تفسیر نمونہ جلد 09
 

۲۹ وَیَاقَوْمِ لَااٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْہِ مَالًا إِنْ اٴَجْرِی إِلاَّ عَلَی اللهِ وَمَا اٴَنَا بِطَارِدِ الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّھُمْ مُلَاقُو رَبِّھِمْ وَلَکِنِّی اٴَرَاکُمْ قَوْمًا تَجْھَلُونَ
۳۰ وَیَاقَوْمِ مَنْ یَنصُرُنِی مِنْ اللهِ إِنْ طَرَدْتُھُمْ اٴَفَلَاتَذَکَّرُونَ
۳۱ وَلَااٴَقُولُ لَکُمْ عِندِی خَزَائِنُ اللهِ وَلَااٴَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَااٴَقُولُ إِنِّی مَلَکٌ وَلَااٴَقُولُ لِلَّذِینَ تَزْدَرِی اٴَعْیُنُکُمْ لَنْ یُؤْتِیَھُمْ اللهُ خَیْرًا اللهُ اٴَعْلَمُ بِمَا فِی اٴَنفُسِھِمْ إِنِّی إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِینَ

ترجمہ
۲۹۔اے قوم نوح! مَیں اس دعوت کے بدلے تم سے کچھ نہیں چاہتا میرا اجر صرف الله پر ہے اور مَیں ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں (تمھاری وجہ سے) دھتکارتا نہیں ہوں کیونکہ وہ اپنے پروردگار کی ملاقات کریں گے (اور قیامت کی عدالت میں میرے مقابل تمھیں پائیں گے) لیکن تمھیں میں دیکھ رہا ہوںکہ تم جاہل ہو۔
۳۰۔اے قوم! اگر میں انھیں دھتکار دوں تو خدا (کے عذاب) کے مقابلے میں کون میری مدد کرے گا، کیا تم سوچتے نہیں ہو۔
۳۱۔ میں تمھیں کبھی نہیں کہوں گا کہ خدائی خزانے میرے پاس ہیں، نہ مَیں کہتا ہوں کہ مَیں غیب کا علم رکھتا ہوں، نہ یہ کہ میں فرشتہ ہوں اور مَیں یہ بھی نہیں کہتا کہ وہ لوگ جو تمھاری نگاہ میں ذلیل وخوار نظر آتے ہیں خدا انھیں خیر نہیں دے گا، خدا ان کے دلوں سے زیادہ آگاہ ہے (مَیں اگر اس کے باوجود دُور کردوں) تو اس صورت میں مَیں ظالموں میں سے ہوںگا ۔

صاحبِ ایمان افراد کودھتکارا نہیں جاسکتا
ہم نے گزشتہ آیات میں دیکھا ہے کہ خود غرض اور بہانہ جُو قوم حضرت نوح(علیه السلام) پر مختلف اعتراضات کرتی تھی جن کا انھوں نے نہایت عمدہ اور واضح جواب دیا، زیرِ بحث آیات میں بھی ان کی بہانہ تراشیوں کا جواب دیا گیا ہے ۔
پہلی آیت میں نبوّت کی ایک دلیل بیان کی گئی ہے جو حضرت نوح(علیه السلام) نے تاریک دل قوم کو روشنی بخشنے کے لئے پیش کی تھی، ارشاد ہوتا ہے: اے قوم! مَیں اس دعوت کے بدلے تم سے مال وثروت اور اجر وجزاء کا مطالبہ نہیں کرتا (وَیَاقَوْمِ لَااٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْہِ مَالًا) ۔ میرا اجر وجزاء صرف الله پر ہے وہ خدا کہ جس نے مجھ نبوّت کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور مخلوق کو دعوت دینے پر مامور کیا ہے (إِنْ اٴَجْرِی إِلاَّ عَلَی اللهِ) ۔
یہ امر اچھی طرح سے نشاندہی کرتا ہے کہ اس پروگرام سے میرا کوئی مادی ہدف نہیں ، مَیں سوائے خدا کے معنوی وروحانی اجر کے کچھ بھی نہیں دیکھتا ہوں اور کوئی جھوٹا مدعی ایسا نہیں ہوسکتا جو اس قسم کے سردرد، ناراحتی اور بے آرامی کو یوں ہی اپنے لئے خرید لے اور یہ سچّے رہبروں کی پہچان کے لئے ایک میزان ہے، اُن جھوٹے موقع پرستوں کے مقابلے میں جو کہ جب بھی قدم اٹھاتے ہیں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اس سے ان کا کوئی نہ کوئی مادی ہدف اور مقصد ہوتا ہے ۔
اس کے بعد ان کے جواب میں جنھیں اصرار تھا کہ حضرت نوح(علیه السلام) غریب وحقیر اور کم افراد کو جو آپ پر ایمان لائے تھے خود سے دُور کردیں حضرت نوح(علیه السلام) حتمی طور پر (فیصلہ سناتے ہوئے) کہتے ہیں: مَیں ہرگز ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں نہیں دھتکاروں گا (وَمَا اٴَنَا بِطَارِدِ الَّذِینَ آمَنُوا) ۔ کیونکہ وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کریں گے اور دوسرے جہان میں اس کے سامنے میرے ساتھ ہوں گے (إِنَّھُمْ مُلَاقُو رَبِّھِمْ) ۔ (۱)
آیت کے آخر میں انھیں بتاگیا ہے: مَیں سمجھتا ہوں کہ تم جاہل ہو (وَلَکِنِّی اٴَرَاکُمْ قَوْمًا تَجْھَلُونَ) ۔
اس سے بڑھ کر جہالت کیا ہوگی کہ فضیلت کو پرکھنے کی میزان تم گنوا بیٹھے ہو، آج تمھاری نظر دولت، مالی وجاہت، ظاہری مقام ومنصب اور سن وسال معیارِ فضیلت بن چکے ہیں اور صاحبان ایمان افراد جو تہی دست اور برہنہ پا ہیں وہ تمھارے گمان میں بارگاہ خداوندی سے دُور ہیں، یہ تمھاری بڑی غلط فہمی ہے اور یہ تمھاری جہالت کی نشانی ہے ۔
علاوہ ازیں تم اپنی جہالت ونادانی کی بناء پر سمجھتے ہو کہ پیغمبر کوفرشتہ ہونا چاہیے حالانکہ انسانوں کا رہبر انہی کی نوع سے ہونا چاہیے تاکہ وہ ان کی ضروریات ، مشکلات اور تکالیف کو محسوس کرسکے اور سمجھ سکے ۔
بعد والی آیت میں مزید وضاحت کے لئے ان سے کہا گیا: اے قوم! اگر مَیں ان باایمان لوگوں کو دھتکاردوں تو خدا کے سامنے (اس عظیم عدالت میں بلکہ اُس جہان میں) کون میری مدد کرے گا (وَیَاقَوْمِ مَنْ یَنصُرُنِی مِنْ اللهِ إِنْ طَرَدْتُھُمْ) ۔
صالح اورمومن افراد کو دھتکارنا کوئی معمولی کام نہیں ہے، وہ کل قیامت کے دن میرے خلاف ہوں گے اور وہاں کوئی شخص میرا دفاع نہیں کرسکے گا، نیز ممکن ہے عذابِ الٰہی اس جہان میں بھی مجھے دامن گیر ہو، کیا تم کچھ سوچتے سمجھتے نہیں ہو کہ تمھیں ہو کہ مَیں جو کچھ کررہا ہوں عین حقیقت ہے (اٴَفَلَاتَذَکَّرُونَ) ۔
”تفکر“ اور ”نذکر“ میں یہ فرق ہے کہ تفکر در حقیقت کسی چیز کی شناخت کے لئے ہوتا ہے چاہے اس کے بارے میں ہمیں پہلے سے کچھ پتہ نہ ہو لیکن ”تذکر“ (یادآوری) اس موقع پر بولا جاتا ہے جب انسان اس امر کے بارے میں زیرِ بحث مسائل بھی اسی نوعیت کے تھے کہ انسان اپنی فطرت اور وجدان کی طرف توجہ کرنے سے انھیں سمجھ سکتا ہے لیکن ان غرور، تعصب، خود پرستی اور غفلت نے ان کے چہروں پر پردہ ڈال دیا تھا ۔
اپنی قوم کے مہمل اعتراضات کے جواب میں حضرت نوح(علیه السلام) آخری بات یہ کہتے ہیں کہ اگر تم خیال کرتے ہو اور توقع رکھتے ہو کہ وحی اور اعجاز کے سوا مَیں تم پر کوئی امتیاز یا برتری رکھوں تو یہ غلط ہے ، مَیں صراحت سے کہنا چاہتا ہوں کہ ”میں نہ تم سے کہتا ہوں کہ خدائی خزانے میرے قبضے میں ہیں اور نہ ہر کام جب چاہوں انجام دے سکتا ہوں“ (وَلَااٴَقُولُ لَکُمْ عِندِی خَزَائِنُ اللهِ) ۔ ”نہ میں غیب سے آگاہی کا دعویٰ کرتا ہوں“ (وَلَااٴَعْلَمُ الْغَیْبَ) ۔ ”اور نہ مَیں کہتا ہوں کہ مَیں فرشتہ ہوں (وَلَااٴَقُولُ إِنِّی مَلَکٌ) ۔
ایسے بڑے اور جُھوٹے دعوے جُھوٹے مدعیوں کے ساتھ مخصوص ہیں اور ایک سچا پیغمبر کبھی ایسے دعوے نہیں کرے گا کیونکہ خدائی خزانے اور علمِ غیب صرف خدا کی پاک ذات کے اختیار میں ہیں اورفرشتہ ہونا بھی ان بشری احساسات سے مناسب نہیں رکھتا، لہٰذا جو شخص ان تین میں سے کوئی ایک دعویٰ کرے یا یہ سب دعوے کرے تو یہ اس کے جُھوٹے ہونے کی دلیل ہے ۔
پیغمبر اسلام کے بارے میں سورہٴ انعام کی آیت ۵۰ میں ایسی تعبیر ملتی ہے جہاں فرمایا گیا ہے:
<قُلْ لَااٴَقُولُ لَکُمْ عِندِی خَزَائِنُ اللهِ وَلَااٴَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَااٴَقُولُ لَکُمْ إِنِّی مَلَکٌ إِنْ اٴَتَّبِعُ إِلاَّ مَا یُوحیٰ إِلَیَّ>
مَیں نہیں کہتا کہ خدا کے خزانے میرے پاس ہیں، نہ یہ کہتا ہوں کہ مَیں علم غیب رکھتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ مَیں فرشتہ ہوں، مَیں صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی ہوتی ہے ۔
اس آیت میں امتیازِ پیغمبر کو وحی میں منحصر کرنا اور مندرجہ بالا تینوں امور کی نفی کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت نوح(علیه السلام) سے مربوط آیات میں بھی ایسای امتیاز مفہوم کلام میں مخفی ہے اگرچہ صراحت سے بیان نہیں ہوا ۔
آیت کے آخر میں دوبارہ مستضعفین کا ذکر کرتے ہوئے تاکیداً کہا گیا ہے ”میں ہرگز ان افراد کے بارے میں جو تمھاری نگاہ میں حقیر ہیں، نہیں کہہ سکتا کہ خدا انھیں کوئی جزائے خیر نہیں دے گا (وَلَااٴَقُولُ لِلَّذِینَ تَزْدَرِی اٴَعْیُنُکُمْ لَنْ یُؤْتِیَھُمْ اللهُ خَیْرًا) ۔ بلکہ اس کے برعکس اس جہان کی خیر انہی کے لئے اگرچہ ان کا ہاتھ مال ودولت سے خالی ہے، یہ تو تم ہو جنھوں نے خام خیالی کی وجہ سے خیر کو مال ومقام یا سن وسال میں منحصر سمجھ رکھا ہے اور تم حقیقت سے بالکل بے خبر ہو۔
اور بالفرض اگر تمھاری بات سچی ہو اور وہ پشت اور اوباش ہوں تو خدا ان کے باطن اور نیتوں سے آگاہ ہے (اللهُ اٴَعْلَمُ بِمَا فِی اٴَنفُسِھِمْ) ۔
مَیں تو ان میں ایمان وصداقت کے سوا کچھ نہیں پاتا، لہٰذا میری ذمہ داری ہے کہ مَیں انھیں قبول کرلوں، مَیں تو ظاہر پر مامور ہوں اور بندہ شناس خدا ہے ۔
اور اگر مَیں اس کے علاوہ کچھ کروں تو یقیناً ظالموں میں سے ہوجاوٴں گا (إِنِّی إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِینَ) ۔
آخری جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ آیت کے سارے مضمون سے مربوط ہو یعنی اگر میں علمِ غیب جاننے، فرشتہ ہونے یا خزائن کا مالک ہونے کا دعویٰ کروں یا ایمان لانے والوں کو دھتکاردوں تو خدا کی بارگاہ میں اور وجدان کی نظر میں مَیں ظالموں کی صف میں داخل ہوں گا ۔

چند قابل توجہ نکات

۱۔ علمِ غیب اور خدا کے خاص بندے
جیسا کہ ہم نے بارہا اشارہ کیا ہے غیب سے مطلق آگاہی اور بغیر کسی قید وشرط سے واقفیت خدا کے ساتھ مخصوص ہے لیکن وہ جس قدر مصلحت سمجھتا ہے یہ علم وآگہی انبیاء اور اولیاء کے اختیار میں دے دیتا ہے، جیساکہ سورہٴ جن کی آیت ۲۶ اور ۲۷ میں ہے:
<عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَایُظْھِرُ عَلیٰ غَیْبِہِ اٴَحَدًا، إِلاَّ مَنْ ارْتَضَی مِنْ رَسُولٍ>
خدا تمام پوشیدہ امور سے آگاہ ہے اور کسی کو اپنے علمِ غیب سے آگانہ نہیں کرتا مگر اس رسول کو جسے وہ چاہتا ہے ۔
اس بناء پر زیرِ بحث آیات میں جو انبیاء سے علمِ غیب کی نفی کی گئی ہے اور دیگر آیات وروایات جن میں انبیاء(علیه السلام)، یا آئمہ(علیه السلام) کی طرف بعض غیوب کی نسبت دی گئی ہے کوئی تضاد نہیں ہے، اسرارِ غیب سے بالذات گواہی خدا کے ساتھ مخصوص ہے اور دوسروں کے پاس جو کچھ ہے وہ تعلیمِ خداوندی کے ذریعہ ہے، لہٰذا وہ ارادہٴ الٰہی کے مطابق اور اسی حد تک ہے ۔ (2)
..............
۱۔ یہ احتمال بھی اس جملہ کی تفسیر میںہے کہ حضرت نوح(علیه السلام) کی مراد یہ ہو کہ اگر مجھ پر ایمان لانے والے باطن میں دروغ گو اور جھوٹے ہوئے تو خدا قیامت تک ان سے حساب کرے گا، لیکن پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے ۔
2۔ مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کی پانچویں جلد صفحہ۲۰۶ (اردو ترجمہ) اور ساتویں جلد صفحہ۵۲ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۲۔ معیارِ فضیلت
ان آیات میں ہم دوبارہ اس حقیقت کو دیکھ رہے ہیں کہ اہلِ اقتدار، سرمایہ دار اور دنیا پرست مادی لوگ جو تمام چیزوں کو اپنے افکار کے دریچے سے اسی مادی حوالے سے دیکھتے ہیں ان کی نظر کسی مقام و احترام دولت ومنصب کے حوالے سے ہوتا ہے لہٰذا یہ بات کوئی باعثِ تعجب نہیں کہ وہ تہی دست سچّے مومنین کو ”اراذل“ (پست) قرار دیں اور ان کی طرف حقارت سے دیکھیں ۔
یہ امر قومِ نوح ہی میں منحصر نہیں کہ وہ مستضعفین مومنین خصوصاً انقلابی نوجوانوں کو جو آپ کے گرد وپیش تھے بے وقوف، کوتاہ فکر اور بے وقعت سمجھتے تھے بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ یہی منطق دوسرے انبیاء، خصوصاً پیغمبر اسلام اور پہلے مومنین کے بارے میں موجود تھی، آج بھی ہم یہی صورت دیکھتے ہیں، فرعون صفت مستکبرین اپنی شیطانی طاقت کا سہارا لیتے ہوئے سچّے مومنین کو ایسے ہی متہم کرتے ہیں، وہ تاریخ کو دُہراتے ہوئے اپنے مخالفین کو ایسے القابات ہی سے یاد کرتے ہیں ۔
لیکن ایک بُرا ماحول ایک خدائی انقلاب کے ذریعے پاک ہوجائے تو شخصیت شناسی کے ایسے معیار بھی دیگر موہوم چیزوں کے ساتھ تاریخ کے کوڑادان میں پھینک دیئے جاتے ہیں اور ان کی جگہ اصلی اور انسانی معیار لے لیتے ہیں، وہ معیار کہ جن پر زندگی کا متن برقرار ہے، جن پر عینی حقائق استوار ہیں اور جن سے ایک پاک، آباد اور آزاد معاشرہ استفادہ کرتا ہے مثلاً ایمان، علم، آگہی، ایثار، تقویٰ، پاکدامنی، شہادت، شجاعت، تجربہ، بیداری، مدیریت اور نظم ونسق کی صلاحیت وغیرہ۔

۳۔ ایک اشکال کی وضاحت
صاحب المنار کی طرح بعض مفسّرین اس آیت تک پہنچے ہیں تو وہ ان لوگوں کی طرف جو غیر خدا کے لئے علمِ غیب کے قائل ہیں یا ان سے اپنی مشکلات کا حل چاہتے ہیں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مختصراً کہتے ہیں کہ یہ دو چیزیں (علمِ غیب اور خزائنِ الٰہی) ایسی ہیں جن کی قرآن نے انبیاء سے نفی کی ہے لیکن مسلمانوں اور اہلِ کتاب میں سے بدعتی اولیاء اور قدیسین کے لئے ان امور کے قائل ہیں ۔ (1)
..............
1-اگر موصوف کی مراد یہ ہے کہ وہ ان سے ہر قسم کے علمِ غیب کی نفی کرے چاہے وہ تعلیمِ الٰہی سے ہو تو یہ بات قرآن مجید کی صرح نصوص کے خلاف ہے اور اگر مقصود انبیاء اور اولیاء سے توسل کی اس معنی میں نفی ہے کہ وہ خدا سے ہماری مشکلات کے حل کے لئے دعا اور خواہش کریں تو یہ بات آیا قرآن اور شیعہ سنّی مسلمہ احادیث کے خلاف ہے ۔

۳۲ قَالُوا یَانُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَاٴَکْثَرْتَ جِدَالَنَا فَاٴْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ کُنتَ مِنَ الصَّادِقِینَ
۳۳ قَالَ إِنَّمَا یَاٴْتِیکُمْ بِہِ اللهُ إِنْ شَاءَ وَمَا اٴَنْتُمْ بِمُعْجِزِینَ
۳۴ وَلَایَنفَعُکُمْ نُصْحِی إِنْ اٴَرَدْتُ اٴَنْ اٴَنصَحَ لَکُمْ إِنْ کَانَ اللهُ یُرِیدُ اٴَنْ یُغْوِیَکُمْ ھُوَ رَبُّکُمْ وَإِلَیْہِ تُرْجَعُونَ
۳۵ اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاہُ قُلْ إِنْ افْتَرَیْتُہُ فَعَلَیَّ إِجْرَامِی وَاٴَنَا بَرِیءٌ مِمَّا تُجْرِمُونَ

ترجمہ
۳۲۔ انھوں نے کہا: اے نوح! تُو نے ہم سے بہت بحث وتکرار کی اور بڑی باتیں کیں اب (بس کرو) اگر سچ کہتے ہو تو جس (عذابِ الٰہی) کا ہم سے وعدہ کرتے ہو اسے لے آوٴ۔
۳۳۔ (نوح نے جواباً کہا: اگر خدا نے ارادہ کرلیا تو لے آئے گا پھر تم میں فرار کی طاقت نہ ہوگی ۔
۳۴۔ (لیکن کیا فائدہ کہ) جب خدا چاہے تمھیں (تمھارے گناہوں کی وجہ سے) گمراہ کردے اور مَیں تمھیں نصیحت کروں تو پھر تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی، وہ تمھارا پروردگار ہے اس کی طرف لوٹ کر جاوٴگے ۔
۳۵۔ (مشرکین) کہتے ہیں: وہ (محمد) خدا کی طرف ان باتوں کی غلط نسبت دیتا ہے ۔کہہ دو: اگر میں نے تمھیں اپنی طرف سے گھڑا ہے اور اس کی طرف نسبت دیتا ہوں تو اس کا گناہ میرے ذمہ ہے لیکن میں تمھارے گناہوں سے بیزار ہوں ۔

کہاں ہے عذاب؟
ان آیات میں حضرت نوح(علیه السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہونے والی باقی گفتگو کی طرف اشارہ ہوا ہے، پہلی آیت میں قومِ نوح(علیه السلام) کی زبانی نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے کہا: اے نوح! تم نے یہ سب بحث وتکرار اور مجادلہ کیا ہے اب بس کرو تم نے ہم سے بہت باتیں کی ہیں اب بحث مباحثے کی گنجائش نہیں رہی (قَالُوا یَانُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَاٴَکْثَرْتَ جِدَالَنَا) ۔
اگر سچّے ہو تو خدائی عذابوںں کے بارے میں جو سخت وعدے تم نے ہم سے کئے تھے انھیں پورا کر دکھاوٴ اور وہ عذاب لے آوٴ (فَاٴْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ کُنتَ مِنَ الصَّادِقِینَ) ۔
یہ بعینہ اس طرح سے ہے کہ ایک شخص یا کچھ اشخاص کسی مسئلے کے بارے میں ہم سے بات کریں اور ضمناً ہمیں دھمکیاں بھی دیں اور کہیں کہ اب زیادہ باتیں بند کرو اور جو کچھ تم کرسکتے ہو کرلو اور دیر نہ کرو، اس طرف اشارے کرتے ہوئے کہ ہم نہ تو تمھارے دلائل کو کچھ سمجھتے ہیں، نہ تمھاری دھمکیوں سے ڈرتے ہیں اور نہ اس سے زیادہ ہم تمھاری بات سن سکتے ہیں ۔
انبیاءِ الٰہی کے لطف ومحبت اور ان کی وہ گفتگو جو صاف وشفاف اور خوشگوار پانی کی طرح ہوتی ہے اس طرزِ عمل کا انتخاب انتہائی ہٹ دھرمی، تعصب اور جہالت کی ترجمانی کرتا ہے ۔
قومِ نوح کی اس گفتگو سے ضمناً یہ بھی اچھی طرح سے واضح ہوجاتا ہے کہ آپ نے ان کی ہدایت کے لئے بہت طویل مدت تک کوشش کی اور انھیں ارشاد وہدایت کے لئے آپ(علیه السلام) نے ہر موقع سے استفادہ کیا، آپ(علیه السلام) نے اس قدر کوشش کی کہ اس گمراہ قوم نے آپ(علیه السلام) کی گفتار اور ارشادات پر اکتاہٹ کا اظہار کیا ۔
حضرت نوح(علیه السلام) کے بارے میں قرآن کریم میں جو دیگر آیات آئی ہیں ان سے بھی یہ حقیقت اچھی طرح سے واضح ہوتی ہے، سورہٴ نوح آیات ۵ تا ۱۳ میں یہ مفہوم مبسوط طریقے سے بیان ہوا ہے:
<قَالَ رَبِّ إِنِّی دَعَوْتُ قَوْمِی لَیْلاً وَنَھَارًا فَلَمْ یَزِدْھُمْ دُعَائِی إِلاَّ فِرَارًا وَإِنِّی کُلَّمَا دَعَوْتُھُمْ لِتَغْفِرَ لَھُمْ جَعَلُوا اٴَصَابِعَھُمْ فِی آذَانِھِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَھُمْ وَاٴَصَرُّوا وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا ثُمَّ إِنِّی دَعَوْتُھُمْ جِھَارًا ثُمَّ إِنِّی اٴَعْلَنتُ لَھُمْ وَاٴَسْرَرْتُ لَھُمْ إِسْرَارًا>
پروردگارا! مَیں نے اپنی قوم کو دن رات تیری طرف بلایا لیکن میری اس دعوت پر ایمان میں فرار کے علاوہ کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوا، میں نے جب انھیں پکارا تاکہ تو انھیں بخش دے تو انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے اوپر لپیٹ لئے، انھوں نے مخالفت پر اصرار کیا اور تکبر وخود سری کا مظاہرہ کیا، میں نے پھر انھیں علی الاعلان اور پوشیدہ طور پر تیری طرف دعوت دی، مَیں نے پیہم اصرار کیا مگر انھوں نے کسی بھی طرح میری باتوں کی طرف کان نہ دھرے ۔
زیرِ بحث آیت میں لفظ ”جَادَلْتَنَا“ آیا ہے جو ”مجادلہ“ کے مادہ سے لیا گیا ہے، یہ اصل میں طناب اور رسّی کو مضبوطی سے بٹنے اور پیچ دینے کے معنی میں ہے، اسی بناپر شکاری باز کو ”اجدل“ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام پرندوں سے زیادہ پیچ وخم کھانے والا ہے، بعد ازاں یہ لفظ بحث اور گفتگو میں مدِمقابل کے پیچ وخم کھانے کے لئے استعمال ہُوا ہے ۔
”جدال“ ، ”مراء‘ ‘ اور ”حجاج“ (بروزن ”لجاج“) اگرچہ معنوی طور ایک دوسرے کے مشابہ ہیں لیکن جیسا کہ بعض محققین نے کہا ہے کہ ”مراء‘ ‘ میں ایک طرح کی مذمت پائی جاتی ہے کیونکہ یہ لفظ ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے جب انسان کسی باطل مسئلے پر ڈٹ جائے اور استدلال کرے لیکن ”جدال“ اور ”مجادلہ“ میں یہ مفہوم لازمی طور پر نہیں ہوتا ۔ باقی رہا ”جدال“ اور ”حجاج“ کا فرق تو وہ یہ ہے کہ ”جدال“ مدِّمقابل کو اس کے عقیدے کی دعوت دینے اور اس پر استدلال پیش کرنے کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے ۔
حضرت نوح نے اس بے اعتنائی، ہٹ دھرمی اور بیہودگی کا یہ مختصر جواب دیا: خدا ہی چاہے تو ان دھمکیوں اور عذاب کے وعدوں کو پورا کرسکتا ہے (قَالَ إِنَّمَا یَاٴْتِیکُمْ بِہِ اللهُ إِنْ شَاءَ) ۔
بہرحال یہ چیز میرے اختیار سے باہر ہے اور میرے قبضہٴ قدرت میں نہیں ہے، مَیں تو اس کا فرستادہ ہوں اور اس کے حکم کے سامنے تسلیم ہوں لہٰذا سزا اور عذاب کی خواہش مجھ سے نہ کرو لیکن یہ جان لو کہ جب عذاب کا حکم آپہنچا تو پھر ”تم اس کے احاطہٴ قدرت سے نکل نہیں سکتے اور کسی پناہ گاہ کی طرف فرار نہیں کرسکتے“ (وَمَا اٴَنْتُمْ بِمُعْجِزِینَ) ۔
”معجزہ“ ’اعجاز“ مادہ سے دوسرے کو عاجز وناتواں کرنے کے معنی میں ہے، یہ لفظ بعض اوقات ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے جب انسان دوسرے کے کام میں رکاوٹ پیدا کردے اور اسے روکے اور اسے عاجز وناتواں کردے اور کبھی آگ بڑھ کر مدِمقابل کو شکست دے دے یا اپنے آپ کو محفوظ کرلے، یہ تمام مدِمقابل کو عاجز وناتواں کرنے کے مختلف طریقے ہیں، مندرجہ بالا آیت میں ان تمام معانی کا احتمال ہے کیونکہ یہ معانی ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں ۔ یعنی تم کسی صورت میں اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے ۔
اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے: اگر خدا تمھارے گناہوں اور جسمانی آلودگیوں کی وجہ سے تمھیں گمراہ کرنا چاہے تو میری نصیحت تمھیں ہرگز کوئی فائدہ نہیں دے گی چاہے مَیں تمھیں جتنی بھی نصیحت کرلوں (وَلَایَنفَعُکُمْ نُصْحِی إِنْ اٴَرَدْتُ اٴَنْ اٴَنصَحَ لَکُمْ إِنْ کَانَ اللهُ یُرِیدُ اٴَنْ یُغْوِیَکُمْ) ۔ کیونکہ ”وہ تمھارا پردرگار ہے اور تم اس کی طرف پلٹ کر جاوٴگے“ اور تمھاری تمام تر ہستی اور وجود اس کے قبضہٴ قدرت میں ہے (ھُوَ رَبُّکُمْ وَإِلَیْہِ تُرْجَعُونَ) ۔

ایک سوال اور اس کا جواب
اس آیت کے مطالعہ سے فوراً یہ سوال سامنے آتا ہے اور بہت سے مفسّرین نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ خدا کسی کے گمراہ کرنے کا ارادہ کرے، کیا ایسا ہو تو یہ جبر واکراہ کی دلیل نہیں ہوگی اور کیا یہ جو بنیاد ہے کہ انسان ارادہ واختیار میں آزاد ہے اسے قبول کرلینے کے بعد ایسی چیز قابلِ قبول ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ مندرجہ بالا مباحث میں واضح ہوچکا ہے اورہم نے بارہا اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ بعض اوقات انسان مسلسل کچھ اعمال بجالاتا ہے جس کا نتیجہ دائمی گمراہی اور ہمیشہ کے انحراف اور حق کی طرف لوٹنے کی صورت میں نکلتا ہے، ہمیشہ کی ہٹ دھرمی، گناہوں پر دائمی اصرار اور حق طلب سچے رہبروں کی دشمنی، انسانی فکر پر ایسا ضخیم پردہ ڈال دیتی ہے کہ انسان میں آفتابِ حق وحقیقت کی شعاع دیکھنے کی تھوڑی سی صلاحیت بھی نہیں رہتی، چونکہ یہ حالت ایسے اعمال کا نتیجہ ہے کہ جو انسان خود انجام دیتا ہے لہٰذا یہ کسی طرح بھی جبر واکراہ کی دلیل نہیں ہوسکتی بلکہ یہ عین اختیار ہے جو کچھ خدا سے مربوط ہے یہ ہے کہ اس نے ایسے اعمال میں ایسی تاثیر قرار دی ہے، قرآن مجید کی آیات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں، اس سلسلے میں ہم نے سورہٴ بقرہ کی آیت ۷ کے ذیل میں اور دیگر مواقع پر اشارہ کیا ہے ۔
زیرِ بحث آخری آیت میں ایک بات جملہٴ معترضہ کے طور پر آئی ہے، یہ ان مباحث کی تاکید کے لئے ہے جو حضرت نوح(علیه السلام) کے واقعہ کے سلسلے میں گزشتہ اور آئندہ آیات میں موجود ہیں، ارشاد ہوتا ہے : دشمن کہتے ہیں کہ یہ بات اس (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلّم) نے خود سے گھڑ کر خدا کی منسوب کردی ہے (اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاہُ) ۔ ان کے جواب میں کہہ دو کہ اگر مَیں نے یہ اپنی طرف سے گھڑی ہے اور خدا کی طرف جھوٹی نسبت دی ہے تو اس کا گناہ مجھ پر ہے (قُلْ إِنْ افْتَرَیْتُہُ فَعَلَیَّ إِجْرَامِی) ۔ لیکن مَیں تمھارے گناہوں سے بیزار ہوں (وَاٴَنَا بَرِیءٌ مِمَّا تُجْرِمُونَ)

۱۔ ”إِجْرَام“کا مفہوم:
”إِجْرَام“کا مادہ ”جرم“(بروزن ”جہل“) ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ یہ کچے پھل توڑنے کے معنی میں ہے، بعد ازاں ہر غیر خوش آئندہ کام کے لئے بولا جانے لگا، اسی طرح کسی کو گناہ پر آمادہ کرنے پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، چونکہ انسانی ذاتی اور فطری طور پر روحانیت اور پاکیزگی سے رشتہ رکھتا ہے لہٰذا جب وہ گناہ انجام دیتا ہو تو وہ اس خدائی رشتہ سے جدا ہوجاتا ہے ۔

۲۔ آخری آیت کس کے بارے میں ہے؟
زیرِ نظر آخری آیت کے بارے میں بعض نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ یہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے بارے میں نہیں ہے بلکہ خود حضرت نوح(علیه السلام) سے مربوط ہے کیونکہ یہ سب آیات انہی سے مربوط ہیں اور بعد میں آنے والی آیات بھی انہی سے متعلق ہیں لہٰذا زیادہ مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت بھی حضرت نوح(علیه السلام) سے مربوط ہے اور ان کے نزدیک اس کا جملہٴ معترضہ ہونا خلاف ظاہر ہے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ:
اوّلاً: تقریباً اس طرح کی تعبیر انہی الفاظ میں سورہٴ احقاف کی آیت ۸ میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے بارے میں آئی ہے ۔
ثانیاً: ان آیات میں جو کچھ حضرت نوح(علیه السلام) کے بارے میں آیا ہے وہ سب صیغہٴ غائب کی صورت میں ہے جبکہ زیرِ بحث آیت مخاطب کی صورت میں ہے (اور مسئلہ ”التفات“ یعنی غیبت سے خطاب کی طرفانتقال بھی خلاف ظاہر ہے) اب اگر ہم اس آیت کو حضرت نوح(علیه السلام) کے بارے میں قرار دیں تو لفظ ”یقولون“جو فعل مضارع کی صورت میں ہے اور اسی طرح ”قل“جو فعل امر کی صورت میں ہے سب تقدیر کے محتاج ہوںگے ۔
ثالثاً: ایک حدیث جو تفسیر برہان میں اس آیت کے ذیل میں حضرت امام باقر علیہ السلام اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی گئی ہے میں ہے کہ یہ آیت کفارِمکہ کے مقابلے میں نازل ہوئی تھی ۔
ان تمام دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مربوط ہے، کفار آپ پر ناروا تہمتیں باندھتے تھے یہ آیت آپ کی جانب سے ان کے لئے جواب کے طور پر نازل ہوئی ہے ۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ جملہٴ معترضہ کا یہ معنی نہیں کہ کوئی ایسی بات ذکر ہو جو اصل گفتگو سے کوئی کلام تاکید اور تائید کرتے ہیں ، ان سے وقتی طور پر رشتہٴ سخن منقطع ہوجاتا ہے، مخاطب کو ایک طرح سے موقع ملتا ہے اور گفتگو کو بھی لطافتِ روح اور تازگی میسّر آتی ہے، یہ بات حتمی ہے کہ جملہ معترضہ کبھی بھی ہر لحاظ سے کلام سے بیگانہ نہیں ہوسکتا ورنہ یہ بات اصولِ فصاحت وبلاغت کے خلاف ہوجائے گی حالانکہ فصیح وبلیغ کلام میں ہمیشہ جملہ ہائے معترضہ پائے جاتے ہیں ۔

۳۔ ایک وضاحت:
زیرِ نظر آخری آیت کا مطالعہ کرتے ہوئے ہوسکتا ہے یہ اعتراض سامنے آئے کہ یہ بات کس طرح منطقی وعقلی ہوسکتی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم یا حضرت نوح علیہ السلام کفار سے کہیں کہ یہ بات اگر جھوٹ ہے تو اس کا گناہ میری گردن پر ہے، کیا جھوٹ بولنے کا گناہ قبول کرلینے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی گفتگو سچی ہے اور واقع کے مطابق ہے اور لوگ ذمہ دار ہیں کہ ان کی اطاعت اور پیروی کریں؟
اس کی وضاحت یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں غور وفکر کرنے سے ہمیں اس سوال کا جواب مل سکتا ہے، درحقیقت وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ ہماری یہ باتیں جو بہت سے عقلی دلائل پر مشتمل ہیں بالفرضِ محال ہم خدا کی طرف سے نہ بھی ہوں تو اس کا گناہ ہماری گردن پر ہے لیکن عقلی استدلال اپنی جگہ پر ثابت ہیں اور تم ان کی مخالفت سے ہمیشہ گناہ میں مبتلا ہوگے، ایسا گناہ جو مسلسل اور دائمی ہے (توجہ رہے کہ ”تجرمون“ صیغہٴ مضارع ہے جو عام طور پر استمرار اور تسلسل پر دلالت کرتا ہے ۔