تفسیر نمونہ جلد 09
 

۷ وَھُوَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ فِی سِتَّةِ اٴَیَّامٍ وَکَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَاءِ لِیَبْلُوَکُمْ اٴَیُّکُمْ اٴَحْسَنُ عَمَلًا وَلَئِنْ قُلْتَ إِنَّکُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُولَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ ھٰذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُبِینٌ

ترجمہ
۷۔ وہ ایسی ذات ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دِنوں (چھ ادوار) میں خلق کئے اور اس کا عرش (قدرت) پانی پر ہے (اور یہ اس لئے پیدا کیا) تاکہ تمھاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کس کا عمل بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ موت کے بعد دوبارہ مبعوث ہوگے (اور قبروں سے اٹھوگے) تو یقیناً کافر کہیں گے کہ یہ کھُلا جادو ہے ۔

مقصدِ خلقت
اس آیت میں تین اساسی نکات پر بحث کی گئی ہے، اوّل جہانِ ہستی کی آفرینش، خصوصاً آغاز آفرینش کہ جو پروردگار کی قدرت کی نشانی اور اس کی عظمت کی دلیل ہے، ”وہ ایسی ذات ہے جس نے آسمان اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا“ (وَھُوَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ فِی سِتَّةِ اٴَیَّامٍ) ۔
اس وضاحت کی ضرورت نہیں کہ یہاں دن سے مراد چوبیس گھنٹے والا دن ہے اس لئے کہ جس زمانے کی بات ہورہی ہے اس وقت زمین وآسمان وجود میں آئے تھے نہ کرہٴ ارض تھا اور نہ ہی اس کی اپنے گرد چوبیس گھنٹوں کی گردش، بلکہ جیسا کہ پہلے کہاجاچکا ہے اس سے مراد ایک ”دورانیہ“ ہے اب خواہ یہ دورانیہ چھوٹا ہو یا بہت طویل اور کروڑوں سالوں پر مشتمل ہو، سورہٴ اعراف کی آیت ۵۴ کے ذیل میں اس بات کی جامع اور مفصل تشریح بیان کی جاچکی ہے لہٰذا تکرار کی ضرورت نہیں ہے ۔ (۱)
نیز وہاں ہم نے یاددہانی کروائی تھی کہ خدا قدرت وطاقت رکھتا تھا کہ تمام عالم کو ایک ہی لحظہ میں پیدا کرے لیکن متواتر اور پے درپے چھ ادوار میں اس لئے پیدا کیا ہے کہ یہ تدریجی خلقت جو ہر وقت رنگِ نو اور چہرہ تازہ دکھاتی ہے ، قدرت وعظمتِ خداوندی کو بیشتر اور بہتر انداز میں متعارف کرواتی ہے ۔
خدا چاہتا تھا کہ اپنی قدرت کو ہزراوں رُخ میں نمایاں کرے ایک ہی رُخ میں نہیں اور اپنی قدرت وحکمت کی پہچان آسان تر اور زیادہ واضح ہو اور اس کی معرفت کے دلائل ماہ و سال صدیوں اور زمانوں کی تعداد کے برابر ہمارے پاس موجود ہیں ۔
پھر فرمایا کہ ”اس (خدا) کا عرش پانی پر تھا“ (وَکَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَاءِ) ۔ اس جملے کی تفسیر سمجھنے کے لئے ان دو الفاظ ”عرش“ اور ”ماء‘’‘ کے مفہوم سے آشنا ہونا چاہیے ۔
”عرش“ دراصل ”چھت“ یا ”چھت نما“ چیز کے معنی میں آیا ہے سلاطینِ گزشتہ کے بلند تختوں کو بھی عرش کہا جاتا ہے، اسی طرح ان بلند دیواروں اور مقامات کو بھی عرش کہتے ہیں جن پر بیل دار پودوں کو چڑھایا جاتا ہے، نیز بعد میں یہ کلمہ ”قدرت“ کے مفہوم میں بھی استعمال ہونے لگا جیسا کہ لفظ تخت فارسی زبان میںاسی استعمال ہواہے ۔
عربی میں کہتے میں :
”فلان استویٰ علیٰ عرشہ، اٴو، تُلّ عرشہ“
یعنی فلان آدمی تخت پر بیٹھا یا اس کا تخت گرگیا ۔
عربی زبان کا یہ کنایہ کہ اسے اقتدار مل گیا یا اس کا اقتدار ختم ہوگیا فارسی زبان میں استعمال ہوتا ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلان شخص کو لوگوں نے تخت پر بٹھادیا ہے یا فلاں کو تخت سے اتاردیا ہے ۔ (۲)
اس نکتہ کی جانب توجہ رکھنا چاہیے کہ بعض اوقات عرش مجموعہ عالمِ ہستی کے معنی میں بھی آیا ہے کیونکہ قدرت کا تخت اس پورے جہاں پر محیط ہے ۔
باقی رہا لفظ ”ماء“ اس کا عام معنی تو پانی ہے لیکن بعض اوقات مائع اور بہنے والی اشیاء مثلاً بہنے والی دھاتوں کو بھی ”ماء“ کہا جاتا ہے ۔
ان دو الفاظ کے تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء خلقت میں جہانِ ہستی پگھلے ہوئے مادّہ یا تہ بہ تہ بہنے والی گیس کی شکل میں تھا جس کے بعد اس مانندِ آب ٹکڑے میں سخت مدّ وجزر اورشکست وریخت پیدا ہوئی اور اس کے بعض حصّے سطح سے باہر آپڑے، اتصال، پیوستگی اور جدائی کا عمل شروع ہوا اور یکے بعد دیگرے سیّارے، ستارے اور منظومے (SILAR SYSTEMS) تشکیل پانے لگے، اس لئے جہانِ ہستی اور قدرت کا تخت سب سے پہلے پانی کی مانند (مثل آبگینہ) اس عظیم مادّہ پر قرار پایا ۔
سورہٴ انبیاء کی آیت ۳۰ میں بھی اسی طرف اشارہ ہوا ہے:
<اٴَوَلَمْ یَرَی الَّذِینَ کَفَرُوا اٴَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاھُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ>
”کیا وہ جو خدا کا انکار کرتے ہیں علم ودانش کی آنکھ سے اس حقیقت کو نہیں دیکھتے کہ آسمان وزمین ابتدا میں ایک دوسرے سے پیوست تھے پھر ہم نے انھیں جدا کیا اور ہر زندہ موجود کو ہم نے پانی سے خلق کیا“
نہج البلاغہ کے خطبہ اوّل میں بھی اسی معنی کی طرف واضح اشارے ملتے ہیں ۔
دوسرا مطلب جس کی طرف مندرجہ بالا آیت اشارہ کرتی ہے، وہ جہانِ ہستی اور عالمِ وجود کی خلقت کا ہدف ومقصد ہے، وہی ہدف کہ جس کا اہم ترین حصّہ اس جہان کا گل سرسبد یعنی انسان ہے، وہ انسان کہ جسے تعلیم وتربیت کی راہ اپنانا اور تکامل وارتقاء کی طرف بڑھنا چاہیے تاکہ وہ ہر لمحہ خدا کے قریب ہوتا جائے ۔
خداوندعالم فرماتا ہے، باعظمت خلقت اس لئے معرضِ وجود میں آئی تاکہ تمھاری آزمائش کرے اور دیکھے کہ تم میں سے کون اعمالِ حسنہ انجام دیتا ہے (لِیَبْلُوَکُمْ اٴَیُّکُمْ اٴَحْسَنُ عَمَلًا) ۔
”لِیَبْلُوَکُمْ“مادہ ”بلاء وابتلاء“ سے آزمائش کے معنی میں ہے، جیسا کہ قبل ازیں اشارہ کیا گیا ہے کہ خدا کی طرف سے آزمائش کشفِ ا ۔حوال اور لوگوں کی داخلی، روحانی اور فکری وضعیت وکیفیت معلوم کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ پرورش اور تربیت کرنے کے لئے ہے (اس موضوع کی تفصیل تفسیر نمونہ جلد اوّل سورہٴ بقرہ کی آیت۱۵۵ کے ذیل میں بیان ہوچکی ہے)
توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ اس آیت میں انسان کی قدر وقیمت کو اس کے ”حسنِ عمل“ سے مربوط کیا گیا ہے نہ کہ اس کے کثرتِ عمل سے، یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام ہر جگہ کیفیتِ عمل پر نظر رکھتا ہے کثرت وکمیّت اور مقدار پر نہیں ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اسی سلسلہ میں ایک حدث نقل ہوئی ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
لیس یعنی اکثر عملاً ولٰکن اٴصوبکم عملا، وانّما الاصابة خشیة الله، والنیة الصادقة، ثمّ قال الابقاء علی العمل حتّی یخلص اشد من العمل، والعمل الخالص، الذی لاترید اٴن یحمدک علیہ اٴحد الّا الله عزّوجل.
خدا کثرتِ عمل نہیں چاہتا بلکہ عمل کی درستی چاہتا ہے اور درستی عمل خدا ترسی اور نیک نیّتی سے مربوط ہے ۔
اس کے بعد فرمایا:
عمل کو ریاکاری اور بد نیّتی کی آلودگیوں سے پاک رکھنا خود عمل سے کہیں زیادہ مشکل تر ہے اور عملِ خالص خالص یہ ہے کہ تُو نہ چاہے کہ خدا کے سوا کوئی اور تیری (اس عمل پر) ستائش کرے ۔
تیسرا موضوع جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے ”معاد“ ہے جو آفرینش جہاں کے مسئلہ اور ہدف خلقت سے نہ ٹوٹنے والا رشتہ رکھتا ہے کیونکہ خلقتِ عالم کا مقصد انسانوں کا تکامل وارتقاء ہے اور انسانوں کا ارتقاء انھیں ایک وسیع تر اور کامل تر جہاں میں زندگی گزارنے کے لئے تیار کرتا ہے، اسی لئے فرمایا: اگر ان سے کہا جائے کہ تم مرنے کے بعد اٹھائے جاوٴگے تو کافر از روئے تعجب کہتے ہیں کہ اسے باور نہیں کیا جاسکتا اور اس میں کوئی حقیقت وواقعیت نہیں ہے بلکہ یہ ایک واضح جادو ہے (وَلَئِنْ قُلْتَ إِنَّکُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُولَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ ھٰذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُبِینٌ) ۔
”کلمہٴ ”ھذا“ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی معاد وقیامت کے بارے میں گفتگو کی طرف اشارہ ہے یعنی کافروں کے نزدیک پیغمبر کا معاد کے بارے میں یہ دعویٰ جادو ہے اس بناء پر لفظ ”سحر“ یہاں حقیقت سے عاری بے بنیاد گفتگو اور سادہ وعام تعبیر کے مطابق فریب وشعبدہ بازی کے مترادف ہے کیونکہ جادوگر عموماً حقیقت وواقعیت سے عاری چیزیں دکھاتے ہیں لہٰذا لفظ ”سحر“ حقیقت سے خالی چیز کے معنی میں استعمال ہوسکتا ہے ۔
رہا یہ مسئلہ کہ بعض لوگوں کے نردیک ”ھذا“ قرآن مجید کی طرف اشارہ ہے اس لئے کہ قرآن اپنے سننے والوں میں ایک سحر انگیز نفوذ وجذب رکھتا ہے صحیح نظر نہیں آتا، کیونکہ آیت میں بحث معاد وقیامت کے بارے میں ہے نہ کہ قرآن کے متعلق اگرچہ قرآن کی غیر معمولی قوتِ جذب سے انکار نہیں ۔
..............
۱۔ تفسیر نمونہ، ج۶.
۲۔ البتہ بعض اوقات تخت کرسی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اس کا ایک دوسرا مفہوم ہے جسے ہم نے تفسیر نمونہ جلد۲، سورہٴ بقرہ میں آیت الکرسی کے ذیل میں ذکر کیا ہے ۔

۸ وَلَئِنْ اٴَخَّرْنَا عَنْھُمَ الْعَذَابَ إِلیٰ اٴُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ لَیَقُولُنَّ مَا یَحْبِسُہُ اٴَلَایَوْمَ یَاٴْتِیھِمْ لَیْسَ مَصْرُوفًا عَنْھُمْ وَحَاقَ بِھِمْ مَا کَانُوا بِہِ یَسْتَھْزِئُون
۹ وَلَئِنْ اٴَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاھَا مِنْہُ إِنَّہُ لَیَئُوسٌ کَفُورٌ
۱۰ وَلَئِنْ اٴَذَقْنَاہُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْہُ لَیَقُولَنَّ ذَھَبَ السَّیِّئَاتُ عَنِّی إِنَّہُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ
۱۱ إِلاَّ الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلٰئِکَ لَھُمْ مَغْفِرَةٌ وَاٴَجْرٌ کَبِیرٌ

ترجمہ
۸۔ اور اگر عذاب کو ایک محدود وقت کے لئے ان سے ٹال دیں (تو بطور استہزا) کہتے ہیں کہ اس میں کون سی رکاوٹ ہے؟ آگاہ رہو جس دن اس کی طرف سے عذاب آئے گا تو کوئی چیز اس کے آگے رکاوٹ نہیں بنے گی اور جس کا مذاق اڑاتے تھے وہی انھیں دامنگیر ہوجائے گا ۔
۹۔ اور اگر انسان کو ہم نعمت شکر کا مزہ چکھانے کے بعد وہ (نعمت) اس سے واپس لے لیں تو بہت ہی ناشکر اور ناامید ہوجاتا ہے ۔
۱۰۔ اور اگر شّدتِ ناراحتی کے بعد اس تک نعمتیں پہنچائیں تو کہتا ہے کہ مشکلات مجھ سے برطرف ہوگئی ہیں جو دوبارہ نہیں آئیں گی اور خوشی، غفلت اور فخر میں مستغرق ہوجاتا ہے ۔
۱۱۔ مگر وہ لوگ جنھوں نے (سچّے ایمان کے سائے میں) صبرو استقامت دکھائی اور عملِ صالح انجام دیئے ہیں ان کے لئے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے ۔

مومن عالی ظرف اور بے ایمان کم ظرف ہوتے ہیں
ان آیات میں اس بحث کی مناسبت سے کہ جو بے ایمان افراد کے بارے میں گزرچکی ہے، ایسے افراد کے نفسیاتی حالات اور اخلاقی کمزوریوں کے بعض نکات کی تشریح ہوئی ہے، وہی کمزور گوشے جو انسان کو تاریکیوں اور فساد کی راہوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں ۔
ایسے افراد کی پہلی صفت جو ذکر کی گئی ہے وہ حقائق کا مذاق اڑانا اور حیات ساز مسائل کے بارے میں تمسخر کرنا ہے وہ جہالت ونادانی اور غرور وتکبر کی وجہ سے جس وقت خدائی نمائندوں کو، بدکاروں کی سزا کے بارے میں ڈراتے دھمکاتے ہیں، جبکہ چند روز گزرنے کے باوجود خدا اپنے لطف وکرم سے ان کے عذاب اور سزا کو تاخیر میں ڈال دیتا ہے تو بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی سے کہتے ہیں، کس چیز نے اس خدائی عذاب اور سزا کو تاخیر میں ڈال دیا ہے؟ کیا ہُوا اس سزا کا اور کہاں گیا وہ عذاب؟ (وَلَئِنْ اٴَخَّرْنَا عَنْھُمَ الْعَذَابَ إِلیٰ اٴُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ لَیَقُولُنَّ مَا یَحْبِسُہُ) ۔
”امت“ مادہ ”ام“ (بروزن قم) سے ماں کے معنی میں آیا ہے جس کا معنی در اصل مختلف اشیاء کا ایک دوسرے میں ضم ہوجانا ہے، اسی بناء پر ہر اس گروہ کو جو اپنے ہدف یا ایک ہی زمان ومکان میں جمع ہو، امت کہا جاتا ہے ۔
البتہ یہ لفظ وقت اور زمانے کے معنی میں بھی آیا ہے، کیونکہ زمانے کے اجزاء باہم پیوست ہوتے ہیں یا اس بناء پر کہ ہر جماعت یا گروہ کسی نہ کسی زمانے میں زندگی گزارتا ہے، سورہٴ یوسف کی آیت ۴۵ میں ہے:
<وَادَّکَرَ بَعْدَ اٴُمَّةٍ>
آزاد شدہ قیدی ایک مدت کے بعد یوسف کو یاد کرنے لگا ۔
زیرِ بحث آیت میں لفظ ”امت“ انھیں معنی میں آیا ہے ، لہٰذا لفظ ”معدودہ“ سے توصیف کیا گیا ہے یعنی اگر تھوڑی مدت کے لئے ان سے عذاب موٴخر کردیا جائے تو کہتے ہیں کہ کونسی چیز اس سے مانع ہوئی ہے ۔
پس یہ شیوہ اور طریقہ تمام مغرور اور جاہلوں کا ہے جو چیز ان کے میلانات سے مطابقت نہ رکھے وہ ان کی نگاہ میں مذاق ہے، اسی لئے وہ مردانِ حق کی ہلادینے اور بیدار کرنے والی دھمکیوں کوشوخی اور مذاق سمجھتے ہیں لیکن قرآن مجید ان کو صراحت کے ساتھ جواب دیتا ہے: ”آگاہ رہو جس دن خدائی عذاب آن پہنچا کوئی اسے روک نہیں سکے گی اور جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ (عذاب) ان پر نازل ہوگا اور انھیں تباہ کردے (اٴَلَایَوْمَ یَاٴْتِیھِمْ لَیْسَ مَصْرُوفًا عَنْھُمْ وَحَاقَ بِھِمْ مَا کَانُوا بِہِ یَسْتَھْزِئُون) ۔
یہ درست ہے کہ اس وقت ان کا نالہ وفریاد آسمان تک بلند ہوگا اور اپنی شرم انگیز گفتگو سے پشیمان ہوں گے لیکن نہ وہ نالہ وفریاد کہیں پہنچے کا اور نہ وہ پشیمانی انھیں کوئی فائدہ پہنچائے دے گی ۔
ان کمزوری کا ایک اور نکتہ، مشکلات وناراحتیوں اور برکات الٰہی کے منقطہ ہونے پر ان کی کم ظرفی ہے جیسا کہ بعد والی آیت میں آیا ہے : اور جس وقت کسی نعت اور رحمت کا مزہ ہم انسان کو چکھائیں گے اور پھر وہ اس سے واپس لے لیں تو وہ مایوس اور ناامید ہوجاتا ہے اور کفرانِ نعمت اور ناشکری پر اٹھ کھڑا ہوتا ہے ( وَلَئِنْ اٴَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاھَا مِنْہُ إِنَّہُ لَیَئُوسٌ کَفُورٌ) ۔
اگرچہ اس آیت میں گفتگو انسان کے بارے میں بطور کلی آئی ہے لیکن جیسا کہ ہم نے پہلی بھی اشارہ کیا ہے کہ لفظِ ”انسان“ سے اس قسم کی آیات میں غیر ترتیب یافتہ، خود غرض اور ناکارہ انسانوں کی طرف اشارہ ہے، اس بناء پر یہ بحث گزشتہ آیات میں بے ایمان افراد کے متعلق بحث پر منطبق ہوتی ہے ۔ۺ
بے ایان افراد کی کمزوری کا تیسرا نکتہ یہ ہے کہ جس وقت نازونعمت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں تو ان پر تکبّر اور غرور اور نفس پرستی اس قدر چھائی ہوتی ہے کہ سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔
جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: اور مشکلات وتکالیف اب مجھ سے دور ہوگئی ہیں جو کبھی دوبارہ نہ آئیں گی ۔ اور یوں وہ پروردگار کی نعمتوں کے شکرانے سے غافل ہوجاتا ہے (وَلَئِنْ اٴَذَقْنَاہُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْہُ لَیَقُولَنَّ ذَھَبَ السَّیِّئَاتُ عَنِّی إِنَّہُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ) ۔
اس آیت کے جملہ ”ذَھَبَ السَّیِّئَاتُ عَنِّی“ میں ایک دوسرا احتمال بھی پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ جب اس طرح کے لوگ شدائد ومشکلات کو نعمتوں سے بدل دیتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ مصائب ہمارے گناہوں کا گفارہ تھے ۔ اب ہمارے گناہ ان کی وجہ سے دھل گئے ہیں اور ہم پاک وپاکیزہ ہوگئے ہیں اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ مقربان درگاہِ خدا ہوچکے ہیں توبہ اور اس خدا کی بارگاہ میں بازگشت کے تصوّر سے عاری ہوجاتے ہیں ۔
پس فرمایا: صرف صاحبان ایمان کہ جنھوں نے زندگی کے شدائد اورسخت حوادث کے مقابلے میں صبر واستقامت کا اختیار کیا اور جو ہر حال میں اعمالِ صالح بجالانے میں کوتاہی نہیں کرتے، تنگ نظری، ناشکرگزاری اور غرور وتکبر سے کنارہ کش ہیں جو نہ تو وفورِ نعمت کے وقت مغرور ہوتے اور خدا کو فراموش کرتے ہیں اور نہ ہی شدِّت ِ مصائب کے وقت مایوسی اور کفرانِ نعمت کرتے ہیں بلکہ ان کی عظیم روح اور بلند فکر نعمت وبلا دونوں کو برداشت کرتی ہے، وہ یاد خدا اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہوتے، یہی لوگ خدا کے مقرب بندے ہیں اور انہی کے لئے بخشش اور بہت بڑا اجر ہے (إِلاَّ الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلٰئِکَ لَھُمْ مَغْفِرَةٌ وَاٴَجْرٌ کَبِیرٌ) ۔

چند توجّہ طلب نکات

۱۔ امتِ معدودہ اور یارانِ مہدی علیہ السلام:
وہ متعدد روایات جو طریق اہلِ بیت(علیه السلام) سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں ”امت معدودہ“ سے مراد بہت تھوڑے افراد اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے یار وانصار کی طرف اشارہ سمجھا گیا ہے، لہٰذا اس ترتیب سے پہلی آیت کا مطلب اس طرح ہوگا: اگر ہم ستمگروں اور بدکاروں کی سزا وعذاب حضرت مہدی(علیه السلام) اور ان کے یاروانصار کے قیام تک ملتوی کردیں تو وہ (منکرین) کہتے ہیں کہ کس چیز نے عذابِ خدا کو روک رکھا ہے ۔
لیکن جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں آیت کے ظاہری معنی میں ”امتِ معدودہ“ محدود ومعیّن زمانہ کے معنی میں آتا ہے اور امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے بھی اس آیت کی تفسیر میں جو روایت نقل ہوئی ہے اس میں ”امت معدودہ“ کی یہی تفسیر بیان ہوئی ہے ۔
بنابریں ممکن ہے منقولہ روایت آیت کے دوسرے معنی یا بطن آیت کی طرف اشارہ ہو، البتہ اس صورت میں ظالموں اور ستمگروں کے بارے میں ایک قانون کلّی کا بیان ہوگا نہ کہ زمانہٴ پیغمبر اکرم کے مشرکین اور مجرموں سے مربوط مسئلہ ہوگا، نیز ہم جانتے ہیں کہ قرآن کی آیات مختلف معانی رکھتی ہیں، ممکن ہے اس کا پہلا اور ظاہری مطلب کسی خاص مسئلہ یا گروہ سے متعلق ہو، لیکن اس کا دوسرا معنی ایک عام معنی ہو جو کسی زمانہ یا گروہ میں منحصر نہ ہو۔

۲۔ کوتاہ فکری کے چار مظاہر
مندرجہ بالا آیت نے مشرکین اور گنہگاروں کے روحانی وباطنی حالات کی تین صورتوں میں تصویر کشی کی ہے اور ان میں ان کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں ۔
اوّلین یہ کہ وہ نعمتوں کے منقطع ہونے کی صورت میں ”یَئُوس“ یعنی بہت ہی ناامید ہوجاتے ہیں اور دوسرے یہ کہ ”کفور“ یعنی بہت ہی ناشکرے ہیں ۔
اس کے بر عکس جب وہ نعمت میں مستغرق ہوتے ہیں یہاں تک کہ اگر چھوٹی سی نعمت بھی ان تک پہنچتی ہے تو وہ خوشی میں اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں اور لذّت ونشاط میں غرق ہوکر ہر چیز سے غافل ہوجاتے ہیں، بادہٴ لذّت وغرور کی یہ سرمستی انھیں فتنہ وفساد اور حدود الله سے تجاوز کی طرف کھینچ لے جاتی ہے ۔
مزید برآں ایسے لوگ ”فخور“ یعنی نعمت کے حصول پر بہت متکبر اور مباہات کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
بہر کیف یہ چار صفات کوتاہ فکری اور کم ظرفی کی بناپر معرض وجود میں آتی ہیں اور یہ بے ایمان اور گناہگار افراد کے کسی ایک گروہ سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ سب کے لئے عمومی اوصاف کے ایک سلسلہ میں سے ہیں ۔
البتہ صاحبِ ایمان لوگ جو بلند فکر، اعلیٰ ظرف، کشادہ دل اور عظیم روح کے حامل ہوتے ہیں انھیں نہ زمانہ کی دگرگونیاں لرزاتی ہیں نہ نعمتوں کا چھن جانا انھیں شکری ومایوسی کی طرف کھینچ لے جاتا ہے اور نہ ہی نعمتوں کا ان کی طرف رُخ کرنا انھیں غرور وغفلت میں مبتلا کرتا ہے ۔
اسی لئے آیت میں استثنائی صورتِ حال کے پیش نظر لفظ ایمان کے بجائے صبر واستقامت استعمال کیا گیا ہے (غور طلب نکتہ ہے) ۔

۳۔ کم ظرفی کی انتہا
ایک اورنکتہ جو توجہ طلب ہے یہ ہے کہ دونوں مواقع (عطا کے بعد نعمت کے سلب ہونے اور سلب کے بعد عطا ہونے) کے لئے ”اذقنا“ جو مادہ ”اذاقة“ سے چکھنے کے معنی میں آیا ہے، کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اس قدر کم ظرف ہیں کہ اگر تھوڑی سی نعمت انھیں دی جائے اور پھر اسے ان سے لے لیا جائے تو ان کی داد وفریاد اور ناشکری کی صدا بلند ہوتی ہے اور اگر تکلیف وناراحتی کے بعد ذرا سی نعمت انھیں مل جائے تو فرط وانبساط میں سرکے بل دوڑتے ہیں ۔

۴۔ تمام نعمات عطیہ وبخشش ہیں
یہ امر توجہ طلب ہے کہ پہلی آیت میں نعمت کو لفظ ”رحمت“ سے بیان کیا گیا ہے اور دوسری آیت میں لفظ ”نعمت“ استعمال ہوا ہے، ممکن ہے اس سے یہ اشارہ ہو کہ خدا کی تمام نعمتیں اس کے فضل ورحمت کے ذریعے انسان تک پہنچتی ہیں نہ کہ استحقاق کی بنیاد پر اور اگر نعمتیں استحقاق کی بنیاد پر میسّر ہوتیں تو بہت ہی تھوڑے لوگوں کو میسّر ہوتیں نہ کہ کسی شخص کو میسر آتیں ۔

۵۔ اعمالِ نیک کے اثرات
اعمالِ نیک کے دو اثرات ذکر ہوئے ہیں، زیرِ نظر آخری آیت میں باایمان، صاحب استقامت اور صالح افراد سے ”مغفرت“ اور بخشش گناہ کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور ”اجرِ کبیر“ کا بھی، یہ اس جانب اشارہ ہے کہ نیک اعمال کے دو اثر ہیں ایک گناہوں کا دھل جانا اور دوسرا بڑی جزا کا حاصل ہونا ۔