبور نہ ہو (بلکہ جب تک اوقات مجبور بھی ہو تب بھی) ظالم کے مقرر کردہ قاضی کے ذریعے اپنا حق حاصل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ایسے جج اور ایسی حکومت کی طرف احقاقِ حق کے رجوع کرنے کا مفہوم ضمنی طور پر اس حکومت کو تسلیم کرنا اور اس سے تقویت پہنچانا ہے اور اس کا کام ضرر بعض اوقات اپنا حق کھودینے سے زیادہ ہوتا ہے ۔
ظالموں پر بھروسہ تدریجاً معاشرے کی ثقافت وتمدن کے فکری پہلووٴں پر اثرانداز ہوتا ہے، رفتہ رفتہ ظلم اور گناہ کی برائی اور قباحت کا تصور ختم کردیتا ہے اور لوگوں کو ظلم کرنے اور ظالم بننے کی ترغیب دیتا ہے ۔
اصولی طور پر دوسروں پر تکیہ کرنا کہ جو وابستگی کی صورت میں ہو اس کا نتیجہ سوائے بدبختی کے کچھ نہیں چہ جائیکہ ظالم اور ستمگر پر ایسا بھروسہ کیا جائے ۔
ایک آگے بڑھنے والا، سربلند اور قوی معاشرہ وہ ہے جو اپنے پاوٴں پر کھڑا ہو جیسا کہ سورہٴ فتح کی آیہ۲۹ میں قرآن ایک خوبصورمثال میں فرماتا ہے: <فَاسْتَویٰ عَلیٰ سُوْتِہِ>۔
سرسبز پوردے کی طرح کہ جو اپنے پاوٴں پر کھڑا ہو اور زندہ وسرفراز رہنے کے لئے کسی دوسری چیز سے وابستگی رکھتا ہو۔
ایک بااستقلال اور آزاد معارہ وہ ہے جو ہر لحاظ سے خود کفیل اور خود کفایت ہو اور دوسروں سے اس کا ارتباط برابر کے منافع کی بنیاد پر ہو، نہ کہ ایک ضعیف کے طاقتور پر بھروسہ سے اور انحصار کی بنیاد پر، یہ وابستگی چاہےفکری اور ثقافتی ہو یا فوجی، اقتصادی اور سیاسی ہو، ورنہ اس ما نتیجہ غلامی اور استعمار کے اور کچھ اور برآمد نہیں ہوگا اور اگر یہ وابستگی ظالموں کے ساتھ ہو تو اس کانتیجہ ان کے ظلم سے وابستگی اور ان کے پروگراموں میں شرکت ہوگا ۔
البتہ مندرجہ بالا آیت کا حکم معاشرے کے روابط کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ دو افراد کے ایک دوسرے ے رابطے کے بارے میں بھی ہے یہاں تک کہ ایک آزاد با ایمان شخص کو کبھی بھی ایک ظالم وستمگر کا سہارا نہیں لینا چاہیے ورنہ وہ اپنا استقلال گنوا بیٹھے گا، اس کے دائرہ ظلم وستم کی طرف کھینچ جائے گا اور فساد وبے دادگری کی تقویت ووسعت کا باعث بھی ہوگا ۔

۴۔”الذین ظلموا“ سے مراد کون لوگ ہیں؟
اس سلسلے میں مفسرین نے بہت سے احتمالات ذکر کئے ہیں، بعض نے ان سے مشرکین مراد لئے ہیں لیکن جیسا کہ بعض دیگر مفسرین نے کہا ہے کہ انھیں مشرکین میں منحصر سمجھنے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے اگر نزولِ آیت کے وقت ظالمین کا مصداق مشرک تھے تب بھی منحصر کرنے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے، جیساکہ روایات میں اس لفظ کی جو مشرکین کے ساتھ تفسیر کی گئی ہے وہ بھی انحصار کی دلیل نہیں بنتی، کیونکہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ ایسی روایات واضح اور آشکار مصداق بیان کرتی ہیں ۔
اس بناء پر وہ تمام اشخاص جنھوں نے بندگانِ خدا پر ظلم اور فساد کے لئے ہاتھ دراز کئے ہیں، انھیں اپنا غلام بنایا ہے اور ان کی قوت واستعداد سے اپنے لئے فائدہ اٹھایا ہے ”الذین ظلموا“کے عام مفہوم میں داخل ہیں اور آیت کے مصادیق میں سے ہیں لیکن مسلّم ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی میں کسی چھوٹے ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں اور کبھی اس عنوان کے مصداق تھے اس کے مفہوم میں داخل نہیں ہیں ورنہ اس صورت میں تو بہت کم افراد ہی اس سے مستثنیٰ ہوئے ہوں گے اور پھر کسی شخص پر اعتماد اور بھروسہ کرنا جائز نہیں رہے گا ہاں البتہ اگر ”رکون“ کا معنی ظلم وستم کے پہلو پر اعتماد اور بھروسہ کیا جائے تو پھر وہ اشخاص بھی اس کے مفہوم میں شامل ہوں گے جنھوں نے ایک ہی مرتبہ ظلم میں ہاتھ آلودہ کئے ہیں ۔

۵۔ ایک اشکال اور اس کی وضاحت:
بعض اہل سنّت مفسّرین نے یہاں ایک اشکال پیش کیا ہے جس کا جواب اُن کے مبانی رُو سے ہرگز آسان نہیں ہے اور وہ یہ کہ ایک طرف ان کی روایات میں آیا ہے کہ ضروری ہے سلطانِ وقت کو ”اولوالامر“ سمجھتے ہوئے اس کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے چاہے وہ کوئی بھی ہو مثلاً انھوں نے پیغمبر اکرم سے ایک حدیث میں یوں بیان کیا ہے:
تم پر لازم ہے کہ سلطان اور بادشاہ کی اطاعت کرو۔
”وان اٴخذ مالک وضرب ظھرک“
(اگرچہ وہ تمھارا مال لے لے اور تمھاری پشت پر تازیانے لگائے) ۔
اسی طرح اور روایات بھی ہیں کہ جو وسیع معنی کے لحاظ سے اطاعتِ سلطان کی تاکید کرتی ہیں، جبکہ دوسری طرف مندرجہ بالا آیت کہتی ہے کہ ظالم افراد پر تکیہ واعتماد نہ کرو۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان دونوں احکام کو ختم کریں اور یہ کہ بادشاہ کی اطاعت اس وقت تک ضروری ہے جب تک وہ عصیان ونافرمانی کی راہ پر نہ چلے اور کفر کے راستے پر قدم نہ رکھے ۔
لیکن ان روایات کا لب ولہجہ اطاعتِ سلطان کے لئے ہرگز اس استثناء سے ہم آہنگ نہیں ہے ۔
بہرصورت ہماری فکر یہ ہے کہ جس طرح مکتبِ اہلِ بیت(علیه السلام) میں آیا ہے کہ صرف اس حاکم اور متولی امورِ مسلمین کی اطاعت ضروری ہے جو عالم وعادل ہو اور جو عام مفہوم کے اعتبار سے پیغمبر اکرم اور امام معصوم(علیه السلام) کا جانشین شمار ہوسکے، نیز اگر بنی امیہ اور بنی عباس کے بادشاہوں نے اپنے مفاد کے لئے اس سلسلے میں کچھ حدیثیں گھڑ لی ہیں تو وہ کسی طرح بھی ہمارے مکتب کے اصول اور ان تعلیمات کے ہم آہنگ نہیں ہیں جو قرآن سے لی گئی ہیں، ایسی روایات اگر قابل تخصیص ہیں تو انھیں تخصیص دی جائے ورنہ انھیں بالکل چھوڑدیا جائے کیونکہ جو روایت کتاب الله کے خلاف ہو وہ مردود ہے، قرآن کی صراحت ہے کہ مومنین کا امام اور پیشوا ظالم نہیں ہوسکتا اور زیرِ بحث آیت بھی صراحت کے ساتھ کہتی ہے کہ ظالموں کا سہارا نہ لو اور ان پر اعتماد نہ کرو، یا پھر ایسی روایات کو ضرورت اور مجبوری کی حالت کے ساتھ مخصوص قرار دیا جائے ۔

۱۱۴ وَاٴَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفِی النَّھَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ ذٰلِکَ ذِکْریٰ لِلذَّاکِرِینَ
۱۱۵ وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللهَ لَایُضِیعُ اٴَجْرَ الْمُحْسِنِینَ

ترجمہ

۱۱۴۔ نماز کو دن کے دو اطراف اور ابتدائے رات میں بپا کرو کیونکہ نیکیاں برائیوں (اور ان کے آثار) کو برطرف کردیتی ہیں، یہ تذکرہ ہے ان لوگوں کے لئے جو اہلِ ذکر ہیں ۔
۱۱۵۔ اور صبر کرو کہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔

نماز اور صبر
ان آیات میں اسلامی احکام میں سے دو اہم ترین نشاندہی کی گئی ہے جو در حقیقت روحِ ایمان اور رکنِ اسلام ہیں ۔
پہلے نماز کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: نماز کو دن کے دو اطراف میں اور اوائل شب میں قائم کرو (وَاٴَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفِی النَّھَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ) ۔
”طَرَفِی النَّھَارِ“ (یعنی دن کے دوطرف)، ظاہراً یہ تعبیر صبح اور مغرب کی نماز کے بارے میں ہے جو دن کے دو اطراف میں قرار پائی ہیں اور ”زُلف“ کہ جو ”زُلفہ“ کی جمع ہے نزدیکی کے معنی میں رات کے ابتدائی حصّوں پر ہے کہ جو دن کے قریب بولا جاتا ہے اس بناء پر بہ لفظ نمازِ عشاء پر منطبق ہوگا، روایاتِ اہلِ بیت(علیه السلام) میں بھی یہی تفسیر وارد ہوئی ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں تین نمازوں (فجر، مغرب اور عشاء) کی طرف اشارہ ہے ۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پنجگانہ نمازوں میں سے صرف تین نمازوں فجر، مغرب اور عشاء کا ذکر کیوں ہوا ہے اور ظہر ومصر کی نمازوں کے بارے میں گفتگو نہیں کی گئی ہے؟
اس سوال کا جواب پیچیدہ ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض مفسّرین نے ”طَرَفِی النَّھَارِ“ کا مفہوم اس قدر وسیع لیا ہے کہ اس میں فجر،ظہر، عصر اور مغرب سب کو شامل کرلیا ہے اور ”زلفاً من اللّیل“ کی تعبیر کہ جو نماز عشاء کے لئے ہے اس کے ساتھ پانچ نمازوں کی گنتی پوری کرلی ہے ۔
لیکن انصاف یہ ہے کہ ”طرفی النہار“ کے الفاظ ایسی تفسیر کی تاب نہیں رکھتے خصوصاً اس طرف توجہ رکھتے ہوئے کہ صدر اوّل کے مسلمان پابندی سے نماز ظہر کو اول وقت میں اور نماز عصر کو درمیانے وقت میں (زوال اور غروب آفتاب کے درمیان) انجام دیتے تھے ۔
یہاں جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ آیاتِ قرآن میں پانچوں نمازوں کا ذکر ہوا ہے مثلاً:
<اٴَقِمْ الصَّلَاةَ لِدُلُوکِ الشَّمْسِ إِلیٰ غَسَقِ اللَّیْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ> (بنی اسرائیل/۷۸)
کبھی تین نمازوں کا ذکر ہے جیسے محلِ بحث آیت اور کبھی صرف ایک نماز کا تذکرہ ہے، مثلاً:
<حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی وَقُومُوا لِلّٰہِ قَانِتِینَ> (البقرہ/۲۳۸)
اس بناء پر ضروری نہیں کہ ہر موقع پر تمام پانچ نمازوں کا ایک ساتھ ذکر ہو۔ خصوصاًیہ کہ کبھی مناسبات کا تقاضا ہوتاہے کہ صرف نماز ظہر (صلوٰة الوسطیٰ) کی اہمیت کے پیش نظر اسی کا ذکر کیا جائے اور کبھی فجر، مغرب، اور عشاء ہی کے ذکر کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ کبھی خستگی اور تکان کی وجہ سے یا نیند کی بناء پر ہوسکتا ہے یہ نمازیں معرضِ فراموشی میں چلی جائیں ۔
اس کے بعد روزانہ نماز نمازوں کے لئے خصوصاً اور تمام عبادات، اطاعات اور حسنات کے لئے عموماً فرمایا گیا ہے: نیکیاں برائیوں کو برطرف کردیتی ہیں (إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ) اور یہ ان کے لئے تذکر اور یادہانی ہے جو توجہ رکھتے ہیں (ذٰلِکَ ذِکْریٰ لِلذَّاکِرِینَ) ۔
یہ آیت قرآن کی دیگر آیات کی طرح بتاتی ہیں کہ نیک اعمال کی تاثیر یہ ہے کہ وہ بُرے اعمال کے اثرات کو برطرف کردیتے ہیں، سورہٴ نساء کی آیت ۳۱ میں ہے:
<إِنْ تَجْتَنِبُوا کَبَائِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ>
”اگر بڑے گناہوں سے اجتناب کرو تو ہم تمھارے چھوٹے گناہوں کو چھپادیں گے“۔
اور سورہٴ عنکبوت کی آیہ۷ میں ہے:
<وَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَیِّئَاتِھِمْ>
”وہ لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال انجام دیئے ہم ان کے گناہوں کو چھپادیں گے ۔
اسی طرح اطاعت اور نیک اعمال کے ذریعے گناہوں کے اثرات زائل ہونا ثابت کیا گیا ہے ۔
نفسیاتی طور پر بھی اس میں شک نہیں کہ ہر گناہ اور بُر عمل انسانی روح میں ایک طرح کی تاریکی پیدا کردیتا ہے اور اگر اسے جاری رکھا جائے تو اس کے پیہم اور تہ بہ تہ اثرات انسان کو ایک وحشتناک صورت میں مسخ کردیتے ہیں ۔
لیکن نیک اعمال کہ جن کا سرچشمہ رضائے الٰہی ہوتا ہے روحِ انسانی کو ایک لطافت بخشتے ہیں کہ جو اس سے آثار گناہ دھودیتے ہیں اور ان تاریکیوں کو روشنی میں بدل دیتے ہیں ۔
”إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ“ چونکہ نماز کے حکم کے بعد فوراً ٰآیا ہے اس لئے اس کا ایک واضح مصداق روزانہ نماز ہے اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ روایات میں اس کی تفسیر صرف روزانہ کی نماز ہوئی ہے تو وہ اس کے منحصر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے یہ ایک واضح قطعی مصداق بیان کیا گیا ہے ۔

نماز کی انتہائی اہمیت
متعدد روایات جو مندرجہ بالا آیت کے ذیل میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور آئمہ معصومین علیہم السلام سے نقل ہوئی ہیں ان میں کچھ ایسی تعبیرات نظر آتی ہیں جو مکتبِ اسلام میں نماز کی اہمیت سے پردہ اٹھاتی ہیں ۔
ابوعثمان کہتا ہے: مَیں سلمان فارسی کے ساتھ ایک درخت کے نیچے بیٹھا تھا، انھوں نے درخت کی ایک خشک شاخ پکڑکر ہلائی یہاں تک کہ اس کے سارے پتے جھڑگئے، اس کے بعد میری طرف رخ کرکے کہا: تُو نے پوچھا نہیں کہ مَیں نے یہ کام کیوں کیا ہے؟ میں نے کہا: بتائیے آپ کی اس کام سے کیا مراد تھی؟ انھوں نے کہا: یہی کام ایک مرتبہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے انجام دیا تھا، جب میں ان کی خدمت میں ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا، اس کے بعد رسول نے مجھ سے کہا: سلمان پوچھتے نہیں ہو کہ میں نے ایسا کیوں کیا، میں نے عرض کیا: فرمائیے آپ نے کیاس کیوں کیا تو آپ نے فرمایا:
انّ المسلم اذا توضاٴ فاٴحسن الوضوء ثمّ صلی الصلوات الخمس تحاتت خطایاہ کما تحات ہذا الورق ثمّ قرء ھذہ الآیة وَاٴَقِمْ الصَّلَاةَ....
جب مسلمان وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر وہ پنجگانہ نماز ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑجاتے ہیں جیسا کہ اس شاخ کے پتے جھڑگئے ہیں، اس کے بعد آپ نے یہ آیت ”وَاٴَقِمِ الصَّلَاةَ....“کی تلاوت فرمائی ۔ (۱)
ایک اور حدیث رسول الله کے صحابی ابی امامہ سے مروی ہے، ابی امامہ کہتے ہیں: ایک دن میں مسجد میں رسول الله کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا، اس نے عرض کی: اے الله کے رسول! میں نے ایک گناہ کیا ہے کہ جس کی وجہ سے مجھ پر حد لازم ہوجاتی ہے، وہ حد مجھ پر جاری کیجئے، فرمایا: کیا تُو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ اُس نے عرض کی: جی ہاں یا رسول الله! فرمایا: خدا نے تیرا گناہ یا تیری حد بخش دی ہے ۔ (2)
نیز حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے، آپ فرماتے ہیں: مَیں رسولِ خدا کے ساتھ مسجد میں نماز کے انتظار میں تھا کہ ایک شخص کھڑا ہوگیا، اس نے عرض کیا: اے الله کے رسول! مَیں نے ایک گناہ کیا ہے، رسول الله نے اس سے منھ پھیر لیا، جب نماز ختم ہوئی تو وہی شخص پھر کھڑا ہوا اور پھلی بات دُہرائی، رسول خدا نے فرمایا: کیا تُونے ہمارے ساتھ نماز یہ نماز ادا کی ہے؟ اور اچھی طرح وضو نہیں کیا؟ اس نے عرض کیا: کیوں نہیں، آپ نے فرمایا: یہ تیرے گناہوں کا کفارہ ہے ۔ (3)
نیز حضرت علی علیہ السلام ہی کے واسطے سے پیغمبر اکرم سے منقول ہے، آپ نے فرمایا:
انّما منزلة الصلوٰات الخمس لاٴمِتی کنھر جار علیٰ باب اٴحدکم فمایظن اٴحدکم لو کان فی جسدہ درن ثمّ اغتسل فی ذٰلک النھر خمس مرّات لو کان یبقی فی جسدہ درن فکذلک والله الصلوٰت الخمس لاٴمتی.
پنجگانہ نماز میری امت کے لئے پانی کی جاری نہر کی طرح ہے کہ جو کسی شخص کے گھر کے دروازے سے گزرتی ہے، کیا تم گمان کرتے ہو کہ اگر اس کے بدن پر میل کچیل ہو اور پھر وہ پانچ مرتبہ روزانہ اس نہر میں غسل کرے تو پھر بھی کوئی میل کچیل اس کے بدن پر رہ جائے گی؟ (یقیناً نہیں) خدا کی قسم اسی طرح میری امت کے لئے پنجگانہ نماز ہے ۔ (4)
بہرحال اس میں شک وشبہ نہیں کہ جب نماز اپنی شرائط کے انجام پائے تو انسان کو معنویت اور روحانیت کے ایک ایسے عالم میں لے جاتی ہے کہ اس کے ایمانی رشتے خدا کے ساتھ ایسے مستحکم کردیتی ہے کہ آلودگیوں اور گناہوں کے آثار اس کے قلب وجان سے دُھل جاتے ہیں ۔
نماز انسان کا گناہ کے مقابلے میں بیمہ کردیتی ہے اور گناہ کا زنگ آئینہٴ دل سے صاف کردیتی ہے ۔
نماز ملکاتِ عالی کے پودے انسانی روح کی گہرائیوں میں اُگاتی ہے، نماز ارادے کو قوی، دل کو پاک اور روح کو طاہر کرتی ہے اور اگر نماز جسمِ بے روح کی صورت میں نہ ہو تو تربیت کا اعلیٰ مکتب ہے ۔

قرآن کی نہایت امید افزا آیت
زیرِ بحث آیت کی تفسیر میں حضرت علی علیہ السلام سے ایک عمدہ اور جاذبِ نظر حدیث منقول ہے، جو اس طرح ہے:ایک دن آپ نے لوگوں کی طرف رخِ انور کرکے فرمایا: تمھاری نظرمیں قرآن کی کونسی آیت زیادہ امید بخش ہے؟
بعض نے کہا:
<إِنَّ اللهَ لَایَغْفِرُ اٴَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَشَاءُ>(5)
(خدا شرک کو ہرگز نہیں بخشتا اور اس سے کم تر جس شخص کے لئے چاہے بخش دیتا ہے) ۔
امام(علیه السلام) نے فرمایا: خوب ہے لیکن جو میں چاہتا تھا وہ نہیں ہے ۔
بعض نے کہا:
<وَمَنْ یَعْمَلْ سُوئًا اٴَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرْ اللهَ یَجِدْ اللهَ غَفُورًا رَحِیمًا> (6)
(جو شخص کوئی برا عمل انجام دے یا اپنے اوپر ظلم کرے اس کے بعد خدا سے بخشش طلب کرے تو خدا کو غفور ورحیم پائے گا) ۔
بعض نے کہا:
<قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ اٴَسْرَفُوا عَلیٰ اٴَنْفُسِھِمْ لَاتُقْنِطُوا مِنْ رِحْمَةِ اللّٰہ>(7)
(کہہ دو! اے میرے بندو! کہ جنھوں نے اپنے نفسوں پر اسراف کیا ہے! خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا)
فرمایا: اچھی ہے لیکن جو میں چاہتا تھا وہ نہیں ہے ۔
بعض دیگر نے کہا:
<وَالَّذِینَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً اٴَوْ ظَلَمُوا اٴَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِھِمْ وَمَنْ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللهُ>(8)
(پرہیزگار وہ لوگ ہیں جو جب تک بُرا کام انجام دیں یا اپنے اوپر ظلم کریں تو خدا کی یاد میں پڑجاتے ہیں اور اپنے اوپر گناہوں کو بخشش طلب کرتے ہیں اور خدا کے علاوہ کون ہے جو گناہوں کو بخشے گا ۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ بھی اچھی ہے لیکن جو میں چاہتا تھا وہ نہیں ہے ۔
اس وقت لوگ ہر طرف سے امام کی طرف متوجہ ہوئے اور ہمہمہ کیا تو فرمایا: کیا بات ہے مسلمانو! تو وہ عرض کرنے لگے: خدا کی قسم! ہماری نظر میں اس سلسلے میں اور کوئی آیت نہیں ۔
امام نے فرمایا: میں نے اپنے حبیب رسول اللہ سے سنا کہ آپ نے فرمایا:
قرآن کی امید بخش ترین آیت یہ ہے:
وَاٴَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفِی النَّھَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ ذٰلِکَ ذِکْریٰ لِلذَّاکِرِینَ(9)
البتہ جیسا کہ ہم ہے سورہٴ نساء کی آیت ۸۴ کے ذیل می کہا ہے کہ دوسری حدیث میں آیا ہے کہ قرآن کی زیادہ امید بخش آیت یہ ہے:
إِنَّ اللهَ لَایَغْفِرُ اٴَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَشَاءُ
یعنی ۔ خدا شرک کو نہیں بخشتا اور اس سے کمتر جتنے گناہ ہیں جسے چاہے بخش دے ۔
لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ان آیات میں سے ہر ایک اس بحث کے ایک زاویے کے بارے میں ہے اور اس کے پہلووٴں میں سے ایک پہلو کو بیان کرتی ہے، لہٰذا ان کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے در حقیقت زیر بحث آیت ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جو اپنی نمازیں اچھی طرح سے بجالاتے ہیں ۔ ایسے نماز جو حضور قلب کے ساتھ ہوتی ہے وہ ان کے قلب و روح سے گناہوں کے آثار دھویتی ہے ۔
جبکہ دوسری آیت ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جو ایسی نماز کے حامل نہیں اور صرف توبہ کا راستہ اپنا تے ہیں لہٰذا یہ آیت اس گروہ کیلئے اور وہ آیت اس گروہ کے لیے زیادہ امید بخش ہے ۔
اس سے زیادہ امید افزاء بات کیا ہوگی کہ انسان جان یے کہ جس وقت اس پاؤں پھسلے یا ہوا و ہوس کا اس پر غلبہ ہو(جبکہ وہ گناہ پر اصرار نہ کرے اور نہ اس پاؤں گناہ کی طرف کھینچا رہے) وقت نماز آپہنچے تو وہ وضو کرے اور بارگاہ معبود میں راز و نیاز کے لیے کھڑا ہوجائے، گزشتہ اعمال کے بارے میں احساسِ شرمندگی اس میں موجود ہو۔ وہ احساس ندامت کو جو خدا کی طرف توجہ کے لوازمات میں سے ہے، تو اس کا گناہ بخشا جائے گا اور اس گناہ کی تاریکی اس کے دل سے ہٹ جائے گی ۔
نماز کو جو انسان ساز پرواگرام ہے اور حسنات کی یہ تاٴثیر کہ وہ برائیوں کو ختم کردیتی ہیں، کے ذکر کے بعد اگلی آیت میں ”صبر“ کا حکم دیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہوتا ہے: صبر کرو کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا (وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللهَ لَایُضِیعُ اٴَجْرَ الْمُحْسِنِینَ) ۔
اگر چہ بعض مفسرین نے یہاں صبر کو نماز کے معنی میں یا رسول اللہ کے سامنے جو دشمن تھے ان کی اذیت کے مقابلے کے مفہوم میں محدود کردیا ہے لیکن واضح ہے کہ محل بحث آیت میں صبر کے معنی کو محدود کرنے کیلئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ اس کا ایک عمومی اور جامع مفہوم ہے کہ جس مشکلوں، مخالفتوں، ایذاؤں، ہیجانوں، طغیانوں اور طرح طرح کی مصیبتوں کے مقابلے میں صبر کرنے کا معنی شامل ہے اور ان تمام حوادث کے مقابلے میں پامردی اور قیام صبر کا جامع مفہوم اس میں مندرج ہے ۔
صبر کو جو اسلام کا ایک اساسی حکم ہے قرآن میں کئی مواقع پر اس کا ذکر نماز کے ساتھ آیا ہے ۔ شاید ایسا اس بناء پر ہے کہ نماز انسان میں حرکت پیدا کرتی ہے اور صبر کا حکم مقاومت جب دوش بدوش ہوں تو ہر قسم کی کامیابی اصلی عامل عامل بن جاتے ہیں ۔
اصولی طور پر کوئی نیکی صبر اور استقامت کے بغیر ممکن نہیں ہے کیونکہ نیک کاموں کے اختتام پذیر ہونے پر حتمی طور پر استقامت لازمی ہے ۔ اسی بناء پر مندرجہ بالا آیت میں صبر کا حکم دیتے کے بعد فرمایا گیا ہے: وہ نیکوں کاروں کی جزااٴ ضائع نہیں کرتا ۔ یعنی نیکی صبر اور قیام کے بغیر میسر نہیں آتی ۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ناگوار حوادث کے مقابلے میں مختلف لوگ ردِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔
۱۔ کچھ لوگ فوراً اپنے حواس کھو بیٹھے ہیں اور قرآنی ارشاد کے مطابق یہ ہے کہ وہ واویلا شروع کردیتے ہیں ۔ قرآنی الفاظ میں:
<اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوعاً>
یعنی جب اسے کوئی تکلیف چُھوتی ہے تو جزع وفزع شروع کردیتا ہے ۔ (معارج/۲۰)
۲۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو حواس نہیں گنوا بیٹھتے بلکہ حادثے کے مقابلے میں تحمل وبردباری سے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔
۳۔ بعض لوگ تحمل وبردباری کے ساتھ شکرگزاری بھی کرتے ہیں ۔
۴۔ کچھ لوگ ایسے حوادث کے مقابلے میں والہانہ جد وجہد کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور حادثے کے منفی اثرات ختم کرنے کے لئے انتظامات کرتے ہیں اور ایسا جہاد شروع کردیتے کہ تھکنے کا نام نہیں لیتے اور جب تک کہ مشکل کو سامنے سے ہٹا نہیں دیتے چین نہیں لیتے ۔
خدا نے ایسے صابروں کے لئے کامیابی کا وعدہ کیا ہے:
<إِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ>
اور اگر تم لوگوں میں ثابت قدم رہنے والے بیس بھی ہوئے تو دو سو پر غالب آجاوٴگے ۔ (انفال/۶۵)
اور ان کے لیے دوسرے جہاں کی جزاء نعماتِ بہشت کو قرار دیا گیا ہے:
<وَجَزَاھُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِیرًا>
اور ان کے صبر کے بدلے خدا انھیں باغ بہشت اور ریشمی پوشاک عطا کرے گا ۔ (دہر/۱۲)
..............
۱۔ مجمع البیان: مذکورہ آیت کے ذیل میں ۔
2۔ مجمع البیان: مذکورہ آیت کے ذیل میں.
3 مجمع البیان: مذکورہ آیت کے ذیل میں.
4۔ مجمع البیان: مذکورہ آیت کے ذیل میں.
5۔ سورہٴ نساء: آیت۱۱۶.
6۔ سورہٴ نساء: آیت۱۱۰.
7۔ سورہٴ زمر: آیت۵۳.
8۔ سورہٴ آل عمران: آیت۱۳۵.
9۔ مجمع البیان، مذکورہ آیت کے ذیل میں.