معراج خطابت
 
اسلام اور ادیانِ عالم
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَالْاِسْلَامِ دِیْنًافَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَفِی الْاٰخِرَة مِنَ الخَاسِرِیْنَ“۔
جو اسلام کے علاوہ کوئی دین اختیار کرے گا، وہ اُس سے قبول نہیں ہوگا اور وہ آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
یہ اس کا ترجمہ ہے۔ کوئی مفہوم اس کا ایسا نہیں کہ ترجمہ کچھ اور ہو اور مطلب اس کا کچھ اورہو۔ ایک سوال اس موضوع سے متعلق مجھ سے کیا گیا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ سوال کچھ اور ذہنوں میں بھی موجود ہو۔ لہٰذا اس کی مختصر تشریح کردوں۔ سوال یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کوئی دین قبول نہیں ہوگا۔ بہت سے غیر مسلم ہیں جو ایسے گھرانوں میں پیدا ہوئے کہ انہوں نے اپنے دھرم کے سواکسی مذہب کی تعلیم سنی ہی نہیں۔ اسلام کی تعلیمات ان کے گوش زد ہوئے ہی نہیں۔ تو چونکہ ایک ماں باپ کے ہاں پیدا ہوئے تھے اور چونکہ ایک خاندان میں نشوو نما پائی تھی، لہٰذا وہ اپنے اُسی مذہب پر آخر تک قائم رہے۔ اس گھر میں پیدا ہونا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس ماحول میں نشوو نما پانا ان کے اختیار کی بات نہیں تھی۔ یہ اسباب ہوئے کہ مذہب ِحق سے روشناس نہ ہوسکے اور اپنے غلط مذہب پر آخر دم تک قائم رہے۔ ایسے افرادکیوں گھاٹا اٹھائیں؟ان کو آخرت میں خسارہ کیوں ہو؟
یہ بہرحال ایسا سوال ہے جو اس موضوع کاایک لازمی جزو ہے۔اس بناء پر میں نے اس سوال کو موضوعِ بیان قرار دیا۔ اب اس سوال کے حل کرنے کیلئے تمہیداً یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسلام میں دو نقطہ نظر ہیں: ایک نقطہ نظر تو ان افراد کا ہے جو اللہ کیلئے عدالت ضروری نہیں سمجھتے جنہوں نے اصولِ دین کو عدالت سے محروم کردیا ہے۔ ان کا تصور یہ ہے کہ اللہ قادرِ مطلق ہے۔ جب قادرِ مطلق ہے تو اس پر کسی کو پابندی عائد کرنے کا حق نہیں ہے کہ وہ ایسا ضرور کرے اور ایسا ہرگز نہ کرے۔یہ پابندیاں عائد کرنا اس شخص کیلئے ہیں جو عاجز ہو، مجبو رہو اور کسی دوسرے کے زیر اختیار ہو۔ لیکن جو خود قادرِ مطلق ہے، اس پر یہ پابندیاں عائد کرنا کہ وہ ایسا ضرور کرے اور ایسا ہرگز نہ کرے، غلط ہے۔لہٰذا چونکہ اس کی قدرت لامحدود ہے، اب جو شخص کوئی راستہ اختیار کرتا ہے تو اُسے قرآن سے بھی سند مل جاتی ہے۔ قرآن میں ہے:
”لَا یُسْئَلُ عَمَّایَفْعَلُ وَھُمْ یُسْئَلُوْنَ“۔
اس سے کوئی سوال نہیں ہوسکتا ، جو وہ کرتا ہے کہ اس نے کیوں کیا۔ ہاں! دوسرے لوگوں سے یہ سوال کیا جائے گا کہ تم نے یہ کیوں کیا؟ خد اکے ہاں جب یہ ہے تو اس کے ہاں عدالت کی پابندی عائد کرنا صحیح نہیں ہے۔یہ ان کا نقطہ نظر ہے جس کو میں ں ے پوری قوت سے بیان کیا۔ اب رَد اس کی مفصل عرض نہیں کرنا ہے۔ مجملاً یہ ہے کہ انہوں نے خدا کی قدرت کو سلاطین بااقتدار کی لاٹھی سمجھا ہے کہ جس کے ہاتھ میں لاٹھی، اُس کی بھینس۔یہ وہ فلسفہ ہے جو طاقت کو حق سمجھتا ہو، یہ اس کا نظریہ ہے۔ چونکہ قادرِ مطلق ہے، لہٰذا جو چاہے کرے۔ تو سلاطین باقتدار کی طاقت کا جو تقاضا ہواکرتا ہے، اُسے اللہ پر مسلط کردیا ہے۔اب میں اپنے الفاظ میں کہہ رہا ہوں۔ وہ ان کے الفاظ میں ترجمانی تھی۔ میں کہتا ہوں کہ چونکہ وہ قادرِ مطلق ہے، لہٰذا اس کی نہ داد نہ فریاد۔ وہ جو چاہے کرے۔ چنانچہ ان کے ہاں یہ ہے کہ اگر کوئی عمر بھراطاعت کرے، بالکل ایک دفعہ بھی گناہ نہ کرے تو ممکن ہے کہ اللہ اُسے دوزخ میں ڈال دے او رجو عمر بھر نافرمانی کرتا رہے، اُسے جنت میں بھیج دے۔اپنے منظورِ نظر افراد کو جنت میں بھیجنے کیلئے کیسے کیسے چور دروازے تلاش کئے ہیں۔
جناب! اتفاق سے اکثریت اس نظریہ کے حامی افراد کی ہے مگر اس نظریہ کی بنیاد پر تو اس سوال کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔اس نے کہہ دیا کہ جو اسلام کے علاوہ کوئی دین اختیار کرے تو وہ قبول نہیں ہوگا۔چاہے بس ہو، چاہے بے بسی کے ساتھ ہو۔ جو اُس نے کہہ دیا ہے، اُسے مانئے۔ اگر قرآن کو مانتے ہیں ، اس نے چونکہ یہ کہہ دیا ہے، لہٰذا اس سوال کا محل ہی نہیں ہے۔بالکل ٹھیک ہے، بالکل مجبو رہے، بالکل بے اختیار ہے، وہ بیچارہ ہے، اُس نے سنا ہی نہیں تھا مگر بہرحال اسلام کے علاوہ دوسرے راستہ پر ہے اور اُس کا کام ہے جنت اور دوزخ کو تقسیم کرنا اور اُس نے کہہ دیا ہے کہ ہم جنت میں اُسے بھیجیں گے جو مسلم ہو اور جو غیر مسلم ہوا، اُسے ہم ہرگز نجات نہیں دیں گے۔
تو اب چاہے وہ بے بس ہو، چاہے کچھ ہو، ہے توغیر مسلم۔تواس کے فرمان کے مطابق اس کیلئے یہی انجام ہے جو قرآن نے کہہ دیا۔یہ ان کے نقطہ نظر سے ہے یعنی پھر کسی زحمت ِتفکرکے اٹھانے کی حاجت نہیں ۔سوچنے کی حاجت نہیں۔ بس کہہ دیا آپ کا کیا اجارہ ہے۔ وہ اُسے دوزخ میں بھیج رہا ہے۔ وہ چیخے یا آپ فریاد کیا کیجئے۔نہ اُسے حق چیخنے کا ہے ، نہ آپ کو فریاد کرنے کا۔ یہ تو ان کے نقطہ نظر سے ہے اور اکثریت اسی نقطہ نظر کی ہے۔ وہ آسودہ ہے یعنی اس کو اس سوال کے جواب کی کچھ زحمت نہیں اٹھانا مگر اس بارے میں ہماری ذمہ داری بہت زیاد ہ ہے کہ ہم اللہ کو عادل مانتے ہیں تو ہم لوگ عجیب مصیبت میں گرفتار ہیں۔یہ کتنی کٹھن منزل ہے او رہماری تو جتنی منزلیں ہیں، سب ہی کٹھن ہیں۔
صاحب! ہم ایسے ہیں کہ ہم کو اللہ کی وکالت بھی کرنا ہے، جب کوئی اس کی بات کرے اور ہمیں یہ محسوس ہو کہ یہ اللہ بلندی کے خلاف ہے تو ہمیں اللہ کی طرف سے بھی وکالت کرنا ہے۔ آدم سے لے کر نبی تک ہر نبی کی وکالت کرنا ہے۔آدم کے دامن پر گناہ کا دھبہ آئے تو صفائی کیلئے ہم بڑھیں۔ یوسف کے دامن پر کوئی دھبہ آئے تو ہم بڑھیں۔ سب کے وکیل ہم ہیں۔ ہم پر ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے ثبوت کا بار ہے۔
اپنے آئمہ کیلئے ظاہر ہے کہ ہمیں ہی آگے بڑھنا ہے۔ جی نہیں! گناہ نہیں ہے۔ کسی نہ کسی رُخ سے ہمیں ثابت کرنا ہے کہ یہ گناہ نہیں ہے۔ وہ بہرحال معصوم ہیں۔ دنیا یہاں بھی آسودہ ہے یعنی کسی مسئلہ میں بحث کی ضرورت ہی نہیں۔کہیں کسی نبی کے کردار پر اعتراض ہو تو کہیں گے کہ گناہ کیا تو کیا ہوا، آدمی ہی تو تھے!ہمارے لئے بڑی مصیبت ہے۔ ہمیں اس مصیبت میں اعتماد نے ڈالا۔انہیں مصیبت سے رہائی دی، اپنی طرف کمزوری کے احساس نے۔ ہمارے اعتماد نے ہم کو مصیبت میں یوں ڈالا کہ ہم جنہیں مان رہے تھے، ان کے متعلق یہ بھروسہ تھا کہ ان کے دامن پر کوئی داغ نہیں ہے۔لہٰذا ہم نے جب وصی نبی کواس منزل پر مانا تو وہ رسول جس کے یہ جانشین ہوں، اُسے کیونکر گناہگار مان سکتے تھے۔
دیکھئے!ہم ادھر سے چلے ہیں کہ جب یہ معصوم ہیں تو ناممکن ہے کہ انبیاء و مرسلین گناہگار ہوں۔ لہٰذا اس تصور نے کہ یہ معصوم ہیں، اس اعتماد نے ہم پر ایک لاکھ چوبیس ہزار عصمتوں کا بوجھ ڈال دیا اور جب انبیاء معصوم ہیں، اللہ کے ہاں ایسی بات کیونکر ہوسکتی ہے کہ جو اس کے معیارِ عظمت ِکردار کے خلاف ہو۔ یاد رکھئے کہ اللہ کے ہاں عظمت ِکردارکانام عدالت ہے، انبیاء و آئمہ کے ہاں عصمت ہے۔
پس ہم اللہ کیلئے بھی وکالت پر مجبو رہوگئے ۔ یہاں سے ہم چلے تھے، وہاں پہنچے۔ وہ بھی یہیں سے چلے او رنہ جانے کہاں پہنچے؟ ایسے افراد سے مجھے ہمدردی ہے ۔ انہیں ایسے اشخاص کو بلندی دینا ہوئی یا ماننا پڑی کہ جن میں داغ دھبے ہیں۔
اب نگاہ میں یہ ہے کہ رسول کا جانشین ہے اور یہ ایسا ہے۔ اس با ت کی اہمیت کو نگاہ میں کم کرنے کیلئے یہ کہا کہ اس کا کیا ذکر ہے، اس کیلئے ضرورت ہی کیا ہے کہ وہ معصوم ہو؟ گویا ضمیر گوارا نہیں خرتا مطلق طور پر کہنے کو کہ انبیاء معصوم نہیں ہیں۔ جی ضرور معصوم ہیں مگراس میں ایک مگر آجاتا ہے۔معصوم ہیں مگر قبل بعثت نہیں ہیں یا یہ کہ وہ جو ارادة گناہ ہوتے ہیں، اس کے لحاظ سے معصوم ہیں۔ مگر ان سے سہوونسیان سے گناہ ہوجاتے ہیں۔ غرض یہ کہ ایک عدد ”مگر“ ضرور آجاتا ہے۔ بس انسان کو یہ سہارہ ہوجاتا ہے کہ جب رہنما میں یہ باتیں ہیں تو کوئی بات نہیں ہے۔ لہٰذا جب نبی کی سطح یہ مان لیں گے تو ظاہر ہے کہ ”وزیرے چنیں شہریارے چنیں“۔جب انبیاء کے ہاں عصمت پوری مکمل ضروری نہیں تو اللہ کے ہاں عدالت پوری مکمل کیوں ضرورت ہو؟ وہ جو چاہے کرے۔
مگر اب ہم ہیں سب کے وکیل۔ہمیں سب کی نمائندگی کرنا ہے۔ ہم اللہ کو عادل سمجھتے ہیں تو عدالت ِ الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ شخص جو اس ماحول میں پیدا ہو، اس ماں اور باپ کے ہاں پیدا ہو، اگر بالفرض ایسا ہو، حالانکہ اس دَورِ تمدن و تہذیب اور کثرتِ روابط و تعلقات میں ایسا ممکن نہیں ہے لیکن بالفرض کوئی ایسا ہو کہ کچھ گوش زد ہی نہ ہوا ہو، اس کو اپنے مذہب کے سوا، اس کے ذہن میں کبھی آیا ہی نہ ہو کہ کوئی مسلم بھی قوم ہے، اُسے پتہ ہی نہ چلا ہو کہ اسلام بھی کوئی چیز ہے اور اس نے آنکھ کھول کر جیسے کال کوٹھڑی میں ، بس تاریکی ہی تاریکی دیکھی۔اس نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو بس اپنے مذہب کو پایا۔ اس تک صدائے حق پہنچی ہی نہیں۔ اس تک نامِ اسلام گیا ہی نہیں۔ اس نے رہنمایانِ اسلام کا نام کبھی سنا ہی نہیں۔ اس کے ذہن میں کبھی یہ شبہ پیدا ہوا ہی نہیں کہ شاید اسلام حق ہو۔ کبھی اس کے ذہن میں یہ تصور ہی نہیں ہوا کہ ممکن ہے کوئی دوسرا راستہ اسلام ہی نہیں ، عیسائیت حق ہو،یہودیت حق ہو۔ایسی کوئی بات اس کے ذہن میںآ ئی ہی نہیں۔
اگر بالفرض ایسی مخلوق پائی جاتی ہو، ایسا آدمی موجود ہو تو چونکہ خدا ہمارا عادل ہے ، تو اس کو ہرگز سزا اس کے کفر کی نہیں ملے گی اگر وہ واقعی مجبو رتھا۔لیکن اگر اُس نے سب نام دوسرے مذاہب کے سنے اور پھر بھی دماغ آسانی کی بناء پر، ذہنی کاہلی کی بناء پر اپنے سابق مذہب سے محبت کی بناء پر ، اپنی آبائی روایات سے اُنس کی بناء پر، اس کی وجہ سے اس نے کبھی سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی کہ کوئی دوسرا مذہب ِ حق ہے، تو پھر ایسا منکراپنی کسی اختیاری کوتاہی کی بناء پر قابل معافی نہیں ہے۔ جب بہت سے راستے اس کے گوش زد ہوئے تو کیا رسول کی آواز سننے کی ضرورت نہیں تھی؟ قرآن کی آیتیں پہنچنے کی ضرورت نہیں تھی اس تک کہ کوئی حافظ ِقرآن جاکر اُسے قرآن سنائے یا کسی عالم کی ضرورت نہیں تھی کہ جاکر اُسے حدیثیں سنائے، جاکر اُسے رسول کا پیغام سنائے۔
اس کی جو عقل تھی، وہ اس کی طرف کا رہنما تھی جو اس پر یہ فریضہ عائد کرتی تھی کہ تم کو خود تحقیق کرنا چاہئے۔ جب بہت سے راستے ہیں تو تم کو تلاش کرنا چاہئے کہ کونسا راستہ صحیح ہے اور اگر ایسا نہیں کیا تو وہ اس رہنما کی نافرمانی کی وجہ سے ہے جسے خالق نے اسی لئے رکھا تھا۔
اس نے اس رہنما کو عقل کی صورت میں ہر ایک کے اندر رکھ دیا تھا۔ اس رہنما کی وجہ سے یہ اب موردِ عتاب ہوسکتا ہے اوراللہ تعالیٰ کو حق ہے کہ وہ اُسے سزا دے کہ گوش زد تو ہوا اسلام کا نام تو پھر تم نے معلوم کیوں نہ کیا کہ اسلام کیا چیز ہے؟پھر تم نے دریافت کیوں نہ کیا کہ اسلام کسے کہتے ہیں؟ اوریہ وہ کافر ہی نہیں ہیں ، بہت سے مسلمان ہیں جو عمر گزرجاتی ہے ، نمازصحیح نہیں پڑھتے ، اس لئے کہ بیچاروں کو مسئلے معلوم نہیں ہیں، اس لئے کہ مسئلے معلوم کرنے کو دل ہی نہیں چاہتا۔عالم مل بھی گیا تواس سے پوچھیں گے کہ فلاں امام کی کتنی لڑکیاں تھیں؟ ا س سے یہ پوچھیں گے کہ فلاں شہزادے کی کتنی عمر تھی؟ یعنی سب کچھ وہ پوچھیں گے جس سے اپنے عمل کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن جو اپنا عمل ہے، اُسے کبھی نہیں پوچھیں گے کہ وضو کس طرح کریں تو صحیح ہوگا۔ غسل کس طرح کریں تو صحیح ہوگا۔نماز کس طرح پڑھیں تو صحیح ہوگی۔
تو یہ ہے تو سہی کہ کہیں بیچارے جاہل ہیں، بیچارے ناواقف ہیں لیکن ان کیلئے تو معصوم نے صراحتاً کہا ہے کہ روزِ قیامت اُسے بلائیں گے اور اس سے کہیں گے کہ تو نے صحیح عمل کیوں نہ کیا؟ وہ جواب میں کہے گا کہ مجھے علم نہیں ہوا۔ ارشاد ہوگا کہ تم نے علم حاصل کیوں نہ کیا؟ تم نے مسائل سے واقفیت حاصل کیوں نہ کی؟ اس کے بعد کوئی جواب نہیں۔ تو جوذرائع کے نہ موجود ہونے کی وجہ سے مجبوراً غلطی پر رہے۔ اس کو جاہل قاصر کہتے ہیں۔ وہ جاہل قاصر ہے اور اسے جاہل مقصر کہتے ہیں۔ قصور وار۔یعنی بہ اختیارخود تقصیر کرنے والا جاہل۔ یہ معاف نہیں ہے۔ تو کافر اگر قاصر میں داخل ہو تو اُسے سزا نہیں مل سکتی لیکن اگر وہ مقصر میں داخل ہے تو اس دورِ تمدن و تہذیب میں کوئی ایسا آدمی سوچنا مشکل ہے کہ جس تک آوازِ اسلام پہنچی ہی نہ ہو۔جس نے نامِ اسلام سنا ہی نہ ہو۔ آجکل ذرائع کی اتنی وسعت ہے ، لوگ اخبار پڑھتے ہیں۔ اس میں نام آتے ہیں۔ ریڈیو سنتے ہیں،اس میں نام آتے ہیں۔ ٹی وی پر مختلف لوگوں کے جلوس تفریحاً دکھائے جاتے ہیں۔ مگر اس سے اللہ کی حجت ہر ایک پر ہوتی رہتی ہے۔ لہٰذا اس دَور میں اس قسم کے کافر کا وجود نہیں ہے جس نے نامِ حق سنا ہی نہ ہو۔ اس صورت میں آجکل تو یہ کلیہ ہے:
”وَمَنْ یَتْبغِ غَیْرَالْاِسْلَامِ دِیْنًافَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَفِی الْاٰخِرَة مِنَ الخَاسِرِیْنَ“۔
جو اسلام کے علاوہ کسی دین کو اختیار کرے یا کسی دین پر قائم و برقرار رہے ، وہ ہرگز قبول نہیں ہوگا اور آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوگا اور حق بجانب طور پر ہوگا کیونکہ اس نے عملی کوتاہی کی۔
ہاں! فرض کیجئے کہ ذوقِ تخلیق پیدا ہوا مگر مذاہب اتنی کثرت سے ہیں کہ وہ تحقیق میں مصروف ہوگیا لیکن منزل تک نہ پہنچ سکا تو اب فقط یہ کہ سزا سے بچے گا بلکہ اس کی جدوجہد کا اجر بھی ملے گا۔
اتنا بیان تو اس سوال کی خاطر ہوا۔ اب اسلام کی خصوصیات پر آئیں۔ پہلی خصوصیت یہ کہ اس کا تعلق کسی محدود فرد یا محدودجگہ سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ذاتِ الٰہی سے ہے۔ لامحدود پیغام ہے اور ایسی ذات کی طرف سے ہے جس سے کوئی بیگانگی کا اعلان نہیں کرسکتا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔لہٰذا اس میں صلاحیت خود اس کے نام میں ہمہ گیر ہونے کی ہے۔
دوسری خصوصیت یہ کہ اسلام دین کائنات ہے اور اسلام دین فطرت ہے۔ کوئی الگ سے بار نہیں ہے جو انسان پر عائد ہوتا ہو بلکہ وہی فطرت کا تقاضا جو ہے، اسی کا مطالبہ ہے یعنی جب پیدا ہوا تھا ، جب بھی قانونِ الٰہی کی اطاعت کرتا ہواآیا تھااور اسی کی اطاعت کا نام اسلام ہے۔یہ ایک مفہوم اس حدیث کا ہے۔ کلامِ رسول کی خصوصیت یہ ہے کہ کتنے ہی پہلو اس میں ہوتے ہیں اور کتنے ہی معنی اس میں پیدا ہوتے ہیں۔ ارشادِ رسول ہے:
”کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی فِطْرَة الْاِسْلَامْ اِنَّمَااَبْوَاہُ یُھَوِّدَانِہ اَوْ یُنَصِّرَانِہ اَوْیُمَجِّسَانِہ“۔
ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ یہ ماں باپ ہیں جو اُسے یہودی بنادیتے ہیں یا یہودی رکھتے ہیں یا نصرانی بنادیتے ہیں یا نصرانی رکھتے ہیں اور آتش پرست۔
یہ نام بھی بطورِ مثال ہیں کہ جو کوئی کسی غلط راستے پر قائم ہوتا ہے، سوائے اسلام کے ، وہ درحقیقت ماحول کا دباؤ ہے جیسے یہودیت، نصرانیت بطورِ تمثیل نام ہیں۔ ویسے ہی ماں باپ کا نام بطورتمثیل ہے۔ ماں باپ کے معنی صرف ماں باپ ہی نہیں ہیں بلکہ جو ماحول، جو بزرگ جس کے زیر سایہ اس نے نشوو نما پائی ہو، وہ اس میں مضمر ہیں۔ درحقیقت وہ اسے غلط راستوں پر لگا دیتے ہیں۔ یہ حدیث میں نے پڑھی کہ ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے اور تربیت یا ماحول اُسے غلط راستے پر چلاتا ہے۔ تو جہاں تربیت فطرت سے ہم آہنگ ہو، اس کے متعلق اس سوال کی گنجائش کب ہوگی کہ کب اسلام لایا۔
وہ بچہ جس کے بچپن کی بناء پر سوال ہوتا ہے کہ چونکہ بچہ ہے، لہٰذا اس کے اسلام کی کیا اہمیت ہے۔ مگر اتفاق سے وہ بچپن ہی اس کا جوہر ہے۔ مجھے بھی بچے کو بوڑھا بنانے کا شوق نہیں ہے۔ جو بچہ ہے، وہ تو بچہ ہی ہے لیکن یہ کہ وہ بچہ ایسا ہے کہ پیغمبر کے زیر تربیت ہے۔ اس سے اس کی قدرتِ ادراک بھی نمایاں ہوتی ہے۔یعنی جو مربی عالم بننے والا ہے، اس کے آفتابِ تربیت کی تمام شعائیں اس ایک شخص پر
مرتکز ہیں۔
کس طرح وہ ہر وقت ان کے ساتھ رہتے تھے۔ ہمارے اُردو ادیبوں کے ذہن پر یہ تشبیہ بار ہوسکتی ہے کہ اُردو میں اسے نظم کیا جائے تو وہ خوبصورت شعر نہیں ہوگا۔ لیکن کمالِ تشبیہ کا انحصار ماحول پر ہے۔ عرب کا ماحول، اس میں حضرت علی علیہ السلام ، جن کی فصاحت و بلاغت کیلئے اُدباء کا مقولہ یہ ہے کہ تحت کلام خالق و فوق کلام مخلوق۔خالق کے کلام کے نیچے ہے اور تمام مخلوق کے کلام کے اوپر ہے۔ امیرالموٴمنین یہ تشبیہ ارشاد فرماتے ہیں:
”میں اس طرح پیغمبر کے پیچھے پیچھے رہتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اونٹنی کے پیچھے پیچھے رہتا ہے“۔
اب اس بچپن میں جبکہ ہر وقت مربی پیچھے پیچھے رہتے ہیں، قوتِ ادراک و احساس کیا ہے کہ فرمارہے ہیں:
”کُنْتُ اَرَاُنْوَرنُبُوَّة وَاَشْمُّ رِیْحَ الرِّسَالَۃ“۔
”میں نبوت کی روشنی میں دیکھتا تھا اور رسالت کی خوشبو سونگھتا تھا“۔
کوئی کہے کہ رسالت کی خوشبو ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ قرآن میں پڑھ کر آپ بتائیے کہ کیا قمیصِ یوسف کی کوئی خوشبو تھی؟ جیسی خوشبو ہوتی ہے، ویسا مشام چاہئے۔ پھولوں کی خوشبو جسمانی مشام والے سونگھیں گے اور نبوت کی خوشبو وہ ہے جونبوت کے ہم جنس منصب کا کوئی آدمی سونگھے۔
میں نبوت کی روشنی دیکھ رہا تھا اور رسالت کی خوشبو سونگھ رہا تھا۔ نبی کی خوشبو نہیں کہہ رہے ہیں، رسول کی خوشبو نہیں کہہ رہے ہیں۔ جی نہیں! جو جوہر ان میں ہے، نبوت کی روشنی اور رسالت کی خوشبو۔ تو جو قبل رسالت ، قبل بعثت نبوت کی روشنی دیکھتا اور رسالت کی خوشبو سونگھتا ہو، اس کیلئے پوچھئے گا کہ کب ایمان لایا اور اس نے کب اسلام اختیار کیا۔رسول کی بعثت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ چالیس برس کی عمر میں مامور ہوئے بلکہ چالیس سال کی عمر میں اعلانِ رسالت کا حکم ہوا۔دعوائے رسالت پر مامور ہوئے ورنہ نبی تو پہلے سے تھے۔ میں اس کی روشنی میں کہوں گاکہ تاریخ کی نگاہ مشاہدات کو دیکھتی ہے۔ ایمان کا تعلق غیب سے ہوتا ہے۔
اس لئے تاریخ میں یہ ہے کہ ستائیس رجب کو ۴۰ عام الفیل میں رسول مبعوث بہ رسالت ہوئے۔ یہ تاریخ والی رسالت ہے اور حقیقت کے لحاظ سے رسالت:
”کُنْتُ نَبِیًّاوَاٰدَمُ بَیْنَ الْمَاءِ وَالطِّیْنِ“۔
”میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم کا پتلا آب و گل میں تھا“۔
بس میں کہتا ہوں کہ جس نوعیت کی رسالت ان کی تھی، اس نوعیت کا علی کا ایمان تھااور جس معنی سے یہ آج رسول ہوئے، اس معنی سے یہ آج ایمان لائے۔
فطرت آغازِ عمر انسانی سے جو عمل کرواتی ہے، اس کا نام اسلام ہے۔ بعدمیں الگ سے کوئی بوجھ نہیں پڑنا ہے، کوئی دباؤ نہیں پڑنا ہے۔ جو کام اب تک جبری طورپر کرتے رہے ہو، اب اختیاری طور پر کرو۔ اس کی اطاعت اب تک برابر کررہے تھے مگر اپنے شعورِ ادراک سے نہیں کررہے تھے۔ اب شعوری طور پراپنے اختیار و ادراک کے ساتھ اس کی اطاعت کو۔ اس کے پیغام کو قبول کرو تو اس کا نام آئینی اسلام ہوگا۔وہ حقیقی قدرتی اسلام تھا، یہ اختیاری اپنے عمل کا اسلام ہوگا جو اس وقت سے تم اختیار کرو گے۔اس لئے اُس وقت کی اطاعت کی کوئی جزا نہیں ہوگی۔ اس وقت جو اطاعت کروگے، اس کی تمہیں جزا بھی ملے گی اور جزا کا دینا بھی فضل کرم ہے ورنہ مخالفت میں سزا ہے، موافقت میں جزا کا استحقاق دنیا میں نہیں ہواکرتا۔ یہ اس کا کرم ہے کہ اس نے موافقت میں جزا کا اعلان کیا۔یہاں تک کہ جو گناہوں سے توبہ کرے، توبہ کے معنی یہ ہیں کہ غلط راستے سے صحیح راستے پر آئے ۔ تو یہ نہیں ہے کہ وہ سزا ختم ہوجائے گی جو گناہوں کی تھی بلکہ یہ توبہ کرنا بھی ایک حسنہ ہے، ایک نیکی ہے جس کی جزا ملے گی۔
تیسری خصوصیت اسلام کی یہ ہے کہ اسلام نے انسان کو انسان سے متعارف کروایا۔ یعنی دنیا کے سامنے اس سے پہلے دور دور کی چیزیں تھیں مگر یہ نہ سمجھا تھا کہ انسان کیا چیز ہے۔ انسان شناسی کی منزل دور تھی۔ چونکہ انسان، انسان شناسی کی منزل سے دور تھا، اس لئے خدا شناسی سے دور تھا۔ ایک معنی اس کے یہ ہیں کہ ”مَنْ عَرِفَ نَفْسَہ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہ“، جس نے اپنے کو پہچانا کہ میں کون ہوں۔ وہ اپنے پروردگار کو بھی پہچان لے گا کہ وہ کیا ہے۔ بعض جگہ ہے کہ یہ کلامِ رسول ہے۔ بعض جگہ یہ ہے کہ یہ کلامِ امیرالموٴمنین ہے۔ بعض جگہ بلند حکماء کے نام ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ جملے کے بلند قیمت ہونے کا ثبوت ہے کہ ہر بڑے آدمی پر پورا اترتا ہے۔ جنابِ امیرالموٴمنین کا کلام ہو،تب بھی بالواسطہ رسول کا کلام ہے اور خود رسول کا ہے تو رسول کا ہے ہی۔ بہرحال جو اپنے کو پہچانے کہ میں کون ہوں، اس کے بہت سے رُخ ہیں اور کلامِ رسول کی خصوصیت یہ ہے کہ ایک جملہ ہوتا ہے اور اس میں معنی کے دفتر پنہاں ہوتے ہیں۔
”مَنْ عَرِفَ“، جو اپنے کو پہچانے، اس کو میں اُردوکے الفاظ میں یوں کہوں گا کہ خود شناسی خداشناسی کا ذریعہ ہے۔ یہ کیونکر ہے؟ انسان نے یہ نہ سمجھا کہ انسان کیاہے؟ اس لئے پتھروں کے سامنے جھکا۔ انسان نے یہ نہ جانا کہ انسان کیا ہے، لہٰذا درختوں کے سامنے جھک گیا۔ انسان نے یہ نہ جانا کہ انسان کیا ہے، لہٰذا اپنے جیسے انسانوں کے آگے جھک گیا اور اپنے ایسے انسانوں کے آگے جھکا تو اگر جھکنا ہوتاتو گھر والوں کے سامنے کیوں نہ جھکا؟ اپنے محلے والوں کے سامنے کیوں نہ جھکا، خود اپنے سامنے کیوں نہ جھکا؟ جس انسان کے سامنے جھکا، اگر دولت مند کے سامنے جھکا تو انسان کے سامنے جھکنا نہیں ہے۔ اس دولت کے سامنے جھکنا ہے۔ اگر سلطان کے سامنے جھکا تو وہ انسان کے سامنے جھکنا نہیں ہے، سلطنت کے سامنے جھکنا ہے۔ اس نے کسی صاحب ِقوت کے سامنے جھکنا اختیار کیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی قوتِ بازو کے سامنے جھکا۔وہ انسان کے سامنے جھکنا نہیں ہے اور انسان کے سامنے نہ جھکنے کا نتیجہ ہی ہے کہ انسان مرکز قربانی میں دھوکہ کھانے لگا کہ کس کی راہ میں اپنے آپ کو صرف کرے۔ اس لئے عمر گزاری دولت کے حاصل کرنے میں تو دولت پر جان دینے لگا۔عمر گزاری شہرت حاصل کرنے میں تو شہرت پر جان دینے لگا۔ عمر گزاری کسی منصب کے حاصل کرنے میں تو منصب پر جان دینے لگا۔اصولِ دین میں خدا شناسی کی منزل سے دور ہوا ، انسان ناشناسی سے اور کردار کی منزل میں غلط مصارفِ حیات میں اپنے جوہر کو صرف کرتا رہا۔
یہ بھی انسان کے نہ پہچاننے کا نتیجہ ہے ۔ اگر یہ سمجھتا کہ یہ انسان کیا ہے تو پہاڑوں کے سامنے نہ جھکتا،درختوں کے سامنے نہ جھکتا، حیوانوں کے سامنے نہ جھکتا، صاحب ِقوت، صاحب ِ طاقت، صاحب ِ زر کے سامنے نہ جھکتا۔ پھر ڈھونڈتا اُسے جو اس سے اونچا ہوتا تاکہ اس کے سامنے جھکے اور اپنے سے اونچا سوائے اپنے خالق کے کوئی اور نظر نہ آتا تو چاہے وہ نام نہ لے سکتا مگر اسی کے سامنے جھکتا اور اس کے سوا جو سامنے آتا، اس کے سامنے جھکنے سے انکار کردیتا۔ یاد رکھئے غیروں کا انکار، یہ بھی مرکز توحید ہے ورنہ کلمے کی ابتداء نفی سے نہ ہوتی، مثبت
سے ہوتی۔
اس لئے صرف انسان کو پہچاننے سے چاہے نام کے ساتھ اللہ تک نہ پہنچتا مگر لااِلٰہ کی منزل کو تو طے کرہی لیتا۔ اگر اِلَّا کہہ کرچاہے چپ ہوجاتا مگر زبانِ بیان چپ ہوتی، دل کی آواز چپ نہ ہوتی۔دل اسی کی طرف مڑتا جواِن سب سے بالا تر ہو اور وہ اللہ ہے اور اس کو ماننا کوئی کام کا محتاج نہیں ہے۔ ضمیر کسی کا نام نہیں ہوتا۔ وہ کہوں تو قبل میں جب تک ذکر نہ ہو تو پتہ نہیں چلے گا کہ ”وہ“ کون ہے۔لیکن صرف اللہ وہ ہے کہ جس کے ناموں میں”ھُوَ“ہے یا:
”ھُوَیَامَنْ لَا یُعْرِفُ اِلَّاھُوَ۔یَامَنْ لَا یَعْلَمُ مَنْ ھُوَ اِلَّاھُوَ“۔
اے وہ۔ یہ ان کیلئے ہے جو نام نہ لے سکتے ہوں۔ صرف اشارئہ ذہنی کرسکتے ہوں۔اب یہاں ایک جملے میں شروع والے سائل کا جواب کہ مَیں کہتا ہوں کہ اسلام کا نام اس بیچارے تک نہیں پہنچا، اس لئے اللہ اسے نہ آیا۔ لیکن ”وہ“ کا اشارہ تو اندر سے بلند ہوگا تو ”وہ“ کو مانا اور مسلم ہوا:
”وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَالْاِسْلَامِ دِیْنًافَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ“۔
”جو اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرے گا تو وہ قبول نہیں ہوگا“۔
اگر اپنے کو جان لیتا کہ میں کون ہوں تو منزلِ توحید تک پہنچ جاتا اور اگر اپنے کو جان لیتا کہ میں کیا ہوں تو مقصد ِقربانی میں غلطی نہ کرتا۔ ہر چیز اپنے سے بالاتر کی خاطر قربان ہوتی ہے۔ زروجواہر کی خاطر اس نے جان دی تو زروجواہر کیا ہیں؟ پتھروں کاذخیرہ۔ اصل دولت سونا ہے اور سونا جمادات میں داخل ہے۔ یہ رنگساز کی بات ہے کہ سرخ رنگت اسے دی ہے تو اس کا نام سونا ہوگیا۔ مگر حقیقت کے لحاظ سے جو ٹھوکروں میں آنے والے پتھر ہیں، وہی سونا ، وہی چاندی، وہی لعل و جواہر ہیں۔ حقیقت کے لحاظ سے جمادات ہیں۔ تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر دولت کی خاطر جان دی تو اپنے سے تین زینے اُتر کر قربانی پیش کی۔تو اگر شہرت کی خاطر جان دی تو شہرت ہے بے اصل چیز۔ وہ کوئی اصلیت رکھتی ہی نہیں۔ اور اگر عہدہ کی خاطر جان دی تو عہدہ امر اعتباری ہے۔ امر اعتباری کا مطلب یہ ہے کہ جب تک لوگ سمجھ رہے ہیں اور سمجھنا چھوڑ دیا تو نہ رہا۔مثلاً ممبر ہے، منبر نہیں۔ یہ منبر وجودِاصلی رکھتا ہے اور وہ ممبر وجودِ اختیاری رکھتا ہے۔ جب تک سمجھ رہے ہیں ممبر ہے اور جب سے سمجھنا چھوڑ دیا، تب سے آدمی رہ گیا،ممبر نہ رہا۔جب سمجھ رہے ہیں چےئر مین ہے، جب سے لوگوں نے سمجھنا چھوڑ دیا، آدمی رہ گیا، چےئر مین نہ رہا۔
اور حضورِ والا!وزیر ہے، جب تک سمجھا گیا کہ وزیر ہے،جب سے سمجھنا ختم ہو گیا، اس وقت سے وزیر نہ رہا۔ کوئی کہیں کا صدر ہے، جب تک لوگ سمجھ رہے تھے ، تب تک قرار داد تھی، اس وقت تک صدر رہا اور جس وقت سے قرارداد بدل گئی، اس وقت سے صدارت ختم ہوگئی، آدمی رہ گیا اور صدر نہ رہا۔
سرکارِ والا! عہدہ چلاگیا تو پھر آدمی رہ گیا، عہدہ نہ رہا۔یہ اس وقت ہے جب عہدہ ملنے کے بعد آدمی رہا ہو۔ اگر عہدہ ملتے ہی آدمی کو رخصت کردیا ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جب عہدہ گیا تو نہ عہدہ رہا، نہ آدمی رہا۔ بس آدمی کا مجسمہ رہ گیا اور کچھ نہ رہا۔سرکار! مرکز قربانی کا غلط استعمال انسان ناشناسی کا نتیجہ ہے۔ اگر سمجھتا کہ انسان کیا چیز ہے تو مرکز قربانی اسی کو بناتا جو اس سے بالا تر ہوتا اور اس سے بالاتر سوائے خالق کائنات کے کوئی چیز نہیں ہے۔ لہٰذا اسی کی راہ میں قربانی پیش کرتا۔ اسی لئے قرآن مجید نے کہیں نہیں کہاکہ جو قتل ہوئے ہیں، انہیں زندئہ جاوید سمجھو۔ ہرجگہ کہا:
”اَلَّذِیْنَ قُتِلُوْافِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ“۔
جو قتل ہوئے اللہ کی راہ میں۔ قتل ہونا آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے ، اللہ کی راہ آنکھوں سے نہیں دیکھی جاسکتی۔بسمل کا تڑپتا لاشہ دیکھا جاسکتا ہے،جسم پر زخموں کے نشان دیکھے جاسکتے ہیں، سر کو قلم دیکھا جاسکتا ہے، بہتا ہوا خون دیکھا جاسکتا ہے مگر کس راہ میں ہے، یہ آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ اسی لئے ضرورت ہے کہ جب آدمی جان دے تو کسی ایسے کی اجازت سے دے کہ حد ِامکان تک ضمانت ہو کہ یہ جان اکارت نہیں جائے گی، سوارت ہوگی۔ اسی لئے شریعت ِحقہ میں جہاد مشروط ہوگیا۔ یا امام ہو یا نائب ِ امام ہو، ان کی اجازت جب تک نہ ہو، اس وقت تک جنگ ہوگی، جہاد نہیں ہوسکتا۔کوئی ضمانت تو ہو کہ ہمارا خون رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ کسی محفوظ ذخیرے میں جارہا ہے۔ جب اس طرح جائے تو جان گئی، نہیں رہی،حیاتِ فانی بدل گئی، حیاتِ باقی کے ساتھ اور یہ عمل مجازی نہیں ہے۔
ہرگز نمیرد انکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما
یہ وہ شاعرانہ زندگی نہیں ہے بلکہ یہ وہ زندگی ہے کہ آثارِ زندگی قرآن نے مرتب کئے ہیں۔اگر فقط اتنا ہوتا :
”لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْافِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَاءٌ“۔
”وہ جو راہِ خدا میں قتل ہوئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ زندہ ہیں“۔
کوئی کہتا یہ وہی حیاتِ جاوداتنی ہے جو کارناموں کے ساتھ ہوتی ہے۔ راہِ خدا میں جان دی تو حیاتِ جاودانی تو بے شک حاصل کی، ہمیشہ ان کا ذکر رہے گا، ہمیشہ ان کی یاد قائم رہے گی۔ یہ حیاتِ جاودانی بھی زندگی ہے مگر قرآن فقط اس زندگی کو نہیں کہہ رہا ہے جو مجازی زندگی ہے، وہ آثارِ زندگی مرتب کررہا ہے۔ کہتا ہے :
”اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ“۔
وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے ہاں رزق حاصل کرتے ہیں۔ اپنے پروردگار کے ہاں روزی حاصل کرتے ہیں۔ اب کھانا اور رزق تو زندہ سے متعلق ہے جو ویسی زندگی رکھتا ہو۔ اور اتنا ہی نہیں کہ وہ غذا حاصل کرتے ہیں، رزق حاصل کرتے ہیں:
”فَرِحِیْنَ بِمَااٰتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہ“۔
وہ خوش ہوتے ہیں اللہ کے اس فضل و کرم پر جو انہیں ملتا ہے۔
یہ احساسِ شعورِ زندگی جو خوشی اور انبساط کی صورت میں ہے، یہ دوسرا اثر زندگی ہے اور اتنا ہی نہیں کہ اپنے پس ماندگان سے بے خبر ہوجاتے ہیں بلکہ”فَرِحِیْنَ بِمَااٰتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہ“۔ یہ روایت نہیں ہے جو ضعیف اور قوی کا خیال ہو۔ یہ قرآن کی آیت پڑھ رہا ہوں۔ اس کا صرف ترجمہ کررہا ہوں، تبصرہ بھی نہیں ہے۔
میں کہتا ہوں کہ خوش ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں نعمتیں عطا کی ہیں۔ یہ تو جو نعمتیں ان کو عطا ہوئی ہیں، اس پر خوش ہیں۔ اس کا ذکر ہے اس اپنے شعورِ حال کا ذکر ہے، لیکن اس کے بعد:
”وَیَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْابِھِمْ“۔
اور یہ حالات دیکھ کر جو ان کے بعد دنیا میں رہ گئے ہیں، جو پس ماندگان ہیں ،ا ن کے حالات دیکھ کر اگر وہ قابل شکریہ ہیں تو وہ خوش ہوتے ہیں”یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْابِھِمْ“، اور ان کے حالات کو دیکھ کر جو ان کے بعد دنیا میں رہ گئے ہیں، پس ماندگان ہیں۔ان تک نہیں پہنچے یعنی دارِ دنیا میں زندہ ہیں ، انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ نہ ان کو خوف ہے ، نہ کوئی صدمہ ہے۔ یعنی بہ اطمینان زندگی ان کی بسر ہورہی ہے۔ وہ شہید کہیں ہوئے ہیں اور یہ پس ماندگان کہیں پر ہوں لیکن روایت نہیں، آیت کہہ رہی ہے کہ وہ ان کے حالات کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ تو یہ شہید ہیں، انہیں قرآن نے حاضر و ناظر نہیں کہا تو اور کیا کہا ہے؟ اگر وہ دیکھتے نہیں ہیں تو خوش کیسے ہوتے ہیں؟
اس کے معنی یہ ہیں کہ جو جہاں پس ماندگان میں سے ان کے ہے، ممکن ہے ایک کہیں ہو، دوسرا کہیں اور ہو۔ ایک کسی ملک میں ہو، دوسرا کسی اور ملک میں ہو۔ مگر ان سب کے حالات سے تعلق رکھتے ہیں، دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے حالات کا مشاہدہ کرتے ہیں ، اس سے متاثر ہوتے ہیں، خوش ہوتے ہیں۔
جنابِ والا! یہ شہید کیلئے قرآن کہہ رہا ہے تو رسول کے بارے میں یہ بحث کیسی کہ وہ حاضر و ناظر ہیں یا نہیں؟اسی سے حیات النبی کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔غیروں میں کتابیں لکھی جاتی تھیں۔ ایک حیات النبی ثابت کررہا ہے اور ایک حیات النبی کا انکار کررہا ہے۔ اس پر مناظرے ہوا کرتے تھے۔ اس سب کو ہم باہر سے تماشائی کے طور پر دیکھا کرتے تھے کیونکہ ہمارے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ہمارے اندر کوئی محاذ نہیں تھا۔ دوسروں کے حالات کو ہم دیکھتے تھے کہ ایک حیات النبی پر دلائل پیش کررہا ہے اور ایک حیات النبی کے خلاف دلائل پیش کررہا ہے۔ ہم چونکہ حیات النبی والوں کے ساتھ ہیں، اس بناء پر میں حیات النبی کے مسئلہ کو اسی سے طے کیا کرتا تھا کہ شہداء کیلئے قرآن نے کہا ہے۔
بنص قرآن جو حیات النبی کے منکر ہیں، وہ بھی حیات الشہداء کے قائل ہیں۔ تو شہداء کی زندگی کے وہ بھی قائل ہیں۔میں کہتا ہوں کہ شہداء کی زندگی کے آپ سب قائل ہیں۔ شہادت ہے کیا چیز؟ یاد رکھئے کہ شہادت ان کی ایک تعلیم پر عمل کرنے کا نام ہے۔ قرآن کے دباؤ سے شہید کی زندگی پر آپ مجبورہیں اور جس کے گھر سے زندگیِ جاوید کی بھیک بٹ رہی ہو، اس کو کہاجائے کہ زندہ ہے تو آپ کہیں کہ کوئی ثبوت اس کا نہیں ہے۔اسی طرح سے یہاں بھی کہتا ہوں کہ شہداء کیلئے قرآن سے ثابت ہے کہ جہاں جہاں اس کا عزیزہو، اس کے حالات پر وہ نگران ہے ، اس کا نام حاضرو ناظر ہے یا نہیں؟جب حاضر و ناظراس کا نام ہے تو شہید کیلئے یہ کہا گیا تو جو شہید ساز ہو، اس کے بارے میں یہ تصور، یہ بحث کیسی۔ ہاں! نہ وہ زندگیِ جاوید اپنی طرف سے ہے، نہ یہ حاضر و ناظر ہونا اپنی طرف سے ہے۔ اللہ کا دیا ہوا ہے، خدا کا عطاکردہ ہے۔ بس یاد رکھئے کہ ہر کمال کو کہہ دیا کہ ان کا ہے ،ذاتی طور پر خدا سے بے نیاز ہوکر تو شرک ہے۔ جب خدا کی طرف سے مان لیجئے تو عین توحید ہے۔
جب خدا کی راہ میں جان دی جائے تو تہذیب ِ جہاد ہوگئی کہ امام سے اذن لیا جائے اور تہذیب اس لئے کہہ رہا ہوں کہ سب اس مقصد سے جمع ہیں۔ اسی مقصد سے آئے ہیں مگر یہ کہ جب کوئی آگے بڑھتا ہے تو اجازت لے کر بڑھتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ قرائن والی اجازت نہیں بلکہ باضابطہ اجازت کی ضرورت ہے اور اسے کیسے کیسے سخت مواقع پر نبھایا ہے کہ نابالغ بچہ ہے شہزادہ قاسم ۔ چونکہ ہر جہاد میں اب تک بچے الگ رکھے گئے تھے، بدر میں، اُحد میں، خندق میں ،خیبر میں، حالاتِ صحابہ میں کچھ صحابہ کے ذکر میں ملتا ہے کہ یہ جانا چاہتے تھے اُحد میں اور رسول نے کم عمر کہہ کر واپس کردیا کہ ابھی ان کی عمر اتنی نہیں ہے۔
ایک صحابی زادہ کا حال بہت پُر مزاح ہے جو خود انہوں نے بعد میں بیان کیا کہ فلاں جہاد میں جو لوگ کھڑے ہوئے اور رسول گویا معائنہ کررہے تھے بھیجنے سے پہلے ، تو کہتے ہیں کہ میں تڑپ رہا تھا کہ جہاد میں جاؤں۔ میں رسول کے سامنے گیا تو اپنی انگلیوں پر زور دے کر کھڑا ہورہا تھا کہ میرا قد جتنا ہے، اس سے زیادہ نظر آئے تاکہ رسول یہ نہ فرمائیں کہ یہ کم عمر ہے۔ رسول کو بھی اس کی تڑپ محسوس ہوئی۔ آپ نے اس کے کھڑے ہونے کا طریقہ دیکھا۔ آپ نے گویا استثناء کے طور پر ایک سنِ بلوغ کی حد تک پہنچے ہوئے ایک فرد سے کشتی لڑنے کیلئے کہا کہ میں تمہارا جذبہ و بیقراری دیکھ رہا ہوں، شوقِ شہادت دیکھ رہا ہوں۔ یہ بالغ ہے ، اس سے کشتی لڑو، اگراس کو تم نے پٹخ دیا تو میں تم کو اجازت دے دوں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں رسول کے سامنے اس سے کشتی لڑا۔
دیکھئے! علماء کو شوق ہو کشتی کا تو شانِ مولویت کے خلاف سمجھا جائے اور یہ رسول ہیں جو اپنے سامنے کشتی لڑوارہے ہیں۔ گویا ذوقِ جہاد کا امتحان بھی ہے اور طاقت و قوت کا اندازہ بھی ہے اور دوسرے بچوں کے شکایت کرنے کا سد ِ باب بھی ہے۔غرضیکہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے سے بڑے کو مغلوب کردیا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ اچھا! میں تمہیں اجازت دیتا ہوں۔
اس سے یہ ثابت کرنا مقصود تھا کہ روایت ِ اسلام تھی کہ بچوں کو جہاد میں شریک نہیں سمجھا جاتا۔ مجھے یہ روایت معلوم ہے، جس گھرکا یہ بچہ ہے اور جس گھر کی یہ روایت ہے، اس بچے کو سب کچھ معلوم تھا۔ ظاہر ہے خاندانِ رسالت میں کربلا کے دن کا چرچا تو رہتا ہی تھا۔ تو نہ جانے کب کب شہزادے نے سوچا ہے کہ کہیں میری کمسنی سنگ ِ راہ نہ ہوجائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری کمسنی باعث ِبد نصیبی ہو جائے۔
جنابِ شہزادہ قاسم کے بارے میں باقی روایات ہماری کتاب ”روایاتِ عزا“ میں ملاحظہ فرمائیں۔