تفسیر نمونہ جلد 09
 

۶۱ وَإِلیٰ ثَمُودَ اٴَخَاھُمْ صَالِحًا قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ ھُوَ اٴَنشَاٴَکُمْ مِنَ الْاٴَرْضِ وَاسْتَعْمَرَکُمْ فِیھَا فَاسْتَغْفِرُوہُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْہِ إِنَّ رَبِّی قَرِیبٌ مُجِیبٌ۔

ترجمہ
۶۱۔ (قوم)ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا، اس نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی پرستش کرو کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہی ہے جس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور اس کی آباد کاری تمھارے سپرد کی، اس سے بخشش طلب کرو، پھر اس کی طرف توبہ کرو اور رجوع کرو کہ میرا پروردگار (اپنے بندوں کے)نزدیک اور (ان کے تقاضوں کو) قبول کرنے والا ہے ۔

قوم ثمود کی داستان شروع ہوتی ہے
قوم عاد کے حالات اپنے تمام تر عبرت انگیزدرس کے ساتھ بطور اختصار تمام ہوئے، اب قوم ثمود کی باری ہے، تواریخ کے مطابق یہ قوم مدینہ اور شام کے درمیان وادی القریٰ میں رہتی تھی، یہاں ہم پھر دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید جب ان پیغمبر حضرت صالح (علیه السلام) کے بارے میں گفتگو کرتا ہے تو انھیں ”بھائی“ کے طور پر یاد کرتا ہے، یہ کتنی عمدہ، موثر اور خوبصورت تعبیر ہے، اس کے بعض مطالب ہم نے گزشتہ آیات کے ذیل میں اشارہ کیا ہے، دردِ دل رکھنے والا مہربان بھائی کہ جو خیر خواہی کے سوا کچھ نہیں چاہتا، ” ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا “(وَإِلیٰ ثَمُودَ اٴَخَاھُمْ صَالِحًا ) ۔
پھر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت صالح (علیه السلام) کااصولی لائحہ عمل بھی دیگر انبیاء جیساہے، وہ لائحہ عمل جس کا آغاز توحید سے اور ہر قسم کے شرک اور بت پرستی کی نفی سے ہوتا ہے، وہ شرک اور بت پرستی جو انسان کی تمام مشکلات کا خمیر ہے ۔
اس نے کہا: اے میری قوم! خدا کی پرستش کرو کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں( قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ) ۔
اس کے بعد ان میں حق شناسی کی تحریک پیدا کرنے کے لئے انھیں پروردگار کی اہم نعمتیں کہ جو ان کے پورے وجود پر محیط ہیں کا ایک پہلو یاد دلایا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: وہ ایسی ذات ہے جس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا ہے ( غَیْرُہُ ھُوَ اٴَنشَاٴَکُمْ مِنَ الْاٴَرْضِ) ۔
بے قدر وقیمت خاک کہاں اور یہ وجود عالی اور بدیع و عمدہ خلقت کہاں، کیا کوئی عقل اجازت دیتی ہے کہ انسان ایسے خالق وپروردگار کو جو یہ قدرت رکھتا ہے اور جس نے یہ نعمت بخشی ہے اسے چھوڑ کر ان تمسخر آمیز بتوں کے پیچھے جائے ۔
نعمت خلقت کی طرف اشارہ کرنے بعد زمین میں موجود دوسری نعمت سرکش یاد دلائی گئی ہیں وہ ایسی ذات ہے جس نے زمین کی تعمیر اور آباد کاری تمھارے سپرد کی ہے اور اس کے وسائل اور ذرائع تمھیں بخشے ہیں ( وَاسْتَعْمَرَکُمْ فِیھَا) ۔
لفظ”استعمار“ اور ”اعمار“ لغت عرب میں در اصل زمین کی آباد کاری کسی کو سپرد کردینے کے معنی میں ہے اور یہ بات طبیعی و فطری ہے کہ اس کا لازمہ ہے کہ ضروری وسایل بھی اسے مہیا کئے جائیں، یہ وہ چیز ہے کہ جو ارباب لغت مثلا ًراغب نے مفردات اور دوسرے بہت سے مفسرین نے مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں کہی ہے ۔
آیت کے معنی میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ خدا نے نے تمھیں طولانی عمر دی ہے، البتہ متون لغت کی طرف توجہ کرتے ہوئے پہلا معنی زیادہ صحیح نظر آتا ہے ۔
بہرحال یہ امر دونوں معانی کے لحاظ سے قوم ثمود کے بارے میں صادق آتا ہے کیونکہ ان کی آباد اور سرسبز وشاداب زمین اور پر نعمت باغات بھی تھے، یہ لوگ زراعت میں نئی نئی ایجادات کرتے تھے اور بہت محنت صرف کرتے تھے، علاوہ ازیں ان کی عمریں لمبی اور قوی جسم تھے، مضبوط عمارتیں بنانے میں بھی انھوں نے بیت ترقی کی تھی جیسا کہ قرآن کہتا ہے:
وَکَانُوا یَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوتًا آمِنِینَ۔
پہاڑوں کے وسط میں پر امن گھر بناتے تھے ، (حجر:۸۲)
یہ بات قابل توجہ ہے کہ خدا یہ نہیں کہتا کہ خدا نے زمین کو آباد کیا اور تمھارے اختیار میں دے دیا بلکہ کہتا ہے کہ زمین کی آبادی اور تعمیر تمھارے سپرد کردی، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وسائل وذرائع ہر لحاظ سے مہیا ہے لیکن تمھیں کام اور کوشش کرکے زمین کو آباد کرنا ہے اور اس کے منابع اور ذرائع اپنے ہاتھ میں کرنا ہے اور کوشش کئی بغیر تمھیں اپنا حصہ نہیں مل سکتا ۔
اس حقیقت کے ضمن میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک قوم اور ملت کو آباد کاری کا موقع ملنا چاہیئے، کام اس کے سپرد کیا جانا چاہیئے اور ضروری وسائل اور سازوسامان اس کے اختیار میں دیا جانا چاہیئے ۔
”اب جب ایسا ہے تو اپنے گناہوں سے توبہ کرو اور خدا کی طرف رجوع کرو اور پلٹ آؤ کہ میرا پروردگار اپنے بندوں کے قریب ہے اور ان کی درخواست قبول کرتا ہے (فاستغفرُوہُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْہِ إِنَّ رَبِّی قَرِیبٌ مُجِیبٌ) ۔

قرآن اور ہمارے زمانے کا استعمار
جیسا کہ ہم نے مندرجہ بالا آیات میں دیکھا ہے کہ خدا کے پیغمبرحضرت صالح (علیه السلام) اپنی گمراہ قوم کی تربیت مکمل کرنے کے لئے ان سے خاک سے انسان کی عظیم خلقت اور زمین کی آباد کاری کے لئے اس کے وسائل وذخائرا سے سپرد کئے جانے کے بارے میں گفتگو کی ہے، یہ لفظ استعمار اگرچہ مفہوم کے اعتبار سے ایک خاص زیبائی اور کشش رکھتا ہے، اس میں تعمیر وآبادکاری کا مفہوم بھی مضمر ہے، تفویض اختیارات کا بھی اور وسائل و ذرایع مہیا ہونے کا بھی لیکن ہمارے زمانے میں اس لفظ کا مفہوم اس طرح سے مسخ ہوگیا ہے اور قرآنی مفہوم کے بالکل الٹ ہوگیا ہے ۔
لفظ”استعمار“ ہی نہیں جو اس منحوس انجام کو پہنچنا ہے بہت سے کلمات چاہے وہ فارسی کے ہوں یا عربی کے یا دوسری زبانوں کے ہم دیکھتے ہیں کہ اسی طرح مسخ، تحریف اور تضاد کا شکار ہوگئے ہیں ، عربی زبان کے الفاظ ”حضارت “ ،”ثقافت “ اور ”حرےت“ اور فارسی زبان میں ”تمدن“ ”روشن فکری“،” آزادی “ ”آزادگی“ ”ہنر“ اور ”ہنر مندی “ اس قسم کی مثالیں ہیں ، ان تحریفوں کے نتیجے میں خود فراموشی ، مادہ پرستی، فکری غلامی، انکار حقیقت اور ہر قسم کا پھیلاؤ، عجلت پسندی اور بے توجہی جنم لیتی ہے ۔
بہرحال ہمارے زمانے میں استعمار کا حقیقی مفہوم بڑی سیاسی وصنعتی طاقتوں اور سوپر طاقتوں کا مستضعف اور کمزور قوتوں پر غلبہ ہے جس کا ماحول یہ ہے کہ استعماری طاقتیں مستضعف اور کمزور قوتوں کے ہاں لوٹ مار کرتی ہیں، انھیں غارت کرتی ہیں، ان کا خون چوستی ہیں اور ان کی زندگی کے وسائل غصب کرتی ہیں ۔
استعمار کی کئی روپ ہیں، کبھی یہ ثقافت وتہذیب کا روپ دھار لیتا ہے، کبھی فکری ونظری حوالے سے استحصال کرتا ہے، کبھی اقتصادی، کبھی سیاسی اور کبھی فوجی حوالے سے سامنے آتا ہے، یہ استعمار ہی ہے جس نے ہماری آج کی دنیا کا چہرہ تاریک کردیا ہے، آج کی دنیا میں ہر چیز پر اقلیت کا قبضہ ہے اوربہت بڑی اکثریت تمام چیزوں سے محروم ہے، یہ استعمار ہی جنگوں، ویرانیوں، تباہ کاریوں اور اسلحہ کی کمر شکن دوڈکا سرچشمہ ہے ۔
جو لفظ قرآن نے اس مفہوم کے لئے استعمال کیا ہے وہ ”استضعاف“ ہے کہ جو ٹھیک اس معنی کا سانچہ ہے یعنی ضعیف کرنا، اس لفظ کے وسیع مفہوم میں فکری، سیاسی، اقتصادی اور دیگر حوالوں سے کمزور اور ضعیف کرنا شامل ہے ۔
ہمارے زمانے میں استعمار کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ خود لفظ استعمار بھی استعماری ہوگیا ہے کیونکہ اس کا لغوی مفہوم باکل الٹ گیا ہے ۔
بہرحال استعمار کے حوالے سے ایک غم انگیزطویل داستان وجود میں آئی ہے، کہا جاسکتا ہے کہ اس داستان میں پوری انسانی تاریخ سمائی ہوئی ہے، اگرچہ استعمار ہمیشہ چہرہ بدلتا رہتا ہے لیکن صحیح طور پر معلوم نہیں کہ انسانی معاشرے میں سے کب اس کی ریشہ کنی ہوگی اور کب انسانی زندگی باہمی تعاون واحترام اور اصول امداد باہمی کہ بنیاد پر استوار ہوگی تاکہ تمام میدانوں میں انسانی پیشرفت کا عمل شروع ہوسکے ۔

۶۲قَالُوا یَاصَالِحُ قَدْ کُنتَ فِینَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَا اٴَتَنْھَانَا اٴَنْ نَعْبُدَ مَا یَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِی شَکٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَیْہِ مُرِیبٍ۔
۶۳ قَالَ یَاقَوْمِ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ کُنتُ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَآتَانِی مِنْہُ رَحْمَةً فَمَنْ یَنصُرُنِی مِنْ اللهِ إِنْ عَصَیْتُہُ فَمَا تَزِیدُونَنِی غَیْرَ تَخْسِیرٍ۔
۶۴ وَیَاقَوْمِ ھٰذِہِ نَاقَةُ اللهِ لَکُمْ آیَةً فَذَرُوھَا تَاٴْکُلْ فِی اٴَرْضِ اللهِ وَلَاتَمَسُّوھَا بِسُوءٍ فَیَاٴْخُذَکُمْ عَذَابٌ قَرِیبٌ۔
۶۵ فَعَقَرُوھَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِی دَارِکُمْ ثَلَاثَةَ اٴَیَّامٍ ذٰلِکَ وَعْدٌ غَیْرُ مَکْذُوبٍ۔

ترجمہ
۶۲۔انھوں نے کہا:اے صالح(علیه السلام)! اس سے پہلے تو ہماری امید کا سرمایہ تھا، کیا تو ہمیں ان کی پرستش سے روکتا ہے جن کی ہمارے آباؤ واجداد پرستش کرتے تھے اور ہمیں اس چیز کے بارے میں شک ہے جس کی طرف تو دعوت دیتا ہے ۔
۶۳۔اس نے کہا: اے میری قوم! کیا میں اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہوں اور اس کی رحمت بھی میرے شامل حال ہو ( تو میں اس کی پیغام رسانی سے روگردانی کرسکتا ہوں)؟ اگر میں اس کی نافرمانی کروں تواس کے مقابلے میں کون میری مدد کرسکتا ہے، لہٰذا تمہاری باتیں سوائے تمھارے زیاں کارہونے کے بارے میں میرے اطمینان کے میرے لئے اور کوئی اضافہ نہیں کرتیں ۔
۶۴۔اے میری قوم!، یہ ناقہ خدا جو تمھارے لئے دلیل اور نشانی ہے، اسے چھوڑ دو کہ کدا کی زمین میں چرنے میں مشغول رہے اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ ورنہ بہت جلدی خدا کا عذاب گھیر لے گا ۔
۶۵۔ (لیکن)انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں اور اس نے ان سے کہا (تمہاری مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے) تین دن تک اپنے گھروں میں فائدہ اٹھالو (اس کے بعد خدائی عذاب آجائے گا)یہ ایسا وعدہ ہے کہ جس میں جھوٹ نہیں ہوگا ۔

تفسیر
اب ہم دیکھیں گے کہ حضرت صالح (علیه السلام) کے مخالفین ان کی زندہ اور حقیقت پسندانہ منطق کا کیا جواب دیتے ہیں ۔
انھوں نے حضرت صالح (علیه السلام) کو غیر موثر بنانے کے لئے یا کم از کم ان کی باتوں کو بے تاثیر کرنے کے لئے ایک نفسیاتی حربہ استعمال کیا، وہ آپ کو دھوکا دینا چاہتے تھے،” کہنے لگے: اے صالح! اس سے پہلے تو ہماری امیدوں کا سرمایہ تھا“مشکلات میں ہم تیری پناہ لیتے تھے، تجھ سے مشورہ کرتے تھے، تیرے عقل وشعور پر ایمان رکھتے تھے، اور تیری خیر خواہی اور ہمدردی میں ہمیں ہرگز کوئی شک نہ تھا (قَالُوا یَاصَالِحُ قَدْ کُنتَ فِینَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَا)لیکن افسوس کہ تم نے ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیا، دین بت پرستی کی اور ہمارے خداؤں کی مخالفت کرکے کہ جو ہمارے بزرگوں کا رسم رواج تھا اور ہماری قوم کے افتخارات میں ست تھا تونے ظاہر کردیا کہ تو بزرگوں کے احترام کا قائل ہے نہ ہماری عقل پر تمھیں کوئی اعتماد ہے اور نہ ہی تو ہمارے طور طریقوں کاحامی ہے، ”کیا سچ مچ تو ہمیں ان کی پرستش سے روکنا دینا چاہتا ہے جن کی عبادت ہمارے آباؤواجداد کرتے تھے“ ( اٴَتَنْھَانَا اٴَنْ نَعْبُدَ مَا یَعْبُدُ آبَاؤُنَا ) ۔
حقیقت یہ ہے کہ جس یکتا پرستی کے دین کی طرف تو دعوت دیتا ہے ہم اس کے بارے میں شک وتردد میں ہی، نہ سرف ہمیں شک ہے بلکہ اس کے بارے میں ہم بدگمان بھی ہیں (وَإِنَّنَا لَفِی شَکٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَیْہِ مُرِیبٍ) ۔
یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ گمراہ قوم اپنے غلط اور نادرست افکارواعمال کی توجیہ کے لئے اپنے بڑوں کا سہارا لیتی ہے ان کے تقدس کے ہالہ میں چھپنے کی کوشش کرتی ہے، یہ وہی پرانی منطق ہے جوتمام منحرف قوموں نے قدیم زمانے سے اپنے خرافات کی توجیہ کے لئے اختیار کی، یہی منطق آج بھی ایٹم اور خلاء کے دور میں پوری قوت سے باقی ہے ۔
لیکن خدا کے یہ عظیم پیغمبر ان کی ہدایت سے مایوس نہ ہوئے اور ان کی پرفریب باتوں کا ان کی عظیم روح پر ذرہ برابر اثر نہ ہوا، انھوں نے اپنی مخصوص قناعت کے ساتھ انھیں جواب دیا، ”کہا: اے میری قوم! دیکھو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہوں اور اس کی رحمت میرے شامل حال ہو، اور اس نے میرے دل کو روشن اور فکر کو بیدار کیا ہو اور میں ایسے حقائق سے آشنا ہوا ہوں جن سے پہلے آشنا نہ تھا تو کیا میں پھر بھی سکوت اختیار کرسکتا ہوں اور کیا اس صورت میںمیں پیام الٰہی نہ پہنچاؤں اور انحراف اور برائیوں کے خلاف جنگ نہ کروں “( قَالَ یَاقَوْمِ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِن کُنتُ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَآتَانِی مِنْہُ رَحْمَةً)، اس عالم میں ”اگر میں فرمان خدا کی مخالفت کروں تو کون شخص ہے جو اس کے عذاب وسزا کے مقابلے میں میری مدد کرسکتا ہے“( فَمَنْ یَنصُرُنِی مِنْ اللهِ إِنْ عَصَیْتُہُ)، لیکن جان لو کہ تمہاری اس قسم کی باتیں اور بڑوں کی روش سے استدلال وغیرہ کا مجھ پر اس کے سوا اور کوئی اثر نہیں ہوگا کہ تمھارے زیاں کارہونے کے بارے میں میرا ایمان بڑھے گا ( فَمَا تَزِیدُونَنِی غَیْرَ تَخْسِیرٍ) ۔
اس کے بعد آپ نے اپنی دعوت کی حقانیت کے لئے معجزے اور نشانی کے لئے نچاندہی کی، ایسی نشانی جو انسانی قدرت سے ماوراء ہے اور صرف قدرت الٰہی کے سہارے پیش کی گئی ہے ، ان سے کہا: ”اے میری قوم !یہ ناقہ الٰہی تمھارے لئے آیت اور نشانی ہے “( وَیَاقَوْمِ ھٰذِہِ نَاقَةُ اللهِ لَکُمْ آیَةً )،”اسے چھوڑدو کہ یہ بیابانوں چراگاہوں میں گھاس پھوس کھائے“(فَذَرُوھَا تَاٴْکُلْ فِی اٴَرْضِ اللهِ )،”اوراسے ہرگز کوئی تکلیف نہ پہنچانا ، اگر ایسا کرو گے تو فوراً تمھیںدردناک عذاب الٰہی گھیر لے گا “(وَلَاتَمَسُّوھَا بِسُوءٍ فَیَاٴْخُذَکُمْ عَذَابٌ قَرِیبٌ) ۔

ناقہ صالح
لغت میں ”ناقہ“ اونٹنی کے معنی میں ہے، مندرجہ بالاآیت میں اور قرآن کی بعض دیگر آیات میں اس کی اضافت خدا کی طرف سے کی گئی ہے، (۱)یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ یئہ اونٹنی کچھ خصوصیات رکھتی تھی، اس طر ف توجہ کرتے ہوئے مندرجہ بالا آیت میں اس کا زکر آیات الٰہی اور دلیل حقانیت کے طور پر آیا ہے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ اونٹنی ایک عام اونٹنی نہ تھی اور ایک حوالے سے یا کئی حوالوں سے معجزہ کے طور پر تھی، لیکن آیات میں یہ مسئلہ تفصیل کے ساتھ نہیں آیا کہ اس ناقہ کی خصوصیات کیا تھیں، اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی عام اونٹنی نہ تھی ۔
بس یہی ایک چیز قرآن میں دو مواقع پر موجود ہے کہ حضرت صالح (علیه السلام) نے اس ناقے کے بارے میں اپنی قوم کو بتایا کہ اس علاقے میں پانی کی تقسیم ہونا چاہیئے، ایک دن ناقہ کا حصہ ہے اور ایک دن لوگوں کا، آیت کے الفاظ ہیں:
ھٰذِہِ نَاقَةٌ لَھَا شِرْبٌ وَلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَعْلُومٍ۔ (شعراء: ۱۵۵)
نیز سورہ قمر کی آیہ ۲۸ میں :
وَنَبِّئْھُمْ اٴَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَیْنَھُمْ کُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ ۔
سورہ شمس میں بھی اس امر کی طرف اشارہ موجود ہے:
فَقَالَ لَھُمْ رَسُولُ اللهِ نَاقَةَ اللهِ وَسُقْیَاھَا ۔ (شمس:۱۳)
لیکن یہ بات پوری طرح مشخص نہیں ہوسکی کہ پانی کی یہ تقسیم کس طرح خارق عادت تھی، ایک احتمال یہ ہے کہ وہ اونٹنی بہت زیادہ پانی پیتی تھی اس طرح سے کہ چشمہ کا تمام پانی اس کے لئے مخصوص ہوجاتا، دوسرا احتمال یہ ہے کہ جس وقت وہ پانی پینے کے لئے آتی تو دوسرے جانور پانی پینے کی جگہ پر آنے کی جرات نہ کرتے ۔
ایک سوال یہ ہے کہ یہ جانور تمام پانی سے کس طرح استفادہ کرتا تھا، اس سلسلے میں یہ احتمال ہے کہ اس بستی کا پانی کم مقدار میں ہو، جیسے بعض بستیوں میں ایک ہی چھوٹا سا چشمہ ہوتا ہے اور بستی والے مجبور ہوتے ہیں کہ دن بھر کا پانی ایک گڑھے میں اکٹھا کریں تاکہ کچھ مقدار جمع ہوجائے اور اسے استعمال کیا جاسکے ۔
لیکن دوسری طرف سورہ شعراء کی بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم ثمود تھوڑے پانی والے علاقے میں زندگی بسر نہیں کرتی تھی، بلکہ وہ لوگ تو باغوں، چشموں، کھیتوں اور نخلستان کے مالک تھے، قرآن کہتا ہے:
اٴَتُتْرَکُونَ فِی مَا ھَاھُنَا آمِنِینَ، فِی جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ، وَزُرُوعٍ وَنَخْلٍ طَلْعُھَا ھَضِیمٌ. (شعراء: ۱۴۶، تا۱۴۸)
بہرحال جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ ناقہ صالح کے بارے میں اس مسئلے پر قرآن نے اجمالا ذکر کیا ہے لیکن بعض روایات جو شیعہ اور سنی دونوں طرق سے نقل ہوئی ہیں میں ہے کہ اس ناقہ کے عجائب خلقت میں سے تھا کہ وہ پہاڑ کے اندر سے باہرنکلی، اس کے بارے میں کچھ اور خصوصیات بھی منقول ہیں جن کی وضاحت کا یہ موقع نہیں ہے ۔
بہر کیف حضرت صالح (علیه السلام) جیسے عظیم نبی نے اس ناقہ کے بارے میں بہت سمجھایا بجھایا مگر انھوں نے آخرکار ناقہ کو ختم کردینے کا مصمم ارادہ کرلیا، کیونکہ اس کی خارق عادت اور غیر معمولی خصوصیات کی وجہ سے لوگوں میں بیدار ی پیدا ہورہی تھی اور حضرت صالح (علیه السلام) کی طرف مائل ہورہے تھے لہٰذا قوم ثمود کے کچھ سرکشوں نے جو حضرت صالح (علیه السلام) کی دعوت کے اثرات کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے تھے اوروہ ہرگز لوگوں کی بیداری نہیں چاہتے تھے کیونکہ خلق خدا کی بیداری سے ان کے استعماری اور استثماری مفادات کو نقصان پہنچاتا تھا، ناقہ کو ختم کرنے کی سازش تیار کی، کچھ افراد کو اس کام پر مامور کیا گیا، آخر کار ان میں سے ایک نے ناقہ پر حملہ کیا اور اس پر ایک یا کئی وار کئے اور اسے مار ڈالا ( فَعَقَرُوھَا) ۔
”عقروھا“ ”عقر“ (بروزن ”ظلم“)کے مادہ سے ہے، اس کا معنی ہے کسی چیز کی اساس اور جڑ ،”عقرة البعیر“کا معنی ہے ”میں نے اونٹ کا سر قلم کردیا اور اسے نحر کردیا“ اونٹ کو قتل کرنا چونکہ اس کے اصل وجود کو ختم کردینے کا سبب بنتا ہے لہٰذا یہ مادہ اس معنی میں استعمال ہوا ہے، کبھی نحر کرنے کی بجائے اونٹ کی کوچیںکاٹنے یا اس کے ہاتھ پاؤں قطع کرنے کے معنی میں بھی لیا گیا ہے، دراصل ان تمام معانی کی بازگشت ایک ہی چیز کی طرف ہے اور ان سب کا ایک ہی نتیجہ ہے (غور کیجئے گا) ۔
..............
۱۔ ادبی اصطلاح میں یہ ایک تشریعی اضافت ہے جو کسی چیز کے شرف اور اہمیت کی دلیل ہے، ،مندرجہ بالاآیت میں اس کے دو نمونے نظر آتے ہیں”ناقة اللّٰہ“ اور ”ارض اللّٰہ“، دیگر مواقع پر ”شھراللّٰہ“ اور ”بیت اللّٰہ“ وغیرہ آئے ہیں ۔

مکتب کا رشتہ
یہ امر توجہ طلب ہے کہ اسلامی روایات میں ہے جس نے ناقہ کو مارا تھا وہ صرف ایک شخص تھا لیکن اس کے باوجود قرآن اس کام کی نسبت حضرت صالح (علیه السلام) کے تمام مخالفین کی طرف دیتا ہے اورجمع کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے کہتا ہے :”فعقروھا“ ۔
یہ اس بنا پر ہے کہ قرآن کسی امر پر باطنی طور پر راضی ہونے اور اس کے مکتبی رشتے کو اس میں شرکت سمجھتا ہے، در حقیقت اس کام کی سازش انفرادی نہ تھی، یہاں تک کہ جس نے اس پر عمل کیا تھا اس نے فقط اپنی قوت کے سہارے ایسا نہیں کیا تھا بلکہ اس کے پیچھے جمعیت کی طاقت تھی اور وہی اسے حوصلہ دے رہی تھی، یقینا ایسے کام کو انفرادی قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ ایک گروہی اور جماعتی کام شمار ہوگا ۔
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
وانما عقر ناقة ثمود رجل واحد فعمھم اللّٰہ بالعذاب لما عموہ بالرضا ۔
ناقہ صالح کو ایک شخص نے قتل کیا تھا، خدا نے تمام سرکش قوم کو عذاب کیا کیونکہ وہ سب اس پر راضی تھے 1) ۔
اسی مضمون کی یا اس کی مانند متعدد دیگر روایات پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول ہیں، ان سے اسلام کے نزدیک مکتبی رشتے اورفکری ہم آہنگی کی بنیاد پر بننے والے پروگراموں کی بہت زیادہ اہمیت واضح ہوتی ہے، نمونہ کے طور پر ان روایات کا کچھ حصہ ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں:
قال رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وآلہ وسلّم
من شھد امراً فکرھہ کان کمن غاب عنہ، ومن غاب عن امرفرضیہ کان کمن شھدہ۔
جو شخص کسی کام کو دیکھے لیکن اس سے متنفر ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو اس سے غائب ہو اور جو کسی کام سے غائب ہو لیکن دلی طور پر اس پر راضی ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو اس وقت حاضر تھا اور اس میں شریک تھا ۔ (2)
امام علی ابن موسیٰ رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
لو ان رجلا قتل فی المشرق فرضی بقتلہ رجل بالمغرب لکان الرضی عند اللّٰہ عز وجل شریک القاتل۔
جب کوئی شخص مشرق میں قتل ہو اورایک شخص مغرب میں رہتے ہوئے اس کے قتل پر راضی ہو تو خداکے ہاںوہ قاتل کا شریک ہے ۔ (3)
حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے، آپ نے فرمایا:
الراض بفعل قوم کالداخل معھم فیہ وعلی کل داخل فی باطل اثمان اثم العمل بہ واثم الرضا بہ۔
جو شخص کسی گروہ کے فعل پر راضی ہو وہ اس شخص کی طرح ہے جو اس کام میں ان کا شریک ہو لیکن جس نے عملا شرکت کی ہے اس کے دو گناہ ہیں، ایک عمل گناہ کا اور دوسرااس عمل پر راضی ہونے کا گناہ ہے ۔ (4)
مکتبی اور فکری رشتے کی گہرائی کو جاننے کے لئے اور سمجھنے کے لئے اس میں زمان ومکان کی کوئی قید نہیں، نہج البلاغہ میں موجود حضرت علی علیہ السلام کے اس پر معنی اور ہلا دینے والے کلام کی طرف توجہ کرنا کافی ہے:
جب حضرت امیرالمومنین (علیه السلام) نے میدان جمل میں جنگ کی آگ بھڑکانے والے باغیوں پر فتح پالی اور آپ کے اصحاب وانصار شرک وجاہلیت کے خلاف اسلام کی اس کامیابی پر خوش ہوئے تو ان میں سے ایک شخص عرض کرنے لگا:
میری کتنی خواہش تھی کہ میرا بھائی اس میدان میں موجود ہوتا اور وہ بھی دشمن پر آپ کی کامیابی کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ۔
امام(علیه السلام) نے اس کی طرف رخ کیا اورفرمایا:
اھوی اخیک معنا؟
یہ بتاؤ کہ تمھارے بھائی کا دل اور آرزو ہمارے ساتھ تھی؟
فقال نعم۔
اس نے عرض کیا: جی ہاں ۔
تو امام (علیه السلام) نے فرمایا:
فقدشھدنا
(فکر مت کرو) وہ بھی اس میدان میں شریک تھا ۔
اس کے بعد آپ (علیه السلام) نے فرمایا:
ولقد شھدنا فی عسکرنا ھذا اقوام فی اصلاب الرجال وارحام النساء سیرعف بھم الزمان ویقوی بھم الایمان۔
تجھے اس سے بھی بڑھ کر بتاؤں، آج ہمارے لشکر میں ان گروہوں نے بھی شرکت کی ہے جو ابھی اپنے باپوں کے صلب اور ماؤں کے رحم میں ہیں (اور ابھی انھوں نے اس دنیا میں قدم نہیں رکھا)لیکن وقت گزرنے کے ساتھ عنقریب وہ دنیا میں آئیں گے اور ان کی قوت وطاقت سے قوت ایمان میں اضافہ ہوگا ۔ (5)
اس میں شک نہیں کہ جو لوگ کسی کام میں شریک ہوتے ہیں اور اس کی تمام مشکلات و زحمات کو برداشت کرتے ہیں وہ ایک خاص امتیاز کے حامل ہیں لیکن اس کامعنی یہ نہیں کہ دوسرے بالکل اس میں شریک نہیں ہوتے بلکہ کیا اس زمانے میں اور کیا آئندہ زمانوں میں جو اشخاص بھی فکر ونظر اور مکتب ومذہب کے اعتبار سے اس کام سے منسلک ہیں وہ ایک لحاظ سے اس میں شریک ہیں ۔
یہ مسئلہ شاید کسی عالمی مکتب میں اپنی نظیر ومثیل نہ رکھتا ہو، جو کہ ایک اہم اجتماعی حقیقت کی بنیاد پر استوار ہے اور وہ یہ ے کہ جو لوگ طرزِ فکر میں دوسروں سے مشابہت رکھتے ہیں اگرچہ ان کے انجام دئےے ہوئے کسی معین کام میں شریک نہ ہوں تاکہ ہم یقینی طور اپنے ماحول اور زمانے میں اس سے ملتے جلتے کام انجام دیں گے کیون کہ انسان کے اعمال ہمیشہ اس کے افکار کا پرتو ہوتے ہیں، ممکن نہیں کہ انسان کسی مکتب کا پابند ہواور وہ اس کے عمل میں واضح نہ ہو۔
اسلام پہلے قدم پر ہی روح انسانی میں اصلاحات جاری کرتاہے تاکہ مرحلہ عمل کی خودبخود اصلاح ہوجائے، جو دستور ہم نے ستور بالا میں ذکر کیا ہے اس کے مطابق جب ایک مسلمان کو پتہ چلتا ہے کہ فلاں نیک کام یا بد کام انجام پارہا ہے تو اس کے بارے میں فوراً ایک صحیح موقف اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اپنے قلب وروح کو نیکیوں کا ہمنوا بناتا ہے اور برائیوں سے نفرت کرتا ہے، یہ اندرونی کاوش یقینا اس کے اعمال پر اثرانداز ہوگی اور اس کا فکری تعلق ایک عملی رشتے کی صورت میں نمودار ہوجائے گا ۔
آیت کے آخر میں حضرت صالح (علیه السلام) نے قوم کی سرکشی، نافرمانی اور اس کے ہاتھوں قتل ناقہ کے بعد اسے خطرے سے آگاہ کیا اور “کہا کہ پورے تین دن تک اپنے گھروں میں جس نعمت سے چاہو استفادہ کرو اور جان لو کہ ان تین دنوں کے بعد عذاب الٰہی آکے رہے گا“( فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِی دَارِکُمْ ثَلَاثَةَ اٴَیَّامٍ)،” اس بات کو حتمی سمجھو، میں جھوٹ نہیں کہہ رہا یہ ایک سچا اورحقیقی وعدہ ہے“( ذٰلِکَ وَعْدٌ غَیْرُ مَکْذُوب ) ۔
..............
1۔ نہج البلاغہ، کلام ۲۰۱۔
2۔ وسائل االشیعہ، ج۱۱، ص ۴۰۹۔
3۔ وسائل االشیعہ، ج۱۱، ص ۴۱۰۔
4۔ وسائل االشیعہ، ج۱۱، ص ۴۱۱۔
5۔ نہج لبلاغہ، کلام ۱۲۔