تفسیر نمونہ جلد 09
 

۷۴ فَلَمَّا ذَھَبَ عَنْ إِبْرَاھِیمَ الرَّوْعُ وَجَائَتْہُ الْبُشْریٰ یُجَادِلُنَا فِی قَوْمِ لُوطٍ۔
۷۵ إِنَّ إِبْرَاھِیمَ لَحَلِیمٌ اٴَوَّاہٌ مُنِیبٌ۔
۷۶ یَاإِبْرَاھِیمُ اٴَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا إِنَّہُ قَدْ جَاءَ اٴَمْرُ رَبِّکَ وَإِنَّھُمْ آتِیھِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُودٍ۔

ترجمہ
۷۴۔جب ابراہیم کا خوف جاتا رہا اور اسے بشارت مل گئی تو ہمارے ساتھ قوم لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا ۔
۷۵۔کیونکہ ابراہیم بردبار، ہمدرد اور (خدا کی طرف)بازگشت کرنے والا تھا ۔
۷۶۔اے ابراہیم! اس سے صرف نظر کرلے کہ تیرے پروردگار کا فرمان آپہنچا اور (خدا کا)عذاب قطعی طور پر ان پر آئے گا اور وہ پلٹ نہیں سکتا ۔

تفسیر
گزشتہ آیات میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ ابراہیم (علیه السلام) بہت جلد نووارد مہمانوں کے بارے میں جان گئے کہ وہ خطرناک دشمن نہیں بلکہ پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں اور کود انہی کے بقول ایک ذمہ داری کی انجام دہی کے لئے قوم ِ لوط کی طرف جارہے ہیں ۔
ان کی طرف سے جب ابراہیم (علیه السلام) کی پریشانی ختم ہوگئی اور ساتھ ہی انھیں صاحبِ شرف فرزند اور جانشین کی بشارت مل گئی تو فورا وہ قوم لوط کی فکر میں پڑ گئے جن کی نابودی پر وہ فرستادگان مامور تھے، وہ اس سلسلے میں ان سے جھگڑنے لگے اور بات چیت کرنے لگے ( فَلَمَّا ذَھَبَ عَنْ إِبْرَاھِیمَ الرَّوْعُ وَجَائَتْہُ الْبُشْریٰ یُجَادِلُنَا فِی قَوْمِ لُوطٍ) ۔ (۱)
ممکن ہے یہاں یہ سوال پیدا ہو کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) ایک آلودہ گناہ قوم کے بارے میں کیوں گفتگو کے لئے کھڑے ہوگئے اور پروردگار کے اس رسولوں کے ساتھ کہ جو فرمان خدا سے مامور تھے جھگڑنے لگے (یہی وجہ ہے کہ ”یجادلنا“ کی تعبیر استعمال ہوئی یعنی ہم سے مجادلہ کرتے تھے) حالانکہ ایسا ایک پیغمبر کی شان سے اور وہ بھی ابراہیم (علیه السلام)جیسے باعظمت پیغمبر سے بعید ہے ۔
اسی لئے قرآن فوراً بعد والی آیت میں کہتا ہے: ابراہیم بردبار، بہت مہربان،خدا پر توکل کرنے والا اور اس کی طرف بازگشت کرنے والا ہے (إِنَّ إِبْرَاھِیمَ لَحَلِیمٌ اٴَوَّاہٌ مُنِیبٌ) ۔ (2)
دواصل ان تین لفظوں میں مذکورہ سوال کا جواب دیا گیا ہے، اس کی وضاحت یہ ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) کے لئے ان صفات کا ذکر نشاندہی کرتا ہے کہ ان کا مجادلہ اور جھگڑنا ممدوح اور قابل تعریف ہے، یہ اس لئے کہ ابراہیم (علیه السلام) پر یہ واضح نہیں تھا کہ خدا کی طرف سے عذاب کا قطعی فرمان صادر ہوچکا ہے، انھیں احتمال تھا کہ قوم کی نجات کے لئے ابھی امید کی کرن باقی ہے اور ابھی احتمال ہے کہ وہ بیدار ہوجائے لہٰذا ابھی شفاعت کاموقع باقی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ سزا اور عذاب میں تاخیر کے خواستگار ہوئے کیونکہ وہ حلیم، اور بردبار تھے، وہ بہت مہربان بھی تھے اور ہرموقع پر خدا کی طرف رجوع کرنے والے بھی تھے ۔
لہٰذا یہ جو بعض نے کہا کہ اگر ابراہیم (علیه السلام) کا مجادلہ خدا کے ساتھ تھا تو اس کا کوئی معنی نہیں ہے اور اگر اس کے بھیجے ہوئے فرشتوں کے ساتھ تھا تو وہ بھی اپنی طرف سے کوئی کام انجام نہیں دے سکتے تھے اس لئے یہ مجادلہ کسی صورت میں صحیح نہیں ہوسکتا، اس کا جواب یہ ہے کہ ایک قطعی حکم کے مقابلے میں تو بات نہیں ہوسکتی لیکن غیر قطعی فرامین، شرائط وکوائف میں تبدیلی کی سورت میں بدلے جاسکتے ہیں کیونکہ ان میں بازگشت اور رجوع کی راہ بند نہیں ہوتی، دوسرے لفظوں میں ایسے فرامین مشروط ہوتے ہیں ناکہ مطلق ۔
باقی رہا یہ احتمال کہ یہاں مجادلہ مومنین کی نجات کے لئے تھا تو یہاں سورہٴ عنکبوت کی آیہ ۳۱،اور ۳۲ سے اشتباہ ہوا ہے جہاں فرمایا گیا ہے:
<وَلَمَّا جَائَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاھِیمَ بِالْبُشْریٰ قَالُوا إِنَّا مُھْلِکُو اٴَھْلِ ھٰذِہِ الْقَرْیَةِ إِنَّ اٴَھْلَھَا کَانُوا ظَالِمِینَ قَالَ إِنَّ فِیھَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ اٴَعْلَمُ بِمَنْ فِیھَا لَنُنَجِّیَنَّہُ وَاٴَھْلَہُ إِلاَّ امْرَاٴَتَہُ کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِینَ>
جب ہمارے رسول بشارت لے کر ابراہیم کے پاس آئے تو کہا: ہم اس بستی (قوم لوط کا شہر) والوں کو ہلاک کردیں گے کیونکہ اس کے باسی ظالم ہیں، ابراہیم نے کہا: وہاں تو لوط رہتا ہے، انھوں نے کہا: ہم وہاں رہنے والوں سے بہت آگاہ ہیں، اسے اور اس کے خاندان کو ہم نجات دیں گے سوائے اس کی بیوی کے کہ جو قوم میں ہی رہے گی ۔
یہ احتمال صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ بعد والی آیت سے کسی طرح مناسبت نہیں رکھتا، جس کے بارے میں ابھی ہم بحث کریں گے ۔
بعد والی آیت میں ہے: رسولوں نے فوراً-ابراہیم (علیه السلام) سے کہا: اے ابراہیم! اس تجویز سے صرفِ نظر کرو اور شفاعت رہنے دو کیونکہ یہ اس کا موقع نہیں ہے ( یَاإِبْرَاھِیمُ اٴَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا )، کیونکہ تیرے پروردگار کا حتمی اور یقینی فرمان آپہنچا ہے (إِنَّہُ قَدْ جَاءَ اٴَمْرُ رَبِّکَ)،اور خدا کا عذاب بلاکلام ان پر آکررہے گا ( وَإِنَّھُمْ آتِیھِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُود) ۔
”ربک“ (تیرا رب) ۔یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ یہ عذاب نہ سرف یہ کہ انتقامی حوالے سے نہیں تھا بلکہ اس کا سرچشمہ پروردگار کی صفتِ ربوبیت ہے جو بندوں کی تربیت وپرورش اور اجتماعِ انسانی کی اصلاح کی نشانی ہے ۔
یہ بعض روایات میں ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) نے خدا کے رسولوں سے کہا: اگر قوم میں سو مومن افراد ہوئے تو پھر بھی ہلاک نہیں کرو گے؟ اس پر انھوں نے کہا: نہیں، ابراہیم (علیه السلام) نے پوچھا: اگر پچاس افراد ہوئے ؟ تو وہ کہنے لگے: نہیں، پوچھا: اگر تیس ہوئے؟ وہ بولے: نہیں، کہا اگر دس ہوئے؟ وہ کہنے لگے : نہیں، پوچھا: اگر پانچ ہوئے؟ انھوں کہا: نہیں، یہاں تک کہ پوچھا کہ: اگر ایک شخص بھی ان میں صاحب ایمان ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، اس پر حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے کہا: یقینا لوط تو ان کے درمیان ہیں، انھوں نے جواب دیا: ہم خوب جانتے ہیں اسے اور اس کی بیوی کے سوا اس کے خاندان کو ہم نجات دیں گے ۔ (3)
یہ روایت کسی طرح اس بات کی دلیل نہیں کہ مجادلہ سے مراد یہ گفتگو تھی بلکہ یہ گفتگو تو مومنین کے بارے میں تھی، حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے جو گفتگوکفار کے بارے میں کی وہ اس سے جدا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ سورہ عنکبوت کی مذکورہ آیات بھی اس تفسیر کے منافی نہیں ہے (غور کیجئے گا)
..............
۱۔ ”روع“(بروزن”نوع“)خوف ووحشت کے معنی میں ہے اور ”روع“(بروزن ”نوح“)روح یا لوح کے ایک حصے کے معنی میں ہے جو خوف ووحشت کے نزول کا مرکز ہے (قاموس اللغت کی رجوع کریں) ۔
2۔ ”حلیم“،”حلم“ سے ہے، اس کا معنی ایک مقدس ہدف تک پہنچنے کے لئے بردباری اختیار کرنا اور ”آواہ“ اصل میں اس شخص کے معنی میں ہے جو بہت آہیں بھرتا ہو چاہے اپنی ذمہ داریوں کے خوف سے یالوگوں کو گھیرے ہوئے مشکلات ومصائب کی وجہ سے اور ”منیب“ ”انابہ“ کے مادہ سے رجوع اور بازگشت کرنے کے معنی میںہے ۔
3۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۲۲۶۔

۷۷ وَلَمَّا جَائَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِیءَ بِھِمْ وَضَاقَ بِھِمْ ذَرْعًا وَقَالَ ھٰذَا یَوْمٌ عَصِیبٌ۔
۷۸ وَجَائَہُ قَوْمُہُ یُھْرَعُونَ إِلَیْہِ وَمِنْ قَبْلُ کَانُوا یَعْمَلُونَ السَّیِّئَاتِ قَالَ یَاقَوْمِ ھٰؤُلَاءِ بَنَاتِی ھُنَّ اٴَطْھَرُ لَکُمْ فَاتَّقُوا اللهَ وَلَاتُخْزُونِی فِی ضَیْفِی اٴَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَشِیدٌ۔
۷۹ قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِی بَنَاتِکَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیدُ۔
۸۰ قَالَ لَوْ اٴَنَّ لِی بِکُمْ قُوَّةً اٴَوْ آوِی إِلَی رُکْنٍ شَدِیدٍ۔

ترجمہ

۷۷۔جب ہمارے رسول لُوط کے پاس آئے تو وہ ان کے آنے سے ناراحت ہوا اور اس کا دل پریشان ہوا اور کہا کہ آج کا دن سخت ہے ۔
۷۸۔اور اس کی قوم جلدی سے اس کے پاس آئی اور وہ پہلے سے برے کام انجام دیتی تھی، اس نے کہا: اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمھارے لئے زیادہ پاکیزہ ہیں (ان سے ازدواج کرو اور برے اعمال چھوڑ دو) خدا سے ڈرو اور مجھے میری مہمانوں کے بارے میں رسوا نہ کرو، کیا تمھارے درمیان جوکوئی مرد رشید نہیں؟۔
۷۹۔وہ کہنے لگے: تو جانتا ہے کہ ہم تیری بیٹیوں کے لئے حق(اور میلان)نہیں رکھتے اور تو اچھی طرح جانتا ہے ہم کیا چاہتے ہیں ۔
۸۰۔کہا (افسوس) اے کاش! میں تمھارے مقابلے میں کوئی طاقت رکھتا یا کوئی محکم سہارا اورمدد گار مجھے میسّر ہوتا (تو اس وقت میں دیکھتا کہ تم جیسے برے لوگون سے کیا سلوک کروں) ۔

قوم لوط کی شرمناک زندگی
سورہٴ اعراف کی آیات میں قوم لوط کی سرنوشت کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس کی تفسیر ہم وہاں پیش کرچکے ہیں، یہاں انبیاء اور ان کی قوموں کی داستانوں کا سلسلہ جاری ہے، اسی مناسبت سے گزشتہ کچھ آیات حضرت لوط (علیه السلام) اور ان کی قوم کی سرگزشت سے تعلق رکھتی تھیں، زیر نظر آیات میں اس گمراہ اور منحرف قوم کی زندگی کے ایک اور حصے سے پردہ اٹھایا گیا ہے تاکہ سارے انسانی معاشرے کی نجات وسعادت کے اصلی مقصد کو ایک اور زاوےے سے پیش کیا جائے ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: جب ہمارت رسول لوط کے پاس آئے تو وہ ان کے آنے پر بہت ہی ناراحت اور پریشان ہوئے ، ان کی فکر اور روح مضطرب ہوئی اور غم وانداہ نے انھیں گھیر لیا (وَلَمَّا جَائَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِیءَ بِھِمْ وَضَاقَ بِھِمْ ذَرْعًا ) ۔
اسلامی روایات اور تفاسیر میں آیا ہے کہ حضرت لوط (علیه السلام) اس وقت اپنے کھیت میں کام کررہے تھے اچانک انھوں نے خوبصورت نوجوانوں کو دیکھا جو ان کی طرف آرہے تھے، وہ ان کی ہاں مہمان ہونا چاہتے تھے، اب حضرت لوط (علیه السلام) مہمانوں کی پذیرائی بھی چاہتے تھے لیکن اس حقیقت کی طرف بھی ان کی توجہ تھی کہ ایسے شہر میں جو انحراف جنسی کی آلودگی میں غرق ہے ان خوبصورت نوجوانوںکا آنا طرح طرح کے مسائل کا موجب ہے اور ان کی آبرو ریزی کا بھی احتمال ہے، اس وجہ سے حضرت لوط (علیه السلام) سخت مشکل سے دوچار ہوگئے، یہ مسائل روح فرسا افکار کی صورت میں ان کے دماغ میں ابھرے اور انھوں نے آہستہ آہستہ اپنے آپ سے کہنا شروع کیا: آج بہت سخت اور وحشتناک دن ہے (وَقَالَ ھٰذَا یَوْمٌ عَصِیبٌ) ۔
”سِیء“ مادہ”ساء“سے ناراحت وپریشان ہونے کے معنی میں ہے ۔
”ذرع“ کو بعض نے دل اور بعض نے خُلق کے معنی میں لیا ہے، اس بنا پر ”ضاق بھم ذرعا“ کا مفہوم ہے: ان کا دل یا خُلق ان کے بِن بلائے مہمانوں کے باعث ان سخت حالات میں بہت پریشان ہوا ۔
لیکن فخررازی نے اپنی تفسیر میں ازہری سے نقل کیاہے کہ ایسے موقع پر ”ذرع“ طاقت کے معنی میں ہے، اور اصل میں اس کا مطلب ہے” چلتے وقت اونٹ کے اگلے قدموں کے درمیان کا فاصلہ“۔
فطری اور طبیعی امر ہے جب اونٹ کی پشت پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ لاددیں تو وہ مجبورا اپنے اگلے پاؤں کو زیادہ نزدیک کر کے رکھے گا اور چلتے وقت ان کے درمیان فاصلہ کم ہوگا، اسی مناسبت سے یہ تعبیر تدریجا کسی حادثے کی سنگینی کی وجہ سے ہونے والی ناراحتی اور پریشانی کے معنی میں استعمال ہونے لگی ۔
بعض کتبِ لغت مثلا ”قاموس“ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تعبیر ایسے مواقع پر استعمال ہوتی ہے جہاں حادثے کی شدت اتنی ہو کہ انسان کو کوئی چارہ کار سجھائی نہ دے ۔
”عصیب“ ”عصب“ (بروزن ”اسپ“) کے مادہ سے ہے، اس کا معنی ہے کسی چیز کو ایک دوسرے سے باندھنا، سخت ناراحت کرنے والے حوادث چونکہ انسان کو ایک طرح سے لپیٹ دیتے ہیں اور گویا ناراحتی سے باندھ دیتے ہیں لہٰذا اس صورت حال پر ”عصیب“ کا اطلاق ہوتا ہے، نیز عرب گرم اور جلانے والے دن کو بھی ”یوم العصیب“ کہتے ہیں ۔
بہرحال حضرت لوط (علیه السلام) کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ کارنہ تھا کہ وہ اپنے نووارد مہمانوں کے گھر لے جاتے لیکن اس بنا ء پر کہ وہ غفلت میں نہ رہیں راستے میں چند مرتبہ ان کے گوش گزار کردیا کہ اس شہر میں شریر اور منحرف لوگ رہتے ہیں تاکہ اگر مہمان ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو صورتِ حال کا اندازہ کرلیں ۔
ایک روایت میں ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ جب تک یہ پیغمبر تین مرتبہ اس قوم کی برائی اور انحراف کی گواہی نہ دے انھیں عذاب نہ دیا جائے (یعنی ۔ یہاں تک کہ ایک گنہگار قوم سے متعلق بھی حکم خدا عدالت کے ایک عادلانہ فیصلے کی روشنی میں انجام پائے) اور ان رسولوں نے راستے میں تین مرتبہ لوط کی گوہی سُن لی ۔ (۱)
کئی ایک روایات میں آیا ہے کہ حضرت لوط (علیه السلام) نے مہمانون کو اتنی دیر تک (کھیت میں)ٹھہرائے رکھا کہ رات ہوگئی تاکہ شاید اس طرح اس شریر اور آلودہ قوم کی آنکھ سے بچ کر حفظِ آبرو کے ساتھ ان کی پذیرائی کرسکیں، لیکن جب ان کا دشمن خود اس کے گھر کے اندر موجود ہوتو پھر کیا کیا جاسکتا، لوط (علیه السلام) کی بیوی کو جو ایک بے ایمان عورت تھی اور اس گنہگار قوم کی مدد کرتی تھی جب اسے ان نوجوانوں اور خوبصورت مہمانوں کے آنے کی خبر ہوئی تو چھت پر چڑھ گئی، پہلے اس نے تالی بجائی پھر آگ روشن کرکے اس کے دھوئیں کے ذریعے ان نے منحرف قوم کے بعض لوگوں کو آگاہ کیا کہ لقمہ ترجال میں پھنس چکا ہے ۔ (۲)
یہاں قرآن کہتا ہے کہ وہ قوم حرص اور شوق کے عالم میں اپنے مقصد تک پہنچنے کے لئے بڑی تیزی سے لوط (علیه السلام) کی طرف آئی ( وَجَائَہُ قَوْمُہُ یُھْرَعُونَ إِلَیْہِ) ۔
وہی قوم کہ جس کی زندگی کے صفحات سیاہ اور ننگ وعار سے آلودہ تھے”اور جو پہلے ہی سے برے اور قبیح اعمال انجام دی رہی تھی“( وَمِنْ قَبْلُ کَانُوا یَعْمَلُونَ السَّیِّئَاتِ)
حضرت لوط (علیه السلام) اس وقت حق رکھتے تھے کہ لرزنے لگیں اور ناراحتی و پریشانی کی شدت سے چیخ وپکار کریں، انھوں نے کہا: مَیں یہاں تک تیار ہوں کہ اپنی بیٹیاں تمھارے نکاح میں دے دوں، یہ تمھارے لئے زیادہ پاکیزہ ہیں(قَالَ یَاقَوْمِ ھٰؤُلَاءِ بَنَاتِی ھُنَّ اٴَطْھَرُ لَکُمْ)
آؤ”اورخدا سے ڈرو، میری عزت وآبرو خاک میں نہ ملاؤ اور میرے مہمانوں کے بارے میں برا ارادہ کرکے مجھے رسوا نہ کرو“( فَاتَّقُوا اللهَ وَلَاتُخْزُونِی فِی ضَیْفِی ) ۔
اے وائے” کیا تم میں کوئی رشید، عقلمد اور شائستہ انسان موجود نہیں ہے “ کہ جو اس ننگین اور شرمناک عمل سے روکے (َلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَشِیدٌ) ۔
مگر تباہ کار قوم نے نبی خدا حضرت لوط (علیه السلام) کو بڑی بے شرمی سے جواب دیا: ”تو خود اچھی طرح جانتا ہے کہ ہمارا تیری بیٹیوں میں کوئی حق نہیں“ (قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِی بَنَاتِکَ مِنْ حَقٍّ) ”اور یقینا تو جانتا ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں“۔ (3) ۔
یہ وہ مقام تھا کہ اس بزرگوار پیغمبر نے اپنے آپ کو ایک محاصرے میں گھِرا ہوا پایا اور انھوں نے ناراحتی وپریشانی کے عالم میں فریاد کی: اے کاش! مجھ میں اتنی طاقت ہوتی کہ مَیں اپنے مہمانوں کا دفاع کرسکتا اور تم جیسے سرپھروں کی سرکوبی کرسکتا ( قَالَ لَوْ اٴَنَّ لِی بِکُمْ قُوَّةً)، یا کوئی مستحکم سہارا ہوتا، کوئی قوم وقبیلہ میرے پیروکاروں میں سے ہوتا اور میرے کوئی طاقتور ہم پیمان ہوتے کہ جن کی مدد سے تم منحرف لوگوں کا مقابلہ کرتا ( اٴَوْ آوِی إِلَی رُکْنٍ شَدِید)
..............
۱۔مجمع البیان، مزکورہ آیت کے ذیل میں ۔
۲۔المیزان، ج۱۰،ص ۳۶۲۔
3۔ ”یُھْرَعُونَ“ ”اھراع“ کے مادہ سے دھکیلنے کے معنی میں ہے، گویا سرکش جنسی خواہش اس گمراہ قوم کو بٹی شدت سے حضرت لوط (علیه السلام) کے مہمانوں کی طرف دھکیل رہی تھی ۔

چند قابل توجہ نکات

۱۔ حضرت لوط (علیه السلام) کی بیٹیاں:
جس وقت قوم لوط نے حضرت لوط (علیه السلام) کے گھر پر ہجوم کیا اور وہ ان کے مہمانوں پر تجاوز کرنا چاہتے تھے اس وقت آپ نے کہا: میری بیٹیاں تمھارے لئے پاک اور حلال ہیں، ان سے استفادہ کرو اور گناہ کے گرد چکر نہ لگاؤ۔
اس جملے نے مفسرین کے درمیان بہت سے سوالات اٹھا دئےے ہیں ۔
پہلا یہ کہ بیٹیوں سے مراد کیا لوط (علیه السلام) کی نسبی اور حقیقی بیٹیاں تھیں جب کہ تاریخ کے مطابق ان کی دو یا تین سے زیادہ بیٹیاں نہیں تھیں، لہٰذا انھوں نے اتنی کثیر جمعیت کے سامنے یہ تجویز کس طرح سے پیش کی، یا یہ کہ مراد تمام قوم اور شہر کی بیٹیاں تھیں کیونکہ معمول یہ ہے کہ قبیلہ کا بزرگ قبیلے کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیاں ہی قرار دیتا ہے ۔
دوسرا احتمال ضعیف نظر آتا ہے کیونکہ خلافِ ظاہر ہے اور صحیح وہی پہلا احتمال ہے اور حضرت لوط (علیه السلام) کی یہ تجویز اس بنا پر تھی کہ ہجوم کرنے والے بستی کے چند افراد تھے نہ کہ سب کے سب، علاوہ ازیں وہ یہاں انتہائی قربانی کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے کہ مَیں یہاں تک تیار ہوں کہ گناہ کو روکنے اور اپنے مہمانوں کی عزت اور مرتبے کی حفاطت کے لئے اپنی بیٹیاں تمھارے نکاح میں دے دوں کہ شاید اس بے نظیر قربانی پر ان کے سوئے ہوئے ضمیر بیدار ہوجائیں اور وہ راہ حق کی طرف پلٹ آئیں ۔
دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت لوط (علیه السلام) کی بیٹیوں جیسی باایمان لڑکیوں کی شادی بے ایمان کفار سے جائز تھی کہ آپ نے یہ تجویز پیش کی ۔
اس سوال کا جواب دو طرح سے دیا گیا ہے :
ایک یہ کہ اسلام کی حضرت لوط (علیه السلام) کے دین میں بھی آغاز میں اس قسم کا ازدواج حرام نہیں تھا ۔
دوسرا یہ کہ حضرت لوط (علیه السلام) کی مراد مشروط ازدواج تھی (یعنی ۔ مشروط باایمان)یعنی یہ میری بیٹیاں ہیں، آؤ ایمان لے آؤ تاکہ مَیں انھیں تمھارے نکاح میں دے دوں ۔
یہاں پر معلوم ہوتا ہے کہ نبیٴ خدا حضرت لوط (علیه السلام) پر یہ اعتراض کہ انھوں نے اپنی پاکیزہ بیٹیوں کے نکاح کی اوباش لوگوں سے تجویز کیونکر کی، درست نہیں ہے کیونکہ ان کی پیش کش مشروط تھی اور اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ انھیں ان کی ہدایت سے کس قدر لگاؤ تھا ۔

۲۔ ”اطھر“ کا مفہوم:
توجہ رہے کہ لفظ ”اطھر“ (پاکیزہ تر) کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ ان کا وہ برا اور شرمناک عمل پاک تھا اور ازدواج کرنا اس سے زیادہ پاک تھا بلکہ عربی زبان میں اور دیگر زبانوں میں ایسی تعبیر موازنے کے وقت استعمال میں کی جاتی ہے، مثلاً اگر کوئی شخص تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا ہو تو اسے کہتے ہیں:دیر سے پہنچنا بہتر ہے بالکل نہ پہنچے سے ”یا “ مشکوک غذا نہ کھانا بہتر ہے اس سے کہ انسان اپنی جان خطرے میں ڈال دے ۔
ایک روایت میں بھی ہے کہ امام (علیه السلام) نے خلفاء بنی عباس کی طرف سے احساس خطر اور شدتِ تقیہ کے موقع پر فرمایا:
واللّٰہ افطریوما من شھر رمضان احب الیٰ من ان یضرب عنقی ۔
ماہِ رمضان کا ایک دن کہ جب خلیفہ وقت نے عید کا اعلان کیا ہوا تھا حالانکہ اس روز عید نہیں ، اس دن افطار کروں (اور پھر اس دن کی قضا کروں) اس سے بہتر ہے کہ مارا جاؤں ۔ (1)
حالانکہ نہ مارا جانا اچھا ہے اور نہ مقصد تک بالکل نہ پہنچنا، لیکن ایسے مقامات پر اس طرح کی تعبیر استعمال کی جاتی ہے ۔

۳۔ایک مرد رشید، کی نصیحت:
حضرت لوط (علیه السلام) کا آخرِ کلام میں یہ کہنا کہ ”کیا تمھارے درمیان کوئی مرد رشید نہیں ہے“ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ایک رشید انسان کا کسی قوم یا قبیلے میں ہونا بھی اس کے شرمناک اعمال سے اسے روکنے کے لئے کافی ہوتا ہے، یعنی ایک شخص بھی اگر عاقل اور رشدِ فکر رکھنے والا تمھارے درمیان ہوتا تو تم میرے گھر کی طرف میرے مہمانوں پر تجاوز کرنے کے ارادے سے اور بدنیتی سے ہرگزنہ آتے ۔
اس سے انسانی معاشرے کی رہبری کے لئے ”رجل رشید“ کا اثرواضح ہوتا ہے، یہ وہ حقیقت ہے جس کے بہت سے نمونے ہم نے پوری تاریخِ بشر میں دیکھی ہے ۔

۴۔ انحراف کی انتہا:
تعجب کی بات یہ ہے کہ اس گمراہ قوم نے حضرت لوط (علیه السلام) سے کہا: ہم تیری بیٹیوں پر حق نہیں رکھتے یہ امر اس گروہ کی انتہائی انحراف کو ظاہر کرتا ہے یعنی گناہ میں ڈوبا ہوا ایک معاشرہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے لگتا ہے، انھوں نے پاک وپاکیزہ صاحبِ ایمان لڑکیوں سے ازدواج کو بالکل قلمروِ حق میں شمار نہیںکیا لیکن اس کے برعکس جنسی انحراف کو اپنا حق شمار کیا ۔
گناہ کی عادت اور خو ہوجائے تو یہ مرحلہ اس قدر خطرناک مراحل میں سے ہے کہ یہاں پہنچ کر افراد شرمناک ترین اور قبیح ترین اعمال کو اپنا حق شمار کرتے ہیں اور پاکیزہ ترین طریقے سے جنسی تقاضوں کی تسکین کو ناحق سمجھتے ہیں ۔

۵۔ ”قوة“ اور ”رکن شدید“ کا مفہوم:
ایک حدیث میں امام صادق (علیه السلام) سے مروی ہے کہ آپ (علیه السلام) نے مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں فرمایا:
”قوة“ سے مراد وہی ”قائم“ہے اور ”رکن شدید“ ان کے ۳۱۳یار وانصار ہیں ۔ (2)
ہوسکتا ہے یہ روایت عجیب معلوم ہوکہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اس زمانے میں حضرت لوط (علیه السلام) ایسی شخصیت کی ایسے یاروانصار کے ساتھ ظہور کی آرزو کریں ، لیکن جو روایات آیاتِ قرآن کی تفسیر کے ذیل میں اب تک آئیں ہیں انھوں نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ عام طور پر ایک کلی قانون کو اس کے واضح مصداق کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے، دراصل حضرت لوط (علیه السلام) یہ آرزو کرتے ہیں کہ اے کاش! مصمم ارادوں والے، جسمانی اور روحانی طور پر طاقتور کافی تعداد میں مرد ہوتے ان کے مرد وں کی طرح جو قیام مہدی (علیه السلام) کے زمانے میں عالمی حکومت تشکیل دیں گے تو مَیں بھی حکومتِ الٰہی کی تشکیل کے لئے کام کرتا اور ان کی مدد سے فساد وانحراف کے خلاف جہاد کرتا اور اس قسم کے سرپھرے اور بے شرم افراد کی سرکوبی کرتا ۔
..............
1۔ وسائل، ج۷،ص ۹۵.
2۔ تفیسر برہان، ج۲،ص۲۲۸۔