تفسیر نمونہ جلد 09
 

۹۴ وَلَمَّا جَاءَ اٴَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَاٴَخَذَتْ الَّذِینَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاٴَصْبَحُوا فِی دِیَارِھِمْ جَاثِمِینَ۔
۹۵ کَاٴَنْ لَمْ یَغْنَوْا فِیھَا اٴَلَابُعْدًا لِمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ۔

ترجمہ
۹۴۔اور جب ہمارا فرمان آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت کے ذریعے نجات دی اور جنھوں نے ظلم کیا تھا انھیں (آسمانی) صیحہ نے آلیا اور وہ اپنے گھروں میں منہ کے بَل گرے (اور مرگئے) ۔
۹۵۔اس طرح کہ گویا وہ ان گھروں میں رہتے ہی نہ تھے، دور ہو مدین(رحمت خدا سے) جیسے کہ قوم ِ ثمود دور ہوئی ۔

مدین کے تباہ کاروں کا انجام
گزشتہ اقوام کی سرگزشت کے بارے میں قرآن مجید میں ہم نے بارہا پڑھا ہے کہ پہلے مرحلے میں انبیاء انھیں خدا کی طرف دعوت دینے کے لئے قیام کرتے تھے اور ہر طرح سے تعلیم و تربیت اور پندونصیحت میں کوئی گنجائش نہیں چھوڑتے تھے، دوسرے مرحلے میں جب ایک گروہ پر پند ونصائح کا کوئی اثر نہ ہوتا تو انھیں عذابِ الٰہی سے ڈراتے تاکہ وہ آخری افراد تسلیمِ حق ہوجائیں جو قبولیت کی اہلیت رکھتے ہیں اور وہ راہِ خدا کی طرف پلٹ آئیں نیز اتمام حجت ہوجائے ۔
تیسرے مرحلے میں جب ان میں سے کوئی چیز موثر نہ ہوتی تو روئے زمین کی ستھرائی اور پاکبازی کے لئے سنتِ الٰہی کے مطابق عذاب آجاتا اور راستے کے ان کانٹوں کو دُور کردیتا ۔
قومِ شعیب یعنی اہل مدین کا بھی آخرکار مرحلہ انجام آپہنچا، چنانچہ قرآن کہتا ہے:جب (اس گمراہ، ظالم اور ہٹ دھرم قوم کو عذاب دئےے جانے کے بارے میں )ہمارا فرمان آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور اس پر ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت کی برکت سے نجات دی (وَلَمَّا جَاءَ اٴَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا ) ، پھر آسمان پکار اور مرگ آفریں عظیم صیحہ نے ظالموں اور ستمگروں کو اپنی گرفت میں لے لیا (وَاٴَخَذَتْ الَّذِینَ ظَلَمُوا الصَّیْحَة) ۔
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ”صیحہ“ ہر قسم کی عظیم آوازاور پکار کے معنی میں ہے، قرآن نے بعض قوموں کی نابودی صیحہ آسمانی کے ذریعے بتائی ہے، یہ صیحہ احتمالاً صاعقہ کے ذریعے اور اس کی مانند ہوتی ہے اور جیسا کہ ہم نے قومِ ثمود کی داستان میں بیان کیا ہے کہ صوتی امواج بعض اوقات اس قدر قوی ہوسکتی ہیں کہ ایک گروہ کی موت کا سبب بن جائے ۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے:اس آسمانی صیحہ کے اثر سے قومِ شعیب کے لوگ اپنے گھروں میں منہ کے بل جاگرے اور مرگئے اور ان کے بے جان جسم درسِ عبرت بنے ہوئے ایک مدت تک وہیں پڑے رہے ( فَاٴَصْبَحُوا فِی دِیَارِھِمْ جَاثِمِین)، ان کی زندگی کی کتاب اس طرح بند کردی گئی کہ ” گویا کبھی وہ اس سر زمین کے ساکن ہی نہ تھے“(کَاٴَنْ لَمْ یَغْنَوْا فِیھَا) ۔
وہ تمام دولت وثروت کہ جس کی خاطر انھوں نے گناہ اور ظلم وستم کئے نابود ہوگئی، ان کی زمینیں اور زرق وبرق زندگی ختم ہوگئی اور ان کا شور وغوغا خاموش ہوگیا اور آخرکار جیسا کہ قومِ عاد وثمود کی داستان کے آخر میں بیان ہوا ہے، فرمایا گیا: دور ہوسرزمینِ مدین لطف ورحمتِ پروردگار سے جیسے کہ قوم ِ ثمود دور ہوئی (اٴَلَابُعْدًا لِمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ) ۔
واضح ہے کہ یہاں”مدین“ سے مراد اہلِ مدین ہیں جو رحمتِ خدا سے دور ہوئے ۔

شعیب (علیه السلام) کی داستان میں تربیتی درس
انبیاء کے حالات اور گزشتہ اقوام کی داستانیں ہمیشہ بعد کی اقوام کے لئے الہام بخش اور سبق آموز ہوتی ہیں کیونکہ ان کی زندگی کی آزمائشیں کہ جو بعض اوقات دسیوں سال یا سینکڑوں سال تک جاری رہیں تاریخ کے چند صفحات میں سمٹ کر سب کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں اور ہر کوئی اپنی زندگی میں ان سے سبق حاصل کرسکتا ہے ۔اس عظیم پیغمبر۔ حضرت شعیب (علیه السلام) کی زندگی بھی ہمیں بہت سے درس دیتی ہے، مثلاً:

۱۔ اقتصادی مسائل کی اہمیت
اس سرگزشت میں ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت شعیب (علیه السلام) نے انھیں دعوتِ توحید کے بعد مالی امور تجارت میں حق وعدالت کی دعوت دی، یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ ایک معاشرے کے اقتصادی مسائل کو معمولی اور غیر اہم شمار نہیں کیا جاسکتا، یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ انبیاء صرف اخلاقی مسائل کے لئے مامور نہ تھے بلکہ اجتماعی واقتصادی کیفیت کی خرابی کی اصلاح بھی ان کی دعوت کا ایک اہم حصہ تھی، اس حد تک اہم کہ وہ اسے دعوتِ توحید کے ساتھ قرار دیتے تھے ۔

۲۔ نماز۔توحید اور پاکیزگی کی طرف دعوت دیتی ہے
حضرت شعیب (علیه السلام) کی گمراہ قوم نے بڑے تعجب سے ان سے پوچھا کہ کیا تیری یہ نماز بتوں کی پرستش نہ کرنے اور کم فروشی اور دھوکہ بازی نہ کرنے کی دعوت دیتی ہے، شاید ان کا خیال تھا کہ ان حرکات اور اذکار کا ان امور میں کیا دخل ہے حالانکہ ہم جانتے ہیںکہ ان دونوں کے درمیان قوی ترین رابطہ ہے ، اگر نماز اپنے حقیقی مفہوم کے ساتھ ادا ہو یعنی انسان اپنے تمام وجود کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں کھڑا ہو تو یہ حضور تکامل وارتقاء کا زینہ، تربیتِ روح کا وسیلہ اور دل سے گناہ کا رنگ صاف کرنے کا ذریعہ ہے، یہ حضور انسان کے ارادہ کو قوی اور اس کے عزم کو راسخ کرتا ہے اور غرور وتکبر کو اس سے دور کرتا ہے ۔

۳۔ خود بینی جمود کا باعث ہے
جیسا کہ مندرجہ بالا آیات سے ہمیں معلوم ہوا ہے قومِ شعیب کے افراد خود خواہ اور خود بین تھے، اور اپنے آپ کو فہمیدہ اور سمجھدار خیال کرتے تھے، حضرت شعیب (علیه السلام) کو نادان سمجھتے تھے ان کا مذاق اڑاتے تھے، ان کی باتوں کو بے معنی اور ان کی شخصیت کو کمزور جانتے تھے، اس خود پرستی اور خود بینی نے ان کی زندگی کو تاریک کردیا تھا اور انھیں خاک سیاہ پر لابٹھایا تھا ۔
نہ فقط انسان بلکہ اگر جانور بھی خود بین ہو تو وہ راستے میں الٹک کر رہ جاتا ہے، کہتے ہیں گھوڑا سوار ایک شخص ایک نہر کے پاس پہنچا لیکن اس نے حیرت سے دیکھا کہ گھوڑا ایک چھوٹی سی اور کم گہری نہر میں گزرنے کے لئے تیار نہیں ہے ، اس نے بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوا، ایک دانا شخص کا وہاں سے گزر ہوا، اس نے کہا: نہر کے پانی کو ہلاؤ تاکہ وہ مٹی سے آلودہ ہوجائے، مشکل حل ہوجائے گی، اس نے یہ کام کیا، گھوڑے نے آرام سے اسے عبور کرلیا، اس پر لوگ بہت حیران ہوئے، انھوں نے اس دانا شخص سے اس کی وجہ دریافت کی ۔
اس مردِ حکیم نے کہا: جب پانی صاف تھا تو گھوڑے نے اپنا عکس پانی میں دیکھا، اس نے سمجھا کہ یہ وہ خود ہے، وہ تیار نہ ہوا کہ اپنا ہی پاؤں اپنے آپ پر رکھے لیکن جب پانی مٹی سے آلودہ ہوگیا تو اس کا عکس غائب ہوگیا اور وہ آسانی سے وہاں سے گزر گیا ۔

۴۔ اصولوں کو تعصب پر قربان نہیں کرنا چاہئےے
اس سرگزشت میں ہم نے پڑھا ہے کہ گمراہ قوم کی بدبختی کے عوامل میں سے ایک یہ تھا کہ وہ ذاتی کینہ پرستی اور عداوتوں کی وجہ سے حقائق کو بھلا دیتے تھے حالانکہ عقلمند اور حقیقت شناس وہ انسان ہے کہ ہر شخص سے حق بات سنے اور اسے قبول کرے چاہے کہنے والا اس کا اول درجے کا دشمن ہی کیوں نہ ہو ۔

۵۔ ایمان اور عمل ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں
ابھی بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ جن کا خیال ہے کہ صرف عقیدہ رکھ کر ہی مسلمان ہوا جاسکتا ہے، اگرچہ وہ عمل نہ بھی کریں، بہت سے ایسے افراد ہیں کہ جو چاہتے ہیں کہ دین ان کی سرکش ہواوہوس کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے، اور انھیں ہر لحاظ سے آزاد رکھے ۔
داستان شعیب (علیه السلام) سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قوم بھی ایسے ہی دین کی خواہاں تھی، لہٰذا وہ حضرت شعیب (علیه السلام) سے کہتے تھے کہ ہم نہ اس کے لئے تیار ہیں اور نہ اپنے بڑوں کے بتوں کو فراموش کریں اور نہ ہم اپنے سرمائے اور اموال کے بارے میں اپنی آزادی ہاتھ سے دیں گے، وہ یہ بات بھولے ہوئے تھے کہ اصولی طور پر شجرِ ایمان کا ثمر عمل ہے اور انبیاء کا دین وآئین اس لئے تھا کہ انسان کی ذاتی خرابیوں عملی کمزوریوں اور انحرافات کی اصلاح کرے ورنہ جس درخت کی نہ کوئی شاخ ہو نہ پتے اورنہ پھل وہ جلانے کے ہی کام آئے گا ۔
انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں ایک طبقے میں یہ فکر بڑی راسخ ہوچکی ہے، وہ اسلام کو بس خشک عقائد کا ایک ایسا مجموعہ سمجھتے ہیں کہ جو فقط مسجد کے اندر ان کے ساتھ ہے اورجو نہی وہ مسجد کے دروازے سے باہر نکلتے ہیں تو اسے خدا حافظ کہہ دیتے ہیں، ان کے دفتروں میں، بازاروں میں اور کاروبار میں اسلام کا کوئی عمل دخل اورنام ونشان نہیں ہے ۔
بہت سے اسلامی ممالک کو ہم نے دیکھا ہے یہاں وہ ممالک جو ظہور اسلام کا مرکز تھے وہاں یہ تلخ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ اسلام چند عقائد اور چند کم روح عبادات میں منحصر ہوگیا ہے، علم وآگاہی، عدالتِ اجتماعی، رشدِ ثقافتی، بینشِ فرہنگی اور اخلاقِ اسلامی میں سے کسی چیز کا نام ونشان اور خبر نہیں ہے، اگرچہ خوش بختی سے چند ایک اسلامی تحریکوں کی وجہ سے خصوصا نوجون طبقے میں سچے اسلام اور ایمان وعمل کی یکجائی کی ایک تحریک پیدا ہوتی ہے، لہٰذا اب یہ جملہ کہ اسلام کو ہمارے عمل سے کیا کام یا اسلام کا تعلق دل سے ہے نہ کہ زندگی سے، کم سنا جاسکتا ہے ۔
نیز یہ جو التقاطی لوگوں(کہ جو کسی ایک مکتب کے پیروکار نہیں ہوتے) کا نظریہ ہے کہ ہم عقیدہ اسلام سے اور اقتصادیات مارکس سے لیتے ہیں یہ بھی قومِ شعیب کے گمراہوں کی سی طرزِ تفکر رکھتے ہیں، یہ نظریہ بھی قابل مذمت ہے، لیکن بہرحال یہ تفرقہ بھی قدیم زمانے سے ہے اور آج بھی موجود ہے، ہمیں اس کے خلاف جہاد کرنا چاہیئے ۔

۶۔بلا شرط اور لامحدود ملکیت فساد کا سرچشمہ ہے
قومِ شعیب اس اشتباہ میں گرفتار تھی کہ کسی شخص کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی شخص کے لئے اس کے اموال میں تصرف کے بارے میں تھوڑی سے بھی حد بندی کی بات کرے، یہاں تک کہ وہ حضرت شعیب (علیه السلام)سے تعجب کرتے اور کہتے تھے کہ تجھ سا دانا شخص کیونکر ہمارے اموال کے بارے میں ہماری آزادی عمل میں رکاوٹ ڈلتا ہے، انھوں نے یہ بات تمسخر کے طور پر کہی یا حقیقت کے طور پر نشاندہی کرتی ہے کہ وہ مالی تصرفات میں کسی حدبندی کو خلاف عقل سمجھتے تھے، حالانکہ یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی، اگر لوگ اپنے اموال میں تصرف کرنے کے بارے میں آزاد ہوں تو پورا معاشرہ بد بختی اور خرابی کی لپیٹ میں آجائے گا، مالی امور کو صحیح اور نپے تلے ضوابط کے تابع ہونا چاہیئے، جیسے انبیائے الٰہی لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے ورنہ معاشرہ تباہ وبرباد ہوکر رہ جائے گا ۔

۷۔ انبیاء کا ہدف فقط اصلاح تھا
یہ جو حضرت شعیب (علیه السلام) نے فرمایا:”ان ارید الاالاصلاح ما استعطعتم“ (مَیں تو فقط حتی المقدور اصلاح چاہتا ہوں) یہ فقط ان کا شعار نہ تھا بلکہ تمام انبیاء اور تمام حقیقی رہبروں کا شعار تھا، ان کا گفتار وکردار ان کے اس ہدف کا شاہد ہے، وہ نہ لوگوں کی مشغولیت کے لئے آئے تھے ، نہ ان کے گناہ بخشنے کے لئے، نہ انھیں جنت بھیجنے کے لئے، نہ طاقتوروں کی حمایت کے لئے اور نہ عوام کے ذہنوں کو ماؤف کرنے کے لئے بلکہ ان کا ہدف اور مقصد ایک مکمل اور حقیقی اصلاح تھا، اصلاح سے ان کی مراد وسیع تر اصلاح تھی، فکر ونظر کی اصلاح، اخلاق کی اصلاح، معاشرے کے ثقافتی نظام کی اصلاح، اقتصادی اصلاح اور سیاسی اصلاح ۔
خلاصہ یہ کہ معاشرے کے تمام پہلوؤں کی اصلاح ان کے مدِنظر تھی ۔
اور اس مقصد کے حصول کے لئے ان کا سہارا فقط خدا تھا، وہ کسی سازش اور دھمکی سے نہیں ڈرتے تھے جیسا کہ حضرت شعیب (علیه السلام) نے کہا:
وَمَا تَوْفِیقِی إِلاَّ بِاللهِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْہِ اٴُنِیب۔

۹۶ وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا مُوسیٰ بِآیَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِینٍ
۹۷ إِلَی فِرْعَوْنَ وَمَلَئِہِ فَاتَّبَعُوا اٴَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا اٴَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیدٍ
۹۸ یَقْدُمُ قَوْمَہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فَاٴَوْرَدَھُمْ النَّارَ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ
۹۹ وَاٴُتْبِعُوا فِی ھٰذِہِ لَعْنَةً وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ

ترجمہ

۹۶۔ ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا ۔
۹۷۔ فرعون اور اس کے حواریوں کی طرف انھوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی جبکہ فرعون کا حکم رشد ونجات کا باعث نہیں تھا ۔
۹۸۔ وہ روز قیامت اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور وہ انھیں (جنت کے خوشگوار چشموں کی طرف لے جانے کی بجائے) آتشِ جہنم میں پہنچادے گا اور کتنا بُرا ہے کہ آگ انسان کے لئے پانی کا گھاٹ قرار پائے ۔
۹۹۔ وہ اس جہان میں اور روزِ قیامت رحمتِ خدا سے دُور ہوں گے اور انھیں کیا بُرا تحفہ دیا جائے گا ۔

فرعون کے ساتھ زبردست مقابلہ
حضرت شعیب(علیه السلام) اور اہلِ مدین کی داستان ختم ہونے کے بعد اب اشارہ حضرت موسی(علیه السلام)ٰ بن عمران کی سرگزشت کے ایک پہلو کی طرف کیا گیا ہے، یہاں فرعون کے ساتھ ان کے مقابلوں کا ذکر ہے اور اس سورہ میں یہ انبیاء الٰہی سے متعلق ساتویں داستان ہے ۔
تمام پیغمبروں کی نسبت قرآن میں حضرت موسی(علیه السلام)ٰ کا واقعہ زیادہ آیا ہے، تیس سے زیادہ سورتوں میں موسی(علیه السلام)ٰ وفرعون اور بنی اسرائیل کے واقعہ کی طرف سو سے زیادہ مرتبہ اشارہ ہوا ہے ۔
حضرت صالح(علیه السلام) شعیب(علیه السلام) اور لوط (علیه السلام) جیسے ابنیاء کہ جن کے واقعات ہم پڑھ چکے ہیں کی نسبت حضرت موسیٰ کے واقعہ کی خصوصیت یہ ہے کہ ان انبیاء نے گمراہ قوموں کے خلاف قیام کیا تھا ۔
اصولی طور پر صاف پانی کے لئے چشمے کو صاف کرنا چاہیے، جب تک فاسد حکومتیں برسرِاقتدار ہیں کوئی معاشرہ شعادت اور نیک بختی کا منھ نہیں دیکھے گا، خدائی رہبروں کو ایسے معاشروں میں سب سے پہلے فساد کے ان مراکز کو درہم وبرہم کرنا چاہیے ۔
توجہ رہے کہ یہاں ہم حضرت موسی(علیه السلام)ٰ کی سرگزشت کے ایک مختصر گوشے کا مطالعہ کریں گے کہ جو مختصر ہونے کے باوجود تمام انسانوں کو ایک عظیم پیغام دے رہا ہے ۔
پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: ہم نے موسیٰ کو اپنے عطا کردہ معجزات اور قوی دلیل کے ساتھ بھیجا (وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا مُوسیٰ بِآیَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِینٍ) ۔
”سلطان“کا معنی”تسلط“ یہ کبھی ظاہری تسلط کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی منطقی تسلط کے معنی میں، یعنی ایسا تسلط کہ کہ جو ںمخالف کے سامنے ایسی دیوار بن جائے کہ اسے فرار کا کوئی راستہ نہ ملے ۔
مندرجہ بالا آیت میں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ”سلطان“ دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے اور لفظ ”آیات“ حضرت موسی(علیه السلام)ٰ کے واضح معجزات کی طرف اشارہ ہے، مفسّرین نے ان دو لفظوں کے بارے میں احتمالات بھی ذکر کئے ہیں ۔
بہرحال موسی(علیه السلام)ٰ کو سرکوبی کرنے والے ان معجزات اور قوی منطق کے ساتھ ”ہم نے فرعون اور اس کے اطرافیوں کی طرف بھیجا“ (إِلَی فِرْعَوْنَ وَمَلَئِہِ) ۔
جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے ”ملاٴ“ایسے لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ جن کا ظاہر آنکھوں کو پُر کردیتا ہے اگرچہ وہ اندر سے خالی ہوتے ہیں، منطق قرآن میں اس کا اطلاق زیادہ تر اعیان واشراف اور پُرفریب اشخاص پر ہوتا ہے جو ظالم طاقتوں کے گرد رہتے ہیں ۔
فرعون کے اطرافی جو دیکھ رہے تھے کہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے قیام سے ان کے ناجائز مفادات خطرے میں ہیں حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے معجزات اور منطق کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے پر تیار نہ ہوئے ”لہٰذا انھوں نے حکمِ فرعون کی پیروی کی“(فَاتَّبَعُوا اٴَمْرَ فِرْعَوْنَ) ۔ مگر فرعون کا حکم ہرگز ان کی سعادت کا ضامن اور سرمایہٴ رشد ونجات نہیں ہوسکتا تھا (وَمَا اٴَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیدٍ) ۔
البتہ فرعون کو یہ مقام آسانی سے نہیں مل گیا تھا بلکہ اس نے اپنے مقاصد کے لئے ہر طرح کے سازشی حربے استعمال کی اور حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا، یہاں تک کہ وہ اس کے لئے نفسیاتی ہتھکنڈہ ہاتھ سے جانے سے نہیں دیتا تھا ۔
کبھی وہ کہتا تھا کہ موسیٰ چاہتا ہے کہ تم سے زمینیں، ہتھیالے اور تمھیں کہ جو ان کے اصلی مالک ہو نکال باہر کرے، قرآن نے اس بات کو یوں نقل کیا ہے:
<یُرِیدُ اٴَنْ یُخْرِجَکُمْ مِنْ اٴَرْضِکُمْ> (اعراف/۱۱۰)
کبھی وہ اپنی قوم کے مذہبی احساس کو تحریک دیتا اور کہتا:
<إِنِّی اٴَخَافُ اٴَنْ یُبَدِّلَ دِینَکُمْ>
مَیں اس سے ڈرتا ہوں کہ یہ کہیں تمھارے دین ہی کو نہ بدل ڈالے ۔ (المومن/۲۶)
کبھی کہتا:
<اٴَوْ اٴَنْ یُظْھِرَ فِی الْاٴَرْضِ الْفَسَادَ>
مجھے ڈر ہے کہ یہ تمھاری زمین پر فتنہ وفساد برپا نہ کردے ۔ (المومن/۲۶)
کبھی حضرت موسیٰ(علیه السلام) پر تہمت لگاتا، کبھی انھیں دھمکی دیتا، کبھی اہلِ مصر کے سامنے اپنی قدرت وشوکت کا مظاہرہ کرتا اور کبھی مکاری سے اپنے آپ کو ایک ایسے رہبر کی حیثیت سے پیش کرتا کہ جو ان کی خیر اور اصلاح کا ضامن ہے اور چونکہ روزِ قیامت ہرقوم وملت اور ہر گروہ اپنے رہبر کے ساتھ محشور ہوگا اور جہان کے رہبر وہاں بھی رہبر شمار ہوں گے لہٰذا فرعون بھی کہ جو اپنے زمانے کے گمراہوں کا رہبر تھا، میدان حشر میں ان کے آگے آگے ہوگا (یَقْدُمُ قَوْمَہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ) ۔ لیکن یہ پیشوا اپنے پیروکاروں کو اس جلادینے والی گرمی میں کسی ٹھنڈے میٹھے پانی کے خوشگوار چشمے کے کنارے لے جانے کے بجائے انھیں آتش جہنم میں لے کر داخل ہوگا (فَاٴَوْرَدَھُمْ النَّارَ) ۔ اور کیسی بُری چیز ہے کہ آگ انسان کے لئے پانی کا گھاٹ قرار پائے کہ جس میں وہ اخل ہو(وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ) ۔ وہ چیز کہ جو تشنگی دور کرنے کے بجائے انسان کے سارے وجود کو جلادے اور سیراب کرنے کی بجائے اس کی پیاس اور بھڑکادے ۔
توجہ رہے کہ ”ورود“ در اصل پانی کی طرف چلنے اور س کے قریب ہونے کے معنی میں ہے لیکن بعد ازں ہر قسم کی چیز کے کسی چیز پر داخل ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔
”وِرد“ (بروزن ”ذکر“ ) اس پانی کو کہتے ہیں جس پر انسان وارد ہو اور پانی پر وارد ہونے کے معنی میں بھی آیا ہے ۔
اور ”مورود“ اس پانی کو کہتے ہیں جس پر وارد ہوا جائے (یہ اسم مفعول ہے) ۔
اس بناء پر ”بئس الورد المورود“ کا معنی یہ ہوگا: آگ پانی پینے کی بُری جگہ ہے کہ جس پر وہ وارد ہوں گے ۔ (۱)
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جہاں اس دنیا کے ہمارے اعمال وافعال ایک وسیع صورت (ENLRRGED FORM) میں مجسم ہوں گے، اُس جہاں کی خوش بختیاں اور بدبختیاں ہمارے اِس جہاں کے کاموں کا پَرتو ہیں، جو اشخاص یہاں اہل بہشت کے رہبر ورہنما ہیں وہاں بھی مختلف گروہوں کو جنت اور سعادت کی طرف لے جائیں گے اور خود ان کے آگے آگے ہوں گے ۔
اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: اِس جہان میں وہ لعنتِ خدا سے ملحق ہوگئے، سخت عذاب اور سزا میں گرفتار ہوگئے اور ٹھاٹھیں نارتی ہوئی موجوں میں وہ غرق ہوگئے اور روزِ قیامت بھی رحمتِ الٰہی سے دور ہوں گے (وَاٴُتْبِعُوا فِی ھٰذِہِ لَعْنَةً وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ) ۔
ان کا ننگین نام صفحاتِ تاریخ میں ہمیشہ کے لئے ایک گمراہ اور جابر قوم کے عنوان سے ثبت ہوگا، لہٰذا انھیں اس دنیا میں نقصان اٹھانا پڑا اور دوسرے جہان میں بھی اور جہنم کی آگ انھیں دیا جانے والا کیسا بُرا عطیہ ہے (بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ) ۔
”رفد“ در اصل کوئی کام انجام دینے میں مدد کرنے کے معنی میں ہے، یہاں تک کہ اگر کسی چیز کو دوسری چیز کا سہارا قرار دیا جائے تو اسے بھی ”رفد“ سے تعبیر کرتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ یہ لفظ عطا اور بخشش کے معنی میں استعمال ہونے لگاکیونکہ یہ عطا کرنے والے کی طرف سے اس کی مدد ہوتی ہے جسے عطا کی جارہی ہو۔
..............
۱۔ ترکیب نحوی کے لحاظ سے یہ جملہ اس طرح ہے:
”بئس“ فعل ذم ہے ، اس کا فاعل ”الورد“ ہے ، ”المورود“ صفت ہے اور مخصوص بالذم لفظ ”النار“ ہے ، جو محذوف ہے ۔
بعض ادباء نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ ”المورود“ مخصوص بالذم ہے اور آیت میں کوئی چیز محذوف نہیں ہے، لیکن پہلا احتمال زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے ۔
ترکیب نحوی کے لحاظ سے یہ جملہ اس طرح ہے جس طرح ہم نے ”بئس الورد المورود“ بیان کیا ہے ۔

۱۰۰ ذٰلِکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الْقُریٰ نَقُصُّہُ عَلَیْکَ مِنْھَا قَائِمٌ وَحَصِیدٌ
۱۰۱ وَمَا ظَلَمْنَاھُمْ وَلَکِنْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَھُمْ فَمَا اٴَغْنَتْ عَنْھُمْ آلِھَتُھُمْ الَّتِی یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ شَیْءٍ لَمَّا جَاءَ اٴَمْرُ رَبِّکَ وَمَا زَادُوھُمْ غَیْرَ تَتْبِیبٍ
۱۰۲ وَکَذٰلِکَ اٴَخْذُ رَبِّکَ إِذَا اٴَخَذَ الْقُریٰ وَھِیَ ظَالِمَةٌ إِنَّ اٴَخْذَہُ اٴَلِیمٌ شَدِیدٌ
۱۰۳ إِنَّ فِی ذٰلِکَ لَآیَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذٰلِکَ یَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَہُ النَّاسُ وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَشْھُودٌ
۱۰۴ وَمَا نُؤَخِّرُہُ إِلاَّ لِاٴَجَلٍ مَعْدُودٍ
ترجمہ

۱۰۰۔ یہ شہروں اور آبادیوں کی خبریں ہیں کہ جو ہم تجھ سے بیان کرتے ہیں کہ جن میں سے بعض ابھی تک قائم ہیں اور بعض کٹ چکی ہیں (اورختم ہوچکی ہیں) ۔
۱۰۱۔ ہم نے ان پر ظلم کیا بلکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے اور جب عذابِ الٰہی کا حکم آپہنچا تو خدا کہ جنھیں وہ ”الله“ کے سوا پکارتے تھے انھوں نے ان کی مدد نہ کی اور ان کے لئے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا ۔
۱۰۲۔ اور تیرے پروردگار کا عذاب ایسا ہی ہوتا ہے جب وہ ظالم شہروں اور آبادیوں کوسزا دیتا ہے (جی ہاں) اس کی سزا اور عذاب دردناک اور شدید ہوتا ہے ۔
۱۰۳۔ اِس میں اس شخص کے لئے نشانی ہے کہ جو عذابِ آخرت سے ڈرتا ہے، وہی دن کہ جب لوگ جمع ہوں گے اور وہ دن کہ جس کا مشاہدہ سب کریں گے
۱۰۴۔اور ہم اس میں محدود مدّت کے سوا تاخیر نہیں کریں گے ۔

تفسیر
اس سورہ کی آیات میں گذشتہ اقوام میں سے سات کی سرگزشت بیان کی گئی ہے اور کچھ حصّہ ان کے انبیاء کی تاریخ کا بھی بیان ہوا ہے، ان میں سے ہر سرگزشت بھرپور انسانی زندگی کے مختلف زاویوں کا اہم حصّہ واضح کرتی ہے اور ہر ایک میں عبرت کے بہت سے درس ہیں، یہاں ان تمام واقعات کی طرف مجموعی طور پر اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ شہروں اور آبادیوں کے واقعات کا ایک حصّہ ہے کہ جو ہم تجھ سے بیان کررہے ہیں (ذٰلِکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الْقُریٰ نَقُصُّہُ عَلَیْکَ) ۔ وہی شہر اور آبادیاں جن کے کچھ حصّے ابھی قائم ہیں اور حصّے کشتِ زار کی طرح کٹ چکے ہیں اور تباہ ہوچکے ہیں (مِنْھَا قَائِمٌ وَحَصِیدٌ) ۔
”قَائِمٌ“ گزتہ اقوام کے ان شہروں اور آبادیوں کی طرف اشارہ ہے جو ابھی باقی ہیں، مثلاً سرزمینِ مصر کہ جہاں فرعونی رہا کرتے تھے اور یہ علاقہ اس ظالم قوم کے غرق ہوجانے کے بعد بھی اسی طرح باقی رہے، اس کے باغات، کھیت اور بہت سی خیرہ کن عمارتیں ابھی تک باقی ہیں ۔
”حَصِیدٌ“ کا معنی ہے ”کٹ جانے والی“ یہ ایسی سرزمینوں اور بستیوں کی طرف اشارہ ہے جو قومِ نوح اور قوم لوط کے علاقوں کی طرح ہیں کہ جن میں سے ایک بستی پانی میں غرق ہوگئی اور دوسری زیر وزبر ہوگئی اور ان پر سنگباری ہوئی ۔
لیکن یہ گمان نہ کرنا کہ ہم نے ان پر ظلم کیا ہے بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے (وَمَا ظَلَمْنَاھُمْ وَلَکِنْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَھُمْ) ۔
انھوں نے بتوں اور جھوٹے خداوٴں کی پناہ لی لیکن وج جن خداوٴں کو پروردگار کے مقابلے میں پکارتے تھے انھوں نے ان کی کوئی مشکل حل نہ کی (فَمَا اٴَغْنَتْ عَنْھُمْ آلِھَتُھُمْ الَّتِی یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ شَیْءٍ لَمَّا جَاءَ اٴَمْرُ رَبِّکَ) ۔
جی ہاں! ان مکار اور دھوکا باز خدداوٴں نے ان کے ضرر، نقصان، ہلاکت اور بدبختی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کیا (وَمَا زَادُوھُمْ غَیْرَ تَتْبِیبٍ)(۱) ۔
جی ہاں! تیرے پروردگار کی سزا ان شہروں اور آبادیوں کے لئے اسی طرح تھی جنھوں نے ظلم کیا کہ جب الله نے انھیں سپرد ہلاکت کیا (وَکَذٰلِکَ اٴَخْذُ رَبِّکَ إِذَا اٴَخَذَ الْقُریٰ وَھِیَ ظَالِمَةٌ) ۔ یقناً الله کی سزا اور عذاب دردناک اور شدید ہے (إِنَّ اٴَخْذَہُ اٴَلِیمٌ شَدِیدٌ) ۔
یہ خدا کا الیک عمومی قانون ہے، یہ ایک ہمیشگی مناسبت اور دائمی طریقہ ہے کہ جو قوم ملت اپنے ہاتھ آلودہٴ ظلم کرے، آلودہٴ ظلم کرے، خدائی فرامین کی سرحد سے تجاوز کرے اور انبیاء الٰہی کی رہبری، رہنمائی اور پند ونصائح کی پرواہ نہ کرے تو خدا آخرکار انھیں سختی سے جکڑلیتا ہے اور پنجہٴ عذاب میں پکڑ لیتا ہے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ مندرجہ بالا طریقہٴ کار ایک عمومی طرزِ عمل ہے اور دائمی سنت ہے، یہ سنت دیگر قرآن آیات سے بھی اچھی طرح معلوم ہوسکتی ہے، یہ حقیقت دراصل تمام اہلِ دنیا کو خبردار کرتی ہے کہ تم خیال نہ کرو کہ تم اس قانون سے مستثنیٰ ہو یا یہ کہ حکم گزشتہ اقوام کے ساتھ مخصوص تھا ۔
البتہ ”ظلم“ کے وسیع معنی میں تمام گناہ شامل ہیں ۔
نیز جو ”ھِیَ ظَالِمَة“ کہہ کر بستی، شہر اور ابادی کو ظالم کہا گیا ہے حالانکہ یہ صفت شہر اور آبادی کے ساکنوں سے مربوط ہے، یہ گویا اس لطیف نکتے کی پرطرف اشارہ ہے کہ وہ ظلم وستم اور بیدادگری میں اتے ڈوبے ہوئے ہیں کہ گویا شہر کا شہر ظلم وستم کا حصّہ بن گیاہے، یہ تعبیر فارسی زبان کی اس تعبیر سے ملتی ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ فلاں شہر کے در ودیوار سے ظلم برستا ہے، اور یہ چونکہ ایک عمومی قانون ہے اس لئے بلافاصلہ فرمایا گیا ہے: یہ عبرت انگیز سرگزشتیں اور دردناک شوم اور منحوس حوادث کہ جو گزشتہ لوگوں پر گزرے ہیں اِن میں اُن راہِ حق پانے والوں کے لئے نشانی ہے کہ عذاب آخرت کے مقابلے سے ڈرتے ہیں (إِنَّ فِی ذٰلِکَ لَآیَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ) ۔ کیونکہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی ہر چیز حقیر اور معمولی ہے یہاں تک کہ اس سزائیں اور عذاب بھی، دوسرا جہان ہر لحاظ سے وسیع تر ہے اور وہ لوگ جو قیامت پر ایمان رکھتے ہیں دنیا کے یہ نمونے دیکھ کر ہل جاتے ہیں، عبرت حاصل کرتے ہیں اور ان کے سامنے راستہ کھل جاتا ہے ۔
آیت کے آخر میں روزِ قیامت کے دو اوصاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ ایسا دن ہے کہ جس میں سب لوگ جمع ہوں گے (ذٰلِکَ یَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَہُ النَّاسُ) ۔ وہ ایسا دن ہے کہ جو تمام لوگوں کا مشہود ہے (وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَشْھُودٌ) ۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جیسے اس جہان میں خدائی قوانین وسنن عمومی اور سب کے لئے ہیں اُس عدالت میں بھی لوگوں کا اجتماع ہوگا، یہاں تک کہ ایک ہی وقت اور زمانے میں ہوگا، ایسا دن جو سب کے لئے واضح اور آشکار ہے، اس طرح کہ تمام انسان اس میں حاضر ہوں گے اور اسے دیکھیں گے ۔
یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ فرمایا گیا ہے: ”یَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَہُ النَّاسُ“ یعنی ایسا دن جس کے لئے لوگ جمع ہوں گے، یہ نہیں کہا کہ ”فیہ النَّاس“ یعنی اس میں لوگ جمع ہوں گے، یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ قیامت کا دن صرف ایسا ظرف نہیں ہے کہ جس میں لوگ جمع ہوں گے بلکہ ایک ہدف اور مقصد ہے کہ جس کیں طرف انسان اپنے تکامل وارتقاء کے لئے بڑھیں گے ۔
سورہٴ تغابن کی آیت۹ میں بھی ہے:
<یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ>
وہ دن کہ جو جمع کرنے اور اجتماع کا دن ہے، جو تم سب کو اکھٹا کرے گا اور وہ ایسا دن ہے کہ جس میں سب احساسِ زیاں کریں گے ۔
چونکہ ممکن ہے بعض لوگ کہیں کہ اس دن کے بارے میں گفتگو کرنا ادھار والی بات ہے، معلوم نہیں وہ کب آئے گا؟ لہٰذا قرآن بلافاصلہ کہتا ہے: اس دن کو ہم صرف ایک محدود زمانے کے لئے تاخیر میں ڈالیں گے (وَمَا نُؤَخِّرُہُ إِلاَّ لِاٴَجَلٍ مَعْدُودٍ) ۔
وہ بھی ایک مصلحت کے لئے جو واضح ہے تاکہ عالمِ دنیا کے لوگ آزمائش اور پرورش کے میدان دیکھ لیں اور انبیاء کا آخری پروگرام عمل شکل اختیار کرلے اور یہ جہان تکامل وارتقاء کے جس آخری سلسلے کی استعداد رکھتا ہے وہ ظاہر ہوجائے اور پھر اس جہان کے اختتام کا اعلان کیا جائے ۔
”معدود“ (یعنی شمار کیا ہوا)، یہ تعبیر قیامت کے نزدیک ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جوچیز قابلِ شمار اور گِنی جاسکے وہ محدود اور نزدیک ہے ۔
خلاصہ یہ کہ اس دن کی تاخیر ظالموں کو ہرگز مغرور نہ کردے کیونکہ اگرچہ دیر ہوجائے قیامت آکر رہے گی یہاں تک کہ اس کے لئے دیر سے آنے کی تعبیر بھی صحیح نہیں ہے ۔
..............
۱۔ ”تتبیب“ کا مادہ ”تب“ ہے اس کا معنی ہے نقصان اور خسارے میں استمرار، نیز یہ لفظ ہلاکت اور نابودی کے معنی میں بھی آیا ہے ۔