قصص القرآن
منتخب از تفسير نمونه
  269

حضرت شعيب عليہ السلام
حضرت شعيب (ع) كى سر زمين''مدين''
يہاں گفتگو قوم شعيب اور اہل مدين كى ہے يہ وہى لوگ ہيں جنہوں نے توحيد كا راستہ چھوڑ ديا تھا اورشرك وبت پرستى كى سنگلاخ زمين ميں سرگرداں ہوگئے تھے يہ لوگ نہ صرف بتوں كو پوجتے تھے بلكہ درہم ودينار اور اپنے مال وثروت كى بھى پرستش كرتے تھے اور اسى لئے وہ اپنے كاروبار اور بارونق تجارت كو نادرستي،كم فروشى اور غلط طريقوں سے آلودہ كرتے تھے _
ابتداء ميں فرمايا گيا ہے :'' مدين كى طرف ہم نے ان كے بھائي شعيب كو بھيجا'' _(1)(2)
مدين (بروزن'' مريم'') حضرت شعيب اور ان كے قبيلے كى آبادى كا نام ہے يہ شہر خليج عقبہ كے مشرق ميں واقع ہے اس كے لوگ اولاد اسماعيل ميں سے تھے مصر، لبنان اور فلسطين سے تجارت كياكرتے تھے_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ ہود آيت 84
(2)جيسا كہ ہم پہلے كہہ چكے ہيں لفظ''اخاھم'' (ان كا بھائي ) اس بناء پر ہے كہ اپنى قوم سے پيغمبروں كى انتہائي محبت كو بيان كيا جائے نہ صرف اس بناء پر كہ وہ افرادان كے گروہ اور قبيلے سے تھے بلكہ اس لئے كہ وہ ان كے خير خواہ اور ہمدرد بھائي كى طرح تھے_
----
270
آج كل شہر مدين كا نام ''معان'' ہے بعض جغرافيہ دانوں نے خليج عقبہ كے درميان سے كوہ سينا تك زندگى بسر كرنے والوں پر مدين كے نام كا اطلاق كيا ہے ،توريت ميں بھى لفظ'' مديان '' آيا ہے ليكن بعض قبائل كے لئے (البتہ ايك ہى لفظ شہراور اہل شہر پر عام طور پر استعمال ہوجاتاہے )

قوم شعيب كى اقتصادى برائياں
اس پيغمبر اور ہمدرو ومہربان بھائي نے جيسا كہ تمام انبياء كا آغاز دعوت ميں طريقہ ہے پہلے انہيں مذہب كے اساسى ترين ركن '' توحيد'' كى طرف وعوت دى اور كہا : اے قوم : ''يكتا ويگانہ خدا كى پرستش كرو، كہ جس كے نے علاوہ تمہارا كوئي معبود نہيں ہے ''_ (1)
اس وقت اہل مدين ميں ايك اقتصادى خرابى شديد طور پر رائج تھى جس كا سر چشمہ شرك اور بت پرستى كى روح ہے اس كى طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا گيا ہے :''خريد وفروخت كرتے وقت چيزوں كا پيمانہ اور وزن كم نہ كرو :''(2)
كم فروشى كے ذريعے فساد اور برائي ، لوگوں كے حقوق غصب كرنے كا فساد اور حقوق پر تجاوز كا فسانہ، معاشرتى ميزان اور اعتدال كو درہم برہم كرنے كا فساد ،اموال اورا شخاص پر عيب لگانے كا فساد _ خلاصہ يہ كہ لوگوں كى حيثيت، آبرو، ناموس اور جان كے حريم پر تجاوز كرنے كا فساد _
'' لاتعشوا'''' فساد نہ كرو'' كے معنى ميں ہے اس بناء پر اس كے بعد ''مفسدين'' كا ذكر زيادہ سے زيادہ تاكيد كى خاطر ہے _
قرآن مجيد ميں موجود آيات سے يہ حقيقت اچھى طرح سے واضح ہوتى ہے كہ توحيد كا اعتقاد اور آئيڈيالوجى كا معاملہ ايك صحيح وسالم اقتصاد كے لئے بہت اہميت ركھتا ہے نيز آيات اس امر كى نشاندہى كرتى ہيں كہ اقتصادى نظام كا درہم برہم ہونا معاشرے كى وسيع تباہى اور فساد كا سرچشمہ ہے _
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ ہود آيت 84
(2)سورہ ہود آيت 84
-------
271
آخر ميں انھيںيہ گوش گزار كيا گيا ہے كہ ظلم وستم كے ذريعے اور استعمارى ہتھكنڈوں سے بڑھنے والى دولت تمہارى بے نيازى اور استغناء كا سب نہيں بن سكتى بلكہ حلال طريقے سے حاصل كيا ہوا جو سرمايہ تمہارے پاس باقى رہ جائے چاہے وہ تھوڑاہى ہو اگر خدا اور اس كے رسول پر ايمان كے ساتھ ہو تو بہترہے _(1)

ہٹ دھرموں كى بے بنياد منطق
اب ہم ديكھتے ہيں كہ اس ہٹ دھرقوم نے اس آسمانى مصلح كى دعوت كے جواب ميں كيا رد عمل ظاہر كيا _
وہ جو بتوں كو اپنے بزرگوں كے آثار اور اپنے اصلى تمدن كى نشانى خيال كرتے تھے اور كم فروشى اور دھوكا بازى سے معاملات ميں بڑے بڑے فائدے اور مفادات اٹھاتے تھے حضرت شعيب كے جواب ميں كہنے لگے: اے شعيب : كيا تيرى نماز تجھے حكم ديتى ہے كہ ہم انہيں چھوڑديں كہ جن كى ہمارے آبائو اجداد پرستش كرتے تھے اور يا اپنے اموال كے بارے ميں اپنى آزادى سے ساتھ دھو بيٹھيںتو تو ايك بردبار حوصلہ مند اور سمجھ دار آدمى ہے تجھ سے يہ باتيں بعيد ہيں _ (2)(3)
اس ظالم اور ستم گر قوم نے جب خود كوشعيب عليہ السلام كى منطقى باتوں كے مقابلے ميں بے دليل ديكھا تو اپنى برائيوں كو جارى و سارى ركھنے كے لئے ان پر تہمتوں كى بوچھاڑكردى _
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ ہود آيت86
(2)سورہ ہود آيت 87
(3)يہاں يہ سوال سامنے آتا ہے كہ انہوں مو حضرت شعيب كى نماز كا ذكر كيوں كيا ؟ بعض مفسرين نے كہا ہے كہ يہ اس بناء پر تھا كہ حضرت شعيب زيادہ نماز پڑھتے تھے اور لوگوں سے كہتے تھے كہ نماز انسان كو برے اور قبيح اعمال سے روكتى ہے ليكن وہ لوگ جو نماز اور ترك منكرات كے رابطے كو نہ سمجھ سكے انہوں نے اس بات كا تمسخر اڑايا اور كہا كہ كيا يہ ذكر واذكار اور حركات تجھے حكم ديتى ہيں كہ ہم اپنے بزرگوں كے طور طريقے اور مذہبى ثقافت كو پائوںتلے روندديں يا اپنے اموال كے بارے ميں اپنا اختيار گنوابيٹھيں_
-----
272
سب سے پہلے وہى پراناليبل جو مجرم اور ظالم لوگ ہميشہ سے خدا كے انبياء پرلگاتے رہے ہيں آپ پر بھى لگايا اور كہا : ''توتو بس پاگل ہے''_ (1)
تيرى گفتگو ميں كوئي منطقى اور مدلل بات دكھائي نہيں ديتى تيرا خيال ہے كہ ايسى باتيں كركے تو ہميں اپنے مال ميں آزادى عمل سے روك دے ،اس كے علاوہ '' تو بھى تو صرف ہمارى طرح كا ايك انسان ہے '' _(2)كيا تو سمجھتا ہے كہ ہم تيرى اطاعت كريں گے آخر تجھے ہم پر كون سى فضيلت اور برترى حاصل ہے_
''تيرے بارے ميں ہمارايہى خيال ہے كہ تو ايك جھوٹا شخص ہے ''_(3)
ان كى يہ گفتگو كيسى تضادات پر مبنى ہے كبھى تو انھيں ايسا جھوٹا اور مفادپرست انسان كہتے تھے جود عوائے نبوت كى وجہ سے ان پر فوقيت حاصل كرنا چاہتاہے اور كبھى انھيں مجنون كہتے تھے ان كى آخرى بات يہ تھى كہ بہت اچھا '' اگر توسچا ہے تو ہمارے سر پر آسمان سے پتھربرسا اور ہميں اس مصيبت ميں مبتلا كردے جس كى ہميں دھمكى دے رہاہے تاكہ تجھے معلوم ہوجائے كہ ہم ايسى دھمكيوں سے نہيں ڈرتے ''_(4)يہ الفاظ كہہ كرانھوں نے اپنى ڈھٹائي اوربے حيائي كى انتہا كردى اور اپنے كفرو تكذيب كا بدترين مظاہرہ كيا _

جناب شعيب(ع) كا جواب
ليكن جنہوں نے ان كى باتوں كو حماقت پرحمل كيا تھا اور ان كى بے عقلى كى دليل قرار دياتھا حضرت شعيب نے ان سے كہا:''اے ميرى قوم :(اے وہ لوگو: كہ تم مجھ سے ہو اور ميں تم سے ہوں اور جو كچھ ميں اپنے لئے پسند كرتا ہوں وہى تمہارے لئے بھى پسند كرتاہوں) اگر خدا نے مجھے واضح دليل وحى اور نبوت دى ہو اوراس كے علاوہ مجھے پاكيزہ روزى اور حسب ضرورت مال ديا ہوتو كيا اس صورت ميں صحيح ہے كہ ميں اس كے فرمان كى مخالفت كروں يا تمہارے بارے ميں كوئي غرض ركھوں اور تمہارا خير خواہ نہ بنوں ''_(5)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت 185
(2)سورہ شعراء آيت 185
(3) سورہ شعراء آيت 186
(4)سورہ شعراء آيت187
(5)سورہ ہود آيت 88
-----
273
اس جملے سے حضرت شعيب يہ كہنا چاہتے ہيں كہ اس كام ميں ميراصرف روحانى ، انسانى اور تربيتى مقصدہے ميں ايسے حقائق كو جانتا ہوں جنہيں تم نہيں جانتے اور انسان ہميشہ اس چيز كا دشمن ہوتاہے جسے نہيں جانتا ہے _
اس كے بعد يہ عظيم پيغمبر مزيد كہتے ہيں :يہ گمان نہ كرنا كہ ميں تمہيں كسى چيز سے منع كروں اور پھر خود اسى كى جستجو ميں لگ جائوں ''_(1)
تمہيں كہوں كم فروشى نہ كرو اور دھوكا بازى اور ملاوٹ نہ كرو ليكن ميں خود يہ اعمال انجام دوں كہ دولت و ثروت اكھٹا كرنے لگوں يا تمہيں تو بتوں كى پرستش سے منع كروں مگر خودان كے سامنے سر تعظيم خم كروں نہيں ايسا ہرگز نہيں ہے _
اس جملے سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ وہ حضرت شعيب پر الزام لگاتے تھے كہ خود يہ فائدہ اٹھانے كا ارادہ ركھتا ہے لہذا وہ صراحت سے اس امر كى نفى كرتے ہيں _
آخر ميں ان سے كہتے ہيں :
''ميرا صرف ايك ہدف اور مقصد ہے اور وہ ہے اپنى قدرت واستطاعت كے مطابق تمہارى اور تمہارے معاشرے كى اصلاح ''_(2)
يہ وہى ہدف ہے جو تمام پيغمبروں كے پيش نطر رہا ہے ،يعنى عقيدے كى اصلاح، اخلاق كى اصلاح، عمل كى اصلاح ، روابط اور اجتماعى نطاموں كى اصلاح _
''اور اس ہدف تك پہنچنے كے لئے صرف خدا سے توفيق طلب كرتا ہوں ''(3)
مشكلات كے حل كے لئے اس كى مدد پر بھروسہ كرتے ہوئے كو شش كرتاہوں اور اس راہ ميں سختياں گوارا كرنے كےلئے اس كى طرف رجوع كرتا ہوں _
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ ہود آيت88
(2)سورہ ہود آيت88
(3)سورہ ہود آيت 88
------
274
اس كے بعد انہيں ايك اخلاقى نكتے كى طرف متوجہ كيا گيا ہے اور وہ يہ كہ اكثر ايسا ہوتا ہے كہ انسان كسى سے بغض وعداوت كى بناء پر يا تعصب اور ہٹ دھرمى سے اپنے تمام مصالح نظر انداز كرديتا ہے اور انجام كو فراموش كرديتا ہے ،چنانچہ حضرت شعيب نے ان سے فرمايا : ''اے ميرى قوم ايسا نہ ہوكہ ميرى دشمنى اور عداوت تمہيں گناہ، عصياں اور سركشى پر ابھارے اور كہيں ايسانہ ہو كہ وہى بلائيں ، مصيبتيں، تكليفيں عذاب اور سزائيں جو قوم نوح ، قوم ہود يا قوم صالح كو پہنچيں وہ تمہيں بھى آليں ،يہاں تك كہ قوم لوط كے شہروں كا زير وزبر ہونا اور ان پر سنگبارى كا واقعہ تم سے كوئي دور نہيں ہے''_(1)
نہ ان كا زمانہ تم سے كوئي دور ہے اور نہ ان كے علاقے تم سے دور ہيں اور نہ ہى تمہارے اعمال اور گناہ ان لوگوں سے كچھ كم ہيں_''مدين'' كہ جو قوم شعيب كا مركز تھا وہ قوم لوط كے علاقے سے كوئي زيادہ فاصلے پر نہيں تھا_ كيونكہ دونوں شامات كے علاقوں ميں تھے_زمانے كے لحاظ سے اگر چہ كچھ فاصلہ تھاتا ہم اتنا نہيں كہ ان كى تاريخ فراموش ہوچكى ہوتي_باقى رہا عمل كے لحاظ سے تو اگر چہ قوم لوط كے جنسى انحرافات نماياں تھے اور قوم شعيب كے اقتصادى انحرافات زيادہ تھے_ اور ظاہراًبہت مختلف تھے ليكن دونوں معاشرے ميں فساد پيدا كرنے،اجتماعى نظام خراب كرنے،اخلاقى فضائل كو نابود كرنے اور برائي پھيلانے ميں ايك دوسرے سے مشابہت ركھتے تھے_

ايك دوسرے كو دھمكياں
يہ عظيم پيغمبرحضرت شعيب كہ انتہائي جچے تلے،بليغ اور دلنشين كلام كى وجہ سے جن كا لقب،''خطيب الانبياء ''ہے،ان كا كلام ان لوگوں كے لئے روحانى ومادى زند گى كى راہيں كھولنے والاتھا_انہوں نے بڑے صبر،حوصلے،متانت اور دلسوزى كے ساتھ ان سے تمام باتيں كيں ليكن ہم ديكھ رہے ہيں كہ اس گمراہ قوم نے انہيں كس طرح سے جواب ديا_
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ ہود آيت 89
------
275
انہوں نے چار جملوں ميں كہ جو ڈھٹائي،جہالت اور بے خبرى كا مظہر تھے آپ(ع) كو جواب ديا:
پہلے وہ كہنے لگے:''اے شعيب(ع) تمہارى زيادہ تر باتيں ہمارى سمجھ ميں نہيں آتيں''_(1)
بنيادى طور پر تيرى باتوں كا كوئي سر پير نہيں،ان ميں كوئي خاص بات اور منطق ہى نہيں كہ ہم ان پر كوئي غوروفكر كريں_ لہذا ان ميں كوئي ايسى چيز نہيں جس پر ہم عمل كريں اس ليے تم اپنے آ پ كو زيادہ نہ تھكائو اور دوسرے لوگوں كے پيچھے جائو_
''دوسرا يہ كہ ہم تجھے اپنے مابين كمزور پاتے ہيں''_(2)
لہذا گر تم يہ سوچتے ہو كہ تم اپنى بے منطق باتيں طاقت كے بل پر منوالوگے تو يہ بھى تمہارى غلط فہمى ہے_
يہ گمان نہ كروں كہ اگر ہم تم سے پوچھ گچھ نہيں كرتے تو يہ تمہارى طاقت كے خوف سے ہے_اگر تيرى قوم و قبيلہ كا احترام پيش نظر نہ ہوتا تو ہم تجھے بد ترين طريقے سے قتل كرديتے اور تجھے سنگسار كرتے_(3)
آخر ميں انہوں نے كہا:
''تو ہمارے ليے كوئي طاقتور اور ناقابل شكست نہيں ہے''_(4)
اگر چہ تو اپنے قبيلے كے بزرگوں ميں شمار ہوتا ہے ليكن جو پروگرام تيرے پيش نظر ہے اس كى وجہ سے ہمارى نگاہ ميں كوئي وقعت اور منزلت نہيں ہے_
حضرت شعيب(ع) ان باتوں كے نشتروں اور توہين آميز رويّے سے(سيخ پا ہوكر)اٹھ كرنہيںگئے بلكہ آپ(ع) نے اس طرح انہيں پر منطق اور بليغ پيرائے ميں جواب ديا:''اے قومميرے قبيلے كے يہ چند افراد تمہارے نزديك خدا سے زيادہ عزيز ہيں_''(5)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ ہود آيت91
(2)سورہ ھود آيت 91
(3)سورہ شعيب آيت91
(4)سورہ ھود آيت91
(5)سورہ ھودآيت92
-----
276
تم ميرے خاندان كى خاطر كہ جو تمہہارے بقول چند نفر سے زيادہ نہيں ہے ،مجھے آزار نہيں پہنچاتے ہو،توكيوں خدا كے ليے تم ميرى باتوںكو قبول نہيں كرتے ہو_ كيا عظمت خدا كے سامنے چندافرادكى كوئي حيثيت ہے؟
كيا تم خدا كے لئے كسى احترام كے قائل ہو''جبكہ اسے اور اس كے فرمان كو تم نے پس پشت ڈال ديا ہے_''(1)
آخر ميں حضرت شعيب(ع) كہتے ہيں:'' يہ خيال نہ كرو كہ خدا تمہارے اعمال كو نہيں ديكھتا اور تمہارى باتيں نہيں سنتا_ يقين جانو كہ ميرا پروردگار ان تمام اعمال پر محيط ہے جو تم انجام ديتے ہو''_(2)
بليغ سخن ور وہ ہے كہ جو اپنى باتوںميں مدمقابل كى تمام تنقيدوں كا جواب دے_قوم شعيب(ع) كے مشركين نے چونكہ اپنى باتوںكے آخر ميں ضمناًانہيں سنگسار كرنے كى دھمكى دى تھى اور ان كے سامنے اپنى طاقت كا اظہار كيا تھا لہذا ان كى دھمكى كے جواب ميں حضرت شعيب(ع) نے اپنے موقف كواس طرح سے بيان كيا:
اے ميرى قومجو كچھ تمہارے بس ميںہے كر گزرواور اس ميںكوتاہى نہ كرو اور جو كچھ تم سے ہو سكتا ہے اس ميں رورعايت نہ كرو_ميں بھى اپنا كام كروں گا_ليكن تم جلد سمجھ جائو گے كہ كون رسوا كن عذاب ميںگرفتار ہوتا ہے اور كون جھوٹا ہے ميں يا تم _
اور اب جبكہ معاملہ اس طرح ہے تو تم بھى انتظار كرو اور ميں بھى انتظار كرتا ہوں،تم اپنى طاقت،تعداد،سرمائے اور اثرورسوخ سے مجھ پر كاميابى كے انتظار ميں رہو اور ميں بھى اس انتظار ميں ہوں كہ عنقريب دردناك عذاب الہى تم جيسى گمراہ قوم كے دامن گير ہو اور تمہيں صفحہ ہستى سے مٹادے_

مدين كے تباہ كاروں كا انجام
گزشتہ اقوام كى سرگزشت كے بارے ميں قرآن مجيد ميں ہم نے بارہا پڑھا ہے كہ پہلے مرحلے ميں
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہء ھود آيت92
(2)سورہ ھودآيت92
-----
277
انبياء انہيں خدا كى طرف دعوت دينے كے ليے قيام كرتے تھے اور ہر طرح سے تعليم و تربيت اور پند ونصيحت ميں كوئي گنجائشے نہيں چھوڑتے تھے_ دوسرے مرحلے ميں جب ايك گروہ پر پند و نصائح كا كوئي اثر نہ ہوتا تو انہيں عذاب الہى سے ڈراتے تاكہ وہ آخرى افراد تسليم حق ہوجائيں جو قبوليت كى اہليت ركھتے ہيں اور راہ خدا كى طرف پلٹ آئيں نيز اتمام حجت ہو جائے_
تيسرے مرحلے ميں جب ان پركوئي چيز مو ثر نہ ہوتى تو روئے زمين كى ستھرائي اور پاك سازى كر ليے سنت الہى كے مطابق عذاب آجاتا اور راستے كے ان كانٹوں كو دور كرديتا _
قوم شعيب(ع) يعنى اہل مدين كا بھى آخر كار مرحلہ انجام آپہنچا_چنانچہ قرآن كہتا ہے: ''جب(اس گمراہ، ظالم اور ہٹ دھرم قوم كو عذاب ديئے جانے كے بارے ميں) ہمارا فرمان آپہنچا تو ہم نے شعيب(ع) اور اس پر ايمان لانے والوں كو اپنى رحمت كى بركت سے نجات دي_''(1)''پھر آسمانى پكار اور مرگ آفريں عظيم صيحہ نے ظالموں اور ستمگروں كو اپنى گرفت ميں لے ليا_''(2)
جيسا كہ ہم كہہ چكے ہيں_''صيحہ'' ہرقسم كى عظيم آواز اور پكار كے معنى ميں ہے، قرآن نے بعض قوموں كى نابودى صيحہ آسمانى كے ذريعے بتائي ہے_ يہ صيحہ احتمالاًصاعقہ كے ذريعے يا اس كى مانند ہوتى ہے اور جيسا كہ ہم نے قوم ثمود كى داستان ميں بيان كيا ہے كہ صوتى امواج بعض اوقات اس قدر قوى ہوسكتى ہيں كہ ايك گروہ كى موت كا سبب بن جائيں_
اس كے بعد فرمايا گيا ہے:''اس آسمانى صيحہ كے اثر سے قوم شعيب كے لوگ اپنے گھروں ميں منہ كے بل جاگرے اور مرگئے اور ان كے بے جان جسم درس عبرت بنے ہو ايك مدت تك وہيں پڑے رہے''_(3)
ان كى زندگى كى كتاب اس طرح بندكردى گئي كہ ''گويا كبھى وہ اس سرزمين كے ساكن ہى نہ تھے''_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ ھودآيت94
(2)سورہ ھود آيت94
(3)سورہ ھود آيت94
------ 278
سات روز تك شدت كى گرمى پڑى اور ہوا بالكل نہ چلي، اس كے بعد اچانك آسمان پر بادل آئے، ہوا چلى ان كو گھروں سے نكال پھينكا، گرمى كى وجہ سے بادل كے سايہ كے نيچے چلے گئے_
اس وقت صاعقہ موت كا پيغام لے كر آئي خطرناك آواز، آگ كى بارش اور زمين ميں زلزلہ آگيا، اس طرح وہ سب نابود ہوگئے_
وہ تمام دولت وثروت كہ جس كى خاطر انہوں نے گناہ اور ظلم و ستم كيے نابود ہوگئي_ انكى زمينيں اور زرق برق زندگى ختم ہوگئي اور ان كا شور وغو غا خاموش ہوگيا اور آخر كار جيسا كہ قوم عادوثمود كى داستان كے آخر ميں بيان ہوا ہے فرمايا گيا ہے:دورہو سرزمين مدين لطف و رحمت پروردگار سے جيسے كہ قوم ثمود دور ہوئي_(1)
''واضح ہے كہ يہاں''مدين''سے مراد اہل مدين ہيں جو رحمت خدا سے دور ہوئے''_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ ھود آيت95
------
279

حضرت موسى عليہ السلام
تمام پيغمبر كى نسبت قرآن ميں حضرت موسى (ع) كا واقعہ زيادہ آيا ہے_تيس سے زيادہ سورتوںميںموسى (ع) و فرعون اور بنى اسرائيل كے واقعہ كى طرف سومرتبہ سے زيادہ اشارہ ہوا ہے_
اگر ہم ان آيتوں كى الگ الگ شرح كريں ااس كے بعد ان سب كو ايك دوسرے كے ساتھ ملا ديں تو بعض افراد كے اس توہم كے برخلاف كہ قرآن ميں تكرار سے كام ليا گيا ہے،ہم كو معلوم ہوگا كہ قرآن ميں نہ صرف تكرار نہيں ہے بلكہ ہر سورہ ميں جو بحث چھيڑى گئي ہے اس كى مناسبت سے اس سرگزشت كا ايك حصہ شاہد كے طور پر پيش كيا گيا ہے_
ضمناًيہ بات بھى ذہن ميں ركھنا چايئےہ اس زمانے ميں مملكت مصر نسبتاً وسيع مملكت تھي_وہاں كے رہنے والوں كا تمدن بھى حضرت نوح(ع) ،ہود(ع) اور شعيب(ع) كى اقوام سے زيادہ ترقى يافتہ تھا_ لہذا حكومت فراعنہ كى مقاومت بھى زيادہ تھي_
اسى بناء پر حضرت موسى (ع) كى تحريك اور نہضت بھى اتنى اہميت كى حامل ہوئي كہ اس ميں بہت زيادہ عبرت انگيز نكات پائے جاتے ہيں_بنابريں اس قرآن ميں حضرت موسى (ع) كى زندگى اور بنى اسرائيل كے حالات كے مختلف پہلوئوں پر روشنى ڈالى گئي ہے_
كلى طور پر اس عظيم پيغمبر(ع) كى زندگى كو پانچ ادوار ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے_
-------
280

حضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے پانچ ادوار
1_پيدائشے سے لے كر آغوش فرعون ميں آپ(ع) كى پرورش تك كا زمانہ_
2_مصر سے آپ(ع) كا نكلنا اور شہر مدين ميں حضرت شعيب(ع) كے پاس كچھ دقت گزارنا_
3_آپ(ع) كى بعثت كا زمانہ اور فرعون اور اس كى حكومت والوں سے آپ(ع) كے متعدد تنازعے_
4_فرعونيوں كے چنگل سے موسى (ع) اور بنى اسرائيل كى نجات اور وہ حوادث جو راستہ ميں اور بيت المقدس پہنچنے پر رونما ہوئے_
5_حضرت موسى (ع) اور بنى اسرائيل كے درميان كشمكش كا زمانہ_

ولادت حضرت موسى عليہ السلام
حكومت فرعون نے بنى اسرئيل كے يہاں جو نومولود بيٹے ہوتے تھے انہيں قتل كرنے كا ايك وسيع پروگرام بنايا تھا_ يہاں تك كہ فرعون كى مقرر كردہ دائياں بنى اسرائيل كى باردار عورتوں كى نگرانى كرتى تھيں_
ان دائيوں ميں سے ايك والدہ موسى (ع) كى دوست بن گئي تھي_ (شكم مادر ميں موسى (ع) كا حمل مخفى رہا اوراس كے آثار ظاہر نہ ہوئے) جس وقت مادر موسى (ع) كو يہ احساس ہوا كہ بچے كى ولادت كا وقت قريب ہے تو آپ نے كسى كے ذريعہ اپنى دوست دائي كو بلانے بھيجا_جب وہ آگئي تو اس سے كہا:ميرے پيٹ ميں ايك فرزند ہے،آج مجھے تمہارى دوستى اور محبت كى ضرورت ہے_
جس وقت حضرت موسى عليہ السلام پيدا ہوگئے تو آپ كى آنكھوں ميں ايك خاص نور چمك رہا تھا،چنانچہ اسے ديكھ كر وہ دايہ كاپنے لگى اور اس كے دل كى گہرائي ميں محبت كى ايك بجلى سماگئي،جس نے اس كے دل كى تمام فضاء كو روشن كرديا_
يہ ديكھ كر وہ دايہ، مادر موسى (ع) سے مخاطب ہوكر بولى كہ ميرا يہ خيال تھا كہ حكومت كے دفتر ميں جاكے اس بچے كے پيدا ہونے كى خبر دوں تاكہ جلاد آئيں اور اسے قتل كرديں اور ميں اپنا انعام پالوں_ مگر ميں كيا كروں
------
281

كہ ميں اپنے دل ميں اس نوزائيدہ بچے كى شديد محبت كا احساس كرتى ہوں_ يہاں تك كہ ميں يہ نہيں چاہتى كہ اس كا بال بھى بيكا ہو_اس كى اچھى طرح حفاظت كرو_ميرا خيال ہے كہ آخر كار يہى ہمارا دشمن ہوگا_

جناب موسى عليہ السلام تنور ميں
وہ دايہ مادر موسى (ع) كے گھر سے باہر نكلي_ تو حكومت كے بعض جاسوسوں نے اسے ديكھ ليا_ انھوںنے تہيہ كرليا كہ وہ گھر ميں داخل ہوجائيں گے_ موسى (ع) كى بہن نے اپنى ماں كو اس خطرے سے آگاہ كرديا ماں يہ سن كے گھبراگئي_ اس كى سمجھ ميں نہ آتا تھا كہ اب كيا كرے_
اس شديد پريشانى كے عالم ميں جب كہ وہ بالكل حواس باختہ ہورہى تھياس نے بچے كو ايك كپڑے ميں لپيٹا او رتنور ميں ڈال ديا_ اس دوران ميں حكومت كے آدمى آگئے_مگر وہاں انھوں نے روشن تنور كے سوا كچھ نہ ديكھا_ انھوں نے مادر موسى (ع) سے تفتيش شرو ع كردى _ پوچھا_دايہ يہاں كيا كررہى تھي_؟ موسى (ع) كى ماں نے كہا كہ وہ ميرى سہيلى ہے مجھ سے ملنے آئي تھى _حكومت كے كارندے مايوس ہوكے واپس ہوگئے_
اب موسى (ع) كى ماں كو ہوش آيا_ آپ نے اپنى بيٹى سے پوچھا كہ بچہ كہاں ہے؟ اس نے لاعلمى كا اظہار كيا_ ناگہاں تنور كے اندر سے بچہ كے رونے كى آواز آئي_ اب ماں تنور كى طرف دوڑى _كيا ديكھتى ہے كہ خدا نے اس كے لئے آتش تنور كو ''ٹھنڈا اور سلامتى كہ جگہ''بناديا ہے_ وہى خدا جس نے حضرت ابراھيم(ع) كے ليے آتش نمرود كو ''برد وسلام''بناديا تھا_ اس نے اپنا ہاتھ بڑھايا اور بچے كو صحيح وسالم باہر نكال ليا_
ليكن پھر بھى ماں محفوظ نہ تھي_كيونكہ حكومت كے كارندے دائيں بائيں پھرتے رہتے اور جستجو ميںلگے رہتے تھے_ كسى بڑے خطرے كے ليے يہى كافى تھا كہ وہ ايك نوزائيد بچے كے رونے كى آواز سن ليتے_
اس حالت ميں خدا كے ايك الہام نے ماں كے قلب كو روشن كرديا_وہ الہام ايسا تھا كہ ماں كو بظاہر ايك خطرناك كام پر آمادہ كررہا تھا_مگر پھر بھى ماں اس ارادے سے اپنے دل ميں سكون محسوس كرتى تھي_
-------
282
''ہم نے موسى (ع) كى ماں كى طرف وحى كى كہ اسے دودھ پلا اور جب تجھے اس كے بارے ميںكچھ خوف پيدا ہوتو اسے دريا ميں ڈال دينا اور ڈرنا نہيں اور نہ غمگين ہونا كيونكہ ہم اسے تيرے پاس لوٹا ديں گے اور اسے رسولوں ميں سے قرار ديں گے_(1)
اس نے كہا: ''خدا كى طرف سے مجھ پريہ فرض عائد ہوا ہے_ ميں اسے ضرور انجام دوں گي''_اس نے پختہ ارادہ كرليا كہ ميںاس الہام كو ضرور عملى جامہ پہنائوں گى اور اپنے نوزائيدہ بچے كو دريائے نيل ميں ڈال دوںگي_
اس نے ايك مصرى بڑھئي كو تلاش كيا (وہ بڑھئي قبطى اور فرعون كى قوم ميںسے تھا)اس نے اس بڑھئي سے درخواست كى كہ ميرے ليے ايك چھوٹا سا صندوق بنادے_
بڑھئي نے پوچھا:جس قسم كا صندوقچہ تم بنوانا چاہتى ہو اسے كس كام ميں لائوگي؟
موسى (ع) كى ماں جو دروغ گوئي كى عادى نہ تھى اس نازك مقام پر بھى سچ بولنے سے باز نہ رہي_اس نے كہا:ميں بنى اسرائيل كى ايك عورت ہوں_ميرا ايك نوزائيد بچہ لڑكا ہے_ميںاس بچے كو اس صندوق ميں چھپانا چاہتى ہوں_
اس قبطى بڑھئي نے اپنے دل ميں يہ پختہ ارادہ كرليا كہ جلادوں كو يہ خبر پہنچادےگا_وہ تلاش كركے ان كے پاس پہنچ گيا_ مگر جب وہ انھيں يہ خبر سنانے لگاتو اس كے دل پر ايسى وحشت طارى ہوئي كہ اس كى زبان بند ہوگئي_ وہ صرف ہاتھوں سے اشارے كرتا تھا اور چاہتا تھا كہ ان علامتوں سے انھيں اپنا مطلب سمجھا دے_ حكومت كے كارندوں نے اس كى حركات ديكھ كر يہ سمجھا كہ يہ شخص ہم سے مذاق كررہا ہے_اس ليے اسے مارا اور باہر نكال ديا_
جيسے ہى وہ اس دفتر سے باہر نكلا اس كے ہوش و حواس يكجاہوگئے، وہ پھر جلادوں كے پاس گيا اور اپنى حركات سے پھر ماركھائي_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ قصص آيت7
-----
283
آخر اس نے يہ سمجھا كہ اس واقعے ميں ضرور كوئي الہى راز پوشيدہ ہے_چنانچہ اس نے صندوق بناكے حضرت موسى (ع) كى والدہ كو دےديا_

دريا كى موجيں گہوارے سے بہتر
غالباًصبح كا وقت تھا_ابھى اہل مصر محو خواب تھے_مشرق سے پو پھٹ رہى تھي_ماںنے نوزائيدہ بچے اور صندوق كو دريائے نيل كے كنارے لائي،بچے كو آخرى مرتبہ دودھ پلايا_پھر اسے،مخصوص صندوق ميں ركھا(جس ميں يہ خصوصيت تھى كہ ايك چھوٹى كشتى كى طرح پانى پر تيرسكے)پھر اس صندوق كو نيل كى موجوں كے سپرد كرديا_
نيل كى پر شور موجوںنے اس صندوق كوجلدہى ساحل سے دور كرديا_ماں كنارے كھڑى ديكھ رہى تھى _ معاًاسے ايسا محسوس ہوا كہ اس كا دل سينے سے نكل كر موجوںكے اوپر تيررہاہے_اس دقت،اگر الطاف الہى اس كے دل كو سكون و قرار نہ بخشتا تو يقينا وہ زور زور سے رونے لگتى اور پھر سارا راز فاش ہو جاتا،كسى آدمى ميں يہ قدرت نہيں ہے كہ ان حساس لمحات ميں ماںپر جو گزررہى تھي_الفاظ ميں اس كا نقشہ كھينچ سكے مگر _ ايك فارسى شاعرہ نے كسى حد تك اس منظر كو اپنے فصيح اور پر از جذبات اشعار ميں مجسم كيا ہے_

1_مادر موسى (ع) چو موسى (ع) رابہ نيل
درفگند از گفتہ رب جليل

2_خودز ساحل كرد باحسرت نگاہ
گفت كاى فرزند خرد بى گناہ

3_گر فراموشت كند لطف خداى
چون رہى زين كشتى بى ناخداي

4_وحى آمد كاين چہ فكر باطل است
رہرو ما اينك اندر منزل است

5_ماگرفتيم آنچہ را انداختى
دست حق را ديدى ونشاختي

6_سطح آب از گاہوارش خوشتراست
دايہ اش سيلاب و موجش مادراست

7_رودھا از خودنہ طغيان مى كنند آنچہ مى گوئيم ما آن مى كنند
--------
284
8_ما بہ دريا حكم طوفان مى دہيم
ما بہ سيل وموج فرماں مى دہيم

9_نقش ہستى نقشى از ايوان ما است
خاك وباد وآب سرگردان ماست

10_بہ كہ برگردى بہ ما بسپاريش
كى تو از ما دوسترمى داريش؟(1)

1_جب موسى (ع) كى ماںنے حكم الہى كے مطابق موسى (ع) كو دريائے نيل ميں ڈال ديا_
2_وہ ساحل پركھڑى ہوئي حسرت سے ديكھ رہى تھى اور كہہ رہى تھى كہ اے ميرے بے گناہ ننھے بيٹے
3_اگر لطف الہى تيرے شامل حال نہ ہو تو ،تو اس كشتى ميںكيسے سلامت رہ سكتا ہے جس كا كوئي نا خدا نہيں ہے_
4_حضرت موسى عليہ السلام كى ماںكو اس وقت وحى ہوئي كہ تيرى يہ كيا خام خيالى ہے ہمارا مسافر تو سوئے منزل رواںہے_
5_تونے جب اس بچے كو دريا ميں ڈالاتھا تو ہم نے اسے اسى وقت سنبھال ليا تھا _ تو نے خدا كا ہاتھ ديكھا مگر اسے پہچانا نہيں_
6_اس وقت پانى كى سطح(اس كے ليے)اس كے گہوارے سے زيادہ راحت بخش ہے_دريا كا سيلاب اس كى دايہ گيرى كررہا ہے اور اس كى موجيں آغوش مادر بنى ہوئي ہيں_
7_ديكھوں دريائوں ميں ان كے ارادہ و اختيار سے طغيانى نہيں آتي_وہ ہمارے حكم كے مطيع ہيں وہ وہى كرتے ہيں جو ہمارا امر ہوتا ہے_
8_ہم ہى سمندروں كو طوفانى ہونے كاحكم ديتے ہيں اور ہم ہى سيل دريا كو روانى اور امواج بحر كو تلاطم كا فرمان بھيجتے ہيں_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)از ديوان پروين اعتصامي
-------
285
9_ہستى كا نقش ہمارے ايوان كے نقوش ميں سے ايك نقش ہے جو كچھ ہے،يہ كائنات تو اس كامشتے ازخروارى نمونہ ہے_ اور خاك،پاني،ہوا اور آتش ہمارے ہى اشارے سے متحرك ہيں_
10_بہتر يہى ہے كہ تو بچے كو ہمارے سپرد كردے اور خود واپس چلى جا_ كيونكہ تو اس سے ہم سے زيادہ محبت نہيں كرتي_

دلوں ميں حضرت مو سى عليہ السلام كى محبت
اب ديكھناچاہيئےہ فرعون كے محل ميں كيا ہورہا تھا؟
روايات ميں مذكور ہے كہ فرعون كى ايك اكلوتى بيٹى تھي_وہ ايك سخت بيمارى سے شديد تكليف ميں تھي_فرعون نے اس كا بہت كچھ علاج كرايا مگر بے سود_اس نے كاہنوں سے پوچھا_ انھوں نے كہا:''اے فرعون ہم پيشن گوئي كرتے ہيں كہ اس دريا ميں سے ايك آدمى تيرے محل ميں داخل ہوگا_اگر اس كے منہ كى رال اس بيمار كے جسم پر ملى جائے گى تو اسے شفا ہوجائيگي_
چنانچہ فرعون اور اس كى ملكہ آسيہ ايسے واقعے كے انتظار ميں تھے كہ ناگہاں ايك روز انھيں ايك صندوق نظر آيا جو موجوں كى سطح پر تير رہا تھا_فرعون نے حكم ديا كہ سركارى ملازمين فوراً ديكھيں كہ يہ صندوق كيسا ہے اور اسے پانى ميں سے نكال ليں_ديكھيں كہ اس ميں كيا ہے؟
نوكروں نے وہ عجيب صندوق فرعون كے سامنے لاكے ركھ ديا_ كسى كو اس كا ڈھكنا كھولنے كى ہمت نہ ہوئي_ مطابق مشيت الہي،يہ لازمى تھا كہ حضرت موسى (ع) كى نجات كے ليے صندوق كا ڈھكنا فرعون ہى كے ہاتھ سے كھولا جائے،چنانچہ ايسا ہى ہوا_
جس وقت فرعون كى ملكہ نے اس بچے كو ديكھا تو اسے يوں محسوس ہواكہ ايك بجلى چمكى ہے جس نے اس كے دل كو منور كرديا ہے_
ان دونوں بالخصوص فرعون كى ملكہ كے دل ميں اس بچے كى محبت نے گھر بناليا اور جب اس بچے كا
-------
286
آب دہن اس كے ليے موجب شفا ہوگيا تو يہ محبت اور بھى زيادہ ہوگئي _
قرآن ميں يہ واقعہ اس طرح مذكور ہے كہ:_فرعون كے اہل خانہ نے موسى (ع) كو نيل كى موجوں كے اوپر سے پكڑ ليا_ تا كہ وہ ان كا دشمن اور ان كے ليے باعث اندوہ ہوجائے_(1)
''يہ امر بديہى ہے كہ فرعون كے اہل خانہ نے اس بچے كے قنداقہ(وہ كپڑاجس ميں بچہ كو لپيٹتے ہيں)كو اس نيت سے دريا سے نہيں نكالا تھا كہ اپنے جانى دشمن كو اپنى گود ميں پاليں ،بلكہ وہ لوگ بقول ملكہ فرعون،اپنے ليے ايك نور چشم حاصل كرناچاہتے تھے_
ليكن انجام كار ايسا ہى ہوا،اس معنى و مراد كى تعبير ميںلطافت يہى ہے كہ خدا اپنى قدرت كا اظہار كرنا چاہتا ہے كہ وہ كس طرح اس گروہ كو جنھوں نے اپنى تمام قوتيں اور وسائل،بنى اسرائيل كى اولاد ذكور كو قتل كرنے كے ليے وقف كرديا تھا،اس خدمت پر مامور كرے كہ جس بچے كو نابود كرنے كے ليے انھوں نے يہ پروگرام بنايا تھا،اسى كوو وہ اپنى جان كى طرح عزيز ركھيں اور اسى كى پرورش كريں_
قرآن كى آيات سے يہ معلوم ہوتاہے كہ اس بچے كى بابت فرعون،اس كى ملكہ اور ديگر اہل خاندان ميں باہم نزاع اور اختلاف بھى ہوا تھا،كيونكہ قرآن شريف ميں يوں بيان ہے:فرعون كى بيوى نے كہا كہ يہ بچہ ميرى اور تيرى آنكھوں كا نور ہے_ اسے قتل نہ كرو_ ممكن ہے يہ ہمارے ليے نفع بخش ہو يا ہم اسے ہم اپنا بيٹابنا ليں_(2)
ايسا معلوم ہوتا ہے كہ فرعون بچے كے چہرے اور دديگر علامات سے،من جملہ ان كے اسے صندوق ميں ركھنے اور دريائے نيل ميںبہادينے سے يہ سمجھ گيا تھا كہ يہ بنى اسرائيل ميں سے كسى كا بچہ ہے_
يہ سمجھ كر ناگہاں،بنى اسرائيل ميں سے ايك آدمى كى بغاوت اور اس كى سلطنت كے زوال كا كابوس اس كى روح پر مسلط ہوگيا اور وہ اس امر كا خواہاں ہوا كہ اس كا وہ ظالمانہ قانون،جو بنى اسرائيل كے تمام نوزاد اطفال كے ليے جارى كيا گيا تھا اس بچے پر بھى نافذ ہو_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ قصص آيت 8
(2)قصص آيت 9
------
287
فرعون كے خوشامدى درباريوں او ررشتہ داروں نے بھى اس امر ميں فرعون كى تائيد و حمايت كى اور كہا اس كى كوئي دليل نہيں ہے كہ يہ بچہ قانون سے مستثنى رہے_
ليكن فرعون كى بيوى آسيہ جس كے بطن سے كوئي لڑكا نہ تھا اور اس كا پاك دل فرعون كے درباريوں كى مانند نہ تھا،اس بچے كے ليے محبت كا كان بن گيا تھا_ چنانچہ وہ ان سب كى مخالفت پرآمادہ ہوگئي اور چونكہ اس قسم كے گھريلو اختلافات ميں فتح ہميشہ عورتوں كى ہوتى ہے،وہ بھى جيت گئي_
اگر اس گھريلو جھگڑے پر،دختر فرعون كى شفايابى كے واقعے كا بھى اضافہ كرليا جائے تواس اختلاف باہمى ميں آسيہ كى فتح كا امكان روشن تر ہو جاتا ہے_
قرآن ميںايك بہت ہى پر معنى فقرہ ہے:''وہ نہيںجانتے تھے كہ كيا كررہے ہيں:''(1)
البتہ وہ بالكل بے خبر تھے كہ خدا كا واجب النفوذ فرمان اور اس كى شكست ناپذير مشيت نے يہ تہيہ كرليا ہے كہ يہ طفل نوزاد انتہائي خطرات ميں پرورش پائے _ اور كسى آدمى ميں بھى ارادہ و مشيت الہى سے سرتابى كى جرا ت اور طاقت نہيں ہے''_

اللہ كى عجيب قدرت
اس چيز كانام قدرت نمائي نہيںہے كہ خداآسمان و زمين كے لشكروں كو مامور كركے كسى پُرقوت اور ظالم قوم كو نيست و نابود كردے_
بلكہ قدرت نمائي يہ ہے كہ ان ہى جباران مستكبر سے يہ كا م لے كر وہ اپنے آپ كو خود ہى نيست و نابود كرليں اور ان كے دل و دماغ ميں ايسے خيالات پيدا ہوجائيں كہ بڑے شوق سے لكڑياں جمع كريں اور اس كى آگ ميں جل مريں،اپنے ليے خودہى قيدخانہ بنائيں اور اسميںاسير ہوكے جان دے ديں، اپنے ليے خود ہى صليب كھڑى كريں اور اس پر چڑھ مرجائيں_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ قصص آيت 9
-------
288
فرعون اوراسكے زور منداور ظالم ساتھيوں كے ساتھ بھى يہى پيش آيا_ چنانچہ تمام مراحل ميںحضرت موسى (ع) كى نجات اور پرورش انہى كے ہاتھوں سے ہوئي،حضرت موسى (ع) كى دايہ قبطيوں ميںسے تھي،صندوق موسى (ع) كو امواج نيل سے نكالنے اور نجات دينے والے متعلقين فرعون تھے،صندوق كا ڈھكنا كھولنے والا خود فرعون يا اس كى اہليہ تھي،اور آخر كا ر فرعون شكن اور مالك غلبہ و اقتدار موسى (ع) كے ليے امن و آرام اور پرورش كى جگہ خود فرعون كا محل قرار پايا_
يہ ہے پروردگار عالم خدا كى قدرت_

موسى عليہ السلام پھر آغوش مادر ميں
حضرت موسى عليہ السلام كى ماں نے اس طرح سے جيسا كہ ہم نے پيشتر بيان كيا ہے،اپنے فرزند كو دريائے نيل كى لہروں كے سپرد كرديا_ مگر اس عمل كے بعد اس كے دل ميں جذبات كا يكايك شديد طوفان اٹھنے لگا،نوزائيدہ بيٹے كى ياد،جس كے سوا اس كے دل ميں كچھ نہ تھا،اس كے احساسات پر غالب آگئي تھي،قريب تھا كہ وہ دھاڑيں مار كر رونے لگے اور اپنا راز فاش كردے،قريب تھا كہ چيخ مارے اور اپنے بيٹے كى جدائي ميں نالے كرے_
ليكن عنايت خداوندى اس كے شامل حال رہى جيسا كہ قرآن ميں مذكور ہے:''موسى عليہ السلام كى ماں كا دل اپنے فرزند كى ياد كے سوا ہر چيز سے خالى ہوگيا،اگر ہم نے اس كا دل ايمان اور اميد كے نور سے روشن نہ كيا ہوتا تو قريب تھا كہ وہ راز فاش كرديتي_ ليكن ہم نے يہ اس ليے كيا تاكہ وہ اہل ايمان ميں سے رہے''_(1)
يہ قطعى فطرى امر ہے كہ: ايك ماں جو اپنے بچے كو اس صورت حال سے اپنے پاس سے جدا كرے وہ اپنى اولاد كے سوا ہر شے كو بھول جائے گي_ اور اس كے حواس ايسے باختہ ہو جائيںگے كہ ان خطرات كا لحاظ
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ قصص آيت10
------
289
كيے بغير جو اس كے اور اس كے بيٹے دونوں كے سر پر منڈلارہے تھے فرياد كرے اور اپنے دل كا راز فاش كردے_
ليكن وہ خدا جس نے اس ماں كے سپرد يہ اہم فريضہ كيا تھا،اسى نے اس كے دل كو ايسا حوصلہ بھى بخشا كہ وعدہ الہى پر اس كا ايمان ثابت رہے اور اسے يہ يقين رہے كہ اس كا بچہ خدا كے ہاتھ ميں ہے آخر كار وہ پھر اسى كے پاس آجائے گا اور پيغمبر بنے گا_
اس لطف خداوندى كے طفيل ماںكے دل كا سكون لوٹ آيامگر اسے آرزورہى كہ وہ اپنے فرزندكے حال سے باخبر رہے'' اس لئے اس نے موسى عليہ السلام كى بہن سے كہاكہ جا تو ديكھتى رہ كہ اس پر كيا گزرتى ہے''_(1)
موسى عليہ السلام كى بہن ماں كا حكم بجالائي اور اتنے فاصلہ سے جہاں سے سب كچھ نظر آتا تھا ديكھتى رہى _ اس نے دور سے ديكھا كہ فرعون كے عمال اس كے بھائي كے صندوق كو پانى ميں سے نكال رہے ہيں اور موسى عليہ السلام كو صندوق ميں سے نكال كر گود ميں لے رہے ہيں_
''مگر وہ لوگ اس بہن كى ا س كيفيت حال سے بے خبر تھے_''_(2)
بہر حال ارادہ الہى يہ تھا كہ يہ طفل نوزاد جلد اپنى ماںكے پاس واپس جائے اور اس كے دل كو قرار آئے_اس ليے فرمايا گيا ہے :''ہم نے تمام دودھ پلانے والى عورتوں كو اس پر حرام كرديا تھا''_(3)
يہ طبيعى ہے كہ شير خوار نوزاد چندگھنٹے گزرتے ہى بھوك سے رونے لگتا ہے اور بے تاب ہوجاتا ہے_ درين حال لازم تھا كہ موسى عليہ السلام كو دودھ پلانے كے ليے كسى عورت كى تلاش كى جاتي_ خصوصاً جبكہ ملكہ مصر اس بچے سے نہايت دل بستگى ركھتى تھى اور اسے اپنى جان كے برابر عزيز ركھتى تھي_
محل كے تمام خدام حركت ميں آگئے اور دربدر كسى دودھ پلانے والى كو تلاش كرنے لگے_مگر يہ عجيب بات تھى كہ وہ كسى كا دودھ پيتا ہى نہ تھا_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ قصص آيت11
(2)سورہ قصص آيت11
(3)سورہ قصص آيت12
------
290
ممكن ہے كہ وہ بچہ ان عورتوں كى صورت ہى سے ڈرتا ہو اور ان كے دودھ كا مزہ(جس سے وہ آشنا نہ تھا) اسے اس كا ذائقہ ناگوار اور تلخ محسوس ہوتا ہو_اس بچے كا طور كچھ اس طرح كا تھا گويا كہ ان (دودھ پلانے والي)عورتوں كى گود سے اچھل كے دورجاگرے در اصل يہ خدا كى طرف سے''تحريم تكويني''تھى كہ اس نے تمام عورتوںكو اس پر حرام كرديا تھا_
بچہ لحظہ بہ لحظہ زيادہ بھوكا اور زيادہ بيتاب ہوتا جاتا تھا_ بار بار رورہا تھا اور اس كى آواز سے فرعون كے محل ميں شور ہورہا تھا_ اور ملكہ كا دل لرز رہا تھا_
خدمت پرمامور لوگوں نے اپنى تلاش كو تيز تر كرديا_ ناگہاں قريب ہى انھيں ايك لڑكى مل جاتى ہے_ وہ ان سے يہ كہتى ہے:ميںايك ايسے خاندان كو جانتى ہوں جو اس بچے كى كفالت كرسكتا ہے_ وہ لوگ اس كے ساتھ اچھا سلوك كريں گے_
''كيا تم لوگ يہ پسند كروگے كہ ميں تمہيں وہاں لے چلوں''؟(1)
ميں بنى اسرائيل ميں سے ايك عورت كو جانتى ہوں جس كى چھاتيوںميںدودھ ہے اور اس كا دل محبت سے بھرا ہوا ہے_ اس كا ايك بچہ تھا وہ اسے كھو چكى ہے_ وہ ضرور اس بچے كو جو محل ميں پيدا ہوا ہے،دودھ پلانے پر آمادہ ہوجائے گي_
وہ تلاش كرنے والے خدام يہ سن كر خوش ہوگئے اور موسى عليہ السلام كى ماں كو فرعون كے محل ميں لے گئے_ اس بچے نے جونہى اپنى ماں كى خوشبو سونگھى اس كا دودھ پينے لگا_ اور اپنى ماں كا روحانى رس چوس كر اس ميں جان تازہ آگئي_اسكى آنكھوں ميں خوشى كا نور چمكنے لگا_
اس وقت وہ خدام جو ڈھونڈ ڈھونڈ كے تھك گئے تھے_ بہت ہى زيادہ خوش و خرم تھے_ فرعون كى بيوى بھى اس وقت اپنى خوشى كو نہ چھپا سكي_ممكن ہے اس وقت لوگوں نے كہا ہوكہ تو كہاں چلى گئي تھي_ہم تجھے ڈھونڈ ڈھونڈ كے تھك گئے _ تجھ پر اورتيرے شير مشكل كشا پر آفرين ہے_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ قصص آيت12
--------
291

صرف تيرا ہى دودھ كيوں پيا
جس وقت حضرت موسى عليہ السلام ماں كا دودھ پينے لگے،فرعون كے وزير ہامان نے كہا: مجھے لگتا ہے كہ تو ہى اسكى ماں ہے_ بچے نے ان تمام عورتوں ميں سے صرف تيرا ہى دودھ كيوں قبول كرليا؟
ماں نے كہا:اس كى وجہ يہ ہے كہ ميں ايسى عورت ہوں جس كے دودھ ميں سے خوشبو آتى ہے_ ميرا دودھ نہايت شيريں ہے_ اب تك جو بچہ بھى مجھے سپرد كيا گيا ہے_ وہ فوراً ہى ميرا دودھ پينے لگتا ہے_
حاضرين دربار نے اس قول كى صداقت كو تسليم كرليا اور ہر ايك نے حضرت موسى عليہ السلام كى ماںكو گراں بہا ہديے اور تحفے ديے_
ايك حديث جو امام باقر عليہ السلام سے مروى ہے اس ميں منقول ہے كہ:''تين دن سے زيادہ كا عرصہ نہ گزرا تھا كہ خدانے كے بچے كواس كى ماں كے پاس لوٹا ديا''_
بعض اہل دانش كا قول ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام كے ليے يہ''تحريم تكويني''(يعنى دوسرى عورتوں كا حرام كيا جانا)اس سبب سے تھاكہ خدا يہ نہيں چاہتا تھا كہ ميرا فرستادہ پيغمبر ايسا دودھ پيئے جو حرام سے آلودہ ہو اور ايسا مال كھاكے بنا ہو جو چوري،نا جائز ذرائع،رشوت اور حق الناس كو غصب كركے حاصل كيا گيا ہو_
خدا كى مشيت يہ تھى كہ حضرت موسى عليہ السلام اپنى صالحہ ماں كے پاك دودھ سے غذا حاصل كريں_تاكہ وہ اہل دنيا كے شر كے خلاف ڈٹ جائيں اور اہل شروفساد سے نبردآزمائي كرسكيں_
''ہم نے اس طرح موسى عليہ السلام كو اس كى ماں كے پاس لوٹا ديا_تاكہ اس كى آنكھيں روشن ہوجائيں اور اس كے دل ميں غم واندوہ باقى نہ رہے اور وہ يہ جان لے كہ خدا كا وعدہ حق ہے_ اگر چہ اكثر لوگ يہ نہيں جانتے''_(1)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ قصص آيت 13
--------
292
اس مقام پر ايك سوال پيدا ہوتا ہے اور وہ يہ ہے كہ:كيا وابستگان فرعون نے موسى عليہ السلام كو پورے طور سے ماں كے سپرد كرديا تھا كہ وہ اسے گھر لے جائے اور دودھ پلايا كرے اور دوران رضاعت روزانہ يا كبھى كبھى بچے كو محل ميں لايا كرے تا كہ ملكہ مصر اسے ديكھ ليا كرے يا يہ كہ بچہ محل ہى ميں رہتا تھا اور موسى عليہ السلام كى ماں معين اوقات ميں آكر اسے دودھ پلاجاتى تھي؟
مذكورہ بالا دونوں احتمالات كے ليے ہمارے پاس كوئي واضح دليا نہيں ہے_ ليكن احتمال اول زيادہ قرين قياس ہے_
ايك اور سوال يہ ہے كہ:
آيا عرصہ شير خوارگى كے بعد حضرت موسى عليہ السلام فرعون كے محل ميں چلے گئے يا ان كا تعلق اپنى ماں اور خاندان كے ساتھ باقى رہا اور محل سے وہاں آتے جاتے رہے؟
اس مسئلے كے متعلق بعض صاحبان نے يہ كہا ہے كہ شير خوار گى كے بعد آپ كى ماں نے انھيں فرعون اور اس كى بيوى آسيہ كے سپرد كرديا تھا اور حضرت موسى عليہ السلام ان دونوں كے پاس پرورش پاتے رہے_
اس ضمن ميں راويوںنے فرعون كے ساتھ حضرت موسى عليہ السلام كى طفلانہ(مگر با معنى )باتوں كا ذكر كيا ہے كہ اس مقام پر ہم ان كو بعذر طول كلام كے پيش نظر قلم انداز كرتے ہيں_ ليكن فرعون كا يہ جملہ جے اس نے بعثت موسى عليہ السلام كے بعد كہا:
''كيا ہم نے تجھے بچپن ميں پرورش نہيں كيا اور كيا تو برسوں تك ہمارے درميان نہيں رہا''_(1)
اس جملے سے معلوم ہوتا ہے كہ جناب موسى عليہ السلام چند سال تك فرعون كے محل ميں رہتے تھے_
على ابن ابراھيم كى تفسير سے استفادہ ہوتا ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام تازمانہ بلوغ فرعون كے محل ميں نہايت احترام كے ساتھ رہے_مگر ان كى توحيد كے بارے ميں واضح باتيں فرعون كو سخت ناگوار ہوتى تھيں_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت18
-------
293
يہاں تك كہ اس نے انھيں قتل كرنے كا ارادہ كرليا_ حضرت موسى عليہ السلام اس خطرے كو بھاپ گئے اوربھاگ كر شہر ميں آگئے_ يہاں وہ اس واقعے سے دوچار ہوئے كہ دو آدمى لڑرہے تھے جن ميں سے ايك قبطى اور ايك سبطى تھا_(1)

موسى عليہ السلام مظلوموں كے مددگار كے طورپر
اب ہم حضرت موسى عليہ السلام كى نشيب و فراز سے بھرپور زندگى كے تيسرے دور كو ملاحظہ كر تے ہيں_
اس دور ميں ان كے وہ واقعات ہيں جو انھيں دوران بلوغ اور مصر سے مدين كو سفر كرنے سے پہلے پيش آئے اور يہ وہ اسباب ہيں جو ان كى ہجرت كا باعث ہوئے_
''بہر حال حضرت موسى عليہ السلام شہر ميں اس وقت داخل ہوئے جب تمام اہل شہر غافل تھے''_(2)
يہ واضح نہيں ہے كہ يہ كونسا شہر تھا_ليكن احتمال قوى يہ ہے كہ يہ مصر كا پايہ تخت تھا_ بعض لوگوں كا قول ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام كو اس مخالفت كى وجہ سے جو ان ميں فوعون اور اس كے وزراء ميں تھى اور بڑھتى جارہى تھي،مصر كے پايہ تخت سے نكال ديا گيا تھا_ مگر جب لوگ غفلت ميں تھے _ موسى عليہ السلام كو موقع مل گيا اور وہ شہر ميںآگئے_
اس احتمال كى بھى گنجائشے ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام فرعون كے محل سے نكل كر شہر ميں آئے ہوں كيونكہ عام طور پر فرعونيوں كے محلات شہر كے ايك كنارے پر ايسى جگہ بنائے جاتے تھے جہاں سے وہ شہر كى طرف آمدورفت كے راستوں كى نگرانى كرسكيں_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)اس واقعہ كى تفصيل آئندہ آئے گي
(2)سورہ قصص آيت 18
-----
294
شہر كے لوگ اپنے مشاغل معمول سے فارغ ہوچكے تھے اور كوئي بھى شہر كى حالت كى طرف متوجہ نہ تھا_ مگر يہ كہ وہ وقت كونسا تھا؟بعض كا خيال ہے كہ''ابتدائے شب''تھي،جب كہ لوگ اپنے كاروبار سے فارغ ہوجاتے ہيں،ايسے ميں كچھ تو اپنے اپنے گھروں كى راہ ليتے ہيں_كچھ تفريح اور رات كوبيٹھ كے باتيں كرنے لگتے ہيں_
بہر كيف حضرت موسى عليہ السلام شہر ميں آئے اور وہاںايك ماجرے سے دوچار ہوئے ديكھا :'' دو آدمى آپس ميں بھڑے ہوئے ہيں اور ايك دوسرے كو مار رہے ہيں_ان ميں سے ايك حضرت موسى عليہ السلام كا طرف دار اور ان كا پيرو تھا اور دوسراان كا دشمن تھا''_(1)
كلمہ ''شيعتہ'' اس امر كا غماز ہے كہ جناب موسى (ع) اور بنى اسرائيل ميں اسى زمانے سے مراسم ہوگئے تھے اور كچھ لوگ ان كے پيرو بھى تھے احتمال يہ ہوتا ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام اپنے مقلدين اور شيعوں كى روح كو فرعون كى جابرانہ حكومت كے خلاف لڑنے كے لئے بطور ايك مركزى طاقت كے تيار كررہے تھے _
جس وقت بنى اسرائيل كے اس آدمى نے موسى عليہ السلام كو ديكھا:'' تو ان سے اپنے ،دشمن كے مقابلے ميں امداد چاہي''_ (2)
حضرت موسى عليہ السلام اس كى مدد كرنے كےلئے تيار ہوگئے تاكہ اسے اس ظالم دشمن كے ہاتھ سے نجات دلائيں بعض علماء كا خيال ہے كہ وہ قبطى فرعون كا ايك باورچى تھا اور چاہتاتھا كہ اس بنى اسرائيل كو بيكار ميں پكڑكے اس سے لكڑياں اٹھوائے'' حضرت موسى عليہ السلام نے اس فرعونى كے سينے پر ايك مكامارا وہ ايك ہى مكے ميں مرگيا اور زمين پر گر پڑا ''_(3)
اس ميں شك نہيںكہ حضرت موسى كا اس فرعونى كو جان سے ماردينے كا ارادہ نہ تھا قرآن سے بھى يہ خوب واضح ہوجاتاہے ايسا اس لئے نہ تھا كہ وہ لوگ مستحق قتل نہ تھے بلكہ انھيں ان نتائج كا خيال تھا جو خود حضرت موسى اور بنى اسرائيل كو پيش آسكتے تھے _
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ قصص آيت 15
(2)سورہ قصص آيت15
(3) سورہ قصص آيت15
-----
295
لہذا حضرت موسى عليہ السلام نے فوراً كہا:'' كہ يہ كام شيطان نے كرايا ہے كيونكہ وہ انسانوں كا دشمن اور واضح گمراہ كرنے والاہے ''_(1)
اس واقعے كى دوسرى تعبير يہ ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام چاہتے تھے كہ بنى اسرئيلى كا گريبان اس فرعونى كے ہاتھ سے چھڑا ديں ہر چند كہ وابستگان فرعون اس سے زيادہ سخت سلوك كے مستحق تھے ليكن ان حالات ميں ايسا كام كر بيٹھنا قرين مصلحت نہ تھا اور جيسا كہ ہم آگے ديكھيں گے كہ حضرت موسى اسى عمل كے نتيجے ميں پھر مصر ميں نہ ٹھہرسكے اور مدين چلے گئے _
پھر قرآن ميں حضرت موسى عليہ السلام كا يہ قول نقل كيا گيا ہے اس نے كہا:''پروردگار اميں نے اپنے اوپر ظلم كيا تو مجھے معاف كردے ،اور خدا نے اسے بخش ديا كيونكہ وہ غفورو رحيم ہے ''_(2)
يقينا حضرت موسى عليہ السلام اس معاملے ميں كسى گناہ كے مرتكب نہيں ہوئے بلكہ حقيقت ميں ان سے ترك اولى سرزد ہوا كيونكہ انہيں ايسى بے احتياطى نہيں كرنى چاہيئے تھى جس كے نتيجے ميں وہ زحمت ميں مبتلا ہوں حضرت موسى نے اسى ترك اولى كے لئے خدا سے طلب عفو كيا اور خدا نے بھى انھيں اپنے لطف وعنايت سے بہرہ مند كيا _
حضرت موسى عليہ السلام نے كہا: خداوندا تيرے اس احسان كے شكرانے ميں كہ تونے ميرے قصور كو معاف كرديا اور دشمنوں كے پنجے ميںگرفتار نہ كيا اور ان تمام نعمتوں كے شكريہ ميں جو مجھے ابتداء سے اب تك مرحمت كرتا رہا،ميں عہد كرتا ہوں كہ ہر گز مجرموں كى مدد نہ كروں گا اور ظالموں كا طرف دار نہ ہوں گا ''_(3)
بلكہ ہميشہ مظلومين اور ستم ديدہ لوگوں كا مددگارر ہوں گا _(4)
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ قصص آيت15
(2)سورہ قصص آيت15
(3)سورہ قصص آيت 17
(4)كيا حضرت موسى عليہ السلام كا يہ كا م مقام عصمت كے خلاف نہيں ہے ؟
مفسرين نے ، اس قبطى اور بنى اسرائيل كى باہمى نزاع اور حضرت موسى كے ہاتھ سے مرد قبطى كے مارے جانے كے بارے ميں بڑى طويل بحثيں كى ہيں _
------
296

موسى عليہ السلام كى مخفيانہ مدين كى طرف روانگي
فرعونيوں ميں سے ايك آدمى كے قتل كى خبر شہر ميں بڑى تيزى سے پھيل گئي قرائن سے شايد لوگ يہ سمجھ گئے تھے كہ اس كا قائل ايك بنى اسرائيل ہے اور شايد اس سلسلے ميں لوگ موسى عليہ السلام كا نام بھى ليتے تھے_
البتہ يہ قتل كوئي معمولى بات نہ تھى اسے انقلاب كى ايك چنگارى يا اس كا مقدمہ شمار كيا جاتاتھا اور
--------------------------------------------------------------------------------
درحقيقت يہ معاملہ كوئي اہم اور بحث طلب تھا ہى نہيں كيونكہ ستم پسند وابستگان فرعون نہايت بے رحم اور مفسد تھے انہوں نے بنى اسرائيل كے ہزاروں بچوںكے سرقلم كيے اور بنى اسرائيل پر كسى قسم كا ظلم كرنے سے بھى دريغ نہ كيا اس جہت سے يہ لوگ اس قابل نہ تھے كہ بنى اسرائيل كےلئے ان كا قتل احترام انسانيت كے خلاف ہو _
البتہ مفسرين كے لئے جس چيزنے دشوارياں پيدا كى ہيں وہ اس واقعے كى وہ مختلف تعبيرات ہيں جو خود حضرت موسى نے كى ہيں چنانچہ وہ ايك جگہ تو يہ كہتے ہيں:
''ھذا من عمل الشيطان ''
''يہ شيطانى عمل ہے ''_
اور دوسرى جگہ يہ فرمايا:
''رب انى ظلمت نفسى فاغفرلى ''
''خداياميںنے اپنے نفس پر ظلم كيا تو مجھے معاف فرمادے ''_
جناب موسى عليہ السلام كى يہ دونوں تعبيرات اس مسلمہ حقيقت سے كيونكر مطابقت ركھتى ہيں كہ :
عصمت انبيا ء كا مفہوم يہ ہے كہ انبيا ء ماقبل بعثت اور ما بعد عطائے رسالت ہر دو حالات ميں معصوم ہوتے ہيں '' _
ليكن حضرت موسى عليہ السلام كے اس عمل كى جو توضيح ہم نے آيات فوق كى روشنى ميں پيش كى ہے ، اس سے ثابت ہوتا ہے كہ حضرت موسى سے جو كچھ سرزد ہوا وہ ترك اولى سے زيادہ نہ تھا انھوں نے اس عمل سے اپنے آپ كو زحمت ميں مبتلاكرليا كيونكہ حضرت موسى كے ہاتھ سے ايك قبطى كا قتل ايسى بات نہ تھى كہ وابستگان فرعون اسے آسانى سے برداشت كرليتے_
نيز ہم جانتے ہيںكہ ''ترك اولى ''كے معنى ايسا كام كرنا ہے جو بذات خود حرام نہيں ہے_ بلكہ اس كا مفہوم يہ ہے كہ ''عمل احسن ''ترك ہوگيا بغير اس كے كہ كوئي عمل خلاف حكم الہى سرزد ہوا ہو؟
--------
297
حكومت كى مشينرى اسے ايك معمولى واقعہ سمجھ كراسے چھوڑنے والى نہ تھى كہ بنى اسرائيل كے غلام اپنے آقائوں كى جان لينے كا ارادہ كرنے لگيں_
لہذا ہم قرآن ميں يہ پڑھتے ہيں كہ'' اس واقعے كے بعد موسى شہر ميں ڈررہے تھے اور ہر لحظہ انہيں كسى حادثے كا كھٹكا تھا اور وہ نئي خبروں كى جستجو ميں تھے ''_(1)
ناگہاں انہيں ايك معاملہ پيش آيا آپ نے ديكھا كہ وہى بنى اسرائيلى جس نے گزشتہ روز ان سے مدد طلب كى تھى انھيں پھر پكاررہا تھا اور مدد طلب كررہاتھا (وہ ايك اور قبطى سے لڑرہا تھا) _
''ليكن حضرت موسى عليہ السلام نے اس سے كہا كہ تو آشكارا طور پر ايك جاہل اور گمراہ شخص ہے''_(2)
توہر روز كسى نہ كسى سے جھگڑ پڑتا ہے اور اپنے لئے مصيبت پيدا كرليتا ہے اور ايسے كام شروع كرديتا ہے جن كا ابھى موقع ہى نہيں تھا كل جو كچھ گزرى ہے ميں تو ابھى اس كے عواقب كا انتظار كرہا ہوں اور تونے وہى كام از سر نو شروع كرديا ہے _
بہر حال وہ ايك مظلوم تھا جو ايك ظالم كے پنجے ميں پھنسا ہو تھا ( حواہ ابتداء اس سے كچھ قصور ہوا ہو يانہ ہوا ہو ) اس لئے حضرت موسى كے لئے يہ ضرورى ہوگيا كہ اس كى مدد كريں اور اسے اس قبطى كے رحم وكرم پر نہ چھوڑديں ليكن جيسے ہى حضرت موسى نے يہ اراداہ كيا كہ اس قبطى آدمى كو (جو ان دونوں كا دشمن تھا )پكڑ كر اس بنى اسرائيل سے جدا كريں وہ قبطى چلايا، اس نے كہا :
اے موسى : كيا تو مجھے بھى اسى طرح قتل كرنا چاہتا ہے جس طرح تو نے كل ايك شخص كو قتل كيا تھا''_(3)''تيرى حركات سے تو ايسا ظاہر ہوتا ہے كہ تو زمين پر ايك ظالم بن كررہے گا اور يہ نہيں چاہتا كہ مصلحين ميں سے ہو ''_(4)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ قصص آيت15
(2)سورہ قصص آيت16
(3)سورہ قصص آيت19
(4)سورہ قصص آيت 19
--------
298
اس جملے سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام نے فرعون كے محل اور اس كے باہر ہر دو جگہ اپنے مصلحانہ خيالات كا اظہار شروع كرديا تھا بعض روايات سے يہ بھى معلوم ہوتا ہے كہ اس موضوع پر ان كے فرعون سے اختلافات بھى پيدا ہوگئے تھے اسى لئے تو اس قبطى آدمى نے يہ كہا :
يہ كيسى اصلاح طلبى ہے كہ تو ہر روز ايك آدمى كو قتل كرتاہے ؟
حالانكہ اگر حضرت موسى كا يہ ارادہ ہوتا كہ اس اس ظالم كو بھى قتل كرديں تو يہ بھى راہ اصلاح ميں ايك قدم ہوتا _
بہركيف حضرت موسى كو يہ احساس ہوا كہ گزشتہ روز كا واقعہ طشت ازبام ہوگيا ہے اور اس خوف سے كہ اور زيادہ مشكلات پيدا نہ ہوں ، انھوں نے اس معاملے ميں دخل نہ ديا _

حضرت موسى عليہ السلام كے ليے سزا ئے موت
اس واقعے كى فرعون اور اس كے اہل دربار كو اطلاع پہنچ گئي انھوں نے حضرت موسى سے اس عمل كے مكرر سرزد ہونے كو اپنى شان سلطنت كے لئے ايك تہديد سمجھا _ وہ باہم مشورے كے لئے جمع ہوئے اور حضرت موسى كے قتل كا حكم صادر كرديا _
(جہاں فرعون اور اس كے اہل خانہ رہتے تھے)وہاں سے ايك شخص تيزى كے ساتھ حضرت موسى كے پاس آيا اور انھيں مطلع كيا كہ آپ كو قتل كرنے كا مشورہ ہورہا ہے ، آپ فورا شہرسے نكل جائيں ، ميں آپ كا خير خواہ ہوں_'' (1)
يہ آدمى بظاہر وہى تھا جو بعد ميں ''مومن آل فرعون ''كے نام سے مشہور ہوا ،كہا جاتاہے كہ اس كا نام حزقيل تھا وہ فرعون كے قريبى رشتہ داروں ميں سے تھا اور ان لوگوں سے اس كے ايسے قريبى روابط تھے كہ ايسے مشوروں ميں شريك ہوتا تھا _
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ قصص آيت 19
--------
299
اسے فرعون كے جرائم اور اس كى كرتوتوں سے بڑا دكھ ہوتا تھا اور اس انتظار ميں تھا كہ كوئي شخص اس كے خلاف بغاوت كرے اور وہ اس كار خير ميں شريك ہوجائے _
بظاہر وہ حضرت موسى عليہ السلام سے يہ آس لگائے ہوئے تھا اور ان كى پيشانى ميں من جانب اللہ ايك انقلابى ہستى كى علامات ديكھ رہا تھا اسى وجہ سے جيسے ہى اسے يہ احساس ہوا كہ حضرت موسى خطرے ميں ہيں ، نہايت سرعت سے ان كے پاس پہنچا اور انھيں خطرے سے بچاليا _
ہم بعد ميں ديكھيں گے كہ وہ شخص صرف اسى واقعے ميں نہيں ، بلكہ ديگر خطرناك مواقع پر بھى حضرت موسى كے لئے بااعتماد اور ہمدرد ثابت ہواحضرت موسى عليہ السلام نے اس خبر كو قطعى درست سمجھا اور اس ايماندار آدمى كى خيرخواہى كو بہ نگاہ قدر ديكھا اور اس كى نصيحت كے مطابق شہر سے نكل گئے_''اس وقت آپ خوف زدہ تھے اور ہر گھڑى انہيں كسى حادثے كا كھٹكا تھا ''_(1)
حضرت موسى عليہ السلام نے نہايت خضوع قلب كے ساتھ متوجہ الى اللہ ہوكر اس بلا كو ٹالنے كےلئے اس كے لطف وكرم كى درخواست كى :''اے ميرے پروردگار : تو مجھے اس ظالم قوم سے رہائي بخش ''_(2)
ميں جانتاہوں كہ وہ ظالم اور بے رحم ہيں ميں تو مظلوموں كى مدافعت كررہاتھا اور ظالموں سے ميرا كچھ تعلق نہ تھا اور جس طرح سے ميں نے اپنى توانائي كے مطابق مظلوموں سے ظالموں كے شركو دور كيا ہے تو بھى اے خدائے بزرگ ظالموں كے شركو مجھ سے دور ركھ _
حضرت موسى عليہ السلام نے پختہ ارادہ كرليا كہ وہ شہرمدين كو چلے جائيں يہ شہر شام كے جنوب اور حجاز كے شمال ميں تھا اور قلم رو مصر اور فراعنہ كى حكومت ميں شامل نہ تھا _

مدين كہاں تھا؟
''مدين '' ايك شہر كانام تھا جس ميں حضرت شعيب اور ان كا قبيلہ رہتا تھا يہ شہر خليج عقبہ كے مشرق ميں
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ قصص آيت21
(2)سورہ قصص آيت21
--------
300
تھا (يعنى حجاز كے شمال اور شامات كے جنوب ميں )وہاں كے باشندے حضرت اسماعيل (ع) كى نسل سے تھے وہ مصر، لبنان اور فلسطين سے تجارت كرتے تھے آج كل اس شہر كانام معان ہے (1)
نقشے كو غور سے دبكھيں تو معلوم ہوتا ہے كہ اس شہر كا مصر سے كچھ زبادہ فاصلہ نہيں ہے،اسى لئے حضرت موسى عليہ السلام چند روز ميں وہاں پہنچ گئے_
ملك اردن كے جغرافيائي نقشہ ميں، جنوب غربى شہروں ميں سے ايك شہر'' معان '' نام كا ملتا ہے ، جس كا محل وقوع ہمارے مذكورہ بالا بيان كے مطابق ہے _
ليكن وہ جوان جو محل كے اندار نازو نعم ميں پلا تھا ايك ايسے سفر پر روانہ ہو رہا تھا جيسے كہ سفر اسے كبھى زندگى بھر پيش نہ آيا تھا_
اس كے پاس نہ زادراہ تھا، نہ توشہ سفر، نہ كوئي سوارى ، نہ رفيق راہ اور نہ كوئي راستہ بتانے والا ،ہردم يہ خطرہ لاحق تھا_
كہ حكومت كے اہلكار اس تك پہنچ جائيں اور پكڑكے قتل كرديں اس حالت ميں ظاہر ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام كا كيا حال ہوگا _
ليكن حضرت موسى عليہ السلام كے لئے يہ مقدر ہوچكا تھا كہ وہ سختى اور شدت كے دنوں كو پيچھے چھوڑديں اور قصرفرعون انھيں جس جال ميں پھنسانا چاہتا تھا_
اسے توڑكر باہر نكل آئيں اور وہ كمزور اور ستم ديدہ لوگوں كے پاس رہيں ان كے درد وغم كا بہ شدت احساس كريں ور مستكبرين كے خلاف ان كى منفعت كے لئے بحكم الہى قيام فرمائيں_
--------------------------------------------------------------------------------
(1) بعض لوگ كلمہ '' مدين '' كا اطلاق اس قوم پر كرتے ہيں جو خليج عقيہ سے كوہ سينا تك سكونت پذير تھى توريت ميں بھى اس قوم كو '' مديان ''كہا گيا ہے _
بعض اہل تحقيق نے اس شہر كى وجہ تسميہ بھى لكھى ہے كہ حضرت ابراہيم (ع) كا ايك بيٹا جس كا نام '' مدين '' تھا اس شہر ميں رہتا تھا_
-----
301
اس طويل ، بے زادو راحلہ اور بے رفيق ورہنما سفر ميں ايك عظيم سرمايہ ان كے پاس تھا اور وہ تھا ايمان اور توكل برخدا _
''لہذا جب وہ مدين كى طرف چلے تو كہا : خدا سے اميد ہے كہ وہ مجھے راہ راست كى طرف ہدايت كرے گا''_(1)

ايك نيك عمل نے موسى (ع) پر بھلائيوں كے دروازے كھول ديئے
اس مقام پر ہم اس سرگزشت كے پانچوں حصے پر پہنچ گئے ہيں اور وہ موقع يہ ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام شہرمدين ميں پہنچ گئے ہيں _
يہ جوان پاكباز انسان كئي روز تك تنہا چلتا رہا يہ راستہ وہ تھا جو نہ كبھى اس نے ديكھا تھا نہ اسے طے كيا تھا بعض لوگوں كے قول كے مطابق حضرت موسى عليہ السلام مجبور تھے كہ پابرہنہ راستہ طے كريں، بيان كيا گيا ہے كہ مسلسل آٹھ روز تك چلتے رہے يہاں تك كہ چلتے چلتے ان كے پائوں ميں چھالے پڑگئے _
جب بھوك لگتى تھى تو جنگل كى گھاس اور درختوں كے پتے كھاليتے تھے ان تمام مشكلات اور زحمات ميں صرف ايك خيال سے ان كے دل كوراحت رہتى تھى كہ انھيں افق ميں شہرمدين كا منظر نظر آنے لگا ان كے دل ميں آسود گى كى ايك لہر اٹھنے لگى وہ شہر كے قريب پہنچے انہوں نے لوگوں كا ايك انبوہ ديكھا وہ فورا سمجھ گئے كہ يہ لوگ چرواہے ہيں كہ جو كنويں كے پاس اپنى بھيڑوں كو پانى پلانے آئے ہيں _
''جب حضرت موسى عليہ السلام كنويں كے قريب آئے تو انھوں نے وہاں بہت سے آميوں كو ديكھا جو كنويں سے پانى بھر كے اپنے چوپايوں كو پلارہے تھے،انھوں نے اس كنويں كے پاس دو عورتوں كو ديكھا كہ وہ اپنى بھيڑوں كو لئے كھڑى تھيں مگر كنويں كے قريب نہيں آتى تھيں''_ (2)
ان باعفت لڑكيوں كى حالت قابل رحم تھى جو ايك گوشے ميں كھڑى تھيں اور كوئي آدمى بھى ان كے
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ قصص آيت 22
(2)سورہ قصص آيت23
-----
302
ساتھ انصاف نہيں كرتا تھا چرواہے صرف اپنى بھيڑوں كى فكر ميں تھے اور كسى اور كو موقع نہيں ديتے تھے حضرت موسى عليہ السلام نے ان لڑكيوں كى يہ حالت ديكھى تو ان كے نزديك آئے اور پوچھا :
'' تم يہاں كيسے كھڑى ہو''_(1)
تم آگے كيوں نہيں بڑھتيںاور اپنى بھيڑوں كو پانى كيوں نہيں پلاتيں ؟
حضرت موسى عليہ السلام كے لئے يہ حق كشى ، ظلم وستم ، بے عدالتى اور مظلوموں كے حقوق كى عدم پاسدارى جو انھوں نے شہر مدين ميں ديكھي، قابل برداشت نہ تھى _
مظلوموں كو ظالم سے بچانا ان كى فطرت تھى اسى وجہ سے انھوں نے فرعون كے محل اور اس كى نعمتوں كو ٹھكراديا تھا اور وطن سے بے وطن ہوگئے تھے وہ اپنى اس روش حيات كو ترك نہيں كرسكتے تھے اور ظلم كو ديكھ كر خاموش نہيں رہ سكتے تھے _
لڑكيوں نے حضرت موسى عليہ السلام سے جواب ميں كہا :'' ہم اس وقت تك اپنى بھيڑوں كو پانى نہيں پلاسكتے، جب تك تمام چرواہے اپنے حيوانات كو پانى پلاكر نكل نہ جائيں ''_(2)
ان لڑكيوںنے اس بات كى وضاحت كے لئے كہ ان باعفت لڑكيوں كے باپ نے انھيں تنہا اس كام كے لئے كيوں بھيج ديا ہے يہ بھى اضافہ كيا كہ ہمارا باپ نہايت ضعيف العمرہے _
نہ تو اس ميں اتنى طاقت ہے كہ بھيڑوں كو پانى پلاسكے اور نہ ہمارا كوئي بھائي ہے جو يہ كام كرلے اس خيال سے كہ كسى پر بارنہ ہوں ہم خود ہى يہ كام كرتے ہيں _
حضرت موسى عليہ السلام كو يہ باتيں سن كر بہت كوفت ہوئي اور دل ميں كہا كہ يہ كيسے بے انصاف لوگ ہيں كہ انھيں صرف اپنى فكر ہے اور كسى مظلوم كى ذرا بھى پرواہ نہيں كرتے _
وہ آگے آئے ،بھارى ڈول اٹھايا اور اسے كنوئيں ميں ڈالا، كہتے ہيں كہ وہ ڈول اتنا بڑا تھا كہ چند
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ قصص آيت 23
(2)سورہ قصص آيت 24
-------
303
آدمى مل كر اسے كھينچ سكتے تھے ليكن حضرت موسى عليہ السلام نے اپنے قوى بازوئوں سے اسے اكيلے ہى كھينچ ليا اور ان دونوں عورتوں كى بھيڑوں كو پانى پلاديا ''_(1)
بيان كيا جاتاہے كہ جب حضرت موسى عليہ السلام كنويں كے قريب آئے اورلوگوں كو ايك طرف كيا تو ان سے كہا:'' تم كيسے لوگ ہو كہ اپنے سوا كسى اور كى پرواہ ہى نہيں كرتے ''_
يہ سن كر لوگ ايك طرف ہٹ گئے اور ڈول حضرت موسى كے حوالے كركے بولے :
'' ليجئے، بسم اللہ، اگرآپ پانى كھينچ سكتے ہيں،انھوں نے حضرت موسى عليہ السلام كو تنہاچھوڑ ديا،ليكن حضرت موسى عليہ السلام اس وقت اگرچہ تھكے ہوئے تھے،اور انھيں بھوك لگ رہى تھى مگر قوت ايمانى ان كى مدد گار ہوئي ، جس نے ان كى جسمانى قوت ميں اضافہ كرديا اور كنويں سے ايك ہى ڈول كھينچ كر ان دنوں عورتوں كى بھيڑوںكو پانى پلاديا _
اس كے بعد حضرت موسى عليہ السلام سائے ميں آبيٹھے اور بارگاہ ايزدى ميں عرض كرنے لگے :'' خداوند اتو مجھے جو بھى خيراور نيكى بخشے ، ميں اس كا محتاج ہوں ''_(2)
حضرت موسى عليہ السلام ( اس وقت ) تھكے ہوئے اور بھوكے تھے اس شہر ميں اجنبى اور تنہاتھے اور ان كے ليے كو ئي سرچھپانے كى جگہ بھى نہ تھى مگر پھر بھى وہ بے قرار نہ تھے آپ كا نفس ايسا مطمئن تھا كہ دعا كے وقت بھى يہ نہيں كہا كہ'' خدايا تو ميرے ليے ايسا ياويسا كر'' بلكہ يہ كہا كہ : تو جو خير بھى مجھے بخشے ميں اس كا محتاج ہوں '' _
يعنى صرف اپنى احتياج اور نياز كو عرض كرتے ہيں اور باقى امور الطاف خداوندى پر چھوڑديتے ہيں _
ليكن ديكھو كہ كار خير كيا قدرت نمائي كرتا ہے اور اس ميں كتنى عجيب بركات ہيں صرف ''لوجہ اللہ'' ايك قدم اٹھانے اور ايك نا آشنا مظلوم كى حمايت ميں كنويں سے پانى كے ايك ڈول كھيچنے سے حضرت موسى كي
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ قصص آيت24
(2) سورہ قصص آيت 24
--------
304
زندگى ميں ايك نياباب كھل گيا اور يہ عمل خيران كے ليے بركات مادى اور روحانى دنيا بطور تحفہ لايا اور وہ ناپيدا نعمت (جس كے حصول كےلئے انھيں برسوں كوشش كرنا پڑتى ) اللہ نے انھيں بخش دى حضرت موسى عليہ السلام كے لئے خوش نصيبى كا دور اس وقت شروع ہوا جب انھوں نے يہ ديكھا كہ ان دونوں بہنوں ميں سے ايك نہايت حياسے قدم اٹھاتى ہوئي آرہى ہے اس كى وضع سے ظاہر تھا كہ اسكوايك جوان سے باتيں كرتے ہوئے شرم آتى ہے وہ لڑكى حضرت موسى عليہ السلام كے قريب آئي اور صرف ايك جمكہ كہا : ميرے والد صاحب آپ كو بلاتے ہيں تاكہ آپ نے ہمارى بكريوں كے لئے كنويں سے جو پانى كھينچا تھا ، اس كا معاوضہ ديں ''_(1)
يہ سن كر حضرت موسى عليہ السلام كے دل ميں اميد كى بجلى چمكى گوياانھيں يہ احساس ہوا كہ ان كے لئے ايك عظيم خوش نصيبى كے اسباب فراہم ہورہے ہيں وہ ايك بزرگ انسان سے مليں گے وہ ايك ايسا حق شناس انسان معلوم ہوتا ہے جو يہ بات پسند نہيں كرتا كہ انسان كى كسى زحمت كا، يہاں تك كہ پانى كے ايك ڈول كھيچنے كا بھى معاوضہ نہ دے يہ ضرور كوئي ملكوتى اور الہى انسان ہوگا يا اللہ يہ كيسا عجيب اور نادر موقع ہے ؟
بيشك وہ پير مرد حضرت شعيب(ع) پيغمبر تھے انہوں نے برسوں تك اس شہر كے لوگوں كو'' رجوع الى اللہ''كى دعوت دى تھى وہ حق پرستى اور حق شناسى كا نمونہ تھے _
جب انھيں كل واقعے كا علم ہوا تو انھوں نے تہيہ كرليا كہ اس اجنبى جوان كو اپنے دين كى تبليغ كريں گے _

حضرت موسى (ع) جناب شعيب(ع) كے گھر ميں
چنانچہ حضرت موسى عليہ السلام اس جگہ سے حضرت شعيب كے مكان كى طرف روانہ ہوئے _
بعض روايات كے مطابق وہ لڑكى رہنمائي كے لئے ان كے آگے چل رہى تھى اور حضرت موسى عليہ السلام اس كے پيچھے چل رہے تھے اس وقت تيز ہوا سے اس لڑكى كا لباس اڑرہا تھا اور ممكن تھا كہ ہوا كى تيزي
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ قصص آيت 25
-----
305
لباس كو اس كے جسم سے اٹھادے حضرت موسى (ع) كى پاكيزہ طبيعت اس منظر كو ديكھنے كى اجازت نہيں ديتى تھي،اس لڑكى سے كہا:ميں آگے آگے چلتا ہوں،تم راستہ بتاتے رہنا_
جب جناب موسى عليہ السلام حضرت شعيب عليہ السلام كے گھر پہنچ گئے ايسا گھر جس سے نور نبوت ساطع تھا اور اس كے ہر گوشے سے روحانيت نماياں تھى انھوں نے ديكھا كہ ايك پير مرد، جس كے بال سفيد ہيں ايك گوشے ميں بيٹھا ہے اس نے حضرت موسى عليہ السلام كو خوش آمديد كہا اور پوچھا:
'' تم كون ہو ؟ كہاں سے آرہے ہو ؟ كيا مشغلہ ہے ؟ اس شہر ميں كيا كرتے ہو ؟ اور آنے كا مقصد كيا ہے ؟ تنہا كيوں ہو ؟
حضرت موسى عليہ السلام نے حضرت شعيب عليہ السلام كے پاس پہنچے اور انھيں اپنى سرگزشت سنائي تو حضرت شعيب عليہ السلام نے كہا مت ڈرو، تمہيں ظالموں كے گروہ سے نجات مل گئي ہے _'' (1)
ہمارى سرزمين ان كى حدود سلطنت سے باہر ہے يہاں ان كا كوئي اختيار نہيں چلتا اپنے دل ميں ذرہ بھر پريشانى كو جگہ نہ دينا تم امن وامان سے پہنچ گئے ہو مسافرت اور تنہائي كا بھى غم نہ كرو يہ تمام مشكلات خدا كے كرم سے دور ہوجائيں گى _ حضرت مو سى عليہ السلام فورا ًسمجھ گئے كہ انھيں ايك عالى مرتبہ استاد مل گيا ہے، جس كے وجود سے روحانيت ، تقوى ، معرفت اور زلال عظيم كے چشمے پھوٹ رہے ہيں اور يہ استاد ان كى تشنگى تحصيل علم ومعرفت كو سيراب كرسكتا ہے _
حضرت شعيب عليہ السلام نے بھى يہ سمجھ ليا كہ انھيں ايك لائق اور مستعد شاگرد مل گيا ہے، جسے وہ اپنے علم ودانش اور زندگى بھر كے تجربات سے فيض ياب كرسكتے ہيں _
يہ مسلم ہے كہ ايك شاگرد كو ايك بزرگ اور قابل استاد پاكر جتنى مسرت ہوتى ہے استاد كو بھى ايك لائق شاگرد پاكر اتنى ہى خوشى ہوتى ہے_
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ قصص آيت 25
-------
306

جناب موسى عليہ السلام حضرت شعيب (ع) كے داماد بن گئے
اب حضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے چھٹے دور كا ذكر شروع ہوتا ہے حضرت موسى عليہ السلام جناب شعيب عليہ السلام كے گھر آگئے يہ ايك سادہ ساديہاتى مكان تھا، مكان صاف ستھرا تھا اور روحانيت سے معمور تھا جب حضرت موسى عليہ السلام نے جناب شعيب عليہ السلام كو اپنى سرگزشت سنائي تو ان كى ايك لڑكى نے ايك مختصر مگر پر معنى عبارت ميں اپنے والد كے سامنے يہ تجويز پيش كى كہ موسى عليہ السلام كو بھيڑوں كى حفاظت كے لئے ملازم ركھ ليں وہ الفاظ يہ تھے :
اے بابا : آپ اس جوان كو ملازم ركھ ليں كيونكہ ايك بہترين آدمى جسے آپ ملازم ركھ سكتے ہيں وہ ايسا ہونا چاہئے جو قوى اور امين ہو اور اس نے اپنى طاقت اور نيك خصلت دونوں كا امتحان دے ديا ہے'' _(1)
جس لڑكى نے ايك پيغمبر كے زيرسايہ تربيت پائي ہوا سے ايسى ہى مو دبانہ اور سوچى سمجھى بات كہنى چاہئے نيز چاہئے كہ مختصر الفاظ اور تھوڑى سى عبارت ميں اپنا مطلب ادا كردے _
اس لڑكى كو كيسے معلوم تھا كہ يہ جوان طاقتور بھى ہے اور نيك خصلت بھى كيونكہ اس نے پہلى باركنويں پر ہى اسے ديكھا تھا اور اس كى گزشتہ زندگى كے حالات سے وہ بے خبر تھي؟
اس سوال كا جواب واضح ہے اس لڑكى نے اس جوان كى قوت كو تو اسى وقت سمجھ ليا تھا جب اس نے ان مظلوم لڑكيوں كا حق دلانے كے لئے چرواہوں كو كنويں سے ايك طرف ہٹايا تھا اور اس بھارى ڈول كو اكيلے ہى كنويں سے كھينچ ليا تھا اور اس كى امانت اور نيك چلنى اس وقت معلوم ہوگئي تھى كہ حضرت شعيب عليہ السلام كے گھر كى راہ ميں اس نے يہ گوارا نہ كيا كہ ايك جوان لڑكى اس كے آگے آگے چلے كيونكہ ممكن تھا كہ تيز ہوا سے اس كا لباس جسم سے ہٹ جائے _
علاوہ بريں اس نوجوان نے اپنى جو سرگزشت سنائي تھى اس كے ضمن ميں قبطيوں سے لڑائي كے ذكر
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ قصص ايت 26
------
307
ميں اس كى قوت كا حال معلوم ہوگيا تھا اور اس امانت وديانت كى يہ شہادت كافى تھى كہ اس نے ظالموں كى ہم نوائي نہ كى اور ان كى ستم رانى پر اظہار رضا مندى نہ كيا _
حضرت شعيب عليہ السلام نے اپنى بيٹى كى تجويز كو قبول كرليا انھوں نے موسى (ع) كى طرف رخ كركے يوں كہا :''ميرا ارادہ ہے كہ اپنى ان دولڑكيوں ميں سے ايك كا تيرے ساتھ نكاح كردوں، اس شرط كے ساتھ كہ تو آٹھ سال تك ميرى خدمت كرے ''_(1)
اس كے بعد يہ اضافہ كيا:'' اگر تو آٹھ سال كى بجائے يہ خدمت دس سال كردے تو يہ تيرا احسان ہوگا مگر تجھ پر واجب نہيں ہے :''(2)
بہرحال ميں يہ نہيں چاہتا كہ تم سے كوئي مشكل كام لوں انشاء اللہ تم جلد ديكھو گے كہ ميں صالحين ميں سے ہوں ، اپنے عہدوپيمان ميں وفادار ہوں تيرے ساتھ ہرگز سخت گيرى نہ كروں گا اور تيرے ساتھ خيراور نيكى كا سلوك كروں گا _(3)
حضرت موسى عليہ السلام نے اس تجويزاور شرط سے موافقت كرتے ہوئے اور عقد كو قبول كرتے ہوئے كہا : '' ميرے اور آپ كے درميان يہ عہد ہے '' _ البتہ'' ان دومدتوں ميں سے (آٹھ سال يا دس سال ) جس مدت تك بھى خدمت كروں ، مجھ پر كوئي زيادتى نہ ہوگى اور ميںاس كے انتخاب ميں آزاد ہوں''_ (4)
عہد كو پختہ اور خدا كے نام سے طلب مدد كے لئے يہ اضافہ كيا : ''جو كچھ ہم كہتے ہيں خدا اس پر شاہد ہے ''_(5)
اوراس اسانى سے موسى عليہ السلام داماد شعيب(ع) بن گئے حضرت شعيب عليہ السلام كى لڑكيوں كا نام '' صفورہ ''( يا صفورا ) اور '' ليا ''بتايا جاتاہے حضرت موسى عليہ السلام كى شادى '' صفورہ '' سے ہوئي تھى _
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ قصص آيت 27
(2)سورہ قصص آيت 27
(3)سورہ قصص آيت 27
(4) سورہ قصص آيت 28
(5)سورہ قصص آيت 28
-------
308

حضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے بہترين ايام
كوئي آدمى بھى حقيقتاً يہ نہيں جانتا كہ ان دس سال ميں حضرت موسى عليہ السلام پر كيا گزرى ليكن بلاشك يہ دس سال حضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے بہترين سال تھے يہ سال دلچسپ، شيريں اور آرام بخش تھے نيز يہ دس سال ايك منصب عظيم كى ذمہ دارى كے لئے تربيت اور تيارى كے تھے _
درحقيقت اس كى ضرورت بھى تھى كہ موسى عليہ السلام دس سال كا عرصہ عالم مسافرت اور ايك بزرگ پيغمبر كى صحبت ميں بسر كريں اور چرواہے كاكام كريں تاكہ ان كے دل ودماغ سے محلول كى ناز پروردہ زندگى كا اثر بالكل محوہوجائے حضرت موسى كو اتنا عرصہ جھونپڑيوں ميں رہنے والوں كے ساتھ گزارنا ضرورى تھا تاكہ ان كى تكاليف اور مشكلات سے آگاہ ہوجائے اور ساكنان محلول كے ساتھ جنگ كرنے كے لئے آمادہ ہوجائيں_
ايك اور بات يہ بھى ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام كو اسرار آفرينش ميں غور كرنے اور اپنى شخصيت كى تكميل كے لئے بھى ايك طويل وقت كى ضرورت تھى اس مقصد كے لئے بيابان مدين اور خانہ شعيب سے بہتر اور كو نسى جگہ ہوسكتى تھى _
ايك اولوالعزم پيغمبر كى بعثت كوئي معمولى بات نہيں ہے كہ يہ مقام كسى كو نہايت آسانى سے نصيب ہوجائے بلكہ يہ كہہ سكتے ہيں كہ پيغمبر اسلام (ص) كے بعد تمام پيغمبروں ميں سے حضرت موسى عليہ السلام كى ذمہ دارى ايك لحاظ سے سب سے زيادہ اہم تھى اس لئے كہ :
روئے زمين كے ظالم ترين لوگوں سے مقابلہ كرنا، ايك كثير الا فراد قوم كى مدت اسيرى كو ختم كرنا _
اور ان كے اندر سے ايام اسيرى ميں پيدا ہوجانے والے نقائص كو محو كرنا كوئي آسان كام نہيں ہے _
حضرت شعيب عليہ السلام نے موسى عليہ السلام كى مخلصانہ خدمات كى قدر شناسى كے طور پر يہ طے كرليا تھا كہ بھيڑوں كے جو بچے ايك خاص علامت كے ساتھ پيداہوں گے، وہ موسى عليہ السلام كو ديديں گے،اتفاقاًمدت مو عود كے آخرى سال ميں جبكہ موسى عليہ السلام حضرت شعيب عليہ السلام سے رخصت ہو كر
------
309
مصر كو جانا چاہتے تھے تو تمام يا زيادہ تر بچے اسى علامت كے پيدا ہوئے اور حضرت شعيب عليہ السلام نے بھى انھيں بڑى محبت سے موسى عليہ السلام كو دےديا _
يہ امر بديہى ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام اپنى سارى زندگى چرواہے بنے رہنے پر قناعت نہيں كرسكتے تھے ہر چند ان كے لئے حضرت شعيب عليہ السلام كے پاس رہنا بہت ہى غنيمت تھا مگر وہ اپنا يہ فرض سمجھتے تھے كہ اپنى اس قوم كى مدد كے لئے جائيں جو غلامى كى زنجيروں ميں گرفتارہے اور جہالت نادانى اور بے خبرى ميں غرق ہے _
حضرت موسى عليہ السلام اپنا يہ فرض بھى سمجھتے تھے كہ مصر ميں جو ظلم كا بازار گرم ہے اسے سرد كريں،طاغوتوںكو ذليل كريں اور توفيق الہى سے مظلوموں كو عزت بخشيں ان كے قلب ميں يہى احساس تھا جو انھيں مصر جانے پر آمادہ كررہا تھا _
آخركار انھوں نے اپنے اہل خانہ، سامان واسباب اور اپنى بھيڑوں كو ساتھ ليا اوراس وقت موسى عليہ السلام كے ساتھ ان كى زوجہ كے علاوہ ان كا لڑكا يا كوئي اور اولاد بھى تھي، اسلامى روايات سے بھى اس كى تائيد ہوتى ہے تو ريت كے '' سفر خروج '' ميں بھى ذكر مفصل موجود ہے علاوہ ازيں اس وقت ان كى زوجہ اميد سے تھى _

وحى كى تابش اول
جب حضرت موسى عليہ السلام مدين سے مصر كو جارہے تھے تو راستہ بھول گئے يا غالبا ًشام كے ڈاكوئوں كے ہاتھ ميں گرفتار ہوجانے كے خوف سے بوجہ احتياط رائج راستے كو چھوڑكے سفر كررہے تھے _
بہركيف قرآن شريف ميں يہ بيان اس طور سے ہے كہ :''جب موسى عليہ السلام اپنى مدت كو ختم كرچكے اور اپنے خاندان كو ساتھ لے كر سفر پر روانہ ہوگئے تو انھيں طور كى جانب سے شعلہ آتش نظر آيا _
حضرت موسى عليہ السلام نے اپنے اہل خاندان سے كہا :'' تم يہيں ٹھہرو'' مجھے آگ نظر آئي ہے ميں
------
310
جاتاہوں شايد تمہارے لئے وہاں سے كوئي خبرلائوں يا آگ كا ايك انگارالے آئوں تاكہ تم اس سے گرم ہوجائو''_(1)
''خبر لائوں'' سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ وہ راستہ بھول گئے تھے اور ''گرم ہوجائو''يہ اشارہ كررہاہے كہ سرد اور تكليف دہ رات تھى _
قرآن ميں حضرت موسى عليہ السلام كى زوجہ كى حالت كا كوئي ذكر نہيں ہے مگر تفاسير اور روايات ميں مذكورہے كہ وہ اميد سے تھيں اور انہيں دروازہ ہورہا تھا اس لئے موسى عليہ السلام پريشان تھے _
حضرت موسى عليہ السلام جس وقت آگ كى تلاش ميں نكلے تو انھوں نے ديكھا كہ آگ تو ہے مگر معمول جيسى آگ نہيں ہے، بلكہ حرارت اور سوزش سے خالى ہے وہ نور اور تابندگى كا ايك ٹكڑا معلوم ہوتى تھى ،حضرت موسى عليہ السلام اس منظر سے نہايت حيران تھے كہ ناگہاں اس بلندو پُر بركت سرزمين ميں وادى كے دا ھنى جانب سے ايك درخت ميں سے آواز آئي: ''اے موسى ميں اللہ رب العالمين ہوں ''_(2)
اس ميں شك نہيں كہ يہ خدا كے اختيار ميں ہے كہ جس چيز ميں چاہے قوت كلام پيدا كردے يہاں اللہ نے درخت ميں يہ استعداد پيدا كردى كيونكہ اللہ موسى عليہ السلام سے باتيں كرنا چاہتا تھا ظاہر ہے كہ موسى عليہ السلام گوشت پوست كے انسان تھے، كان ركھتے تھے اور سننے كے لئے انہيں امواج صوت كى ضروت تھى البتہ انبياء عليہم السلام پر اكثر يہ حالت بھى گزرى ہے كہ وہ بطور الہام درونى پيغام الہى كو حاصل كرتے رہے ہيں ،اسى طرح كبھى انھيں خواب ميں بھى ہدايت ہوتى رہى ہے مگر كبھى وہ وحى كو بصورت صدا بھى سنتے رہے ہيں، بہر كيف حضرت موسى عليہ السلام نے جو آواز سنى اس سے ہم ہرگز يہ نتيجہ نہيں نكال سكتے كہ خدا جسم ركھتا ہے _

اے موسى جوتى اتاردو
موسى عليہ السلام جب آگ كے پاس گئے اور غور كيا توديكھا كہ درخت كى سبز شاخوں ميں آگ
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ قصص ايت29
(2)سورہ قصص آيت 30
-----
311
چمك رہى ہے اور لحظہ بہ لحظہ اس كى تابش اور درخشندگى بڑھتى جاتى ہے جو عصا ان كے ہاتھ ميں تھا اس كے سہارے جھكے تاكہ اس ميں سے تھوڑى سى آگ لے ليں تو آگ موسى عليہ السلام كى طرف بڑھى موسى عليہ السلام ڈرے اور پيچھے ہٹ گئے اس وقت حالت يہ تھى كہ كبھى موسى عليہ السلام آگ كى طرف بڑھتے تھے اور كبھى آگ ان كى طرف، اسى كشمكش ميں ناگہاں ايك صدا بلند ہوئي ،اور انھيں وحى كى بشارت دى گئي _
اس طرح ناقابل انكار قرائن سے حضرت موسى عليہ السلام كو يقين ہوگيا كہ يہ آواز خدا ہى كى ہے، كسى غير كى نہيں ہے _
''ميں تيرا پروردگار ہوں، اپنے جوتے اتاردے كيونكہ تو مقدس سرزمين ''طوى ''ميں ہے ''_(1)
موسى عليہ السلام كو اس مقدس سرزمين كے احترام كا حكم ديا گيا كہ اپنے پائوں سے جوتے اتاردے اور اس وادى ميں نہايت عجزوانكسارى كے ساتھ قدم ركھے حق كو سنے اور فرمان رسالت حاصل كرے _
موسى عليہ السلام نے يہ آوازكہ '' ميں تيرا پروردگار ہوں '' سنى تو حيران رہ گئے اور ايك ناقابل بيان پر كيف حالت ان پر طارى ہوگئي، يہ كون ہے ؟ جو مجھ سے باتيں كررہا ہے ؟ يہ ميرا پروردگارہے، كہ جس نے لفظ'' ربك '' كے ساتھ مجھے افتخار بخشا ہے تاكہ يہ ميرے لئے اس بات كى نشاندہى كرے كہ ميں نے آغاز بچپن سے لے كر اب تك اس كى آغوش رحمت ميں پرورش پائي ہے اور ايك عظيم رسالت كے لئے تياركيا گيا ہوں _''
حكم ملاكہ پائوں سے اپنا جوتا اتار دو، كيونكہ تو نے مقدس سرزمين ميں قدم ركھا ہے وہ سرزمين كہ جس ميں نور الہى جلوہ گرہے ، وہاں خدا كا پيغام سننا ہے ، اور رسالت كى ذمہ دارى كو قبول كرنا ہے، لہذا انتہائي خضوع اور انكسارى كے ساتھ اس سرزمين ميں قدم ركھو ،يہ ہے دليل پائوں سے جوتا اتارنے كى _
ايك حديث ميں امام صادق عليہ السلام سے ،حضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے اس واقعہ سے
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ طہ آيت 12
----
312
متعلق ايك عمدہ مطلب نقل ہوا ہے ،آپ فرماتے ہيں :
جن چيزوں كى تمہيں اميد نہيں ہے ان كى ان چيزوں سے بھى زيادہ اميد ركھو كہ جن كى تمہيں اميد ہے كيونكہ موسى بن عمران ايك چنگارى لينے كے لئے گئے تھے ليكن عہدہ نبوت ورسالت كے ساتھ واپس پلٹے يہ اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ اكثر ايسا ہوتا ہے كہ انسان كسى چيز كى اميد ركھتا ہے مگر وہ اسے حاصل نہيں ہوتى ليكن بہت سى اہم ترين چيزيں جن كى اسے كوئي اميد نہيں ہوتى لطف پروردگار سے اسے مل جاتى ہيں _

موسى عليہ السلام كا عصا اور يد بيضا
اس ميں شك نہيں كہ انبياء عليہم السلام كو اپنے خدا كے ساتھ ربط ثابت كرنے كے لئے معجزے كى ضرورت ہے ، ورنہ ہر شخص پيغمبر ى كا دعوى كرسكتا ہے اس بناء پر سچے انبياء عليہم السلام كا جھوٹوں سے امتياز معجزے كے علاوہ نہيں ہوسكتا، يہ معجزہ خود پيغمبر كى دعوت كے مطالب اور آسمانى كتاب كے اندر بھى ہوسكتا ہے اور حسى اور جسمانى قسم كے معجزات اوردوسرے امور ميں بھى ہوسكتے ہيں علاوہ ازيں معجزہ خود پيغمبر كى روح پر بھى اثرانداز ہوتا ہے اور وہ اسے قوت قلب، قدرت ايمان اور استقامت بخشتا ہے _
بہرحال حضرت موسى عليہ السلام كو فرمان نبوت ملنے كے بعد اس كى سند بھى ملنى چاہئے، لہذا اسى پُر خطر رات ميں جناب موسى عليہ السلام نے دو عظيم معجزے خدا سے حاصل كئے _
قرآن اس ماجرے كو اس طرح بيان كرتا ہے :
''خدا نے موسى سے سوال كيا : اے موسى يہ تيرے دائيں ہاتھ ميں كيا ہے ''؟_(1)
اس سادہ سے سوال ،ميں لطف ومحبت كى چاشنى تھى ، فطرتاً موسى عليہ السلام، كى روح ميں اس وقت طوفانى لہريں موجزن تھيں ايسے ميں يہ سوال اطمينان قلب كے لئے بھى تھا اورايك عظيم حقيقت كو بيان كرنے كى تمہيد بھى تھا _''موسى عليہ السلام نے جواب ميں كہا: يہ لكڑى ميرا عصا ہے ''_(2)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ طہ آيت 17
(2)سورہ طہ آيت 18
-------
313
اور چونكہ محبوب نے ان كے سامنے پہلى مرتبہ يوں اپنا دروازہ كھولا تھا لہذا وہ اپنے محبوب سے باتيں جارى ركھنا اور انہيں طول دينا چاہتے تھے اور اس وجہ سے بھى كہ شايد وہ يہ سوچ رہے تھے كہ ميرا صرف يہ كہنا كہ يہ ميرا عصا ہے، كافى نہ ہو بلكہ اس سوال كا مقصد اس عصا كے آثار و فوائد كو بيان كرنا مقصودہو، لہذا مزيد كہا : ''ميں اس پرٹيك لگاتاہوں، اور اس سے اپنى بھيڑوں كے لئے درختوں سے پتے جھاڑتا ہوں ،اس كے علاوہ اس سے دوسرے كام بھى ليتا ہوں ''_(1)
البتہ يہ بات واضح اور ظاہر ہے كہ عصا سے كون كون سے كام ليتے ہيں كبھى اس سے موذى جانوروں اور دشمنوں كا مقابلہ كرنے كے لئے ايك دفاعي، ہتھيار كے طور پر كام ليتے ہيں كبھى اس كے ذريعے بيابان ميں سائبان بنا ليتے ہيں ، كبھى اس كے ساتھ برتن باندھ كر گہرى نہرسے پانى نكالتے ہيں _
بہرحال حضرت موسى عليہ السلام ايك گہرے تعجب ميں تھے كہ اس عظيم بارگاہ سے يہ كس قسم كا سوال ہے اور ميرے پاس اس كا كيا جواب ہے ، پہلے جو فرمان ديئےئے تھے وہ كيا تھے ، اور يہ پرسش كس لئے ہے ؟
موسى سے كہا گيا كہ : اپنے عصا كو زمين پرڈال دو '' چنانچہ موسى عليہ السلام نے عصا كو پھينك ديا اب كيا ديكھتے ہيں كہ وہ عصا سانپ كى طرح تيزى سے حركت كررہا ہے يہ ديكھ كر موسى عليہ السلام ڈرے اور پيچھے ہٹ گئے يہاں تك كہ مڑكے بھى نہ ديكھا '' _(2)
جس دن حضرت موسى عليہ السلام نے يہ عصا ليا تھا تاكہ تھكن كے وقت اس كا سہارا لے ليا كريں ،اور بھيڑوں كے لئے اس سے پتے جھاڑليا كريں، انھيں يہ خيال بھى نہ تھا كہ قدرت خدا سے اس ميں يہ خاصيت بھى چھپى ہوئي ہوگى اور يہ بھيڑوں كو چرانے كى لاٹھى ظالموں كے محل كو ہلادے گى _
موجودات عالم كا يہى حال ہے كہ وہ بعض اوقات ہمارى نظر ميں بہت حقير معلوم ہوتى ہيں مگرا ن ميں بڑى بڑى استعداد چھپى ہوتى ہے جو كسى وقت خدا كے حكم سے ظاہر ہوتى ہے _
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ طہ آيت18
(2) سورہ قصص آيت 31
------
314
اب موسى عليہ السلام نے دوبارہ آواز سنى جو ان سے كہہ رہى تھى :'' واپس آ اور نہ ڈر توامان ميں ہے''_(1)(2)
بہرحال حضرت موسى عليہ السلام پر يہ حقيقت آشكار ہوگئي كہ درگاہ رب العزت ميں مطلق امن وامان ہے اور كسى قسم كے خوف وخطر كا مقام نہيں ہے_

انذار و بشارت
حضرت موسى عليہ السلام كو جو معجزات عطا كئے گئے ان ميں سے پہلا معجزہ خوف كى علامت پر مشتمل تھا اس كے بعد موسى كو حكم ديا گيا كہ اب ايك دوسرا معجزہ حاصل كرو جو نورواميد كى علامت ہوگا اور يہ دونوں معجزہ گويا ''انذار اوربشارت'' تھے_
موسى عليہ السلام كو حكم ديا گيا كہ'' اپنا ہاتھ اپنے گريبان ميں ڈالو اور باہر نكا،لو موسى عليہ السلام نے جب گريبان ميں سے ہاتھ باہر نكالا تو وہ سفيد تھا اور چمك رہا تھا اور اس ميں كوئي عيب اور نقص نہ تھا ''_(3)
حضرت موسى عليہ السلام كے ہاتھ ميں يہ سفيدى اور چمك كسى بيمارى (مثلا ''برص يا كوئي اس جيسى چيز) كى وجہ سے نہ تھى بلكہ يہ نور الہى تھا جو بالكل ايك نئي قسم كا تھا_
جب حضرت موسى عليہ السلام نے اس سنسان كو ہسار اور اس تاريك رات ميں يہ دوخارق عادت
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ قصص آيت31
(2) البتہ قرآن كى بعض دوسرى آيات ميں '' ثعبان مبين'' (واضح ادھا) بھى كہا گيا ہے _(اعراف 107 شعراء 32)
ہم نے قبل ازيں كہا ہے كہ اس سانپ كے لئے جو يہ دوالفاظ استعمال ہوئے ہيں ممكن ہے اس كى دو مختلف حالتوں كے لئے ہوں كہ ابتدا ميں وہ چھوٹا سا ہو اور پھر ايك بڑا ادھا بن گيا ہو اس مقام پر يہ احتمال بھى ہوسكتا ہے كہ موسى نے جب واوي طور ميں اسے پہلى بار ديكھا تو چھوٹا سا سانپ تھا، رفتہ رفتہ وہ بڑا ہوگيا _
(3)سورہ قصص آيت31
--------
315
اور خلاف معمول چيزيں ديكھيں تو ان پر لرزہ طارى ہوگيا، چنانچہ اس لئے كہ ان كا اطمينان قلب واپس اجائے انھيں حكم ديا گيا كہ'' اپنے سينے پر اپنا ہاتھ پھريں تاكہ دل كو راحت ہوجائے ''_(1)
اس كے بعد موسى عليہ السلام نے پھروہى صدا سنى جو كہہ رہى تھى :'' خدا كى طرف سے تجھے يہ دودليليں فرعون اور اس كے ساتھيوں كے مقابلے كے لئے دى جارى ہيں كيونكہ وہ سب لوگ فاسق تھے اور ہيں ''_(2)
جى ہاںيہ لوگ خدا كى طاعت سے نكل گئے ہيں اور سركشى كى انتہا تك جاپہنچے ہيں تمہارا فرض ہے كہ انھيں نصيحت كرو اور راہ راست كى تبلغ كرو اور اگر وہ تمہارى بات نہ مانيں تو ان سے جنگ كرو_

كاميابى كے اسباب كى درخواست
موسى عليہ السلام اس قسم كى سنگين مامورريت پر نہ صرف گھبرائے نہيں،بلكہ معمولى سى تخفيف كےلئے بھى خدا سے درخواست نہ كي، اور كھلے دل سے اس كا استقبال كيا ،زيادہ سے زيادہ اس ماموريت كے سلسلے ميں كاميابى كے وسائل كى خدا سے درخواست كى اور چونكہ كاميابى كا پلااور ذريعہ، عظيم روح، فكر بلند اور عقل توانا ہے، اور دوسرے لفظوں ميں سينہ كى كشاد گى وشرح صدر ہے لہذا ''عرض كيا ميرے پروردگار ميرا سينہ كشادہ كردے ''_(3)
ہاں ، ايك رہبر انقلاب كا سب سے اولين سرمايہ ، كشادہ دلى ، فراوان حوصلہ، استقامت وبرد بارى اور مشكلات كے بوجھ كو اٹھاناہے _
اور چونكہ اس راستے ميں بے شمار مشكلات ہيں، جو خدا كے لطف وكرم كے بغير حل نہيں ہوتيں، لہذا خدا سے دوسرا سوال يہ كيا كہ ميرے كاموں كو مجھ پر آسان كردے اور مشكلات كو راستے سے ہٹادے آپ نے عرض كيا : ''ميرے كام كو آسان كردے ''_(4)
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ قصص آيت 32
(2)سورہ قصص آيت 32
(3)سورہ طہ آيت23
(4)سورہ طہ آيت27
-----
316
اس كے بعد جناب موسى عليہ السلام نے زيادہ سے زيادہ قوت بيان كا تقاضا كيا كہنے لگے:'' ميرى زبان كى گرہ كھول دے'' _(1)
يہ ٹھيك ہے كہ شرح صدر كا ہونا بہت اہم بات ہے ، ليكن يہ سرمايہ اسى صورت ميں كام دے سكتا ہے جب اس كو ظاہر كرنے كى قدرت بھى كامل طور پر موجود ہو، اسى بناء پر جناب موسى عليہ السلام نے شرح صدر اور ركاوٹوں كے دور ہونے كى در خواستوں كے بعد يہ تقاضا كيا كہ خدا ان كى زبان كى گرہ كھول دے _
اور خصوصيت كے ساتھ اس كى علت يہ بيان كى :'' تاكہ وہ ميرى باتوں كو سمجھيں''_ (2)
يہ جملہ حقيقت ميں پہلى بات كى تفسير كرر ہاہے اس سے يہ بات واضح ہورہى ہے كہ زبان كى گرہ كے كھلنے سے مراد يہ نہ تھى كہ موسى عليہ السلام كى زبان ميں بچپنے ميں جل جانے كى وجہ سے كوئي لكنت آگئي تھى (جيسا كہ بعض مفسرين نے ابن عباس سے نقل كيا ہے)بلكہ اس سے گفتگو ميں ايسى ركاوٹ ہے جو سننے والے كے لئے سمجھنے ميں مانع ہوتى ہے يعنى ميں ايسى فصيح وبليغ اور ذہن ميں بيٹھ جانے والى گفتگو كروں گہ ہر سننے والا ميرا مقصد اچھى طرح سے سمجھ لے _

ميرا بھائي ميراناصر ومددگار
بہرحال ايك كامياب رہبر ورہنما وہ ہوتا ہے كہ جو سعي ، فكر اور قدرت روح كے علاووہ ايسى فصيح وبليغ گفتگو كرسكے كہ جو ہر قسم كے ابہام اور نارسائي سے پاك ہو _
نيز اس بار سنگين كے لئے _ يعنى رسالت الہي، رہبرى بشر اور طاغوتوں اور جابروں كے ساتھ مقابلے كے لئے يارومددگار كى ضرورت ہے اور يہ كام تنہاانجام دينا ممكن نہيں ہے لہذا حضرت موسى (ع) نے پروردگار سے جو چوتھى درخواست كى :
''خداونداميرے لئے ميرے خاندان ميں سے ايك وزيراور مددگار قراردے''_(3)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ طہ آيت27
(2)سورہ طہ آيت28
(3)سورہ طہ آيت29
-----
317
البتہ يہ بات كہ حضرت موسى عليہ السلام تقاضا كررہے ہيں كہ يہ وزير ان ہى كے خاندان سے ہو، اس كى دليل واضح ہے چونكہ اس كے بارے ميں معرفت اور شناخت بھى زيادہ ہوگى اور اس كى ہمدردياں بھى دوسروں كى نسبت زيادہ ہوں گى كتنى اچھى بات ہے كہ انسان كسى ايسے شخص كو اپنا شريك كار بنائے كہ جو روحانى اور جسمانى رشتوں كے حوالے سے اس سے مربوط ہو_
اس كے بعد خصوصى التماس كے بعد خصوصى طور پر اپنے بھائي كى طرف اشارہ كرتے ہوئے عرض كيا : ''يہ ذمہ دارى ميرے بھائي ہارون كے سپرد كردے ''_(1)
ہارون بعض مفسرين كے قول كے مطابق حضرت موسى عليہ السلام كے بڑے بھائي تھے اور ان سے تين سال بڑے تھے بلند قامت فصيح البيان اور اعلى علمى قابليت كے مالك تھے، انہوں نے حضرت موسى عليہ السلام كى وفات سے تين سال پہلے رحلت فرمائي _(2)
اور وہ نور اور باطنى روشنى كے بھى حامل تھے، اور حق وباطل ميں خوب تميز بھى ركھتے تھے _(3)
آخرى بات يہ ہے كہ وہ ايك ايسے پيغمبر تھے جنہيں خدا نے اپنى رحمت سے موسى عليہ السلام كو بخشا تھا_(4)
وہ اس بھارى ذمہ دارى كى انجام دہى ميں اپنے بھائي موسى عليہ السلام كے دوش بدوش مصروف كار ہے _
يہ ٹھيك ہے كہ موسى عليہ السلام نے اس اندھيرى رات ميں، اس وادي مقدس كے اندر، جب خدا سے فرمان رسالت كے ملنے كے وقت يہ تقاضا كيا ، تو وہ اس وقت دس سال سے بھى زيادہ اپنے وطن سے دور
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ طہ آيت31
(2)جيسا كہ سورہ مومنون كى آيہ 45 ميں بيان ہوا ہے : (ثم ارسلنا موسى واخاہ ہارون بايا تنا وسلطان مبين )
(3) جيسا كہ سورہ انبياء كى آيہ 48 ميں بيان ہوا ہے : (ولقد اتينا موسى وہارون الفرقان وضيائ)
(4) (وو ہبنالہ من رحمتنا اخاہ ہارون نبيا) (سورہ مريم آيت 53)
--------
318
گزار كر آرہے تھے، ليكن اصولى طور پر اس عرصہ ميں بھى اپنے بھائي كے ساتھ ان كارابطہ كامل طور پر منقطع نہ ہو، اسى لئے اس صراحت اور وضاحت كے ساتھ ان كے بارے ميں بات كررہے ہيں، اور خدا كى درگاہ سے اس عظيم مشن ميں اس كى شركت كے لئے تقاضا ركرہے ہيں_
اس كے بعد جناب موسى عليہ السلام ہارون كو وزارت ومعاونت پر متعين كرنے كےلئے اپنے مقصد كو اس طرح بيان كرتے ہيں : ''خداوندا ميرى پشت اس كے ذريعے مضبوط كردے''_(1)
اس مقصد كى تكميل كے لئے يہ تقاضا كرتے ہيں: '' اسے ميرے كام ميں شريك كردے_''(2)
وہ مرتبہ رسالت ميں بھى شريك ہو اور اس عظيم كام كو رو بہ عمل لانے ميں بھى شريك رہيں، البتہ حضرت ہارون ہر حال ميں تمام پروگراموں ميں جناب موسى عليہ السلام كے پيرو تھے او رموسى عليہ السلام ان كے امام و پيشوا كى حيثيت ركھتے تھے_
آخر ميں اپنى تمام درخواستوں كا نتيجہ اس طرح بيان كرتے ہيں: '' تاكہ ہم تيرى بہت بہت تسبيح كريں اور تجھے بہت بہت ياد كريں، كيونكہ تو ہميشہ ہى ہمارے حالات سے آگاہ رہا ہے_''(3)
تو ہمارى ضروريات و حاجات كو اچھى طرح جانتا ہے اور اس راستہ كى مشكلات سے ہر كسى كى نسبت زيادہ آگاہ ہے، ہم تجھ سے يہ چاہتے ہيں كہ تو ہميں اپنے فرمان كى اطاعت كى قدرت عطا فرمادے اور ہمارے فرائض، ذمہ داريوں اور فرائض انجام دينے كے لئے ہميں توفيق اور كاميابى عطا فرما_
چونكہ جناب موسى عليہ السلام كا اپنے مخلصانہ تقاضوں ميں سوائے زيادہ سے زيادہ اور كامل تر خدمت كے اور كچھ مقصد نہيں تھا لہذا خداوندعالم نے ان كے تقاضوں كو اسى وقت قبول كرليا،'' اس نے كہا: اے موسى تمہارى درخواستيں قبول ہيں_''(4)
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ طہ آيت 31
(2) سورہ طہ آيت 32
(3) سورہ طہ آيت 33 تا35
(4) سورہ طہ آيت 36
---------
319
حقيقت ميں ان حساس اور تقدير ساز لمحات ميں چونكہ موسى عليہ السلام پہلى مرتبہ خدائے عظيم كى بساط مہمانى پر قدم ركھ رہے تھے،لہذا جس جس چيز كى انہيں ضرورت تھى ان كا خدا سے اكٹھا ہى تقاضا كرليا،اور اس نے بھى مہمان كا انتہائي احترام كيا،اور اس كى تمام درخواستوں اور تقاضوں كو ايك مختصر سے جملے ميں حيات بخش ندا كے سا تھ قبول كرليا اور اس ميں كسى قسم كى قيدو شرط عائد نہ كى اور موسى عليہ السلام كا نام مكرر لا كر،ہر قسم كے ابہام كو دور كرتے ہوئے اس كى تكميل كر دى ،يہ بات كس قدر شوق انگيز اور افتخار آفرين ہے كہ بندے كا نام مولا كى زبان پر بار بار آئے_

فرعون سے معرك آرا مقابلہ
حضرت موسى عليہ السلام كى ماموريت كا پہلا مرحلہ ختم ہوا جس ميں بتايا گيا ہے كہ انھيں وحى اور رسالت ملى اور انھوں نے اس عظيم مقصد كو حاصل كرنے كے ليے وسائل كے حصول كى درخواست كى _
اس كے ساتھ ہى زير نظر دوسرے مرحلے كے بارے ميں گفتگو ہوتى ہے يعنى فرعون كے پاس جانا اور اس كے ساتھ گفتگو كرنا چنانچہ ان كے درميان جو گفتگو ہوئي ہے اسے يہاں پر بيان كيا جارہا ہے_
سب سے پہلے مقدمے كے طور پر فرمايا گيا ہے:اب جبكہ تمام حالات ساز گار ہيں تو تم فرعون كے پاس جائو ''اور اس سے كہو كہ ہم عالمين كے پروردگار كے رسول ہيں''_(1)
اور اپنى رسالت كا ذكر كرنے كے بعد بنى اسرائيل كى آزادى كا مطالبہ كيجئے اور كہيئے''كہ ہميں حكم ملا ہے كہ تجھ سے مطالبہ كريں كہ تو بنى اسرائيل كو ہمارے ساتھ بھيج دے''_(2)
وہ مصر ميں گئے اور اپنے بھائي ہارون كو مطلع كيا اور وہ رسالت جس كے ليے آپ(ع) مبعوث تھے،اس كا پيغام اسے پہنچايا_پھر يہ دونوں بھائي فرعون سے ملاقات كے ارادے سے روانہ ہوئے_ آخر بڑى مشكل سے اس كے پاس پہنچ سكے_اس وقت فرعون كے وزراء اور مخصوص لوگ اسے گھيرے ہوئے تھے_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت16
(2)سورہ شعراء آيت17
------
320
حضرت موسى عليہ السلام نے ان كو خدا كا پيغام سنايا_
اس مقام پر فرعون نے زبان كھولى اور شيطنت پر مبنى چند ايك جچے تلے جملے كہے جس سے ان كى رسالت كى تكذيب كرنا مقصود تھا_ وہ حضرت موسى عليہ السلام كى طرف منہ كركے كہنے لگا:''آيا بچپن ميں ہم نے تجھے اپنے دامن محبت ميں پروان نہيں چڑھايا ''_(1)
ہم نے تجھے دريائے نيل كى ٹھاٹھيں مارتى ہوئي خشمگين موجوں سے نجات دلائي وگرنہ تيرى زندگى خطرے ميں تھي_تيرے ليے دائيوں كو بلايا اور ہم نے اولاد بنى اسرائيل كے قتل كردينے كا جو قانون مقرر كر ركھا تھا اس سے تجھے معاف كرديا اور امن و سكون اور نازونعمت ميں تجھے پروان چڑھايا_
اور اس كے بعد بھى ''تو نے اپنى زندگى كے كئي سال ہم ميں گزارے''_(2)
پھر وہ موسى عليہ السلام پر ايك اعتراض كرتے ہوئے كہتا ہے:تو نے وہ اہم كام كيا ہے_(فرعون كے حامى ايك قبطى كو قتل كيا ہے)_(3)
يہ اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ ايسا كام كرنے كے بعد تم كيونكررسول بن سكتے ہو؟
ان سب سے قطع نظر كرتے ہوئے ''تو ہمارى نعمتوں سے انكار كررہا ہے''_(4)
تو كئي سالوں تك ہمارے دسترخوان پر پلتا رہا ہے،ہمارا نمك كھانے كے بعد نمك حلالى كا حق اس طرح ادا كررہا ہے؟اس قدر كفران نعمت كے بعد تو كس منہ سے نبوت كا دعوى كررہاہے؟
در حقيقت وہ بزعم خود اس طرح كى منطق سے ان كى كردار كشى كركے موسى عليہ السلام كو خاموش كرنا چاہتا تھا_
جناب موسى عليہ السلام نے فرعون كى شيطنت آميز باتيں سن كر اس كے تينوں اعتراضات كے
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت 18
(2)سورہ شعراء آيت 18
(3)سورہ شعراء آيت19
(4)سورہ شعراء آيت19
-------
321
جواب دينا شروع كيے_ليكن اہميت كے لحاظ سے فرعون كے دوسرے اعتراض كا سب سے پہلے جواب ديا(يا پہلے اعتراض كو بالكل جواب كے لائق ہى نہيں سمجھا كيونكہ كسى كا كسى كى پرورش كرنا اس بات كى دليل نہيں بن جاتا كہ اگر وہ گمراہ ہوتو اسے راہ راست كى بھى ہدايت نہ كى جائے)_
بہر حال جناب موسى عليہ السلام نے فرمايا:''ميں نے يہ كام اس وقت انجام ديا جب كہ ميں بے خبر لوگوں ميں سے تھا''_(1)
يعنى ميں نے اسے جو مكا مارا تھا وہ اسے جان سے ماردينے كى غرض نہيں بلكہ مظلوم كى حمايت كے طور پر تھا ،ميں تو نہيںسمجھتا تھا كہ اس طرح اس كى موت واقع ہوجائے گي_
پھر موسى عليہ السلام فرماتے ہيں:''اس حادثے كى وجہ سے جب ميں نے تم سے خوف كيا تو تمہارے پاس سے بھاگ گيا اور ميرے پروردگارنے مجھے دانش عطا فرمائي اور مجھے رسولوں ميںسے قرار ديا''_(2)
پھر موسى عليہ السلام اس احسان كا جواب ديتے ہيں جو فرعون نے بچپن اور لڑكپن ميںپرورش كى صورت ميںان پر كيا تھادو ٹوك انداز ميں اعتراض كى صورت ميں فرماتے ہيں:''تو كيا جو احسان تو نے مجھ پر كيا ہے يہى ہے كہ تو بنى اسرائيل كو اپنا غلام بنالے''_(3)
يہ ٹھيك ہے كہ حوادث زمانہ نے مجھے تيرے محل تك پہنچاديا اور مجھے مجبوراًتمھارے گھر ميں پرورش پانا پڑى اور اس ميں بھى خدا كى قدرت نمائي كار فرما تھى ليكن ذرا يہ تو سوچو كہ آخر ايسا كيوں ہوا؟كيا وجہ ہے كہ ميں نے اپنے باپ كے گھر ميں اور ماں كى آغوش ميں تربيت نہيں پائي؟ آخر كس ليے؟
كيا تو نے بنى اسرائيل كو غلامى كى زنجيروں ميں نہيں جكڑ ركھا؟يہاں تك كہ تو نے اپنے خودساختہ قوانين كے تحت ان كے لڑكوں كو قتل كرديا اور ان كى لڑكيوں كو كنيز بنايا_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت20
(2)سورہء شعراء آيت21
(3)سورہ شعراء آيت22
-------
322
تيرے بے حدوحساب مظالم اس بات كا سبب بن گئے كہ ميرى ماں اپنے نو مولود بچے كى جان بچانے كى غرض سے مجھے ايك صندوق ميں ركھ كر دريائے نيل كى بے رحم موجوں كے حوالے كردے اور پھر منشائے ايزدى يہى تھا كہ ميرى چھوٹى سى كشتى تمھارے محل كے نزديك لنگر ڈال دے_ہاں تو يہ تمہارے بے اندازہ مظالم ہى تھے جن كى وجہ سے مجھے تمھارا مرہون منت ہونا پڑا اور جنھوں نے مجھے اپنے باپ كے مقدس اور پاكيزہ گھر سے محروم كركے تمھارے آلودہ محل تك پہنچاديا_

ديوانگى كى تہمت
جب موسى عليہ السلام نے فرعون كو دوٹوك اور قاطع جواب دے ديا جس سے وہ لا جواب اور عاجز ہوگيا تو اس نے كلام كا رخ بدلا اور موسى عليہ السلام نے جو يہ كہا تھا''ميں رب العالمين كا رسول ہوں''تو اس نے اسى بات كو اپنے سوال كا محور بنايا اور كہا يہ رب العالمين كيا چيز ہے؟(1)
بہت بعيد ہے كہ فرعون نے و اقعاًيہ بات مطلب كے لئے كى ہو بلكہ زيادہ تر يہى لگتا ہے كہ اس نے تجاہل عارفانہ سے كام ليا تھا اور تحقير كے طور پر يہ بات كہى تھي_
ليكن حضرت موسى عليہ السلام نے بيدار اور سمجھ دارافراد كى طرح اس كے سوا اور كوئي چارہ نہ ديكھا كہ گفتگو كو سنجيدگى پر محمول كريں اور سنجيدہ ہوكر اس كا جواب ديں اور چونكہ ذات پروردگار عالم انسانى افكار كى دسترس سے باہر ہے لہذا انھوں نے مناسب سمجھا كہ اس كے آثار كے ذريعے استدلال قائم كريں لہذا انھوں نے آيات آفاقى كا سہارا ليتے ہوئے فرمايا:''(خدا)آسمانوں اور زمين اور جو كچھ ان دونوں كے درميان ہے سب كا پر وردگار ہے اگر تم يقين كا راستہ اختيار كرو''_(2)
اتنے وسيع و عريض اور باعظمت آسمان و زمين اور كائنات كى رنگ برنگى مخلوق جس كے سامنے تو اور تيرے چاہنے اور ماننے والے ايك ذرہ ناچيز سے زيادہ كى حيثيت نہيں ركھتے، ميرے پروردگار كى آفرينش
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت 23
(2)سورہ شعراء آيت 24
-------
323
ہے اور ان اشياء كا خالق ومدبر اور ناظم ہى عبادت كے لائق ہے نہ كہ تيرے جيسى كمزور اور ناچيز سى مخلوق_
ليكن عظيم آسمانى معلم كے اس قدر محكم بيان اورپختہ گفتگو كے بعد بھى فرعون خواب غفلت سے بيدار نہ ہوا اس نے انپے ٹھٹھے مذاق اور استہزاء كو جارى ركھا اور مغرور مستكبرين كے پرانے طريقہ كار كو اپناتے ہوئے ''اپنے اطراف ميں بيٹھنے والوں كى طرف منہ كركے كہا: كيا سن نہيں رہے ہو(كہ يہ شخص كيا كہہ رہا ہے)''_(1)
معلوم ہے كہ فرعون كے گردكون لوگ بيٹھے ہيں اسى قماش كے لوگ تو ہيں_صاحبان زوراور زرہيںيا پھرظالم اور جابر كے معاون _
وہاں پر فرعون كے اطراف ميں پانچ سوآدمى موجود تھے،جن كا شمار فرعون كے خواص ميں ہوتا تھا_
اس طرح كى گفتگو سے فرعون يہ چاہتا تھا كہ موسى عليہ السلام كى منطقى اور دلنشين گفتگو اس گروہ كے تاريك دلوں ميں ذرہ بھر بھى اثر نہ كرے اور لوگوں كو يہ باور كروائے كہ انكى باتيں بے ڈھنگى اور ناقابل فہم ہيں_
مگر جناب موسى عليہ السلام نے اپنى منطقى اور جچى تلى گفتگو كو بغير كسى خوف وخطر كے جارى ركھتے ہوئے فرمايا:''تمہارا بھى رب ہے اور تمھارے آباء واجداد كا رب ہے''_(2)
درحقيقت بات يہ ہے كہ جناب موسى عليہ السلام نے پہلے تو آفاقى آيات كے حوالے سے استدلال كيا اب يہاں پر'' آيات انفس''اور خود انسان كے اپنے وجود ميں تخليق خالق كے اسرار اور انسانى روح اور جسم ميں خداوند عالم كى ربوبيت كے آثار كى طرف اشارہ كررہے ہيں تاكہ وہ عاقبت نا انديش مغرور كم از كم اپنے بارے ميں تو كچھ سوچ سكيںخود كو اور پھر اپنے خدا كو پہچان سكيں_
ليكن فرعون اپنى ہٹ دھرمى سے پھر بھى باز نہ آيا،اب استہزاء اور مسخرہ پن سے چند قدم آگے بڑھ
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت 35
(2)سورہ شعراء آيت 26
-------
324
جاتا ہے اور موسى عليہ السلام كو جنون اور ديوانگى كا الزام ديتا ہے چنانچہ اس نے كہا:''جو پيغمبر تمھارى طرف آيا ہے بالكل ديوانہ ہے''_(1)
وہى تہمت جو تاريخ كے ظالم اور جابر لوگ خدا كے بھيجے ہوئے مصلحين پر لگاتے رہتے تھے_
يہ بھى لائق توجہ ہے كہ يہ مغرور فريبى اس حد تك بھى روادارنہ تھا كہ كہے''ہمارا رسول''اور'' ہمارى طرف بھيجا ہوا ''بلكہ كہتا ہے''تمہارا پيغمبر''اور ''تمھارى طرف بھيجا ہوا'' كيونكہ''تمہارا پيغمبر''ميں طنز اور استہزاء پايا جاتا ہے او رساتھ ہى اس ميں غرور اور تكبر كا پہلو بھى نماياں ہے كہ ميں اس بات سے بالا تر ہوں كہ كوئي پيغمبر مجھے دعوت دينے كے لئے آئے اور موسى عليہ السلام پر جنون كى تہمت لگانے سے اس كا مقصد يہ تھا كہ جناب موسى عليہ السلام كے جاندار دلائل كو حاضرين كے اذہان ميںبے اثر بنايا جائے_
ليكن يہ ناروا تہمت موسى عليہ السلا م كے بلند حوصلوں كو پست نہيںكر سكى اور انھوں نے تخليقات عالم ميں آثار الہى اور آفاق و انفس كے حوالے سے اپنے دلائل كو برابر جارى ركھا اور كہا:''وہ مشرق ومغرب اور جو كچھ ان دونوں كے درميان ہے سب كا پروردگار ہے اگر تم عقل وشعور سے كام لو''_(2)
اگر تمہارے پاس مصر نامى محدود سے علاقے ميں چھوٹى سى ظاہرى حكومت ہے توكيا ہوا؟ميرے پروردگار كى حقيقى حكومت تو مشرق و مغرب اور اس كے تمام درميانى علاقے پر محيط ہے اور اس كے آثار ہر جگہ موجودات عالم كى پيشانى پر چمك رہے ہيں اصولى طور پر خود مشرق و مغرب ميں آفتاب كا طلوع و غروب اور كائنات عالم پر حاكم نظام شمسى ہى اس كى عظمت كى نشانياں ہيں، ليكن عيب خود تمہارے اندر ہے كہ تم عقل سے كام نہيں ليتے بلكہ تمہارے اندر سوچنے كى عادت ہى نہيں ہے_(3)
درحقيقت يہاں پر حضرت موسى عليہ اسلام نے اپنى طرف جنون كى نسبت كا بڑے اچھے انداز ميںجواب ديا ہے_ دراصل وہ يہ كہنا چاہتے ہيں كہ ديوانہ ميں نہيں ہوں بلكہ ديوانہ اور بے عقل وہ شخص ہے جو
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت27
(2)سورہ شعراء آيت28
(3)سورہ شعراء آيت28
--------
325
اپنے پروردگار كے ان تمام آثار اور نشانات كو نہيں ديكھتا _
عالم وجود كے ہر دروديوار پر ذات پروردگار كے اس قدر عجيب وغريب نقوش موجود ہيں پھر بھى جو شخص ذات پروردگار كے بارے ميں نہ سوچے اسے خود نقش ديوار ہوجانا چاہئے _
ان طاقتور دلائل نے فرعون كو سخت بوكھلاديا، اب اس نے اسى حربے كا سہارا ليا جس كا سہارا ہربے منطق اور طاقتور ليتا ہے اور جب وہ دلائل سے عاجزہوجاتاہے تو اسے آزمانے كى كوشش كرتاہے_
'' فرعون نے كہا: اگر تم نے ميرے علاوہ كسى اور كو معبود بنايا تو تمہيں قيديوں ميں شامل كردوںگا''_(1) ميں تمہارى اور كوئي بات نہيں سننا چاہتا ميں تو صرف ايك ہى عظيم الہ اور معبوے كو جانتاہوں اور وہ ميں خود ہوں اگر كوئي شخص اس كے علاوہ كہتا ہے تو بس سمجھ لے كہ اس كى سزا يا تو موت ہے يا عمر قيد جس ميں زندگى ہى ختم ہوجائے_
درحقيقت فرعون چاہتا تھا كہ اس قسم كى تيزوتند گفتگو كركے موسى عليہ السلام كو ہراساں كرے تاكہ وہ ڈركر چپ ہوجائيں كيونكہ اگر بحث جارى رہے گى تو لوگ اس سے بيدار ہوں گے اور ظالم وجابر لوگوں كے لئے عوام كى بيدارى اور شعور سے بڑھ كر كوئي اور چيز خطر ناك نہيں ہوتى _

تمہارا ملك خطرے ميںہے
گزشتہ صفحات ميں ہم نے ديكھ ليا ہے كہ جناب موسى عليہ السلام نے منطق اور استدلال كى روسے فرعون پر كيونكر اپنى فوقيت اوربر ترى كا سكہ منواليا اور حاضرين پر ثابت كرديا كہ ان كا خدائي دين كس قدر عقلى ومنطقى ہے اور يہ بھى واضح كرديا كہ فرعون كے خدائي دعوے كس قدر پوچ اور عقل وخردسے عار ى ہيں كبھى تو وہ استہزاء كرتا ہے ،كبھى جنون اور ديوانگى كى تہمت لگاتاہے اور آخر كار طاقت كے نشے ميں آكر قيدوبند اور موت كى دھمكى ديتا ہے _
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت29
-------
326
اس موقع پر گفتگو كارخ تبديل ہوجاتاہے اب جناب موسى كو ايسا طريقہ اختيار كرنا چاہئے تھا جس سے فرعون كى ناتوانى ظاہر ہوجائے _
موسى عليہ السلام كو بھى كسى طاقت كے سہارے كى ضرورت تھى ايسى خدائي طاقت جس كے معجزانہ اندازہوں، چنانچہ آپ فرعون كى طرف منہ كركے فرماتے ہيں :'' آيا اگر ميں اپنى رسالت كے لئے واضح نشانى لے آئوں پھر بھى تو مجھے زندان ميں ڈالے گا ''_(1)
اس موقع پر فرعون سخت مخمصے ميں پڑگيا، كيونكہ جناب موسى عليہ السلام نے ايك نہايت ہى اہم اور عجيب وغريب منصوبے كى طرف اشارہ كركے حاضرين كى توجہ اپنى طرف مبذول كرالى تھى اگر فرعون ان كى باتوں كو ان سنى كر كے ٹال ديتا تو سب حاضرين اس پر اعتراض كرتے اور كہتے كہ موسى كو وہ كام كرنے كى اجازت دى جائے اگر وہ ايسا كرسكتا ہے تو معلوم ہوجائے گا اور اس سے مقابلہ نہيں كيا جاسكے گا اور اگر ايسا نہيں كرسكتا تو بھى اس كى شخيى آشكار ہوجائے گى بہرحال موسى عليہ السلام كے اس دعوے كو آسانى سے مسترد نہيں كيا جاسكتا تھا آخركار فرعون نے مجبور ہوكر كہا'' اگر سچ كہتے ہو تو اسے لے آئو''(2)
''اسى دوران ميں موسى عليہ السلام نے جو عصا ہاتھ ميں ليا ہوا تھا زمين پر پھينك ديا اور وہ (خدا كے حكم سے ) بہت بڑا اور واضح سانپ بن گيا''_ (3)
''پھر اپنا ہاتھ آستين ميں لے گئے اور باہر نكالا تو اچانك وہ ديكھنے والوں كے لئے سفيد اور چمك دار بن چكا تھا''_ (4) در حقيقت يہ دو عظيم معجزے تھے ايك خوف كا مظہر تھا تو دوسرا اميد كا مظہر، پہلے ميں انذار كا پہلو تھا تو دوسرے ميں بشارت كا ،ايك خدائي عذاب كى علامت تھى تو دوسرا نور اور رحمت كى نشانى ،كيونكہ معجزے كو پيغمبر خدا كى دعوت كے مطابق ہونا چاہئے_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت 31
(2)سورہ شعراء آيت 31
(3)سورہ شعراء آيت 32
(4)سورہ شعراء آيت 33
------
327
فرعون نے جب صورت حال ديكھى تو سخت بوكھلا گيا اور وحشت كى گہرى كھائي ميں جاگرا ،ليكن اپنے شيطانى اقتدار كو بچانے كے لئے جو موسى عليہ السلام كے ظہور كے ساتھ متزلزل ہوچكا تھا اس نے ان معجزات كى توجيہ كرنا شروع كردى تاكہ اس طرح سے اطراف ميں بيٹھنے والوں كے عقائد محفوظ اور ان كے حوصلے بلند كرسكے اس نے پہلے تو اپنے حوارى سرداروں سے كہا: ''يہ شخص ماہر اور سمجھ دار جادو گر ہے''_ (1)
جس شخص كو تھوڑى دير پہلے تك ديوانہ كہہ رہا تھا اب اسے '' عليم'' كے نام سے ياد كررہا ہے، ظالم اور جابر لوگوں كا طريقہ كار ايسا ہى ہوتا ہے كہ بعض اوقات ايك ہى محفل ميں كئي روپ تبديل كرليتے ہيں اور اپنى انا كى تسكين كے لئے نت نئے حيلے تراشتے رہتے ہيں _
اس نے سوچا چونكہ اس زمانے ميں جادوكادور دورہ ہے لہذا موسى عليہ السلام كے معجزات پر جادو كا ليبل لگا ديا جائے تاكہ لوگ اس كى حقانيت كو تسليم نہ كريں _
پھر اس نے لوگوں كے جذبات بھڑكانے اور موسى عليہ السلام كے خلاف ان كے دلوں ميں نفرت پيدا كرنے كے لئے كہا : ''وہ اپنے جادو كے ذريعے تمہيں تمہارے ملك سے نكالنا چاہتا ہے،تم لوگ اس بارے ميں كيا سوچ رہے ہو اور كيا حكم ديتے ہو ''_(2)
يہ وہى فرعون ہے جو كچھ دير پہلے تك تمام سرزمين مصر كو اپنى ملكيت سمجھ رہا تھا'' كيا سرزمين مصر پر ميرى حكومت اور مالكيت نہيں ہے ؟''اب جبكہ اسے اپنا راج سنگھا سن ڈوبتا نظرآرہا ہے تو اپنى حكومت مطلقہ كو مكمل طور پر فراموش كر كے اسے عوامى ملكيت كے طور پر ياد كركے كہتا ہے '' تمہارا ملك خطرات ميں گھر چكا ہے اسے بچانے كى سوچو''_وہى فرعون جو ايك لحظہ قبل كسى كى بات سننے پر تيار نہيں تھا بلكہ ايك مطلق العنان آمر كى حيثيت سے تخت حكومت پر براجمان تھا اب اس حد تك عاجز اور درماندہ ہوچكا ہے كہ اپنے اطرافيوں سے درخواست كررہا ہے كہ تمہارا كيا حكم ہے نہايت ہى عاجز اور كمزور ہوكر التجا كررہا ہے _
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت34
(2)سورہ شعراء آيت35
-------
328
قرآن سے معلوم ہوتا ہے كہ اس كے دربارى باہمى طور پر مشور ہ كرنے ميںلگ گئے وہ اس قدر حواس باختہ ہوچكے تھے كہ سوچنے كى طاقت بھى ان سے سلب ہوگئي تھى ہر كوئي دوسرے كى طرف منہ كركے كہتا :
''تمہارى كيا رائے ہے ؟'' (1)
بہرحال كافى صلاح مشورے كے بعد درباريوں نے فرعون سے كہا :'' موسى اور اس كے بھائي كو مہلت دو اور اس بارے ميں جلدى نہ كرو اور تمام شہروں ميں ہركارندے روانہ كردو،تاكہ ہر ماہر اور منجھے ہوئے جادو گر كو تمہارے پاس لے آئيں ''_(2)
در اصل فرعون كے دربارى يا تو غفلت كا شكار ہوگئے يا موسى عليہ السلام پر فرعون كى تہمت كو جان بوجھ كر قبول كرليا اور موسى كو'' ساحر'' (جادوگر) سمجھ كر پروگرام مرتب كيا كہ ساحر كے مقابلے ميں '' سحار'' يعنى ماہر اور منجھے ہوئے جادو گروں كو بلايا جائے چنانچہ انھوں نے كہا : ''خوش قسمتى سے ہمارے وسيع وعريض ملك (مصر) ميں فن جادو كے بہت سے ماہر استاد موجود ہيں اگر موسى ساحر ہے تو ہم اس كے مقابلے ميں سحار لاكھڑا كريں گے اور فن سحر كے ايسے ايسے ماہرين كو لے آئيں گے جو ايك لمحہ ميں موسى كا بھرم كھول كر ركھ ديں گے''_

ہر طرف سے جادو گر پہنچ گئے
فرعون كے درباريوں كى تجويز كے بعد مصر كے مختلف شہروں كى طرف ملازمين روانہ كرديئےئے اورانھوںنے ہر جگہ پر ماہر جادو گروں كى تلاش شروع كردى '' آخر كار ايك مقررہ دن كى ميعادكے مطابق جادو گروں كى ايك جماعت اكٹھا كرلى گئي '' (3)
دوسرے لفظوں ميں انھوں نے جادوگروں كو اس روزكے لئے پہلے ہى سے تيار كرليا تاكہ ايك مقرر دن مقابلے كے لئے پہنچ جائيں _
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ اعراف آيت 110
(2) سورہ شعراء 36 تا 36
(3)سورہ شعراء آيت 38
---------
329
''يوم معلوم '' سے كيا مراد ہے ؟جيسا كہ سورہ اعراف كى آيات سے معلوم ہوتا ہے مصريوں كى كسى مشہور عيد كا دن تھا جسے موسى عليہ السلام نے مقابلے كے لئے مقرر كيا تھا اور اس سے ان كا مقصد يہ تھا كہ اس دن لوگوں كو فرصت ہوگى اور وہ زيادہ سے زيادہ تعداد ميں شركت كريں گے كيونكہ انھيں اپنى كاميابى كا مكمل يقين تھا اور وہ چاہتے تھے كہ آيات خداوندى كى طاقت اور فرعون اور اس كے ساتھيوں كى كمزورى اور پستى پورى دنيا پر آشكار ہوجائے ''اور زيادہ سے زيادہ لوگوں سے كہا گيا كہ آيا تم بھى اس ميدان ميں اكٹھے ہوگے؟(1)
اس طرزبيان سے معلوم ہوتا ہے كہ فرعون كے كارندے اس سلسلے ميں سوچى سمجھى ا سكيم كے تحت كام كررہے تھے انھيں معلوم تھا كہ لوگوں كو زبردستى ميدان ميں لانے كى كوشش كى جائے تو ممكن ہے كہ اس كا منفى رد عمل ہو، كيونكہ ہر شخص فطرى طور پر زبردستى كو قبول نہيں كرتا لہذا انھوں نے كہا اگر تمہارى جى چاہے تو اس اجتماع ميں شركت كرو اس طرح سے بہت سے لوگ اس اجتماع ميں شريك ہوئے _
لوگوں كو بتايا گيا'' مقصد يہ ہے كہ اگر جادو گر كامياب ہوگئے كہ جن كى كاميابى ہمارے خدائوں كى كاميابى ہے تو ہم ان كى پيروى كريں گے '' (2)اور ميدان كو اس قدر گرم كرديں گے كہ ہمارے خدائوں كا دشمن ہميشہ ہميشہ كے لئے ميدان چھوڑجائے گا _
واضح ہے كہ تماشائيوں كا زيادہ سے زيادہ اجتماع جو مقابلے كے ايك فريق كے ہمنوا بھى ہوں ايك طرف توان كى دلچسپى كا سبب ہوگا اور ان كے حوصلے بلند ہوں گے اور ساتھ ہى وہ كاميابى كے لئے زبردست كوشش بھى كريں گے اوركاميابى كے موقع پر ايسا شور مچائيں گے كہ حريف ہميشہ كے لئے گوشئہ گمنامى ميں چلاجائے گا اور اپنى عددى كثرت كى وجہ سے مقابلے كے آغاز ميں فريق مخالف كے دل ميں خوف وہراس اور رعب ووحشت بھى پيدا كرسكيں گے_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت 39
(2)سورہ شعراء آيت40
--------
330
يہى وجہ ہے كہ فرعون كے كارندے كوشش كررہے تھے كہ لوگ زيادہ سے زيادہ تعداد ميں شركت كريں موسى عليہ السلام بھى ايسے كثيراجتماع كى خدا سے دعا كررہے تھے تاكہ اپنا مدعا اور مقصد زيادہ سے زيادہ لوگوں تك پہنچا سكيں _
يہ سب كچھ ايك طرف، ادھر جب جادو گر فرعون كے پاس پہنچے اور اسے مشكل ميں پھنسا ہوا ديكھا تو موقع مناسب سمجھتے ہوئے اس سے زيادہ سے زيادہ فائدہ اٹھانے اور بھارى انعام وصول كرنے كى غرض سے اس سے كہا :'' اگر ہم كامياب ہوگئے تو كيا ہمارے لئے كوئي اہم صلہ بھى ہوگا ؟'' (1)
فرعون جو برى طرح پھنس چكا تھا اور اپنے لئے كوئي راہ نہيں پاتاتھا انھيں زيادہ سے زيادہ مراعات اور اعزاز دينے پر تيار ہوگيا اس نے فورا ًكہا: : ''ہاں ہاں جو كچھ تم چاہتے ہوميں دوں گا اس كے علاوہ اس صورت ميں تم ميرے مقربين بھى بن جائوگے''_ (2)
در حقيقت فرعون نے ان سے كہا :تم كيا چاہتے ہو؟ مال ہے يا عہدہ: ميں يہ دونوں تمہيں دوں گا _
اس سے معلوم ہوتا ہے كہ اس ماحول اورزمانے ميں فرعون كا قرب كس حد تك اہم تھا كہ وہ ايك عظيم انعام كے طور پر اس كى پيش كش كررہا تھا درحقيقت اس سے بڑھ كر اور كوئي صلہ نہيں ہوسكتا كہ انسان اپنے مطلوب كے زيادہ نزديك ہو_

جادو گروں كا عجيب وغريب منظر
جب جادوگروں نے فرعون كے ساتھ اپنى بات پكى كرلى اور اس نے بھى انعام، اجرت اور اپنى بارگاہ كے مقرب ہونے كا وعدہ كركے انھيں خوش كرديا اور وہ بھى مطمئن ہوگئے تواپنے فن كے مظاہرے اور اس كے اسباب كى فراہمى كے لئے تگ ودوكرنى شروع كردي، فرصت كے ان لمحات ميں انھوں نے بہت سى رسياں اور لاٹھياں اكٹھى كرليں اور بظاہر ان كے اندر كو كھوكھلاكر كے ان ميں ايسا كوئي كيميكل مواد (پارہ وغيرہ
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت 41
(2)سورہ شعراء آيت 42
--------
331
كى مانند)بھر ديا جس سے وہ سورج كى تپش ميں ہلكى ہوكر بھاگنے لگتى _
آخركاروعدے كا دن پہنچ گيا اور لوگوں كا اكثير مجمع ميدان ميں جمع ہوگيا تاكہ وہ اس تاريخى مقابلے كو ديكھ سكيں ،فرعون اور اس كے درباري، جادوگر اور موسى عليہ السلام اور ان كے بھائي ہارون عليہ السلام سب ميدان ميں پہنچ گئے _
ليكن حسب معمول قرآن مجيد اس بحث كو خدف كركے اصل بات كو بيان كرتا ہے _
يہاں پر بھى اس تاريخ ساز منظر كى تصوير كشى كرتے ہوئے كہتا ہے :''موسى نے جادو گروں كى طرف منہ كركے كہا :جو كچھ پھينكنا چاہتے ہو پھينكو اور جو كچھ تمہارے پاس ہے ميدان ميں لے آئو ''_(1)
قرآن سے معلوم ہوتا ہے كہ جناب موسى عليہ السلام نے يہ بات اس وقت كى جب جادوگروں نے ان سے كہا:'' آپ پيش قدم ہوكر اپنى چيز ڈاليں گے يا ہم ؟''(2)
موسى عليہ السلام كى يہ پيش كش درحقيقت انھيں اپنى كاميابى پر يقين كى وجہ سے تھى اوراس بات كى مظہر تھى كہ فرعون كے زبردست حاميوں اور دشمن كے انبوہ كثير سے وہ ذرہ برابر بھى خائف نہيں ،چنانچہ يہ پيش كش كركے آپ نے جادوگروں پر سب سے پہلا كامياب وار كيا جس سے جادو گروں كو بھى معلوم ہوگيا كہ موسى عليہ السلام ايك خاص نفسياتى سكون سے بہرہ مند ہيں اور وہ كسى ذات خاص سے لولگائے ہوئے ہيں كہ جوان كا حوصلہ بڑھارہى ہے _
جادو گر تو غرور ونخوت كے سمندر ميں غرق تھے انھوں نے اپنى انتہائي كوششيں اس كام كے لئے صرف كردى تھيں اور انھيںاپنى كاميابى كا بھى يقين تھا'' لہذانھوں نے اپنى رسياں اور لاٹھياں زمين پر پھينك ديں اور كہافرعون كى عزت كى قسم ہم يقينا كامياب ہيں ''_(3)
جى ہاں :انھوں نے دوسرے تمام چاپلوسيوں خوشامديوں كى مانند فرعون كے نام سے شروع كيا اور
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت 43
(2)سورہ اعراف آيت115
(3)سورہ شعراء آيت44
--------
332
اس كے كھوكھلے اقتدار كا سہاراليا _
جيسا كہ قرآن مجيد ايك اور مقام پر كہتا ہے :
'' اس موقع پر انھوں نے جب رسياں اور لاٹھياں زمين پر پھينكيںتو وہ چھوٹے بڑے سانپوں كى طرح زمين پر حركت كرنے لگيں''_ (1)
انھوں نے اپنے جادو كے ذرائع ميں سے لاٹھيوں كا انتخاب كيا ہوا تھا تاكہ وہ بزعم خود موسى كى عصا كى برابرى كرسكيں اور مزيد برترى كے لئے رسيوں كو بھى ساتھ شامل كرليا تھا _
اسى دوران ميں حاضرين ميں خوشى كى لہر دوڑگئي اور فرعون اور اس كے درباريوں كى آنكھيں خوشى كے مارے چمك اٹھيں اور وہ مارے خوشى كے پھولے نہيں سماتے تھے يہ منظر ديكھ كر ان كے اندر وجدو سرور كى كيفيت پيدا ہوگئي اور وہ جھوم رہے تھے _ چنانچہ بعض مفسرين كے قول كے مطابق ان ساحروں كى تعداد كئي ہزار تھى نيز ان كے وسائل سحر بھى ہزاروں كى تعداد ميں تھے چونكہ اس زمانے ميں مصر ميں سحرو ساحرى كا كافى زور تھا اس بناپر اس بات پر كوئي جائے تعجب نہيں ہے _
خصوصاً جيسا كہ قران (2)كہتا ہے كہ :
وہ منظر اتنا عظيم ووحشتناك تھا كہ حضرت موسى نے بھى اس كى وجہ سے اپنے دل ميں كچھ خوف محسوس كيا _
اگرچہ نہج البلاغہ ميں اس كى صراحت موجود ہے كہ حضرت موسى كو اس بات كا خوف لاحق ہو گيا تھا كہ ان جادوگروں كو ديكھ كر لوگ اس قدر متاثر نہ ہوجائيں كہ ان كو حق كى طرف متوجہ كرنا دشوار ہوجائے بہرصورت يہ تمام باتيں اس بات كى مظہر ہيں كہ اس وقت ايك عظيم معركہ درپيش تھا جسے حضرت موسى عليہ السلام كو بفضل الہى سركرنا تھا_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ طہ آيت 66
(2) سورہ طہ اايت 67
-----
333

جادو گروں كے دل ميں ايمان كى چمك
ليكن موسى عليہ السلام نے اس كيفيت كو زيادہ دير نہيں پنپنے ديا وہ آگے بڑھے اور اپنے عصا كو زمين پردے مارا تو وہ اچانك ايك ادہے كى شكل ميں بتديل ہوكر جادو گروں كے ان كر شموں كو جلدى نگلنے لگا اور انھيں ايك ايك كركے كھاگيا _(1)(2)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ طہ ، آيت66
(2)كيا عصاكا ادھابن جانا ممكن ہے ؟
اس ميں كوئي شك نہيں كہ عصا كا ازدہا بن جانا ايك بيّن معجزہ ہے جس كى توجيہ مادى اصول سے نہيں كى جاسكتي، بلكہ ايك خدا پرست شخص كو اس سے كوئي تعجب بھى نہ ہوگا كيونكہ وہ خدا كو قادر مطلق اور سارے عالم كے قوانين كو ارادہ الہى كے تابع سمجھتا ہے لہذا اس كے نزديك يہ كوئي بڑى بات نہيں كہ لكڑى كا ايك ٹكڑا حيوان كى صورت اختيار كرلے كيونكہ ايك مافوق طبيعت قدرت كے زير اثر ايسا ہوناعين ممكن ہے _
ساتھ ہى يہ بات بھى نہ بھولنا چاہئے كہ اس جہان طبيعت ميں تمام حيوانات كى خلقت خاك سے ہوئي ہے نيز لكڑى و نباتات كى خلقت بھى خاك سے ہوئي ہے ليكن مٹى سے ايك بڑا سانپ بننے كے لئے عادتاًشايد كروڑوں سال كى مدت دركار ہے،ليكن اعجاز كے ذريعے يہ طولانى مدت اس قدر كوتاہ ہوگئي كہ وہ تمام انقلابات ايك لحظہ ميں طے ہوگئے جن كى بنا پر مٹى سے سانپ بنتا ہے ،جس كى وجہ سے لكڑى كا ايك ٹكڑا جو قوانين طبيعت كے زير اثر ايك طولانى مدت ميں سانپ بنتا،چند لحظوں ميں يہ شكل اختيار كرگيا_
اس مقام پر كچھ ايسے افراد بھى ہيں جو تمام معجزات انبياء كى طبيعى اور مادى توجيہات كرتے ہيں جس سے ان كے اعجازى پہلوں كى نفى ہوتى ہے،اور ان كى يہ سعى ہوتى ہے كہ تمام معجزات كو معمول كے مسائل كى شكل ميں ظاہر كريں،ہر چند وہ كتب آسمانى كى نص اور الفاظ صريحہ كے خلاف ہو،ايسے لوگوں سے ہمارا يہ سوال ہے كہ وہ اپنى پوزيشن اچھى طرح سے واضح كريں_كيا وہ واقعاً خدا كى عظيم قدرت پر ايمان ركھتے ہيںاور اسے قوانين طبيعت پر حاكم مانتے ہيں كہ نہيں؟ اگر وہ خدا كو قادر و توانا نہيں سمجھتے توان سے انبياء كے حالات اور ان كے معجزات كى بات كرنا بالكل بے كار ہے اور اگر وہ خدا كو قادر جانتے ہيں تو پھر ذرا تا مل كريں كہ ان تكلف آميز توجيہوں كى كيا ضرورت ہے جو سراسر آيات قرآنى كے خلاف ہيں (اگر چہ زير بجث آيت ميں ميرى نظر سے نہيں گزرا كہ كسى مفسر نے جس كا طريقہ تفسير كيسا ہى مختلف كيوںنہ ہو اس آيت كى مادى توجيہہ كى ہو،تا ہم جو كچھ ہم نے بيان كيا وہ ايك قاعدہ كلى كے طور پر تھا_
------
334
اس موقع پر لوگوں پر يكدم سكوت طارى ہوگيا حاضرين پر سناٹا چھاگيا،تعجب كى وجہ سے ان كے منہ كھلے كے كھلے رہ گئے آنكھيں پتھرا گئي گويا ان ميں جان ہى نہيں رہى ليكن بہت جلد تعجب كے بجائے وحشت ناك چيخ و پكار شروع ہوگئي،كچھ لوگ بھاگ كھڑے ہوئے كچھ لوگ نتيجے كے انتظار ميں رك گئے اور كچھ لوگ بے مقصد نعرے لگارہے تھے ليكن جادوگرں كے منہ تعجب كى وجہ سے كھلے ہوئے تھے_
اس مرحلے پر سب كچھ تبديل ہوگيا جو جادوگر اس وقت تك شيطانى رستے پر گامزن ،فرعون كے ہم ركاب اور موسى عليہ السلام كے مخالف تھے يك دم اپنے آپے ميں آگئے اور كيونكہ جادو كے ہر قسم كے ٹونے ٹوٹكے او رمہارت اور فن سے واقف تھے اس لئے انھيں يقين آگيا كہ ايسا كام ہر گز جادو نہيں ہوسكتا، بلكہ يہ خدا كا ايك عظيم معجزہ ہے ''لہذا اچانك وہ سارے كے سارے سجدے ميں گر پڑے ''_(1)
دلچسپ بات يہ ہے كہ قرآن نے يہاں پر ''القي''كا استعمال كيا ہے جس كا معنى ہے گراديئے گئے يہ اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ وہ جناب موسى عليہ السلام كے معجزے سے اس قدر متا ثر ہوچكے تھے كہ بے اختيار زمين پر سجدے ميں جاپڑے _
اس عمل كے ساتھ ساتھ جو ان كے ايمان كى روشن دليل تھا ;انھوں نے زبان سے بھى كہا:''ہم عالمين كے پروردگار پر ايمان لے آئے''_(2)
اور ہر قسم كا ابہام وشك دور كرنے كے لئے انھوں نے ايك اور جملے كابھى اضافہ كيا تاكہ فرعون كے لئے كسى قسم كى تاويل باقى نہ رہے،انھوں نے كہا:''موسى اور ہارون كے رب پر'' _(3)
اس سے معلوم ہوتا ہے كہ عصازمين پر مارنے اور ساحرين كے ساتھ گفتگو كرنے كا كام اگرچہ موسى عليہ السلام نے انجام ديا ليكن ان كے بھائي ہارون عليہ السلام ان كے ساتھ ساتھ ان كى حمايت اور مدد كررہے تھے_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت 46
(2)سورہ شعراء آيت47
(3)سورہ شعراء آيت 48
-----
335
يہ عجيب وغريب تبديلى جادوگروں كے دل ميں پيدا ہوگئي اور انھوں نے ايك مختصر سے عرصے ميں مطلق تاريكى سے نكل كر روشنى اور نور ميں قدم ركھ ديا اور جن جن مفادات كا فرعون نے ان سے وعدہ كيا تھا ان سب كو ٹھكراديا ،يہ بات تو آسان تھي، انھوں نے اس اقدام سے اپنى جانوں كو بھى خطرے ميں ڈال ديا،يہ صرف اس وجہ سے تھا كہ ان كے پاس علم و دانش تھا جس كے باعث وہ حق اور باطل ميں تميز كرنے ميں كامياب ہوگئے اور حق كا دامن تھام ليا_

كيا ميرى اجازت كے بغير موسى عليہ السلام پر ايمان لے آئے؟
اس موقع پر اس طرف تو فرعون كے اوسان خطا ہوچكے تھے اور دوسرے اسے اپنا اقتدار بلكہ اپنا وجود خطرے ميں دكھائي دے رہا تھا خاص طور پر وہ جانتا تھا كہ جادوگرو ں كا ايمان لانا حاضرين كے دلوں پر كس قدر مو ثر ہوسكتا ہے اور يہ بھى ممكن ہے كہ كافى سارے لوگ جادوگروں كى ديكھا ديكھى سجدے ميں گر جائيں، لہذا اس نے بزعم خود ايك نئي اسكيم نكالى اور جادوگروں كى طرف منہ كركے كہا:''تم ميرى اجازت كے بغير ہى اس پر ايمان لے آئے ہو''_(1)
چونكہ وہ سالہا سال سے تخت استبداد پر براجمان چلاآرہا تھا لہذا اسے قطعاً يہ اميد نہيں تھى كہ لوگ اس كى اجازت كے بغير كوئي كام انجام ديں گے بلكہ اسے تو يہ توقع تھى كہ لوگوں كے قلب و عقل اور اختيار اس كے قبضہ قدرت ميں ہيں،جب تك وہ اجازت نہ دے وہ نہ تو كچھ سوچ سكتے ہيں اور نہ فيصلہ كرسكتے ہيں ،جابر حكمرانوں كے طريقے ايسے ہى ہوا كرتے ہيں_
ليكن اس نے اسى بات كو كافى نہيں سمجھا بلكہ دو جملے اور بھى كہے تا كہ اپنے زعم باطل ميں اپنى حيثيت اور شخصيت كو برقرار ركھ سكے اور ساتھ ہى عوام كے بيدار شدہ افكار كے آگے بند باندھ سكے اور انھيں دوبارہ خواب غفلت ميں سلادے_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت 49
-------
336
اس نے سب سے پہلے جادوگروں سے كہا:تمھارى موسى سے يہ پہلے سے لگى بندھى سازش ہے ،بلكہ مصرى عوام كے خلاف ايك خطرناك منصوبہ ہے اس نے كہا كہ وہ تمہارا بزرگ اور استاد ہے جس نے تمہيں جادو كى تعليم دى ہے اور تم سب نے جادوگر ى كى تعليم اسى سے حاصل كى ہے_ ''(1)
تم نے پہلے سے طے شدہ منصوبہ كے تحت يہ ڈرامہ رچايا ہے تا كہ مصر كى عظيم قوم كو گمراہ كركے اس پر اپنى حكومت چلائو اور اس ملك كے اصلى مالكوں كو ان كے گھروں سے بے گھر كردو اور ان كى جگہ غلاموں اور كنيزوں كو ٹھہرائو_
ليكن ميں تمہيں كبھى اس بات كى اجازت نہيں دوں گا كہ تم اپنى سازش ميں كامياب ہوجائو،ميں اس سازش كو پنپنے سے پہلے ہى ناكام كردوں گا''تم بہت جلد جان لوگے كہ تمہيں ايسى سزادوں گا جس سے دوسرے لوگ عبرت حاصل كريں گے تمہارے ہاتھ اور پائوں كو ايك دوسرے كى مخالف سمت ميں كاٹ ڈالوں گا(داياں ہاتھ اور باياں پائوں ،يا باياں ہاتھ اور داياں پائوں)اور تم سب كو (كسى استثناء كے بغير)سولى پر لٹكادوں گا''_(2)
يعنى صرف يہى نہيں كہ تم سب كو قتل كردوں گا بلكہ ايسا قتل كروں گا كہ جس ميں دكھ،درد،تكليف اور شكنجہ بھى ہوگا اور وہ بھى سرعام كھجور كے بلند درختوںپركيونكہ ہاتھ پائوں كے مخالف سمت كے كاٹنے سے احتمالاًانسان كى دير سے موت واقع ہوتى ہے اور وہ تڑپ تڑپ كر جان ديتا ہے_

ہميں اپنے محبوب كى طرف پلٹادے
ليكن فرعون يہاں پر سخت غلط فہمى ميں مبتلا تھا كيونكہ كچھ دير قبل كے جادوگر اور اس وقت كے مومن افراد نور ايمان سے اس قدر منور ہوچكے تھے اور خدائي عشق كى آگ ان كے دل ميں اس قدر بھڑك چكى تھى كہ انھوں نے فرعون كى دھمكيوں كو ہر گز ہرگز كوئي وقعت نہ دى بلكہ بھرے مجمع ميں اسے دو ٹوك جواب دے كر اس
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت 49
(2)سورہ شعراء آيت49
-----
337
كے تمام شيطانى منصوبوں كو خاك ميں ملاديا_
انھوں نے كہا:''كوئي بڑى بات نہيں اس سے ہميں ہر گز كوئي نقصان نہيں پہنچے گا تم جو كچھ كرنا چاہتے ہو كر لو، ہم اپنے پروردگار كى طرف لوٹ جائيں گے''_(1)
اس كام سے نہ صرف يہ كہ تم ہمارا كچھ بگاڑ نہ سكوگے بلكہ ہميں اپنے حقيقى معشوق اور معبود تك بھى پہنچادوگے،تمھارى يہ دھمكياں ہمارے لئے اس دقت مو ثر تھيں جب ہم نے خود كو نہيں پہچانا تھا،اپنے خدا سے نا آشنا تھے اور راہ حق كو بھلاكے زندگى كے بيابان ميں سرگردان تھے ليكن آج ہم نے اپنى گمشدہ گراں بہا چيز كو پاليا ہے جو كرنا چاہو كرلو_
انھوں نے سلسلہ كلام آگے بڑھاتے ہوئے كہا: ہم ماضى ميں گناہوں كا ارتكاب كرچكے ہيں اور اس ميدان ميں بھى اللہ كے سچے رسول جناب موسى عليہ السلام كے ساتھ مقابلے ميں پيش پيش تھے اور حق كے ساتھ لڑنے ميں ہم پيش قدم تھے ليكن''ہم اميد ركھتے ہيں كہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ معاف كردے گا كيونكہ ہم سب سے پہلے ايمان لانے والے ہيں''_(2)
ہم آج كسى چيز سے نہيں گھبراتے، نہ تو تمھارى دھمكيوں سے اور نہ ہى بلند و بالا كھجور كے درختوں كے تنوں پر سولى پر لٹك جانے كے بعد ہاتھ پائوں مارنے سے_
اگر ہميں خوف ہے تو اپنے گزشتہ گناہوں كا اور اميد ہے كہ وہ بھى ايمان كے سائے اور حق تعالى كى مہربانى سے معاف ہوجائيںگے_
يہ كيسى طاقت ہے كہ جب كسى انسان كے دل ميں پيدا ہوجاتى ہے تو دنيا كى بڑى سے بڑى طاقت بھى اس كى نگاہوں ميں حقير ہوجاتى ہے اوروہ سخت سے سخت شكنجوں سے بھى نہيں گھبراتا اور اپنى جان ديدينا اس كے لئے كوئي بات ہى نہيں رہتي_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت49
(2)سورہ شعراء آيت 51
------
338
يقينا يہ ايمانى طاقت ہوتى ہے_
يہ عشق كے روشن ودرخشاں چراغ كا شعلہ ہوتا ہے جو شہادت كے شربت كو انسان كے حلق ميں شہد سے بھى زيادہ شيريں بناديتا ہے اور محبوب كے وصال كو انسان كا ارفع و اعلى مقصد بنا ديتا ہے_
بہر حال يہ منظر فرعون اور اس كے اركان سلطنت كے لئے بہت ہى مہنگا ثابت ہوا ہر چند كہ بعض روايات كے مطابق اس نے اپنى دھمكيوں كو عملى جامہ بھى پہنايا اور تازہ ايمان لانے والے جادوگروں كو شہيد كرديا ليكن عوام كے جو جذبات موسى عليہ السلام كے حق ميں اور فرعون كے خلاف بھڑك اٹھے تھے وہ انھيں نہ صرف دبا نہ سكا بلكہ اور بھى بر انگيختہ كرديا_
اب جگہ جگہ اس خدائي پيغمبر كے تذكرے ہونے لگے اور ہر جگہ ان با ايمان شہداء كے چرچے تھے بہت سے لوگ اس وجہ سے ايمان لے آئے_جن ميں فرعون كے كچھ نزديكى لوگ بھى تھے حتى كہ خود اس كى زوجہ ان ايمان لانے والوں ميں شامل ہوگئي_

فرعون كى زوجہ ايمان لے آئي
فرعون كى بيوى كا نام آسيہ اور باپ كا نام مزاحم تھا_كہتے ہيں كہ جب اس نے جادوگروں كے مقابلہ ميں موسى عليہ السلام كے معجزے كو ديكھا تو اس كے دل كى گہرائياں نور ايمان سے روشن ہوگئيں،وہ اسى وقت موسى عليہ السلام پر ايمان لے آئي _وہ ہميشہ اپنے ايمان كو پوشيدہ ركھتى تھي_ ليكن ايمان اور خدا كا عشق ايسى چيز نہيں ہے جسے ہميشہ چھپايا جاسكے_جب فرعون كو اس كے ايمان كى خبر ہوئي تو اس نے اسے بارہا سمجھايا اور منع كيا اور يہ اصرار كيا كہ موسى كے دين سے دستبردار ہوجائے اور اس كے خدا كو چھوڑدے،ليكن يہ با استقامت خاتون فرعون كى خواہش كے سامنے ہر گز نہ جھكي_
آخر كار فرعون نے حكم ديا كہ اس كے ہاتھ پائوں ميخوں ساتھ جكڑ كر اسے سورج كى جلتى ہوئي دھوپ ميں ڈال ديا جائے اور ايك بہت بڑا پتھر اس كے سينہ پر ركھ ديں_جب وہ خاتون اپنى زندگى كے آخرى لمحے گزار رہى تھى تو اس كى دعا يہ تھي:
------
339
''پروردگاراميرے لئے جنت ميں اپنے جوار رحمت ميں ايك گھر بنادے_ مجھے فرعون اور اس كے عمال سے رہائي بخش اور مجھے اس ظالم قوم سے نجات دے''_
خدا نے بھى اس پاكباز اور فدار كار مومنہ خاتون كى دعا قبول كى اور اسے مريم(ع) جيسى دنيا كى بہترين خاتون جناب مريم(ع) كے ہم رديف قرار پائي ہے_
ايك روايت ميں رسول خدا(ص) سے منقول ہے:
''اہل جنت ميں افضل ترين اور برترين عورتيں چارہيں_ خويلد كى بيٹى خديجہ(ع) ،محمد(ص) كى بيٹى فاطمہ(ع) اور عمران كى بيٹى مريم(ع) اور مزاحم كى بيٹى آسيہ(ع) جو فرعون كى بيوى تھي''_
قابل توجہ بات يہ ہے كہ فرعون كى بيوى اپنى اس بات سے فرعون كے عظيم قصر كى تحقير كررہى ہے،اور اسے خدا كے جوار رحمت ميں گھر،كے مقابلہ ميں كوئي اہميت نہيں ديتي_اس گفتگو كے ذريعہ ان لوگوں كے جو اسے يہ نصيحت كرتے تھے كہ ان تمام نماياں وسائل و امكانات كو جو ملكہ مصر ہونے كى وجہ سے تيرے قبضہ و اختيار ميں ہيں، موسى عليہ السلام جيسے چرواہے پر ايمان لاكر ہاتھ سے نہ دے_ جواب ديتى ہے:
اور''نجى من فرعون و عملہ'' كے جملہ كے ساتھ خود فرعون سے اور اس كے مظالم اور جرائم سے بيزارى كا اعلان كرتى ہے_
اور ''نجى من القوم الظالمين''كے جملہ سے اس آلودہ ماحول سے اپنى على حدگي،اور ان كے جرائم سے اپنى بيگانگى كا اظہار كرتى ہے_
مسلمہ طور پر فرعون كے دربار سے بڑھ كرز رق برق اور جلال و جبروت موجود نہيں تھا_اسى طرح فرعون جيسے جابر و ظالم كے شكنجوںسے بڑھ كر فشار اور شكنجے موجود نہيں تھے_ ليكن نہ تو وہ زرق برق اور نہ ہى وہ فشار اور شكنجے اس مومنہ عورت كے گھٹنے جھكا سكے_ اس نے رضائے خدا ميں اپنا سفر اسى طرح سے جارى ركھا_يہاں تك كہ اپنى عزيز جان اپنے حقيقى محبوب كى راہ ميں فدا كردي_
قابل توجہ بات يہ ہے كہ وہ يہ استدعا كرتى ہے كہ اے خدا جنت ميں اوراپنے جوار ميں اس كے لئے
------
340
ايك گھر بنادے جس كا جنت ميں ہونا تو جنبہ جسمانى ہے اور خدا كے جوار رحمت ميں ہونا جنبہ روحانى ہے_ اس نے ان دونوں كو ايك مختصر سى عبارت ميں جمع كرديا ہے_

جناب موسى عليہ السلام كے قتل كا حكم
ايك طرف موسى عليہ السلام اور ان كے پيروكاروں كے درميان باہمى نزاع،اور دوسرى طرف فرعون اور اس كے ہم نوائوں كے ساتھ لڑائي جھگڑا كافى حد تك بڑھ گيا اوراس دوران ميں بہت سے واقعات رونما ہوچكے،جنہيں قرآن نے اس مقام پر ذكر نہيں كيا بلكہ ايك خاص مقصد كو جسے ہم بعد ميں بيان كريں گے پيش نظر ركھ كر ايك نكتہ بيان كيا گيا ہے كہ حالات بہت خراب ہوگئے تو فرعون نے حضرت موسى عليہ السلا م كى انقلابى تحريك كو دبانے بلكہ ختم كرنے كے لئے ان كے قتل كى ٹھان لى ليكن ايسا معلوم ہوتا ہے كہ گويا اس كے مشيروں اور درباريوں نے اس كے اس فيصلے كى مخالفت كى _چنانچہ قرآن كہتا ہے:
''فرعون نے كہا مجھے چھوڑدوتاكہ ميں موسى كو قتل كر ڈالوں اور وہ اپنے پروردگار كو بلائے تاكہ وہ اسے اس سے نجات دے''_(1)
اس سے يہ بات سمجھنے ميں مدد ملتى ہے كہ اس كے اكثر يا كم از كم كچھ مشير موسى عليہ السلام كے قتل كے مخالف تھے وہ يہ دليل پيش كرتے تھے كہ چونكہ موسى كے كام معجزانہ اور غير معمولى ہيں لہذا ہوسكتا ہے كہ وہ ہمارے لئے بددعا كردے تو اس كا خدا ہم پر عذاب نازل كردے ليكن كبر و غرور كے نشے ميں مست فرعون كہنے لگا:ميں تواسے ضرور قتل كروں گا جو ہوگا ديكھا جائے گا_
يہ بات تو معلوم نہيں ہے كہ فرعون كے حاشيہ نشينوں اور مشيروں نے كس بناء پر اسے موسى عليہ السلام كے قتل سے باز ركھا البتہ يہاں پر چند ايك احتمال ضرور ہيں اور ہوسكتا ہے وہ سب كے سب صحيح ہوں_
ايك احتمال تو يہ ہے كہ ممكن ہے خدا كى طرف سے عذاب نازل ہوجائے_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ مومن آيت 26
--------
341
دوسرا احتمال ان كى نظر ميں يہ ہوسكتا ہے كہ موسى عليہ السلام كے مارے جانے كے بعد حالات يكسردگر گوں ہوجائيں گے كيونكہ وہ ايك شہيد كا مقام پاليں گے اور انہيں ہيروكا درجہ مل جائے گا اس طرح سے ان كا دين بہت سے مو من،ہمنوا،طرفدار اور ہمدرد پيدا كرلے گا _
خلاصہ كلام انہيں اس بات كا يقين ہوگياكہ بذات خود موسى ان كے لئے ايك عظيم خطرہ ہيں ليكن اگر ان حالات ميں انہيں قتل كرديا جائے تو يہ حادثہ ايك تحريك ميں بدل جائے گا جس پر كنٹرول كرنا بھى مشكل ہوجائے گااور اس سے جان چھڑانى مشكل تر ہوجائے گي_
فرعون كے كچھ دربارى ايسے بھى تھے جو قلبى طور پر فرعون سے راضى نہيں تھے_وہ چاہتے تھے كہ موسى عليہ السلام زندہ رہيں اورفرعون كى كى تمام تر توجہ انہى كى طرف مبذول رہے، اس طرح سے وہ چار دن آرام كے ساتھ بسر كرليں اور فرعون كى آنكھوں سے اوجھل رہ كر ناجائز مفاد اٹھاتے رہيں كيونكہ يہ ايك پرانا طريقہ كار ہے كہ بادشاہوں كے دربارى اس بات كى فكر ميں رہتے ہيں كہ ہميشہ ان كى توجہ دوسرے امور كى طرف مبذول رہے تا كہ وہ آسودہ خاطر ہوكر اپنے ناجائز مفادات كى تكميل ميں لگے رہيں_اسى لئے تو بعض اوقات وہ بيرونى دشمن كو بھى بھڑكاتے ہيں تاكہ بادشاہ كى فارغ البالى كے شر سے محفوظ رہيں_

كہيں موسى تمہارا مذہب نہ بدل دے
بہر حال فرعون نے حضرت موسى عليہ السلام كو قتل كے منصوبے كى توجيہہ كرتے ہوئے اپنے درباريوں كے سامنے اس كى دودليليں بيان كيں_ايك كا تعلق دينى اور روحانى پہلو سے تھا اور دوسرى كا دنياوى اور مادى سے ،وہ كہنے لگا:مجھے اس بات كا خوف ہے كہ وہ تمہارے دين كو تبديل كردے گا اور تمہارے باپ دادا كے دين كو دگر گوں كردے گا،يا يہ كہ زمين ميں فساد اور خرابى برباد كردے گا_(1)
اگر ميں خاموشى اختيار كرلوں تو موسى بہت جلد مصر والوں ميں اتر جائے گا اور بت پرستى كا''مقدس
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ مومن آيت 26
------
342
دين''جو تمہارى قوميت اور مفادات كا محافظ ہے ختم ہوجائے گااور اس كى جگہ توحيد پرستى كا دين لے لے گا جو يقينا تمہارے سوفيصد خلاف ہوگا_
اگر ميں آج خاموشى ہوجائوں اور كچھ عرصہ بعد موسى سے مقابلہ كرنے كے لئے اقدام كروں تو اس دوران ميں وہ اپنے بہت سے دوست اور ہمدرد پيدا كرلے گا جس كى وجہ سے زبردست لڑائي چھڑجائے گى جو ملكى سطح پر خونريزي، گڑ بڑاور بے چينى كا سبب بن جائے گى اسى لئے مصلحت اسى ميں ہے كہ جتنا جلدى ہوسكے اسے موت كے گھاٹ اتار ديا جائے _
اب ديكھنا يہ ہے كہ اس گفتگو سے موسى عليہ السلام نے كس رد عمل كا اظہار كيا جو اس مجلس ميں تشريف فرمابھى تھے، قرآن كہتا ہے :موسى نے كہا : ''ميں اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار كى ہر اس متكبر سے پناہ مانگتا ہوں جو روز حساب پر ايمان نہيں لاتا ''_(1)
موسى عليہ السلام نے يہ باتيں بڑے سكون قلب اور اطمينان خاطر سے كيں جوان كے قوى ايمان اور ذات كردگار پر كامل بھروسے كى دليل ہيں اور اس طرح سے ثابت كرديا كہ اس كى اس دھمكى سے وہ ذرہ بھر بھى نہيں گھبرائے _
حضرت موسى عليہ السلام كى اس گفتگو سے ثابت ہوتا ہے كہ جن لوگوں ميں مندرجہ ذيل دوصفات پائي جائيں وہ نہايت ہى خطر ناك افراد ہيں ايك '' تكبر'' اور دوسرے '' قيامت پر ايمان نہ ركھنا'' اور اس قسم كے افراد سے خدا كى پناہ مانگنى چاہئے _

آيا كسى كو خدا كى طرف بلانے پر بھى قتل كرتے ہيں ؟
يہاں سے موسى عليہ السلام اور فرعون كى تاريخ كا ايك اور اہم كردار شروع ہوتا ہے اور وہ ہے ''مئومن آل فرعون '' جو فرعون كے رشتہ داروں ميں سے تھا حضرت موسى عليہ السلام كى دعوت توحيد قبول كرچكا
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ مومن آيت 27
----
343
تھا،ليكن اپنے اس ايمان كو ظاہر نہيں كرتا تھا كيونكہ وہ اپنے آپ كو خاص طريقے سے موسى عليہ السلام كى حمايت كا پابند سمجھتا تھا جب اس نے ديكھا كہ فرعون كے غيظ وغضب سے موسى عليہ السلام كى جان كو خطرہ پيدا ہوگيا ہے تو مردانہ وار آگے بڑھا اور اپنى دل نشين اور موثر گفتگو سے قتل كى اس سازش كو ناكام بناديا _
قرآن ميں فرمايا گيا ہے :'' آل فرعون ميں سے ايك شخص نے جو اپنے ايمان كو چھپائے ہوئے تھا كہا:
''كياكسى شخص كو صرف اس بناء پر قتل كرتے ہوكہ وہ كہتا ہے كہ ميرا رب اللہ ہے ؟''(1)
''حالانكہ وہ تمہارے ربّ كى طرف سے معجزات اور واضح دلائل اپنے ساتھ لايا ہے _''(2)
آيا تم اس كے عصا اور يدبيضاء جيسے معجزات كا انكار كرسكتے ہو ؟ كيا تم نے اپنى آنكھوں سے اس كے جادو گروں پر غالب آجانے كا مشاہدہ نہيں كيا ؟ يہاں تك كہ جادوگروں نے اس كے سامنے اپنے ہتھيار ڈال ديئےور ہمارى پرواہ تك نہ كى اور نہ ہى ہمارى دھمكيوں كو خاطر ميں لائے اور موسى كے خدا پر ايمان لاكر اپنا سراس كے آگے جھكاديا، ذرا سچ بتائو ايسے شخص كو جادوگر كہا جاسكتا ہے،؟ خوب سوچ سمجھ كر فيصلہ كرو، جلد بازى سے كام نہ لو اور اپنے اس كام كے انجام كو بھى اچھى طرح سوچ لوتاكہ بعد ميں پشيمان نہ ہونا پڑے _
ان سب سے قطع نظر يہ دوحال سے خالى نہيں '' اگر وہ جھوٹا ہے تو جھوٹ اس كا خود ہى دامن گير ہوگا اور اگر سچا ہے تو كم ازكم جس عذاب سے تمہيں ڈرايا گيا ہے وہ كچھ نہ كچھ تو تمہارے پاس پہنچ ہى جائےگا''_(3)
يعنى اگر وہ جھوٹا ہے جھوٹ كے پائوں نہيں ہوتے ، آخركار ايك نہ ايك دن اس كا پول كھل جائے گا اور وہ اپنے جھوٹ كى سزا پالے گا ليكن يہ امكان بھى تو ہے كہ شايد وہ سچا ہو اور خدا كى جانب سے بھيجا گيا ہو تو پھر ايسى صورت ميں اس كے كئے ہوئے وعدے كسى نہ كسى صورت ميں وقوع پذير ہوكررہيں گے لہذا اس كا قتل كرنا عقل وخرد سے كو سوں دورہے _
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ مومن آيت28
(2)سورہ مومن آيت 28
(3)سورہ مومن 28
--------
344
اس سے يہ نتيجہ نكلا، ''االلہ تعالى مسرف اور جھوٹے كى ہدا يت نہيں فرماتا''_ (1)
اگر حضرت موسى تجاوزو اسراف ودروغ كو اختيار كرتے تو يقينااللہ تعالى كى ہدايت حاصل نہ كرتے اور اگر تم بھى ايسے ہى ہوگئے تو اس كى ہدايت سے محروم ہوجائوگے _
مومن آل فرعون نے اس پر ہى اكتفاء نہيں كى بلكہ اپنى گفتگو كو جارى ركھا، دوستى اور خير خواہى كے انداز ميں ان سے يوں گويا ہوا : اے ميرى قوم آج مصر كى طويل وعريض سرزمين پر تمہارى حكومت ہے اور تم ہر لحاظ سے غالب اور كامياب ہو، اس قدر بے انداز نعمتوں كا كفران نہ كرو، اگر خدائي عذاب ہم تك پہنچ گيا تو پھر ہمارى كون مدد كرے گا ''_(2)
ظاہر اً اس كى يہ باتيں '' فرعون كے ساتھيوں '' كے لئے غير موثر ثابت نہيں ہوئيں انہيں نرم بھى بنا ديا اور ان كے غصے كو بھى ٹھنڈا كرديا _
ليكن يہاں پر فرغون نے خاموشى مناسب نہ سمجھى اس كى بات كاٹتے ہوئے كہا: بات وہى ہے جو ميں نے كہہ دى ہے_''جس چيز كا ميں معتقد ہوں اسى كا تمہيں بھى حكم ديتا ہوں ميں اس بات كا معتقد ہوں كہ ہر حالت ميں موسى كو قتل كردينا چاہئے اس كے علاوہ كوئي اور راستہ نہيں ہے اور ميں تو صرف تمہيں صحيح راستہ كى طرف راہنمائي كرتا ہوں''_ (3)

ميں تمہيں خبردار كرتا ہوں
اس دور ميں مصر كے لوگ ايك حدتك متمدن اور پڑھے لكھے تھے انہوں نے قوم نوح، عاد اور ثمود جيسى گزشتہ اقوام كے بارے ميں مو رخين كى باتيں بھى سن ركھى تھيں اتفاق سے ان اقوام كے علاقوں كا اس علاقے سے زيادہ فاصلہ بھى نہيں تھا يہ لوگ ان كے دردناك انجام سے بھى كم وبيش واقفيت ركھتے تھے _
لہذا مو من آل فرعون نے موسى عليہ السلام كے قتل كے منصوبے كى مخالفت كى اس نے ديكھا كہ
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ مومن آيت 28
(2)سورہ مومن آيت29
(3)سورہ مومن آيت29
-------
345
فرعون كو زبردست اصرار ہے كہ وہ موسى كے قتل سے باز نہيں آئے گا، اس مرد مو من نے پھر بھى ہمت نہ ہارى اور نہ ہى ہارنى چاہئے تھى لہذا اب كہ اس نے يہ تدبير سوچى كہ اس سركش قوم كو گزشتہ اقوام كى تاريخ اور انجام كى طرف متوجہ كرے شايد اس طرح سے يہ لوگ بيدارہوں اور اپنے فيصلے پر نظر ثانى كريں قرآن كے مطابق اس نے اپنى بات يوں شروع كى اس باايمان شخص نے كہا:'' اے ميرى قوم ، مجھے تمہارے بارے ميں گزشتہ اقوام كے عذاب كے دن كى طرح كا خوف ہے _''(1)
پھر اس بات كى تشريح كرتے ہوئے كہا :''ميں قوم نوح(ع) ، عاد، ثمود اور ان كے بعد آنے والوں كى سى برى عادت سے ڈرتا ہوں''_ (2)
ان قوموں كى عادت شرك،كفر اور طغيان وسركشى تھى اور ہم ديكھ چكے ہيں كہ ان كا كيا انجام ہوا ؟ كچھ تو تباہ كن طوفانوں كى نذر ہوگئيں، كچھ وحشت ناك جھگڑوں كى وجہ سے برباد ہوئيں، كچھ كو آسمانى بجلى نے جلاكر راكھ كرديا اور كچھ زلزلوں كى بھينٹ چڑھ كر صفحہ ہستى سے مٹ گئيں _كيا تم يہ نہيں سمجھتے كہ كفراور طغيان پر اصراركى وجہ سے تم بھى مذكورہ عظيم بلائوں ميں سے كسى ايك كا شكار ہوسكتے ہو؟ لہذا مجھے كہنے دو كہ مجھے تمہارے بارے ميں بھى اس قسم كے خطرناك مستقبل كا انديشہ ہے _
آيا تمہارے پاس اس بات كا كوئي ثبوت ہے كہ تمہارے كردار اور افعال ان سے مختلف ہيں ؟ آخران لوگوں كا كيا قصور تھا كہ وہ اس طرح كے بھيانك مستقبل سے دوچار ہوئے كيا اس كے سوا كچھ اور تھا كہ انھوں نے خدا كے بھيجے ہوئے پيغمبر وں كى دعوت كے خلاف قيام كيا، ان كى تكذيب كى بلكہ انہيں قتل كرڈالا_
ليكن يادركھو جو مصيبت بھى تم پر نازل ہوگى خود تمہارے كئے كى سزا ہوگى كيونكہ '' خدا اپنے بندوں پر ظلم نہيں كرنا چاہتا_'' (3) پھر كہتا ہے : اے ميرى قوم ميں تمہاريے لئے اس دن سے ڈرتا ہوں جس دن لوگ ايك دوسرے كو پكاريں گے ليكن كوئي مدد نہيں كرے گا''_(4)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ مومن آيت 31
(2)سورہ مومن آيت 31
(3)سورہ مومن آيت31
(4)سورہ مومن آيت32
--------
346
ان بيانات كے ذريعے مومن آل فرعون نے جو كچھ كرنا تھا كردكھايا اس نے فرعون كو جناب موسى كے قتل كى تجويز بلكہ فيصلے كے بارے ميں ڈانواڈول كرديا يا كم از كم اسے ملتوى كرواديا اسى التواء سے قتل كا خطرہ ٹل گيا اور يہ تھا اس ہوشيار، زيرك اور شجاع مرد خدا كا فريضہ جو اس نے كماحقہ ادا كرديا جيسا كہ بعد كى گفتگوسے معلوم ہوگا كہ اس سے اس كى جان كے بھى خطرے ميں پڑنے كا انديشہ ہوگيا تھا _

آخرى بات
پانچويں اور آخرى مرحلے پر مومن آل فرعون نے تمام حجاب الٹ ديئے اور اس سے زيادہ اپنے ايمان كو نہ چھپاسكا ،وہ جو كچھ كہنا چاہتا تھا كہہ چكا اور فرعون والوںنے بھى ،جيسا كہ آگے چل كر معلوم ہوگا، اس كے بارے ميں بڑا خطرناك فيصلہ كيا _ خداوند عالم نے بھى اپنے اس مومن اور مجاہد بندے كو تنہا نہيں چھوڑا جيسا كہ قران نے بيان كياہے : ''خدا نے بھى اسے ان كى ناپاك چالوں اور سازشوں سے بچاليا ''_(1)
اس كى تعبير سے واضح ہوتا ہے كہ فرعونيوں نے اس كے بارے ميں مختلف سازشيں اور منصوبے تيار كرركھے تھے _
ليكن وہ منصوبے كيا تھے ؟ قرآن نے اس كى تفصيل بيان نہيں كي، ظاہر ہے كہ مختلف قسم كى سزائيں اذيتيں اور آخركار قتل اور سزائے موت ہوسكتى ہے ليكن خداوندعالم كے لطف وكرم نے ان سب كو ناكام بناديا _
چنانچہ بعض تفسيروں ميں ہے كہ وہ ايك مناسب موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے موسى عليہ السلام تك پہنچ گيا اور اس نے بنى اسرائيل كے ہمرا ہ دريائے نيل كو عبور كيا، نيز يہ بھى كہا گيا ہے كہ جب اس كے قتل كا منصوبہ بن چكا تو اس نے اپنے آپ كو ايك پہاڑ ميں چھپاليا اور نگاہوں سے اوجھل ہوگيا _
يہ دونوں روايات آپس ميں مختلف نہيں ہيں كيونكہ ممكن ہے كہ پہلے وہ شہر سے مخفى ہوگيا ہو اور پھر بنى اسرائيل سے جا ملاہو _
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ مومن آيت45
-------
347

موسى كے خدا كى خبرلاتا ہوں
اگرچہ مومن آل فرعون كى باتوں نے فرعون كے دل پر اس قدر اثر كيا كہ وہ موسى عليہ السلام كے قتل سے تو باز آگيا ليكن پھر بھى غرور كى چوٹى سے نيچے نہ اترا اور اپنى شيطنت سے بھى بازنہ آيا اور نہ ہى حق بات قبول كرنے پر آمادہ ہوا كيونكہ فرعون كے پاس اس بات كى نہ توصلاحيت تھى اور نہ ہى لياقت لہذا اپنے شيطنت آميز اعمال كو جارى ركھتے ہوئے اس نے ايك نئے كام كى تجويز پيش كى اور وہ ہے آسمانوں پر چڑھنے كے لئے ايك بلندو بالابرج كى تعمير تاكہ اس پر چڑھ كر موسى كے خدا كى خبر لے آئے _
فرعون نے كہا: اے ہامان : ميرے لئے ايك بلند عمارت تيار كروتاكہ ميں اسباب وذرائع تك پہنچ سكوں ايسے اسباب وذرائع جو مجھے آسمانوں تك لے جاسكيں تاكہ ميں موسى كے خدا سے باخبر ہوسكوں ہر چند كہ ميں گمان كرتاہوں كہ وہ جھوٹاہے _
جى ہاں اس قسم كے برے اعمال فرعون كى نظر ميں مزين كرديئے گئے تھے اور انھوں نے اسے راہ حق سے روك ديا تھا ،ليكن فرعون كى سازش اور چالوں كا انجام نقصان اور تباہى كے سوا كچھ نہيں ''_(1)
سب سے پہلى چيز جو يہاں پر نظر آتى ہے وہ يہ ہے كہ آخر اس كام سے فرعون كا مقصد كيا تھا؟ آياوہ واقعاً اس حدتك احمق تھا كہ گمان كرنے لگا كہ موسى كا خدا آسمان ميں ہے ؟ بالفرض اگر آسمان ميں ہو بھى تو آسمان سے باتيں كرنے والے پہاڑوں كے ہوتے ہوئے اس عمارت كے بنانے كى كيا ضرورت تھى جو پہاڑوں كى اونچائي كے سامنے بالكل ناچيز تھي؟ اور كيا اس طرح سے وہ آسمان تك پہنچ بھى سكتا تھا؟
يہ بات تو بہت ہى بعيد معلوم ہوتى ہے كيونكہ فرعون مغرور اور متكبر ہونے كے باوجود سمجھ دار اور سياستداں شخص تو ضرورتھا جس كى وجہ سے اس نے ايك عظيم ملت كو اپنى زنجيروں ميں جكڑا تھا اور بڑے زور دار طريقے سے اس پر حكومت كرتارہا لہذا اس قسم كے افراد كى ہر ہر بات اور ہر ہر حركت شيطانى حركات
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ مومن آيت37
-----
348
وسكنات كى آئينہ دار ہوتى ہيں لہذا سب سے پہلے اس كے اس شيطانى منصوبے كا تجزيہ وتحليل كرنا چاہئے كہ آخر ايسى عمارت كى تعمير كا مقصد كيا تھا ؟
بظاہر يہ معلوم ہوتا ہے كہ فرعون نے ان چند مقاصد كے پيش نظر ايسا اقدام كيا :
1_وہ چاہتا تھا كہ لوگوں كى فكر كو مصروف ركھے موسى عليہ السلام كى نبوت اور بنى اسرائيل كے قيام كے مسئلہ سے ان كى توجہ ہٹانے كے لئے اس نے يہ منصوبہ تيار كيا، بعض مفسرين كے بقول يہ عمارت ايك نہايت ہى وسيع وعريض زمين ميں كھڑى كى گئي جس پر پچاس ہزار مزدور كام كرنے لگے اس تعميرى منصوبے نے دوسرے تمام مسائل كو بھلاديا جوں جوں عمارت بلند ہوتى جاتى تھى توں توں لوگوں كى توجہ اس كى طرف زيادہ مبذول ہوتى تھى ہر جگہ اور ہر محفل ميں نئي خبر كے عنوان سے اس كے چرچے تھے اس نے وقتى طور پر جادو گروں پر موسى عليہ السلام كى كاميابى كو جو كہ فرعون اور فرعونيوں كے پيكر پر ايك كارى ضرب تھى لوگوں كے ذہنوں سے فراموش كرديا _
2_ وہ چاہتا تھا كہ اس طرح سے زحمت كش اور مزوور طبقے كى جزوى مادى اور اقتصادى امداد كرے اور عارضى طور پر ہى سہى بيكار لوگوں كے لئے كام مہيا كرے تاكہ تھوڑاسا اس كے مظالم كو فراموش كرديں اور اس كے خزانے كى لوگوں كو زيادہ سے زيادہ احتياج محسوس ہو _
3_پروگرام يہ تھا كہ جب عمارت پايہ تكميل كو پہنچ جائے، تو وہ اس پر چڑھ كر آسمان كى طرف نگاہ كرے اور شايد چلہ كمان ميں ركھ كر تير چلائے اور وہ واپس لوٹ آئے تو لوگوں كو احمق بنانے كے لئے كہے كہ موسى كا خدا جو كچھ بھى تھا آج اس كا خاتمہ ہو گيا ہے اب ہر شخص بالكل مطمئن ہوكر اپنے اپنے كام ميں مصروف ہوجائے _
وگرنہ فرعون كے لئے تو صاف ظاہر تھا كہ اس كى عمارت جتنى بھى بلند ہو چند سو ميڑسے زيادہ تو اونچى نہيں جاسكتى تھى جبكہ آسمان اس سے كئي گنا بلند اور اونچے تھے، پھريہ كہ اگر بلند ترين مقام پر بھى كھڑے ہوكر آسمان كى طرف ديكھا جائے تو اس كا منظر بغير كسى كمى بيشى كے ويسے ہى نظر آتا ہے جيسے سطح زمين سے _
--------
349
يہ بات بھى قابل توجہ ہے كہ فرعون نے يہ بات كركے درحقيقت موسى عليہ السلام كے مقابلے سے ايك قسم كى پسپائي اختيار كى جبكہ اس نے كہا كہ ميں موسى كے خدا كے بارے ميں تحقيق كرنا چاہتاہوں'' فاطلع الى الہ موسى '' اور ساتھ ہى يہ بھى كہتا ہے كہ'' ہر چند كہ ميں اسے جھوٹا گمان كرتا ہوں '' اس طرح سے وہ يقين كى منزل سے ہٹ كر شك اور گمان كے مرحلے تك نيچے آجاتاہے _
اس مسئلے ميں مفسرين كے ايك گروہ نے (مثلاً فخر رازى اور آلوسى نے ) يہ سوال بھى اٹھايا ہے كہ آيا : فرعون نے اپنا مجوزہ بلند مينار تعمير كرايا تھا يانہيں؟
ان مفسرين كا ذہن اس طرف اس لئے منتقل ہوا كہ مينار كى تعمير كا كام كسى طرح بھى عاقلانہ نہ تھا كيا اس عہد كے لوگ كبھى بلند پہاڑوں پر نہيں چڑھے تھے ؟ اور انھوں نے آسمان كے منظر كو ويسا ہى نہيں ديكھا تھا جيسا كہ وہ زمين سے نظرآتا ہے ؟كيا انسان كا بنايا ہوا مينار پہاڑسے زيادہ اونچا ہوسكتا ہے ؟ كيا كوئي احمق بھى يہ يقين كرسكتا ہے كہ ايسے مينار پر چڑھ كر آسمان كو چھوا جاسكتا ہے ؟
ليكن وہ مفسرين جنہوں نے يہ اشكا لات پيدا كئے ہيں ان كى توجہ ان نكات كى طرف نہيں گئي كہ اول تو ملك مصر كو ہستانى نہيں دوم يہ كہ انہوں نے اس عہد كے لوگوں كى سادہ لوحى كو فراموش كرديا كہ ان سيدھے سادھے لوگوںكو ايسے ہى مسائل سے غافل كيا جاسكتا تھا يہاں تك كہ خود ہمارے زمانے جسے عصر علم ودانش كہا جاتاہے، لوگوں كى توجہ اصل مسائل سے ہٹانے كے لئے كيسے كيسے مكرو فريب اور حيلہ سازياں كى جاتى ہيں _

پچاس ہزار معمار برج بناتے ہيں
بہر كيف _بعض تواريخ كے بيان كے مطابق، ہامان نے حكم ديا كہ ايسا محل اور برج بنانے كے لئے زمين كا ايك وسيع قطعہ انتخاب كريں اور اس كى تعمير كے لئے پچاس ہزار معمار اور مزدور روانہ كردے اور اس عمارت كے واسطے مٹيريل فراہم كرنے كے لئے ہزاروں آدمى مقرر كئے گئے اس نے خزانہ كا منہ كھول ديا اور اس مقصد كے لئے كثير رقم خرچ كى يہاں تك كہ تمام ملك مصر ميں اس عظيم برج كى تعمير كى شہرت ہوگئي _
--------
350
يہ عمارت جس قدر بھى بلند سے بلندتر، ہوتى جاتى تھى لوگ اتنے ہى زيادہ اسے ديكھنے آتے تھے اور منتظر تھے كہ ديكھئے فرعون يہ عمارت بنا كر كيا كرتا ہے ؟
يہ عمارت اتنى بلند ہوگئي كہ اس سے دوردور تك اطراف وجوانب كا ميدان نظر آنے لگا بعض مو رخين نے لكھا ہے كہ معماروں نے اس كى مارپيچ سيڑھياں ايسى بنائي تھيں كہ آدمى گھوڑے پر سوار ہوكر اس پر چڑھ سكتا تھا _

ميں نے موسى عليہ السلام كے خدا كو مارا ڈالا
جب وہ عمارت پايہ تكميل كو پہنچ گئي اور اسے مزيد بلند كرنے كا كوئي امكان نہ رہا تو ايك روز فرعون پورى شان وشوكت سے وہاں آيا اور بذات خود برج پر چڑھ گيا جب وہ برج كى چوٹى پر پہنچا اور آسمان كى طرف نظر اٹھائي تو اسے آسمان ويسا ہى نظر آيا جيسا كہ وہ زمين سے ديكھا كرتا تھا اس منظر ميں ذرا بھى تغيرو تبديلى نہ تھى _
مشہور يہ ہے كہ اس نے مينار پر چڑھ كے كمان ميں تير جوڑا اور آسمان كى طرف پھنكا يا تووہ تير كسى پرندے كے لگايا پہلے سے كوئي سازش كى گئي تھى كہ تير خون آلود واپس آيا تب فرعون وہاں سے نيچے اترآيا اور لوگوں سے كہا :جائو، مطمئن رہو اور كسى قسم كى فكر نہ كرو ميں نے موسى كے خدا كو مارڈالاہے _
يہ بات حتمى طور پر كہى جاسكتى ہے كہ سادہ لوحوں اور اندھى تقليد كرنے والوں كے ايك گروہ نے او ران لوگوں نے جن كى آنكھيں اور كان حكومت وقت كے پروپيگنڈے سے بند ہوگئے تھے، فرعون كے اس قول كا يقين كرليا ہوگا اور ہر جگہ اس خبر كو عام كيا ہوگا اور مصر كى رعايا كو غافل ركھنے كا ايك اور سبب پيدا ہوگا _
مفسرين نے يہ بھى لكھا ہے كہ يہ عمارت دير تك قائم نہيں رہى (اور اسے رہنا بھى نہ چاہئے تھا) تباہ ہوگئي بہت سے لوگ اس كے نيچے دب كے مرگئے اس سلسلے ميں اہل قلم نے اور بھى طرح طرح كى داستانيں لكھى ہيں ليكن ان كى صحت كى تحقيق نہ ہوسكى اس لئے انھيں قلم زد كرديا گيا ہے _
-------
351

بيدار كرنے والى سزائيں
ايك كلى قانون تمام پيغمبروں كے لئے يہ تھا كہ جب ان كو لوگوں كى مخالفت كا سامنا ہو اور وہ كسى طرح سے راہ راست پر نہ آئيں تو خدا ان كو بيدار كرنے كے لئے مشكلات ومصائب ميں گرفتار كرتا تھا تاكہ وہ اپنے ميں نياز مندى اور محتاجى كا احساس كريں ، اور ان كى فطرت توحيد جو آرام وآسائشے كى وجہ سے غفلت كے پردوں ميں چلى گئي ہے دوبارہ ابھر آئے اوران كو اپنى ضعف وناتوانى كا اندازہ ہو اور اس قادر وتوانا ہستى كى جانب متوجہ ہوں جو ہر نعمت و نقمت كا سر چشمہ ہے _
قرآن ميں اس مطلب كى طرف اشارہ فرمايا گيا ہے : ہم نے آل فرعون كو قحط، خشك سالى اور ثمرات كى كمى ميں مبتلا كيا كہ شاہد متوجہ اور بيدار ہوجائيں(1)
باوجود يكہ قحط سالى نے فرعونيوں كو گھير ليا تھا ليكن مذكورہ بالابيان ميں صرف فرعون كے مخصوصين كا ذكر كيا گيا ہے مقصد يہ ہے كہ اگر يہ بيدار ہوگئے تو سب لوگ بيدار ہوجائيں گے كيونكہ تمام لوگوں كى نبض انہى كے ہاتھوں ميں ہے يہ چاہيں تو بقيہ افراد كو گمراہ كريں يا ہدايت كريں _
اس نكتہ كو بھى نظر انداز نہيں كرنا چاہئے كہ خشك سالى اہل مصر كے لئے ايك بلائے عظيم شمار ہوتى تھى كيونكہ مصر پورے طور سے ايك زرعى مملكت تھى اس بناء پر اگر زراعت نہ ہوتو اس كا اثر ملك كے تمام افراد پر پڑتا ہے ليكن مسلمہ طور پر فرعون اور اس كے افراد چونكہ ان زمينوں كے مالك اہلى تھے اس لئے فى الحقيقت وہ سب سے زيادہ اس سے متاثر ہوئے تھے _
ضمناً يہ بھى معلوم ہوا كہ يہ خشك سالى كئي سال تك باقى رہى كيونكہ'' سنين'' جمع كا صيغہ ہے _
ليكن آل فرعون، بجائے اس كے كہ ان الہى تنبيہوں سے نصيحت ليتے اور خواب خرگوش سے بيدار ہوتے انہوں نے اس سے سوء استفادہ كيا اور ان حوادث كى من مانى تفسير كي، جب حالات ان كے
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ اعراف 130
-----
352
منشا كے مطابق ہوتے تھے تو وہ راحت وآرام ميں ہوتے تھے اور كہتے كہ يہ حالات ہمارى نيكى ولياقت كى وجہ سے ہيں: ''فى الحقيقت ہم اس كے اہل ولائق ہيں ''_
ليكن جس وقت وہ مشكل ومصيبت ميں گرفتار ہوتے تھے تو اس كو فوراً موسى عليہ السلام اور ان كے ساتھيوں كے سرباندھ ديتے تھے'' اور كہتے تھے كہ يہ ان كى بد قدمى كى وجہ سے ہوا ہے _
ليكن قرآن كريم ان كے جواب ميں كہتا ہے : '' ان كى بدبختيوں اور تكليفوں كا سر چشمہ خدا كى طرف سے ہے خدا نے يہ چاہا ہے كہ اس طرح ان كو ان كے اعمال بد كى وجہ سے سزادے ليكن ان ميں سے اكثر اس كو نہيں جانتے ''_(1)

مختلف اور پيہم بلائوں كا نزول
قرآن ميں ان بيدار كنندہ درسوں كا ايك اور مرحلہ بيان كيا گيا ہے جو خدا نے قوم فرعون كو ديئے جب مرحلہ اول يعنى قحط، خشك سالى اور مالى نقصانات نے ان كو بيدار نہ كيا تو دوسرے مرحلہ كى نوبت پہنچى جو پہلے مرحلہ سے شديد تر تھا اس مرتبہ خدا نے ان كو پے درپے ايسى بلائوںميں جكڑا جو ان كو اچھى طرح سے كچلنے والى تھيں مگر افسوس ان كى اب بھى آنكھيں نہ كھليں _
پہلے ان بلائوں كے نزول كے مقدمہ كے طور پر فرمايا گيا ہے : انہوں نے موسى كى دعوت كے مقابلے ميں اپنے عناد كو بدستور باقى ركھا اور ''كہا كہ تم ہر چند ہمارے لئے نشانياں لائو اوران كے ذريعے ہم پر اپنا جادو كرو ہم كسى طرح بھى تم پر ايمان نہيں لائيں گے''_ (2)
لفظ''آيت '' شايد انہوں نے ازراہ تمسخر استعمال كيا تھا ، كيونكہ حضرت موسى نے اپنے معجزات كو آيات الہى قرار ديا تھا ليكن انہوں نے سحر قرار ديا_
آيات كا لہجہ اور ديگر قرائن اس بات كے مظہر ہيں كہ فرعون كے پروپيگنڈوں كا محكمہ جو اپنے زمانے
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ اعراف 131
(2)سورہ اعراف آيت 132
--------
353
كے لحاظ سے ہر طرح كے سازو سامان سے ليس تھا وہ حضرت موسى كے خلاف ہر طرف سے حركت ميں آگيا تھا اس كے نتيجے ميں تمام لوگوں كا ايك ہى نعرہ تھا اور وہ يہ كہ اے موسى تم تو ايك زبردست جادو گر ہو ، كيونكہ موسى كى بات كو رد كرنے كا ان كے پاس اس سے بہتر كوئي جواب نہ تھا جس كے ذريعے لوگوں كے دلوں ميں وہ گھربنانا چاہتے تھے _
ليكن چونكہ خدا كسى قوم پر اس وقت تك اپنا آخرى عذاب نازل نہيں كرتا جب تك كہ اس پر خوب اچھى طرح سے اتمام حجت نہ كرلے اس لئے بعد والى آيت ميں فرمايا گيا ہے كہ ہم نے پہلے طرح طرح كى بلائيں ان پر نازل كيں كہ شايد ان كو ہوش آجائے _(1)
''پہلے ہم نے ان پر طوفان بھيجا''
اس كے بعد قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے:
''اس كے بعد ہم نے ان كى زراعتوں اور درختوں پر ٹڈيوں كو مسلط كرديا_''
روايات ميں وارد ہوا ہے كہ كہ اللہ نے ان پر ٹڈياں اس كثرت سے بھيجيں كہ انھوں نے درختوں كے شاخ و برگ كا بالكل صفايا كرديا، حتى كہ ان كے بدنوں تك كو وہ اتنا آزار پہنچاتى تھيں كہ وہ تكليف سے چيختے چلاتے تھے_
جب بھى ان پر بلا نازل ہوتى تھى تو وہ حضرت موسى عليہ السلام سے فرياد كرتے تھے كہ وہ خدا سے كہہ كر اس بلا كو ہٹواديں طوفان اور ٹڈيوں كے موقع پر بھى انھوں نے جناب موسى عليہ السلام سے يہى خواہش كى ، جس كو موسى عليہ السلام نے قبول كرليا اور يہ دونوں بلائيں برطرف ہوگئيں، ليكن اس كے بعد پھر وہ اپنى ضد پر اتر آئے جس كے نتيجے ميں تيسرى بلا ''قمّل '' كى ان پر نازل ہوئي_
''قمّل'' سے كيا مراد ہے؟ اس بارے ميں مفسرين كے درميان گفتگو ہوئي ہے ليكن ظاہر يہ ہے كہ يہ
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ اعراف كى ايت 133 ميں ان بلاو ں كا نام ليا گيا ہے
-----
354
ايك قسم كى نباتى آفت تھى جو زراعت كو كھاجاتى تھي_
جب يہ آفت بھى ختم ہوئي اور وہ پھر بھى ايمان نہ لائے،تو اللہ نے مينڈك كى نسل كو اس قدر فروغ ديا كہ مينڈك ايك نئي بلا كى صورت ميں ان كى زندگى ميں اخل ہوگئے_
جدھر ديكھتے تھے ہر طرف چھوٹے بڑے مينڈك نظر آتے تھے يہاں تك كہ گھروں كے اندر، كمروں ميں، بچھونوں ميں، دسترخوان پر كھانے كے برتنوں ميں مينڈك ہى مينڈك تھے، جس كى وجہ سے ان كى زندگى حرام ہوگئي تھي، ليكن پھر بھى انھوں نے حق كے سامنے اپنا سرنہ جھكايا اور ايمان نہ لائے_
اس وقت اللہ نے ان پر خون مسلط كيا_
بعض مفسرين نے كہا كہ خون سے مراد ''مرض نكسير'' ہے جو ايك وبا كى صورت ميں ان ميں پھيل گيا، ليكن بہت سے مفسرين نے لكھا ہے كہ دريائے نيل لہو رنگ ہوگيا اتنا كہ اس كا پانى مصرف كے لائق نہ رہا_
آخر ميں قرآن فرماتا ہے: '' ان معجزوں اور كھلى نشانيوں كو جو موسى كى حقانيت پر دلالت كرتى تھيں،ہم نے ان كو دكھلايا ليكن انھوں نے ان كے مقابلہ ميں تكبر سے كام ليا اور حق كو قبول كرنے سے انكار كرديا اور وہ ايك مجرم او رگناہگار قوم تھے_''(1)
بعض روايات ميں ہے كہ ان ميں سے ہر ايك بلا ايك ايك سال كے لئے آتى تھى يعنى ايك سال طوفان و سيلاب، دوسرے سال ٹڈيوں كے دَل، تيسرے سال نباتاتى آفت، اسى طرح آخر تك، ليكن ديگر روايات ميں ہے كہ ايك آفت سے دوسرى آفت تك ايك مہينہ سے زيادہ فاصلہ نہ تھا، بہر كيف اس ميںشك نہيں كہ ان آفتوں كے درميان فاصلہ موجود تھا( جيسا كہ قرآن نے لفظ ''مفصلات'' سے تعبير كيا ہے)تاكہ ان كو تفكر كے لئے كافى موقع مل جائے_
قابل توجہ بات يہ ہے كہ يہ بلائيں صرف فرعون اور فرعون والوں كے دامن گير ہوتى تھيں، بني
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ اعراف آيت 133
----
355
اسرائيل اس سے محفوظ تھے، بے شك يہ اعجاز ہى تھا ،ليكن اگر نكتہ ذيل پر نظر كى جائے تو ان ميں سے بعض كى علمى توجيہہ بھى كى جاسكتى ہے_
ہميں معلوم ہے كہ مصر جيسى سرسبز و شاداب اور خوبصورت سلطنت جو دريائے نيل كے كناروں پر آباد تھى اس كے بہترين حصے وہ تھے جو درياسے قريب تھے وہاں پانى بھى فراوان تھا اور زراعت بھى خوب ہوتى تھى ،تجارتى كشتياں وغيرہ بھى دستياب تھيں، يہ خطے فرعون والوں اور قبطيوں كے قبضے ميں تھے جہاں انھوں نے اپنے قصر و باغات بنا ركھے تھے اس كے بر خلاف اسرائيلوں كو دور دراز كے خشك اور كم آب علاقے دئے گئے تھے جہاں وہ زندگى كے يہ سخت دن گذارتے تھے كيونكہ ان كى حيثيت غلاموں جيسى تھي_
بنا بر اين يہ ايك طبيعى امر ہے كہ جب سيلاب اور طوفان آيا تو اس كے نتيجے ميں وہ آبادياں زيادہ متاثر ہوئيں جو دريائے نيل كے دونوں كناروں پر آباد تھيں، اسى طرح مينڈھك بھى پانى سے پيدا ہوتے ہيں جو قبطيوں كے گھروں كے آس پاس بڑى مقدار ميں موجود تھے، يہى حال خون كا ہے كيونكہ رود نيل كا پانى خون ہو گيا تھا، ٹڈياں اور زرعى آفتيں بھى باغات، كھيتوں اور سر سبز علاقوں پر حملہ كرتى ہيں، لہذا ان عذابوں سے زيادہ تر نقصان قبطيوں ہى كا ہوتا تھا_
جو كچھ قرآن ميں ذكر ہوا ہے اس كا ذكر موجودہ توريت ميں بھى ملتا ہے، ليكن كسى حد تك فرق كے ساتھ_(1)

بار بار كى عہد شكنياں
قرآن ميں فرعونيوں كے اس رد عمل كا ذكر كيا گيا ہے جو انہوں نے پروردگار عالم كى عبرت انگيزاور بيدار كنندہ بلائوں كے نزول كے بعد ظاہر كيا،ان تما م قرآنى گفتگو سے يہ ظاہر ہوتا ہے كہ جس وقت وہ بلا كے چنگل ميں گرفتار ہو جاتے تھے،جيسا كہ عام طور سے تباہ كاروں كا دستور ہے،وقتى طور پر خواب غفلت
--------------------------------------------------------------------------------
(1)ملاحظہ ہو سفر خروج فصل ہفتم تا دہم توريت
-----
356
سے بيدار ہوجاتے تھے اور فرياد وزارى كرنے لگتے تھے اور حضرت موسى عليہ السلام سے درخواست كرتے تھے كہ خدا سے ان كى نجات كے لئے دعا كريں_ چونكہ حضرت موسى عليہ السلام ان كے لئے دعا كرتے تھے اور وہ بلا ان كے سروں سے ٹل جاتى تھي،مگر ان كى حالت يہ تھى كہ جونہى وہ بلا سر سے ٹلتى تھى تو وہ تمام چيزوں كو بھول جاتے تھے اور وہ اپنى پہلى نا فرمانى اور سركشى كى حالت پر پلٹ جاتے تھے_
جس وقت ان پر بلا مسلط ہوتى تھى تو كہتے تھے:'' اے موسى ہمارے لئے اپنے خدا سے دعا كرو كہ جو عہد اس نے تم سے كيا ہے اسے پورا كرے اور تمہارى دعا ہمارے حق ميں قبول كرے،اگر تم يہ بلا ہم سے دور كردو تو ہم يہ وعدہ كرتے ہيں كہ ہم خود بھى تم پر ضرور ايمان لائيں گے اور بنى اسرائيل كو بھى يقينا تمہارے ہمرا ہ روانہ كرديں گے''_(1)
اس كے بعد ان كى پيمان شكنى كا ذكر كيا گيا ہے،ارشاد ہوتا ہے:''جس وقت ہم ان پر سے بلائوں كو تعين شدہ مدت كے بعد ہٹا ديتے تھے تو وہ اپنا وعدہ توڑ ڈالتے تھے''_(2)
نہ خود ہى ايمان لاتے تھے اور نہ ہى بنى اسرائيل كو اسيرى سے آزاد كرتے تھے_
حضرت موسى عليہ السلام ان كايك مدت معين كرتے تھے كہ فلا ں وقت يہ بلا بر طرف ہوجائے گى تاكہ ان پر اچھى طرح كھل جائے كہ يہ بلا كوئي اتفاقى حادثہ نہ تھا بلكہ حضرت موسى عليہ السلام كى دعا كى وجہ سے تھا_

موسى عليہ السلام كے پاس سونے كے كنگن كيوں نہيں؟
حضرت موسى عليہ السلام كى منطق ايك طرف ان كے مختلف معجزات دوسرى طرف مصر كے لوگوں پر نازل ہونيوالى بلائيں جو موسى عليہ السلا م كى دعا كى بركت سے ٹل جاتى تھيں تيسرى طرف،ان سب اسباب نے مجموعى طور پر اس ماحول پر گہرے اثرات ڈالے اور فرعون كے بارے ميںلوگوں كے افكار كو ڈانواںڈول
--------------------------------------------------------------------------------
()اعراف آيت 134
(2)سورہ اعراف ايت 135
--------
357
كرديا اور انھيں پورے مذہبى اور معاشرتى نظام كے بارے ميں سوچنے پر مجبور كرديا_
اس موقع پر فرعون نے دھوكہ دھڑى كے ذريعہ موسى عليہ السلام كا اثر مصرى لوگوں كے ذہن سے ختم كرنے كى كوشش كى اور پست اقدار كا سہارا ليا جو اس ماحول پر حكم فرماتھا، انھيں اقدار كے ذريعہ اپنا اور موسى عليہ السلام كا موازنہ شروع كرديا تا كہ اس طرح لوگوں پر اپنى برترى كو پايہ ثبوت تك پہنچائے، جيسا كہ قرآن پاك فرماتا ہے:
''اور فرعون نے اپنے لوگوں كو پكار كر كہا:اے ميرى قوم آيا مصر كى وسيع و عريض سر زمين پر ميرى حكومت نہيں ہے اور كيا يہ عظيم دريا ميرے حكم سے نہيں بہہ رہے ہيں اور ميرے محلوں،كھيتوں اور باغوں سے نہيں گررہے ہيں؟كيا تم ديكھتے نہيں ہو؟''(1)
ليكن موسى عليہ السلام كے پاس كيا ہے،كچھ بھى نہيں ، ايك لاٹھى اور ايك اونى لباس اور بس ،تو كيا اس كى شخصيت بڑى ہوگى يا ميري؟ آيا وہ سچ بات كہتا ہے يا ميں؟اپنى آنكھيں كھولوں اور بات اچھى طرح سمجھنے كى كوشش كرو_ اس طرح فرعون نے مصنوعى اقدار كو لوگوں كے سامنے پيش كيا،بالكل ويسے ہى جيسے عصر جاہليت كے بت پرستوں نے پيغمبر اسلام (ص) كے مقابلے ميں مال و مقام كو صحيح انسانى اقدار سمجھ ركھا تھا_
لفظ''نادى ''(پكار كر كہا )سے معلوم ہوتا ہے كہ فرعون نے اپنى مملكت كے مشاہير كى ايك عظيم محفل جمائي اور بلند آواز كے ساتھ ان سب كو مخاطب كرتے ہوئے يہ جملے ادا كيے،يا حكم ديا كہ اس كى اس آواز كو ايك سركارى حكم نامے كے ذريعے پورے ملك ميں بيان كيا جائے_
قرآن آگے چل كر فرماتا ہے كہ فرعون نے كہا:''ميں اس شخص سے برتر ہوں جو ايك پست خاندان اور طبقے سے تعلق ركھتا ہے_اور صاف طور پر بات بھى نہيں كرسكتا''_(2)
اس طرح سے اس نے اپنے لئے دو بڑے اعزازات(حكومت مصر اور نيل كى مملكت)اور موسى
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ زخرف آيت 51
(2)سورہ زخرف آيت 52
------
358
عليہ السلام كے دوكمزور پہلو(فقر اور لكنت زبان) بيان كرديئے_
حالانكہ اس وقت حضرت موسى عليہ السلام كى زبان ميں لكنت نہ تھي_كيونكہ خدا نے ان كى دعا كو قبول فرماليا تھا اور زبان كى لكنت كو دور كرديا تھا كيونكہ موسى عليہ السلام نے مبعوث ہوتے ہى خداسے يہ دعا مانگى تھى كہ _''خدا وندا ميرى زبان كى گرہيں كھول دے''_(1) اور يقينا ان كى دعا قبول ہوئي اور قرآن بھى اس بات پر گواہ ہے_ بے پناہ دولت،فاخرہ لباس اور چكاچوند كرتے محلات،مظلوم طبقے پر ظلم و ستم كے ذريعے حاصل ہوتے ہيں_ ان كا مالك نہ ہونا صرف عيب كى بات ہى نہيں بلكہ باعث صدافتخار شرافت اور عزت كا سبب بھى ہے_
''مھين''(پست)كى تعبير سے ممكن ہے اس دور كے اجتماعى طبقات كى طرف اشارہ ہو، كيونكہ اس دور ميں بڑے بڑے سرمايہ داروں كا معاشرہ كے بلند طبقوں ميں شمار ہوتا تھا او رمحنت كشوں اور كم آمدنى والے لوگوں كا پست طبقے ميں ،يا پھر ممكن ہے موسى عليہ السلام كى قوم كى طرف اشارہ ہو كيونكہ ان كا تعلق بنى اسرائيل سے تھا اور فرعون كى قبطى قوم اپنے آپ كو سردار اور آقا سمجھتى تھي_ پھر فرعون دو اور بہانوں كا سہارا ليتے ہوئے كہتا ہے:''اسے سونے كے كنگن كيوں نہيں ديئے اور اس كے لئے مددگار كيوں نہيں مقرر كئے تاكہ وہ اس كى تصديق كريں؟'' اگر خدا نے اسے رسول بنايا ہے تو دوسرے رسول كى طرح طلائي كنگن كيوں نہيں دئے گئے اور اس كے لئے مدد گار كيوں نہيں مقرر كئے گئے_
كہتے ہيں كہ فرعونى قوم كا عقيدہ تھا كہ روساء اور سر براہوں كو ہميشہ طلائي كنگنوں اور سونے كے ہاروں سے مزين ہونا چاہيئےور چونكہ موسى عليہ السلام كے پاس اس قسم كے زيورات نہيں تھے بلكہ ان زيورات كے بجائے وہ چرواہوں والا موٹا سا اونى كرتا زيب تن كئے ہوئے تھے،لہذا ان لوگوں نے اس بات پر تعجب كا اظہار كيا اور يہى حال ان لوگوں كا ہوتا ہے جو انسانى شخصيت كے پركھنے كا معيار سونا،چاندى اور دوسرے زيورات كو سمجھتے ہيں_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ طہ آيت 27
---------
359

جناب موسى اورہارون عليہما السلام كے اونى لباس
اس بارے ميں ايك نہايت عمدہ بيان آيا ہے ،امام على بن ابى طالب عليہما السلام فرماتے ہيں:موسى عليہ السلام اپنے بھائي(ہارون) كے ساتھ فرعون كے دربار ميں پہنچے دونوں كے بدن پراونى لباس اور ہاتھوں ميں عصا تھا اس حالت ميں انھوں نے شرط پيش كى كہ اگر فرمان الہى كے سامنے جھك جائے تو اس كى حكومت اور ملك باقى اور اقتدار قائم و برقرار رہے گا،ليكن فرعون نے حاضرين سے كہا:تمہيں ان كى باتوں پر تعجب نہيں ہوتا كہ ميرے ساتھ شرط لگا رہے ہيں كہ ميرے ملك كى بقا اور ميرى عزت كا دوام ان كى مرضى كے ساتھ وابستہ ہے جبكہ ان كا اپنا حال يہ ہے كہ فقر و تنگدستى ان كى حالت اور صورت سے ٹپك رہى ہے(اگر يہ سچ كہتے ہيں تو)خود انھيں طلائي كنگن كيوں نہيں ديئے گئے_
دوسرا بہانہ وہى مشہور بہانہ ہے جو بہت سى گمراہ اور سركش امتيں انبياء كرام عليہم السلام كے سامنے پيش كيا كرتى تھيں،كبھى تو كہتى تھيں كہ''وہ انسان كيوں ہے اور فرشتہ كيوں نہيں؟اور كبھى كہتى تھى كہ اگر وہ انسان ہے تو پھر كم از كم اس كے ہمراہ كوئي فرشتہ كيوں نہيں آيا؟''
حالانكہ انسانوں كى طرف بھيجے ہوئے رسولوں كوروح انسانى كا حامل ہونا چاہئے تا كہ وہ ان كى ضرورتوں،مشكلوں اور مسائل كو محسوس كرسكيں اور انہيں ان كا جواب دے سكيں اور عملى لحاظ سے ان كے لئے نمونہ اور اسوہ قرار پاسكيں_

چوتھا مرحلہ انقلاب كى تياري
حضرت موسى عليہ السلام ميدان مقابلہ ميں فرعون پر غالب آگئے اور سرخرو اور سرفراز ہوكر ميدان سے باہر آئے اگر چہ فرعون اور اس كے تمام دربارى ان پر ايمان نہ لائے ليكن اس كے چند اہم نتائج ضرور برآمد ہوئے،جن ميں سے ہر ايك اہم كاميابى شمار ہوتا ہے_
1_بنى اسرائيل كا اپنے رہبر اور پيشوا پر عقيدہ مزيد پختہ ہوگيا اور انھيں مزيد تقويت مل گئي چنانچہ ايك
-------
360
دل اور ايك جان ہو كر ان كے گرد جمع ہوگئے كيونكہ انھوں نے سالہا سال كى بدبختى اور دربدر كى ٹھوكريں كھانے كے بعد اب اپنے اندر كسى آسمانى پيغمبر كو ديكھا تھا جو كہ ان كى ہدايت كابھى ضامن تھا اور ان كے انقلاب،آزادى اور كاميابى كا بھى رہبر تھا_
2_موسى عليہ السلام نے مصريوں اور قبطيوں تك كے درميان ايك اہم مقام حاصل كرليا_ كچھ لوگ ان كى طرف مائل ہوگئے اور جو مائل نہيں ہوئے تھے وہ كم ازكم كم ان كى مخالفت سے ضرور گھبراتے تھے اور جناب موسى عليہ السلام كى صدائے دعوت تمام مصر ميں گونجنے لگي_
3_سب سے بڑھ كر يہ كہ فرعون عوامى افكار اور اپنى جان كو لاحق خطرے سے بچائو كے لئے اپنے اندر ايسے شخص كے ساتھ مقابلے كى طاقت كھوچكا تھا جس كے ہاتھ ميں اس قسم كا عصا اور منہ ميں اس طرح كى گويا زبان تھي_
مجموعى طور پر يہ امور موسى عليہ السلام كے لئے اس حد تك زمين ہموار كرنے ميں معاون ثابت ہوئے كہ مصريوں كے اندر ان كے پائوں جم گئے اور انھوں نے كھل كر اپنا تبليغى فريضہ انجام ديا اور اتمام حجت كي_
قرآن ميںفرعونيوں كے خلاف بنى اسرائيل كے قيام اور انقلاب كا ايك اور مرحلہ بيان كيا گيا ہے_پہلى بات يہ ہے كہ خدا فرماتا ہے:''ہم نے موسى اور اس كے بھائي كى طرف وحى كى كہ سرزمين مصر ميں اپنى قوم كے لئے گھروں كا انتخاب كرو''_(1)
''اور خصوصيت كے ساتھ ان گھروں كو ايك دوسرے كے قريب اور آمنے سامنے بنائو''_(2)
پھر روحانى طور پر اپنى خود سازى اور اصلاح كرو''اور نماز قائم كرو_''اس طرح سے اپنے نفس كو پاك اور قوى كرو_(3)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ يونس آيت87
(2)سورہ يونس آيت87
(3)سورہ يونس آيت87
--------
361
اور اس لئے كہ خوف اور وحشت كے آثار ان كے دل سے نكل جائيں اور وہ روحانى و انقلابى قوت پاليں''مومنين كوبشارت دو''كاميابى اور خدا كے لطف و رحمت كى بشارت_(1)
زير بحث آيات كے مجموعى مطالعے سے معلوم ہوتا ہے كہ اس زمانے ميں بنى اسرائيل منتشر،شكست خوردہ،وابستہ،طفيلي،آلودہ اور خوف زدہ گروہ كى شكل ميں تھے،نہ ان كے پاس گھر تھے نہ كوئي مركز تھا،نہ ان كے پاس معنوى اصلاح كا كوئي پروگرام تھا اور نہ ہى ان ميں اس قدر شجاعت،عزم اور حوصلہ تھا جو شكست دينے والے انقلاب كے لئے ضرورى ہوتا ہے_لہذا حضرت موسى عليہ السلام اور ان كے بھائي حضرت ہارون عليہ السلام كو حكم ملاكہ وہ بنى اسرائيل كى مركزيت كے لئے خصوصاً روحانى حوالے سے چند امور پر مشتمل پروگرام شروع كريں_
1_مكان تعمير كريں اور اپنے مكانات فرعونيوں سے الگ بنائيں_ اس ميں متعدد فائدے تھے_
ايك يہ كہ سرزمين مصر ميں ان كے مكانات ہوں گے تو وہ اس كا دفاع زيادہ لگائو سے كريں گے_
دوسرا يہ كہ قبطيوں كے گھروں ميں طفيلى زندگى گزارنے كے بجائے وہ اپنى ايك مستقل زندگى شروع كرسكيں گے_
تيسرا يہ كہ انكے معاملات اور تدابير كے راز دشمنوں كے ہاتھ نہيں لگيں گے_
2_اپنے گھر ايك دوسرے كے آمنے سامنے اور قريب قريب بنائيں،بنى اسرائيل كى مركزيت كے لئے يہ ايك موثر كام تھا اس طرح سے وہ اجتماعى مسائل پر مل كر غور فكر كرسكتے تھے اور مذہبيمراسم كے حوالے سے جمع ہوكر اپنى آزادى كے لئے ضرورى پروگرام بنا سكتے تھے_
3_عبادت كى طرف متوجہ ہوں،خصوصاً نماز كى طرف كہ جو انسان كو بندوں كى بندگى سے جدا كرتى ہے اور اس كا تعلق تمام قدرتوں كے خالق سے قائم كرديتى ہے_ اس كے دل اور روح كو گناہ كى آلودگى سے
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ يونس آيت 87
362
پاك كرتى ہے اپنے آپ پر بھروسہ كرنے كا احساس زندہ كرتى ہے اورقدرت پروردگار كا سہارا لے كر انسانى جسم ميں ايك تازہ روح پھونك ديتى ہے_
4_ايك رہبر كے طور پر حضرت موسى عليہ السلام كو حكم ديا گيا ہے كہ وہ بنى اسرائيل كى روحوں ميں موجود طويل غلامى اور ذلت كے دور كا خوف ووحشت نكال باہر پھينكيں اور حتمى فتح ونصرت،كاميابى اور پروردگار كے لطف وكرم كى بشارت دے كر مومنين كے ارادے كو مضبوط كريں اور ان ميں شہامت و شجاعت كى پرورش كريں_
اس روش كو كئي سال گزر گئے اور اس دوران ميں موسى عليہ السلام نے اپنے منطقى دلائل كے ساتھ ساتھ انھيں كئي معجزے بھى دكھائے _

ہم نے انھيں باہر نكال ديا
جب موسى عليہ السلام ان لوگوں پر اتمام حجت كرچكے اور مومنين ومنكرين كى صفيں ايك دوسرے سے جدا ہوگئيں تو موسى عليہ السلام نے بنى اسرائيل كے كوچ كرنے كا حكم دے ديا گيا، چنانچہ قرآن نے اس كى اسطرح منظر كشى كى _
سب سے پہلے فرمايا گياہے:''ہم نے موسى پر وحى كى كہ راتوںرات ميرے بندوں كو(مصر سے باہر)نكال كرلے جائو،كيونكہ وہ تمہارا پيچھا كرنے والے ہيں''_(1)
موسى عليہ السلام نے اس حكم كى تعميل كى اور دشمن كى نگاہوں سے بچ كر بنى اسرائيل كو ايك جگہ اكٹھا كرنے كے بعد كوچ كا حكم ديا اور حكم خدا كے مطابق رات كو خصوصى طور پر منتخب كيا تاكہ يہ منصوبہ صحيح صورت ميں تكميل كو پہنچے_
ليكن ظاہر ہے كہ اتنى بڑى تعداد كى روانگى ايسى چيز نہيں تھى جو زيادہ دير تك چھپى رہ جاتي_ جاسوسوں
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت 52
-------
363
نے جلد ہى اس كى رپورٹ فرعون كو دے دى اور جيسا كہ قرآن كہتا ہے:'' فرعون نے اپنے كارندے مختلف شہروں ميں روانہ كرديئے تا كہ فوج جمع كريں''_(1)
البتہ اس زمانے كے حالات كے مطابق فرعون كا پيغام تمام شہروں ميں پہنچانے كے لئے كافى وقت كى ضرورت تھى ليكن نزديك كے شہروں ميں يہ اطلاع بہت جلد پہنچ گئي اور پہلے سے تيار شدہ لشكر فوراً حركت ميں آگئے اور مقدمة الجيش اور حملہ آور لشكر كى تشكيل كى گئي اور دوسرے لشكر بھى آہستہ آہستہ ان سے آملتے رہے_
ساتھ ہى لوگوں كے حوصلے بلند ركھنے اور نفسياتى اثر قائم ركھنے كے لئے اس نے حكم ديا كہ اس بات كا اعلان كرديا جائے كہ''وہ تو ايك چھوٹا سا گروہ ہے''_(2) (تعداد كے لحاظ سے بھى كم اور طاقت كے لحاظ سے بھى كم)_
لہذا اس چھوٹے سے كمزور گروہ كے مقابلے ميں ہم كامياب ہوجائيں گے گھبرانے كى كوئي بات نہيں_كيونكہ طاقت اور قوت ہمارے پاس زيادہ ہے لہذا فتح بھى ہمارى ہى ہوگي_
فرعون نے يہ بھى كہا:'' آخر ہم كس حد تك برداشت كريں اور كب تك ان سركش غلاموں كے ساتھ نرمى كا برتائو كرتے رہيں؟انھوں نے تو ہميں غصہ دلايا ہے''_(3)
آخر كل مصر كے كھيتوں كى كون آبپاشى كرے گا؟ہمارے گھر كون بنائے گا؟اس وسيع و عريض مملكت كا كون لوگ بوجھ اٹھائيں گے؟اور ہمارى نوكرى كون كرے گا؟
اس كے علاوہ'' ہميں ان لوگوں كى سازشو ںسے خطرہ ہے(خواہ وہ يہاں رہيں يا كہيں اور چلے جائيں)اور ہم ان سے مقابلہ كے لئے مكمل طور پر آمادہ اور اچھى طرح ہوشيار ہيں''_(4)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت53
(2)سورہ شعراء آيت 54
(3)سورہ شعراء آيت55
(4)سورہ شعراء آيت 56
364
پھر قرآن پاك فرعونيوں كے انجام كا ذكر كرتا ہے اور اجمالى طور پر ان كى حكومت كے زوال اور بنى اسرائيل كے اقتدار كو بيان كرتے ہوئے كہتا ہے:''ہم نے انھيں سر سبز باغات اور پانى سے لبريز چشموں سے باہر نكال ديا''_(1) خزانوں،خوبصورت محلات اور آرام و آسائشے كے مقامات سے بھى نكال ديا_
ہاں ہاںہم نے ايسا ہى كيا اور بنى اسرائيل كو بغير كسى مشقت كے يہ سب كچھ دےديا اور انھيں فرعون والوں كا وارث بناديا_(2)(3)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت57تا59
(2)سورہ شعراء ايت 59
(3)آيا بنى اسرائيل نے مصر ميں حكومت كى ہے؟
خدا وند عالم قران مجيد ميں فرماتا ہے كہ ہم نے بنى اسرائيل كو فرعون والوں كا وارث بنايا_ اسى تعبير كى بناء پر بعض مفسرين كى يہ رائے ہے كہ بنى اسرائيل كے افراد مصر كى طرف واپس لوٹ آئے اور زمام حكومت و اقتدار اپنے قبضے ميں لے كر مدتوں وہاں حكومت كرتے رہے_
آيات بالا كا ظاہرى مفہوم بھى اسى تفسير سے مناسبت ركھتا ہے_
جبكہ بعض مفسرين كى رائے يہ ہے كہ وہ لوگ فرعونيوں كى ہلاكت كے بعد مقدس سرزمينوں كى طرف چلے گئے البتہ كچھ عرصے كے بعد مصر واپس آگئے اور وہاں پر اپنى حكومت تشكيل دي_
تفسير كے اسى حصے كے ساتھ موجودہ توريت كى فصول بھى مطابقت ركھتى ہيں_
بعض دوسرے مفسرين كا خيال ہے كہ بنى اسرائيل دوحصوں ميں بٹ گئے_ايك گروہ مصر ميں رہ گيا اور وہيں پر حكومت كى اور ايك گروہ موسى عليہ السلام كے ساتھ سر زمين مقدس كى طرف روانہ ہو گيا_
يہ احتمال بھى ذكر كيا گيا ہے كہ بنى اسرائيل كے وارث ہونے سے مراد يہ ہے كہ انھوںنے حضرت موسى عليہ السلام كے بعد اور جناب حضرت سليمان عليہ السلام كے زمانے ميں مصر كى وسيع و عريض سر زمين پر حكومت كي_
ليكن اگر اس بات پر غور كيا جائے كہ حضرت موسى عليہ السلام چونكہ انقلابى پيغمبر تھے لہذا يہ بات بالكل بعيد نظر آتى ہے كہ وہ ايسى سر زمين كو كلى طور پر خير باد كہہ كر چلے جائيں جس كى حكومت مكمل طور پر انھيں كے قبضہ اور اختيارميں آچكى ہو اور وہ وہاں كے بارے ميں كسى قسم كا فيصلہ كئے بغير بيابانوں كى طرف چل ديں خصوصاً جب كہ لاكھوں بنى اسرائيلى عرصہ دراز سے وہاں پر مقيم بھى تھے اور وہاں كے ماحول سے اچھى طرح واقف بھى تھے_ -->
-------
365

فرعونيوں كا درناك انجام
قرآن ميں حضرت موسى عليہ السلام اور فرعون كى داستان كا آخرى حصہ پيش كيا گيا ہے كہ فرعون اور فرعون والے كيونكر غرق ہوئے اور بنى اسرائيل نے كس طرح نجات پائي؟ جيسا كہ ہم گزشتہ ميں پڑھ چكے ہيں كہ فرعون نے اپنے كارندوں كو مصر كے مختلف شہروں ميں بھيج ديا تاكہ وہ بڑى تعداد ميں لشكر اور افرادى قوت جمع كرسكيں چنانچہ انھوں نے ايسا ہى كيا اور مفسرين كى تصريح كے مطابق فرعون نے چھ لاكھ كا لشكر مقدمہ الجيش كى صورت ميں بھيج ديا اور خود دس لاكھ كے لشكر كے ساتھ ان كے پيچھے پيچھے چل ديا _
سارى رات بڑى تيزى كے ساتھ چلتے رہے اورطلوع آفتاب كے ساتھ ہى انھوں نے موسى عليہ السلام كے لشكر كو پاليا، چنانچہ اس سلسلے كى پہلى آيت ميں فرمايا گيا ہے : فرعونيووں نے ان كا تعاقب كيا اور طلوع آفتاب كے وقت انھيں پاليا_
''جب دونوں گروہوں كا آمناسامنا ہوا تو موسى عليہ السلام كے ساتھى كہنے لگے اب تو ہم فرعون والوں كے نرغے ميں آگئے ہيں اور بچ نكلنے كى كوئي راہ نظر نہيں آتى ''_ (1)
ہمارے سامنے دريا اور اس كى ٹھاٹھيں مارتى موجيں ہيں، ہمارے پيچھے خونخوارمسلح لشكر كا ٹھاٹھيں مارتا سمندر ہے لشكر بھى ايسے لوگوں كا ہے جو ہم سے سخت ناراض اور غصے سے بھرے ہوئے ہيں، جنھوں نے اپنى خونخوارى كا ثبوت ايك طويل عرصے تك ہمارے معصوم بچوں كو قتل كركے ديا ہے اور خود فرعون بھى بہت بڑا مغرور،ظالم اور خونخوار شخص ہے لہذا وہ فوراً ہمارا محاصرہ كركے ہميں موت كے گھاٹ اتارديں گے ياقيدى بنا كر تشدد كے ذريعے ہميں واپس لے جائيں گے قرائن سے بھى ايسا ہى معلوم ہورہا تھا _

بنابريں يہ كيفيت دوحال سے خالى نہيں يا تو تمام بنى اسرائيلى مصر ميں واپس لوٹ آئے اور حكومت تشكيل دي،يا كچھ لوگ جناب موسى عليہ السلام كے حكم كے مطابق وہيں رہ گئے تھے اور حكومت چلاتے رہے اس كے علاوہ فرعون او رفرعون والوں كے باہر نكال دينے او ربنى اسرائيل كو ان كا وارث بنادينے كا اور كوئي واضح مفہوم نہيں ہوگا_
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ شعراء آيت61
----
366

اپنے عصا كو دريا پر ماردو
اس مقام پر بنى اسرائيل پر كرب و بے چينى كى حالت طارى ہوگئي اور ان كا ايك ايك لمحہ كرب واضطراب ميں گزر نے لگا يہ لمحات ان كے لئے زبردست تلخ تھے شايد بہت سے لوگوں كا ايما ن بھى متزلزل ہوچكا تھا اور بڑى حدتك ان كے حوصلے پست ہوچكے تھے _
ليكن جناب موسى عليہ السلام حسب سابق نہايت ہى مطمئن اور پر سكون تھے انھيں يقين تھا كہ بنى اسرائيل كى نجات اورسركش فرعونيوں كى تباہى كے بارے ميں خدا كا فيصلہ اٹل ہے اور وعدہ يقينى ہے _
لہذا انھوں نے مكمل اطمينان اور بھرپور اعتمادكے ساتھ بنى اسرائيل كى وحشت زدہ قوم كى طرف منہ كركے كہا: ''ايسى كوئي بات نہيں وہ ہم پر كبھى غالب نہيں آسكيں گے كيونكہ ميرا خدا ميرے ساتھ ہے اور وہ بہت جلدى مجھے ہدايت كرے گا ''_(1)
اسى موقع پر شايد بعض لوگوں نے موسى كى باتو ں كو سن تو ليا ليكن انھيں پھر بھى يقين نہيں آرہا تھا اور وہ اسى طرح زندگى كے آخرى لمحات كے انتظار ميں تھے كہ خدا كا آخرى حكم صادر ہوا، قرآن كہتا ہے :'' ہم نے فوراً موسى كى طرف وحى بھيجى كہ اپنے عصا كودريا پرمارو''_(2)
وہى عصاجو ايك دن تو ڈرانے كى علامت تھا اور آج رحمت اور نجات كى نشانى _
موسى عليہ السلام نے تعميل حكم كى اور عصا فوراًدرياپر دے مارا تو اچانك ايك عجيب وغريب منظر ديكھنے ميں آيا جس سے بنى اسرائيل كى آنكھيں چمك اٹھيں اور ان كے دلو ں ميں مسرت كى ايك لہردوڑگئي، ناگہانى طور پر دريا پھٹ گيا، پانى كے كئي ٹكڑے بن گئے اور ہر ٹكڑا ايك عظيم پہاڑ كى مانند بن گيا اور ان كے درميان ميں راستے بن گئے_ (3)
بہرحال جس كا فرمان ہر چيز پر جارى اور نافذ ہے اگر پانى ميں طغيانى آتى ہے تو اس كے حكم سے اور
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت 62
(2)سورہ شعراء آيت63
(3)سورہ شعراء آيت 63
--------
367
اگر طوفانوں ميں حركت آتى ہے تو اس كے امر سے ، وہ خدا كہ :

نقش ہستى نقشى ازايوان
اوست آب وبادوخاك سرگردان اوست

اسى نے دريا كى موجوں كو حكم ديا امواج دريا نے اس حكم كو فورا ًقبول كياايك دوسرے پر جمع پرہوگئيں اور ان كے درميان كئي راستے بن گئے اور بنى اسرائيل كے ہر گروہ نے ايك ايك راستہ اختيار كرليا _
فرعون اور اس كے ساتھى يہ منظر ديكھ كر حيران وششد ررہ گئے،اس قدر واضح اور آشكار معجزہ ديكھنے كے باوجود تكبر اور غرور كى سوارى سے نہيں اترے، انھوں نے موسى عليہ السلام اور بنى اسرائيل كا تعاقب جارى ركھا اور اپنے آخرى انجام كى طرف آگے بڑھتے رہے جيسا كہ قرآن فرماتاہے :''اور وہاںپر دوسرے لوگوں كو بھى ہم نے نزديك كرديا''_
اس طرح فرعونى لشكر دريائي راستوں پر چل پڑے اور وہ لوگ اپنے ان پرانے غلاموں كے پيچھے دوڑتے رہے جنھوں نے اب اس غلامى كى زنجيريں توڑدى تھيں ليكن انھيں يہ معلوم نہيں تھا كہ يہ ان كى زندگى كے آخرى لمحات ہيں اور ابھى عذاب كا حكم جارى ہونے والا ہے _
قرآن كہتا ہے :''ہم نے موسى اور ان تمام لوگوں كو نجات دى جوان كے ساتھ تھے _''(1)
ٹھيك اس وقت جبكہ بنى اسرائيل كا آخرى فرددريا سے نكل رہا تھا اور فرعونى لشكر كا آخرى فرد اس ميں داخل ہورہاتھا ہم نے پانى كو حكم ديا كہ اپنى پہلى حالت پر لوٹ ا،اچانك موجيں ٹھاٹھيں مارنے لگيں اور فرغون اور اس كے لشكر كو گھاس پھونس اور تنكوں كى طرح بہاكرلے گئيں اور صفحہ ہستى سے ان كانام ونشان تك مٹاديا _
قرآن نے ايك مختصرسى عبارت كے ساتھ يہ ماجرايوں بيان كيا ہے : پھر ہم نے دوسروں كو غرق كرديا_''(2)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ شعراء آيت65
(2)سورہ شعراء آيت 66
-------
368

اے فرعون تيرا بدن لوگوں كے لئے عبرتناك ہوگا
بہر كيف يہ معاملہ چل رہا تھا '' يہاں تك كہ فرعون غرقاب ہونے لگا اور وہ عظيم دريائے نيل كى موجوں ميں تنكے كى طرح غوطے كھانے لگا تو اس وقت غرور وتكبر اور جہالت وبے خبرى كے پردے اس كى آنكھوں سے ہٹ گئے اور فطرى نور توحيد چمكنے لگا وہ پكاراٹھا :'' ميں ايمان لے آيا كہ اس كے سوا كوئي معبود نہيں كہ جس پر بنى اسرائيل ايمان لائے ہيں ''_(1)
كہنے لگا كہ نہ صرف ميں اپنے دل سے ايمان لايا ہوں'' بلكہ عملى طور پر بھى ايسے توانا پروردگار كے سامنے سرتسليم خم كرتا ہوں''_ (2)
درحقيقت جب حضرت موسى كى پيشين گوئياں يكے بعد ديگرے وقوع پذير ہوئيں اور فرعون اس عظيم پيغمبر كى گفتگو كى صداقت سے آگاہ ہوا اور اس كى قدر ت نمائي كامشاہدہ كيا تو اس نے مجبوراً اظہار ايمان كيا، اسے اميد تھى كہ جيسے ''بنى اسرائيل كے خدا'' نے انھيں كوہ پيكر موجوں سے سے نجات بخشى ہے اسے بھى نجات دے گا، لہذا وہ كہنے لگاميں اسى بنى اسرائيل كے خدا پر ايمان لايا ہوں، ليكن ظاہر ہے كہ ايسا ايمان جو نزول بلا اور موت كے چنگل ميں گرفتار ہونے كے وقت ظاہر كيا جائے، در حقيقت ايك قسم كا اضطرارى ايمان ہے، جس كا اظہار سب مجرم اور گناہگار كرتے ہيں، ايسے ايمان كى كوئي قدر و قيمت نہيں ہوتي، اور نہ يہ حسن نيت اور صدق گفتار كى دليل ہوسكتا ہے_
اسى بنا پر خدا وندعالم نے اسے مخاطب كرتے ہوئے فرمايا:'' تو اب ايمان لايا ہے حالانكہ اس سے پہلے تو نافرمانى اورطغيان كرنے والوں ، مفسدين فى الارض اور تباہ كاروں كى صف ميں تھا'' (3)
''ليكن آج ہم تيرے بدن كو موجوں سے بچاليں گے تاكہ تو آنے والوں كے لئے درس عبرت ہو، برسراقتدار مستكبرين كے لئے، تمام ظالموں اور مفسدوں كےلئے اور مستضعف گروہوں كے لئے بھى ''
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ يونس آيت 90
(2)سورہ يونس آيت 90
(3)سورہ يونس آيت 90
-------
369
يہ كہ''بدن سے مراد يہاں كيا ہے ،اس سلسلے ميں مفسرين ميںاختلاف ہے ان ميں سے اكثر كا نظريہ ہے كہ اس سے مراد فرعون كا بے جان جسم ہے كيونكہ اس ماحول كے لوگوں كے ذہن ميں فرعون كى اس قدر عظمت تھى كہ اگر اس كے بدن كو پانى سے باہرنہ اچھالاجاتاتو بہت سے لوگ يقين ہى نہ كرتے كہ اس كا غرق ہونا بھى ممكن ہے اور ہوسكتا تھا كہ اس ماجرے كے بعد فرعون كى زندگى كے بارے ميں افسانے تراش لئے جاتے _
يہ امر جاذب توجہ ہے كہ لغت ميں لفظ '' بدن'' جيسا كہ راغب نے مفردات ميں كہا ہے '' جسد عظيم'' كے معنى ميں ہے اس سے معلوم ہوتاہے كہ بہت سے خوشحال لوگوں كى طرح كہ جنكى بڑى زرق برق افسانوى زندگى تھى وہ بڑا سخت اور چاك وچوبند تھا مگر بعض دوسرے افراد نے كہاہے كہ''بدن'' كا ايك معني'' زرہ'' بھى ہے يہ اس طرف اشارہ ہے كہ خدا نے فرعون كو اس زريں زرہ سميت پانى سے باہر نكالاكہ جو اس كے بدن پر تھى تاكہ اس كے ذريعے پہچاناجائے اور كسى قسم كا شك وشبہ باقى نہ رہے _
اب بھى مصر اور برطانيہ كے عجائب گھروں ميں فرعونيوں كے موميائي بد ن موجود ہيں كيا ان ميںحضرت موسى عليہ السلام كے ہم عصر فرعون كا بدن بھى ہے كہ جسے بعد ميں حفاظت كے لئے مومياليا گيا ہويا نہيں؟ اس سلسلے ميں كوئي صحيح دليل ہمارے پاس نہيں ہے _

بنى اسرائيل كى گذرگاہ
قرآن مجيد ميں بارہا اس بات كو دہرايا گيا ہے كہ موسى عليہ السلام نے خدا كے حكم سے بنى اسرائيل كو'' بحر'' عبور كروايا اورچند مقامات پر''يم'' كا لفظ بھى ايا ہے _
اب سوال يہ ہے كہ يہاںپر ''يم'''' بحر'' اور '' يم'' سے كيا مراد ہے آيايہ نيل (NILE RIYER) جيسے وسيع وعريض دريا كى طرف اشارہ ہے كہ سرزمين مصر كى تمام آبادى جس سے سيراب ہوتى تھى يا بحيرہ احمريعنى بحر قلزم (RID SEA)كى طرف اشارہ ہے _
--------
370
موجودہ تو ريت اور بعض مفسرين كے انداز گفتگو سے معلوم ہوتاہے كہ بحيرہ احمر كى طرف اشارہ ہے ليكن ايسے قرائن موجود ہيں جن سے معلوم ہوتا ہے كہ اس سے مراد نيل كا عظيم ووسيع دريا ہے _

حضرت موسى عليہ السلام سے بت سازى كى فرمائشے
قرآن ميں بنى اسرائيل كى سرگزشت كے ايك اور اہم حصہ كى طرف اشارہ كيا گيا ہے يہ واقعہ فرعونيوں پر ان كى فتحيابى كے بعد ہوا، اس واقعہ سے بت پرستى كى جانب ان كى توجہ ظاہر ہوتى ہے _
واقعہ يہ ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام فرعون كے جھگڑے سے نكل چكے تو ايك اور داخلى مصيبت شروع ہوگئي جو بنى اسرائيل كے جاہل ، سركش اور فرعون اور فرعونيوں كے ساتھ جنگ كرنے سے بدر جہا سخت اور سنگين تر تھى اور ہر داخلى كشمكش كا يہى حال ہواكرتا ہے _قرآن ميںفرماياگيا ہے:'' ہم نے بنى اسرائيل كو دريا (نيل) كے اس پار لگا ديا :''
ليكن '' انہوں نے راستے ميں ايك قوم كو ديكھا جو اپنے بتوں كے گرد خضوع اور انكسارى كے ساتھ اكٹھا تھے'' _(1)امت موسى عليہ السلام كے جاہل افراد يہ منظر ديكھ كر اس قدر متاثر ہوئے كہ فوراً حضرت موسى كے پاس آئے اور '' وہ كہنے لگے اے موسى ہمارے واسطے بھى بالكل ويسا ہى معبود بنادو جيسا معبود ان لوگوں كا ہے''_(2)حضرت موسى عليہ السلام ان كى اس جاہلانہ اور احمقانہ فرمائشے سے بہت ناراض ہوئے ، آپ نے ان لوگوں سے كہا: ''تم لوگ جاہل وبے خبر قوم ہو''_(3)
بنى اسرائيل ميں ناشكر گزار افراد كى كثرت تھي،باوجود يكہ انہوں نے حضرت موسى عليہ السلام سے اتنے معجزے ديكھے، قدرت كے اتنے انعامات ان پر ہوئے، ان كا دشمن فرعون نابود ہوا ابھى كچھ عرصہ بھى نہيں گذرا تھا، وہ غرق كرديا گيا اور وہ سلامتى كے ساتھ دريا كو عبور كرگئے ليكن انہوں نے ان تمام باتوں كو يكسر بھلاديا اور حضرت موسى عليہ السلام سے بت سازى كا سوال كربيٹھے_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ اعراف آيت 138
(2)سورہ اعراف آيت 138
(3)سورہ اعراف 138
------
371

ايك يہودى كو حضرت اميرالمومنين عليہ السلام كا جواب
نہج البلاغہ ميں ہے كہ ايك مرتبہ ايك يہودى نے حضرت اميرالمو منين عليہ السلام كے سامنے مسلمانوں پر اعتراض كيا:
''ابھى تمہارے نبى دفن بھى نہ ہونے پائے تھے كہ تم لوگوں نے اختلاف كرديا ''_
حضرت على عليہ السلام نے اس كے جواب ميں فرمايا :
ہم نے ان فرامين واقوال كے بارے ميں اختلاف كيا ہے جو پيغمبر سے ہم تك پہنچے ہيں، پيغمبريا ان كى نبوت سے متعلق ہم نے كوئي اختلاف نہيں كيا (چہ جائيكہ الوہيت كے متعلق ہم نے كوئي بات كہى ہو)ليكن تم (يہودي) ابھى تمہارے پير دريا كے پانى سے خشك نہيں ہونے پائے تھے كہ تم نے اپنے نبى (حضرت موسى عليہ السلام) سے يہ كہہ ديا كہ ہمارے لئے ايك ايسا ہى معبود بنادو جس طرح كہ ان كے متعدد معبود ہيں، اور اس نبى نے تمہارے جواب ميں تم سے كہا تھا كہ تم ايك ايسا گروہ ہوجو جہل كے دريا ميں غوطہ زن ہے _
حضرت موسى عليہ السلام نے اپنى بات كى تكميل كے لئے بنى اسرائيل سے كہا: ''اس بت پرست گروہ كو جو تم ديكھ رہے ہو ان كا انجام ہلاكت ہے اور ان كاہر كام باطل وبے بنيادہے ''_(1)
اس كے بعد مزيد تاكيد كے لئے فرمايا گيا ہے : ''آيا خدائے برحق كے علاوہ تمہارے لئے كوئي دوسرا معبود بنالوں، وہى خدا جس نے اہل جہان (ہمعصر لوگوں)پر تم كو فضيلت دى ''_(2)
اس كے بعد خداوند كريم اپنى نعمتوں ميں سے ايك بڑى نعمت كا ذكر فرماتا ہے جو اس نے بنى اسرائيل كوعطا فرمائي تھى تاكہ اس عظيم نعمت كا تصور كركے ان ميں شكر گزارارى كا جذبہ بيدار ہواور انہيں يہ احساس ہوكہ پرستش اور سجدے كا مستحق صرف خدائے يكتا ويگانہ ہے، اور اس بت كى كوئي دليل نہيں پائي جاتى كہ جو بت بے نفع اور بے ضرر ہيں ان كے سامنے سر تعظيم جھكايا جائے _
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ اعراف آيت 139
(2)سورہ اعراف140
------
372
پہلے ارشاد ہوتا ہے :'' ياد كرو اس وقت كو جب كہ ہم نے تمہيں فرعون كے گروہ كے شرسے نجات ديدي، وہ لوگ تم كو مسلسل عذاب ديتے چلے آرہے تھے ''_(1)
اس كے بعد اس عذاب وايزارسانى كى تفصيل يوں بيان فرماتاہے:وہ تمہارے بيٹوں كو تو قتل كرديتے تھے اور تمہارى عورتوں لڑكيوں كو (خدمت اور كنيزى كے لئے ) زندہ چھوڑديتے تھے'' _(2)

بنى اسرائيل سر زمين مقدس كى طرف
قران ميںاس كے بعد سرزمين مقدس ميں بنى اسرائيل كے ورود كے بارے ميں يوں بيان كيا گيا ہے:'' موسى عليہ السلام نے اپنى قوم سے كہا كہ تم سرزمين مقدس ميں جسے خدا نے تمہارے لئے مقرر كيا ہے_داخل ہوجائو، اس سلسلے ميں مشكلات سے نہ ڈرو، فدا كارى سے منہ نہ موڑو اور اگر تم نے اس حكم سے پيٹھ پھيرى تو خسارے ميں رہوگے ''_(3)
ارض مقدسہ سے كيا مراد ہے اس، اس سلسلے ميں مفسرين نے بہت كچھ كہا ہے، بعض بيت المقدس كہتے ہيں كچھ اردن يا فلسطين كانام ليتے ہيں اور بعض سرزمين طور سمجھتے ہيں، ليكن بعيد نہيں كہ اس سے مراد منطقہ شامات ہو، جس ميں تمام مذكورہ علاقے شامل ہيں _
كيونكہ تاريخ شاہد ہے كہ يہ سارا علاقہ انبياء الہى كا گہوراہ، عظيم اديان كے ظہور كى زمين اور طول تاريخ ميں توحيد، خدا پرستى اور تعليمات انبياء كى نشرواشاعت كا مركزرہاہے_
لہذا اسے سرزمين مقدس كہاگيا ہے اگرچہ بعض اوقات خاص بيت المقدس كو بھى ارض مقدس كہاجاتاہے_
بنى اسرائيل نے اس حكم پر حضرت موسى عليہ السلام كو وہى جواب ديا جو ايسے موقع پر كمزور، بزدل اور جاہل لوگ ديا كرتے ہيں _
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ اعراف آيت 141
(2)سورہ اعراف آيت 141
(3)سورہ مائدہ آيت21
------
373
ايسے لوگ چاہتے ہيں كہ تمام كاميابياں انھيں اتفاقا ًاور معجزانہ طور پر ہى حاصل ہوجائيں يعنى لقمہ بھى كوئي اٹھاكران كے منہ ميں ڈال دے وہ حضرت موسى عليہ السلام سے كہنے لگے :'' آپ جانتے ہيں كہ اس علاقے ميں ايك جابر اور جنگجو گروہ رہتاہے جب تك وہ اسے خالى كركے باہر نہ چلاجائے ہم تو اس علاقے ميں قدم تك نہيں ركھيں گے اسى صورت ميں ہم آپ كى اطاعت كريں گے اور سرزمين مقدس ميں داخل ہوں گے ''_(1)
بنى اسرائيل كا يہ جواب اچھى طرح نشاندہى كرتا ہے كہ طويل فرعونى استعمارنے ان كى نسلوں پر كيسا اثر چھوڑا تھا لفظ'' لن '' جود ائمى پر دلالت كرتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ وہ لوگ سرزمين مقدس كى آزادى كے لئے مقابلے سے كس قدر خوف زدہ تھے _
چاہئے تو يہ تھا كہ بنى اسرائيل سعى وكوشش كرتے، جہادو قربانى كے جذبے سے كام اور سرزمين مقدس پر قبضہ كرليتے اگر فرض كريں كہ سنت الہى كے برخلاف بغير كسى اقدام كے ان كے تمام دشمن معجزانہ طور پر نابود ہوجاتے اور بغير كوئي تكليف اٹھائے وہ وسيع علاقے كے وارث بن جاتے تو اس كانظام چلانے اور اس كى حفاظت ميں بھى ناكام رہتے بغير زحمت سے حاصل كى ہوئي چيز كى حفاظت سے انھيں كيا سروكار ہوسكتا تھا نہ وہ اس كے لئے تيار ہوتے اور نہ اہل _
جيسا كہ تواريخ سے ظاہر ہوتا ہے آيت ميں قوم جبار سے مراد قوم ''عمالقہ'' ہے يہ لوگ سخت جان اور بلند قامت تھے يہاں تك كہ ان كى بلند قامت كے بارے ميں بہت مبالغے ہوئے اور افسانے تراشے گئے اس سلسلے ميں مضحكہ خيز باتيں گھڑى گئيں جن كے لئے كوئي عملى دليل نہيں ہے _(2)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ مائدہ آيت 22
(2)خصوصاً '' عوج'' كے بارے ميں خرافات سے معمور ايسى كہانياں تاريخوں ميں ملتى ہيں _اس سے معلوم ہوتا ہے كہ ايسے افسانے جن ميں سے بعض اسلامى كتب ميں بھى آگئے ہيں، دراصل بنى اسرائيل كے گھڑے ہوئے ہيں انھيں عام طورپر '' اسرائيليات''كہا جاتا ہے اس كى دليل يہ ہے كہ خود موجودہ توريت كے متن ميں ايسے افسانے دكھائي ديتے ہيں _
--------
374
اس كے بعد قرآن كہتا ہے :''اس وقت اہل ايمان ميں سے دوافراد ايسے تھے جن كے دل ميں خوف خدا تھا اور اس بنا پر انھيں عظيم نعمتيں ميسر تھيں ان ميں استقامت وشجاعت بھى تھى ، وہ دور انديش بھى تھے اور اجتماعى اور فوجى نقطہ نظر سے بھى بصيرت ركھتے تھے انھوں نے حضرت موسى عليہ السلام كى دفاعى تجويز كى حمايت كى اور بنى اسرائيل سے كہنے لگے : تم شہر كے دروازے سے داخل ہوجائو اور اگر تم داخل ہوگئے تو كامياب ہوجائو گے ''_
ليكن ہر صورت ميں تمہيں روح ايمان سے مدد حاصل كرنا چاہئے اور خدا پر بھروسہ كروتاكہ اس مقصد كو پالو _''(1)
اس بارے ميں كہ يہ دو آدمى كون تھے ؟اكثر مفسرين نے لكھا ہے كہ وہ'' يوشع بن نون'' اور'' كالب بن يوفنا''(''يفنہ ''بھى لكھتے ہيں ) تھے جو بنى اسرائيل كے نقيبوں ميں سے تھے _

جب كامياب ہو جاو تو ہميں بھى خبركرنا
بنى اسرائيل نے يہ تجويز قبول نہ كى اور ضعف وكمزورى جوان كى روح پر قبضہ كرچكى تھي، كے باعث انھوں نے صراحت سے حضرت موسى عليہ السلام سے كہا:'' جب تك وہ لوگ اس سرزمين ميں ہيں ہم ہرگز داخل نہيں ہوں گے، تم اور تمہارا پروردگار جس نے تم سے كاميابى كا وعدہ كيا ہے،جائو اور عمالقہ سے جنگ كرو اور جب كامياب ہوجائو تو ہميں بتادينا ہم يہيں بيٹھے ہيں_ (2)
بنى اسرائيل نے اپنے پيغمبر كے ساتھ جسارت كى انتہاكردى تھي، كيونكہ پہلے تو انھوں نے لفظ ''لن'' اور'' ابداً'' استعمال كركے اپنى صريح مخالفت كا اظہار كيا اورپھر يہ كہا كہ تم اور تمہارا پروردگار جائو اور جنگ كرو، ہم تو يہاں بيٹھے ہيں ،انھوں نے حضرت موسى عليہ السلام اور ان كے وعدوں كي، تحقير كى يہاں تك كہ خدا كے ان دوبندوں كى تجويز كى بھى پرواہ نہيں كى اور شايد انھيں تو كوئي مختصر سا جواب تك نہيں ديا_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ مائدہ آيت 23
(2)سورہ مائدہ آيت24
------
375
يہ امر قابل توجہ ہے كہ موجودہ توريت سفر اعداد باب 14/ ميں بھى اس داستان كے بعض اہم حصے موجود ہيں _
حضرت موسى عليہ السلام ان لوگوں سے بالكل مايوس ہوگئے اور انھوں نے دعا كے لئے ہاتھ اٹھا ديئے اور ان سے عليحدگى كے لئے يوں تقاضا كيا : ''پروردگارميرا تو صرف اپنے آپ پر اور اپنے بھائي پر بس چلتا ہے : خدايا ہمارے اور اس فاسق وسركش گروہ ميں جدائي ڈال دے''_ (1)

بنى اسرائيل بيابان ميں سرگرداں
آخركار حضرت موسى عليہ السلام كى دعا قبول ہوئي اور بنى اسرائيل اپنے ان برے اعمال كے انجام سے دوچار ہوئے خدا كى طرف سے حضرت موسى عليہ السلام كو وحى ہوئي :''يہ لوگ اس مقدس سرزمين سے چاليس سال تك محروم رہيں گے جو طرح طرح كى مادى اورر وحانى نعمات سے مالامال ہے''_(2)
علاوہ ازيں ان چاليس سالوں ميں انھيں اس بيابان ميں سرگرداں رہنا ہوگا اس كے بعد حضرت موسى عليہ السلام سے فرمايا گيا ہے : ''اس قوم كے سرپر جو كچھ بھى آئے وہ صحيح ہے، ان كے اس انجام پر كبھى غمگين نہ ہونا ''_(3)
آخرى جملہ شايد اس لئے ہو كہ جب بنى اسرائيل كے لئے يہ فرمان صادر ہوا كہ وہ چاليس سال تك سزا كے طور پر بيابان ميں سرگرداںرہيں حضرت موسى عليہ السلام كے دل ميں جذب ہ مہربانى پيدا ہوا ہو اور شايد انھوں نے درگاہ خداوندى ميں ان كے لئے عفوودر گذر كى درخواست بھى كى ہوجيسا كہ موجودہ توريت ميں بھى ہے_
ليكن انھيں فوراً جواب ديا گيا كہ وہ اس سزا كے مستحق ہيں نہ كہ عفوودرگذركے، كيونكہ جيسا كہ قرآن ميں ہے كہ وہ فاسق اور سركش لوگ تھے اور جو ايسے ہوں ان كے لئے يہ انجام حتمى ہے _
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ مائدہ آيت25
(2)سورہ مائدہ آيت26
(3)سورہ مائدہ آيت
-----
376
توجہ رہے كہ ان كے لئے چاليس سال كى يہ محروميت انتقامى جذبے سے نہ تھى (جيسا كہ خدا كى طرف سے كوئي سزا بھى ايسى نہيں ہوتى بلكہ وہ يا اصلاح كے لئے ہوتى ہے اور يا عمل كا نتيجہ)درحقيقت اس كا ايك فلسفہ تھا اور وہ يہ كہ بنى اسرائيل ايك طويل عرصے تك فرعونى استعمار كى ضربيں جھيل چكے تھے،اس عرصے ميں حقارت آميز رسومات،اپنے مقام كى عدم شناخت اور احساسات ذلت كا شكار ہو چكے تھے اور حضرت موسى عليہ السلام جيسے عظيم رہبر كى سر پرستى ميں اس تھوڑے سے عرصے ميں اپنى روح كو ان خاميوں سے پاك نہيں كرسكے تھے اور وہ ايك ہى جست ميں افتخار،قدرت اور سربلندى كى نئي زندگى كے لئے تيار نہيں ہو پائے تھے_
حضرت موسى عليہ السلام نے انھيں مقدس سرزمين كے حصول كے لئے جہاد آزادى كا جو حكم ديا تھا اس پر عمل نہ كرنے كے لئے انھوں نے جو كچھ كہا وہ اس حقيقت كى واضح دليل ہے لہذا ضرورى تھا كہ وہ ايك طويل مدت وسيع بيابانو ںميں سرگرداں رہيں اور اس طرح ان كى ناتواں اور غلامانہ ذہنيت كى حامل موجودہ كمزور نسل آہستہ آہستہ ختم ہوجائے اور نئي نسل حريت و آزادى كے ماحول ميں اورخدائي تعليمات كى آغوش ميں پروان چڑھے تاكہ وہ اس قسم كے جہاد كے لئے اقدام كرسكے او راس طرح سے اس سرزمين پر حق كى حكمرانى قائم ہو سكے_

بنى اسرائيل كا ايك گروہ پشيمان ہوا
بنى اسرارئيل كا ايك گروہ اپنے كئے پر سخت پشيمان ہوا_انہوں نے بارگاہ خدا كا رخ كيا_خدا نے دوسرى مرتبہ بنى اسرائيل كو اپنى نعمتوں سے نوازا جن ميں سے بعض كى طرف قرآن ميں اشارہ كيا گيا ہے_
''ہم نے تمہارے سر پر بادل سے سايہ كيا''_(1)سر خط وہ مسافر جو صبح سے غروب تك سورج كى گرمى ميں بيابان ميں چلتا ہے وہ ايك لطيف سائے سے كيسى راحت پائے گا(وہ سايہ جو بادل كا ہو جس سے انسان كے لئے نہ تو فضا محدود ہوتى ہو اور نہ جو ہوا چلنے سے مانع ہو)_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہء بقر آيت57
-------
377
يہ صحيح ہے كہ بادل كے سايہ فگن ٹكڑوںكا احتمال ہميشہ بيابان ميں ہوتا ہے ليكن قرآن واضح طور پر كہہ رہا ہے كہ بنى اسرئيل كے ساتھ ايسا عام حالات كى طرح نہ تھا بلكہ وہ لطف خدا سے اكثر اس عظيم نعمت سے بہرہ ور ہوتے تھے_
دوسرى طرف اس خشك اور جلادينے والے بيابان ميں چاليس سا ل كى طويل مدت سرگرداں رہنے والوں كے لئے غذا كى كافى و وافى ضرورت تھي،اس مشكل كو بھى خداوند عالم نے ان كے لئے حل كرديا ،جيسا كہ اشاد ہوتا ہے:ہم نے'' من وسلوى '' جو لذيذ اور طاقت بخش غذا ہے تم پر نازل كيا_
ان پاكيزہ غذائوں سے جو تمہيں روزى كے طور پر دى گئي ہيں كھائو(اور حكم خدا كى نافرمانى نہ كرو اور اس كى نعمت كا شكر اداكرو_)
ليكن وہ پھر بھى شكر گزارى كے دروازے ميں داخل نہيں ہوئے(تاہم)''انہوں نے ہم پر كوئي ظلم نہيں كيا بلكہ اپنے اوپر ہى ظلم كيا ہے''_(1)

منّ و سلوى كيا ہے؟
نبى اكرم (ص) سے منقول ايك روايت كے مطابق،آپ نے فرمايا:
''كھمبى كى قسم كى ايك چيز تھى جو اس زمين ميں اُگتى تھي''_پس معلوم ہوا كہ ''منّ''ايك ''قارچ''تھى جو اس علاقہ ميں پيدا ہوتى تھي_(2)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ بقر آيت57
(2)توريت ميں ہے كہ ''منّ''دھنيے كے دانوں جيسى كوئي چيزہے جو رات كو اس سر زمين پر آگرتى تھي،بنى اسرائيل اسے اكٹھا كركے پيس ليتے اور اس سے روٹى پكاتے تھے جس كا ذائقہ روغنى روٹى جيسا ہوتا تھا_-->
--------
378
ايك احتمال اور بھى ہے كہ بنى اسرائيل كى سرگردانى كے زمانے ميں خدا كے لطف وكرم سے جو نفع بخش بارشيں برستى تھيں ان كے نتيجے ميں درختوں سے كوئي خاص قسم كا صمغ اور شيرہ نكلتا تھا اور بنى اسرائيل اس سے مستفيد ہوتے تھے_
بعض نے كہا ہے كہ'' منّ'' سے مراد وہ تمام نعمتيں جو خدانے بنى اسرائيل كو عطا فرمائي تھيں اور سلوى وہ تمام عطيات ہيں جو ان كى راحت و آرام اور اطمينان كا سبب تھے_
''سلوى ''اگر چہ بعض مفسرين نے اسے شہد كے ہم معنى ليا ہے ليكن دوسرے تقريباًسب مفسرين نے اسے پرندے كى ايك قسم قرار ديا ہے_يہ پرندہ اطراف اور مختلف علاقوں سے كثرت سے اس علاقے ميں آتا تھا اور بنى اسرائيل اس كے گوشت سے استفادہ كرتے تھے_عہدين پر لكھى گئي تفسير ميں بھى اس نظريہ كى تائيد دكھائي ديتى ہے_(1)
البتہ بنى اسرائيل كى سرگردانى كے دنوں ميں ان پر خدا كا يہ خاص لطف وكرم تھا كہ يہ پرندہ وہاں كثرت سے ہوتا تھا تا كہ وہ اس سے استفادہ كرسكيں_ورنہ تو عام حالات ميں اس طرح كى نعمت كا وجود مشكل تھا_
بعض ديگر حضرات كے نزديك''من''ايك قسم كا طبيعى شہد ہے اور بنى اسرائيل اس بيابان ميں طويل مدت تك چلتے پھرتے رہنے سے شہد كے مخزنوں تك پہنچ جاتے تھے كيونكہ ''بيابان تيہ ''كے كناروں پر پہاڑ اور سنگلاخ علاقہ تھا جس ميں كافى طبيعى شہد نظر آجاتا تھا_
عہدين(توريت اور انجيل)پر لكھى گئي تفسير سے اس تفسير كى تائيد ہوتى ہے جس ميں ہے كہ مقدس سر زمين قسم قسم كے پھولوں اور شگوفوں كى وجہ سے مشہور ہے اسى لئے شہد كى مكھيوں كے جتھے ہميشہ پتھروں كے سوراخوں،درختوں كى شاخوں اور لوگوں كے گھروں پر جا بيٹھتے ہيں اس طرح سے بہت فقير و مسكين لوگ بھى شہد كھا سكتے تھے_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)اس ميں لكھا ہے معلوم ہونا چاہيے كہ بہت بڑى تعداد ميں سلوى افريقہ سے چل كے شمال كو جاتے ہيں_''جزيرہ كاپري'' ميںايك فصل ميں 16ہزار كى تعداد ميں ان كا شكار كيا گيا _يہ پرندہ بحيرہ قلزم كے راستے سے آتا ہے_ خليج عقبہ اور رسويز كو عبور كرتا ہے_ ہفتے كو جزيرہ سينا ميں داخل ہوتا ہے اور راستے ميں اس قدر تكان و تكليف جھيلنے كى وجہ سے آسانى سے ہاتھ سے پكڑا جا سكتا ہے، اور جب پرواز كرتا ہے تو زمين كے قريب ہوتا ہے_اس حصے كے متعلق(توريت كے)سفر خروج اور سفر اعداد ميں گفتگو ہوئي ہے_
اس تحرير سے بھى واضح ہوتا ہے كہ سلوى سے مراد وہى پر گوشت پرندہ ہے جو كبوتر كے مشابہ اور اس كے ہم وزن ہوتا ہے اور يہ پرندہ اس سر زمين ميں مشہور ہے _
--------
379

بيابانوں ميں چشمہ ابلنا
بنى اسرائيل پر كى گئي ايك اور نعمت كى نشاندہى كرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے:''ياد كرو اس وقت كو جب موسى عليہ السلام نے(اس خشك اورجلانے والے بيا بان ميں جس وقت بنى اسرائيل پانى كى وجہ سے سخت تنگى ميں مبتلا تھے)پانى كى درخواست كي''_(1)تو خدا نے اس درخواست كو قبول كيا جيسا كہ قرآن كہتا ہے:ہم نے اسے حكم ديا كہ اپنا عصا مخصوص پتھر پر مارو اس سے اچانك پانى نكلنے لگا اور پانى كے بارہ چشمے زور و شور سے جارى ہوگئے_(2)بنى اسرائيل كے قبائيل كى تعداد كے عين مطابق جب يہ چشمے جارى ہوئے تو ايك چشمہ ايك قبيلے كى طرف جھك جاتا تھا جس پر بنى اسرائيل كے لوگوں''اور قبيلوں ميں سے ہر ايك نے اپنے اپنے چشمے كو پہچان ليا_(3)
يہ پتھر كس قسم كا تھا،حضرت موسى عليہ السلام كس طرح اس پر عصا مارتے تھے اور پانى اس ميں سے كيسے جارى ہوجاتا تھا_اس سلسلے ميں بہت كچھ گفتگو كى گئي ہے_قرآن جو كچھ اس بارے ميں كہتا ہے وہ اس سے زيا دہ نہيں كہ موسى عليہ السلام نے اس پر عصا مارا تو اس سے بارہ چشمے جارى ہوگئے_
بعض مفسرين كہتے ہيں كہ يہ پتھر ايك كوہستانى علاقے كے ايك حصے ميں واقع تھا جو اس بيابان كى طرف جھكا ہوا تھا_ سورہ اعراف آيہ160كى تعبيراس بات كى نشاندہى كرتى ہے كہ ابتداء ميں اس پتھر سے تھوڑا تھوڑا پانى نكلا ،بعد ميں زيادہ ہوگيا،يہاںتك كہ بنى اسرائيل كا ہر قبيلہ ان كے جانور جو ان كے ساتھ تھے اور وہ كھيتى جو انہوں نے احتمالاً اس بيابان كے ايك حصے ميں تيار كى تھى سب اس سے سيراب ہوگئے،يہ كوئي تعجب كى بات نہيں كہ كوہستانى علاقے ميں پتھر كے ايك حصے سے پانى جارى ہوا البتہ يہ مسلم ہے كہ يہ سب معجزے سے رونما ہوا_(4)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ بقرہ آيت60
(2)سورہ بقرہ ايت 60
(3)سورہ بقرہ آيت60
(4)توريت كى سترھويں فصل ميں سفر خروج كے ذيل ميں بھى يوں لكھا ہے:
''خدا نے موسى عليہ السلام سے كہا:قوم كے آگے آگے رہو اور اسرائيل كے بعض بزرگوں كو ساتھ لے لو اور وہ عصا جسے نہر پر مارا تھا ہاتھ ميں لے كر روانہ ہو جائو_ ميں وہاں تمہارے سامنے كوہ حوريب پر كھڑا ہوجائوں گا_ اور اسے پتھر پر مارو،اس سے پانى جارى ہوجائےگا ،تاكہ قوم پى لے اور موسى عليہ السلام نے اسرائيل كے مشائخ اور بزرگوں كے سامنے ايسا ہى كيا''_
-------
380
بہر حال ايك طرف خداوند عالم نے ان پر من و سلوى نازل كيا اور دوسرى طرف انہيں فراوان پانى عطا كيا اور ان سے فرمايا:''خدا كى دى ہوئي روزى سے كھائو پيو ليكن زمين ميں خرابى اور فساد نہ كرو''_(1)
گويا انہيں متوجہ كيا گياہے كہ كم از كم ان عظيم نعمتوں كى شكر گزارى كے طور پر ضدى پن،ستمگري،انبياء كى ايذا رسانى اور بہانہ بازى ترك كردو_

مختلف كھانوں كى تمنا
ان نعمات فراوان كى تفصيل كے بعد جن سے خدا نے بنى اسرائيل كو نوازا تھا_ قرآن ميں ان عظيم نعمتوں پر ان كے كفران اور ناشكر گزارى كى حالت كو منعكس كيا گيا ہے_اس ميں اس بات كى نشاندہى ہے كہ وہ كس قسم كے ہٹ دھرم لوگ تھے_شايد تاريخ دنيا ميں ايسى كوئي مثال نہ ملے گى كہ كچھ لوگوں پر اس طرح سے الطاف الہى ہو ليكن انہوں نے اس طرح سے اس كے مقابلے ميں ناشكر ى اور نا فرمانى كى ہو_
پہلے فرمايا گيا ہے:
''ياد كرو اس وقت كو جب تم نے كہا :اے موسى ہم سے ہر گز يہ نہيں ہوسكتا كہ ايك ہى غذا پر قناعت كرليں،(من و سلوى كتنى ہى لذيذ غذا ہو، ہم مختلف قسم كى غذا چاہتے ہيں_)(2)
''لہذا خدا سے خواہش كرو كہ وہ زمين سے جو كچھ اگايا كرتا ہے ہمارے لئے بھى اگائے سبزيوں ميں سے،ككڑي،لہسن،مسور اور پياز''_(3)
ليكن موسى عليہ السلام نے ان سے كہا:''كيا تم بہتر كے بجائے پست تر غذا پسند كرتے ہو''_(4)
''جب معاملہ ايسا ہى ہے تو پھر اس بيابان سے نكلو اور كسى شہر ميں داخل ہونے كى كوشش كروكيونكہ جو كچھ تم چاہتے ہو وہ وہاں ہے''_(5)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ بقرہ آيت60
(2)سورہ بقرہ آيت61
(3)سورہ بقرہ آيت61
(4)سورہ بقرہ آيت61
(5)سورہ بقرہ آيت61
--------
381
يعنى تم لوگ اس وقت اس بيابان ميں خود سازى اور امتحان كى منزل ميں ہو،يہاں مختلف كھانے نہيں مل سكتے ،جاو شہر ميں جاو تاكہ يہ چيزيں تمہيں مل جائيں ،ليكن يہ خود سازى كا پروگرام وہاں نہيں ہے_
اس كے بعد قرآن مزيد كہتا ہے كہ خدا نے ان كى پيشانى پر ذلت و فقر كى مہر لگاديااور وہ دوبارہ غضب الہى ميں گرفتار ہوگئے _
يہ اس لئے ہوا كہ وہ آيات الہى كا انكار كرتے تھے اور ناحق انبياء كو قتل كرتے تھے _ يہ سب اس لئے تھا كہ وہ گناہ،سركشى اور تجاوز كے مرتكب ہوتے تھے_(1)

عظيم وعدہ گاہ
قرآن ميں بنى اسرائيل كى زندگى كا ايك اور منظر بيان كيا گيا ہے_ ايك مرتبہ پھر حضرت موسى عليہ السلام كو اپنى قوم سے جھگڑنا پڑا ہے،حضرت موسى عليہ السلام كا خدا كے مقام وعدہ پر جانا،وحى كے ذريعے احكام توريت لينا،خدا سے باتيں كرنا،كچھ بزرگان بنى اسرائيل كو ميعاد گاہ ميں ان واقعات كے مشاہدہ كے لئے لانا،اس بات كا اظہار ہے كہ خدا كو ان آنكھوں سے ہر گز نہيں ديكھا جاسكتا_
پہلے فرمايا گيا ہے:''ہم نے موسى سے تيس راتوں (پورے ايك مہينہ)كا وعدہ كيا،اس كے بعد مزيد دس راتيں بڑھا كر اس وعدہ كى تكميل كي، چنانچہ موسى سے خدا كا وعدہ چاليس راتوں ميں پورا ہوا''_(2)
اس كے بعد اس طرح بيان كيا گيا ہے:''موسى نے اپنے بھائي ہارون سے كہا:ميرى قوم ميں تم ميرے جانشين بن جائو اور ان كى اصلاح كى كوشش كرو اور كبھى مفسدوں كى پيروى نہ كرنا''_(3)(4)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ بقرہ آيت61
(2)سورہ اعراف آيت 142
(3)سورہ اعراف آيت143
(4)پہلا سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ خدا نے پہلے ہى سے چاليس راتوں كا وعدہ كيوں نہ كيا بلكہ پہلے تيس راتوں كا وعدہ كيا اس كے بعد دس راتوں كا اور اضافہ كرديا_
مفسرين كے درميان اس تفريق كے بارے ميں بحث ہے، ليكن جو بات بيشتر قرين قياس ہے،نيز روايات -->
---------
382

ديدار پرودگار كى خواہش
قرآن ميں بنى اسرائيل كى زندگى كے بعض ديگر مناظر پيش كئے گئے ہيں_ان ميں سے ايك يہ ہے كہ بنى اسرائيل كے ايك گروہ نے حضرت موسى عليہ السلام سے بڑے اصرار كے ساتھ يہ خواہش كى كہ وہ خدا كو ديكھيں گے_ اگر ان كى يہ خواہش پورى نہ ہوئي تو وہ ہر گز ايمان نہ لائيں گے_
اہل بيت عليہم السلام كے بھى موافق ہے وہ يہ ہے كہ يہ ميعاد اگر چہ واقع ميں چاليس راتوں كا تھا ليكن خدا نے بنى اسرائيل كى آزمائشے كرنے كے لئے پہلے موسى عليہ السلام كو تيس راتوں كى دعوت دى پھر اس كے بعد اس كى تجديد كردى تا كہ منافقين مومنين سے الگ ہوجائيں_اس سلسلے ميں امام محمد باقر عليہ السلام سے نقل ہوا ہے كہ آپ(ع) نے فرمايا:
جس وقت حضرت موسى عليہ السلام وعدہ گاہ الہى كى طرف گئے تو انہوں نے بنى اسرائيل سے يہ كہہ ركھا تھا كہ ان كى غيبت تيس روز سے زيادہ طولانى نہ ہوگى ليكن جب خدا نے اس پر دس دنوں كا اضافہ كرديا تو بنى اسرائيل نے كہا:موسى عليہ السلام نے اپنا وعدہ توڑ ديا اس كے نتيجہ ميں انہوں نے وہ كام كئے جو ہم جانتے ہيں(يعنى گوسالہ پرستى ميں مبتلا ہوگئے_)
رہا يہ سوال كہ يہ چاليس روز يا چاليس راتيں،اسلامى مہينوں ميں سے كونسا زمانہ تھا؟ بعض روايات سے معلوم ہوتا ہے كہ يہ مدت ذيقعدہ كى پہلى تاريخ سے لے كر ذى الحجہ كى دس تاريخ تك تھي_ قرآن ميں چاليس راتوں كا ذكر ہے نہ كہ چاليس دنوں كا_ تو شايد اس وجہ سے ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام كى اپنے رب سے جو مناجاتيں تھيں وہ زيادہ تر رات ہى كے وقت ہوا كرتى تھيں_
اس كے بعد ايك اور سوال سامنے آتا ہے،وہ يہ كہ حضرت موسى عليہ السلام نے كسطرح اپنے بھائي ہارون(ع) سے كہا كہ:قوم كى اصلاح كى كوشش كرنا اور مفسدوں كى پيروى نہ كرنا،جبكہ حضرت ہارون(ع) ايك نبى برحق اور معصوم تھے وہ بھلا مفسدوں كى پيروى كيوں كرنے لگے؟
اس كا جواب يہ ہے كہ:يہ درحقيقت اس بات كى تاكيد كے لئے تھا كہ حضرت ہارون(ع) كو اپنى قوم ميں اپنے مقام كى اہميت كا احساس رہے اور شايد اس طرح سے خود بنى اسرائيل كو بھى اس بات كا احساس دلانا چاہتے تھے كہ وہ ان كى غيبت ميں حضرت ہارون(ع) كى رہنمائي كا اچھى طرح اثر ليں اور ان كا كہنا مانيں اور ان كے اوامر ور نواہي(احكامات)كو اپنے لئے سخت نہ سمجھيں،اس سے اپنى تحقير خيال نہ كريں اور انكے سامنے اس طرح مطيع و فرمانبرداررہيں جس طرح وہ خود حضرت موسى عليہ السلام كے فرمانبردار تھے_
------
383
چنانچہ حضرت موسى عليہ السلام نے ان كے ستر آدميوں كا انتخاب كيا اور انہيں اپنے ہمراہ پروردگار كى ميعادگاہ كى طرف لے گئے، وہاں پہنچ كر ان لوگوں كى درخواست كو خدا كى بارگاہ ميں پيش كيا_ خدا كى طرف سے اس كا ايسا جواب ملا جس سے بنى اسرائيل كے لئے يہ بات اچھى طرح سے واضح ہوگئي_
ارشاد ہوتا ہے:'' جس وقت موسى ہمارى ميعادگاہ ميں آئے اور ان كے پروردگار نے ان سے باتيں كيں تو انہوں نے كہا:اے پروردگار خود كو مجھے دكھلادے تاكہ ميں تجھے ديكھ لوں''_(1)
ليكن موسى عليہ السلام نے فوراًخدا كى طرف سے يہ جواب سنا: تم ہز گز مجھے نہيں ديكھ سكتے _
ليكن پہاڑ كى حانب نظر كرو اگر وہ اپنى جگہ پر ٹھہرا رہا تب مجھے ديكھ سكو گے_
جس وقت خدا نے پہاڑ پر جلوہ كيا تو اسے فنا كرديا اور اسے زمين كے برابر كرديا_
موسى عليہ السلام نے جب يہ ہولناك منظر ديكھا تو ايسا اضطراب لاحق ہوا كہ بے ہوش ہو كر زمين پر گرپڑے_اور جب ہوش ميں آئے تو خدا كى بارگاہ ميں عرض كى پروردگاراتو منزہ ہے،ميں تيرى طرف پلٹتا ہوں،اور توبہ كرتا ہوں اور ميں پہلا ہوں مومنين ميںسے_(2)

حضرت موسى عليہ السلام نے رويت كى خواہش كيوں كي؟
حضرت موسى عليہ السلام جيسے اولوالعزم نبى كو اچھى طرح معلوم تھا كہ ذات خداوندى قابل ديد نہيں ہے كيونكہ نہ تو وہ جسم ہے،نہ اس كے لئے كوئي مكان و جہت ہے اس كے باوجود انہوں نے ايسى خواہش كيسے كردى جو فى الحقيقت ايك عام انسان كى شان كے لئے بھى مناسب نہيں ہے؟
سب سے واضح جواب يہ ہے كہ جضرت موسى عليہ السلام نے يہ خواہش در اصل اپنى قوم كى طرف سے كى تھى كيونكہ بنى اسرائيل كے جہلاء كے ايك گروہ كا يہ اصرار تھا كہ وہ خدا كو كھلم كھلا ديكھيں گے تب ايمان لائيں گے_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ اعراف 143
(2)سورہ اعراف آيت143
--------
384
حضرت موسى عليہ السلام كو اللہ كى جانب سے يہ حكم ملا كہ وہ اس درخواست كو خدا كى بارگاہ ميں پيش كريں تا كہ سب اس كا جواب سن ليں،كتاب عيون اخبار الرضا ميں امام رضا عليہ السلام سے جو حديث مروى ہے وہ بھى اس مطلب كى تائيد كرتى ہے_(1)

الواح توريت
آخر كار اس عظيم ميعادگاہ ميں اللہ نے موسى عليہ السلام پر اپنى شريعت كے قوانين نازل فرمائے_پہلے ان سے فرمايا:''اے موسى ميںنے تمہيں لوگوں پر منتخب كيا ہے،اور تم كو اپنى رسالتيں دى ہيں،اور تم كو اپنے ساتھ گفتگو كا شرف عطا كيا ہے''_(2)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)حضرت موسى عليہ السلام نے كس چيز سے توبہ كى ؟اس بارے ميں جوسوال سامنے آتا ہے يہ ہے كہ جب حضرت موسى عليہ السلام ہوش ميں آئے تو انہوں نے كيوں كہا :''ميں تو بہ كر تا ہوں''
حالانكہ انہوں نے كوئي خلاف ورزى نہيں كى تھي_كيونكہ اگر انہوں نے يہ درخواست اپنى امت كى طرف سے كى تھى تو اس ميں ان كا كيا قصور تھا،اللہ كى اجازت سے انہوں نے يہ درخواست خدا كے سامنے پيش كى اور اگر اپنے لئے شہود باطنى كى تمنا كى تھى تو يہ بھى خدا كے حكم كى مخالفت نہ تھي،لہذا توبہ كس بات كى تھي؟دوطرح سے اس سوال كا جواب ديا جا سكتا ہے:
اول:يہ كہ حضرت موسى عليہ السلام نے بنى اسرائيل كى نمائندگى كے طور پر خداسے يہ سوال كيا تھا،اس كے بعد جب خدا كى طرف سے سخت جواب ملا جس ميں اس سوال كى غلطى كو بتلايا گيا تھا تو حضرت موسى عليہ السلام نے توبہ بھى انہيں كى طرف سے كى تھي_
دوم:يہ كہ حضرت موسى عليہ السلام كو اگر چہ يہ حكم ديا گيا تھا كہ وہ بنى اسرائيل كى درخواست كو پيش كريں ليكن جس وقت پروردگار كى تجلى كا واقعہ رونما ہوا اور حقيقت آشكار ہوگئي تو حضرت موسى عليہ السلام كى يہ ماموريت ختم ہوچكى تھى اب حضرت موسى عليہ السلام كو چاہيئےہ پہلى حالت(يعنى قبل از ماموريت)كى طرف پلٹ جائيں اور اپنے ايمان كا اظہار كريں تاكہ كسى كے لئے جائے شبہ باقى نہ رہے،لہذا اس حالت كا اظہار موسى عليہ السلام نے اپنى توبہ اور اس جملہ ''انى تبت اليك وانا اول المو منين''سے كيا_
(2)سورہ اعراف144
-----
385
اب جبكہ ايسا ہے تو''جو ميں نے تم كو حكم ديا ہے اسے لے لو اور ہمارے اس عطيہ پر شكر كرنے والوں ميں سے ہوجائو''_(1)
اس كے بعد اضافہ كيا گيا ہے كہ :ہم نے جو الواح موسى عليہ السلام پر نازل كى تھيں ان پر ہر موضوع كے بارے ميں كافى نصيحتيں تھيں اورضرورت كے مسائل كى شرح اور بيان تھا_
اس كے بعد ہم نے موسى عليہ السلام كو حكم ديا كہ''بڑى توجہ اور قوت ارادى كے ساتھ ان فرامين كو اختيار كرو_''(2)اور اپنى قوم كو بھى حكم دو كہ ان ميں جو بہترين ہيںانہيں اختيار كريں_
اور انہيں خبردار كردوكہ ان فرامين كى مخالفت اور ان كى اطاعت سے فرار كرنے كا نتيجہ دردناك ہے اوراس كا انجام دوزخ ہے اور ''ميں جلد ہى فاسقوں كى جگہ تمہيں دكھلادوںگا_''(3)(4)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ اعراف144
(2)سورہ اعراف آيت 145
(3)سورہ اعراف آيت145
(4)يہاں پردو چيزوں كى طرف توجہ كرنا ضرورى ہے:
1_الواح كس چيز كى بنى ہوئي تھيں:اس آيت كا ظاہر يہ ہے كہ خداوند كريم نے حضرت موسى عليہ السلام پر جو الواح نازل كى تھيں ان ميں توريت كى شريعت اور قوانين لكھے ہوئے تھے ،ايسا نہ تھا كہ يہ لوحيں حضرت موسى عليہ السلام كے ہاتھ ميں تھيں اور اس ميں فرامين منعكس ہوگئے تھے_ اب رہا يہ سوال كہ يہ لوحيں كيسى تھيں؟كس چيز كى بنى ہوئي تھيں؟ قرآن نے اس بات كى كوئي وضاحت نہيں كى ہے صرف كلمہ''الواح'' سربستہ طور پر آيا ہے_جو در اصل''لاح يلوح''كے مادہ سے ماخوذ ہے جس كے معنى ظاہر ہونے اور چمكنے كے ہيں_چونكہ صفحہ كے ايك طرف لكھنے سے حروف نماياں ہوجاتے ہيںاور مطلب آشكار ہوجاتے ہيں،اس لئے صفحہ كو جس پر كچھ لكھا جائے''لوح''كہتے ہيں_ليكن روايات و اقوال مفسرين ميں ان الواح كى كيفيت كے بارے ميں اور ان كى جنس كے بارے ميں گوناگوں احتمالات ذكر كئے گئے ہيں_ چونكہ ان ميں سے كوئي بھى يقينى نہيں ہے اس لئے ان كے ذكر سے ہم اعراض كرتے ہيں_
2_كلام كيسے ہوا:قرآن كريم كى مختلف آيات سے استفادہ ہوتا ہے كہ خداوندمتعال نے حضرت موسى عليہ السلام سے كلام كيا،خدا كا موسى عليہ السلام سے كلام كرنا اس طرح تھا كہ اس نے صوتى امواج كو فضا ميں يا كسى جسم ميں پيدا كرديا تھا_ كبھى يہ امواج صوتي''شجرہ وادى ايمن ''سے ظاہر ہوتى تھيں اور كبھي''كوہ طور'' سے حضرت موسى عليہ السلام كے كان ميں پہنچتى تھيں_ جن لوگوں نے صرف الفاظ پر نظر كى ہے اور اس پر غور نہيںكيا كہ يہ الفاظ كہاں سے نكل سكتے ہيں انہوں نے يہ خيال كيا كہ خدا كا كلام كرنا اس كے تجسم كى دليل ہے_حالانكہ يہ خيال بالكل بے بنياد ہے_
--------
386

يہوديوں ميں گوسالہ پرستى كاآغاز
قرآن ميں افسوسناك اور تعجب خيز واقعات ميں سے ايك واقعہ كا ذكر ہوا ہے جو حضرت موسى عليہ السلام كے ميقات كى طرف جانے كے بعد بنى اسرائيل ميں رونما ہوا_وہ واقعہ ان لوگوں كى گوسالہ پرستى ہے_ جو ايك شخص بنام''سامري''نے زيور و آلات بنى اسرائيل كے ذريعے شروع كيا_
سامرى كو چونكہ اس بات كا احساس تھاكہ قوم موسى عليہ السلام عرصہ دراز محرومى اور مظلومى كى زندگى بسر كررہى تھى اس وجہ سے اس ميں ماد ہ پرستى پائي جاتى تھى اور حب زر كا جذبہ بدرجہ اتم پايا جاتا تھا_ جيسا كہ آج بھى ان كى يہى صفت ہے لہذا اس نے يہ چالاكى كى كہ وہ مجسمہ سونے كا بناياكہ اس طرح ان كى تو جہ زيادہ سے زيادہ اس كى طرف مبذول كراسكے_
اب رہا يہ سوال كہ اس محروم و فقير ملت كے پاس اس روز اتنى مقدارميں زروزيور كہاں سے آگيا كہ اس سے يہ مجسمہ تيار ہوگيا؟اس كا جواب روايات ميں اس طرح ملتا ہے كہ بنى اسرائيل كى عورتوں نے ايك تہوار كے موقع پر فرعونيوں سے زيورات مستعار لئے تھے يہ اسوقت كى بات ہے جس كے بعد ان كى غرقابى عمل ميں آئي تھي_اس كے بعد وہ زيورات ان عورتوں كے پاس باقى رہ گئے تھے_
اتنا ضرور ہے كہ يہ حادثہ مثل ديگر اجتماعى حوادث كے بغير كسى آمادگى اور مقدمہ كے وقوع پذيز نہيں ہوا بلكہ اس ميں متعدد اسباب كار فرما تھے،جن ميں سے بعض يہ ہيں:
بنى اسرائيل عرصہ دراز سے اہل مصر كى بت پرستى ديكھتے آرہے تھے_
جب دريائے نيل كو عبور كيا تو انہوں نے ايك قوم كو ديكھا جو بت كى پرستش كرتى تھي_ جيسا كہ قرآن نے بھى اس كا ذكر كيا ہے اور گذشتہ ميں بھى اس كا ذكر گزرا كہ بنى اسرائيل نے حضرت موسى عليہ السلام سے ان كى طرح كا بت بنانے كى فرمائشے كى جس پر حضرت موسى عليہ السلام نے انہيں سخت سرزنش كي_
حضرت موسى عليہ السلام كے ميقات كاپہلے تيس راتوں كا ہونا اس كے بعد چاليس راتوں كا ہوجانا اس سے بعض منافقوں كو يہ موقع ملاكہ حضرت موسى عليہ السلام كى وفا ت كى افواہ پھيلا ديں_
--------
387
قوم موسى عليہ السلام ميں بہت سے افرادكا جہل و نادانى سے متصف ہونا اس كے مقابلے ميں سامرى كى مكارى و مہارت كيونكہ اس نے بڑى ہوشيارى سے بت پرستى كے پروگرام كو عملى جامہ پہنايا، بہر حال ان تمام باتوں نے اكٹھا ہوكر اس بات كے اسباب پيدا كئے كہ بنى اسرائيل كى اكثريت بت پرستى كو قبول كرے اور''گوسالہ''كے چاروں طرف اس كے ماننے والے ہنگامہ برپاكرديں_

دودن ميں چھ لاكھ گوسالہ پرست بن گئے
سب سے بڑھ كرعجيب بات يہ ہے كہ بعض مفسرين نے يہ بيان كيا ہے كہ بنى اسرائيل ميں يہ انحرافى تبديلياں صرف گنتى كے چند دنوں كے اندر واقع ہوگئيں جب موسى عليہ السلام كو ميعاد گاہ كى طرف گئے ہوئے 35/دن گزر گئے تو سامرى نے اپنا كام شروع كرديا اور بنى اسرائيل سے مطالبہ كيا كہ وہ تمام زيورات جو انہوں نے فرعونيوں سے عاريتاًلئے تھے اور ان كے غرق ہوجانے كے بعد وہ انھيں كے پاس رہ گئے تھے انہيں جمع كريں چھتيسويں ، سنتيسويں اور اڑ تيسويں دن انہيں ايك كٹھائي ميں ڈالااور پگھلاكر اس سے گوسالہ كا مجسمہ بنا ديا اور انتاليسويں دن انہيں اس كى پرستش كى دعوت دى اور ايك بہت بڑى تعداد (كچھ روايات كى بناء پر چھ لاكھ افراد) نے اسے قبول كرليااور ايك روز بعد يعنى چاليس روز گزرنے پر موسى عليہ السلام واپس آگئے _
قرآن اس طرح فرماتا ہے:
''قوم موسى نے موسى كے ميقات كى طرف جانے كے بعد اپنے زيوارات وآلات سے ايك گوسالہ بنايا جو ايك بے جان جسد تھا جس ميں سے گائے كى آواز آتى تھي_ (1)
اسے انہوں نے اپنے واسطے انتخاب كيا ''
اگرچہ يہ عمل سامرى سے سرزد ہوا تھا_(2)
ليكن اس كى نسبت قوم موسى كى طرف دى گئي ہے اس كى وجہ يہ ہے كہ ان ميں سے بہت سے لوگوں
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ اعراف آيت 148
(2)جيسا كہ سورہ طہ كى آيات ميں آياہے
--------
388
نے اس كام ميں سامرى كى مدد كى تھى اور وہ اس كے شريك جرم تھے اس كے علاوہ ان لوگوں كى بڑى تعداد اس كے فعل پر راضى تھى _
قرانى گفتگو كاظاہر يہ ہے كہ تمام قوم موسى اس گوسالہ پرستى ميں شريك تھى ليكن اگردوسرى ايت پر نظر كى جائے جس ميں آيا ہے كہ :
''قوم موسى ميں ايك امت تھى جو لوگوں كو حق كى ہدايت كرتى تھى اور اسى كى طرف متوجہ تھي''_(1)
اس سے معلوم ہوگا كہ اس سے مراد تمام امت موسى نہيں ہے بلكہ اس كى اكثريت اس گوسالہ پرستى كى تابع ہوگئي تھي، جيسا كہ آئندہ آنے والا ہے كہ وہ اكثريت اتنى زيادہ تھى كہ حضرت ہارون عليہ السلام مع اپنے ساتھيوں كے ان كے مقالے ميں ضعيف وناتواں ہوگئے تھے _

گوسالہ پرستوں كے خلاف شديد رد عمل
يہاں پر قرآن ميں اس كشمكش اور نزاع كا ماجرا بيان كيا گيا ہے جو حضرت موسى عليہ السلام اور گوسالہ پرستوںكے درميان واقع ہوئي جب وہ ميعادگاہ سے واپس ہوئے جس كى طرف گذشتہ ميں صرف اشارہ كيا گيا تھا يہاں پر تفصيل كے ساتھ حضرت موسى عليہ السلام كے اس رد عمل كو بيان كيا گيا ہے جو اس گروہ كے بيدار كرنے كے لئے ان سے ظاہر ہوا _
پہلے ارشاد ہوتا :'' جس وقت موسى غضبناك ورنجيدہ اپنى قوم كى طرف پلٹے اور گوسالہ پرستى كانفرت انگيز منظر ديكھا تو ان سے كہا كہ تم لوگ ميرے بعد برے جانشين نكلے تم نے ميرا آئين ضائع كرديا ''_(2)
يہاں سے صاف معلوم ہوتا ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام ميعاد گاہ پروردگار سے پلٹتے وقت قبل اس كے كہ بنى اسرائيل سے ملتے، غضبناك اور اندو ہگين تھے، اس كى وجہ يہ تھى كہ خدا نے ميعادگاہ ميں انہيں اس كى خبردے دى تھى _
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ اعراف آيت 159
(2)سورہ اعراف آيت150
--------
389
جيسا كہ قرآن كہتا ہے :ميں نے تمہارے پيچھے تمہارى قوم كى آزمائشے كى ليكن وہ اس آزمائشے ميں پورى نہ اترى اور سامرى نے انہيں گمراہ كر ديا_
اس كے بعد موسى عليہ السلام نے ان سے كہا:'' آيا تم نے اپنے پروردگار كے فرمان كے بارے ميں جلدى كى ''_(1)
تم نے خدا كے اس فرمان، كہ اس نے ميعاد كا وقت تيس شب سے چاليس شب كرديا ، جلدى كى اور جلد فيصلہ كرديا ، ميرے نہ آنے كو ميرے مرنے يا وعدہ خلافى كى دليل سمجھ ليا، حالانكہ لازم تھا كہ تھوڑا صبر سے كام ليتے ، چند روز اور انتظار كرليتے تاكہ حقيقت واضح ہوجاتى _
اس وقت جبكہ حضرت موسى عليہ السلام بنى اسرائيل كى زندگى كے ان طوفانى وبحرانى لمحات سے گزر رہے تھے، سرسے پيرتك غصہ اور افسوس كى شدت سے بھڑك رہے تھے ،ايك عظيم اندوہ نے ان كے وجود پر سايہ ڈال ديا تھا اور انہيں بنى اسرائيل كے مستقبل كے بارے ميں بڑى تشويش لاحق تھي، كيونكہ تخريب اور تباہ كارى آسانى سے ہوجاتى ہے كبھى صرف ايك انسان كے ذريعے بہت بڑى خرابى اور تباہى واقع ہوجاتى ہے ليكن اصلاح اور تعمير ميں دير لگتى ہے _
خاص طور پر جب كسى نادان متعصب اورہٹ دھر م قوم كے درميان كوئي غلط سازبجاديا جائے تو اس كے بعد اس كے برے اثرات كا زائل كرنا بہت مشكل ہوتا ہے _

بے نظير غصہ
اس موقع پر حضرت موسى عليہ السلام كو غصہ كرنا چاہئے تھا اور ايك شديد ردّ عمل ظاہر كر ناچا ہئے تھا تاكہ بنى اسرائيل كے فاسد افكار كى بنياد گر اكر اس منحرف قوم ميں انقلاب برپا كرديں ،ورنہ تو اس قوم كو پلٹانا مشكل تھا_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ اعراف آيت 150
--------
390
قرآن نے حضرت موسى عليہ السلام كا وہ شديد ردّ عمل بيان كيا ہے جو اس طوفانى و بحرانى منظركو ديكھنے كے بعد ان سے ظاہر ہوا ،موسى عليہ السلام نے بے اختيار نہ طور پر اپنے ہاتھ سے توريت كى الواح كو زمين پر ڈال ديا اور اپنے بھائي ہارون عليہ السلام كے پاس گئے اور ان كے سر اور داڑھى كے بالوں كو پكڑكر اپنى طرف كھينچا''(1)
حضرت موسى عليہ السلام نے اس كے علاوہ ہارون عليہ السلام كو بڑى شدت سے سرزنش كى اور بآواز بلند چيخ كرپكارے:
كيا تم نے بنى اسرائيل كے عقائدكى حفاظت ميں كوتاہى كى اور ميرے فرمان كى مخالفت كى ؟''(2)
درحقيقت حضرت موسى عليہ السلام كا يہ ردّ عمل ايك طرف تو ان كى اس واردات قلبي، بے قرارى اور شديد ناراضى كى حكايت كرتا ہے تاكہ بنى اسرائيل كى عقل ميں ايك حركت پيدا ہو اور وہ اپنے اس عمل كى قباحت كى طرف متوجہ ہوجائيں _
بنابريں اگرچہ بالفرض الواح توريت كا پھينك دينا قابل اعتراض معلوم ہوتا ہو، اور بھائي كى شديد سرنش نادرست ہو ليكن اگرحقيقت كى طرف توجہ كى جائے كہ اگر حضرت موسى عليہ السلام اس شديد اور پرہيجانى ردّ عمل كا اظہار نہ كرتے تو ہر گز بنى اسرائيل اپنى غلطى كى سنگينى اور اہميت كا اندازہ نہيں كرسكتے تھے ،ممكن تھا كہ اس بت پرستى كے آثاربدان كے ذہنوں ميں باقى رہ جاتے لہذا حضرت موسى عليہ السلام نے جو كچھ كيا وہ نہ صرف غلط نہ تھا بلكہ امر لازم تھا_
حضرت موسى عليہ السلام اس واقعہ سے اس قدر ناراض ہوئے كہ تاريخ بنى اسرائيل ميں كبھى اس قدر ناراض نہ ہوئے تھے كيونكہ ان كے سامنے بدترين منظر تھا يعنى بنى اسرائيل خدا پرستى كو چھوڑ كر گوسالہ پرستى اختيار كرچكے تھے جس كى وجہ سے حضرت موسى عليہ السلام كى وہ تمام زحمتيں جو انہوں نے بنى اسرائيل كى ہدايت كے لئے كى تھيں سب برباد ہورہى تھيں _
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ اعراف 150
(2)سورہ طہ آيت 150
------------
391
لہذا ايسے موقع پر الواح كا ہاتھوں سے گرجانا اور بھائي سے سخت مواخذہ كرنا ايك طبعى امر تھا_

اے ميرى ماں كے بيٹے ميں بے گناہ ہوں
اس شديد رد عمل اور غيظ وغضب كے اظہارنے بنى اسرائيل پر بہت زيادہ تربيتى اثر مرتب كيا اور منظر كو بالكل پلٹ ديا جبكہ اگر حضرت موسى عليہ السلام نرم زبان استعمال كرتے تو شايد اس كا تھوڑا سا اثر بھى مرتب نہ ہوتا _
اس كے بعد قرآن كہتا ہے : ہارون عليہ السلام نے موسى عليہ السلام كى محبت كو برانگيختہ كرنے كے لئے اور اپنى بے گناہى بيان كرنے كے لئے كہا:
''اے ميرے ماں جائے:اس نادان امت كے باعث ہم اس قدر قليل ہوگئے كہ نزديك تھا كہ مجھے قتل كرديں لہذا ميں بالكل بے گناہ ہوں لہذا آپ كوئي ايسا كام نہ كريں كہ دشمن ہنسى اڑائيں اور مجھے اس ستمگر امت كى صف ميں قرار نہ ديں ''_(1)
قرآن ميں جو '' ابن ام'' كى تعبير آئي ہے جس كے معنى (اے ميرى ماں كے بيٹے،كے ہيں )حالانكہ موسى عليہ السلام اورہارون عليہ السلام دونوں ايك والدين كى اولاد تھے يہ اس لئے تھا كہ حضرت ہارون چاہتے تھے كہ حضرت موسى كا جذبہ محبت بيدار كريں بہر حال حضرت موسى عليہ السلام كى يہ تدبير كار آمد ہوئي اور بنى اسرائيل كو اپنى غلطى كا احساس ہوا اور انہوں نے توبہ كى خواہش كا اظہار كيا _''
اب حضرت موسى عليہ السلام كى آتش غضب كم ہوئي اور وہ درگاہ خداواندى كى طرف متوجہ ہوئے اور عرض كى :
''پروردگارا مجھے اور ميرے بھائي كو بخش دے اور ہميں اپنى رحمت بے پاياں ميں داخل كردے، تو تمام مہربانوں سے زيادہ مہربان ہے''_ (2)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ اعراف آيت 151
(2)سورہ اعراف آيت 150
----
392
اپنے لئے اور اپنے بھائي كے لئے بخشش طلب كرنا اس بناپر نہيں تھا كہ ان سے كوئي گناہ سرزد ہوا تھا بلكہ يہ پروردگار كى بارگاہ ميں ايك طرح كا خضوع وخشوع تھا اور اس كى طرف بازگشت تھى اور بت پرستوں كے اعمال زشت سے اظہار تنفر تھا _(1)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)قران اور موجود ہ توريت كا ايك موازنہ
جيسا كہ آيات سے معلوم ہوتا ہے كہ '' گوسالہ '' كو نہ تو بنى اسرائيل نے بنايا تھا نہ حضرت ہارون عليہ السلام نے ،بلكہ بنى اسرائيل ميں سے ايك شخص سامرى نے يہ حركت كى تھي، جس پر حضرت ہارون عليہ السلام جو حضرت موسى عليہ السلام كے بھائي اور ان كے معاون تھے خاموش نہ بيٹھے بلكہ انہوں نے اپنى پورى كوشش صرف كي، انہوں نے اتنى كوشش كى كہ نزديك تھا كہ لوگ انہيں قتل كرديتے _
ليكن عجيب بات يہ ہے كہ موجودہ توريت ميں گوسالہ سازى اور بت پرستى كى طرف دعوت كو حضرت ہارون عليہ السلام كى طرف نسبت دى گئي ہے، چنانچہ توريت كے سفر خروج كى فصل 32 ميں يہ عبارت ملتى ہے:
جس وقت قوم موسى نے ديكھا كہ موسى كے پہاڑسے نيچے اترنے ميں دير ہوئي تو وہ ہارون كے پاس اكٹھا ہوئے اور ان سے كہا اٹھو اور ہمارے لئے ايسا خدا بنائو جوہمارے آگے آگے چلے كيونكہ يہ شخص موسى جو ہم كو مصر سے نكال كريہاں لايا ہے نہيں معلوم اس پر كيا گذري، ہارون نے ان سے كہا: طلائي بندے (گوشوارے) جو تمہارى عورتوںاور بچوں كے كانوں ميں ہيں انہيں ان كے كانوں سے اتار كر ميرے پاس لاو ،پس پورى قوم ان گوشواروںكو كانوں سے جدا كر كے ہارون كے پاس لائي، ہارون نے ان گوشواروں كو ان لوگوں كے ہاتھوں سے ليا اور كندہ كرنے كے ايك آلہ كے ذريعے تصوير بنائي اور اس سے ايك گوسالہ كا مجسمہ ڈھالااور كہا كہ اے بنى اسرائيل يہ تمہارا خدا ہے جو تمہيں سرزمين مصر سے باہر لايا ہے ''
اسى كے ذيل ميں ان مراسم كوبيان كيا گيا ہے جوحضرت ہارون نے اس بت كے سامنے قربانى كرنے كے بارے ميں بيان كئے تھے _
جو كچھ سطور بالا ميں بيان ہوا يہ بنى اسرائيل كى گوسالہ پرستى كى داستان كا ايك حصہ ہے جو توريت ميں مذكورہے اس كى عبارت بعينہ نقل كى گئي ہے حالانكہ خود توريت نے حضرت ہارون كے مقام بلندكومتعدد فصول ميں بيان كيا ہے ان ميں سے ايك يہ ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام كے معجزات حضرت ہارون عليہ السلام كے ذريعے ظاہر ہوئے تھے (فصل 8 از سفر خروج توريت ) اور ہارون عليہ السلام كا حضرت مو سى عليہ السلام كے ايك رسول كى حيثيت سے تعارف كروايا گيا ہے_ (فصل 8 از سفر خروج) -->
----
393

طلائي گوسالہ سے كس طرح آواز پيدا ہوئي؟
سامرى جو كہ ايك صاحب فن انسان تھا اس نے اپنى معلومات سے كام لے كر طلائي گوسالہ كے سينے ميں كچھ مخصوص نل (PIPE) اس طرح مخفى كرديئے جن كے اندر سے دبائو كى وجہ سے جب ہوا نكلتى تھى تو گائے كى آواز آتى تھى _
كچھ كاخيال ہے كہ گوسالہ كا منہ اس طرح كا پيچيدہ بنايا گيا تھا كہ جب اسے ہوا كے رخ پرركھا جاتاہے تھا تو اس كے منہ سے يہ آوازنكلتى تھي_
قرآن ميں پڑھتے ہيں كہ جناب موسى نے سامرى سے بازپرس شروع كى اور كہا :''يہ كيا كام تھا كہ جوتونے انجام ديا ہے اور اے سامرى : تجھے كس چيزنے اس بات پر آمادہ كيا_
اس نے جواب ميں كہا :''ميں كچھ ايسے مطالب سے آگاہ ہوا كہ جو انہوں نے نہيں ديكھے اور وہ اس سے آگاہ نہيں ہوئے ''_

بہركيف حضرت ہارون عليہ السلام جو حضرت موسى عليہ السلام كے جانشين برحق تھے اور ان كى شريعت كے سب سے بڑے عالم وعارف تھے توريت ان كے لئے مقام بلند كى قائل ہے اب ذراان خرافات كو بھى ديكھ ليجئے كہ انہيں ايك بت سازہى نہيں بلكہ ايك مئوسس بت پرستى كى حيثيت سے روشناس كرايا ہے بلكہ ''عذر گناہ بد تراز گناہ'' كے مقولہ كے مطابق ان كى جانب سے ايك غلط عذر پيش كيا كيونكہ جب حضرت موسى عليہ السلام نے ان پر اعتراض كيا تو انہوں نے يہ عذر پيش كيا كہ چونكہ يہ قوم بدى كى طرف مائل تھى اس لئے ميں نے بھى اسے اس راہ پرلگاديا جبكہ قرآن ان دونوں بلند پايہ پيغمبروں كو ہر قسم كے شرك اور بت پرستى سے پاك وصاف سمجھتا ہے _ صرف يہى ايك مقام نہيں جہاں قرآن تاريخ انبياء ومرسلين كى پاكى وتقدس كا مظہرہے جبكہ موجودہ توريت كى تاريخ انبياء ومرسلين كى ساحت قدس كے متعلق انواع واقسام كى خرافات سے بھرى ہوئي ہے ہمارے عقيدہ كے مطابق حقانيت واصالت قرآن اور موجودہ توريت وانجيل كى تحريف كو پہچاننے كا ايك طريقہ يہ بھى ہے كہ ان دونوں ميں انبياء كى جو تاريخ بيان كى گئي ہے اس كا موازنہ كرليا جائے اس سے اپنے آپ پتہ چل جائيگا كہ حق كيا ہے اور باطل كيا ہے ؟
-------
394
ميں نے ايك چيزخدا كے بھيجے ہوئے رسول كے آثار ميں سے لى اور پھر ميں نے اسے دور پھينك ديا اور ميرے نفس نے اس بات كو اسى طرح مجھے خوش نما كركے دكھايا''(1)
اس بارے ميں كہ اس گفتگو سے سامرى كى كيا مراد تھي، مفسرين كے درميان دوتفسيريں مشہور ہيں : پہلى يہ كہ اس كا مقصد يہ تھا كہ فرعون كے لشكر كے دريائے نيل كے پاس آنے كے موقع پر ميں نے جبرئيل كو ايك سوارى پر سوار ديكھا كہ وہ لشكر كو دريا كے خشك شدہ راستوں پر ورود كےلئے تشويق دينے كى خاطران كے آگے آگے چل رہاتھا ميں نے كچھ مٹى ان كے پائوں كے نيچے سے ياان كى سوارى كے پائوں كے نيچے سے اٹھالى اور اسے سنبھال كر ركھا اور اسے سونے كے بچھڑے كے اندارڈالا اور يہ صدا اسى كى بركت سے پيدا ہوئي ہے _
دوسرى تفسير يہ ہے كہ ميں ابتداء ميں ميں خدا كے اس رسول (موسى )كے كچھ آثار پر ايمان لے آيا اس كے بعد مجھے اس ميں كچھ شك اور تردد ہوا لہذا ميں نے اسے دور پھينك ديا اور بت پرستى كے دين كى طرف مائل ہوگيا اور يہ ميرى نظر ميں زيادہ پسنديدہ اورزيبا ہے _

سامرى كى سزا
يہ بات صاف طور پر واضح اور روشن ہے كہ موسى كے سوال كے جواب ميں سامرى كى بات كسى طرح بھى قابل قبول نہيں تھي،لہذا حضرت موسى عليہ السلام نے اس كے مجرم ہونے كا فرمان اسى عدالت ميں صادر كر ديا اور اسے اس گوسالہ پرستى كے بارے ميں تين حكم ديئے_
پہلا حكم يہ كہ اس سے كہا'' تو لوگوں كے درميان سے نكل جا اور كسى كے ساتھ ميل ملاپ نہ كر اور تيرى باقى زندگى ميں تيرا حصہ صرف اتنا ہے كہ جو شخص بھى تيرے قريب آئے گا تو اس سے كہے گا '' مجھ سے مس نہ ہو'' _(2)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ طہ آيت96
(2)سورہ طہ آيت97
-----
395
اس طرح ايك قاطع اور دوٹوك فرمان كے ذريعے سامرى كو معاشرے سے باہر نكال پھينكا اور اسے مطلق گوشہ نشينى ميں ڈال ديا _
بعض مفسرين نے كہا ہے كہ '' مجھ سے مس نہ ہو'' كا جملہ شريعت موسى عليہ السلام كے ايك فوجدارى قانون كى طرف اشارہ ہے كہ جو بعض ايسے افراد كے بارے ميں كہ جو سنگين جرم كے مرتكب ہوتے تھے صادر ہوتا تھا وہ شخص ايك ايسے موجود كى حيثيت سے كہ جو پليد ونجس وناپاك ہو، قرار پاجاتا تھا كوئي اس سے ميل ملاپ نہ كرے اور نہ اسے يہ حق ہوتا تھا وہ كسى سے ميل ملاپ ركھے _
سامرى اس واقعے كے بعد مجبور ہوگيا كہ وہ بنى اسرائيل اور ان كے شہر وديار سے باہر نكل جائے اور بيابانوں ميں جارہے اور يہ اس جاہ طلب انسان كى سزا ہے كہ جو اپنى بدعتوں كے ذريعے چاہتا تھا كہ بڑے بڑے گروہوں كو منحرف كركے اپنے گرد جمع كرے، اسے نا كام ہى ہونا چاہئے يہاں تك كہ ايك بھى شخص اس سے ميل ملاپ نہ ركھے اور اس قسم كے انسان كےلئے يہ مكمل بائيكاٹ موت اور قتل ہونے سے بھى زيادہ سخت ہے كيونكہ وہ ايك پليد اور آلودہ وجود كى صورت ميں ہر جگہ سے راندہ اور دھتكارا ہوا ہوتا ہے _
بعض مفسرين نے يہ بھى كہا ہے كہ سامرى كا بڑا جرم ثابت ہوجانے كے بعد حضرت موسى نے اس كے بارے ميں نفرين كى اور خدا نے اسے ايك پر اسرار بيمارى ميں مبتلا كرديا كہ جب تك وہ زندہ رہا كوئي شخص اسے چھو نہيں سكتا تھا اور اگر كوئي اسے چھوليتا تو وہ بھى بيمارى ميں گرفتار ہوجاتا _يايہ كہ سامرى ايك قسم كى نفسياتى بيمارى ميں جو ہر شخص سے وسواس شديد اور وحشت كى صورت ميں تھى ;گرفتار ہوگيا، اس طرح سے كہ جو شخص بھى اس كے نزديك ہوتا وہ چلاتا كہ'' مجھے مت چھونا''_سامرى كے لئے دوسرى سزا يہ تھى كہ حضرت موسى عليہ السلام نے اسے قيامت ميں ہونے والے عذاب كى بھى خبردى اور كہا تيرے آگے ايك وعدہ گاہ ہے، خدائي دردناك عذاب كا وعدہ كہ جس سے ہرگز نہيں بچ سكے گا ''(1)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ طہ ايت 97
-----
396
تيسرا كام يہ تھا كہ جو موسى عليہ السلام نے سامرى سے كہا: '' اپنے اس معبود كو كہ جس كى تو ہميشہ عبادت كرتا تھا ذرا ديكھ اور نگاہ كر ہم اس كو جلا رہے ہيں اور پھر اس كے ذرات كو دريا ميں بكھيرديں گے ''(تاكہ ہميشہ كے لئے نابود ہوجائے)(1)(2)

گناہ عظيم اور كم نظير توبہ
حضرت موسى عليہ السلام كے اس شديد رد عمل نے اپنا اثر دكھايا او جن لوگوں نے گوسالہ پر ستى اختيار كى تھى اور ان كى تعداد اكثريت ميں تھى وہ اپنے كام سے پشيمان ہوئے ان كى شايد مذكورہ پشيمانى كافى تھي، قرآن نے يہ اضافہ كيا ہے :باقى رہتا ہے يہ سوال كہ اس '' غضب '' اور ذلت '' سے كيا مراد ہے؟ قرآن نے اس امر كى كوئي توضيح نہيں كى ہے صرف سربستہ كہہ كر بات آگے بڑھادى ہے_
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ طہ آيت97
(2)سامرى كون ہے ؟اصل لفظ '' سامري'' عبرانى زبان ميں '' شمرى '' ہے اور چونكہ يہ معمول ہے كہ جب عبرانى زبان كے الفاظ عربى زبان ميں آتے ہيںتو '' شين'' كا لفظ ''سين'' سے بدل جاتا ہے ، جيسا كہ '' موشى '' ''موسي'' سے اور '' يشوع'' '' يسوع'' سے تبديل ہوجاتاہے اس بناء پر سامرى بھى '' شمرون '' كى طرف منسوب تھا' اور'' شمرون'' '' يشاكر'' كا بيٹا تھا، جو يعقوب كى چوتھى نسل ہے _اسى سے يہ بات بھى واضح ہوجاتى ہے كہ بعض عيسائيوں كا قرآن پر يہ اعتراض بالكل بے بنيادہے كہ قرآن نے ايك ايسے شخص كو كہ جو موسى عليہ السلام كے زمانے ميں رہتا تھا اور وہ گوسالہ پرستى كا سر پرست بنا تھا ،شہر سامرہ سے منسوب ''سامري''كے طورپر متعارف كرايا ہے، جب كہ شہر سامرہ اس زمانے ميں بالكل موجود ہى نہيں تھا ،كيونكہ جيسا كہ ہم بيان كرچكے ہيں كہ ''سامرى '' شمرون كى طرف منسوب ہے نہ كر سامرہ شہر كى طرف _
بہرحال سامرى ايك خود خواہ اور منحرف شخص ہونے كے باوجود بڑا ہوشيار تھا وہ بڑى جرا ت اور مہارت كے ساتھ بنى اسرائيل كے ضعف كے نكات اور كمزورى كے پہلوئوں سے استفادہ كرتے ہوئے اس قسم كا عظيم فتنہ كھڑا كرنے پرقادر ہوگيا كہ جو ايك قطعى اكثريت كے بت پرستى كى طرف مائل ہونے كا سبب بنے اور جيسا كہ ہم نے ديكھا ہے كہ اس نے اپنى اس خود خواہى اور فتنہ انگيزى كى سزا بھى اسى دنيا ميں ديكھ لى _''
(3)سورہ اعراف ايت 152
-------
397
ليكن ممكن ہے اس سے ان بد بختيوں اور پريشانيوں كى جانب اشارہ مقصود ہوجو اس ماجرے كے بعد اور بيت المقدس ميں ان كى حكومت سے پہلے انہيں پيش آئيں _
يا اس سے مراد اللہ كا وہ حكم ہو جو اس گناہ كے بعد انہيں ديا گيا كہ وہ بطور پاداش ايك دوسرے كو قتل كريں _
قرآن اس كے بعد اس گناہ سے توبہ كے سلسلے ميں كہتا ہے:''اور ياد كرو اس وقت كو جب موسى نے اپنى قوم سے كہا :اے قوم تم نے بچھڑے كو منتخب كر كے اپنے اوپر ظلم كيا ہے ،اب جو ايسا ہوگيا ہے تو توبہ كرو اور اپنے پيدا كرنے والے كى طرف پلٹ آئو''_
''تمہارى توبہ اس طرح ہونى چاہيئے كہ تم ايك دوسرے كو قتل كرو_يہ كام تمہارے لئے تمہارے خالق كى بارگاہ ميں بہتر ہے_اس ماجرے كے بعد خدا نے تمہارى توبہ قبول كرلى جو تواب و ررحيم ہے''_(1)
اس ميں شك نہيں كہ سامرى كے بچھڑے كى پرستش و عبادت كوئي معمولى بات نہ تھى وہ قوم جو خدا كى يہ تمام آيات ديكھ چكى تھى اور اپنے عظيم پيغمبر كے معجزات كا مشاہدہ كرچكى تھى ان سب كو بھول كر پيغمبر كى ايك مختصر سى غيبت ميں اصل توحيد اور آئين خداوندى كو پورے طور پر پائوں تلے رونددے اور بت پرست ہوجائے_
اب اگر يہ بات ان كے دماغ سے ہميشہ كے لئے جڑ سے نہ نكالى جاتى تو خطرناك حالت پيدا ہونے كا انديشہ تھا اور ہر موقعے كے بعدا ور خصوصاًحضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے بعد ممكن تھا ان كى دعوت كى تمام آيات ختم كردى جاتيں اور اس عظيم قوم كى تقدير مكمل طور پر خطرے سے دوچار ہوجاتي_

اكٹھا قتل
يہاں شدت عمل سے كام ليا گيا اور صرف پشيمانى اور زبان سے اظہار توبہ پر ہرگز قناعت نہ كى گئي_يہى وجہ ہے كہ خدا كى طرف سے ايسا سخت حكم صادر ہوا جس كى مثال تمام انبياء كى طويل تاريخ ميں كہيں
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ بقرہ آيت54
------
398
نہيں ملتى اور وہ يہ كہ توبہ اور توحيد كى طرف باز گشت كے سلسلے ميںگناہگاروں كے كثير گروہ كے لئے اكٹھا قتل كرنے كا حكم ديا گيا_يہ فرمان بھى ايك خاص طريقے سے جارى ہونا چاہيئےھا اور وہ يہ ہوا كہ وہ لوگ خود تلواريں ہاتھ ميں لے كر ايك دوسرے كو قتل كريں كہ ايك اس كا اپنا مارا جانا عذاب ہے اور دوسرا دوستوں اور شناسائوں كا قتل كرنا_
بعض روايات كے مطابق حضرت موسى عليہ السلام نے حكم ديا كہ ايك تاريك رات ميں وہ تمام لوگ جنہوں نے بچھڑے كى عبادت كى تھى غسل كريں كفن پہن ليں اور صفيںباندھ كر ايك دوسرے پرتلوار چلائيں_
ممكن ہے يہ تصور كيا جائے كہ يہ توبہ كيوں اتنى سختى سے انجام پذير ہوئي كيا يہ ممكن نہ تھاكہ خدا ان كى توبہ كو بغير اس خونريزى كے قبول كرليتا_
اس سوال كا جواب گذشتہ گفتگو سے واضح ہوجاتا ہے كيونكہ اصل توحيد سے انحراف اوربت پرستى كى طرف جھكائو كا مسئلہ اتنا سادہ اور آسان نہ تھا كہ اتنى آسانى سے درگذر كرديا جاتا اور وہ بھى ان واضح معجزات اور خدا كى بڑى بڑى نعمتوں كے مشاہدے كے بعد _ در حقيقت اديان آسمانى كے تمام اصولوں كو توحيد اور يگانہ پرستى ميں جمع كيا جاسكتا ہے_اس اصل كا متزلزل ہونا دين كى تمام بنيادوں كے خاتمے كے برابر ہے اگر گائو پرستى كے مسئلے كو آسان سمجھ ليا جاتا تو شايد آنے والے لوگوں كے لئے سنت بن جاتا_
خصوصاً بنى اسرائيل كے لئے جن كے بارے ميں تاريخ شاہد ہے كہ ضدى اور بہانہ باز لوگ تھے_ لہذا چاہئے تھا كہ ان كى ايسى گوشمالى كى جائے كہ اس كى چبھن تمام صديوں اور زمانوں تك باقى رہ جائے اور اس كے بعد كوئي شخص بت پرستى كى فكر ميں نہ پڑے_

خداكى آيات كو مضبوطى سے پكڑ لو
عظيم اسلامى مفسر مرحوم طبرسي،ابن زيد كا قول اس طرح نقل كرتے ہيں:جس وقت حضرت موسى عليہ السلام كوہ طور سے واپس آئے اور اپنے ساتھ توريت لائے تو اپنى قوم كو بتايا كہ ميں آسمانى كتاب لے كر آيا ہوں جو دينى احكام اور حلال و حرام پر مشتمل ہے_ يہ وہ احكام ہيں جنہيں خدا نے تمہارے لئے عملى پروگرام
--------
399
قرار ديا ہے_اسے لے كر اس كے احكام پر عمل كرو_ اس بہانے سے كہ يہ ان كے لے مشكل احكام ہيں،يہودى نافرمانى اور سركشى پر تل گئے_ خدا نے بھى فرشتوں كو مامور كيا كہ وہ كوہ طور كا ايك بہت بڑا ٹكڑا ان كے سروں پر لاكر كھڑا كرديں،اسى اثناء ميں حضرت موسى عليہ السلام نے انہيں خبردى كہ عہد وپيمان باندھ لو،احكام خداپر عمل كرو،سركشى و بغاوت سے توبہ كرو تو تم سے يہ عذاب ٹل جائے گا ورنہ سب ہلاك ہو جائوگے_
اس پر انہوں نے سر تسليم خم كرديا_ توريت كو قبول كيا اور خدا كے حضور ميں سجدہ كيا_جب كہ ہر لحظہ وہ كوہ طور كے اپنے سروں پر گرنے كے منتظر تھے ليكن بالآخر ان كى توبہ كى وجہ سے عذاب الہى ٹل گيا_
يہ نكتہ ياد ركھناضرورى ہے كہ كوہ طور كے بنى اسرائيل كے سروں پر مسلط ہونے كى كيفيت كے سلسلے ميںمفسرين كى ايك جماعت كا اعتقاد ہے كہ حكم خدا سے كوہ طور اپنى جگہ سے اكھڑ گيا اور سائبان كى طرح ان كے سروں پر مسلط ہوگيا_
جبكہ بعض دوسرے مفسرين يہ كہتے ہيں كہ پہاڑميں سخت قسم كا زلزلہ آيا ،پہار اس طرح لرزنے اور حركت كرنے لگا كہ كسى بھى وقت وہ ان كے سروں پر آگرے گا ليكن خدا كے لطف و كرم سے زلزلہ رك گيا اور پہاڑ اپنى جگہ پر قائم ہوگيا_
يہ احتمال بھى ہو سكتا ہے كہ پہاڑ كا ايك بہت بڑا ٹكڑا زلزلے اور شديد بجلى كے زير اثر اپنى جگہ سے اكھڑ كر ان كے سروں كے اوپر سے بحكم خدا اس طرح گزرا ہو كہ چند لحظے انہوں نے اسے اپنے سروں پر ديكھا ہو اور يہ خيال كيا ہو كہ وہ ان پر گرناچاہتا ہے ليكن يہ عذاب ان سے ٹل گيا اور وہ ٹكڑا كہيں دور جاگرا_(1)
--------------------------------------------------------------------------------
(1)كيا اس عہد وپيمان ميں جبر كا پہلو ہے:اس سوال كے جواب ميں بعض كہتے ہيں كہ ان كے سروں پر پہاڑ كا مسلط ہونا ڈرانے دھمكانے كے طور پر تھا نہ كہ جبر و اضطرار كے طور پر ورنہ جبرى عہد و پيمان كى تو كوئي قدرو قيمت نہيں ہے_ليكن زيادہ صحيح يہى ہے كہ اس ميں كوئي حرج نہيں كہ سركش او رباغى افراد كو تہديد و سزا كے ذريعے حق كے سامنے جھكاديا جائے_يہ تہديد اور سختى جو وقتى طور پر ہے ان كے غرور كو توڑدے گي_ انہيں صحيح غور و فكر پر ابھارے گى اور اس راستے پر چلتے چلتے وہ اپنے ارادہ و اختيار سے اپنى ذمہ دارياں پورى كرنے لگيں گے_بہر حال يہ پيمان زيادہ تر عملى پہلوئوں سے مربوط تھا ورنہ عقائد كو تو جبرو اكراہ سے نہيں بدلا جاسكتا_
------
400
ايئے _واقعہ كى تفصيل قرآن ميں پڑھتے ہيںكہ:''اور (وہ وقت كہ)جب ہم نے تم سے عہد ليا اور كوہ طور كو تمہارے سروں كے اوپر مسلط كرديا اور تمہيں كہا كہ،جو كچھ (آيات و احكام ميں )ہم نے تمہيں ديا ہے اسے مضبوطى سے تھامو اور جو كچھ اس ميں ہے اسے ياد ركھو (اور اس پر عمل كرو)شايد اس طرح تم پرہيزگار ہوجائو''_(1)
اس كے بعد پھر تم نے روگردانى كى اور اگر تم پر خدا كا فضل و رحمت نہ ہوتا تو تم نقصان اٹھانے والوں ميں سے ہوتے''_(2)
اس عہد و پيمان ميں يہ چيزيں شامل تھيں:پروردگار كى توحيد پر ايمان ركھنا،ماں باپ، عزيز و اقارب،يتيم اور حاجتمندو ں سے نيكى كرنا اور خونريزى سے پرہيز كرنا_ يہ كلى طور پر ان صحيح عقائد اور خدائي پروگراموں كے بارے ميں عہد و پيمان تھا جن كا توريت ميں ذكر كيا گيا تھا_

كوہ طور
كوہ طورسے مراد يہاں اسم جنس ہے يا يہ مخصوص پہاڑ ہے_اس سلسلے ميں دو تفسيريں موجودہيں_بعض كہتے ہيں كہ طور اسى مشہور پہاڑ كى طرف اشارہ ہے جہاں حضرت موسى عليہ السلام پر وحى نازل ہوئي_
ليكن بعض كے نزديك يہ احتمال بھى ہے كہ طور لغوى معنى كے لحاظ سے مطلق پہاڑ ہے_ يہ وہى چيز ہے جسے سورہ اعراف كى آيہ171 ميں ''جبل''سے تعبير كيا گيا ہے:

توريت كيا ہے
توريت عبرانى زبان كا لفظ ہے، اس كا معنى ہے''شريعت''اور''قانون''_يہ لفظ خداكى طرف سے
--------------------------------------------------------------------------------
(1)سورہ بقر آيت 63
(2)سورہ بقرہ آيت 64
--------
401
حضرت موسى عليہ السلام بن عمران پر نازل ہونے والى كتاب كے لئے بولا جاتا ہے_نيز بعض اوقات عہد عتيق كى كتب كے مجموعے كے لئے اور كبھى كبھى توريت كے پانچوں اسفار كے لئے بھى استعمال ہوتا ہے_
اس كى وضاحت يہ ہے كہ يہوديوں كى كتب كے مجموعے كو عہد عتيق كہتے ہيں_اس ميں توريت اور چندديگر كتب شامل ہيں_
توريت كے پانچ حصے ہيں:
جنہيںسفر پيدائشے،سفر خروج،سفر لاويان،سفر اعداد اور سفر تثنيہ كہتے ہيں_ اس كے موضوعات يہ ہيں:
1)كائنات،انسان اور ديگر مخلوقات كى خلقت_
2)حضرت موسى (ع) بن عمران،گذشتہ انبياء اور بنى اسرائيل كے حالات وغيرہ_
3)اس دين كے احكام كى تشريح_
عہد عتيق كى ديگر كتابيں در اصل حضرت موسى عليہ السلام كے بعد كے مو رخين كى تحرير كردہ ہيں_ ان ميں حضرت موسى (ع) بن عمران كے بعد كے نبيوں،حكمرانوں اور قوموں كے حالات بيان كئے گئے ہيں_
يہ بات بغير كہے واضح ہے كہ توريت كے پانچوں اسفار سے اگرصرف نظر كرليا جائے تو ديگر كتب ميں سے كوئي كتاب بھى آسمانى كتاب نہيں ہے_ خود يہودى بھى اس كا دعوى نہيں كرتے_يہاں تك كہ حضرت داو د(ع) سے منسوب زبور جسے وہ ''مزامير'' كہتے ہيں،حضرت داو د(ع) كے مناجات اور پندو نصائح كى تشريح ہے_
رہى بات توريت كے پانچوں سفروں كى تو ان ميں ايسے واضح قرائن موجود ہيںجو اس بات كى نشاندہى كرتے ہيں كہ وہ بھى آسمانى كتابيں نہيں ہيں بلكہ وہ تاريخى كتاب ہيں جو حضرت موسى عليہ السلام كے بعد لكھى گئي ہيں كيونكہ ان ميں حضرت موسى عليہ السلام كى وفات،ان كے دفن كى كيفيت اور ان كى وفات كے بعد كے كچھ حالات مذكور ہيں _
خصوصاً سفر تثنيہ كے آخرى حصے ميں يہ بات وضاحت سے ثابت ہوتى ہے كہ يہ كتاب حضرت موسى
------
402
بن عمران عليہ السلام كى وفات سے كافى مدت بعد لكھى گئي ہے_
علاوہ ازيں ان كتب ميں بہت سى خرافات اور ناروا باتيں انبياء و مرسلين سے منسوب كردى گئي ہيں_بعض بچگانہ باتيں بھى ہيں جو ان كے خود ساختہ اور جعلى ہونے پر گواہ ہيں نيز بعض تاريخى شواہد بھى نشاندہى كرتے ہيں كہ اصلى توريت غائب ہوگئي اور پھر حضرت موسى (ع) بن عمران عليہ السلام كے پيروكاروں نے يہ كتابيں تحرير كيں_