تفسیر نمونہ جلد 09
 

۱۰۵ یَوْمَ یَاٴْتِ لَاتَکَلَّمُ نَفْسٌ إِلاَّ بِإِذْنِہِ فَمِنْھُمْ شَقِیٌّ وَسَعِیدٌ
۱۰۶ فَاٴَمَّا الَّذِینَ شَقُوا فَفِی النَّارِ لَھُمْ فِیھَا زَفِیرٌ وَشَھِیقٌ
۱۰۷ خَالِدِینَ فِیھَا مَا دَامَتْ السَّمَاوَاتُ وَالْاٴَرْضُ إِلاَّ مَا شَاءَ رَبُّکَ إِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِمَا یُرِیدُ
۱۰۸ وَاٴَمَّا الَّذِینَ سُعِدُوا فَفِی الْجَنَّةِ خَالِدِینَ فِیھَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْاٴَرْضُ إِلاَّ مَا شَاءَ رَبُّکَ عَطَاءً غَیْرَ مَجْذُوذٍ

ترجمہ

۱۰۵۔ اور جس روز (قیامت آجائے گی، کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر بات نہیں کرے گا، ان میں سے ایک گروہ شقی ہے اور ایک گروہ سعادتمند (ایک گروہ بدبخت ہے اور ایک نیک بخت ہے)
۱۰۶۔ جو شقی ہیں وہ آگ میں ہیں اور ان کے لئے زفیر وشہیق (طویل اور دم گھٹنے والے نالے) ہیں ۔
۱۰۷ جب تک زمین وآسمان قائم ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، مگر جو کچھ تیرا پروردگار چاہے کیونکہ تیرا پروردگار جس چیز کا اراہ کرتا ہے اسے انجام دیتا ہے ۔
۱۰۸۔ لیکن جو سعادت مند ہیں وہ جب تک آسمان وزمین قائم ہیں ہمیشہ جنت میں رہیں گے مگر جو کچھ تیرا پرودگارچاہے، بخشش ہے منقطع نہ ہونے والی ۔

سعادت مند وشقاوت مندیا مشکلات؟
گزشتہ آیت میں مسئلہ قیامت اور اس عظیم عدالت میں تمام لوگوں کے اجتماع کی طرف اشارہ ہوا تھا، زیر بحث آیات میں اس دن لوگوں کے انجام کے ایک پہلو کو بیان کیا گیا ہے ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: جب تک وہ دن آپہنچے گا تو پروردگار کے ارادے کے بغیر کوئی شخص بات نہیں کرسکے گا (یَوْمَ یَاٴْتِ لَاتَکَلَّمُ نَفْسٌ إِلاَّ بِإِذْنِہِ) ۔
بعض اوقات یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ آیت جو اُس دن اذنِ الٰہی سے لوگوں کو بات کرنے کی دلیل ہے اُن آیات کے منافی ہے جو مطلقاً بات کرنے کی نفی کرتی ہیں، مثلاً سورہٴ یٰسین کی آیہ۶۵:
<الْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلیٰ اٴَفْوَاہِھِمْ وَتُکَلِّمُنَا اٴَیْدِیھِمْ وَتَشْھَدُ اٴَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ>
آج کے دن ان کے دہنوں پر مُہر لگادیں گے اور ہمارے ساتھ ان کے ہاتھ بات کریں گے اور ان کے پاوٴں گواہی دیں گے، ان کاموں کی جو وہ انجام دیتے تھے ۔
سورہٴ مرسلات کی آیت ۳۵ میں ہے:
<ھٰذَا یَومُ لَایَطِیقُونَ>
یہ وہ دن ہے جس میں وہ بول نہیں سکیں گے ۔
اسی بناء پر بعض عظیم مفسّرین کا نظریہ ہے کہ اصولی طور پر اس دن بات کرنے کا کوئی مفہوم نہیں کیونکہ ”بات کرنا“ تو ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے ہم انسان کے اندر کے حالات معلوم کرتے ہیں، اگر ہماری کوئی ایسی حسّ ہوتی کہ جس سے ہم ہر شخص کے افکار معلوم کرسکتے تو گفتگو کی ہرگز ضرورت نہ ہوتی، اس بات بناء پر قیامت میں جو اسرار ظاہر ہوں گے اور ہر چیز ”بروز وظہور“ کی حالت ظاہرہوجائے گی تو اصولاً بات کرنے اور تکلم کا کوئی معنی نہیں ہے ۔
دوسرے لفظوں میں آخرت کا گھر جزا کا گھر ہے نہ کہ عمل کا، لہٰذا ارادے اور اختیار سے انسان کے بات کرنے کی کوئی خبر نہیں ہے بلکہ وہاں انسان ہے، اس کے اعمال ہیں اور جو کچھ ان سے مربوط ہے، اس لئے کہ اگر وہاں انسان بات بھی کرے گا تو وہ دنیا میں کی جانے والی باتوں کی طرح نہیں ہوگی کہ جن کا سرچشمہ خود اس کا اختیار اور ارادہ ہوتا ہے اور جو اندرونی اسرار کا ظاہر کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں، وہاں وہ جو کچھ کہے وہ ایک قسم کا اس کے اعمال کا عکس العمل ہوگا، وہ اعمال کہ جو وہاں ظاہر وآشکار ہیں، لہٰذا اس دن بات کرنا دنیا میں بات کرنے کی طرح نہیں ہے کہ انسان اپنے مَیل ورغبت سے جھوٹ سچ کہہ سکے ۔
بہرحال وہ دن حقائقِ اشیاء کے کشف اور ”غیب“ کے شہود کی طرف پلٹ آنے کا دن ہے اور وہ اِس جہان کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں رکھتا ۔
لیکن، مندرجہ بالا آیت سے مذکورہ نتیجہ نکالنا قرآن کی دیگر آیات کے ظاہری مفہوم سے زیادہ مناسبت نہیں رکھتا کیونکہ قرآن مومنین اور مجرمین کی پیشواوٴں، جابروں اور ان کے پیروکاروں کی، اسی طرح شیطان اور اس کے فریب خوردگان کی اور دوزخیوں اور جنتیوں کی گفتگو نقل کرتا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُس جہان میں بھی اِس جہان کی سی باتوں کا وجود ہے ۔
یہاں تک کہ قرآن کی بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ گنہگار بعض سوالات کے جواب میں جھوٹ بھی بولیں گے، مثلاً سورہٴ انعام کی آیہ ۲۲ تا۲۴ میں ہے:
<وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِینَ اٴَشْرَکُوا اٴَیْنَ شُرَکَاؤُکُمْ الَّذِینَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ، ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُھُمْ إِلاَّ اٴَنْ قَالُوا وَاللهِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِینَ، انظُرْ کَیْفَ کَذَبُوا عَلیٰ اٴَنفُسِھِمْ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ>
وہ دن کہ جس دن ہم ان کے سب کو محشور کریں گے، مشرکین سے کہیں گے کہ وہ معبود جنھیں تم خدا کا شریک سمجھتے تھے کہاں ہیں؟ ان کا جواب اور غذر اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا کہ وہ کہیں گے کہ اس خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم مشرک نہیں تھے، دیکھو وہ کس طرح اپنے آپ سے جھوٹ بولتے ہیں اور جسے وہ خدا جھوٹا شریک خیال کرتے تھے اسے بھی ہاتھ سے دے بیٹھیں گے ۔
اس بناء پر بہتر ہے کہ ہم بات کرنے سے متعلق ظاہر آیات کے تناقض سے مربوط سوال کا وہی جواب دیں جو بہت سے مفسّرین نے دیا ہے اور وہ یہ کہ اس دن لوگ کئی مرحلوں سے گزریں گے کہ جن میں ہر ایک کی کچھ خصوصیات ہیں، کچھ مراحل ہیں ان میں سے کوئی بازپرس نہیں ہوگی، یہاں تک کہ ان کے منھ پر مُہر لگادی جائے گی صرف ان کے اعضاءِ جسم کہ جن میں آثارِ اعمال محفوظ ہیں زبانِ بے زبانی سے کلام کریں گے لیکن دوسرے مراحل میں ان کی زبان کا قفل کھول دیا جائے اور وہ اذنِ الٰہی سے بات کریں گے اور اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے، خطاکار ایک دوسرے کو ملامت کریں گے بلکہ ان کی کوشش یہ ہوگی کہ اپنے گناہ دوسرے کی گردن پر ڈال دیں گے ۔
بہرحال آیت کے آخر میں تمام لوگوں کی دو گروہوں میں تقسیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:وہاں ایک گروہ شقی ہوگا اور دوسرا سعید، ایک گروہ بدبخت ہوگا اور دوسرا خوش بخت (فَمِنْھُمْ شَقِیٌّ وَسَعِیدٌ) ۔
”سعید“ مادّہٴ سعادت سے اسبابِ نعمت فراہم ہونے کے معنی میں ہے اور ”شقی“ مادّہٴ ”شقاوت“ سے سزا ، پکڑ اور بلاء کے اسباب فراہم ہونے ہونے کے معنی میں ہے، اس بناء پر اُس جہان میں سعید وہی نیک لوگ یں جو انواع واقسام کی نعمتوں میں جاگزیں ہوں گے اور شقی وہی بدکار ہیں جو دوزخ میں مختلف عذابوں میں گرفتار ہوں گے ۔
بہرحال یہ شقاوت اور وہ سعادت دنیا میں انسانی اعمال، کردار، گفتار اور نیتوں کے نتیجے کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔
تعجب کی بات ہے کہ بعض مفسّرین نے جبرو اکراہ پر مبنی اپنے باطل عقیدے کے لئے اس آیت کو دستاویز قرار دیا ہے حالانکہ یہ آیت اس معنی پر دلالت نہیں کرتی بلکہ روزِ قیامت کے سعادتمندوں اور شقی افراد کے بارے میں بات کررہی ہے کہ وہ سب اپنے اعمال کی وجہ سے اس مرحلے میں پہنچے ہیں ۔شاید کچھ ایسی احادیث سے اس آیت کے مفہوم کے بارے میں اشتباہ ہوا ہے کہ جو قبلِ پیدائش سعادت وشقاوت مندوں کے بارے میں جو الگ الگ داستان ہے ۔
اس کے بعد شقاوت مندوں اور شعادت مندوں کے حالات کی تشریح بڑے جچے تلے انداز میں اور واضح عبارات کے ذریعے کی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: رہے وہ جو شقاوت مند ہوئے، جہنم کی آگ میں زفیر وشہیق میں مبتلا ہیں، نالہ وفریاد اور ورشین کرتے ہیں (فَاٴَمَّا الَّذِینَ شَقُوا فَفِی النَّارِ لَھُمْ فِیھَا زَفِیرٌ وَشَھِیقٌ) ۔
مزید فرمایا: وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے جب تک کہ آسمان وزمین موجود ہیں (خَالِدِینَ فِیھَا مَا دَامَتْ السَّمَاوَاتُ وَالْاٴَرْضُ) ۔ مگر جو کچھ تیرا پروردگار چاہے (إِلاَّ مَا شَاءَ رَبُّکَ) کیونکہ خدا جس کام کا ارادہ کرتا ہے اسے انجام دیتا ہے ( إِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِمَا یُرِیدُ) ۔ لیکن جو لوگ سعادت مند ہوئے جب تک آسمان وزمین موجود ہیں وہ ہمیشہ بہشت میں رہیں گے (وَاٴَمَّا الَّذِینَ سُعِدُوا فَفِی الْجَنَّةِ خَالِدِینَ فِیھَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْاٴَرْضُ) مگر جو کچھ تیرے پروردگار کا ارادہ ہو (إِلاَّ مَا شَاءَ رَبُّکَ) ۔ یہ بخشش وعطیہ ہے جو ان سے ہرگز منقطع نہ ہوگا (عَطَاءً غَیْرَ مَجْذُوذٍ) ۔

چند قابل توجہ نکات
۱۔ جبر واکراہ کی نفی :
جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ بعض مندرجہ بالاآیات سے سعادت وشقاوت کا ذاتی ہونا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ مندرجہ بالا آیات نہ صرف اس امر پر دلالت نہیں کرتی بلکہ وضاحت سے ثابت کرتی ہیں کہ سعادت وشقاوت اکتسابی ہیں کیونکہ فرمایا گیا ہے: ”فَاٴَمَّا الَّذِینَ شَقُوا“ یعنی وہ لوگ جو شقاوت مند ہوئے، اسی طرح فرمایا گیا ہے: ”اٴَمَّا الَّذِینَ سُعِدُوا“ یعنی وہ لوگ و سعادتمند ہوئے، اگر شقاوت وسعادت ذاتی ہوتیں تو کہنا چاہیے تھا: ”امّاالاشقیاء وامّا السعداء“ یا ایسی ہی کوئی اور عبارت ہوتی ۔
اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ تفسیر رازی کی یہ بات بالکل بے بنیاد ہے جو اس نے ان الفاظ میں بیان کی ہے:
مذکورہ آیات میں خدا ابھی سے حکم لگا رہا ہے قیامت میں ایک گروہ سعادت مند ہوگا اور ایک شقاوت مند ہوگا اور جنھیں خدا ایسے حکم سے محکوم کرتا ہے اور جانتا ہے کہ آخرکار قیامت میں سعید یا شقی ہوں گے، محال ہے کہ وہ تبدیل ہوجائیں ورنہ لازم آئے گا کہ خدا کا خبر دینا جھوٹ ہو اور اس کا علم جہالت ہو، اور یہ محال ہے ۔
یہ مسئلہ جبر واختیار میں ”علم خدا“ کے حوالے سے وہی مشہور اعتراض ہے کہ جس کا جواب ہمیشہ دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ اگر ہم اپنے خود ساختہ افکار کو آیات پر نہ ٹھوسیں تو ان کے مفاہیم روشن اور واضح ہیں، یہ آیات کہتی ہیں کہ ان دن ایک گروہ اپنے اعمال کی وجہ سے سعادت مند ہوگا اور ایک گروہ اپنے کردار کے باعث شقاوت مند ہوگا اور خدا جانتا ہے کہ کونسے افراد اپنے ارادے، خواہش اور اختیار سے سعادت کی راہ اپنائیں گے اور کونسے اپنے ارادے سے راہِ شقاوت پر گامزن ہوں گے، اس بناء پر اگر اس کے کہنے کے برعکس لوگ یہ راہ منتخب کرنے پر مجبور ہوں تو علمِ خدا جہل ہوجائے گا کیونکہ سب کے سب اپنے ارادہ واختیار سے اپنی راہ انتخاب کریں گے ۔
ہماری گفتگو کا شاید یہ امر ہے کہ مندرجہ بالا آیات گزشتہ قوموں کے واقعات کے بعد آئی ہیں، ان واقعات کے مطابق ان لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے ظلم وستم کی وجہ سے، حق وعدالت کے راستے سے اپنے انحراف کے باعث، شدید اخلاقی مفاسد کے سبب اور خدائی رہبروں کے خلاف جنگ کی وجہ سے اس جہان میں دردناک عذابوں میں مبتلا ہوئی، یہ واقعات قرآن نے ہماری تربیت وارشاد کے لئے، راہِ حق کوباطل سے جدا کرکے نمایاں کرنے کے لئے اور راہِ سعادت کو راہِ شقاوت سے جدا کرکے دکھانے کے لئے بیان کئے ہیں ۔
اصولی طور پر جیسا کہ فخر رازی اور اس کے ہم فکر افراد خیال کرتے ہیں اگر ہم پر ذاتی سعادت وشقاوت کا حکم نافذ ہو اور ہم بغیر ارادہ واختیار کے بدیوں اور نیکیوں کی طرف کھینچے جائیں تو تعلیم وتربیت لغو اور بے سود ہوجائے گی، پیغمبروں کا آنا جانا، کتب آسمانی کا نزول، پند ونصیحت، تشویق وتوبیخ، سرزنش وملامت، مواخذہ وسوال غرضیکہ سزا وجزا سب کی سب بے فائدہ یا ظالمانہ امور شمار ہوں گے ۔
وہ جو لوگوں کو نیک وبد کی انجام دہی میں مجبور سمجھتے ہیں، چاہے اس کی جبر کو جبرِ خدائی سمجھیں یا جبر طبیعی، چاہے جبر اقتصادی سمجھیں یا جبرِ ماحول، صرف بات کرتے وقت یا کتابی دنیا میں اس مسلک کی طرفداری کرتے، لیکن عملی طور پر خود بھی ہرگز یہ عقیدہ نہیں رکھتے، یہی وجہ ہے کہ اگر ان کے حقوق پر تجاوز ہو تو زیادتی کرنے والے سرزنش، ملامت اور سزا کا مستحق سمجھتے ہیں اور اس بات کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں کہ اسے مجبور قرار دے کر اس سے صرف نظر کرلیں یا اس کی سزا کو ظالمانہ خیال کریں یا کہیں کہ وہ یہ کام کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تھا اور چونکہ خدا نے ایسا چاہا تھا یا ماحول اور طبیعت کا جبر تھا، یہ خود اصل اختیار کے فطری ہونے پر ایک اور دلیل ہے ۔
بہرحال ہمیں کوئی جبری مسلک والا ایسا نہیں ملتا جو اپنے روز مرہ کے عمل میں اس عقیدے کا پابند ہو بلکہ وہ تمام افراد سے ان کے آزاد، مسئول، جوابدہ اور مختار ہونے کے لحاظ سے ملتا اور پیش آتا ہے، دنیا کی تمام اقوام نے عدالتیں قائم کررکھی ہیں، قوانین بنائے ہیں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کے لئے مختار ہونے کو قبول کیا گیا ہے، دنیا کے تمام تربیتی ادارے ضمنی طور پر اس بنیادی نظریے کو قبول کرتے ہیں کہ انسان اپنے میل ورغبت اور اردہ واختیار سے کام کرتا ہے اور تعلیم وتربیت کے ذریعے اس کی رہنمائی کی جاسکتی ہے اور اسے ارشاد ودہدایت کی جاسکتی ہے اور اسے خطاوٴں، غلطیوں اور کج فہمیوں سے روکا جاسکتا ہے

۲۔ ”شقوا“ اور ”سعدوا“ میں ایک باریک فرق:
یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں ”شقوا“ فعل معلوم کے طور پر اور ”سعدوا“ فعل مجہول کی صورت میں آیا ہے ۔ (۱)
تعبیر کا یہ اختلاف شاید اس لطیف نکتے کی طرف اشارہ ہو کہ انسان راہِ شقاوت کو اپنے قدموں سے طے کرتا ہے لیکن راہِ سعادت پر چلنے کے لئے جب تک خدائی امداد اور تعاون نہ ہو اور اس راہ میں وہ اس کے نصرت نہ کرے تو یہ کامیاب نہیں ہوگا، اس میں شک نہیں کہ یہ امداد اور تعاون صرف ان لوگوں کے شامل حال ہوتا ہے جنھوں نے ابتدائی قدم اپنے ارادہ واختیار سے اٹھائے ہوں اور اسی طرح ایسی امادا کی اہلیّت پیدا کرلی ہو (غور کرلیجئے گا) ۔

۳۔ قرآن میں مسئلہ خلود:
اصل لغت میں ”خلود“ طولانی بقاء کے معنی میں ہے اور ابدیت کے معنی میں بھی آیا ہے اس لئے اکیلا ”خلود“ ابدیت کی دلیل نہیں ہوتا بلکہ ہر قسم کی طولانی بقاء بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے لیکن بہت سی آیاتِ قرآنی میں یہ کلمہ کچھ قیود کے ساتھ ذکر ہوا ہے جن سے وضاحت کے ساتھ ابدیت کا مفہوم معلوم ہوتا ہے، مثلاً توبہ/ ۱۰۰، طلاق/۱۱، اور تغابن/۹ میں اہل بہشت کے لئے ”خَالِدِینَ فِیھَا اٴبداً“ کی تعبیر موجود ہے، اس تعبیر سے ان لوگوں کے لئے بہشت کی ابدیت معلوم ہوتی ہے اور دوسری آیات مثلاً نساء/۱۶۹ اور جِن/۲۳ میں دوزخیوں کے ایک گروہ کے بارے میں یہی تعبیر ”خَالِدِینَ فِیھَا اٴبداً“ نظر آتی ہے جو اُن کے لئے عذابِ جاوداں ہونے کی دلیل ہے ۔
اسی طرح کچھ اور تعبیرات بھی ہیں، مثلاً: <مَاکِثِینَ فِیہِ اٴَبَدًا> (کہف/۳) اور <خَالِدِینَ فِیھَا لَایَبْغُونَ عَنْھَا حِوَلًا> (کہف/۱۰۸)
یا اس قسم کی تعبیرات کی جو نشاندہی کرتی ہیں کہ حتماً بہشتیوں کے کچھ گروہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نعمت یا عذاب میں رہیں گے ۔
بعض افراد سزا کے جاوداں ہونے کے اشکالات کو اپنی نظر میں حل کرنے نہیں کرسکے مجبوراً انھوں نے اس کے لغوی معنی کا سہارا لیا ہے اور انھوں نے اسے مدتِ طولانی کے معنی میں لیا ہے حالانکہ بعض تعبیرات جیسے مندرجہ بالا آیات ہیں ان کی ایسیا تفسیر نہیں کی جاسکتی ۔
مزید وضاحت کے لئے ہم آپ کی توجہ ذیل کی اہم بحث کی جانب مبذولا کراتے ہیں

ایک اہم سوال اور اس کا جواب
یہاں فوراً ہر سننے والے صفحہٴ ذہن پر ایک بہت اہم سوال ابھرتا ہے اور وہ یہ کہ گناہ اور عذاب میں یہ عدمِ مساوات خدا کی طرف سے کیسے ممکن ہے، کیسے قبول کیا جاسکتا ہے کہ انسان اپنی ساری عمر جو زیادہ سے زیادہ اسّی یا سو سال ہوتی ہے میں اچھا یا بُرا کام انجام دے لیکن اس کی جزاء یا سزا کروڑوں سالوں پر یا اس سے بھی جتنی بھی طولانی عرصے پر محیط ہو۔
البتہ یہ مسئلہ جزاء کے بارے میں تو کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ بخشش اور جزاء جتنی بھی زیادہ ہو جزاء دینے والے کے فضل وکرم کی نشانی ہے لہٰذا اس پر اعرتاض، یا اشکال نہیں کیا جاسکتا لیکن بُرے کام، گناہ، ظلم اور کفر کے بارے میں یہ سوال ہے کہ ایک محدود گناہ پر دائمی عذاب عدلِ الٰہی کے نظریے کے ساتھ کیونکہ مناسبت رکھتا ہے ، جس شخص کی سرکشی اور تجاوز کا دَور ایک سوال سال سے زیادہ نہیں ہمیشہ کے لئے جنہم کی آگ اور عذاب کے شکنجے میں گیوں گرفتار رہے؟
کیا عدالت کا تقاضا نہیں کہ یہاں پر ایک توازن برقرار رکھا جائے اور مثلاً سو سال کے غلط اعمال کی مقدار کے برابر سے عذاب اور سزا ہو؟

مطمئن نہ کرنے جوابات:
اس اعتراض کے جواب کی پیچیدگی اس بات کا سبب بنی ہے کہ بعض علماء نے آیاتِ خلود کی توجیہ کا راستہ اختیار کیا اور ان کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ ان سے ہمیشہ کی سزا اور عذاب معلومنہ ہو کیونکہ دائمی عذاب ان کے عقیدے کے مطابق خلافِ عدل ہے،اس سلسلے میں انھوں نے اس طرح کی باتیں کی ہیں:
۱۔ بعض کہتے ہیں کہ ”خلود“ سے مراد اس کا کنائی اور مجازی معنی ہے، یعنی ایک مدت جو نسبتاً طولانی ہو، جیسا کہ جن افراد کو آخر تک کے لئے سزائے قید سنائی جائے ان کے لئے کہا جاتا ہے کہ انھیں دائمی قید سنائی گئی ہے حالانکہ مسلّم ہے کہ کسی قید خانے میں ابدیت نہیں ہوتی اور قید کی عمر ختم ہوجاتی ہے یہاں تک کہ عربی زبان میں بھی ”یخلّد فی السّجن“ جوکہ مادہٴ ”خلود“ سے ہے ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے ۔
۲۔ بعض دیگر کہتے ہیں کہ ایسے باغی ارو سرکش افراد کہ جن کے پورے وجود کو گناہ نے گھیر لیا ہو اور ان کا سارا وجود کفر اور گناہ میں ڈھل گیا ہو اگرچہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے لیکن دوزخ ہمیشہ ایک ہی حالت میں نہیں رہے گی، ایک دن ایسا آئے گا کہ اس کی آگ آخرکار دوسری آگ کی طرح بجھ جائے گی اور دوزخیوں کو ایک خاص قسم کا سکون مل جائے گا ۔
۳۔ بعض نے احتمال ذکر کیا ہے کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ اور بہت سی سزا جھیلنے کے بعد آخرکار دوزخی ایک طرح سے اس کے عادی اور خوگر ہوجائیں گے اور وہ اپنے ماحول کے رنگ میں جائیں گے اور ماحول کے ساتھ ایک طرح کی موافقت پیدا ہوجائے گی، اس طرح انھیں کسی قسم کی ناراحتی، تکلیف اور عذاب کا احساس نہیں ہوگا ۔
البتہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ سب توجیہات ”خلود“ اور دائمی عذاب کے مسئلہ کے بارے میں جواب دینے سے عجز وناتوانی کی وجہ سے ہیں یہ بات ناقابل انکار ہے کہ آیاتِ خلود کا ظہور یہ ہے کہ ایک خاص طبقہ ہمیشہ کے لئے عذاب میں رہے گا ۔

حتمی جواب
اس مشکل کے حل کے لئے گزشتہ مباحث کی طرف لوٹنا پڑے گا اور اس اشتباہ کی اصلاح کرنا پڑے گی کہ جی میں عذابِ قیامت کا دوسری سزاوٴں پر قیاس کیا جاتا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوسکے کہ مسئلہ خلود اصلِ عدالتِ الٰہی کے منافی ہے ۔
۱۔ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے ابدی اور دائمی عذاب اور سزا ایسے لوگوں کے لئے منحصر ہے جنھوں نے اپنے لئے نجات کے تمام راستے بند کرلیے ہیں اور جان بوجھ کر فساد وتباہی اور کفر ونفاق میں غرق ہوگئے ہیں، گناہ کے منحوس سائے نے جن کے تمام قلب وروح کو ڈھانپ دیا ہے اور درحقیقت جو گناہ اور کفر کے رنگ میں گئے ہیں، جیسا کہ سورہٴ بقرہ میں ہے:
<وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَّ اٴَیَّامًا مَعْدُودَةً قُلْ اٴَاتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللهِ عَھْدًا فَلَنْ یُخْلِفَ اللهُ عَھْدَہُ اٴَمْ تَقُولُونَ عَلَی اللهِ مَا لَاتَعْلَمُونَ>
جی ہاں! جو شخص گناہ کا مرتکب ہوا اور اس کے آثار اس کے تمام وجود کا احاطہ کرلیں ایسے لوگ اہلِ دوزخ ہیں جو ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔ (بقرہ/۸۰)
۲۔ بعض لوگوں کا یہ غلط اشتباہ ہے کہ سزا اور عذاب کی مدت گناہ کی مدت کے برابر ہونا چاہیے کیونکہ گناہ اور سزا کے درمیان ”رابطہٴ کیفی“ ہے یعنی زمانہٴ سزا کا تعلق گناہ کی کیفیت سے ہے نہ کہ اس کے زمانے کی مقدار سے مثلاً ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی نفس کو قتل کرنے کے لئے لحظہ بھر کا تھا جبکہ اس کی سزا ممکن ہے اسّی سال پر محیط ہو، لہٰذا معاملہ کیفیت کا نہ کہ زمانی کمیت کا ۔
۳۔ ہم چاہتے ہیں قیامت کی زیادہ تر سزائیں اور عذاب عمل کے طبیعی وفطری اثر اور خاصیتِ گناہ کے حوالے سے ہیں، زیادہ واضح الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ رنج وتکالیف اور پریشانیوں جن کا دوسرے جہان میں گنہگار سامنا کریں گے ان کے اپنے اعمال کا اثر اور نتیجہ ہیں جو انھیں دامنگیر ہوگا، قرآن کہتا ہے:
<فَالْیَوْمَ لَاتُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَلَاتُجْزَوْنَ إِلاَّ مَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ>
آج (روزِ قیامت) کسی شخص پر ظلم نہیں ہوگا اور تمھارے اعمال کے سوا تمھاری جزا نہیں ہوگی (یٰسین/۵۴)
یہ بھی ارشاد الٰہی ہے:
<وَبَدَا لَھُمْ سَیِّئَاتُ مَا عَمِلُوا وَحَاقَ بِھِمْ مَا کَانُوا بِہِ یَسْتَھْزِئُون>
اور اُن کے بُرے اعمال اُن کے سامنے آشکار ہوجائیں گے اور جس کا ہمیشہ تمسخر اڑایا کرتے تھے اور انھیں گھیرلے گا (جاقیہ/۳۳)
<فَلَایُجْزَی الَّذِینَ عَمِلُوا السَّیِّئَاتِ إِلاَّ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ>
جنھوں نے بُرے کام کیے ہیں ان کے اعمال کے علاوہ انھیں کوئی جزاء نہیں دی جائے گی (القصص/۸۴)
اب جبکہ یہ تین پہلو ہوواضح ہوچکے ہیں تو مسئلے کا حتمی جواب ہماری دسترس سے زیادہ دُور نہیں رہا اور اس تک پہنچے کے لئے کافی ہے کہ آپ ذیل کے چندسوالات کا جواب دیں:
۱۔ فرض کریں کہ کوئی شخص پے درپے مشروباتِ الکحل کے استعمال کی وجہ سے ہفتہ بھی میں معدے کے شدید زخم میں مبتلا ہوگیا ہے اور بات یہاں تک جاپہنچی ہے کہ اب اسے یہ درد آخر عمر تک برداشت کرنا پڑے گا، تو کیا یہ نتیجہ اس کے بُرے عمل کے برابر ہے اور کیا یہ خلافِ عدالت ہے؟ اب اگر اس شخص کی عمر اسّی سال کی بجائے ایک ہزار سال یا ملین سال ہو تو اسے ایک ہفتے کی ہوس رانی کی خاطر ایک ملین سال دکھ درد جھیلناپڑیں گے تو کیا یہ اصلِ عدالت کے خلاف ہوگا جبکہ شراب خوری کے اس خطرے کے بارے میں پہلے سے بتایا جاچکا ہے اور اس کا انجام بھی اس کے سامنے واضح کیا جاچکا ہے ۔
۲۔ نیز فرض کریں کہ کوئی شخص ڈرائیونگ کے قوانین بھلادے جبکہ یہ بات مسلّم ہے کہ یہ قوانین سودمند ہیں اور حادثات سے رونما ہونے والی شریشانیوں میں کمی کا باعث ہیں، یہ شخص سمجھدار دوستوں کی طرف سے خطرے کی بار بار تنبیہوں پر کان دھرے، اب اگر کوئی حادثہ کسی مختصر لمحے میں اسے آلے (اور حادثات تو لمحوں ہی میں رونما ہوتے ہیں) اس حادثے میں اس کی آنکھیں، ہاتھ یا پاوٴں ضائع ہوجائیں اور اس کے بعد اسے اندھے پَن میں یا اپاہیج ہوکر زندگی گزارنا پڑے تو کیا یہ نتیجہ پروردگار کی عدالت کے کسی طرح بھی منافی ہے؟
۳۔ اس سلسلے میں ہمارے پاس ایک اور مثال بھی ہے اور مثالیں عقایں حقائق کو ذہن کے قریب کرتی ہیں اور اصلی، حتمی اور استدلالی نتیجہ حاصل کرنے کے لئے ذہن کو یتار کرتی ہیں ۔
فرض کریں ہم اپنے راستے میں خار مغیلاں کے چند گرام بیج چھڑک دیتے ہیں، چند ماہ یا چند سالوں بعد ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے راستے میں کانٹوںکا ایک وسیع صحرا ہے جو ہمیشہ کے لئے ہماری دردسری اور تکلیف کا باعث بن گیا ہے ۔
یا یہ کہ ہم پھلوں کے چند گرام بیج چھڑک دیتے ہیں، تھوڑے ہی عرصے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے سامنے بہت دلکش اور مہلک دار گلشن کھِل اٹھا ہے جو ہمیشہ ہمارے مشامِ جان کو معطر رکھتا ہے اور دل کو لبھاتا ہے ۔
کیا یہ امور جو سب کے سب اعمال کے آثار ہیں عدالت کے کسی طور بھی منافی ہیں حالانکہ اس عمل اور اس کے نتیجے کی مقدار میں مساوات نہیں ہے ۔
جو کچھ کہا جاچکا ہے اس سے مجموعی طور پر ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جب جزاء اور سزا خود انسان کے عمل کا نتیجہ ہے تو کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
بسا اوقات ظاہراً ایک چھوٹا سا عمل ہوتا ہے جس کا اثر ایک عمر کی محرومیت، ابتلاء اور ناراحتی کی صورت میں نکلتا ہے اور بعض اوقات ایک اور ظاہراً چھوٹا چھوٹا سا عمل ایک عمر کے لئے سرچشمہٴ خیرات وبرکات بن جاتا ہے (اشتباہ نہ ہو، چھوٹے سے ہماری مراد مقدارِ زمانہ کے لحاظ سے ہے ورنہ وہ کام اور گناہ جو عذاب میں ہمیشگی کا باعث ہیں یقیناً کیفیت اور اہمیت کے لحاظ سے چھوٹے نہیں ہیں) اس بناء پر جب گناہ، کفر، طغیان اور سرکشی پورے انسانی وجود کا احاطہ کرلیں اور اس کی جان کے تمام بال وپر بیدادگری اور نفاق کی آگ میں جلیں تو کونسا مقامِ تعجب ہے کہ وہ دوسرے جہان میں اسمانِ بہشت میں پرواز کی نعمت سے محروم ہوجائے اور ہمیشہ کے لئے عظیم محرومیت کے درد ورنج میں گرفتار رہے، کیا اسے بتایا نہیں گیا اور کیا اسے اس عظیم خطرے سے آگاہ نہیں کیا گیا ۔
جی ہاں! ایک طرف سے انبیاء الٰہی نے اور دوسری طرف سے عقل وخرد نے ضروری آگاہی دی تھی، کیا اس نے بے توجہی میں اور بغیر اختیار کے اس کام میں ہاتھ ڈالا تھا اور اب ایسے انجام کوپہنچا ہے؟ نہیں بلکہ اس نے یہ کام علم کے ساتھ، جان بوجھ کر اور اختیار سے انجام دیا ہے ۔
کیا یہ انجام خود اس کے اعمال اور سیدھا اس کے اعمال کا نتیجہ نہیں ہے، یقیناً یہ انجام خود اس کے کام کے آثار میں سے ہے ۔
اس بناء پر نہ کشایت کی گنجائش ہے نہ کسی پر اشکال کی اور نہ ہی یہ انجام عدالتِ الٰہی کے قانون کے منافی ہے ۔ (2)

۴۔ زیرِ بحث آیا ت میں ”خلود“ کا معنی:
کیا ”خلود“ زیرِ بحث آیات میں ہمیشگی اور جاودانی کے معنی میں آیا ہے یا یہاں اس کا مفہوم ”طولانی مدت“ والا ہے جو اس کے لغوی مفہوم کے طور پر پہچانا جاتا ہے ۔
اس بنیاد کہ یہاں ”خلود“ کے ساتھ یہ شرط ہے کہ: ”مادامت السموٰات“(یعنی ، جب تک آسمان وزمین باقی ہیں) بعض مفسّرین نے یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش کی ہے کہ اس موقع پر خلود ہمیشگی اور جاودانی کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ آسمان وزمین ابدیت اور ہمیشگی نہیں رکھتے اور قرآن کی صریح آیات کے مطابق ایک زمانہ آئے گاکہ آسمان درہم وبرہم ہوجائیں گے اور زمین تباہ ہوکر ایک اور زمین میں بدل جائیں گی ۔ (3)
لیکن توجہ رہے ک عربی ادبیات میں ایسی تعبیریں عموماً ابدیت کے لئے کنایہ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں، لہٰذا محلِ آیات میں بھی خلود ہمیشگی کے معنی میں آیا ہے ۔
مثلاً عرب کہتے ہیں: یہ کیفیت برقرار رہے گی ”مالاح کوکب“ (جب تک چمکتا ہے) یا ”ما لاح الجدیدان“ (جب تک دن رات موجود ہیں) یا ”ما اضاء فجر“ (جب تک روشن ہوتی رہے) یا ”ما اختلف اللیل والنھار“ (جبل تک رات دن ایک دوسرے کے بعد آتے رہیں ) ۔
ایسی ہی بہت سی مثالیں ہیں جو سب کی سب ہمیشگی اور ابدیت کے لئے کنایہ ہیں ۔
امام امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے کلام نہج البلاغہ میں ہے کہ جب جاہل مفسرین نے امام پر اعتراض کیا کہ آپ بیت المال کی تقسیم میں مساوات کیوں برتتے ہیں اور اپنی حکومت مستحکم کرنے کے لئے بعض لوگوں کو دوسروں پر ترجیح کیوں نہیں دیتے تو امام یہ بات سُن کر رنج ہوا اور آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
”اٴتاٴمرونی اٴن اٴطلب النصر بالجور فیمن ولیت علیہ واللّٰہ لا اٴطور بہ ما سمر سمیر وما اٴم نجم فی السّماء نجماً“
کیا مجھ سے کہتے ہو کہ مَیں کامیابی کے لئے اپنی حکومت میں رہنے والوں کی طرف دستِ ظلم دراز کروں، خدا قسم! مَیں اس کام کے نزدیک بھی نہیں جاوٴں گا جب تک رات کو بیٹھ کر لوگ قصّہ گوئی کریں گے اور جب تک آسمان کے ستارے ایک دوسرے کے بعد طلوع وغروب کرتے رہیں گے ۔ (4)
دعبل خزاعی کے اشعار میں سے ایک ان کا مشہور قصیدہ ہے جو انھوں نے امام علی بن موسیٰ الرضا علیہماالسلام کے حضور میں پڑھا، اُس کا ایک شعر یوں ہے:
ساٴبیکھم ماذر فی الاٴفق شارق
ونادیٰ منادی الخیر فی الصلوات
میں خاندان نبوت کے شہیدوں پر گریہ وزاری کرتا رہوں گا، اس وقت تک سورج افق مشرق پر روشنی چھڑکتا رہے گا اور جب تک اذان کی صدا دعوتِ نماز کے لئے میناروں سے گونجتی رہے گی ۔ (5)
البتہ یہ چیز عربی ادبیات کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دوسری زبانوں میں بھی کم وبیش موجود ہے بہرحال ابدیت اور ہمیشگی پر آیت کی دلات بحث وتمحیص سے ماوراء ہے اور اسی طرح یہاں ان لوگوں کی گفتگو کی بھی ضرورت نہیں جو کہتے ہیں کہ یہاں آسمان وزمین سے مراد قیامت کے زمین وآسمان ہیں جو جاودانی ہیں ۔

۵۔ آیت میں استثناء کا کیا مفہوم ہے؟
مندرجہ بالا آیات میں اہلِ بہشت اور اہلِ جہنم دونوں کے بارے میں جملہٴ ”استثنائیہ“ الّا ماشاء ربّک(مگر وہ تیرا پروردگار چاہے) آیا ہے، اس مفسرّین کے لئے ایک وسیع بحث کا دروازہ کھل گیا ہے ۔
عظیم مفسر طبرسیۺ نے اپنی تعسیر میں مفسّرین سے اس استثناء کی دس وجوہات نقل کی ہیں، ہماری نظر میں ان میں سے زیادہ تر کمزور ہیں اور قبل وبعد کی آیات سے ہر گز مناسبت نہیں رکھتیں لہٰذا ہم ان کا ذکر نہیں کرتے اور ان میں سے جو دو ہمیں زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہیں وہ پیش کرتے ہیں:
۱۔ اس استثناء کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ تصور نہ ہو کہ بے ایمان افراد کی دائمی اور سچّے مومنین کی جزا اور ثواب خدا کی مشیّت اور مرضی کے بغیر ہیں اور ان سے اس کی قدرت وتوانائی اور ارادہ محدود ہوجاتا ہے اور یہ سزا وجزا جبر اور لزوم کی صورت اختیار کرلیتی ہیں بلکہ ان دونوں کے جاودانی اور دائمی ہونے کے باوجود اس کی قدرت اور ارادہ ہرچیز پر حاکم ہے ۔
اس بات کا شاید یہ ہے کہ دوسرے جملے میں سعادت مندوں کے بارے میں استثناء کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے: ”عطاء غیر مجذوذ؛یہ ایسی عطا اور جزاء ہے کہ جو ان سے ہرگز منقطع نہ ہوگی ۔
یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ جملہ استثنائیہ صرف بیانِ قدرت کے لئے ہے ۔
۲۔ یہ آیت چونکہ شقی اور سعید دو گروہوں کے بارے میں ہیں اور ضروری نہیں کہ تمام شقاوتمند بے ایمان افراد ہوں جو خلود کے مستحق ہوں بلکہ ہوسکتا ہے کہ ان کے درمیان خطا کار مومنین بھی ہوں لہٰذا استثناء کا تعلق اس گروہ سے ہے ۔
لیکن یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے پھر دوسرے جملے میں استثناء کا کیا مفہوم ہوگا جو سعادت مندوں کے بارے میں ہے، اس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ وہ بھی خطاکار مومنین کے بارے میں ہے کہ جنھیں ابتداء میں ایک مدت تک دوزخ میں جاکر پاک ہونا ہوگا اس کے بعد وہ اہلِ بہشت کی صف میں شامل ہوجائیں گے، درحقیقت پہلے جملے میں استثناء انجام اور آخرکار کے متعلق ہے جبکہ دوسرے جملے میں آغاز اور ابتداء کے بارے میں پہلے جملے ہے (غور کیجئے گا) ۔
رہا یہ احتمال جو بعض نے ذکر کیا ہے کہ یہ جزاء اروسزا کی جنت اور دوزخ سے مربوط ہے جس کی مدت لامحدود ہے اور ختم ہوجائے گی، بہت بعید ہے کہ کیونکہ قبل کی آیات صراحت کے ساتھ قیامت کے بارے میں ہیں اور ان آیات کا تعلق اُن سے ٹوٹنے والا نہیںہے ۔
اسی طرح یہ احتمال بھی درست ہے کہ ان آیات میں ”خلود“ قرآن کی دیگر آیات کی طرح مدتِ طولانی کے معنی میں ہے نہ کہ ابدیت کے معنی میں ، اس کی وضاحت یہ ہے کہ جملہ ”عطاء غیر مجذوذ“ اور خود استثناء کہ جو اس سے قبل کے جملوں کے ابدیت کی دلیل ہے سے یہ احتمال مطابقت نہیں رکھتا ۔

۶۔ ”زفیر“ اور ”شھیق“ کا مفہوم:
مندرجہ بالا آیات میں دوزخیوں کے بارے میں ہے کہ وہ وہاں ”زفیر“ اور ”شھیق“ کے حامل ہوں گے ۔
ان دو الفاظ کے معانی کے بارے میں اربابِ لغت اور مفسّرین نے متعدد احتمالات ذکر کئے ہیں:
بعض نے کہا ہے کہ ”زفیر“ داد وفریاد اور چیخ وپکار کرنے کے معنی میں ہے کہ جس کے ساتھ باہر کی طرف سانس لیا جائے اور ”شھیق“ اس نالہ وفریاد کو کہتے ہیں جس کے ساتھ اندر کی طرف سانس کھینچا جائے ۔
بعض نے گدھے کی ابتدائی آواز کو اور ”شھیق“ اس کی اختتامی آواز کوقرار دیا ہے، شاید یہ معنی پہلے معنی سےزیادہ مختلف نہیں ہے ۔
بہرحال یہ دونوں الفاظ ایسے اشخاص کے نالہ وفریاد کا مفہوم دیتے ہیں کہ غم واندوہ کے مارے جن کا پورا وجود واویلا کررہا ہو اور ایسی داد وفریاد جو انتہائی ریشانی، نارحتی اور شدّتِ کرب وتکلیف کی نشانی ہو۔
توجہ رہے کہ ”زفیر“ اور ”شھیق“ دونوں مصدر ہیں اور ”زفیر“در اصل کندھے پر بھاری بوجھ اٹھانے کے معنی میں ہے اور چونکہ یہ کام آہ ونالہ کا سبب بنتا ہے اس لئے آہ ونالہ کو ”زفیر“کہتے ہیں اور ”شھیق“ اصل میں طولانی ہونے کے معنی میں ہے جیسا کہ بلند پہاڑ کو ”جبل شاھق“ کہتے ہیں بعد ازاں یہ لفظ طولانی نالہ وفریاد کے معنی میں استعمال ہونے گا ۔

سعادت وشقاوت کے اسباب
سع ادت جو تمام انسانوں کی گمشدہ چیز ہے اور اسے ہر کوئی ہر کسی چیز میں اور ہر جگہ تلاش کرتا پھرتا ہے یہ ایک فریاد یا معاشرے کے تکامل وارتقاء کے اسباب فراہم کرنے کا نام ہے، اس کے مقابل شقاوت وبدبختی ہے جس سے سب نفرت کرتے ہیں اور وہ کامیابی، تکامل اور ارتقاء کے لئے درکار اسباب، حالات اور شرائط کے نامساعد ہونے کو کہتے ہیں ۔
اس بناء پر جس شخص کو رواحانی، جسمانی خاندانی، معاشرتی اور تمدنی لحاظ سے بلندتر اہداف تک پہنچنے کے لئے زیادہ اسباب حاصل ہوں وہ سعادت کے زیادہ نزدیک ہے یا دوسرے لفظوں میں زیادہ سعادتمند ہے، دوسری طرف جو شخص ان پہلووٴں کی کمی اور نارسائی میں گرفتار ہو وہ شقاوت مند اور بدبخت ہے اور سعادت سے بے بہرہ ہے ۔
لیکن توجہ رہے کہ سعادت وشقاوت کی حقیقی بنیاد انسان کا اپنا ارادہ اور خواہش ہے، انسانی ارادہ ہی اپنی اصلاح بلکہ معاشرے کی اصلاح ودرستی کے لئے ضروری وسائل فراہم کرسکتا ہے اور یہ انسان خود ہے جو بدبختی اور شقاوت کے عوامل کے خلاف جنگ کے لئے اٹھ کھڑا ہو یا اس کے سامنے سرتسلیم خم کردے ۔
انبیاء کی منطق میں سعادت وشقاوت کوئی ایسی چیز نہیں جو انسان کے لئے ذاتی ہو، یہاں تک کہ ماحول، خاندان اور وراثت بھی خود انسانی ارادے کے سامنے قابلِ تغیّر ہیں مگر یہ کہ ہم خود انسانی ارادے اور آزادی کا انکار کردیں، اسے جبری شرائط وحالات کا محکوم قرار دے دیں اور اس کی سعادت یا شقاوت کو ذاتی یا ماحول وغیرہ کی جبری پیداوار سمجھیں حالانکہ یہ قطعی طور پر مکتبِ انبیاء اور اسی طرح مکتبِ عقل کے نزدیک محکوم ومذموم ہے ۔
یہ بات جاذب نظر ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے مروی ہے کہ روایات میں مختلف امور کی اسبابِ سعادت یا اسبابِ شقاوت کے طور پر نشاندہی کروائی گئی ہے کہ جن کا مطالعہ انسان کو اس اہم مسئلے کے بارے میں اسلامی طرزِ فکر سے آشنا کرتا ہے اور انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ سعادت تک پہنچنے اور شقوات سے بچنے کے لئے بیہودہ وخرافاتی مسائل اور غلط قسم کے خیالات اور طور وطریقے کہ جو بہت سے معاشروں میں موجود ہوتے ہیں کا سہارا لینے کے بجائے اور بے بنیاد امور کو سعادت وشقاوت کے اسباب خیال کرنے کے بجائے حقائقِ غیبی اور سعادت کے اسباب حقیقی کی جستجو کرے ۔
نمونے کے طور پر ذیل کی چند پُر معانی احادیث کی طرف توجہ فرمائیے:
۱۔امام صادق علیہ السلام اپنے جدّ بزرگوار امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں:
حقیقة السعادة اٴن یختم للرجل عملہ بالسعادة وحقیقة الشقاوة اٴن یختم للمرء عملہ بالشقاوة.
حقیقتِ سعدت یہ ہے کہ انسان کی زنمدگی کا آخری مرحلہ سعادت مندانہ عمل کے ساتھ ختم ہو اور حقیقتِ شقاوت یہ ہے کہ اس کی زندگی کا آخری مرحلہ شقاوت مندانہ عمل پر اختتام پذیر ہو۔ (6)
یہ روایت صراحت کے ساتھ کہتی ہے کہ انسان کی زندگی کا آخری مرحلہ اور اس مرحلے میں اس کے اعمال اس کی سعادت یا شقاوت کا مظہر ہیں، گویا اس طرح آپ(علیه السلام) ذاتی سعادت وشقاوت کی مکمل نفی کررہے ہیں اور انسان کو اس کے اعمال کا گروی قرار دے ہیں اور اس کی عمر کے آخری مرحلے تک اس کے لئے لوٹ آنے کا راستہ کھُلا قرار دے رہے ہیں ۔
۲۔ ایک اور حدیث میں حضرت علی السلام فرماتے ہیں:
السعید من وعظ بغیرہ والشقی من انخدع لھواہ وغرورہ.
سعادتمند وہ شخص ہے جو دوسروں کی زندگی سے نصیحت حاصل کرے اور شقاوتمند وہ شخص ہے جو ہَوائے نفس سے دھوکاکھاجائے ۔ (7)
حضرت علی علیہ السلام کی یہ گفتگو بھی سعادت وشقاوت کے اختیاری ہونے کی تاکید مزید ہے اور اس میں آپ(علیه السلام) ان دونوں کے بعض اسباب کو بیان فرمارہے ہیں ۔
۳۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:
اٴربع من اٴسباب السعادة واٴربع من الشقاوة: فلاٴربع الّتی من السّعادة: المرئة الصالحة والمسکن والواسع، والجار الصالح، والمرکب البھیء. والاٴربع الّتی من الشقاوة: الجار السوء، والمرئة السوء، والمسکن الضیق والمرکب السوء.
چار چیزیں اسبابِ سعادت ہیں اور چار چیزیں اسبابِ شقاوت ہیں:8-
وہ چار جو اسبابِ سعادت ہیں یہ ہیں: نیک بیوی، وسیع گھر، نیک ہمسایہ اور اچھی سواری، اور وہ چار جو اسبابِ شقاوت ہیں یہ ہیں: بُرا ہمسایہ، بُری بیوی، تنگ مکان اور بُری سواری ۔
اس طرح توجہ کرتے ہوئے کہ یہ چار امور ہر شخص کی مادی اور روحانی زندگی میں موٴثر کردار ادا کرتے ہیں اور کامیابی یا شکست کے عوامل بن سکتے ہیں، اس سے اسلامی منطق میں سعادت وبدبختی کے مفہوم کی وسعت واضح ہوجاتی ہے ۔
ایک اچھی بیوی انسان کو طرح طرح کی نیکیوں کا شوق دلاتی ہے، ایک وسیع گھر انسان کی روح وفکر کو سکون بخشتا ہے اور زیادہ فعّالیت کےالئے آمادہ کرتا ہے، بُرا ہمسایہ قابلِ تعریف نہیں ہے اور اچھا ہمسایہ آسائش وآرام میں موٴثر مددگار ہوتا ہے بلکہ انسان کی پیشرفت میں معاون ہوتا ہے، ایک اچھی سواری اپنے کام انجام دینے اور اجتماعی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے بہت کارمند ہے جبکہ خراب اور بے کار سواری پیچھے رہ جانے کا باعث ہے کیونکہ وہ اپنے مالک کو اس کے مقصد تک کم ہی پہنچاتی ہے ۔
۴۔پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی ایک اور حدیث بھی نقل ہوئی ہے، فرمایا:
من علامات الشقاء جمود العینین، وقسوة القلب، وشدة الحرص فی طلب الرزق، والامر علی الذنب.
یہ چیزیں شقاوت کی علامتوں میں سے ہیں: آنکھوں کی قطرہٴ اشک سے محرومی، سنگدلی، حصولِ رزق میں شدید حرص اورگناہ پراصرار۔ (9)
یہ چارامور جو مندرجہ بالا حدیث میں آئے ہیں سب اختیاری ہیں، ان کا سرچشمہ انسان کے خود کردہ اعمال واخلاق ہیں، اسی طرح ان اسبابِ شقاوت سے بچنا بھی خود انسان کے اختیار میں ہے ۔
سعادت وشقاوت کے وہ اسباب جو مندرجہ بالا حدیث میں ذکر ہوئے ہیں اگر ان سب کی حقیقت اور انسانی زندگی میں ان کے نقشِ موٴثر کا موازنہ ان بیہودہ اور خرافاتی اسباب سے کریں کہ جن کے ہمارے ایٹمی اور خلائی دَور کے بہت سے گروہ پابند ہیں تو یہ حقیقت آشکار ہوجائے گی کہ تعلیماتِ اسلام کس قدر منطقی اور حساب شدہ ہیں ۔
ابھی بہت سے افراد ہیں جو گھوڑے کی نعل کو خوش بختی کی علامت سمجھتے ہیں، تیرھویں کے دن کو بدبختی کا سبب جانتے ہیں، سال کی بعض راتوں میں آگ کے اوپر سے پرندہ اُڑنے کو خوش بختی کی دلیل قرار دیتے ہیں، بعض راتوں میں پرندے کی آواز کوبدبختی مانتے ہیں، مسافر کی پشت کے پیچھے پانی چھڑکنے کو خوش بختی کا سبب سمجھتے ہیں، پرنالے کے نیچے سے گزرنے کو بدبختی کا سبب جانتے ہیں، یہاں تک کہ اپنے ساتھ یا اپنے کسی ذریعہٴ آمد ورفت کے ساتھ گھونگا آویزاں کرنے کو بھی خوش بختی کا سبب سمجھتے ہیں، چھینک آجائے تو اسے پیشِ نظر کام انجام دینے میں بدبختی کی علامت سمجھتے ہیں، اسی طرح بہت سی خرافات ہیں جو مشرق ومغرب کی اقوام میں رائج ہیں ۔
ایسے کتنے زیادہ انسان ہیں جو ان خرافات میں گرفتار ہونے کی وجہ سے زندگی میں فعالیت اورکارکردگی سے رہ گئے ہیں اور بےشمار مصیبتوں میں گرفتار ہیں ۔
اسلام نے ان تمام بیہودہ خیالات پر سُرخ لکیر کھینچ دددی ہے اور انسان کی سعادت وشقاوت کی بنیاد اس کے مثبت ومنفی کام قوت وکمزوری، طرزِ عمل اور عقیدے کو قرار دیا کہ جس کے نمونے مندرجہ احادیث میں واضح طور پر بیان ہوئے ہیں ۔
..............
۱۔ ”سعدوا“ ”سعد“ کے مادہ سے ہے جو بعض ارباب لغت کے مطابق فعل لازم ہے اور مفعول کو نہیں چاہتا، اس بناء پر یہ صیغہ مجہول نہیں ہے لہٰذا یہ اہل لغت مجبور ہوئے ہیں کہ اسے محفف ”سعدوا“ (باب افعال کے مجہول) سے سمجھیں لیک جس طرح آلوسی نے روح المعانی میں ایت کے ذیل میں بعض اہلِ لغت سے نقل کیا ہے اس کا فعل ثلاثی بھی متعدی ہے اور ”سعدالله“ اور ”مسعود“ کہا جاتا ہے، اس بناء پر ضرورت نہیں ہے کہ ہم اس فعل مجہول کو بابِ افعال سے سمجھیں (غور کیجئے گا) ۔
2۔ ’معاد وجہان پس از مرگ“ ص۳۸۵تا۳۹۳.
3۔ سورہٴ ابراہیم، آیت۴۸، اور سورہٴ انبیاء، آیت۱۰۴.
4 نہج البلاغہ، صبحی صالح، خطبہ۱۲۶.
5 نور الابصار، ص۱۴۰، الغدیر اور دیگر کتب.
6۔ تفسیر نور الثقلین: ج۲، ص۳۹۸.
7۔ نہج البلاغہ: صبحی صالحی، خطبہ۸۶.
8۔ مکارم الاخلاق: ص۶۵.
9 تفسیر نور الثقلین: ج۲، ص۳۹۸.