تفسیر نمونہ جلد 09
 

۴۸ قِیلَ یَانُوحُ اھْبِطْ بِسَلَامٍ مِنَّا وَبَرَکَاتٍ عَلَیْکَ وَعَلیٰ اٴُمَمٍ مِمَّنْ مَعَکَ وَاٴُمَمٌ سَنُمَتِّعُھُمْ ثُمَّ یَمَسُّھُمْ مِنَّا عَذَابٌ اٴَلِیمٌ۔
۴۹ تِلْکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الْغَیْبِ نُوحِیھَا إِلَیْکَ مَا کُنتَ تَعْلَمُھَا اٴَنْتَ وَلَاقَوْمُکَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعاقِبَةَ لِلْمُتَّقِینَ۔

ترجمہ
۴۸۔ (نوح سے) کہاگیا: اے نوح ! سلامتی اور برکت کے ساتھ جو تجھ پر اور تیرے ساتھ موجود تمام امتوں پر ہے اتر آؤ کچھ ایسی امتیں ہیں جنہیں ہم اپنی نعمتوں سے سرفراز کریں گے اس کے بعد انھیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا ۔
۴۹۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جن کی (اے پیغمبر !)ہم تجھ پر وحی کرتے ہیں اور انھیں اس سے پہلے نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم لہٰذا صبر اور استقامت سے کام لو کیونکہ عاقبت پرہیزگاروں کے لئے ہے ۔

حضرت نوح (علیه السلام) باسلامت اُتر آئے
حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کی سبق آموز سرگزشت کے بارے میں اس سورت میں آنے والی یہ آخری آیات ہیں ان میں حضرت نوح (علیه السلام) کی کشتی سے اترنے اور نئے سرے سے روئے زمین پر معمول کی زندگی گزانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔
پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے : نوح سے کہا گیا کہ سلامتی اور برکت کے ساتھ جو ہماری طرف سے تم پر اور ان پر ہے جو تیرے ساتھ ہیں اتر آؤ (قِیلَ یَانُوحُ اھْبِطْ بِسَلَامٍ مِنَّا وَبَرَکَاتٍ عَلَیْکَ وَعَلیٰ اٴُمَمٍ مِمَّنْ مَعَکَ) ۔
اس میں شک نہیں ”طوفان“ نے زندگی کے تمام آثار کو درہم برہم کردیا تھ، فطری طور پر آباد زمینیں، لہلہاتی چراگاہیں اور سرسبز باغ سب کے سب ویران ہوچکے تھے، اس موقع ہر شدید خطرہ تھا کہ حضرت نوح (علیه السلام)اور ان کے اصحاب اور ساتھی زندگی گزارنے اور غذا کے سلسلے میں بہت تنگی کا شکار ہوں گے لیکن خدا نے ان مومنین کو اطمینان دلایاکہ برکت الٰہی کے دروازے تم پر کھل جائیں گے اور زندگی اور معاش کے حوالے سے تمھیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہونا چاہیئے ۔
علاوہ ازیں ممکن تھا کہ حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کے پیروکاروں کو اپنی سلامتی کے حوالے سے یہ پریشانی ہوتی کہ طوفان کے بعد باقی ماندہ ان گندے پانیوں، جوہڑوںاور دلدلوں کے ہوتے ہوئے زندگی کے خطرے سے دوچار ہوگی لہٰذا خدائے تعالی اس سلسلے میں بھی انھیں اطمینان دلاتا ہے کہ تمھیں کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا اور وہ ذات جس نے ظالموں کی نابود ی کے لئے طوفان بھیجا ہے وہ اہل ایمان کی سلامتی اور برکت کے لئے بھی ماحول فراہم کرسکتی ہے ۔
یہ مختصر سا جملہ ہمیں سمجھا تا ہے کہ قرآن کیسے چھوٹے چھوٹے مسائل کو بھی اہمیت دیتا ہے اور انھیں جچی تلی اور خوبصورت عبارتوں کے ذریعے پیش کرتا ہے ۔
لفظ ”امم“ ”امت“کی جمع ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام) کے ساتھ کئی امتیں تھیں، یہ لفظ شاید اس بنا پر کہ جو افراد حضرت نوح (علیه السلام) کے ساتھ تھے ان میں سے ہر ایک ایک قبیلے اور امت کی پیدائش کاسرچشمہ تھا، یا یہ کہ جولوگ حضرت نوح (علیه السلام) کے ساتھ تھے ان میں سے ہرگروہ الگ الگ قوم وقبیلہ سے تھا جس سے مجموعة کئے امتیں بنتی تھیں ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ لفظ”امم“ ان مختلف اصناف حیوانات کے بارے میں ہے کہ جو حضرت نوح (علیه السلام) کے ساتھ تھے کیونکہ قرآن مجید میں ان کے بارے میں لفظ امت آیا ہے، جیسا کہ سورہ انعام کی آیہ ۳۸ میں ہے:
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْاٴَرْضِ وَلَاطَائِرٍ یَطِیرُ بِجَنَاحَیْہِ إِلاَّ اٴُمَمٌ اٴَمْثَالُکُمْ۔
کوئی روئے زمین پر چلنے والا اور کوئی پرندہ جو اپنے دو پرو کے ساتھ پرواز کرتا ہے ایسا نہیں جو تمہاری طرح کی امت نہ ہو ۔
اس بنا پر جس طرح حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کے ساتھی پروردگار کی لامتناہی لطف وکر م کے سائے میں طوفان کے بعد ان تمام مشکلات کے باوجود سلامتی وببرکت کے ساتھ جیتے رہے اسی طرح مختلف قسم کے جانور جو حضرت نوح (علیه السلام) کے ساتھ کشتی سے اترے تھے خدا کی طرف سے سلامتی اورحفاظت کے ساتھ اور اس کے لطف کے بسائے میں زندگی بسر کرتے رہے ۔
اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے : اس تمام تر صورت حال کے باوجود آئندہ پھر انھیں مومنین کی نسل سے کئی امتیں وجود میں آئیں گی جنہیں ہم انواع واقسام کی نعتیں بخشیں گے لیکن وہ غرور وغفلت میں ڈوب جائیں گی، اس کے بعد ہمارا دردناک عذاب انھیں پہنچے گا (وَاٴُمَمٌ سَنُمَتِّعُھُمْ ثُمَّ یَمَسُّھُمْ مِنَّا عَذَابٌ اٴَلِیمٌ) ۔
لہٰذا ایسا نہیں کہ صالح لوگوں کا یہ انتخاب اور طوفان کے زریعے نوع انسانی کی اصلاح کوئی آخری اصلاح ہے بلکہ رشدو تکامل کے آخری مرحلہ کو پہنچنے تک انسان اپنے ارادے کی آزادی سے سوء استفادہ کی بنا پر کبھی کبھی شر وفساد کی راہ پر قدم رکھے گا اور پھر سزا اور عذاب کا وہی پروگرام اس جہان میں اسے دامنگیر ہوگا ۔
یہ بات جاذب نظر ہے کہ مذکورہ جملے میں لفظ”سنمتعھم“(عنقریب انھیں انواع و اقسام کی نعمتوں سے بہرہور کریںگے)آیا ہے اور پھر بلا فاصلہ ان کے لے عذاب وسزا کی بات کی گئی ہے، یہ اس طرح اشارہ ہے کہ کم ظرف اور ضعیف الایمان لوگوں کو نعمت فراواں میسر آجائے تو ان میں شکر گزاریاور اطاعت کا جذبہ بیدار ہونے کی بجائے اکثر طغیان و غرور کے جذبات ابھر آتے ہےں اور اس کے ساتھ ہی وہ بندگی خدا کے رشتوں کو پارہ پارہ کردیتے ہےں ۔
مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں ایک قول نقل کیا ہے جو بہت جازب ہے ، وہ کہتا ہے:
”ھلک المستمتعون فی الدنیا لان الجھل یغلب علیھم والغفلتہ، فلا یتفکرون الا فی الدنیا و عمارتھا وملاذھا“۔
صاحبان نعمت دنیا میں ہلاک اور گمراہ ہوئے ہیں کیونکہ جہالیت اور غفلت نے ان پر غلبہ کیا ہے اور دنیا اور اس کی لذت کے علاوہ انھیں کوئی فکر نہیں ۔
یہ حقیقت دنیا کے سرمایہ دار اور دولت مند ممالک کی زندگی میں اچھی طرح دیکھی جاسکتی ہے کہ وہ زیادہ تر برائی میںہی غوطہ زن ہےں نہ صرف یہ کہ وہ دنیا کے مستضعف اور محروم انسانوں کے نارے میں سوچتے نہیں بلکہ الٹا ہر روز ان کا خون چوسنے کے لے نئی نئی سازشیں کرتے رہتے ہےں لہٰذا اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خدا انھیں جنگوں اور دیگر المناک حوادث سے دوچار کرتا ہے جو وقتی طور پر ان سے یہ نعمتیں سلب کرلتا ہےںیہ اس لے ہوتا ہے کہ شاید وہ بیدار ہوں ۔
آخری زیرے بحث آیت جس میں اس سورہ میں جاری حضرت نوح(علیه السلام) کا وقعہ ختم ہوتا ہے تمام مذکورہ واقعات کی طرف عمومی اشارہ ہوتا ہے : یہ سب غیب کی خبرے ہےں کہ جو (اے پیغمبر) ہم تجھ پر وہی کرتے ہےں ( تِلْکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الْغَیْبِ نُوحِیھَا إِلَیْک)، قبل ازیںتم اور تمہاری قوم اس سے ہر گز آگاہ نہ تھے (مَا کُنتَ تَعْلَمُھَا اٴَنْتَ وَلَاقَوْمُکَ مِنْ قَبْلِ ھٰذا) ۔
جو کچھ تم نے سنا اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اور اپنی دعوت کے دوران نوح کو پیش آمدہ تمام مشکلات اور اس کی استقامت دکھاؤ کیونکہ آخرکار کامیابی پرہیزگاروں ہی کےلئے ہے (ا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعاقِبَةَ لِلْمُتَّقِینَ) ۔

چند اہم نکات

۱۔ انبیاء کے سچے واقعات
قرآن حکیم نے انبیاء کے سچے واقعات پیش فرمائے ہیں، زیر نظر آخر میں آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان واقعات کو ہر قسم کی تحریف اور انحراف سے پاک بیان کرنا صرف وہی آسمانی کے زریعے ممکن ہے ورنہ گزشتہ لوگوںلوگوں کی کتب تاریخ میں اس قدر افسانے اور خرافات شامل ہیں کہ حق وباطل میں تمیز ممکن نہیں اور جتنی تاریخ قدیم ہوتی جاتی ہے اتنا ہی غلط ملط زیادہ ہوتی جاتی ہے، لہٰذا انبیاء اور گزشتہ اقوام کی انحراف سے پاک سرگزشت بیان کرنا خود حقانیت قرآن اور پیغمبر اسلام(علیه السلام) کی صداقت کی نشانی ہے ۔ (۱)
..............
۱۔ اس سلسلے میں تفصیل کے لئے کتاب” قرآن و آخرین پیغمبر‘ ‘ ملاحظہ فرمائیں ۔

۲۔انبیاء اور علم غیب
بعض لوگوں کے خیال کے برخلاف آخری زیر بحث آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علم غیب رکھتے تھے البتہ یہ آگاہی وحی الٰہی کے ذریعے ہوتی تھی اور اتنی ہی جتنی خدا چاہتا تھا یہ نہیں کہ وہ اپنی طرف سے کچھ جانتے تھے اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض آیات میں علم غیب کی نفی ہوئی ہے تو وہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان کا علم ذاتی نہیں ہے بلکہ صرف خدا کی طرف سے ہے ۔

۳۔ درس کی ہمہ گیری
زیر بحث آخری آیت ایک اور حقیقت بھی واضح کرتی ہے کہ انبیاء اور گزشتہ اقوام کے واقعات قرآن میں صرف امت اسلامی کو درس دینے کے لئے بیان نہیں گئے بلکہ ایک طرح سے یہ پیغمبر اکرم (ص)کی دلجوئی اور تسلی کے لئے بھی ہیں اور اس آپ کے ارادے اور دل کو تقویت بھی مقصود ہے کیونکہ آپ بھی نوع انسانی میں سے ہیں اور آپ کوبھی خدا کے مدرسے سے اسی طرح درس لینا چاہیئے، اپنے زمانے کے طاغوتوں کے خلاف قیام کے لئے زیادہ تیار ہوناچاہیئے اور راستے میں موجود کثیر مشکلات سے نہیں ڈرنا چاہیئے یعنی جیسے ان تمام ابتلا اور مشکلوں کے باوجود حضرت نوح (علیه السلام) استقامت کا مظاہرہ کرتے تھے اور ان کی مشہور طویل ترین عمر میں بہت ہی کم لوگ ایمان لائے پھر بھی وہ خوشدل تھے اسی طرح آپ بھی کسی حالت میں صبر واستقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔
یہاں حضرت نوح (علیه السلام) کی تعجب خیز اور عبرت انگیز داستان کو چھوڑتے ہوئے ہم ایک اور عظیم پیغمبر حضرت ہود (علیه السلام) کہ جن کے نام سے یہ سورہ موسوم ہے کی طرف آتے ہیں ۔

۵۰ وَإِلیٰ عَادٍ اٴَخَاھُمْ ھُودًا قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ إِنْ اٴَنْتُمْ إِلاَّ مُفْتَرُونَ۔
۵۱ یَاقَوْمِ لَااٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْرًا إِنْ اٴَجْرِی إِلاَّ عَلَی الَّذِی فَطَرَنِی اٴَفَلَاتَعْقِلُونَ۔
۵۲ وَیَاقَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْہِ یُرْسِلْ السَّمَاءَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا وَیَزِدْکُمْ قُوَّةً إِلیٰ قُوَّتِکُمْ وَلَاتَتَوَلَّوْا مُجْرِمِینَ۔

ترجمہ
۵۰۔ (ہم نے قوم) عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا، (اس نے ان سے)کہا: اے میری قوم! اللہ کی پرستش کرو کیونکہ اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں تم صرف تہمت لگاتے ہو۔
۵۱۔اے میری قوم! میں تم سے کوئی اُجرت نہیں چاہتا میری اُجرت اس کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا سمجھتے نہیں ہو؟۔
۵۲۔اور اے میری قوم! اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو پھر اس کی طرف رجو ع کرو، تاکہ وہ آسمان سے (بارش) پیہم تمہاری طرف بھیجے اور تمہاری میں مزید قوت کا اضافہ کرے اور (حق سے) منہ نہ پھیرو اور گناہ نہ کرو ۔

بہادر بت شکن
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اس سورت میں پانچ عظیم انبیاء کی دعوت، اس راستے میں پیش آنے والی مشکلات اور دعوت کے نتائج کا تذکرہ ہے گزشتہ آیات میں حضرت نوح (علیه السلام) کے بارے میں گفتگو تھی اور اب حضرت ہود (علیه السلام) کی باری ہے ۔
یہ تمام انبیاء ایک ہی منطق اور ایک ہی ہدف کے حامل تھے، انھوں نے نوع بشر کو ہر طرح کی قید وبند سے نجات دلانے اور توحید کی طرف، اس کی تمام شرائط کے ساتھ، دعوت دینے کے لئے قیام کیا، ایمان، خلوص، جد وجہد اور راہ خدا میں استقامت ان سب کا شعار تھا، ان سب کے خلاف مختلف اقوام کا رویہ بہت تنگ اور سخت تھا انھوں نے انبیاء کو طرح طرح سے ستایا اور ان کو جبر واستبداد روا رکھا ۔
زیر نظر پہلی آیت میں اس سلسلے میں فرمایا گیا ہے: ہم قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا (وَإِلیٰ عَادٍ اٴَخَاھُمْ ھُودًا) ۔
یہاں حضرت ہود (علیه السلام)کو بھائی کہا گیا تھا، یہ تعبیر یا تو اس بنا پر ہے کہ عرب اپنے تمام اہل قبیلہ کو بھائی کہتے تھے کیونکہ نسب کی اصل میں سب شریک ہوتے ہیں، مثلا ًبنی اسد کے شخص کو ”اخواسدی“ کہتے ہیں اور مذحج قبیلہ کے شخص کو ”اخومذحج“ کہتے ہیں ، یا ہوسکتا ہے یہ اس طرف اشارہ ہو کہ حضرت ہود (علیه السلام) کا سلوک اپنی قوم سے دیگر انبیاء کی طرح بالکل برادرانہ تھا نہ کہ حاکم کا سا بلکہ ایسا بھی نہیں جو باپ اپنی اولاد سے کرتا ہے بلکہ آپ کا سلوک ایسا تھا جو ایک بھائی دوسرے بھائیوں سے کرتا ہے کہ جس میں کوئی امتیاز اور برتری کا اظہار نہ ہو۔
حضرت ہود (علیه السلام) نے بھی اپنی دعوت کا آغاز دیگر انبیاء کی طررح کیا، آپ کی پہلی دعوت توحید اور ہر قسم کے شرک کی نفی کی دعوت تھی، ہود چنے ان سے کہا: ”اے میری قوم! خدا کی عبادت کرو“( قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ ) ۔
”کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اللہ اور معبود لائق پرستش نہیں“(مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ)، ”بتوں کے بارے میں تمہارا اعتقاد غلطی اور اشتباہ پر مبنی ہے اور اس میں تم خدا پر افتراء باندھتے ہو“( إِنْ اٴَنْتُمْ إِلاَّ مُفْتَرُونَ) ۔
یہ بت خدا کے شریک ہیں نہ خیر وشر کے منشاء ومبدا اور ان سے کوئی کام بھی نہیں ہوسکتا، اس سے بڑھ کر کیا افتراء اور تہمت ہوگی کہ اس قدر بے وقعت موجودات کے لئے تم اتنے بڑے مقام ومنزلت کا اعتقاد رکھو۔
اس کے بعد حضرت ہود (علیه السلام) نے منزید کہا:اے میری قوم ! میں اپنی دعوت کے سلسلے میں تم سے کوئی توقع نہیں رکھتا تم سے کسی قسم کی اجرت نہیں چاہتا کہ تم یہ گمان کرو کہ میری یہ دادوفریاد اور جوش وخروش مال ومقام کے حصول کے لئے ہے یاتم خیال کرو کہ تمھیں مجھے کوئی بھاری معاوضہ دینا پڑے گاکہ جس کی وجہ سے تم تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوتے ہو ( یَاقَوْمِ لَااٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْرًا )، میری اجرت صرف اس ذات پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، جس نے مجھے روح وجسم بخشے ہیں اور تمام چیزیں جس نے مجھے عطا کی ہیں وہی جو میرا خالق ورازق ہے (إِنْ اٴَجْرِی إِلاَّ عَلَی الَّذِی فَطَرَنِی)، میں اگر تمہاری ہدایت وسعادت کے لئے کوئی قدم اٹھاتا ہوں تو وہ اصولاً اس کے حکم کی اطاعت میں ہوتا ہے لہٰذا اجروجزا بھی میں اسی سے چاہتا ہوں نہ کہ تم سے، علاوہ ازیں کیا تمھارے پاس اپنی طرف سے کچھ ہے جو تم مجھے دو، جو کچھ تمھارے پاس ہے اس کی طرف سے ہے، کیا سمجھتے نہیں ہے (اٴَفَلَاتَعْقِلُونَ) ۔
آخر میں انھیں شوق دلانے کے لئے اور اس گمراہ قوم میں حق طلبی کاجذبہ بیدار کرنے کے لئے تمام ممکن وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے مشروط طور پر مادی جزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو اس جہان میں خدا مومنین کو عطا فرماتا ہے ، ارشاد ہوتا ہے: اے میری قوم ! اپنے گناہوں پر خدا سے بخشش طلب کرو ( وَیَاقَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ)، پھر توبہ کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ ( ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْہِ)، اگر تم ایسا کرلو تو وہ آسمان کو حکم دے گاکہ وہ بارش کے حیات بخش قطرے پیہم تمیاری طرف بھیجے ( یُرْسِلْ السَّمَاءَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا)(۱) ، تاکہ تمھارے کھیت اور باغات کم آبی یا بے آبی کا شکار نہ ہوں اور ہمیشہ سرسبز وشاداب رہیں، علاوہ ازیں تمھارے ایمان، تقویٰ، گناہ سے پرہیز اور خدا کی طرف رجوع اور توبہ کی وجہ سے تمہاری قوت میں مزید قوت کا اضافہ کرے گا (وَیَزِدْکُمْ قُوَّةً إِلیٰ قُوَّتِکُمْ) ۔
یہ کبھی گمان نہ کرو کہ ایمان وتقویٰ سے تمہاری قوت میں کمی واقع ہوگی ایسا ہرگز نہیں بلکہ تمہاری جسمانی و روحانی قوت میں اضافہ ہوگ، اس کمک سے تمہارا معاشرہ آبادتر ہوہوگا، جمعیت کثیر ہوگی، اقتصادی حالات بہتر ہوں گے اور تم طاقتور، آزاد اور خود مختار ملت بن جاؤ گے، لہٰذا راہ حق سے روگردانی نہ کرو اور شاہراہ گناہ پر قدم نہ رکھو (ولَاتَتَوَلَّوْا مُجْرِمِینَ)
..............
۱۔ ”مدرار“ جیسے کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے ”در“ کے مادہ سے ”پستان سے دودھ گرنے“ کے معنی میں ہے، بعد ازاںبارش برسنے کے معنی میں بھی بولاجانے لگا، یہ بات جاذب نظر ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ آسمان سے تم پر بارش برسائے گا بلکہ فرمایا گیا ہے کہ آسمان کو تم پر برسائے گا یعنی اس قدر بارش برسے گی کی گویا ساراآسمان برس رہا ہے، نیز اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ”مدرار“ مبالغہ کا صیغہ ہے اس سے انتہائی تاکید ظاہر ہوتی ہے ۔

۱۔ تمام انبیاء کی دعوت کا خمیر توحید ہے
تاریخ انبیاء نشاندہی کرتی ہے کہ ان سب نے اپنی دعوت کا آغاز توحید سے اور ہر قسم کے شرک اور بت پرستی کی نفی سے کیا، درحقیقت انسانی معاشرے کی کسی قسم کی اصلاح اس دعوت کے بغیر ممکن نہیں ہے کیونکہ معاشرے کی وحدت، ہمکاری، تعاون، ایثار اور فداکاری سب ایسے امور ہیں جو توحید معبود کے سرچشمے سے سیراب ہوتے ہیں، رہی بات شرک کی تو وہ ہر قسم کی پراگندگی، انتشار، تضاد، اختلاف، خود غرضی، خود پرستی اور انحصار طلبی کا سرچشمہ ہے اور ان مفاہیم کا شرک وبت پرستی کے وسیع مفہوم سے تعلق کوئی پوشیدہ نہیں ہے ۔
جو شخص خود محور اور خود غرض غرض ہو وہ صرف اپنے آپ کو دیکھتا ہے اور اسی بنا پر وہ مشرک ہے، توحید ایک شخص کے قطرہ وجود کو معاشرے کے وسیع سمندر میں شامل کردیتی ہے، موحد ایک عظیم وحدت کے سوا کچھ نہیں دیکھتا یعنی وہ سارے انسانوں اور بندگان خدا کو ایک معاشرے کی صورت میں دیکھتاہے ۔
جو برتری کے خواہشمند ہیں وہ شرک کی ایک اور قسم سے وابستہ ہیں، اسی طرح جو ہمیشہ اپنے ہم نوع افراد سے جنگ کرتے رہتے ہیں اور اپنے مفادات کو دوسرے کے فائدے سے جدا سمجھتے ہیں تو یہ دوگانگی یا چند گانگی سوائے شرک کے مختلف چہروں کے اور کچھ نہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ اپنے وسیع اصلاحی پروگراموںکو سب انبیاء نے یہیں سے شروع کیا، ان کی پہلی دعوت۔دعوت توحید تھی ۔ توحید یعنی توحید معبودپھر توحید کلمہ، توحید عمل اور توحید معاشرہ۔

۲۔سچے رہبر اپنے پیروکاروں سے جزا نہیں چاہتے
ایک حقیقی پیشوا اور رہبر اس صورت میں ہرقسم کے اتہام سے بچ کر انتہائی آزادی سے اپنے مسلک پرکار بند رہ سکتا ہے ، اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے اور اپنے پیروکاروں کی ہر قسم کی کجروی کی اصلاح کرسکتا ہے جب وہ ان سے کوئی مادی وابستگی اور احتیاج نہ رکھتا ہو ورنہ وہی احتیاج ان کے دست وپا کی زنجیر بن جائے گی اور اس کی زبان وفکر کی بندش کا سامان ہوجائے گا ، منحرف اور کج رو لوگ اسی طریقے سے اس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے، مادی امداد منقطع کرنے کی دھمکی دےں گے یا امداد بڑھانے کی پیش کش کریںگے، کوئی رہبر کتنا ہی صاف دل اور مخلص کیوں نہ ہو پھر بھی انسان ہوتاہے، اور ہوسکتا ہے اس مرحلہ پر اس کے قدم ڈگمگا جائیں ۔
اسی بنا پر مندرجہ بالا آیات اور قرآن کی دیگر آیات میں ہے کہ انبیاء اپنی دعوت کی ابتدا میں صراحت سے اعلان کرتے اور بتاتے تھے کہ وہ مادی احتیاج اور اجر کی توقع اپنے پیروکاروں سے نہیں رکھتے، انبیاء کا یہ کردار تمام رہبروں کے لئے نمونہ اور ماڈل ہے خصوصا روحانی اور مذہبی رہبروں اور رہنماؤں کے لئے ۔
البتہ چونکہ وہ اپنا تمام وقت اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں صرف کرتے ہیں لہٰذا ان کی ضروریات صحیح طریقے پر پوری ہونا چاہییں، امدادی وسائل اور اسلامی بیت المال ایسی افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لئے مہیا کیا گیا ہے اور بیت المال کی تشکیل کا ایک فلسفہ اور وجہ یہی ہے ۔

۳۔ گناہ ۔معاشرے کی تباہی
مندرجہ بالا آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی نظر میں روحانی اورمادی مسائل میں ایک واضح تعلق موجود ہے، یہاں گناہ سے استغفار، خدا کی طرف رجوع اور توبہ کو آبادی، خوشی، شادابی اور قوت میں اضافے کے ذریعے کے طور پر متعارف کروایا گیا ہے ۔
یہ حقیقت قرآن کی اور بہت سی آیات میں بھی نظر آتی ہیں، منجملہ ان کے سورہ نوح میں اس عظیم پیغمبر کی زبانی فرمایا گیا ہے:
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ إِنَّہُ کَانَ غَفَّارًا یُرْسِلْ السَّمَاءَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا وَیُمْدِدْکُمْ بِاٴَمْوَالٍ وَبَنِینَ وَیَجْعَلْ لَکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَلْ لَکُمْ اٴَنْھَارً.
ان سے میں نے کہااپنے گناہوں سے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں استغفار کرو کہ وہ بخشنے والا ہے تاکہ وہ پے در پے تم پر آسمان سے بارش برسائے اور مال واولاد کے ذریعے تمہاری مدد کرے اور تمھارے لئے باغات اور نہریں مہیا کرے ۔ (نوح:۱۰۔۱۲)
یہ امر جاذب توجہ ہے کہ اسلامی روایات میں ہے کہ :
ربیع بن صبیح کہتا ہے کہ میں حسن (علیه السلام)کے پاس تھا، ایک شخص دروازے سے داخل ہوا، اس نے اپنی آبادی کی خشک سالی کی شکایت کی ، حسن (علیه السلام) نے اس سے کہا: استغفار کرودسراآیا اس نے فقر وفاقہ کی شکایت کی، اس سے بھی کہا: استغفار کرو، تیسرا آیا، اس نے کہا: دعا کریں خدا مجھے بیٹا عطا کرے، اس بھی کہا: استغفار کرو، ربیع کہتا ہے کہ میں (تعجب کیا اور )اس سے کہا : جو شخص آپ کے پاس آتا ہے اور وہ کوئی مشکل پیش کرتا ہے اور نعمت کا تقاضا کرتا ہے اسے یہی حکم دیئے جارہے ہو اور سب سے کہتے ہو کہ استغفار کرو اور خدا سے بخشش طلب کرو، اس نے میرے جواب میں کہا: جو کچھ میں نے کہا ہے اپنی طرف سے نہیں کہا، میں یہ مطلب کلام خدا سے لیا ہے اور یہ وہی بات ہے جو وہ اپنے پیغمبر نوح سے کہتا ہے، اس کے بعد انھوں نے سورہ نوح کی ان (مذکورہ )آیات کی تلاوت کی ۔
جن لوگوں کی عادت ہے وہ ایسے مسائل کو معمولی سمجھتے ہوئے گزرجاتے ہیں وہ ان امور میں موجود ایک روحانی تعلق جانے بغیر ان کے قائل ہوجاتے ہیں اور مزید کوئی تجربہ وتحلیل نہیں کرتے لیکن اگر زیادہ غوروفکرسے کام لیا جائے تو ہمیں ان امور کے درمیان تربیتی رشتے نظرآئیں گے جن کی طرف توجہ کرنے سے مادی اور روحانی مسائل کو آپس میں اس طرح مالایا جاسکتا ہے جیسے ایک کپڑے کے ریشے آپس میں ملے ہوتے ہیں یا جیسے کسی درخت کی جڑ تنااور پھل پھول آپس میں مربوط ہوتے ہیں ۔
کونسا ایسا معاشرہ ہے جو گناہ، خیانت، نفاق، چوری ، ظلم اور تن پروری سے آلودہ ہو اور پھر بھی وہ آباد اور پربرکت رہے ۔
کونسا معاشرہ ہے جو تعاون وہمکاری کی روح گنوا بیٹھے جنگ، نزاع اور خونریزی اس کی جگہ لے لے اور پھر بھی اس کی زمینیں سرسبز وشاداب ہوں اور وہ اقتصادی طور پر خوشحال ہو۔
کونسا معاشرہ ہے جس کے لوگ طرح طرح کی ہواووہوس میں آلودہ ہوں پھر بھی وہ طاقتور ہواور دشمن کے مقابلے میں پامردی سے کھڑا ہوسکے ۔
صراحت سے کہنا چاہیئے کہ کوئی ایسا اخلاقی مسئلہ نہیں مگر یہ کہ وہ لوگوں کی مادی زندگی پر مفید اور اصلاحی اثر کرے، اسی طرح کوئی صحیح اعتقاد اور ایامن ایسا نہیں کہ جو معاشرے کو آباد، آزاد، بااستقلال اور طاقتور بنانے میں موثر ہو۔
جو لوگ اخلاقی مسائل، مذہبی عقیدہ اور توحید پر ایمان کو مادی مسائل سے جدا کرکے دیکھتے ہیں انھوں نے نہ معنوی اور روحانی مسائل کو اچھی طرح سے پہچانا ہے اور نہ مادی مسائل کو، اگر دین لوگوں میں تکلفات اور تشریفات، ظاہری آداب اور مفہوم ومعنی سے خالی شکل میں ہو تو واضح ہے کہ معاشرے کے مادی نظام میں اس کی کوئی تاثیر نہیں ہوگی، لیکن اگر روحانی اعتقادات روح انسانی کی عمیق گہروئیوں میں اس طرح سے اتر جائے کہ اس کے اثرات ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان، زبان اور جسم کے تمام ذرات میں ظاہر ہوں تو ان اعتقاد کے معاشرے پر اصلاحی آثار کسی سے مخفی نہیں رہیں گے ۔
ہوسکتا ہے مادی برکات کے نزول سے استغفار کے تعلق کے بعض مراحل میں ہم صحیح طورپر نہ سمجھ سکیں لیکن اس میں شک نہیں کہ اس کے بہت سے حصے ہمارے لئے قابل فہم ہیں ۔
دور حاضر میں ہمارے اسلامی ممالک ایران کے اسلامی انقلاب میں ہم نے اچھی طرح مشاہدہ کیا ہے کہ اسلامی اعتقادات اور اخلاقی اوروحانی قوت کس طرح دور حاضر کی طاقتورترین اسلحہ، طاقتور افواج اور استعمار ی سپر طاقتوں پر کامیاب ہوگی یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ دینی عقائد اور مثبت روحانی اخلاق کس حد تک اجتماعی اور سیاسی مسائل میں کارگر ہیں ۔

۴۔ ”یزدکم قوة الیٰ قوتکم“ سے کیامراد ہے؟
اس جملے کاظاہری مفہوم یہ ہے کہ خدا وند عالم توبہ اور استغفار کے نتیجے میں تمہاری قوت میں قوت کا اضافہ کرے گا ۔
بعض نے اس جملے کو انسانی قوت میں اضافے کی طرف اشارہ سمجھا ہے (جیسا کہ سورہ نوح کی آیات میں بھی اس طرف اشارہ ہوا ہے) ۔
بعض نے معنوی طاقت میں مادی طاقت کے اضافے کی طرف اشارہ سمجھا ہے ۔
لیکن آیت کی تعبیر مطلق ہے اور ہر قسم کی مادی اور معنوی طاقت میں اضافے کا مفہوم اس میں شامل ہے اور اس میں ان تمام تفاسیر کا مفہوم ہوجود ہے ۔