تفسیر نمونہ جلد 09
 

۸۱ قَالُوا یَالُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَصِلُوا إِلَیْکَ فَاٴَسْرِ بِاٴَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّیْلِ وَلَایَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اٴَحَدٌ إِلاَّ امْرَاٴَتَکَ إِنَّہُ مُصِیبُھَا مَا اٴَصَابَھُمْ إِنَّ مَوْعِدَھُمْ الصُّبْحُ اٴَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیبٍ۔
۸۲ فَلَمَّا جَاءَ اٴَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَاٴَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّیلٍ مَنْضُودٍ۔
۸۳ مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا ھِیَ مِنَ الظَّالِمِینَ بِبَعِیدٍ۔

ترجمہ
۸۱۔انھوں نے کہا: اے لوط! ہم تیرے پروردگار کے رسول ہیں، وہ ہرگز تجھ پر دسترس حاصل نہیں کرسکیں گے، وسطِ شب اپنے خاندان کے ساتھ (اس شہر سے)چلا جااورتم میں سے کوئی بھی اپنی پشت کی طرف نگاہ نہ کرے، مگر تیری بیوی کہ وہ اسی بلا میں گرفتار ہوگی کہ جس میں لوگ گرفتار ہوں گے، ان کی وعدہ گاہ صبح ہے، کیا صبح نزدیک نہیں ہے ۔
۸۲۔جب ہمارا فرمان آپہنچا تو اس (شہر اور علاقے) کو ہم نے تہ وبالا کردیا اور ان پر ہم نے مٹیلے پتھروں کی بارش کی ۔
۸۳۔ (وہ پتھر کہ)جو تیرے پروردگار کے ہاں مخصوص تھے اور ایسا ہونا ستمگروں کے لئے بعید نہیں ہے ۔

ظالموں کی زندگی کا اختتام
آخرکار پرورگار کے رسولوں نے حضرت لوط (علیه السلام) کی شدید پریشانی دیکھی اور دیکھا کہ وہ روحانی طور پر کس اضطراب کا شکار ہیں تو انھوں نے اپنے اسرارِ کار سے پردہ اٹھایا اور ان سے ”کہا:اے لوط! ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں، پریشان نہ ہو، مطمئن رہو کہ وہ ہرگز تجھ پر دسترس حاصل نہیں کرسکیں گے“

(قَالُوا یَالُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَصِلُوا إِلَیْکَ) ۔
یہ امر جاذبِ توجہ ہے کہ خدا کے فرشتے یہ نہیں کہتے کہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ کہتے ہیں کہ اے لوط! یہ تجھ پر دسترس حاصل نہیں کر سکیں گے کہ تجھے کوئی نقصان پہنچے ۔
یہ تعبیر یا تو اس بنا پر ہے کہ اپنے آپ کو لوط (علیه السلام) سے جدا نہیں سمجھتے تھے کیونکہ بہرحال وہ انہی کے مہمان تھے اور ان کی ہتکِ حرمت حضرت لوط (علیه السلام) کی ہتکِ حرمت تھی یا یہ اس بنا پر کہ وہ حضرت لوط (علیه السلام) پر یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ ہم خدا کے فرستادہ ہیں اور ہم تک ان کی دسترس نہ ہونا تو مسلم ہے یہاں تک کہ تُو جو اِن کا ہم نوع ہے تجھ تک بھی یہ نہیں پہنچ سکیں گے ۔
سورہ قمر کی آیہ ۳۷ میں ہے:
<وَلَقَدْ رَاوَدُوہُ عَنْ ضَیْفِہِ فَطَمَسْنَا اٴَعْیُنَھُمْ>
وہ لوط کے مہمانوں کے بارے میں تجاوز کا ارادہ رکھتے تھے لیکن ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کردیں ۔
یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ اس وقت حملہ آور قوم پروردگار کے ارادے سے اپنی بینائی کھو بیٹھی تھی اور حملے کی طاقت نہیں رکھتی تھی، بعض روایات میں بھی ہے کہ ایک فرشتے نے مٹھی بھر مٹی ان کے چہروں پر پھینکی، جس سے وہ نابینا ہوگئے ۔
بہرحال حضرت لوط (علیه السلام) اپنے مہمانوں کے بارے میں ان کی ماموریت کے بارے میں آگاہ ہوئے تو یہ بات اس عظیم پیغمبر کے جلتے ہوئے دل کے لئے ٹھندک کے مانند تھی، ایک دم انھوں نے محسوس کیا کہ ان کے دل سے گم کا بارِ گراں ختم ہوگیا اور ان کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھی، ایسا ہوا جیسے ایک شدید بیمار کی نظر مسیح پر جاپرے، انھوں نے سُکھ کا سانس لیا اور سمجھ گئے کہ غم واندوہ کا زمانہ ختم ہورہا ہے اور بے شرم حیوان صفت قوم کے چنگل سے نجات پانے کا اور خوشی کا وقت آپہنچا ہے ۔
مہمانوں نے فوراًحضرت لوط (علیه السلام) کو حکم دیا: تم اسی رات تاریکی شب میں اپنے خاندان کو اپنے ساتھ لے لو اور سرزمین سے نکل جاؤ ( فَاٴَسْرِ بِاٴَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّیْلِ) ۔ (۱)
لیکن یہ پاپندی ہے کہ ”تم میں سے کوئی شخص پسِ پشت نہ دیکھے “(وَلَایَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اٴَحَدٌ)، اس حکم کی خلاف ورزی فقط تمھاری معصیت کار بیوی کرے گی کہ جو تمھاری گنہگار قوم کو پہنچنے والے مصیبت میں گرفتار ہوگی (إِلاَّ امْرَاٴَتَکَ إِنَّہُ مُصِیبُھَا مَا اٴَصَابَھُمْ ) ۔
”وَلَایَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اٴَحَدٌ“ کی تفسیر میں مفسرین نے چند احتمال ذکر کئے ہیں:
پہلا یہ کہ کوئی شخص پسِ پشت نہ دیکھے ۔
دوسرا یہ کہ شہر میں مال اور وسائل لے جانے کی فکر نہ کرے بلکہ صرف اپنے آپ کو اس ہلاکت سے نکال لے جائے ۔
تیسرا یہ کہ اس خاندان کے اس چھوٹے سے قافلے میں سے کوئی شخص پیچھے نہ رہ جائے ۔
چوتھے یہ کہ تمھارے نکلنے کے وقت زمین ہلنے لگے گی اور عذاب کے آثار نمایاں ہوجائیں گے لہٰذا اپنے پسِ پشت نگاہ نہ کرنا اورجلدی سے دور نکل جانا ۔
البتہ کوئی مانع نہیں کہ یہ سب احتمالات اس آیت کے مفہوم میں جمع ہو ں ۔ (۲)
پہلا یہ کہ ”وَلَایَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اٴَحَدٌ“ سے استثناء ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت لوط (علیه السلام) ان کا خاندان، یہاں تک کہ ان کی بیوی بھی سب شہر سے باہر کی طرف نکلے اور کسی نے بھی رسولوں کے فرمان کے مطابق پس پشت نگاہ نہ کی سوائے حضرت لوط (علیه السلام) کی بیوی کے کیونکہ اسے اپنی قوم سے بڑا لگاؤ اور دلی وابستگی تھی اور وہ ان کے انجام سے پریشان تھی، وہ لحظہ بھر کے لئے رکی اور پسِ پشت دیکھا، ایک روایت کے مطابق شہر پر برسنے والے پتھروں میں سے ایک پتھر اسے لگا اور اسے وہیں ڈھیر کردیا ۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ ”فاسرباھلک“سے استثناء ہے یعنی اپنی بیوی کے سوا تمام خاندان کو ساتھ لے جاؤ، اس صورت میں لوط (علیه السلام) کی بیوی شہر ہی میں رہ گئی تھی، البتہ پہلا احتمال زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔
بالآخر انھوں نے لوط (علیه السلام) سے آخری بات کہی: نزولِ عذاب کا لمحہ اور وعدہ کی تکمیل کا موقع صبح ہے اور صبح کی پہلی شعاع کے ساتھ ہی اس قوم کی زندگی تباہ ہوجائے گی (إِنَّ مَوْعِدَھُمْ الصُّبْحُ) ۔
ابھی اٹھ کھڑے ہو اور جتنا جلدی ممکن ہو شہر سے نکل جاؤ ”کیا صبح نزدیک نہیں ہے“( اٴَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیبٍ) ۔
بعض روایات میں ہے کہ جب ملائکہ نے کہا کہ عذاب کے وعدہ پر عملدار آمد صبح کے وقت تو حضرت لوط (علیه السلام)کو جو اس آلودہ قوم سے سخت ناراحت اور پریشان تھے، وہی قوم کہ جس نے اپنے شرمناک اعمال سے ان کا دل مجروح کر رکھا تھا اور ان کی روح کو غم وانداہ سے بھردیا تھا ، فرشتوں سے خواہش کی کہ اب جب کہ انھوں نے نابود ہی ہونا ہے تو کیا ہی اچھا ہو کہ جلدی ایسا ہو لیکن انھوں نے حضرت لوط (علیه السلام) کی دلجوئی اور تسلی کے لئے کہا: کیا صبح نزدیک نہیں ہے؟
آخرکار عذاب کا لمحہ آن پہنچا اور لوط پیغمبر (علیه السلام) کا انتظار ختم ہوا جیسا کہ قرآن کہتا ہے:جس وقت ہمارا فرمان آن پہنچا تو ہم نے اس زمین کو زیر وزبر کردیا اور ان کے سروں پر مٹیلے پتھروں کی پیہم بارش برسائی ( فَلَمَّا جَاءَ اٴَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَاٴَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّیلٍ مَنْضُودٍ) ۔
”سجیل“ اصل میں فارسی لفظ ہے کہ جو ”سنگ وگِل“ سے لیا گیا ہے، لہٰذا اس کا مطلب ہے ایسی چیز جو پتھر کی طرح بالکل سخت ہو اور ناہی گیلی مٹی ڈھیلی مٹی کی طرح بالکل ان دونوں کے درمیان ہو۔
”منضود“ کا مادہ ”نضد“ ہے اس کا معنی ہے یکے بعد دیگرے اور پے در پے آنا، یعنی پتھروں کی یہ بارش اس قدر تیز اور پے در پے تھی کہ گویا پتھر ایک دوسرے پر سوار تھے ۔
لیکن یہ معمولی پتھر نہ تھے بلکہ تیرے پروردگار کے ہاں معتین اور مخصوص تھے ( مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّکَ)، البتہ یہ تصور نہ کریں کہ یہ پتھر قوم لوط کے ساتھ ہی مخصوص تھے بلکہ ”یہ کسی ظالم قوم اور جمعیت سے دور نہیں ہیں“( وَمَا ھِیَ مِنَ الظَّالِمِینَ بِبَعِیدٍ) ۔
اس بے راہ رو اور منحرف قوم نے اپنے اوپر بھی ظلم کیا اور اپنے معاشرے پر بھی، وہ اپنی قوم کی تقدیر سے بھی کھیلے اور انسانی ایمان واخلاق کا بھی مذاق اڑایا، جب ان کے ہمدرد رہبر نے داد وفریاد کی تو انھوں نے کان نہ دھرے اورتمسخر اڑایا، اعلیٰ ڈھٹائی ، بے شرمی اور بے حیائی یہاں تک آن پہنچی کہ وہ اپنے رہبر کے مہمانوں کی حرمت وعزت پر تجاوز کے لئے بھی اٹھ کھڑے ہوئے ۔
یہ وہ لوگ تھے کہ جنھوں نے ہر چیز کو الٹ کر رکھ دیا، ان کے شہروں کو بھی الٹ جانا چاہیئے تھا، فقط یہی نہیں کہ ان کے شہر تہ وبالا ہوجاتے بلکہ ان پر پتھروں کی بارش بھی ہونا چاہیئے تھی تاکہ ان کے آخری آثارِ حیات بھی درہم برہم ہوجائیں، اور وہ ان پتھروں میں دفن ہوجائیں اس طرح سے کہ ان کا نام ونشان اس سرزمین میں نظر نہ آئے صرف وحشتناک، تباہ وبرباد بیابان، خاموش قبرستان اور پتھروں میں دبے ہوئے مردوں کے علاوہ ان میں کچھ باقی نہ رہے ۔
کیا صرف قوم لوط کو یہ سزا ملنی چاہیئے، نہیں، یقینا ہرگز نہیں بلکہ ہر منحرف گروہ اور ستم پیشہ قوم کے لئے ایسا ہی انجام انتظار میں ہے، کبھی سنگریزوں کی بارش کے نیچے، کبھی آگ اگلتے بموں کے نیچے اور کبھی معاشرے کے لئے تباہ کن اختلافات کے تحت ،خلاصہ یہ کہ ہر ستمگر کو کسی نہ کسی صورت میں ایسے عذاب سے دوچارہونا پڑے گا ۔
..............
۱۔ ”اسر“ ”اسراء“ کے مادہ سے رات کو چلنے کے معنی میں ہے لہٰذا لفظ”لیل“(رات) اس آیت میں زیادہ تاکید کے لئے اور ”قطع“ رات کی تاریکی کے معنی میں ہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ رات کے سیاہ پردوں نے تمام جگہوں کو گھیر رکھا ہے اور یہ غافل قوم خوابیدہ یا مستِ شراب ہوس بازی ہے ، چپکے سے ان میں سے نکل جاؤ۔
۲۔ اس بارے میں کہ”الا امراتک“ میں استثناء کس جملے سے ہے، ،مفسرین نے دو احتمال ذکر کئے ہیں:

چند قابل توجہ نکات
۱۔ صبح کے وقت نزولِ عذاب کیوں؟:
مندرجہ بالا آیات میں غور کرنے سے قاری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نزولِ عذاب کے لئے صبح کا وقت کیوں منتخب کیا گیا، رات کے وقت ہی عذاب کیوں نازل نہیں ہوا ؟
ایسا اس لئے تھا کہ جب حضرت لوط (علیه السلام) کے گھر پر چڑھ آنے والے افراد اندھے ہوگئے اور قوم کے پاس لوٹ کر گئے اور واقعہ بیان کیا تو وہ کچھ غوروفکر کرنے لگے کہ معاملہ کیا ہے، خدا نے صبح تک انھیں مہلت دی کہ شاید بیدار ہوجائیں اور اس کی بارگاہ کی طرف رجوع کریں اور توبہ کریں یا یہ کہ خدا انھیں چاہتا تھا کہ رات کی تاریکی میں ان پر شب خون مارا جائے اسی بنا پرحکم دیا کہ صبح تک مامور عذاب سے ہاتھ روکے رکھیں ۔
تفاسیر میں اس کے بارے میں تقریبا کچھ نہیں لکھا گیا لیکن جو کچھ ہم اوپر ذکر کیا ہے وہ اس سلسلے میں چند قابلِ مطالعہ احتمالات ہیں ۔

۲۔ زیر وزبر کیوں کیا گیا:
ہم کہہ چکے ہیں کہ عذاب کی گناہ سے کچھ نہ کچھ مناسبت ہونا چاہیئے، اس قوم نے انحراف جنسی کے ذریعے چونکہ ہرچیز کو الٹ پلٹ کردیا تھا لہٰذا خدا نے بھی ان کے شہروں کو بھی زیر وزبر کردیا، اور چونکہ روایات کے مطابق ان کے منہ سے ہمیشہ رکیک اور گندی گندگی کی بارش ہوتی رہتی تھی لہٰذا خدا نے بھی ان پر پتھروں کی بارش برسائی ۔

۳۔پتھروں کی بارش کیوں؟:
کیا پتھروں کی بارش ان کے شہر زیر وزبر ہونے سے پہلے تھی یا اس کے ساتھ ساتھ یا اس کے بعد، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے اور آیاتِ الٰہی میں بھی اس سلسلے میں صراحت نہیں ہے کیونکہ یہ جملہ واؤ کے ساتھ عطف ہوا ہے کہ جس ست ترتیب معلوم نہیں ہوتی ۔
لیکن بعض مفسرین مثلا المنار کا مولف معتقد ہے کہ پتھروں کی بارش یا زیر وزبر ہونے سے پہلے تھی یا ساتھ ساتھ اور اس کا فلسفہ یہ تھا کہ وہ افراد جو اِدھر اُدھر گوشہ وکنار میں تھے اور ملبے میں دفن نہیں ہوئے تھے وہ صحیح وسالم نہ رہیں اور وہ بھی اپنے برے اعمال کی سزا تک پہنچ جائیں ۔
وہ روایت کہ جس میں ہے کہ حضرت لوط (علیه السلام) کی بیوی نے آواز سنی تو سر پیچھے کی طرف پھیرا اور اسی عالم میں اسے پتھر آلگااور اسے مارڈالا، نشاندہی کرتی ہے کہ یہ دونوں امور (زیروزبر ہونا اور پتھروں کی بارش) اکٹھے صورت پذیر ہوئے ۔
اگر ان چیزوں سے صرف نظر لیں تو کوئی مانع نہیں کہ تشدیدِ عذاب اور ان کے آثار محو کرنے کے لئے سنگریزے ان کے زیروزبر ہونے کے بعد ہی ان پر نازل ہوئے ہوں اس طرح سے کہ ان کا علاقہ ان کے نیچے چھپ جائے اور اس کے آثار مٹ جائیں ۔

۴۔پتھر نشاندارکیوں تھے؟
ہم نے کہا کہ: ” مسومة عند ربک“ کے جملے سے بات واضح ہوتی ہے کہ یہ پتھر خدا کے نزدیک مخصوص اور نشاندار تھے لیکن یہ کس طرح نشاندار تھے، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے ۔
بعض نے کہا ہے کہ ان پتھروں میں کچھ ایسی علامتیں تھیں جو نشاندہی کرتی تھیں کہ یہ عام پتھر نہیں ہیں بلکہ خصوصیت سے عذابِ الیہی کے لئے نازل ہوئے ہیں تاکہ دوسرے پتھر گرنے سے اشتباہ نہ ہو، اسی لئے بعض دوسروں نے کہا کہ پتھر زمینی پتھروں جیسے نہیں تھے بلکہ وہ ایک طرح کے آسمانی پتھر تھے جو کرّہ زمین کے باہر سے زمین کی طرف بھیجے گئے تھے ۔
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ علمِ پروردگار میں ان کی کچھ علامتیں تھیں کہ ان میں سے ہر ایک ٹھیک معین شخص اور معین مقام پر جاگرتا تھا، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خدائی سزا اور عذاب اس قدر حساب شدہ ہے کہ یہ تک معین ہے کہ کس شخص کو کون سے پتھر کے ساتھ سزا دی جائے گی اور اس کا کوئی کام حساب اور ضابطے کے بغیر انجام نہیں پاتا ۔

۵۔ہم جنس کی طرف میلان کی حُرمت۔
ہم جنس سے آمیزش، چاہے مردوں میں ہویا عورتوں میں، اسلام میں بہت بڑے گناہوں میں سے شمار کی گئی ہے اور دونوں کے لئے حدّ شرعی معیّن ہے ۔
مردوں میں ہم جنسی کا گناہ ہو تو فاعل ہو یا مفعول اسلام میں اس کی سزا قتل ہے اور فقہ میں اس اغلام اور قتل کے کئی طریقے بیان ہوئے ہیں، البتہ اس کی سزا کے لئے ضروری ہے کہ یہ گناہ معتبر اور قطعی ذرائع سے ثابت ہو کہ جو فقہ اسلامی میں اور معصومین کی روایات میں ذکر ہوئے ہیں، یہاں تک کہ سرف تین مرتبہ اقرار کرنا بھی کافی نہیں ہے کم از کم چار مرتبہ اس عمل کا اقرار ضروری ہے ۔
باقی رہا عورتوںمیں ہم جنسی گناہ کی سزا تو اس کے لئے چار مرتبہ اقرار کرنے یا چار عادل گواہوں کی گواہی سے ثابت ہونے کے بعد (فقہ میں مذکورہ شرائط کی روشنی میں)سوتازیانے ہیں، بعض فقہاء نے کہا ہے کہ شوہردار عورت یہ گناہ کرے تو اس کی حدّ قتل ہے ۔
ان حدود کے اجراء کے لئے دقیق اور نپی تلی شرائط ہیں کہ جو فقہ اسلامی کی کتب میں موجود ہیں، وہ رویات کہ جو ہم جنسی کے گناہ کی مذمت میں پیشوایانِ اسلام کی طعف سے منقول ہیں اس قدر زیادہ اور ہلا دینے والی ہیں کہ ان کے مطالعے سے ہر شخص محسوس کرتا ہے کہ اس گناہ کی قباہت اور برائی اس قدر ہے کہ بہت کم گناہ اس کے برابر شمار کئے گئے ہیں ۔
ان میں سے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے ایک روایت میں منقول ہے کہ :
لما عمل قوم لوط ما عملوا بکت الارض الیٰ ربھا حتیٰ بلغ ودعھا الی السماء ،بکت السماء حتیٰ بلغ ودعھا العرش، فاوحی اللّٰہ الی السماء ان احصبیھم،واوحی الی الارض ان اخفی بھم۔
جب قوم لوط نے یہ قبیح ومل انجام دیا تو زمین نے اس قدر گریہ وبکا کیا کہ اس کے آنسو آسمان تک پہنچے اور آسمان نے اس قدر گریہ وبکا کیا کہ اس آنسو عرش تک پہنچے، اس وقت اللہ نے آسمان کو وحی کی کہ ان پر پتھر برسا اور زمین پر وحی کی کہ انھیں نیچے کی طرف لے جا ۔ (1)
ظاہر ہے کہ یہاں آنسو بہانا تشبیہ اور کنایہ کے طور پر ہے ۔
ایک اور حدیث امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:
من جامع غلاما جاء یوم القیامة جنبا لا ینقیہ ماء الدنیا وغضب اللّٰہ علیہ ولعنہ واعدلہ جھنم وساء ت مصیرا ۔۔۔ثم قال ان الذکر فیھتزالعرش لذلک۔
جوشخص کسی لڑکے کے ساتھ جنسی ملاپ کرے گا قیامت کے دن ناپاک اور مجنب عرصئہ محشر میں پیش آئے گا یہاں تک کہ عالمِ دنیا کے تمام پانی اسے پاک نہیں کرسکیں گے اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اسے اپنی رحمت سے دور کرے گا اور اس پر لعنت کرے گا اور جہنم اس کے لئے تیار رکھی گئی ہے اور جہنم کس قدر بری جگہ ہے، اس کے بعد فرمایا:جب مذکر مذکر سے جنسی ملاپ کرے تو عرش خداہلنے لگتا ہے ۔ (2)
ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:
جو لوگ یہ کام کرتے کرواتے ہیں وہ سدوم(قوم لوط) کے باقی ماندہ لوگ ہیں ۔
سوال ہوا: وہی شہر سدوم جو زیر وزبر ہوا ۔
فرمایا:ہاں، وہ چار شہر تھے سدوم، صریم، لانا اور غمیرا (عمورا) ۔ (3)
ایک اور روایت میں حضرت امیر المومنین (علیه السلام) سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
میں نے پیغمبر سے سنا ہے کہ آپ کہہ رہے تھے:
لعن اللّٰہ المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال۔
خدا کی لعنت ہو ان مَردوں پر جو اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہ کرتے ہیں (مَردوں سے جنسی ملاپ کرواتے ہیں) اور خدا کی لعنت ہو ان عورتوں پر کہ جو اپنے آپ کو مَردوں کی شبیہ بناتی ہیں ۔ (4)
..............
1۔تفسیر بریان، ج۲، ص۲۳۱۔
2۔وسائل الشیعہ، ج۱۴،ص ۲۴۹۔
3۔وسائل الشیعہ، ج۱۴،ص ۲۵۳۔
4-وسائل الشیعہ، ج۱۴،ص ۲۵۵۔

ہم جنس پرستی کی حرمت کا فلسفہ
اگرچہ مغربی دنیا میں جہاں جنسی بے راہ روی بیت زیادہ ہے ایسی برائیوں سے نفرت نہیں کی جاتی یہاں تک کہ سننے میں آیا ہے کہ بعض ممالک مثلا برطانیہ میں پارلمیٹ نے اس کام کو انتہائی بے شرمی سے قانونی جواز دے دیا ہے لیکن ان برائیوں کے عام ہونے سے ان کی برائی اور قباحت میں ہرگز کوئی کمی نہیں آتی اور اس کے اخلاقی، نفسیاتی اور اجتماعی مفاسد اپنی جگہ پر موجود ہیں ۔
بعض اوقات مادی مکتب کے بعض پیروکار جو اس قسم کی آلودگیوں میں مبتلا ہیں اپنے عمل کی توجیہ کے لئے کہتے ہیں کہ اس میں طبی نکتہ نظر سے کوئی خرابی نہیں ہے لیکن وہ یہ بات بھول چکے ہیں کہ اصولی طور پر ہر قسم کا جنسی انحراف انسانی وجود کے تمام ڈھانچے پر اثرانداز ہوتا ہے اور اس کا اعتدال درہم برہم کردیتا ہے ۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ انسانی فطری اور طبعی طور پر اپنے صفِ مخالف کی میلان رکھتا اور یہ میلان انسانی فطرت میں بہت مضبوط جڑیں رکھتا ہے اور انسانی نسل کی بقا کا ضامن ہے، ہر وہ کام جو طبعی میلان سے انحراف کی راہ پر ہو انسان میں ایک قسم کی بیماری اور نفسیاتی انحراف پیدا کرتا ہے ۔
وہ مرد جو جنس مواقف کی طرف میلان رکھتا ہے اور وہ مرد کہ جو اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کرتا ہے ایک کامل مرد نہیں ہے جنسی امور کی کتب میں ہم جنس پرستی (HOMOSEXUALISM) کو ایک اہم ترین انحراف قرار دیا ہے ۔
اگر یہ کام جاری رہے تو جنس مخالف کے لئے انسان میں میلان آہستہ آہستہ ختم ہوجاتا ہے اور جو یہ کام کرواتا ہے ان میں رفتہ رفتہ زنانہ احساسات پیدا ہونے لگتے ہیں اور دونوں بیت زیادہ جنسی ضعف اور اصطلاح کے مطابق سردمزاجی میں گرفتار ہوجاتے ہیں، اس طرح سے کہ ایک مدت کے بعد وہ طبیعی اور فطری (جنس مخالف سے ملاپ)پر اقدر نہیں رہتے ۔
اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ مرد اور عورت کے جنسی احساسات جہاں ان کے بدن کے آرگنزم میں موثر ہیں وہاں ان کے روحانی اور مخصوص اخلاقی پہلوؤں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، یہ بات واضح ہے کہ طبیعی اور فطری احساسات سے محروم ہوکر انسان کے جسم اور روح پر کس قدر ضرب پڑتی ہے ، یہاں تک کہ ممکن ہے کہ اس طرح کے انحراف میں مبتلا افراد اس قدر ضعفِ جنسی کا شکار ہوں کہ پھر اولاد پیدا کرنے کی طاقت سے بھی محروم ہوجائیں ۔
اس قسم کے افراد عموماً نفسیاتی طور پر صحیح وسالم نہیں ہوتے اور اپنی ذات میں اپنے آپ سے ایک طرح کی بیگانگی محسوس کرتے ہیں اور جس معاشرے میں رہتے سہتے ہیں اس سے خود کو لاتعلق سا محسوس کرنے لگتے ہیں، ایسے افراد قوت ِارادی کہ جو ہر قسم کی کامیابی کی شرط ہے آہستہ آہستہ کھو بیٹھتے ہیں اور ایک قسم کی سرگردانی اور پریشانی ان کی روح میں آشیانہ بنالیتی ہے ۔
ایسے افراد اگر جلدی اپنی اصلاح کا ارادہ نہ کریں بلکہ لازمی طور پر جسمانی اور روحانی طبیب سے مدد نہ لیں اور یہ عمل ان کی عادت کی شکل اختیار کرلے تو اس کا ترک کرنا مشکل ہوجائے گا ۔
بہرحال اگر مصمم ارادہ کرلیا جائے تو کسی حالت میں بھی یہ عادت ترک کرنے میں دیر نہیں لگتی، ارادہ بہرصورت قوی ہونا ضروری ہے ۔
بہرکیف نفسیاتی سرگردانی انھیں تدریجاً منشیات اورشراب کی طرف لے جاتی ہے اور وہ مزید اخلاقی انحرافات کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ ایک اوربڑی بدبختی ہے ۔
یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ اسلامی روایات میں مختصر اور پرمعنی عبارات کے ذریعے ان مفاسد کی طرف اشاری کیا گیاہے، ان میں سے ایک روایت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے، کسی نے آپ سے سوال کیا:
لم حرم اللّٰہ اللواط۔
خدانے لواطت کو کیوں حرام کیا ہے؟
آپ نے فرمایا:
من اجل انہ لوکان اتیان الغلام حلالا لاستغنی الرجال عن النساء وکان فیہ قطع النسل وتعطیل الفروج وکان فی اجازة ذلک فساد کثیر۔
اگر لڑکوں سے ملاپ حلال ہوتا تو مرد عورتوں سے بے نیاز ہوجاتے (اور ان کی طرف مائل نہ رہتے ) اور یہ چیز نسلِ انسانی کے منقطع ہونے کا باعث بنتی اور جنسِ مخالف سے فطری ملاپ کے ختم ہونے کا باعث بنتی اور یہ کام بہت سی اخلاقی اور اجتماعی خرابیوں کا سبب بنتا ہے ۔ (1)
اس نکتے کا ذکر بھی قابل توجہ ہے کہ اسلام ایسے افراد کے لئے جن سزاؤں کا قائل ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ فاعل پر مفعول کی بہن، ماں اور بیٹی سے نکاح حرام ہے یعنی اگر یہ کام ازدواج سے پہلے صورت پذیر ہوتو یہ عورتیں اس کے لئے ابدی طور پر حرام ہیں ۔
جس نکتے کا ہم آخر میں ذکر ضروری سمجھتے ہیں یہ ہے کہ جنسی انحراف کی طرف افراد کے میلان کے بہت سے علل واسباب ہیں، یہاں تک کہ بعض اوقات ماں باپ کا اپنی اولاد سے سلوک یاہم جنس اولاد کی نگرانی نہ کرنا، ان کے طرزِ معاشرت اور ایک ہی جگہ پر سونا وغیرہ بھی ہوسکتا ہے اس آلودگی کا ایک عامل بن جائے ۔
بعض اوقات ممکن ہے کہ اس انحراف سے اےک اور اخلاقی انحراف جنم لے لے ۔
یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ قومِ لوط کے حالات میں ہے کہ ان کے اس گناہ میں آلودہ ہونے کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ بخیل اور کنجوس لوگ تھے چونکہ ان کے شہر شام جانے والے قافلوں کے راستے میں پڑتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ مہمانوں اور مسافروں کی پذیرائی کریں لہٰذا ابتدا ء میں وہ اس طرح ظاہر کرتے تھے کہ وہ ان پر جنسی تجاوز کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہ مہمانوں اور مسافروں کو اپنے سے دور بھگائےںلیکن تدریجاً یہ عمل ان کی عادت بن گیا اور انحراف جنسی کے میلانات آہستہ آہستہ ان کے وجود میں بےدار ہوگئے اور معاملہ یہاں تک جاپہنچا کہ وہ سر سے لے کر پاؤں تک اس میں آلودہ ہوگئے ۔ (2)
یہاں تک کے فضول قسم کا مذاق جو کبھی کبھی لڑکوں یا لڑکیوں کے درمیان اپنے ہم جنسوں کے بارے میں ہوتا ہے بعض اوقات ان انحرفات کی طرف کھینچ لے جانے کا سبب بن جاتا ہے ۔
بہرحال پوری توجہ سے ان امور کا خیال رکھنا چاہیئے اور جو اس گناہ میں آلودہ ہوں انھیں جلدی نجات حاصل کرنا چاہیئے اور اس بارے میں خدا سے توفیق طلب کرنا چاہیئے ۔
..............
1۔ وسائل الشیعہ ،ج ۱۴،ص ۲۵۲۔
2۔ بحار، ج۱۲،ص ۱۴۷۔

قومِ لُوط کا اخلاق
اسلامی روایات وتواریخ میں جنسی انحرفات کے ساتھ قومِ لوط کے برے اور شرمناک اعمال اور گھٹیا کردار بھی بیان ہوا ہے، اس سلسلے میں سفینة البحار میں ہے:
قیل کانت مجالسھم تشتمل علی انواع المناکیر مثل الشتم والسخف والصفح والقمار وضرب المخراق وخذف الاحجار علی من مر بھم وضرب المعازف والمزامیر وکشف العورات۔
کہا گیا ہے کہ ان کی مجالس اور بیٹھکیں طرح طرح کے منکرات اور برے اعمال سے آلودہ تھیں، وہ آپس میں رکیک جملوں، فحش کلامی اور پھبتیوں کا تبادلہ کرتے تھے، ایک دوسرے کی پشت پر مُکّے مارتے تھے طرح طرح کی آلاتِ موسیقی استعمال کرتے تھے اور لوگوں کے سامنے اپنی شرم گاہوں کا ننگا کرتے تھے ۔ (1)
واضح ہے کہ اس قسم کے گندے ماحول میں ہرروز انحراف اور بدی نئی شکل میں رونما ہوتی ہے اور وسیع سے وسیع ہوتی چلی جاتی ہے، ایسے موحول میں اصولی طور پر بُرائی کا تصور ختم ہوجاتا ہے اور لوگ اس طرح سے اس راہ پر چلتے ہیں کہ کوئی کام ان کی نظر میں برا اور قبیح نہیں رہتا، اس سے زیادہ بد بخت وہ قومیں ہیں جو وعلمِ کی پیش رفت کے زمانے میں انھیں راہوں پر گامزن ہیں، بعض اوقات تو ان کے اعمال اس قدر شرمناک اور رسوا کن ہوتے ہیں کہ قومِ لوط کے اعمال بھو ل جاتے ہیں ۔
..............
1۔ سفینة البحار، ص ۵۱۷۔