تفسیر نمونہ جلد 09
 

۴۴ وَقِیلَ یَااٴَرْضُ ابْلَعِی مَائَکِ وَیَاسَمَاءُ اٴَقْلِعِی وَغِیضَ الْمَاءُ وَقُضِیَ الْاٴَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُودِیِّ وَقِیلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ۔

ترجمہ
۴۴۔اور کہا گیا: اے زمین! اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان رک جا، اور پانی نیچے چلا گیا اور معاملہ ختم ہوگیا اور وہ (کشتی) جودی (پہاڑ کے دامن) میں ٹھہرگئی اور (اس وقت )کہا گیا: دور ہو ظالم قوم۔

ایک داستان کا اختتام
جیسا کہ گزشتہ آیات میں ہم نے اجمالاً سربستہ طور پر پڑھا ہے کہ آخرکار پانی کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی لہروں نے تمام جگہوں کو گھیر لیا ، پانی کی سطح بلند سے بلند تر ہوتی چلی گئی، جاہل گنہگاروں نے یہ گمان کیا کہ یہ ایک معمول کا طوفان ہے، وہ اونچی جگہوں اور پہاڑوں پر پناہ گزیں ہوگئے لین پانی ان کے اوپر سے بھی گزر گیا اور تمام جگہیں پانی کے نیچے چھپ گئیں، ان طغیان گروں کے جسم، ان کے بچے کھچے گھر اور زندگی کا سازوسامان پانی کی جھاگ میں نظر آرہاتھا ۔
حضرت نوح (علیه السلام) نے زمام کشتی خدا کے ہاتھ میں دی، موجیں کشتی کو ادھر سے ادھر لے جاتی تھیں، روایات میں آیا ہے کہ کشتی پورے چھ ماہ سرگرداں رہی، یہ مدت ابتدائے ماہ رجب سے لے کر ذی الحجہ کے اختتام تک تھی، ایک اور روایت کے مطابق دس رجب سے لے کر روز عاشورہ تک کشتی پانی کی موجوں میں سرگرداں رہی ۔ (۱)
اس دوران میں کشتی نے مختلف علاقوں کی سیر کی یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق سرزمین مکہ اور خانہ کعبہ کے اطراف کی بھی سیر کی ۔
آخرکار عذاب کے خاتمے اور زمین کے معمول کی حالت میں لوٹ آنے کا حکم صادر ہوا، مندرجہ بالا آیت میں اس فرمان کی کیفیت ، جزئیات اور نتیجہ بہت مختصر مگر انتہائی عمدہ اور جاذب وخوبصورت عبرت میں چھ جملوں میں بیان کیا گیا ہے ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: حکم دیا گیا کہ ات زمین! اپنے پانی نگل جاؤ (وَقِیلَ یَااٴَرْضُ ابْلَعِی مَائَکِ) ۔
اور آسمان کو حکم ہوا ”اے آسمان ہاتھ روک لے“( وَیَاسَمَاءُ اٴَقْلِعِی وَ) ۔
”پانی نیچے بیٹھ گیا“(غِیضَ الْمَاءُ) ۔
”اور کشتی کوہ جودی کے دامن سے آلگی“( وَقُضِیَ الْاٴَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُودِیِّ ) ۔
”اس وقت کہا گیا: دور ہو ظالم قوم “(وَقِیلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ) ۔
مندرجہ بالاآیت کی تعبیرات مختصر ہوتے ہوئے بھی نہایت موثر اور دلنشین ہیں، یہ بولتی ہوئی زندہ تعبیرات ہیں اورتمام تر زیبائی کے باوجود ہلا دینے والی ہیں، بعض علماء عرب کے بقول یہ آیات قرآن میں سے فصیح ترین اور بلیغ ترین آیت ہے، روایات اور توریخ اسلام میں اس کی شہادت موجود ہے، لکھا ہے :
کچھ کفار قریش قرآن سے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، انھوں نے مصمم ارادہ کرلیا کہ قرآنی آیات جیسی کچھ آیات گھڑیں، ان سے تعلق رکھنے والوں نے انھیں چالیس دن تک بہترین غذائیں مہیا کیں، مشروبات فراہم کئے اور ان کی ہر فرمائش پوری کی، خالص گندم کا معدہ، بکرے کا گوشت، ایرانی شراب غرض سب کچھ انھیں لاکر دیا تاکہ وہ آرام وراحت کے ساتھ قرآنی آیات جیسے جملوں کی ترکیب بندی کریں ۔
لیکن جب وہ مذکورہ آیت تک پہنچے تو اس نے انھیں اس طرح سے ہلا کر رکھ دیا کہ انھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہا کہ یہ ایسی گفتگو ہے کہ کوئی کلام اس سے مشابہت نہیں رکھتا، یہ کہہ کر انھوں نے اپنا ارادہ ترک کردیا اور مایوس ہوکر ادھر ادھر چلے گئے ۔ (2)

کوہ جُودی کہاں ہے؟
بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ کوہ جودی جس کے کنارے کشتیٴ نوح آکر لگی تھی اور جس کا ذکر مذکورہ آیات میں آیاہے وہی مشہور پہاڑ ہے جو موصل کے قریب ہے ۔ (3)
بعض دوسرے مفسرین نے اسے حدود شام میں یا ”آمد“ کے نزدیک یا عراق کے شمالی پہاڑ سمجھا ہے ۔
کتاب مفردات میں راغب نے کہا ہے کہ یہ وہ پہاڑ ہے جو موصل اور الجزیرہ کے درمیان ہے (الجزیرہ شمالی عراق میں ایک جگہ ہے اور یہ الجزائر یا الجزیرہ نہیں جو آج کل مشہور ہے) ۔
بعید نہیں کہ ان سب کی بازگشت ایک ہی طرف ہو کیونکہ موصل ، آمداور الجزیرہ سب عراق کے شمالی علاقوں میںہیں اور شام کے نزدیک ہیں ۔
بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ جودی سے مراد ہر مضبوط پہاڑ اور محکم زمین ہے یعنی کشتی نوح ایک محکم زمین پر لنگر انداز ہوئی جو اس کی سواریوں کے اترنے کے لئے مناسب تھی، لیکن مشہور ومعروف وہی پہلا معنی ہے ۔
کتاب” اعلام قرآن“ میں کوہ جودی کے بارے میں تحقیق کی گئی ہے، یہ تحقیق ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں:
جودی ایک پہاڑ کا نام ہے جس پر کشتی نوح آکر ٹھہر گئی تھی، اس کا نام سورہ ہود کی آیہ ۴۴ میں آیا ہے کہ جس کا مضمون تورات کے مندرجات کے قریب ہے، کوہ جودی کے محل ومقام کے بارے میں تین قول ہیں :
۱۔ اصفہانی کے بقول کوہ جودی عربستان (4)میں ہے اور ان دو پہاڑوں میں سے ایک ہے جو قبیلہ ”طی“ کی حکومت میں تھے ۔
۲۔ کوہ جودی کاردین کا سلسلہ ہے جو جزیرہ ابن عمر کے شمال مشرق اور دجلہ کے مشرق میں موصل کے نزدیک میں واقع ہے، اکراد اسے اپنے لب ولہجہ میں کاردو اور یونانی جوردی اور اعراب جودی کہتے ہیں ۔
ترگوم یعنی تورات کے کلدانی ترجمے میں اور اسی طرح تورات کے سریانی ترجمے میں کشتی نوح کے رکنے کی جگہ کوہ اکراہ کا قلعہ ”کاردین“ معین ہوا ہے، عرب کے جغرافیہ دانوں نے بھی قرآن میں مذکورہ کوہ جودی کو یہی پہاڑ قرار دیاہے اور کہا ہے کہ کشتی نوح کے تختے کے کچھ ٹکڑے بنی عباس کے زمانے تک اس پہاڑ کی چوٹی پر باقی تھے اور مشرکین ان کی زیارت کیا کرتے تھے ۔
بابل کی داستانوں میں طوفان نوح کی داستانوں سے مشابہ ایک داستان موجود ہے ۔
علاوہ از ایں یہ احتمال ہے بھی ہے کہ دجلہ میں طوفان آیا ہو اور اس علاقے لوگوں کو طوفان کا سامنا کرنا پڑا ہو۔
کوہ جودی پر آشوری کتیبے موجود ہیں، انھیں کتیبہ ہائے مسیر کہتے ہیں، ان کتیبوں میں ”ارارتو“ کا نام نظر آتا ہے ۔
۳۔موجودہ تورات کے ترجمے میں کشتی نوح کے رکنے کی جگہ آرارات کے پہاڑ قرار دی گئی ہے اور وہ کوہ ماسیس ہے جو ارمنستان میں واقع ہے ۔
قاموس کتاب مقدس کے مولف نے پہلے معنی کو ”ملعون“ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ روایات کے مطابق کشتی نوح اس پہاڑ کے اوپر رکی اور اسے عرب جودی کہتے ہیں، ایرانی کوہ نوح کہتے ہیں اور ترک”کرداغ“ کہتے ہیں کہ جو ڈھلوان کے معنی میں ہے اور وہ ارس کے قریب واقع ہے ۔
پانچویں صدی تک ارمنستانی ارمنستان میں جودی پہاڑ کو نہیں جانتے تھے، اس صدی سے شاید تورات کے ترجمہ نگاروں کو اشتباہ ہوا ہے اور انھوں نے کوہ اکراد کا ترجمہ کوہ آرارات کردیا جس کی وجہ سے ارمنی علماء کو یہ خیال پیدا ہوگیا ہے ۔
شاید یہ خیال اس وجہ سے پیدا ہوا ہو کہ آشوری لوگ ”وان“ جھیل کے شمال اور جنوب کے پہاڑ کو ”آرارات“ یا”آراراتو“ کہتے تھے ۔
کہتے ہیں کہ طوفان ختم ہونے کے بعد حضرت نوح (علیه السلام) نے کوہ جودی کی چوٹی پر ایک مسجد بنائی تھی ۔
ارامنی بھی کہتے ہیں کہ کوہ جادی کے نیچے قریہ ”ثمانین“ یا”ثمان“ وہ پہلی جگہ ہے جہاں حضرت نوح (علیه السلام) کے ہمراہی آکر اترے تھے ۔ (5)
..............
۱۔ تفسیر قرطبی، ج۵، ص ۳۲۶۹ ، تفسیر ابولفتوح رازی، ج۶، ص۲۷۸، تفسیر مجمع البیان، ج۵، ص ۱۶۴، اور طبری، ض ۱۲، ص ۲۹۔
2۔ مجمع البیان، ج۵، ص ۱۶۵، روح المعانی، ج۱۲، ص ۵۷۔
3۔ مجمع البیان ، روح المعانی اور قرطبی، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
4۔ جس کا نام آج کل موجودہ حکمرانوں نے اپنے خاندان کے نام پر” سعودی عرب“رکھا ہوا ہے ۔ (مترجم)
5۔ اعلام قرآن خزائلی، ص ۲۸۱۔
۴۵ وَنَادیٰ نُوحٌ رَبَّہُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِی مِنْ اٴَھْلِی وَإِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَاٴَنْتَ اٴَحْکَمُ الْحَاکِمِینَ۔
۴۶ قَالَ یَانُوحُ إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ اٴَھْلِکَ إِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ فَلَاتَسْاٴَلْنِی مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ إِنِّی اٴَعِظُکَ اٴَنْ تَکُونَ مِنَ الْجَاھِلِینَ۔
۴۷ قَالَ رَبِّ إِنِّی اٴَعُوذُ بِکَ اٴَنْ اٴَسْاٴَلَکَ مَا لَیْسَ لِی بِہِ عِلْمٌ وَإِلاَّ تَغْفِرْ لِی وَتَرْحَمْنِی اٴَکُنْ مِنَ الْخَاسِرِین۔

ترجمہ
۴۵۔نوح نے اپنے پروردگار سے عرض کیا: پروردگارا! میرا بیٹا میرے خاندان میں سے ہے اور تیرا وعدہ (میرے خاندان کے بارے میں ) حق ہے اور تو تمام حکم کرنے والوں سے برتر ہے ۔
۴۶۔ فرمایا: اے نوح ! تیرے اہل سے نہیں ہے، وہ غیر صالح ہے، جس سے تو آگاہ نہیں وہ سوال مجھ سے نہ کر، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں تاکہ جاہلوں میں سے نہ ہو۔
۴۷۔عرض کیا: پروردگارا! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں کہ جس سے میں آگاہی نہیں رکھتا اور اگر تو مجھے نہ بخشے تو میں زیاں کاروں میں سے ہوجاؤں گا ۔

پسر نوح کا دردناک انجام
ہم پڑھ چکے ہیں کہ نوح کے بیٹے نے باپ کی نصیحت نہ سنی اور آخری سانس تک اس نے ہٹ دھرمی اور بے ہودگی کو نہ چھوڑا اور آخرکار طوفان کی موجوں میں گرفتار ہوکر غرق ہوگیا ۔
زیر بحث آیات میں اس داستان کا ایک اور حصہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ جب حضرت نوح (علیه السلام) نے اپنے بیٹے کو موجوں کے درمیان دیکھا تو شفقت پدری نے جوش مارا، انھیں چاپنے بیٹے کی نجات کے بارے میں وعدہ الٰہی یاد آیا، انھوں نے درگاہ الٰہی کا رخ کیا اور کہا: پروردگارا! میرا بیٹا میرے اہل اور میرے خاندان میں سے ہے اور تونے وعدہ فرمایا تھا کہ میرے خاندان کو طوفان اور ہلاکت سے نجات دے گا اور تو تمام حکم کرنے والوں سے برتر ہے اور تو ایفائے عہد کرنے میں محکم تر ہے ( وَنَادیٰ نُوحٌ رَبَّہُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِی مِنْ اٴَھْلِی وَإِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَاٴَنْتَ اٴَحْکَمُ الْحَاکِمِینَ) ۔
یہ وعدہ اسی چیزکی طرف اشارہ ہے جو اسی سورہ کی آیہ ۴۰ میں موجود ہے جہاں فرمایا گیا:
ُ قُلْنَا احْمِلْ فِیھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاٴَھْلَکَ إِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْل۔
ہم نے نوح کو حکم دیا کہ جانوروں کی ہر نوع میں سے ایک جوڑا کشتی میں سوار کرلو اور اسی طرح اپنے خاندان کو سوائے اس شخص کے جس کی نابودی کے لئے فرمان کدا جاری ہوچکا ہے ۔
حضرت نوح (علیه السلام) نے خیال کیا کہ”الا من سبق علیہ القول“ سے مراد صرف ان کی بے ایمان اور مشرک بیوی ہے اور ان کا بیٹا کنعان اس میں شامل نہیں ہے لہٰذا انھوں نے بارگاہ خدا وندی میں ایسا تقاضا کیا ۔
لیکن فوراً جواب ملا، ہلا دینے والا جواب اور ایک عظیم حقیقت واضح کرنے والا جواب ، وہ حقیقت جو کہ جو رشتہٴ مکتب کو نسب اور خاندان کے رشتہ سے مافوق قرار دیتی ہے،”درمایا: اے نوح وہ تیرے اہل اور خاندان میں سے نہیں ہے“( قَالَ یَانُوحُ إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ اٴَھْلِکَ)،”بلکہ وہ غیر صالح عمل ہے“( إِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ )، وہ نالائق شخص ہے اور تجھ سے مکتبی اور مذہبی رشتہ ٹوٹنے کی وجہ سے خاندانی رشتے کی کوئی اہمیت نہیں رہی ۔
اب جب ایسا ہے تو مجھ سے ایسی چیز کا تقاضا نہ کر جس کے بارے میں تجھے علم نہیں ”فَلَاتَسْاٴَلْنِی مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ )، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں سے نہ ہوجا“(إِنِّی اٴَعِظُکَ اٴَنْ تَکُونَ مِنَ الْجَاھِلِینَ) ۔
حضرت نوح (علیه السلام) سمجھ گئے کہ یہ تقاضا بارگاہ الٰہی میں صحیح نہ تھا اور ایسے بیٹے کی نجات کو خاندان کی نجات کے بارے میں خدا کے وعدے میں شامل نہیں سمجھنا چاہیئے تھا، لہٰذا آپ نے درگاہ پرورگار کا رخ کیا اور کہا: ”پروردگارا! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس امر سے کہ تجھ کسی ایسی چیز کی خواہش کروں جس کا علم مجھے نہیں“( قَالَ رَبِّ إِنِّی اٴَعُوذُ بِکَ اٴَنْ اٴَسْاٴَلَکَ مَا لَیْسَ لِی بِہِ عِلْمٌ ) ۔
اور اگر تونے مجھے نہ بخشا اور اپنی رحمت میرے شامل حال نہ کی تو میں زیاں کاروں میں سے ہوجاؤں گا (وَإِلاَّ تَغْفِرْ لِی وَتَرْحَمْنِی اٴَکُنْ مِنَ الْخَاسِرِین) ۔

چند قابل توجہ نکات

۱۔ حضرت نوح (علیه السلام)کا بیٹا کیوں ”عمل غیر صالح “ تھا؟
بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس آیت میں ایک لفظ مقدر ہے اور اصل میں اس کا مفہوم اس طرح ہے: ”انہ ذو عمل غیر صالح“۔ یعنی تیرا بیٹا غیر صالح عمل والاہے ۔
لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ بعض اوقات انسان کسی کام میں اس قدر آگے بڑھ جاتا ہے کہ گویا عین ومل ہوجاتا ہے، مختلف زبانوں کے ادب میں یہ چیز بہت نظر آتی ہے، مثلا ًکہا جاتا ہے: فلاں شخص سراپا ودل وسخاوت ہے یا فلاں شخص سراپا فساد ہے، گویا وہ اس عمل میں اس قدر غوطہ زن ہے کہ اس کی ذات عین وہی عمل ہوچکی ہے، یہ پسر نبی بھی بروں کی صحبت میں اس قدر بیٹھا اور برے اعمال اور ان کے غلط افکار میں اس طرح غوطہ زن ہوا کہ گویا اس وجود ایک غیر صالح عمل میں بدل گیا ۔
لہٰذا مندرجہ بالا تعبیر اگرچہ بہت ہی مختصر ہے لیکن ایک اہم حقیقت کی عکاس ہے، یعنی اے نوح ۱ اگر برائی، ظلم اور فساد اس بیٹے کے وجود میں سطحی طور پر ہوتا تو اس کے بارے میں امکان شفاعت تھا لیکن اب جب کہ یہ سراپا غرق فساد وتباہی ہے تو اہل شفاعت نہیں رہا، اس کی بات ہرگز نہ کرو۔
یہ جو بعض مفسرین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ حقیقتاً یہ آپ کا بیٹا نہیں تھا (یا غیر شرعی بیٹا تھا یا آپ کی بیوی کا دوسرا شوہر سے غیر شرعی بیٹا تھا) ۔ یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ”انہ عمل غیر صالح“کا جملہ در حقیقت”انہ لیس من اھلک“ کے لئے علت وسبب کی طرح ہے، یعنی یہ جو ہم کہتے ہیں کہ ”تیرے اہل میں سے نہیںہے“ اس لحاظ پر ہے کہ کردار کے لحاظ سے تجھ سے جدا ہے، گرچہ اس کا نسب تجھ سے متصل ہے ۔

۲۔ حضرت نوح (علیه السلام) اپنے بیٹے کے بارے میں کیوں کر متوجہ نہ تھے؟
مندرجہ بالا آیت میں حضرت نوح (علیه السلام) کی گفتگو اور خدا کی طرف سے انھیں دئےے گئے جواب کی طرف توجہ کرنے سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام) اس مسئلے کی طرف کیوں کر متوجہ نہ تھے کہ وعدہ الٰہی میں ان کا بیٹا شامل نہیں ۔
اس سوال کا جواب یوں دیا جاسکتا ہے کہ اس بیٹے کی کیفیت پوری طرح سے واضح نہ تھی کبھی وہ مومنین کے ساتھ ہوتا اور کبھی کفار کے ساتھ، اس کی منافقانہ چال ہر شخص کو ظاہراًاشتباہ میں ڈال دیتی تھی ۔
علاوہ ازیں اپنے بیٹے سے متعلق حضرت نوح (علیه السلام) کو شدید احساس مسئولیت تھا، پھر فطری اور طبعی لگاؤ بھی تھا جو ہر اباپ کو اپنے بیٹے سے ہوتا ہے اور انبیاء بھی اس قانون سے مستثنیٰ نہیں ہیں یہی سبب ہے کہ آپ نے اس قسم کی درخواست کی لیکن جب آپ حقیقی صورت حال سے آگاہ ہوئے تو فوراً درگاہ خداوندی میں عذرخواہی اور طلب عفو کی اگرچہ آپ سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا تھا لیکن نبوت کے مقام اور حیثیت کا تقاضا تھا کہ آپ اپنی گفتارورفتار میں اس سے زیادہ متوجہ ہوتے، اتنی عظیم شخصیت ہونے کے باعث یہ آپ کا ترک اولیٰ تھا، اسی وجہ سے آپ نے بارگاہ خداوندی میں بخشش کا تقاضا کیا ۔
یہیں سے ایک اور سوال کا جواب بھی واضح ہوگیا اور وہ یہ کہ کیا انبیاء گناہ کرتے ہیں جب کہ وہ بخشش کی دعا کرتے ہیں ۔

۳۔ جہاں رشتہ ٹوٹ جاتا ہے
مندرجہ بالا آیات سے حضرت نوح (علیه السلام) کی سرگزشت میں سے انسانی تربیت کے حوالے سے ایک اور بلند سبق ہاتھ آتا ہے، ایسا سبق جو مادی مکتبوں میں بالکل کوئی مفہوم نہیں رکھتا لیکن ایک خدائی اور معنوی مکتب میں یہ ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔
مادی رشتے یعنی نسب، رشتہ داری، دوستی اور رفاقت آسمانی مکاتب میں ہمیشہ روحانی رشتوں کے تحت ہوتے ہیں اس مکتب میں نسبی وخاندانی رشتوں کا مکتبی وروحانی رشتوں کے مقابلے میں کوئی مفہوم نہیں ۔
جہاں مکتبی رابطے موجود ہیں وہاں دور افتادہ سلمان فارسی جو نہ خاندان پیغمبر سے ہے نہ قریشی ہے، مکی بھی نہیں اور اصلا عرب بھی نہیں، وہ خاندان رسالت کا حصہ شمار ہوتا ہے جیسا کہ مشہور حدیث ہے:
سلمان منا اھل البیت
یعنی ۔ سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے ۔
دوسری طرف نوح جیسے پیغمبر کا بلا فصل حقیقی بیٹا باپ سے مکتبی رشتہ ٹوڑنے کی وجہ سے اس طرح دھتکادیا جاتا ہے:
انہ لیس من اھلک
یہ تیرے اہل میں سے نہیں ۔
ہوسکتا ہے مادی فکر رکھنے والوں کو یہ بات بہت گراں محسوس ہو لیکن یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو تمام ادیان آسمانی میں نظر آتی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ احادیث بیت (علیه السلام) میں ان شیعوں کے بارے میں صریح اور ہلا دینے والی باتیں ہیں جو صرف ام کے شیعہ ہیں لیکن اہل بیت (علیه السلام)کی تعلیمات اور ان کے عملی پروگراموں کا ان کی زندگی میں کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا، یہ امر بھی درحقیقت اسی روش کو واضح کرتا ہے جو قرآن نے زیر نظر آیات میں سامنے رکھی ہے ۔
امام علی بن موسیٰ رضا علیہما السلام سے منقول ہے کہ آپ نے ایک دن اپنے دوستوں اور موالیوں سے یہ پوچھا کہ :یہ لوگ اس آیت کی کس طرح تفسیر کرتے ہیں ”انہ عمل غیر صالح“ (یہ غیر صالح عمل ہے )
حاضرین میں سے ایک نے عرض کیا:بعض کا نظریہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ نوح کا بیٹا کنعان ان کا حقیقی بیٹا نہیں تھا ۔
امام (علیه السلام) نے فرمایا:
کلا لقد کان ابنہ ولکن لما عصی اللّٰہ نفاہ عین عن ابیہ کذا من کان منا لم یطع اللّٰہ فلیس منا ۔
یعنی ۔ ایسا نہیں ہے یقینا وہ نوح کا بیٹا تھا لیکن جب اس نے نافرمانی کی اور حکم خدا کے راستے سے منحرف ہوگیا تو خدا نے اس کے فرزند ہونے کی نفی کی، اسی طرح جو لوگ ہم میں سے ہوں لیکن خدا کی اطاعت نہ کرتے ہوں وہ ہم میں سے نہیں ہیں ۔ (۱)
۴۔دھتکارے ہوئے مسلمان:
نا مناسب نہ ہوگا اگر ہم مندرجہ بالا آیت سے استفادہ کرتے ہوئے کچھ اسلامی احادیث کی طرف اشارہ کریں جن میں سے بہت سے لوگوں کو، جو ظاہراً مسلمانوں کے زمرے میں ہیں یا ظاہراً مکتب اہل بیت (علیه السلام) کے پیروکار ہیں، دھتکار دیا ہے اور انھیں مومنین اور شیعوں کی صف سے نکال دیا گیا ہے ۔
۱۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں:
من غش مسلما فلیس منا ۔
جو مسلمان بھائیوں سے دھوکی بازی اور خیانت کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ (۲)
۲۔ امام صادق (علیه السلام) فرماتے ہیں:
لیس بولی لی من اکل مال موٴمن حراما ۔
جو مومن کا مال ناجائز طور پر کھائے وہ میرا دوست اور موالی نہیں ہے ۔ (۳)
۳۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں:
اٴلا ومَن اٴکرمہ الناس اتقاء فلیس منی ۔
جان لو کہ جس کے شر سے بچنے کے لئے لوگ اس کا احترام کریں وہ مجھ نہیں ہے ۔
۴۔امام نے فرمایا:
لیس من شیعتنا من یظلم الناس۔
جو لوگوں پر ظلم کرے وہ ہمارا شیعہ نہیں ۔
۵۔ امام کاظم فرماتے ہیں:
لیس منا من لم یحاسب نفسہ کل یوم۔
جو شخص ہرروز اپنا محاسبہ نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ (4)
۶۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں:
من سمع رجلا ینادی یا للمسلمین فلم یجبہ فلیس بمسلم۔
جو شخص کسی انسان کی آواز سے سنے جو پکار رہا ہو اے مسلمانو! میری مدد کو پہنچو، میری اعانت کرو اور اس پر لبیک نہ کہے وہ مسلمان نہیں ہے ۔ (5)
۷۔ امام باقر علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک شخص جابر تھا، آپ نے اس سے فرمایا:
واعلم یا جابر بانّک لاتکون لنا ولیا حتی لو اجتمع علیک اھل مصرک وقالوا اٴنت رجل سوء لم یحزنک ذٰلک ولوقالوا انّک رجل صالح لم یسرک ذٰلک ولکن اعرض نفسک علی کتاب اللّٰہ۔
اے جابر! جان لو کہ تم اس وقت تک ہمارے دوست نہیں ہوسکتے جب تک کہ تمھارے سارے اہل شہر جمع ہوکر تم سے کہیں کہ تو برا شخص ہے اور تو اس پر غمگین نہ ہو اور سب مل کر کہیں کہ تو اچھا آدمی ہے اور تو خوش نہ ہو بلکہ اپنے آپ کو کتاب خدا قرآن کے سامنے پیش کرو اور اچھائی اور برائی کے بارے میں قوانین وضوابط اس سے لو اور پھر تم دیکھو کہ تم کس گروہ میں سے ہو۔ (6)
یہ احادیث ان لوگوں کے نظریات پر خط بطلان کھینچتی ہے جو صرف نام پر گزارا کرتے ہیں مگر عمل اور مکتبی ارتباط کی ان میں کوئی خبر نہیں، یہ احادیث وضاحت سے ثابت کرتی ہیں کہ خدائی پیشواؤں کے مکتب ان کی بنیاد مکتب پر ایمان اور اس کے پروگراموں کے مطابق عمل کرنا ہے اور تمام چیزوں کو اسی معیار پر پرکھا جانا چاہیئے ۔
..............
۱۔تفسیر صافی مذکرہ آیات کے ذیل میں ۔
۲۔ سفینة البحار، ج۲، ص ۳۱۸۔
۳۔ وسائل، ج ۱۲، ص ۵۳۔
4۔ بحار، ج۱۵، حصہ اخلاق (طبع قدیم) ۔
5 اصول کافی، ج۲، ص ۱۶۴۔
6۔ سفینة البحار، ج۲، ص ۴۹۱۔