تفسیر نمونہ جلد 09
 

۸۴ وَإِلیٰ مَدْیَنَ اٴَخَاھُمْ شُعَیْبًا قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ وَلَاتَنقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ إِنِّی اٴَرَاکُمْ بِخَیْرٍ وَإِنِّی اٴَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُحِیطٍ۔
۸۵ وَیَاقَوْمِ اٴَوْفُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَاتَبْخَسُوا النَّاسَ اٴَشْیَائَھُمْ وَلَاتَعْثَوْا فِی الْاٴَرْضِ مُفْسِدِینَ۔
۸۶ بَقِیَّةُ اللهِ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ وَمَا اٴَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیظ۔

ترجمہ

۸۴۔اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، اس نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کراو، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں اور پیمانہ اور وازن کم نہ کرو (کم فروشی نہ کرو)مَیں تمہارا خیر خواہ ہوں اور مِیں تمھارے لئے محیط ہوجانے والے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔
۸۵۔اے میری قوم! پیمانہ اور وززن عدالت سے پورا کرو اور لوگوں کی اشیاء (اجناس)پر قابو نہ رکھو اور ان کے حق میں کمی نہ کرو اور زمین میں فساد نہ کرو۔
۸۶۔خدا نے تمھارے لئے جو حلال سرمایہ باقی رکھا ہے وہ تمھارے لئے بہتر ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو اور میں تمہارا پاسدار (اور تمھیں ایمان پر مجبور کرنے والا)نہیں ہوں ۔

حضرت شعیب (علیه السلام) کی سرزمین۔ مدین
قوم لوط کی عبرت انگیز داستان ختم ہونے پر قومِ شعیب اور اہلِ مدین کی نوبت آئی ہے، یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے توحید کا راستہ چھوڑ دیا تھا اور شرک وبت پرستی کی سنگلاخ زمین میں سرگرداں ہوگئے تھے، یہ لوگ نہ صرف بُتوں کو پوجتے تھے بلکہ درہم ودینار اور اپنے مال وثروت کی بھی پرستش کرتے تھے اور اسی لئے وہ اپنے کاروبار اور بارونق تجارت کو نادرستی ، کم فروشی اور غلط طریقوں سے آلودہ کرتے تھے ۔
ابتدا میں فرمایا گیا ہے: مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا (وَإِلیٰ مَدْیَنَ اٴَخَاھُمْ شُعَیْبًا) ۔
جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں لفظ ”اخاھم“ (ان کا بھائی) اس بنا پر ہے کہ اپنی قوم سے پیغمبروں کی انتہائی محبت کو بیان کیا جائے، نہ صرف اس بناء پر کہ وہ افراد ان کے گروہ اور قبیلے سے تھے بلکہ اس لئے کہ وہ ان کے خیرخواہ اور ہمدرد بھائی کی طرح تھے ۔
مدین (بروزن” مَریَم“) حضرت شعیب (علیه السلام) اور ان کے قبیلے کی آبادی کا نام ہے، یہ شہر خلیج عقبہ کے مشرق میں واقع ہے، اس کے لوگ ااولادِ اسماعیل میں سے تھے، مصر، لبنان اور فلسطین سے تجارت کرتے تھے ۔
آج کل شہر مدین کا نام ”معان“ ہے، بعض جغرافیہ دانوں نے خلیج عقبی کے درمیان سے کوہ سینا تک زندگی بسر کرنے والوں پر مدین کے نام کا اطلاق کیا ہے ۔
تورات میں بھی لفظ ”مدیان“ آیا ہے لیکن بعض قبائل کے لئے (البتہ ایک ہی لفظ شہر اور اہل شہر پر عام طور پر استعمال ہوجاتا ہے) ۔ (۱)
اس پیغمبر اور ہمدرد ومہربان بھائی نے جیسا کہ تمام انبیاء کا آغازِ دعوت میں طریقہ ہے پہلے انھیں مذہب کے اساسی ترین رکن ”توحید“ کی طرف دعوت دی اور کہا:اے قوم! یکتا ویگانہ خدا کی پرستش کروکہ جس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں (قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہ)، کیونکہ دعوتِ توحید تمام طاغوتوں اور جہالت کی تمام سنتوں کو توڑنے کی دعوت ہے اور اس کے بغیر کسی قسم کی اجتماعی اور اخلاقی اصلاح ممکن نہیں ہے ۔
اس وقت اہل مدین میں ایک اقتصادی خرابی شدید طور پر رائج تھی جس کا سرچشمہ شرک اور بت پرستی کی روح ہے، اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:خرید وفروخت کرتے وقت چیزوں کا پیمانہ اور وازن کم نہ کرو (وَلَاتَنقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَان) ۔
”مکیال“اور ”میزان“ پیمانہ اور ترازو کے معنی میں ہے اور انھیں کرنا اور کم فروشی لوگوںکے حقوق ادا نہ کرنے کے معنی میں ہے ۔
ان دونوںکے کاموں کا ان کے درمیان رواج نشاندہی کرتا ہے کہ ان کے کاموں میں نظم ونسق، حساب وکتاب اور میزان وترازو نہیں تھا اور ان کے سرمایہ دار معاشرے میں غارت گری، استثماری اور ظلم وستم کا نمونہ تھا ۔
یہ عظیم پیغمبر اس حکم کے بعد فوراً اس کے وہ علل واسباب کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
پہلے کہتے ہیں:اس نصیحت کو قبول کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اچھائیوں کے دروازے تمھارے لئے کھُل جائیں گے، تجارت کو فروغ حاصل ہوگا، چیزوں کی قیمتیں گر جائیں گی، معاشرے کو سُکھ چین نصیب ہوگا، خلاصہ یہ کہ ”مَیں تمہارا خیر خواہ ہوں “ اور مجھے اعتماد ہے کہ یہ نصیحت تمھارے معاشرے کے لئے خیروبرکت کا سرچشمہ بنے گی (إِنِّی اٴَرَاکُمْ بِخَیْر) ۔
اس جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ حضرت شعیب (علیه السلام) کا مقصود یہ تھا کہ” مَیں دیکھ رہا ہوں کہ تم نعمتِ فراواں اور خیرِ کثیر کے حامل ہو “ اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ تم پستی کی طرف مائل ہوکر لوگوں کے حقوق ضائع کرو اورشکرِ نعمت کی بجائے کفرانِ نعمت کرو۔
دوسرا یہ کہ اس سے ڈرتا ہوں کہ شرک، کفرانِ نعمت اور کم فروشی پر اصرار کے نتیجے میں تمھیں محیط ہوجانے والے دن کا عذاب نہ آلے ( وَإِنِّی اٴَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُحِیطٍ) ۔
یہاں ”محیط“ ”یوم“ کی صفت ہے یعنی ایک گھیر لینے والادن، البتہ گھیر لینے والے دن سے مراد اس دن کا گھیر لینے والاعذاب ہے، ہوسکتا ہے یہ عذابِ آکرت کی طرف اشارہ ہو اور اسی طرح دنیا کے گھیر لینے والے عذاب اور سزا کی بھی نشاندہی ہو۔
لہٰذا تمھیں بھی ایسے کاموں کی ضرورت نہیں اور ان کاموں کے باعث عذابِ خدا بھی تمھاری گھات میں ہے اس لئے جس قدر جلد ممکن ہو اپنی حالت ٹھیک کرلو۔
بعد والی آیت پھر ان کے اقتصادی نظام کے بارے میں تاکید کررہی ہے، اگر پہلے شعیب اپنی قوم کو کم فروشی سے منع کرچکے تھے تو آیت کے اس حصے میں لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی دعوت دی جارہی ہے، فرمایا: اے قوم! پیمانہ اور میزان کو عدل سے پورا کرو (وَیَاقَوْمِ اٴَوْفُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ بِالْقِسْط)، قسط وعدل کا یہ قانون اور ہر شخص کو اس کے حق کی ادائیگی کا یہ ضابطہ تمھارے پورے معاشرے پر حکمران ہوناچاہیئے ۔
پھر اس کے آگے بڑھ کر فرمایا: لوگوں کی چیزوں اوراجناس پرعیب نہ رکھو اور ان میں سے کسی چیز کو کم نہ کرو( وَلَاتَبْخَسُوا النَّاسَ اٴَشْیَائَھُم) ۔
”بخس “(بروزن”نحس“) اصل میں ظلم کرتے ہوئے کم کرنے کے معنی میںہے اور یہ جو ان زمینوںکو ”بخس“ کہا جاتا ہے کہ جو آبیاری کے بغیر کاشت ہوتی ہیں اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ ان کا پانی کم ہے (اور وہ صرف بارش سے استفادہ کرتی ہیں) یا اس لئے کہ ان کی پیداوار پانی والی زمینوں سے کم ہے ۔
اس جملے کے مفہوم کی وسعت پر نگاہ ڈالیں تو یہ سب اقوام وملل کے لئے تمام انفرادی اور اجتماعی حقوق کے احترام کی دعوت ہے، ”بخس حق“ ہر ماحول اور ہر زمانے میں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتا ہے یہاں تک کہ بعض اوقات بلا معاوضہ مدد یا کسی اور صورت میں تعاون اور قرض کے نام پر بھی حقوق غصب کئے جاتے ہیں (جیسا کہ آج کل استعماری اور سامراجی طاقتوں کا طرزِ عمل ہے) ۔
آیت کے آخر میں اس سے بھی آگے بڑھ کر فرمایا گیا ہے: روئے زمین پر فساد نہ کرو(وَلَاتَعْثَوْا فِی الْاٴَرْضِ مُفْسِدِین) ۔
کم فروشی کے ذریعے فساد اور برائی، لوگوں کے حقوق کو غصب کرنے کا فساد اور حقوق پر تجاوز کا فساد، معاشرتی میزان اور اعتدال کو درہم برہم کرنے کا فساد، اموال اور اشخاص پر عیب لگانے کا فساد۔ خلاصہ یہ کہ لوگوں کی حیثیت، آبرو، ناموس اور جان کے حریم پر تجاوز کرنے کا فساد۔
”لا تعثوا“ ”فساد نہ کرو“ کے معنی میں ہے، اس بناء پر اس کے بعد ”مفسدین“ کا ذکر زیادہ سے زیادہ تاکید کی خاطر ہے ۔
مندرجہ بالا دو آیات سے یہ حقیقت اچھی طرح سے واضح ہوتی ہے کہ توحید کا اعقاد اور آئیڈیالوجی کا معاملہ ایک صحیح وسالم اقتصاد کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے، نیز یہ آیات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اقتصادی نظام کا درہم برہم ہونا معاشرے کی وسیع تباہی اور فساد کا سرچشمہ ہے ۔
آخر میں انھیں یہ گوش گزار کیا گیا ہے کہ ظلم وستم کے ذریعے اور استعماری ہتھکنڈوں سے بڑھنے والی دولت تمھاری بے نیازی اور استغنا کا سبب نہیں بن سکتی بلکہ حلال طریقے سے حاصل کیا ہوا جو سرمایہ تمھارے پاس باقی رہ جائے چاہے وہ تھوڑا ہی ہو اگر خدا اور اس کے رسول پر ایمان کے ساتھ ہو تو بہتر ہے ( بَقِیَّةُ اللهِ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ) ۔
” بَقِیَّةُ اللهِ“کی تعبیر اس بنا پر ہے کہ تھوڑا حلال چونکہ خدا کے فرمان کے مطابق ہے لہٰذا ” بَقِیَّةُ اللهِ“ ہے اور یااس لئے ہے کہ حلال کی کمائی نعمتِ الٰہی دوام اور برکات کی بقا کا باعث ہے یا پھر یہ معنوی جزا اور ثواب کی طرف اشارہ ہے کہ جو ابد تک باقی رہتا ہے اگرچہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے فنا ہوجائے گا، سورہ کہف کی آیہ ۴۶ میں ہے:
<وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَخَیْرٌ اٴَمَلًا>
اور باقی رہنے والی نیکیاں تمھارے رب کے نزدیک انجام کی حیثیت سے بھی بہتر ہے اور امید وآرزو کے لحاظ سے بھی ۔
یہ بھی اسی طرف اشارہ ہے ۔
”إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ“(اگر تم ایمان رکھتے ہو)، یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ یہ حقیقت صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جو خدا، اس کی حکمت اور اس کے فرامین کے فلسفہ پر ایمان رکھتے ہیں ۔
متعدد روایات میں ہے کہ ”بقیة اللہ“ صرف مہدی (علیه السلام) یا بعض دوسرے ائمہ کے وجود کی طرف اشارہ ہے، ان روایات میں سے ایک کتاب ”اکمال الدین“ میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
اول ما ینطق بہ القائم علیہ السلام حین خرج ھٰذہ الایة ”بَقِیَّةُ اللهِ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ “ ۔
ثم یقال:
انا بقیةاللّٰہ و حجتہ وخلیفتہ علیکم فلا یسلم علیہ مسلم الا قال علیک یا بقیةاللّٰہ فی ارضہ۔
پہلی بات جو حضرت مہدی (علیه السلام) اپنے قیام کے بعد کریں گے وہ یہ آیت ہوگی” بَقِیَّةُ اللهِ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ “۔
اس کے بعد کہیں گے:
مَیں بقیةاللہ ہوں اور تم میں اس کی حجت اور خلیفہ ہوں، لہٰذا اس کے بعد کوئی شخص ایسا نہ ہوگا کہ جو اس طرح سے آپ(علیه السلام) پر سلام نہ کرے گا:السلام علیک یا بقیة اللّٰہ فی ارضہ۔
یعنی ۔اے خدا کی زمین میں بقیةاللہ! آپ پر سلام ہو۔ (2)
ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ آیاتِ قرآن اگرچہ خاص مواقع کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ان کا مفہوم جامع ہے اور یہ ممکن ہے کہ بعد کے زمانوں میں وہ زیادہ اور وسیع مصداق پر منطبق ہوں ۔
یہ صحیح ہے کہ زیرِ بحث آیت میں قومِ شعیب مخاطب ہے اور” بَقِیَّةُ اللهِ“ سے مراد حلال سرمایہ اور منافع اور جزائے الٰہی ہے لیکن ہر نفع بخش موجود کہ جو خدا تعالی کی طرف سے بشر کے لئے باقی ہے اور خیروسعادت کا باعث ہے اسے ” بَقِیَّةُ اللهِ“ شمار کیا جاسکتا ہے ۔
تمام انبیائے الٰہی اور بزرگ ہادی ” بَقِیَّةُ اللهِ“ ہیں، اسی طرح جو مجاہد سپاہی کامیابی کے بعد میدان جنگ سے پلٹ آتے ہیں وہ بھی ” بَقِیَّةُ اللهِ“ ہیں ۔
حضرت مہدی موعود چونکہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے بعد آخری پیشوا اور عظیم ترین انقلابی قائد ہیں” بَقِیَّةُ اللهِ“ کے مصادیق میں سے ایک روشن ترین مصداق ہیں اور ہر کسی سے بڑھ کر اس لقب کے اہل ہیں خصوصا جب کہ آپ(علیه السلام) انبیاء اور ائمہ کے واحد باقی ماندہ ہیں ۔
زیرِ بحث آیت کے آخر میں حضرت شعیب (علیه السلام) کی زبانی بیان کیا گیاہے کہ وہ کہتے ہیں :میری ذمہ داری تو فقط ابلاغ، انذار اور کبردار کرنا ہے ”اور مَیں تمھارے اعمال کا جواب دہ نہیں اور نہ میری یہ ذمہ داری ہے کہ تمھیں یہ راہ اختیار کرنے پر مجبور کروں“تم ہو ، یہ تمھاری راہ ہے اور یہ چاہ ہے (وما انا علےکم بحفیظ)
..............
۱۔ اعلام قرآن،ص ۵۷۳۔
2 -تفسیر صافی میں مذکورہ آیت کے ذیل میں یہ روایت نقل ہے ۔

۸۷ قَالُوا یَاشُعَیْبُ اٴَصَلَاتُکَ تَاٴْمُرُکَ اٴَنْ نَتْرُکَ مَا یَعْبُدُ آبَاؤُنَا اٴَوْ اٴَنْ نَفْعَلَ فِی اٴَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ إِنَّکَ لَاٴَنْتَ الْحَلِیمُ الرَّشِیدُ۔
۸۸ قَالَ یَاقَوْمِ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ کُنتُ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَرَزَقَنِی مِنْہُ رِزْقًا حَسَنًا وَمَا اٴُرِیدُ اٴَنْ اٴُخَالِفَکُمْ إِلیٰ مَا اٴَنْھَاکُمْ عَنْہُ إِنْ اٴُرِیدُ إِلاَّ الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِیقِی إِلاَّ بِاللهِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْہِ اٴُنِیبُ۔
۸۹ وَیَاقَوْمِ لَایَجْرِمَنَّکُمْ شِقَاقِی اٴَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ مَا اٴَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ اٴَوْ قَوْمَ ھُودٍ اٴَوْ قَوْمَ صَالِحٍ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْکُمْ بِبَعِیدٍ۔
۹۰ وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْہِ إِنَّ رَبِّی رَحِیمٌ وَدُودٌ۔

ترجمہ

۸۷۔انھوں نے کہا: اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم انھیں چھوڑ دیں کی جن کی ہمارے اباؤ اجداد پرستش کرتے تھے اور جو کچھ ہم اپنے اموال کے لئے چاہتے ہیں اسے انجام نہ دیں، تُو بُرد بار اور رشید مرد ہے ۔
۸۸۔اس نے کہا-: اے میری قوم! اگر میرے پاس پروردگار کی طرف سے واضح دلیل ہو اور اس نے مجھے اچھا رزق دیا ہو (تو کیا مَیں اس کے فرمان کے خلاف عمل کرسکتا ہوں؟)مَیں ہرگز نہیں چاہتا کہ جس چیز سے تمھیں روکتا ہوں اس کا خود ارتکاب کروں مَیں سوائے اصلاح کے ۔ جتنی کہ مجھ میں توانائی ہے ۔ اور کچھ نہیں چاہتا اور مجھے اللہ کے علاوہ توفیق نہیں ہے مَیں نے اس پر توکل کیا ہے اور میری اسی کی طرف بازگشت ہے ۔
۸۹۔اور اے میری قوم ! مبادا میری دشمنی اور مخالفت کے نتیجے میں تم اس انجام میں گرفتار ہوجاؤ کہ جس میں قومِ نوح یا قومِ ہود یا قومِ صالح گرفتار ہوئی ہے اور قومِ لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے ۔
۹۰۔اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف رجوع اور توبہ کرو اور میرا پروردگار مہربان ہے اور (توبہ کرنے والوں بندوںکو )دوست رکھتا ہے ۔

ہٹ دھرموں کی بے بنیاد منطق
اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس ہٹ دھرم قوم نے اس آسمانی مصلح کی دعوت کے جواب میں کیا ردِ عمل ظاہر کیا ۔
وہ جو بتوں کو اپنے بزرگوں کے آثار اور اپنے اصلی تمدن کی نشانی خیال کرتے تھے اور کم فروشی اور دھوکا بازی سے معاملات میں بڑے بڑے فائدے اور مفادات اٹھاتے تھے حضرت شعیب (علیه السلام) کے جواب میں کہا: اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم انھیں چھوڑ دیں کی جن کی ہمارے آباؤ اجداد پرستش کرتے تھے ( قَالُوا یَاشُعَیْبُ اٴَصَلَاتُکَ تَاٴْمُرُکَ اٴَنْ نَتْرُکَ مَا یَعْبُدُ آبَاؤُنَا)، اور یا اپنے اموال کے بارے میں اپنی آزادی سے ہاتھ دھو بیٹھیں(اٴَوْ اٴَنْ نَفْعَلَ فِی اٴَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ ) ، تُوتوایک بُرد بار، حوصلہ مند سمجھدار آدمی ہے تجھ سے یہ باتیں بعید ہیں(إِنَّکَ لَاٴَنْتَ الْحَلِیمُ الرَّشِید) ۔
یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ انھوں نے حضرت شعیب (علیه السلام) کی نماز کا ذکر کیوں کیا؟ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ اس بنا پر تھا کہ حضرت شعیب(علیه السلام) زیادہ نماز پڑھتے تھے اور لوگوں سے کہتے تھے کہ نماز انسان کو بُرے اور قبیح اعمال سے روکتی ہے لیکن وہ نادان لوگ کہ جو نماز اور ترکِ منکرات کے رابطے کو نہ سمجھ سکے انھوں نے اس بات کا تمسخراڑایا اور کہا کہ کیا یہ ذکر و اذکار اور حرکات تجھے حکم دیتی ہیں کہ ہم اپنے بزرگوں کے طور طریقے اور مذہبی ثقافت کو پاؤں تلے روند دیں یا اپنے اموال کے بارے میں اپنا اختیار گنوا بیٹھیں ۔
بعض نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ”صلوٰة“ دین ومذہب کی طرف اشارہ ہے کیوں کہ دین کا واضح ترین سمبل نماز ہے ۔
بہرحال اگر وہ صحیح طور پر غور وفکر کرتے توحقیقت پالیتے کہ نماز انسان میں احساسِ مسئولیت، تقویٰ، پرہیزگاری، خداترسی اور حق شناسی زندہ کرتی ہے ، اسے خدا کی اور اس کی عدالتِ عدل کی یاد دلاتی ہے، خود پسندی اور خودپرستی کا غبار اس کے صفحہ دل سے صاف کردیتی ہے، اسے جہانِ محدود وآلودہ سے دنیائے ماورا ء طبیعت، پاکیزیوں اور نیکیوں کی طرف متوجہ کرتی ہے اور اسی بنا پر اسے شرک، بت پرستی، بڑوں کی اندھی تقلید، کم فروشی اور طرح طرح کی دھوکہ بازی سے باز رکھتی ہے ۔
دوسرا سوال جو سامنے آتا ہے یہ ہے کہ کیا انھوں نے جملہ” إِنَّکَ لَاٴَنْتَ الْحَلِیمُ الرَّشِید“،(تو عاقل، فہمیدہ اور بردبار شخص ہے) اعترافِ حقیقت وایمان کے طور پر کہا یا تمسخر واستہزاء کے طور پر؟
مفسرین نے دونوں احتمال ذکر کئے ہیں لیکن اگر پہلے آنے والے تمسخر آمیز جملے ” اٴَصَلَاتُکَ تَاٴْمُرُک“ کی طرف توجہ کریں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے یہ جملہ بھی استہزاء کے طور پر کہا ، ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ ایک حلیم وبردبار شخص وہ ہے کو کسی چیز کا جب تک کافی مطالعہ نہ کرلے اور اس کے صحیح ہونے کا اسے اطمینان نہ ہوجائے اس پر اظہارِ رائے نہیں کرتا اور ایک رشید وعاقل شخص وہ ہے کہ جو ایک قوم کے رسم ورواج کو پامال نہ کرے اور سرمایہ داروں سے عمل کی آزادی سلب نہ کرے، پس معلوم ہوتا ہے کہ نہ تمہارا کافی مطالعہ ہے، نہ تمھاری عقل وفہم درست ہے اور نہ تمھاری سوچ گہری ہے، کیونکہ درست عقل اور گہری سوچ تقاضا کرتی ہے کہ انسان اپنے بڑوں کی سنت سے دستبردار نہ ہو اور کسی کی آزادی عمل سلب نہ کرے ۔
لیکن جنھوں نے ان کی باتوں کو حماقت پر محمول کیا تھا اور ان کی بے عقلی کی دلیل قرار دیا تھا انھیں حضرت شعیب (علیه السلام) نے کہا: اے میری قوم!(اے وہ لوگو! کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور جو کچھ میں اپنے لئے پسند کرتا ہوں وہی تمھارے لئے بھی پسند کرتا ہوں) اگرخدا نے مجھے واضح دلیل وحی اور نبوت دی ہو اوراس کے علاوہ مجھے پاکیزہ روزی اور حسبِ ضرورت مال دیا ہو تو کیا اس صورت میں صحیح ہے کہ مَیں اس کے فرمان کی مخالفت کروںیا تمھارے بارے میں کوئی غرض رکھوں اور تمھاری خیر خواہ نہ بنوں(قَالَ یَاقَوْمِ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ کُنتُ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَرَزَقَنِی مِنْہُ رِزْقًا حَسَنًا ) ۔ (۱)
اس جملے سے حضرت شعیب (علیه السلام) یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس کام میں میرا مقصد صرف روحانی، انسانی اور تربیتی ہے، مَیں ایسے حقائق کو جانتا ہوں جنھیں تم نہیں جانتے اور انسان ہمیشہ اس چیز کا دشمن ہوتا ہے جسے نہیں جانتا ۔
یہ بات جاذبِ توجہ ہے کہ ان آیات میں ”یاقوم“(اے میری قوم) کا تکرار ہوا ہے تاکہ قبولِ حق کے لئے ان کے جذبات اور میلانات کو نرم کیا جاسکے، حضرت شعیب (علیه السلام) اس طرح سے انھیں سمجھانا چاہتے تھے کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں(چاہے یہاں ”قوم“ قبیلہ کے معنی میں ہو ، طائفہ اور خاندان کے معنی میں ہو یا اس گروہ کے معنی میں ہو کس کے درمیان وہ زندگی گزارتے تھے اور انہی کا حصہ شمار ہوتے تھے) ۔
اس کے بعد یہ عظیم پیغمبر مزید کہتے ہیں : یہ گمان نہ کرنا کہ مَیں تمھیں کسی چیز سے منع کروں اور پھر خود اسی کی جستجو میں لگ جاؤں(وَمَا اٴُرِیدُ اٴَنْ اٴُخَالِفَکُمْ إِلیٰ مَا اٴَنْھَاکُمْ عَنْہ) ۔
تمھیں کہوں کہ کم فروشی نہ کرو اور دھوکہ بازی اور ملاوٹ نہ کرو لیکن مَیں کود یہ اعمال انجام دوں کہ دولت وثروت اکٹھی کرنے لگوں یا تمھیں تو بتوں کی پرستش سے منع کرون مگر خود ان کے سامنے سرِتعظیم خم کروں، نہیں ایسا ہر گز نہیں ۔
اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت شعیب (علیه السلام) پر الزام لگاتے تھے کہ کود یہ فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے لہٰذا وہ صراحت سے اس امر کی نفی کرتے ہیں ۔
آخر میں ان سے کہتے ہیں: میرا صرف ایک ہدف اور مقصد ہے اور وہ ہے اپنی قدرت واستطاعت کے مطابق تمھاری اور تمھارے معاشرے کی اصلاح (إِنْ اٴُرِیدُ إِلاَّ الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْت) ۔
یہ وہی ہدف ہے جو تمام پیغمبرون کی پیشِ نظر رہا ہے ۔ یعنی عقیدے کی اصلاح، اخلاق کی اصلاح، عمل کی اصلاح، روابط اور اجتماعی نظاموںکی اصلاح۔
اور اس ہدف تک پہنچنے کے لئے صرف خدا سے توفیق طلب کرتا ہوں(وَمَا تَوْفِیقِی إِلاَّ بِالله) ۔
اسی بنا پر اپنی ذمہ داری کی انجام دہی اور پیغام پہنچانے اور اس عظیم ہدف تک پہنچنے کے لئے ”صرف اس پر بھروسہ کرتا ہوں اور تمام چیزوں میں میری بازگشت اسی کی طرف ہے (عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْہِ اٴُنِیبُ)، مشکلات کے حل کے لئے اس کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے کوشش کرتا ہوں اور اس راہ میں سختیاں گوارا کرنے کے لئے اس کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔
اس کے بعدا نہیں ایک اخلاقی نکتے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی بغض وعداوت کی بنا پر یا تعصب اورر ہٹ دھرمی سے اپنے تمام مصالح نظر انداز کردیتا ہے اور انجام کو فراموش کردیتاہے، حضرت شعیب (علیه السلام) نے ان سے فرمایا: اے میری قوم ! ایسا نہ ہو کہ میری دشمنی اورعداوت تمھیں گناہ، عصیان اور سر کشی پر ابھارے ( وَیَاقَوْمِ لَایَجْرِمَنَّکُمْ شِقَاقِی)، اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وہی بلائیں، مصیبتیں، تکلیفیں، عذاب اور سزائیں جو میں قومِ نوح، قومِ ہود یا قومِ صالح کو پہنچیں وہ تمھیں بھی آلیں(اٴَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ مَا اٴَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ اٴَوْ قَوْمَ ھُودٍ اٴَوْ قَوْمَ صَالِح)، یہاں تک کہ قومِ لوط کے شہروں کا زیروزبر ہونا اور ان پر سنگباری کاواقعہ تم سے کوئی دور نہیں ہے (وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْکُمْ بِبَعِیدٍ)، نہ ان کا زمانہ ان سے کوئی دور ہے اور نہ ان کے علاقے تم سے دور ہیں اور نہ ہی تمھارے اعمال اور گناہ ان سے کچھ کم ہیں ۔
”مدین“ کہ جوقومِ شعیب (علیه السلام) کا مرکز تھا وہ قومِ لوط کے علاقے سے کوئی زیادہ فاصلے پر نہیں تھا، کیونکہ دونوں شامات کے علاقوں میں سے تھے، زمانے کے لحاظ سے اگرچہ کچھ فاصلہ تھا تاہم اتنا نہیں کہ ان کی تاریخ فراموش ہوچکی ہوتی، باقی رہا عمل کے لحاظ سے تو اگرچہ قومِ لوط کے جنسی انحرافات نمایاں تھے اور قومِ شعیب (علیه السلام) کے اقتصادی انحرفات زیادی تھے اور ظاہراً بہت مختلف تھے لیکن دونوں معاشرے میں فساد پیدا کرنے، اجتماعی نظام خراب کرنے، اخلاقی فضائل کو نابود کرنے اور برائی پھیلانے میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ کبھی ہم روایات میں دیکھتے ہیں کہ ایک درہم سُود کہ جس کا تعلق اقتصادی مسائل سے ہے کو ،زنا کہ جو ایک جنسی آلودگی کے برابر قرار دیا گیا ہے ۔ (2)
آخر میں حضرت شعیب (علیه السلام) انھیں دو حکم اور دیتے ہیں کہ جو در اصل ان تمام تبلیغات کا نتیجہ ہیں کہ جو اس گمراہ قوم میں وہ انجام دے چکے تھے ۔
پہلا یہ کہ” خدا سے مغفرت طلب کرو تاکہ گناہ سے پاک ہوجاؤ اور شرک وبت پرستی اور معاملات میں خیانت سے کنارہ کش ہوجاؤ (وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ) ۔
ادوسرا یہ کہ گناہ سے پاک ہونے کے بعد اس کی طرف پلٹ آؤ کیونکہ وہ پاک ہے اور تم بھی پاک ہوکر اس کی خدمت میں آؤ( ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْہِ) ۔
دراصل استغفار، راہ ِ گناہ سے کنارہ کشی، خود کو پاک کرنا اور توبہ اس ذات کی طرف بازگشت ہے کہ جو لامتناہی وجود ہے ۔
اور جان لو کہ تمہارا گناہ کتنا ہی عظیم اور سنگین کیوں نہ ہو بازگشت کی راہ تمھارے سامنے کھلی ہوئی ہے کیونکہ میرا پروردگاررحیم بھی ہے اوربندوںکودوست بھی رکھتا ہے (إِنَّ رَبِّی رَحِیمٌ وَدُود) ۔
”ودود“ ”ود“ کا صیغہ مبالغہ ہے جس کا معنی ہے” محبت“ ،لفظ”رحیم“ کے بعد اس لفظ کاذکراس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالی نہ فقط اپنی رحیمیت کی بناء پر توبہ کرنے والے گنہ گار بندوں پر توجہ رکھتا ہے بلکہ اس سے قطع نظر انھیں بہت دوست رکھتا ہے، کیونکہ یہ دونوں(یعنی ۔ رحم اور محبت) خود بندوں کی استغفار اور توبہ قبول کرنے کا باعث ہیں ۔
..............
۱۔ توجہ رکھئے گا مندرجہ بالا آیت میں جملہ شرطیہ کی جزا محذوف ہے اور اس کی جزا یہ ہے : افاعدل مع ذلک عما انا علیہ من عبادتہ وتبلیغ دینہ۔
2۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ”لا یجر منکم“ دو معنی میں آیاہے، ایک ” لایحملنکم “(یعنی ۔ تمھیں نہ ابھارے)، اس صورت میں آیت ترکیب کے لحاظ سے اس طرح ہوگی” لایجر من“فعل” شقاق“ فاعل، ”کم“ مفعول اور ”ان یصیبکم“ مصدری معنی رکھتا ہے اور دوسرا مفعول، نیز اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اے میری قوم! میری مخالفت تمھیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تمہارا انجام قومِ نوح وغیرہ کی طرح ہو، دوسرا احتمال یہ ہے کہ ”تمھیں گناہ کی طرف نہ کھینچ کر لے جائے“، اس صورت میں” یجرمن“ فعل،” شقاق“فاعل، اور ”کم“ مفعول ہے اور ”ان یصیبکم“ اس کا نتیجہ ہے اور آیت کا معنی وہی ہوگا جو ہم متن میں بیان کرچکے ہیں ۔

۹۱ قَالُوا یَاشُعَیْبُ مَا نَفْقَہُ کَثِیرًا مِمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاکَ فِینَا ضَعِیفًا وَلَوْلَارَھْطُکَ لَرَجَمْنَاکَ وَمَا اٴَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیزٍ۔
۹۲ قَالَ یَاقَوْمِ اٴَرَھْطِی اٴَعَزُّ عَلَیْکُمْ مِنْ اللهِ وَاتَّخَذْتُمُوہُ وَرَائَکُمْ ظِھْرِیًّا إِنَّ رَبِّی بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِیطٌ۔
۹۳ وَیَاقَوْمِ اعْمَلُوا عَلیٰ مَکَانَتِکُمْ إِنِّی عَامِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ یَاٴْتِیہِ عَذَابٌ یُخْزِیہِ وَمَنْ ھُوَ کَاذِبٌ وَارْتَقِبُوا إِنِّی مَعَکُمْ رَقِیبٌ۔

ترجمہ

۹۱۔انھوں نے کہا: اے شعیب! بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے ہم نہیں سمجھ پاتے اور ہم تجھے اپنے مابین کمزور پاتے ہیں اور اگر تیرے چھوٹے سے قبیلے کا احترام پیشِ نظر نہ ہوتا تو ہم تجھے سنگسار کرتے اور تُوہمارے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتا ۔
۹۲۔اس نے کہا: اے قوم! کیا میرا چھوٹا سا قبیلہ تمھارے نزدیک خدا سے زیادہ عزت دار ہے جب کہ تم نے اس کے فرمان کو پسِ پشت ڈال دیا ہے، جو کچھ تم انجام دیتے ہو میرا پروردگار اس پر محیط ہے (اور اس سے آگاہ ہے) ۔
۹۳۔اے قوم! جو کچھ تم سے ہوسکے کرگزرو اور مَیں بھی اپنا کام کروں گا اور عنقریب تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ خوار ورسوا کرنے والا عذاب کس کے پیچھے آتا ہے اور کون جھوٹا ہے،تم انتظار کرو اور مَیں بھی انتظار کرتا ہوں ۔

ایک دوسرے کو دھمکیاں
یہ عظیم پیغمبر۔ حضرت شعیب (علیه السلام) کہ انتہائی جچے تُلے، بلیغ اور دلنشین کلام کی وجہ سے جن کا لقب” خطیب الانبیاء“ ہے،(۱) ان کا کلام ان لوگوں کی روحانی ومادی زندگی کی راہیں کھولنے والا تھا، انھوں نے بڑے صبر، حوصلے، متانت اور دلسوزی کے ساتھ ان سے تمام باتیں کیں لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس گمراہ قوم نے انھیں کس طرح سے جواب دیا ۔
انھوں نے چار جملوں میں جو ڈھٹائی، جہالت اور بے خبری کا مظہرتھے آپ کو جواب دیا ۔
پہلے وہ کہنے لگے: اے شعیب!تمھاری زیادہ تر باتیںہماری سمجھ میں نہیں آتیں(قَالُوا یَاشُعَیْبُ مَا نَفْقَہُ کَثِیرًا مِمَّا تَقُولُ )، بنیادی طور پر تیری باتوں کا کوئی سر پیر ہی نہیں، ان میں کوئی خاص بات اور منطق ہی نہیں کہ ہم ان پر کوئی غور وفکر کریں، لہٰذا ان میں کوئی ایسی چیز نہیں جس پر ہم عمل کریں اس لئے تم اپنے آپ کو زیادہ نہ تھکاؤ اور دوسرے لوگوں کے پیچھے جاؤ۔
دوسرایہ کہ ہم تجھے اپنے مابین کمزور پاتے ہیں( وَإِنَّا لَنَرَاکَ فِینَا ضَعِیفًا )، لہٰذا اگر تم یہ سوچتے ہو کہ تم اپنی بے منطق باتیں طاقت کے بل پر منوا لو گے تو یہ بھی تمھاری غلط فہمی ہے ۔
یہ گمان نہ کرو کہ اگرہم تم سے پوچھ گچھ نہیں کرتے یہ تمھاری طاقت کے خوف سے ہے” اگر تیری قوم وقبیلے کا احترام پیشِ نظر نہ ہوتا تو ہم تجھے بدترین طریقے سے قتل کردیتے اور تجھے سنگسار کرتے (وَلَوْلَارَھْطُکَ لَرَجَمْنَاک) ۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ انھوں نے حضرت شعیب(علیه السلام) کے قبیلے کو ”رھط“ کے لفظ سے یاد کیا کہ جس کا لغتِ عرب میں تین سے کم تعداد سے لے کر سات یا دس یا بعض کے بقول زیادہ سے زیادہ چالیس افراد پر اطلاق ہوتا ہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تیری قبیلے کی بھی ہماری نظر میں کوئی طاقت نہیں بلکہ دوسرے لحاظ ہیں جو ہمیں اس کام سے روکتے ہیں، یہ بالکل اس طرح ہے جیسے ہم کسی سے کہتے ہیں کہ اگر تیری قوم اور خاندان کے ان چار افراد کا لحاظ نہ ہو تو ہم تیرا حق تیرے ہاتھ پر رکھ دیتے جب کہ در اصل اس کی قوم اور خاندان کے وہی چار افراد نہیں ہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ وہ طاقت کے لحاظ سے اہمیت نہیں رکھتے ۔
آخر میں انہوںنے کہا: تُوہمارے لئے کویہ طاقتور اور ناقبلِ شکست شخص نہیں ہے ( وَمَا اٴَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیزٍ)، اگرچہ تو اپنے قبیلے کے بزرگوں میں شمار ہوتا ہے لیکن جو پپروگرام تیرے پیشِ نظر ہے اس کی وجہ سے ہماری نگاہ میں تیری کوئی وقعت اور منزلت نہیں ہے ۔
حضرت شعیب(علیه السلام) ان کی باتوں کے نشتروں اور توہین آمیز رویّے سے (سیخ پا ہوکر) اٹھ کر نہ چلے گئے بلکہ آپ نے اسی طرح انھیں پُر منطق اور بلیغ پیرائے میں جواب دیا: اے قوم! کیا میرے قبیلے کے یہ چند افراد تمھارے نزدیک خدا سے زیادہ عزیز ہیں(قَالَ یَاقَوْمِ اٴَرَھْطِی اٴَعَزُّ عَلَیْکُمْ مِنَ الله)، تم میرے خاندان کی خاطر جو تمھارے بقول چند نفر سے زیادہ نہیں ہیں مجھے آزار نہیں پہنچاتے ہو، تو کیوں خدا کے لئے تم میری باتوں کو قبول نہیں کرتے ہو، کیا عظمتِ خدا کے سامنے چند افراد کی کوئی حیثیت ہے؟
کیا تم کدا کے کسی احترام کے قائل ہو” جب کہ اسے اور اس کے فرمان کوتم نے پسِ پشت ڈال دیا ہے ( وَاتَّخَذْتُمُوہُ وَرَائَکُمْ ظِھْرِیًّا) ۔ (2)
آخر میں حضرت شعیب (علیه السلام) کہتے ہیں:یہ خیال نہ کرو کہ خدا تمھارے اعمال کو نہیں دیکھتا اور تمھاری باتیں نہیں سنتا، یقین جانو کہ میرا پروردگار ان تمام اعمال پر محیط ہے جو تم انجام دیتے ( إِنَّ رَبِّی بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِیط) ۔
بلیغ سخنور وہ ہے جو اپنی باتوں میں مدِّ مقابل کی تمام تنقیدوں کا جواب دے، قومِ شعیب (علیه السلام) کے مشرکین نے چونکہ اپنی باتوں کے آخر میں ضمناً انھیں سنگسار کرنے کی دھمکی دی تھی اور ان کے سامنے اپنی طاقت کا اظہار کیا تھا لہٰذا ان کی دھمکی کے جواب میں حضرت شعیب (علیه السلام) نے اپنا موقف اس طرح سے بیان کیا:اے میری قوم! جو کچھ تمھارے بس میں ہے کرگزرواور اس میں کوتاہی نہ کرو اور جو کچھ تم سے ہوسکتا ہے اس میں رُو رعایت نہ کرو (وَیَاقَوْمِ اعْمَلُوا عَلیٰ مَکَانَتِکُم)(3) ،مَیں بھی اپنا کام کروں گا ( إِنِّی عَامِلٌ )لیکن تم جلد سمجھ جاؤ گے کہ کون رسوا کن عذاب میں گرفتار ہوتا ہے اور کون جھوٹا ہے،مَیں یا تم (سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ یَاٴْتِیہِ عَذَابٌ یُخْزِیہِ وَمَنْ ھُوَ کَاذِب) ۔اور اب جب معاملہ اس طرح ہے تو تم بھی انتظار کرو اور مَیں بھی انتظار کرتا ہوں( وَارْتَقِبُوا إِنِّی مَعَکُمْ رَقِیبٌ) ۔ (4)
تم اپنی طاقت، تعداد، سرمائے اوراثرورسوخ سے مجھ پر کامیابی کے انتظار میں رہو اور میں بھی انتظار میں ہوں کہ عنقریب دردناک عذابِ الٰہی تم جیسی گمراہ قوم کے دامن گیر ہو اور تمھیں صفحہ ہستی سے مٹا دے ۔
..............
۱۔ سفینة البحار،مادہ ”شعیب“۔
۱۔ عربی زبان میں جب کسی چیز کے بارے میں اپنی بے اعتنائی کا اظہار کرتے ہیں تو کہتے ہیں” جعلتہ تحت قدمی“یا”جعلتہ دبرا ذنی“ یا”جعلتہ وراء ظھری“ یا” جعلتہ ظھریا“ (یعنی وہ میرے زیرِ پا ہے یا مَیں نے اسے پسِ پشت ڈال رکھا ہے وغیرہ) اور ”ظھری“ کا مادہ”ظھر“ (بروزن”قہر“ )ہے اور”ی“ یہاں یاء نسبت ہے اور ”ظ“ کے نیچے زیر ان تبدیلیوں کی بناء پر ہے جو کبھی اسمِ منسوب میں کی جاتی ہے ۔
2۔ ”مکانة“ مصدر یا اسم مصدر ہے اور یہ کسی چیز پر قدرت رکھنے کے معنی میں ہے ۔
4۔ ”رقیب“ کا معنی ہے محافظ، نگران اور نگہبان، یہ دراصل”رقبہ“ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے”گردن“ یہ معنی اس کے لئے ہے کہ گردن کا محافظ اور نگران اس کی حفاظت کرتا ہے جو اس کی محافظت میں ہو (یہ اس سے کنایہ ہے کہ اس کی جان کی محافظت کرتا ہے) یا اس بنا پر کہ وہ گردن اونچی رکھتا ہے تاکہ پاسداری اور حفاظت کا کام انجام دے سکے ۔