تفسیر نمونہ جلد 09
 

۱۷ اٴَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّہِ وَیَتْلُوہُ شَاھِدٌ مِنْہُ وَمِنْ قَبْلِہِ کِتَابُ مُوسیٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً اٴُوْلٰئِکَ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَمَنْ یَکْفُرْ بِہِ مِنَ الْاٴَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُہُ فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ مِنْہُ إِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایُؤْمِنُونَ

ترجمہ
۱۷۔ کیاوہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہے اس کے پیچھے اس کی طرف شاہد ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب کہ جو پیشوا اور ح۔رحمت تھی (اس پر گواہی دیتی ہے، اس شخص کی طرح ہے جو ایسا نہ ہو) وہ (حق طلب اور حقیقت کی متلاشی) اس پر (جو یہ خصوصیات رکھتا ہے) ایمان لاتے ہیں اور مختلف گروہوں میں سے جو شخص اس کا منکر ہو آگ اس کی وعدہ گاہ ہے، لہٰذا اس میں شک نہ کرو کہ وہ تیرے پروردگار کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے ۔

تفسیر
زیرِ نظر آیت کی تفسیر کے بارے میں مفسّرین کے درمیان بہت اختلاف ہے، آیت کے الفاظ کی جزئیات، ضمائر، موصول اور اسم اشارہ کے بارے میں مختلف نظریے ہیں، اس تفسیر میں ان سب کا ذکر ہماری روش کے خلاف ہے، دوتفاسیر جو زیادہ واضح معلوم ہوتی ہیں اہمیت ترتیبی کے اعتبار سے یہاں ذکر کی جاتی ہیں ۔
۱۔ آیت کی ابتداء میں فرمایا گیا ہے: کیا وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہے اور اس کے پیچھے خدا کی طرف سے شاہد آیا ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (توریت) پیشوا، رحمت اور ان کی عظمت کو واضح کرنے والی کتاب کی حیثیت سے آئی ہے، اس شخص کی طرح ہے جو ان صفات، نشانیوں اور واضح دلائل کا حامل نہیں ہے (اٴَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّہِ وَیَتْلُوہُ شَاھِدٌ مِنْہُ وَمِنْ قَبْلِہِ کِتَابُ مُوسیٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً) ۔
یہ شخص پیغمبر اکرم ہیں، ان کی واضح دلیل قرآن مجید ہے، ان کی نبوت کی صداقت کے شاہد علی(علیه السلام) جیسے مومن صادق ہیں اور قبل ازیں ان کی نشانیاں اور صفات تورات میں آچکی ہیں، اسی طرح تین واضح طریقوں سے آپ کی دعوت کی حقانیت ثابت ہوگئی ہے ۔
پہلا راستہ قرآن ہے، جو ان کے ہاتھ میں ایک واضح دلیل ہے ۔
دوسرا راستہ گزشتہ آسمانی کتب ہیں، جن میں آنحضرت کی نشانیاں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں اور رسول الله کے زمانے کے ان کتب کے پیروکار انھیں اچھی طرح سے پہچانتے ہیں اور اسی بناء پر ان کے انتظار میں تھے ۔
تیسرا راستہ آپ کے فدا کار پیروکار اور مخلص مومنین ہیں کہ جو آپ کی دعوت اور گفتار کی صداقت کو واضح کرتے تھے کیونکہ کسی مکتب کی حقانیت کی ایک نشانی اس مکتب کے پیروکاروں سے پہچانا جاتا ہے ۔
کیا ان زندہ دلائل وبراہین کے باوجود انھیں دوسرے مدعیانِ نبوت پر قیاس کیا جاسکتا ہے یا ان کی دعوت کی صداقت میں شک وشبہ کیا جاسکتا ہے ۔ (۱)
اس گفتگو کے بعد قرآن متلاشیانِ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھیں ضمنی طور پر ایمان کی دعوت دیتا ہے: ایسے پیغمبر پر کہ جو روشن دلیل رکھتا ہے ایمان لائیں گے (اٴُوْلٰئِکَ یُؤْمِنُونَ) ۔
لفظ”اٴُوْلٰئِکَ“ میں جن افراد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اگرچہ ان کا ذکر نہیں ہے لیکن اگر گزشتہ آیات کی طرف توجہ کرتے ہوئے اس آیت میں ان کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے اور ان کی طرف اشارے کو محسوس کیا جاسکتا ہے ۔
اس کے بعد منکرین کی گہانی یوں بیان کی گئی ہے: مختلف گروہوں میں سے جو کوئی اس سے کفر کرے گا تو اس کی وعدہ گاہ جہنم ہے (بِہِ وَمَنْ یَکْفُرْ بِہِ مِنَ الْاٴَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُہُ) ۔
پورا جملہ مبتداء، اس کی خبر محذوف ہے اور اس کی تقدیر اس طرح ہوگی:
”کمن لیس کذلک“ یا ”کمن یرید الحیاة الدنیا“
آیت کے آخر میں قرآن کے دیگر بہت سے مواقع کی طرف سیرتِ قرآن کے روئے سخن پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے تمام لوگوں کے لئے ایک عمومی درس بیان کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے: اب جبکہ ایسا ہے اور تیری دعوت کی صداقت کے لئے یہ تمام شاہد موجود ہیں جو کچھ تجھ پر نازل ہوا ہے اس کے بارے میں ہرگز شک وشبہ کو راہ نہ دے (فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ مِنْہُ) ۔ ”کیونکہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے کلامِ حق ہے“ (إِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ) ۔ ”لیکن بہت سے لوگ جہالت، تعصّب اور خود پسندی کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے (وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایُؤْمِنُونَ) ۔
۲۔ دوسری تفسیر جو آیت کے لئے ذکر ہوئی ہے یہ ہے کہ اصل مقصد سچّے مومنین کی حالت بیان کرنا ہے کہ وہ ان واضح دلائل وشواہد اور گزشتہ کتب میں موحود شہادتوں کی بنیاد پر دعوتِ پیغمبر کی صداقت پر ایمان لائے ہیں، لہٰذا ”من کان علیٰ بیّنة من ربّہ“ کے جملے سے مراد وہ تمام لوگ ہیں کہ جو کھلی آنکھوں سے اور اطمینان بخش دلائل کے ذریعے اور اس کے لانے والے پیروی کررہے ہیں اور اس سے مراد خود پیغمبر اکرم نہیں ہیں ۔
یہ تفسیر گزشتہ تفسیر پر یہ ترجیح رکھتی ہے کہ مبتداء کی خبر آیت میں صراحت سے آئی ہے، اس میں کوئی محذوف نہیں اور ”اولئک“ کا مشارالیہ خود آیت میں مذکور ہے، نیز آیت کا پہلا حصّہ کہ جو ”اٴَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّہِ“ شروع ہوتا ہے ”اٴُوْلٰئِکَ یُؤْمِنُونَ“تک ایک مکمل جملہ ہے اور اس میں کوئی حذف وتقدیر نہیں ہے ۔
بلاشبہ آیت کی دوسری تعبیریں اس تفسیر سے مناسبت نہیں رکھتیں، اس لئے ہم نے اس تفسیر کو دوسرے مرحلے میں قرار دیا ہے (غور کیجئے گا) ۔
بہرحال آیت اسلام اور سچّے مسلمانوں کے امتیازات اور اس مکتب کے انتخاب میں محکم دلائل پر ان کے اعتماد کرنے کی طرف اشارہ ہے جبکہ دوسری طرف سے آیت متکبر منکرین کا انجامِ بد بیان کررہی ہے ۔

۱۔ آیت میں ”شاھد“ سے مراد
بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ زیرِ بحث آیت میں ”شاھد“ سے مراد وحیِ خدا کے قاصد جبرئیل(علیه السلام) ہیں، بعض نے اس سے مراد پیغمبر اسلام لئے ہیں، بعض دوسرے مفسّرین نے اس کی تفسیر زبانِ پیغمبر کی ہے (جبکہ ”یتلوہ“ کو ”تلاوت“ کے مادہ سے ’قرائت“کے معنی میں لیا ہے، نہ کہ پیچھے آنے والے کے معنی میں) لیکن بہت سے بزرگ مفسرین نے اسے حضرت علی علیہ السلام سے تعبیر کیا ہے، اس ضمن میں آئمہ معصومین(علیه السلام) سے بھی کئی روایات سے اس تفسیر کی تاکید ہوئی ہے کہ ”شاھد“ سے مراد حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام ہیں، جو پیغمبر اسلام اور قرآن پر ایمان لانے والے پہلے شخص ہیں، جو تمام مراحل میں رسول الله کے ساتھ رہے اور ایک لمحہ کے لئے فداکاری سے دریغ نہیں کیا اور آخری دم تک ان کی حمایت میں کوشاں رہے ۔ (2)
ایک حدیث میں ہے حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: قریش کے مشہور افراد کے میں ایک یا ایک سے زیادہ آیت نازل ہوئیں ۔
کسی نے عرض کیا: اے امیرالمومنین(علیه السلام)! آپ(علیه السلام) کے بارے میں کونسی آیت نازل ہوئی؟
امام(علیه السلام) نے فرمایا: کیا تُونے سورہٴ ہود کی یہ آیت نہیںپڑھی ”اٴَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّہِ وَیَتْلُوہُ شَاھِدٌ مِنْہُ“ ، رسول الله خدائی ”بیّنہ“ اور ”شاہد“ مَیں تھا ۔ (3)
سورہٴ رعد کی آخری آیت میں بھی ایک تعبیر دکھائی دیتی ہے کہ جو اس معنی کی تاکید کرتی ہے ۔وہا ں فرمایا گیا ہے:
<وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ کَفیٰ بِاللهِ شَھِیدًا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَمَنْ عِنْدَہُ عِلْمُ الْکِتَابِ>
کفار کہتے ہیں کہ تُو پیغمبر نہیں ہے، کہہ دو یہی کافی ہے کہ خدا میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے اور وہ کہ جس کے پاس علمِ کتاب (قرآن) ہے ۔
سُنّی اور شیعہ طرق کی بہت سی روایات میں ہے کہ ”ومن عندہ علم الکتاب“ سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہیں ۔
جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے پھر اس نکتے کی طرف یاد دہانی ضروری ہے کہ کسی مکتب کی حقانیت کی پہچان کا ایک بہترین طریقہ اس کے پیروکار، مددکاروں اور حامیوں کی کیفیت کا مطالعہہے، مشہور ضرب المثل ہے کہ امامزادے کو اس کے زائرین سے پہچاننا چاہیے، جب دیکھیں کہ پاکباز، باشعور، صاحب ایمان، مخلص اور باتقویٰ افراد کسی رہبر اور مکتب کے گرد جمع ہیں تو اچھی طرح پہچانا جاسکتا ہے کہ یہ مکتب اور یہ رہبر صداقت کی حدّبلند پر ہے، لیکن اگر دیکھیں کہ موقع پرست، دھوکے باز، بے ایمان اور بے تقویٰ افراد کسی مکتب یا رہبر کے گرد جمع ہیں تو بہت کم یقین کیا جاسکتا ہے کہ یہ مکتب اور یہ رہبر حق پر ہے ۔
اس مطلب کی طرف اشارہ بھی ہم سمجھتے ہیں کہ لفظ ”شاہد“ سے حضرت علی علیہ السلام مراد لینا اس حقیقت کے منافی نہیں کہ ابوذر، سلمان، عماریاسر جیسے تمام افراد اس کے مفہوم میں شامل ہیں کیونکہ ایسی تفاسیر اکمل وبرتر کی طرف اشارہ ہوتی ہیں یعنی اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ارائس ورئیس یہ فرد اکمل ہے، اس امر کی شاہد وہ روایت ہے جو امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
”شاہد سے مراد امیرالمومینن(علیه السلام) ہیں اور پھر یکے بعد دیگرے ان کے جانشین“۔ (4)
اس حدیث میں اگرچہ معصوم ہستیوں کا ذکر ہے لیکن یہ امر خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ روایات جن میں ”شاہد“ کو منحصراً حضرت علی(علیه السلام) سے تفسیر کیا گیا ہے ان سے مراد فقط آپ(علیه السلام) نہیں بلکہ مراد افضل وبرتر کاا مصداق ہے ۔
..............
۱۔ اس تفسیر کے مطابق ”مَن“ سے مراد پیغمبر اکرم ہیں، ”بیّنة“ سے مراد قرآن ہے اور ”شاھد“ سے کہ جو جنس کے معنی میں ہے سے مراد سچّے مومنین ہیں جن کے راٴس ورئیس حضرت علی علیہ السلام ہیں، نیز ”منہ“ کی ضمیر خداتعالیٰ کی طرف اور ”قبلہ“ کی ضمیر قرآن یا پیغمبر اسلام کی طرف لوٹتی ہے ۔
2۔ برہان، نور الثقلین، مجمع البیان اور دیگر تفاسیر کی طرف رجوع فرمائیں ۔
3۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۲۱۳.
4۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۲۱۳.

۲۔ صرف تورات کی طرف اشارہ کیوں؟
جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ پیغمبر کی حقانیت کی ایک دلیل زیرِ بحث آیت میں گزشتہ کتب بیان کی گئی ہیں، لیکن تذکرہ صرف حضرت موسیٰ کی کتاب کا ہُوا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کے ظہور کی بشارتیں انجیل میں بھی ہیں ۔
شاید یہ اس بناء پر ہو کہ نزولِ قرآن اور ظہور اسلام کے علاقے یعنی مکّہ اور مدینہ میں زیادہ تر اہلِ کتاب میں سے یہودیوں کے افکار ونظریات پھیلے ہوئے تھے اور عیسائی نسبتاً دُور کے علاقوں میں رہتے تھے مثلاً یمن، شامات اور نجران (جو شمالی یمن کے پہاڑی علاقوں میں صنعاء سے دس منزل کے فاصلے پر واقع تھا) ۔
یا ہوسکتا ہے یہ اس بناء پر ہو کہ اوصاف پیغمبر کا تذکرہ تورات میں زیادہ جامع اور زیادہ وسیع طور پر آیا تھا ۔
بہرحال تورات کے بارے میں ”امام“ کی تعبیر ہوسکتا ہے اس بناء پر ہو کہ شریعتِ موسیٰ(علیه السلام) کے احکام پورے طور پر اس میں موجود تھے یہاں تک کہ عیسائی بھی اپنی بہت سی تعلیمات تورات سے لیتے ہیں ۔

۳۔ ”فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ“میں مخاطب:
”فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ“میں مخاطب کون ہے، اس بارے میں دو احتمال ذکر کئے گئے ہیں:
پہلا احتمال یہ کہ پیغمبر ارکم ہیں یعنی قرآن یا آئین اسلام کی حقانیت میں ذرہ بھر شک کوراہ نہ دیجئے ۔ البتہ اس حکم کی رُو سے کہ وہ وی کو بطورِ شہود دیکھتے تھے اور خدا کی طرف سے نزولِ قرآن ان کے لئے محسوس طور پر بلکہ حِس سے بھی بالا تھا، آپ کو اس دعوت کی حقانیت میں کسی قسم کا کوئی شک نہ تھا لیکن یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ قرآن میں خطاب تو پیغمبر اکرم سے ہے جبکہ مراد تمام لوگ ہیںاور عربوں کی مشہور تعبیر کے مطابق ایسے خطاب ” ”ایّاک اعنی واسمعی یا جارة“ (میری مراد تو تم ہو اور پڑوسن تم بھی سُن لو)کی طرح کے ہیں ۔
فارسی میں کہتے ہیں:
در بہ توگویم دیوار تو گوش کن یا تو بشنو
اے دروازہ! مَیں تجھے کہہ رہا ہوں، دیوار! تُو سن لے ۔
یہ فنونِ لاغت میں سے ہے کہ کئی مواقع پر تاکید اور اہمیّت کے لئے یا دیگر مقاصد کے لئے حقیقی مخاطب کے بجائے دوسرے شخص سے خطاب کیا جاتا ہے ۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہر مکلف عاقل مخاطب ہے یعنی ”فلا تک ایھا المکلف العاقل فی مریة“ یعنی اے عاقل ومکلف انسان! ان واضح دلائل کے ہوتے ہوئے اس قرآن کی حقانیت میں شک نہ کر“ اور یہ احتمال اس بناء پر ہے کہ ”من کان علی بیّنة من ربّہ“ سے مراد پیغمبر نہ ہوں بلکہ تمام سچّے مومنین ہوں (غور کیجئے گا)
لیکن بہرحال پہلی تفسیر آیت سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے ۔

۱۸ وَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَریٰ عَلَی اللهِ کَذِبًا اٴُوْلٰئِکَ یُعْرَضُونَ عَلیٰ رَبِّھِمْ وَیَقُولُ الْاٴَشْھَادُ ھٰؤُلَاءِ الَّذِینَ کَذَبُوا عَلیٰ رَبِّھِمْ اٴَلَالَعْنَةُ اللهِ عَلَی الظَّالِمِینَ
۱۹ الَّذِینَ یَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ وَیَبْغُونَھَا عِوَجًا وَھُمْ بِالْآخِرَةِ ھُمْ کَافِرُونَ
۲۰ اٴُوْلٰئِکَ لَمْ یَکُونُوا مُعْجِزِینَ فِی الْاٴَرْضِ وَمَا کَانَ لَھُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ اٴَوْلِیَاءَ یُضَاعَفُ لَھُمَ الْعَذَابُ مَا کَانُوا یَسْتَطِیعُونَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوا یُبْصِرُونَ
۲۱ اٴُوْلٰئِکَ الَّذِینَ خَسِرُوا اٴَنفُسَھُمْ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ
۲۲ لَاجَرَمَ اٴَنَّھُمْ فِی الْآخِرَةِ ھُمَ الْاٴَخْسَرُونَ

ترجمہ
۱۸۔ ان لوگوں سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو خدا پر افتراء باندھتے ہیں وہ (روز قیامت) اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوں گے اور شاہد (انبیاء اور فرشتے) کہیں گے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا، خدا کی لعنت ہو ظالموں پر۔
۱۹۔ وہی لوگوں کو راہِ خدا سے روکتے تھے اور راہِ حق میں کجی دکھانا چاہتے تھے اور آخرت کا کفر کرتے تھے ۔
۲۰۔وہ زمین میںکبھی بھی فرار کی طاقت نہیں رکھتے اور خدا کے سوا کوئی دوست اور سرپرست نہیں پائیں گے ان کے لئے کئی گُنا عذاب الٰہی ہوگا (کیونکہ وہ خود بھی گمراہ تھے اور دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف کھینچتے تھے) اور کبھی کبھی (حق بات) سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور (حقائق کو) نہیں دیکھتے تھے ۔
۲۱۔ وہ ایسے لوگ جو اپنا سرمایہٴ ہستی گنوا بیٹھے ہیں اور جھوٹے معبود ان کی نظر سے کھوگئے ہیں ۔
۲۲۔ (اسی بناء پر)یقیناً وہ آخرت میں سب سے زیادہ زیاںکار ہیں ۔

سب سے زیادہ زیاں کار
گزشتہ آیت قرآن اور رسالتِ پیغمبر کے بارے میں گفتگو کررہی تھی، اس کے بعد زیرِ بحث آیات کی نشانیوں اور ان کے انجامِ کار کے متعلق تفصیلی بحث کررہی ہیں، پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے کہ جو خدا پر جھوٹ باندھے (وَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَریٰ عَلَی اللهِ کَذِبًا) ۔
یعنی سچّے پیغمبر کی دعوت کی نفی کلماتِ الٰہی کی نفی ہے اور اس کی طرف جھوٹ کی نسبت دیتا ہے ۔ اصولی طور پر تکذیبِ پیغمبر تکذیبِ خدا ہے، اس شخص پر جھوٹ باندھنا کہ جو صرف خدا کی طرف سے بات کرتاہے خدا کی ذاتِ پاک پر جھوٹ باندھنا شمار ہوگا ۔ (۱)
جیسا کہ ہم نے متعدد بار کہا ہے قرآن مجید کی مختلف آیات میں لوگوں کو سب سے بڑھ کر ظالم (”اظلم“) قرار دیا گیا ہے حالانکہ ظاہراً ان کے کام آپس میں مختلف ہیں اور ممکن نہیں ہے کہ مختلف کام کرنے والے مختلف گروہوں میں سے ہر ایک کو سب سے بڑھ کر ظالم شمار کیا جائے بلکہ چاہیے کہ ایگ گروہ ستمگر یا ستمگر تر ہوا اور دوسرا ستمگر ترین ہو لیکن جیسا کہ اس سوال کے جواب میں ہم نے بارہا کہا ہے کہ ان تمام اعمال کی بنیاد ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے شرک اور آیات الٰہی کی تکذیب جو کہ سب سے بڑی تہمت ہے ۔
مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد پنجم صفحہ۱۶۰ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔
اس کے بعد قیامت ان کے بُرے مستقبل کو اس طرح بیا ن کیا گیا ہے: اس روز وہ بارگاہِ پروردگار میں اپنے تمام اعمال اور کردار کے ساتھ پیش ہوں گے اور اس کی عدالت میں حاضر ہوں گے (اٴُوْلٰئِکَ یُعْرَضُونَ عَلیٰ رَبِّھِمْ) ۔
”اس وقت اعمال کے شاہد گواہی دیں اور کہیں گے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے عظیم مہربان اور ولیٴ نعمت پروردگار جھوٹ باندھتا تھا (وَیَقُولُ الْاٴَشْھَادُ ھٰؤُلَاءِ الَّذِینَ کَذَبُوا عَلیٰ رَبِّھِمْ) ۔
اس کے بعد کھلے بندوں کہیں گے: ظالموں پر خدا کی لعنت ہو (اٴَلَالَعْنَةُ اللهِ عَلَی الظَّالِمِینَ) ۔
اس بارے میں کہ شاہد خدائی فرشتے ہیں کہ یا اعمال لکھنے پر مامور مَلک ہیں یا انبیاء ہیں ، مفسّرین نے مختلف احتمالات ذکر کئے ہیں لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے قرآن کی دوسری آیات میں انبیاء الٰہی کا تعارف اعمال کے شاہدین کے طور پر کروایا گیا ہے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں بھی وہی مراد ہیں یا اس سے وسیع تر مفہوم مراد ہے جس میں دیگر گواہ بھی شامل ہیں ۔
سورہٴ نساء کی آیت ۴۱ میں ہے:
<فَکَیْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اٴُمَّةٍ بِشَھِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلیٰ ھٰؤُلَاءِ شَھِیدًا>
ان کا کیا حال ہوگا جب اس دن ہم ہر امّت کے لئے ان کے اعمال کے گواہ بلائیں گے اور تجھے ان پر گواہ قرار دیں گے ۔
حضرت مسیح(علیه السلام) کے بارے میں سورہٴ مائدہ کی آیت ۱۱۷ میں ہے:
<وَکُنتُ عَلَیْھِمْ شَھِیدًا مَا دُمْتُ فِیھِمْ>
”مَیں جب تک اپنے پیروکاروں کے درمیان تھا ان کے اعمال پر گواہ تھا ۔
نیز اس سلسلے میں کہ ”اٴَلَالَعْنَةُ اللهِ عَلَی الظَّالِمِینَ“ کہنے والا خدا ہے یا گواہ ہیں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن ظاہر آیت یہ ہے کہ بات گواہوں کی گفتگو کے تسلسل میں ہے ۔
بعد والی آیت ظالموں کی صفات تین ظالموں کی صفات تین جملوں میں بیان کی گئی ہیں ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ ایسے افراد ہیں جو لوگوں کو مختلف ذریعوں سے راہِ خدا سے روکتے ہیں (الَّذِینَ یَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ) ۔ ایسا وہ کبھی شک وشبہ پیدا کرکے کرتے ہیں، کبھی دھمکی سے کام لیتے ہیں اور کبھی لالچ دے کر مقصد حاصل کرتے ہیں اور ان سب کا امور کا ہدف ایک ہی ہے اور وہ راہِ خدا سے روکنا ۔
دوسرا یہ کہ وہ خاص طور پر کوشش کرتے ہیں کہ خدا کی راہِ مستقیم کو ٹیڑھا کرکے دکھائیں (وَیَبْغُونَھَا عِوَجًا) ۔ یعنی طرح طرح کی تحریفیں کرے، کمی بیشی کرکے، تفسر بالرائے کرکے اور حقائق کو مخفی رکھ کر ایسا کرتے ہیں کہ یہ سیدھا راستہ اپنی اصلی صورت میں لوگوں کے سامنے نہ آئے تاکہ لوگ اس راستے پر نہ جاسکیں اور حق طلب افراد جادہٴ حقیقی کو نہ پہچان سکیں ۔ (2)
نیز یہ کہ وہ قیامت اور روزِ جزا پر ایمان نہیں رکھتے (وَھُمْ بِالْآخِرَةِ ھُمْ کَافِرُونَ) ۔ اور معاد پر ان کا ایمان نہ رکھنا ان کے سب انحرافات اور تباہ کاریوں کا سرچشمہ ہے کیونکہ موت کے بعد اس بڑی عدلات اور وسیع عالم پر ایمان لانے سے قلب وروح کی تربیت ہوتی ہے ۔
یہ بات جاذبِ توجہ ہے کہ یہ تمام امور ”ظلم“ کے مفہوم میں جمع ہیں کیونکہ اس لفظ کے وسیع مفہوم میں ہر قسم کا انحراف اور اشیاء، اعمال، ثفات اور عقائد کو ان کی حقیقی جگہ سے تبدیل کردینا شامل ہے ۔
لیکن بعد والی آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ ان سب چیزوں کے باوجود ”ایسا نہیں ہے کہ وہ روئے زمین پر خدا کی سزا اور عذاب سے فرار حاصل کرسکیں اور اس کی قدرت کی قلمرو سے نکل سکیں گے“ (اٴُوْلٰئِکَ لَمْ یَکُونُوا مُعْجِزِینَ فِی الْاٴَرْضِ) ۔
”اسی طرح وہ خدا کے علاوہ اپنے لئے کوئی حامی ومددگار نہیں پاسکتے“ (وَمَا کَانَ لَھُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ اٴَوْلِیَاءَ) ۔
آخر میں ان کی سنگین سزا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے: ان کا عذاب کئی گُنا ہوجائے گا (یُضَاعَفُ لَھُمَ الْعَذَابُ) ۔ کیونکہ وہ خود بھی گمراہ، گناہگار اور تباہکار تھے اور دوسرے کو بھی انہی راہوں کی طرف کھینچتے تھے، اس بناء پر وہ اپنے گناہ کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائیں گے اور دوسرں کے گناہوں کا بھی (جبکہ ان دوسرے گناہ کرنے والوں کی سزا میں بھی کمی نہیں ہوگی) ۔
اس مفہوم پر قرآن کی دوسری آیات شاہد ہیں، مثلاً :
<وَلَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَھُمْ وَاَثْقَالاً مَعَ اَثْقَالِھِمْ>
روزِ قیامت وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اور ان کے ساتھ دوسرے بوجھ اور گناہ اپنے دوش پر اٹھائیں گے ۔ (عنکبوت/۱۳)
نیز بہت سی روایا ت میں ہے کہ جو شخص کسی بُری سنت کی بنیاد رکھے گا اس بُری سنت پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کا ”عذر“ اورگناہ اس کے کھاتے میں لکھا جائے اور اسی طرح جو شخص کسی اچھی نیت سنت کی بنیاد رکھے گا اس پر عمل کرنے والے لوگوں کی جزا کے برابر ثواب اس کے لئے لکھا جائے گا ۔
آیت کے آخر میں ان کی بدبختی کی اصل بنیاد کا ذکر یوں کیا گیا ہے: ان کے پاس سننے والا کان ہے نہ دیکھنے والی آنکھ (مَا کَانُوا یَسْتَطِیعُونَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوا یُبْصِرُونَ) ۔ در حقیقت جب یہ دونوں وسائل حقائق کو سمجھنے سے قاصر ہوجاتے ہیں تو وہ خود بھی گمراہی میں گرجاتے ہیں اور دوسروں کوبھی گمراہی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں کیونکہ کھلی آنکھ اور گوشِ شنوا کے بغیر حق وحقیقت کو نہیں سمجھا جاسکتا ۔
یہ امر توجہ طلب ہے کہ اس جملے میں ہے کہ وہ (حق بات) سننے کی طاقت نہیں رکھتے، یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے لئے حق باتوں کا سننا اس قدر بوجھل ہے کہ گویا وہ اسے سننے کی طاقت ہی نہیں رکھتے، یہ تعبیر بعینہ ایسے ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ عاشق اپنے معشوق کی برائی نہیںسن سکتا ۔
واضح ہے کہ حقائق فہمی کی اس طرح سے طاقت نہ ہونا، اس کی سخت ہٹ دھرمی اور حق دشمنی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اب ان کی مسئولیت ختم ہوگئی ہے، اصطلاح میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ وہی چیز ہے جس کے اسباب انھوںنے خود مہیّاکیے ہیں جبکہ و ہ طاقت رکھتے تھے کہ اس حالت کو اپنے سے دُور رکھیں کیونکہ سبب پر قدرت رکھنا مسبب پر قدرت رکھنے کے مترادف ہے ۔
بعد والی آیت میں ان کی غلط مساعی کو ایک ہی جملہ میں بیان کیا گیا ہے: یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے وجود کا سرمایہ گنوا بیٹھے اور خسارے میں رہے (اٴُوْلٰئِکَ الَّذِینَ خَسِرُوا اٴَنفُسَھُمْ) ۔ اور یہ عظیم ترین گھاٹا ہے جو انسان کو دامن گیر ہوسکتا ہے وہ اپنی ہستی ہی گنوا بیٹھے ۔
اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: ”انھوں نے جھوٹے معبودوں سے دل لگالیا ہے ’لیکن آخر کا ریہ سب بناوٹی معبود گم ہوگئے اور ان کی نظر سے محو ہوگئے“ (وَضَلَّ عَنْھُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ)
زیر بحث آخری آیت میں ان کے انجام کے بارے میں یقینی اور آخری حکم کو قطعی صورت میں اس طرح سے بیان کیا گیا ہے: ناچار وہ آخرت کے گھر میں سب سے زیادہ نقصان میں ہوں گے (لَاجَرَمَ اٴَنَّھُمْ فِی الْآخِرَةِ ھُمَ الْاٴَخْسَرُونَ) ۔ کیونکہ وہ دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان سے بھی محروم ہوگئے ہیں ۔ اپنے انسانی وجود کا تمام سرمایہ گنوا بیٹھے ہیں اور اس حالت میں اپنا بارِ مسئولیت بھی اٹھائے ہوئے ہیں اور دوسروں کی ذمہ داری بھی اٹھائے ہوئے ہیں ۔
”جرم“ (بروزن ”حرم“) اصل میں درخت سے پھل چننے کے معنی میں ہے (جیسا کہ مفردات میں راغب نے ذکر کیا ہے) بعد ازاں یہ لفظ ہر قسم کے اکتساب اور تحصیل امر کے لئے استعمال ہونے لگا اور نامناسب کسب کا مفہوم پیدا ہوگیا، اسی لئے گناہ کو جرم کہا جاتا ہے لیکن جب یہ لفظ ”لا“ کے ساتھ کسی جملے کی ابتداء میں ”لاجرم“ کی صورت میں آئے تو پھر یہ معنی دیتا ہے کہ ”کوئی چیز اس امر کی نہیں روک سکتی“ اسی لئے ”لاجرم“ ناچار ”یقیناً“ اور ”مسلماً کے معنی میں استعمال ہوتا ہے (غور کیجئے گا) ۔
..............
۱۔ یہ جو بعض مفسّرین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ اس جملے سے مراد اُن لوگوں کو جواب دینا ہے جو کہتے ہیں کہ پیغمبر الله تعالیٰ پر افتراء باندھتا ہے، بہت بعید ہے کیونکہ پہلے والے اور بعد کی آیات اس ترتیب سے مناسبت رکھتیں بلکہ مناسب یہی ہے کہ یہ کفار کی طرف اشارہ ہے ۔
2۔ ”عوج“ کا معنی کجی اور ٹیڑھ پن ہے، اس سلسلے میں جلد۶ صفحہ۱۶۱ (اردو ترجمہ) پر ہم تشریح کرچکے ہیں، ضمنی طور پر توجہ رہے کہ ”یبعغونھا“ کی ضمیر سبیل کی طرف لوٹتی ہے جو موٴنث مجازی ہے یا یہ طریقہ اور جادہ کے معنی میں ہے جو موٴنث لفظی ہیں سورہٴ یوسف کی آیت ۱۰۸ میں ہے:<قُل ھٰذِہِ سَبِیلِیْ اَدْعُو اِلَی اللهِ>