تفسیر نمونہ جلد 09
تفسیرنمونه ، آیه الله العظمی مکارم شیرازی (مدظله العالی) کی 15 ساله زحمات کا نتیجه ہے جس کو معظم له نے اہل قلم کی ایک جماعت کی مدد سے فارسی زبان میں تحریر فرمایا ، اس کا اردو اور عربی زبان میں ترجمه ہو کر شایع ہوچکا ہے.
تعداد جلد: 15جلد
زبان: اردو
مترجم : مولانا سید صفدر حسین نجفی (رح)
تعداد صفحات: 710
تاریخ اشاعت: ربیع الثانی 1417هجری
سورہ هود
مضامین اور فضیلت
مفسرین میں مشہور ہے کہ تمام سورہ مکّہ میں نازل ہوئی ۔”تاریخ القرآن“ کے مطابق یہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم پر نازل ہونے والی انچاسویں سورت ہے ۔ بعض مفسّرین کی تصریح کے مطابق یہ سورة ان آخری سالوں میں نازل ہوئی جب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم مکّہ میں تھے ۔ یعنی حضرت ابوطالب(علیه السلام) اور حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد لہٰذا فطرتاً پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی زندگی کا ایک سخت ترین دور تھا اس بنا پر اس کہ اس زمانے میں دشمن کا دباؤ اور اس کا زہریلا پروپیگنڈا ہر دور سے زیادہ محسوس ہوتا تھا ۔ اس سورة کی ابتدا میں ایسی تعبیریں نظر آتی ہیں جو پیغمبر اکرمصلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور مومنین کی دل جوئی اور تسلّی کا پہلو رکھتی ہیں ۔
اس سورة کی آیات کا اہم اور بیشتر حصّہ گزشتہ انبیاء خصوصاً حضرت نوح علیہ السلام کی سرگزشت جہاں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور مومنین کے لیے تسلی اور سکون قلب کا باعث تھا وہاں ان کے طاقتور دشمنوں کے لیے درسِ عبرت بھی تھا ۔
اس سورة کی آیات باقی مکی سورتوں کی طرح معارف اسلامی کے اصولوں خصوصاً شرک و بت پرستی سے مبارزہ، بعد از موت کے معاملات اور دعوتِ پیغمبر اسلام کی صداقت کی تشریح پر مبنی ہیں ۔ ان مباحث میں دشمنوں کو شدید انجام سے ڈرایا گیا ہے اور مومنین کو استقامت و پامردی کی تاکید کی گئی ہے ۔
حضرت نوح علیہ السلام کے حالات اور دشمنوں سے نبرد آزمائی کی تفاصیل کے علاوہ حضرت ہود (علیه السلام)، حضرت صالح(علیه السلام)، حضرت ابراہیم (علیه السلام)، حضرت لوط (علیه السلام) اور حضرت موسیٰ(علیه السلام) کی سرگزشت نیز شرک و کفر اور انحراف و ستم گری کے خلاف وسیع و طویل جنگ کی بابت اشارات بھی اس سورة میں موجود ہیں ۔
اس سورة نے مجھے بوڑھا کردیا
اس سورة کی آیات وضاحت کے ساتھ اس امر کو ثابت کرتی ہیں کہ مسلمانوں کو کبھی دشمنوں کی کثرت اور ان کے شدید حملوں کی وجہ سے میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہیئے بلکہ ہر لمحہ ان کی استقامت و پامردی میں اضافہ ہونا چاہیئے ۔
اسی بناپر ایک مشہور حدیث میں مذکور ہے کہ حضورِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:
شیبتنی سورة ھود
سورہٴ ہود نے مجھے بوڑھا کردیا ۔ (۱)
یا جس وقت آپ کے صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کے چہرہٴ انور پر بڑھاپے کے آثار زیادہ جلدی نمودار ہوگئے ہیں، تو فرمایا:
شیبتنی ھود والواقعہ
سورہٴ ہود اور سورہٴ واقعہ نے مجھے بوڑھا کردیا ۔ (2)
اور بعض روایات میں سورہٴ ”مرسلات، عمّ یتساء لون اور تکویر“ وغیرہ کا اضافہ بھی ہوا ہے ۔ (3)
ابن عباس سے اس حدیث کی تشریح میں منقول ہے:
رسول اللہ پر اس آیت سے زیادہ سخت اور دشوار کوئی اور آیت نازل نہیں ہوئی جس میں فرمایا گیا ہے:
فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَ مَن تَابَ مَعَکَ
یعنی تم اور تمھارے ساتھی اس طرح ثابت قدم رہیں جیسا کہ حکم دیا گیا ۔ (4)
بعض مفسرین سے منقول ہے کہ ایک عالم دین نے رسول اللہ کو خواب میں دیکھا تو آپ سے سوال کیا کہ یہ جو آپ سے مروی ہے کہ ”سورہ ہود نے مجھے بوڑھا کردیا“ کیا اس کا سبب و علت گزشتہ امتوں کی سرگزشت اور ہلاکت بیان کرنا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔ اس سبب ”فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ “ والی آیت تھی ۔ (4)
بہر حال اس سورة میں عالاوہ اس آیت کے، قیامت اور عدالتِ خدواندی میں باز پرس سے مربوط گزشتہ امتوں کی ہلادینے والی سزاؤں سے متعلق اور فتنہ و فساد کے خلاف جنگ کے بارے میں احکام ہیں ۔ یہ سب امور احساسِ مسئولیت پیدا کرتے ہیں ۔ تعجب کی بات نہیں کہ ان ذمہ داریوں کے بارے میں غور و فکر انسان کو بوڑھا کردے ۔
ایک نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا ضروری ہےن یہ ہے کہ اس سورة کی بہت سی آیات ان مطالب کی تاکید کرتی ہیں، جو گزشتہ سورة یونس میں آچکے ہیں ۔ خصوصاً اس کا آغاز بعینہ اس کے آغاز جیسا ہے اور بہت سے مواقع پر اس کا مقصد اور ماحول بھی انہی مسائل کی تاکید ہے ۔
..............
۱۔ نور الثقلین جلد دوم، ص۲۳۴.
2۔مجمع البیان اسی سورة کے آیة ۱۱۸ کے ذیل میں ۔
3۔روح المعانی جلد ۱۱ ، ص ۱۷۹۔
4۔مجمع البیان اسی سورة کی آیت ۱۱۲ کے ذیل میں ۔
5۔روح المعانی جلد ۱۱، ص ۱۷۹۔

اس سورة کی معنوی تاثیر
اس سورة کی فضیلت کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے ایک حدیث مروی ہے آپ نے فرمایا:
من قرء ہذہ السورہ اعطی من الاجر والثواب بعد من صدق ھوداً والانبیاء علیھم السلام، ومن کذب بھم، و کان یوم القیامة فی درجة الشھداءٰ وحوسب حساباً یسیراً
جو شخص اس سورہ کی تلاوت کرے اس کی جزا اور ثواب ان اشخاص جیسا ہے جو حضرت ہود(علیه السلام) اور باقی انبیاء پر ان کے جھٹلانے والوں اور منکرین کے مقابلے میں ایمان لائے ۔ ایسا شخص قیامت کے دن شہداء میں سے قرار پائے گا اور اس کا حساب آسان وسہل ہوگا ۔ (۱)
واضح ہے کہ خالی اور خشک تلاوت یہ اثر نہیں رکھتی بلکہ غور و فکر کے ساتھ کی گئی تلاوت ہی عمل کی جانب گامزن کرتی ہے اور یہ بات انسان کو مومنین ماسلف کے نزدیک اور منکرین انبیاء سے دور کردیتی ہے ۔ اسی بناء پر اسے ان میں سے ہر ایک کی تعداد کے برابر جزا ملے گی ۔ فکر و معرفت کے ساتھ اس سورة کی تلاوت کرنے والا قاری چونکہ گزشتہ امتوں کے شہداء کے ساتھ ہم مقصد و یک ہدف ہوگا لہٰذا تعجب نہیں کہ وہ ان جیسا قرار پائے اور اس کا حساب کتاب (روزِ آخرت میں) آسان و سہل ہوجائے ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
جو شخص یہ سورة اپنے پاس لکھ کر رکھے خدا اسے بے حد قوت و طاقت عطا فرمائے گا اور جس کے پاس یہ سورة تحریراً موجود ہو تو وہ جنگ میں دشمن پر غالب آئے گا یہاں تک کہ جو بھی اسے دیکھے گا اس سے خوف کھائے گا ۔ (۲)
اگر چہ راحت طلب اور ظاہری مقاصد اخذ کرنے والے افراد اس قسم کی احادیث سے یہ مطلب نکالتے ہیں کہ صرف قرآن کی تحریر اور نقش کا ہمراہ ہونا ان مقاصد کے حصول کے لیے کافی ہے مگر در حقیقت ان کو اپنے پاس رکھنے سے مراد انھیں ایک دستور العمل اور زندگی کے پروگرام کے طور پر اپنے پاس رکھنا، اسے ہمیشہ پڑھتے رہنا اور ہُوبہُو اس کا اجرا کرنا ہے ۔ لہٰذا یہ بات مسلّم ہے کہ ایسا کرنے سے ہی نصرت و کامیابی کے آثار ظاہر ہوں گے، کیونکہ اس سورة میں استقامت و پامردی، فساد سے نفرت اور ہدف و مقصد سے ہم بستگی کا حکم اور گزشتہ اقوام کی تاریخ و تجربات کا بیشتر حصّہ بیان کیا گیا ہے، ان میں سے ایک مذکورہ واقعہ دشمن پر کامیابی و کامرانی حاصل کرنے کا درس دیتا ہے ۔
..............
۱۔ تفسیر برہان جلد ۲، ص۲۰۶.
۲۔ تفسیر برہان جلد ۲، ص۲۰۶.