معراج خطابت
 
اسلام اور ادیانِ عالم۱
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَالْاِسْلَامِ دِیْنًافَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَفِی الْاٰخِرَة مِنَ الخَاسِرِیْنَ“۔
جو اسلام کے علاوہ کوئی دین اختیار کرے، وہ ہرگز قبو ل نہیں ہوگا اور وہ آخر ت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ خصوصیاتِ اسلام میں سے پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا تعلق کسی شخص یا جگہ سے نہیں ہے بلکہ خالق کائنات سے تعلق ہے۔ اس لئے اس کے نام میں بھی ہمہ گیری ہے اور کام میں بھی ہمہ گیری ہے۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ دین کائنات ہے، دین فطرت ہے۔ فطرت کے علاوہ کوئی بار انسان پر ڈالنا مقصود نہیں ہے۔ جو کچھ وہ فطری طور پر، غیر اختیاری طور پر کررہا ہے، اسی کو اختیاری طور پر کرنے کا مطالبہ ہے۔ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ انسان کو اسلام نے انسانیت شناسی کا تحفہ دیا۔ اسلام سے الگ ہٹ کر دنیا نے پہچانا ہی نہیں تھا کہ انسان کیا چیز ہے۔اس کے نہ پہچاننے کی وجہ سے وہ طرح طرح کی گمراہیوں میں مبتلا ہوا۔ عقیدہ کے اعتبار سے بھی اور عمل کے اعتبار سے بھی، ابتداء میں بھی ، انتہا میں بھی۔یعنی پرستش کا مرکز بھی پست قرار دیا اور قربانی کا مرکز بھی پست قرار دیا۔ یہ سب انسان ناشناسی کا نتیجہ تھا۔ انسان نے انسانیت کو بہت پست سمجھا اور انسان ہونااپنے لئے گویا بڑی ذلیل بات سمجھا۔ لہٰذا انبیاء و مرسلین کیلئے یہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ایک انسان کیونکر نبی اور رسول ہوسکتا ہے؟ قرآن مجید کا ہم شروع سے آخر تک مطالعہ کرتے ہیں تو کفار اور مشرکین کا سب سے بڑا استدلال انبیاء کے مقابلہ میں یہ رہا کہ آپ بشر ہیں تو ہم کیونکر مانیں کہ آپ نبی اور رسول ہیں۔ اسی کو وہ طرح طرح سے کہتے تھے۔ کبھی کہتے تھے:
”مَاھٰذَااِلَّا بَشَرٌ مِثْلَکُمْ یَاکُلُ مِمَّاتَاکُلُوْنَ وَیَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ“۔
اس کو کیونکر مانیں ، یہ تو تمہارا ایسا ایک آدمی ہے، جو غذائیں تم کھاتے ہو، وہ یہ بھی کھاتا ہے ، جو پانی تم پیتے ہو، جس طرح پیتے ہو، اسی طرح وہی پانی بھی پیتا ہے۔ اس میں کیا خاص بات ہے جو اسے مانیں؟ کہیں کہ کہتے تھے:
”وَقَالُوْامَالِھٰذَاالرَّسُوْلِ یَاکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَ سْوَاقِ“۔
ارے یہ رسول کیسا ہے جو کھانا کھاتا ہے اور ہماری طرح سڑکوں پر بازاروں میں پھرتا ہے۔
کہیں یوں کہا، جب موسیٰ و ہارون آئے تو:
”فَقَالُوْااَنُوٴْمِنُ لِلْبَشَرَیْنِ مِثْلَنَاوَقَوْمَھُمَالَنَاعَابِدُوْنَ“۔
ارے ہم دو ایسے بشروں کو ، ایسے انسانوں کو مان لیں جو ہماری طرح کے بشر ہیں اور ان کی قوم تو ہمارے سامنے عبادت گزار ہے ارو وہ ہمارے سامنے نبی ہوکر، رسول ہوکر آئے ہیں۔
اسی طرح قبیلہ ثمودو عاد کی آوازیں ہیں:
”وَلَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًامِثْلَکُمْ اِنَّکُمْ اِذًالَّخٰسِرُوْنَ“۔
بھلا اس کی طرف خدا کی طرف سے کوئی پیغام آیا ہے اور اگر ہم ایک بشر کو مان لیں گے تو یہ بڑی گمراہی ہے ہماری کہ ایک بشر کو مان لیں۔
گویا ان کیلئے قبولِ حق میں بہت بڑی رکاوٹ تھی کہ ہم بشر کو کیونکر نبی اور رسول مان لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مقامِ بشریت کو اپنی سطح پر لاکر انہوں نے پست بنایا تھا کیونکہ خود انتہائی پستی میں گرفتار تھے۔ اس لئے سمجھے کہ بشر اتنا ہی پست ہوتا ہے۔ لہٰذا بشر میں بلندی کا تصور کرہی نہیں سکتے تھے۔ لہٰذا گمراہی کاسرچشمہ بشر ناشناسی تھی۔ صرف انسان کی منزل کو نہ پہچاننا کہ انسان کیا ہے؟لہٰذا انسان کو وہ بس اپنے جیسا سمجھتے تھے۔ اُن انسانوں کو دیکھ کر اپنے کو ان جیسا بنانے کی ہمت نہیں تھی۔ طرح طرح سے ہر پارے میں بعض جگہ تابڑ توڑ مسلسل سورتوں میں آپ کو یہ آوازیں ملیں گی۔ میں نے تو چند آیات پڑھ دی ہیں، وہ سب اکٹھی کی جائیں تو کافی تعداد میں ہوں گی کہ ہر دفعہ وہ یہی کہتے تھے کہ یہ کیا بات ہوئی!بہت آسان تھا ان کا جواب۔
اگر کسی رسول کی زبان سے کہلوایا جاتا اور جب ایک رسول کی زبان سے یہ کہلوایا جاتا تو ہر رسول یہی کہتا کہ بھئی ! یہ تمہاری نظر کا دھوکہ ہے کہ ہمیں بشر یا انسان سمجھ رہے ہو۔ ہم لباسِ بشری میں آئے ہیں، واقعتا بشر نہیں ہیں۔ تو اس طرح منکرین کی زبان بندی ہوجاتی اور پھر ان کے اعتراض کی کاٹ ہوجاتی۔ مگر خالق نے ایک دفعہ بھی کسی رسول کی زبانی یہ آسان طریقہ ان کی زبان بندی کا اختیار نہیں کیا بلکہ جو ان کے دل میں خلش تھی کہ یہ انسان ہیں، نبی کیونکر ہوسکتے ہیں، دور کرنے کی بجائے صرف انبیاء کی کوشش یہ تھی کہ جو ان کے ذہن میں نبوت اور انسانیت میں تضا دہے، اس کو ختم کیا جائے۔
رسولوں کی وکالت میں مَیں مناظر ہوتا تو فن مناظرہ کے لحاظ سے یہ قاطع جواب تھا، ان کی زبان بندی کرنے کیلئے کافی تھا کہ کہا جائے کہ یہ تم سے کس نے کہاکہ یہ بشر ہیں؟ کون کہتا ہے کہ یہ حقیقت میں انسان ہیں؟یہ انسان نہیں ہیں ، یہ مصلحتاً انسان بن کر تمہارے سامنے آئے ہیں ۔ اب دوسرے رُخ سے میں کہتا ہوں کہ جب یہی چیز ان کیلئے رکاوٹ تھی تو انسان کے لباس میں بھیجنے سے مصلحت کہاں ہوئی؟ مصلحت تو اس میں ہوتی ہے جس میں اچھا اثر پڑے اور جو اور مشکل بنا دے، اس سے کیا فائدہ؟ تو کسی نبی کی زبان سے آسان طریقہ اختیار نہیں کیا جاتا کہ یہ کہا جائے کہ یہ واقعتا آدمی نہیں ہیں، یہ واقعتا انسان نہیں ہیں، یہ دراصل کچھ اور ہیں۔ بس لباسِ انسانی میں تمہیں سدھانے کیلئے آئے ہیں۔
آخر انبیاء کی زبانوں کو قدرت کی طرف سے کیوں خاموش کر دیا گیاکہ یہ جواب نہ دو؟ یہ ان سے نہ کہو؟ نہیں، ان کے حلق سے یہی اُتارو کہ بشر ہیں اور پھر نبی بھی ہیں۔انسان ہیں اور پھر رسول ہیں کیونکہ اگر یہ کہہ دیا جاتا کہ یہ حقیقتاً انسان نہیں ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کی غلط فہمی جو مقامِ انسانیت کی پستی کے متعلق تھی، وہ تو قائم ہی رہتی اور یہ قدرت کے مقصد کے خلاف تھا کہ اپنے شاہکارِ عظیم کی توہین ہورہی ہے اور اُسے وہ برداشت کرے۔لہٰذا اس نے اپنی مہم یہ بنا لی۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ نبی اور رسول کیونکر ہوسکتے ہیں جبکہ بشر ہیں اور بشر کے ساتھ بھی وہ یہی کہتے تھے کہ ہمارا ایسا بشر۔ ان کے جواب میں یہ بجائے اس کے کہ نفی کریں ،و ہی کہتے ہیں کہ میں تو بس تمہارا جیسا بشر ہوں مگر مجھ پر وحی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بشر وہ نہ سمجھو جس پر وحی نہ ہوسکتی ہو بلکہ تصور کرو کہ بشر ہوسکتا ہے جس پر وحی ہوتی ہے۔
میں نے کہا کہ ایک سرچشمہ ان کی گمراہی کا یہ تھا کہ بشر اور انسان اتنا ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کو رسالت ملے، اس کو نبوت ملے یا عام نبوت اور رسالت سے بالاتر درجہ ہمارے تصور میں ہے ، دنیا کے تصور میں نہیں ہے یعنی امامت ملے۔ بشریت تو بہت نیچی سطح ہے۔ بیچارہ بشر نبی کہاں ہوسکتا ہے؟ رسول کہاں ہوسکتا ہے؟ امام کہاں ہوسکتا ہے؟ لہٰذا اس بنیادی غلطی کی وجہ سے انہوں نے رسالت کا انکار کیا۔ اب اگر ہم یہ کہہ دیں کہ نہیں، بشر نہیں تھے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس گمراہی میں ہم ان کے ساتھ شریک ہیں۔ وہ بات کہ بشریت اور رسالت اور امامت ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں، اس غلط بنیاد کی وجہ سے انہوں نے رسالت کا انکار کیا۔ ہم بشریت کا انکار کررہے ہیں تو دنیاوی گمراہی میں ، تو ہم ان کے ساتھ شریک ہوگئے۔ اسلام کابڑا تحفہ دنیا کیلئے یہ ہے کہ اگر اس کا انکار کریں تو بڑا جوہر انسانیت گم ہوجائے گا ۔
میں کہتا ہوں کہ اسلام کا ایک بہت بڑا امتیاز گم ہوجائے گا اگر اس کے اس تحفہ کی قدر نہ کریں کہ اس نے انسان کی بلندی سمجھائی ، اس نے انسان کو سمجھایا کہ وہ کیا ہے اور جب سمجھے گا کہ کیا ہے توسمجھے گا کہ اُسے کیا ہونا چاہئے۔
اس کیلئے طرح طرح سے ، مختلف طریقوں سے اس نے انسان کی اہمیت انسان کو سمجھائی۔ کبھی یوں کہا:
”لَقَدْ خَلَقْنَاالْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْم“۔
”ہم نے انسان کو بہترین نقطہ اعتدال پر بہترین درستگی پر پیدا کیا“۔
ہر زبان والے جانتے ہیں کہ ابتدائی تعلیم میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ اچھے اور بُرے کے دو تین درجے ہیں۔ ایک اچھا اور ایک کسی سے اچھا اور ایک سب سے اچھا۔ ایک برا، ایک کسی سے برا اور ایک سب سے برا۔ یہ ابتدائی تعلیم میں سکھایا جاتا ہے ۔ ملاحظہ کیجئے کہ خالق نے تیسرا درجہ صرف کیا ہے یعنی انسان کو یہ نہیں کہا کہ وہ اچھا ہے، دوسرا درجہ بھی نہیں کہا کہ کس سے اچھا ہے، کس سے اچھا ہے، نہیں ہے، تیسرا درجہ بہترین کاریگری۔ یعنی جو اس کے ہم کہتے ہیں، اللہ اکبر۔سب سے بڑا۔ یہ اس کیلئے کہا۔ اس نے کہا کہ سب سے اچھا۔
مجھے تفصیل سے عرض نہیں کرنا ہے ، مجملاً عرض کرنا ہے ، غور کیجئے جو عرض کررہا ہوں کہ اس نے کہا ہے انسان کو کہ انسان بہترین اور بہترین کے آگے میں نے کہا کہ کوئی درجہ نہیں ہے ۔ جس طرح اللہ اکبر میں اب عظمت سے استثنیٰ کسی کا نہیں ہوسکتا۔کوئی مخلوق اس دائرہ میں مستثنیٰ نہیں ہوسکتی”فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْم“، بہترین نقطہ پر۔ کچھ نہ کچھ منطق ہر ایک جانتا ہے۔ ایک کُلی ہوتا ہے اور ایک فرد ہوتا ہے۔ جیسے یہ آدمی۔ تو فرد انسان ہے اور خود انسان ایک کُلی ہے جس کے تحت یہ ہے۔ اس کو جُزی کہتے ہیں۔جو شخص ہوتا ہے، وہ نوع یا جنس ہوتی ہے۔ اب خالق کہہ رہا ہے کہ انسان درستگی کے بہترین نقطہ پر ہے۔ ا س نے کہا ہے ، خالق نے، مخلوقات کا جائزہ لے کر او رجائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب خلق کیا ہے تو جائزہ لئے ہوئے ہے یعنی ہم نے پیدا کیا اس نقطہ پر۔ ہوا نہیں ہے یہ اس نقطہ پر بلکہ پید اہی کیا گیا ہے۔خلق کیا گیا ہے بہترین نقطہ پر۔
تو حضورِ والا!جب خالق اُس کُلّی کو بہترین کُلّی کہہ رہا ہے، بہترین کہہ رہا ہے تو جو فرد کائنات کا بہترین ہو، اس کو اسی کے تحت میں داخل ہونا چاہئے۔اس نے تو اس کُلّی کو بہترین کہا اور مجھے معلوم ہیں وہ افراد کو بہترین ہیں اور وہ افراد جو بہترین ہیں، وہی مقصودِ کائنات ہیں۔ وہی حاصلِ کائنات ہیں۔تو جو حاصلِ کائنات افراد ہیں، انہیں ا س نوع میں درج ہونا چاہئے جس کا نام ہے انسان!
میں کہتا ہوں کہ یہ انہی کا صدقہ ہے جو اس کو احسن ہونے کی سند ملی ہے ورنہ کیا ان آدمیوں کے لحاظ سے یہ سند ملی ہے جوکیڑوں مکوڑوں سے بدتر ہیں۔ چونکہ وہ افراد اس کے اندر ہیں، اسی لئے اس کو سند ملی ہے۔دوسری جگہ کہا:آسمان پیدا کردیا، زمین پیدا کردی ، سورج پیدا کردیا، چاند پیدا کردیا۔ سب ایک ایک جملے ہیں۔ انسان کی خلقت کا جزو اکیلا بیان کیا کہ اس کو یوں بنایا، یوں بنایا:
”وَلَقَدْ خَلَقْنَاالْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِنْ طِیْنٍ ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍمَکِیْن۔ثُمَّ خَلَقْنَاالنُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَاالْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَاالْمُضْغَةَ عِظٰمًافَکَسَوْنَاالْعِظَامَ لَحْمًاثُمَّ اَنْشَانٰہُ خَلْقًااٰخَرَفَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْن“۔
ارشاد فرمایا: ہم نے شروع میں تو مٹی سے پیدا کیا، وہ حضرت آدم ابوالبشر تھے جو الگ طرز پر پیدا ہوئے اور ا س کے بعد ہم نے انسان کو یوں پیدا کیا کہ نطفہ، پھر علقہ ، پھرمُضْغہ ہے۔ حضور! اس کا کام کوئی تشریح الاجزاء ہے؟ اس کا کام کوئی طبی تحقیقات ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ اس کو اپنی اس مخلوق پر اتنا ناز ہے کہ اس کے تذکرہ میں گویا کہنے والے کو لذت محسوس ہورہی ہے۔
یہ کیا اور یہ کیا، اس طرح بنایا اور اس طرح بنایا اور نطفہ تھا اور علقہ تھا۔ یہ سب ہم سمجھ لیتے، ڈاکٹر ہوکر یا بغیر ڈاکٹر ہوئے۔ یہ سب وہ بیان کررہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ خالق کی نظر توجہ اس مخلوق کی طرف خاص ہے کہ اس کے ذکر کو وہ طول دے رہا ہے اور اب سب منزلیں طے کر لیں۔ کسی طبیب کو اپنے کسی نسخہ پر ناز ہوتا ہے تو وہ اس کے اجزاء اکثر صیغہ راز میں رکھتا ہے، بتایا نہیں کرتا مگر خالق کو اپنی تخلیق پر ناز ہے کہ سب اجزاء بتا رہا ہے کہ اب سب بتا دیا ہے ، بنا سکو تو بنالو۔
نسخہ تو میں نے پورابتا دیا ہے۔ یوں ہوا، یوں ہوا اور ترکیب ِ اجزا بھی بتا دی کہ پہلے یہ بات تھی ، اس کے بعد یہ ہوا اور یہ ہوا۔نسخے کی سب ترکیب بتا دی۔مگر یہاں تک تو بتا دیا ، اب آخر میں جاکر کچھ تھا جو پردہ میں رکھ دیاکہ وہ غلاف بھی چڑھ گیا اور گوشت پوست بھی ہوگیا، سب کچھ ہوگیا۔
”ثُمَّ اَنْشَانٰہُ خَلْقًااٰخَرْ“۔
جیسے لفظوں نے ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ اب ہم نے کچھ اور بنادیا ۔ اب یہ کچھ اور جو بنایا ، یہ صیغہ راز میں رکھا۔ یہ کچھ اورکا، آخر کا ایک ایسا ارادہ تھا کہ ارادہ ایک تھا مگر آنکھوں میں نور آیا، پردئہ گوش میں سماعت آئی، زبان میں ذائقہ کی طاقت آئی، شامہ میں احساسِ قوت آئی۔ یہیں سے مادیت نے ہتھیار ڈال دئیے ۔ جو مادّی سبب ہوسکتا ہے، اس کے نتیجہ میں نیرنگی نہیں ہوسکتی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایک جسم ہے مگر جہاں وہ چاہتا ہے، وہاں بصارت رکھتا ہے، جہاں وہ چاہتا ہے، سماعت رکھتا ہے، جہاں وہ چاہتا ہے، ذائقہ رکھتا ہے۔یہ تقسیم رزقِ وجود بہ اعتبارِ حکمت و مصلحت ہورہی ہے۔ یہ حکیم علی الاطلاق ہی کام ہے، کسی اور کا نہیں۔
اب یہاں پر پہنچا کہ”اَنْشَانٰہُ خَلْقًااٰخَرْ“، پھر ہم نے اس کو کچھ اور ہی بنادیا ۔ اور کیا بتاؤں کہ کہنے والا جسم و جسمانیات سے بری ہے مگر یہ مصیبت ہے کہ الفاظ تو جسمانیات کیلئے ہیں۔ اب وہاں کسی حقیقت کا ادا کرنا ہوتو الفاظ کہاں سے آئیں؟ ارے پورا یہ کیا ، یہ کیا اور یہ کیا۔ اب محسوس ہوتا ہے جیسے صفت کا بنانے والا صناع اس تذکرہ سے جھوم گیا، اس نے کہا:
”فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْن“۔
ارے کیا کہنا اُس اللہ کا جو بہترین خالق ہے۔
اب خلقت ِ انسان پر اپنے کو احسن الخالقین کہا۔ دور کی بات ہے مگر اب یہاں ذکرآگیا ہے کہ کیسی کیسی روشن صنعتیں سورج ، چاند، ستارے اور کیا کیا، کیسے کیسے حسین گلاب کے پھول اور وہ تمام چیزیں جن کے تذکرے میں شاعروں کو وجد آتا ہے، سب اس نے بنائیں مگر اس نے کبھی ان سب کا ذکر کرکے اپنی تعریف نہیں کی اور جب اس کا ذکر آیا، تفصیل کے ساتھ ، تو آخر میں کہہ دیا کہ”فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْن“، بابرکت ہے وہ ذات جو بہترین خالق ہے۔ انسان کی خلقت پر اپنے کو بہترین خالق کہنے نے بتایا کہ یہ بہترین مخلوق ہے۔
اس کی ایک نظیر ہے۔ اس کو تفصیل سے پیش نہیں کرنا ہے، صرف آپ کے ذہن کو متوجہ کروں گا اور صرف متوجہ کرنا نہیں ہے ،ا س توجہ دہانی میں ایک بڑے مسئلہ کا حل ہے۔ جو کہاجاتا ہے ، اس کی رَد ہے کہ حضور رسولِ خدا کو اس نے کیسے کیسے حیرت انگیز معجزے عطا کئے تھے۔ ان کے ہاتھ میں ستاروں سے تسبیح کروادی مگر اس نے اس کا ذکر کوئی نہیں کیا اور اپنی تعریف نہیں کی۔یہ سب معجزاتِ رسول میں درج ہیں، متفق علیہ ہیں کہ درختوں سے صدائے سلام بلند کروادی۔راستہ چلتے ہیں ، دیواروں اور درختوں سے صدائے سلام آتی تھی اور اس کا ذکر نہیں کیا اور اپنی تعریف نہیں کی۔چاہِ شور کو لعابِ دہن سے شیریں کردیا، اس کا تذکرہ نہیں کیا اور اس پر اپنی کوئی تعریف نہیں کی۔ان کے ہاتھ میں لکڑی کو تلوار بنادیالیکن اس کا ذکر بھی قرآن میں نہیں کیا اور اپنی تعریف بھی نہیں کی۔طعامِ قلیل سے مجمعِ کثیر کو سیر کروادیا، تھوڑا سا کھانا اور ایک بڑی جماعت نے بڑے بڑے کھانے والوں نے کھالیا اور وہ کھانا ختم نہیں ہوا، مگر اس کاتذکرہ قرآن میں نہیں کیا اور اپنی تعریف نہیں کی۔ ان کی دعا سے ان کے وصی کیلئے سورج کو پلٹا دیا مگر اس کا ذکر قرآن میں نہیں کا اور اپنی تعریف نہیں کی۔
یہ تو سب بعد کی باتیں ہیں، ولادت کے وقت بحیرئہ ساوہ کو خشک کردیا، آتش کدئہ فارس کو گل کردیا۔ چودہ کنگرے قصر کسریٰ کے گرا دئیے، یہ سب کچھ کردیا۔ اپنے رسول کو ایسے ایسے معجزات دے دئیے اور اس کا یا تو ذکر ہی نہیں کیا یا ذکر کیا بھی تو اپنی کوئی تعریف نہیں کی۔وہ پیغمبر کو ایک خواب دکھا دیتا اور اپنی تعریف کرنے لگتا۔ اگر اس احسن الخالقین سے یہ سمجھ میں آیاکہ یہ بہترین شاہکارِ خلقت تھا جس کا ذکر خالق نے کیا تو اس اندازِ ذکر سے دنیا سمجھے کہ معراجِ رسول اس کی قدرت کا کوئی عظیم کارنامہ تھی، تبھی اپنا ذکر اس نے اس طرح کیا، تسبیح کے ساتھ۔ وہ کہتا ہے:
”سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْریٰ بِعَبْدِہ“۔
”پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندہ کو“۔
اس بندہ کے لفظ سے بھی یہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے ۔ آج اس اندازِ بیان سے کہتا ہوں کہ اب روحانی معراج مان کر قرآن کی بلاغت آسمان پر رہے گی یا زمین پر آجائے گی؟
میں کہتا ہوں وہ اپنی تسبیح کررہا ہے۔ ”پاک ہے وہ ذات“، اس میں سائنس والوں کے سب اعتراضات کا جواب ہے۔ وہ یہی کہتے ہیں کہ بشر ہوتے ہوئے یہ کیونکر گئے؟ میں کہتا ہوں بشر ہوتے ہوئے یہ گئے ہی نہیں، خدا ہوتے ہوئے وہ لے گیا۔
یہاں بھی وہ خصوصیت قائم ہے کہ اتنا بڑا معجزہ یا اتنی بلندی عطا فرمائی جس کا نام معراج ہے۔ یہ بھی بحیثیت رسول نہیں دی، بحیثیت بشردی۔ اس لئے ”بِرَسُوْلِہ“ نہیں کہا، ”بِعَبْدِہ“کہا ہے۔ رسالت سے وحی آتی ہے، بشریت سے عبدیت ہوتی ہے۔اس سے بھی مقامِ بشریت نمایاں ہوتا ہے کہ انسانیت اتنی اونچی چیز ہے کہ عرش زیر نعلین آجاتا ہے۔
مقامِ بشر اتنا اونچا ہے کہ ملک کو اس عرض کے بعد ساتھ چھوڑنا پڑا تھا کہ اگر ذرا آگے بڑھوں تو نورِ جلال میرے پروں کو جلا کر راکھ کردے گا۔میں کہتا ہوں کہ اس کے بعد تو ملک کہنا ان کی توہین ہے۔ ارے خادم کو مخدوم بنا دیجئے تو یہ کوئی مخدوم کی عزت افزائی ہوئی؟ملائکہ تو ان کے گھر کے خادم ہیں۔ ان کو ملک کہہ کر کیا تعریف ہوسکتی ہے؟ زنانِمصر نے یوسف کوکہہ دیا تھا کہ بہت بڑا فرشتہ ہے۔ وہ ان کی نگاہ تھی ، ”فکر ہرکس بقدرِ ہمت اوست“۔وہ حسن صورت کو دیکھ رہی تھیں اور فرشتے اَن دیکھی چیز تھے۔ سمجھتے تھے کہ ان سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔لہٰذا انہوں نے مَلک کہہ دیا۔لیکن جو حقیقت شناس ہے، وہ ملک کہنا ان کی توہین سمجھے گا۔ملک تو ان کے خدمت گار بن کر آتے ہیں۔ یہ ہے مقامِ انسانیت!
ایک اور پہلو عرض کرنا ہے تاکہ مقامِ بشریت سمجھ میں آئے کہ ان ہستیوں کو جو ہمارے نزدیک کائنات میں سب سے افضل تھیں، ان کی تعریفیں قرآن نے انسان کہہ کہہ کر کی ہیں۔ بس چند مواقع یاد دلاؤں گا۔ایک خدا کا بندہ اس کی رضا کیلئے رسول کی چادر اوڑھ کر فداکاری کی منزل طے کرتا ہے۔ فداکاری کیلئے تو ذہن میں میدان ہے کہ میدان میں فداکاری ہوتی ہے۔ مگر یہ تنگنائے چادر کے اندر فداکاری؟اور مجھے معلوم نہیں کہ بدرواُحد کے میدان کی فداکاریوں پر کبھی خدا نے فخر کیا ہو مگر آج یہ فداکاری جو زیر چادر ہورہی ہے، اس پر اللہ فخر کرتا ہے۔اس فداکاری کی قیمت عام افراد کو سمجھاؤں جوعام اسباب کی بناء پر اتنی اونچی باتیں نہیں سمجھ سکتے۔ علی کھلے ہوئے علی ہوتے تو اتنے خطرہ میں نہیں تھے جتنے رسول بن کر لیٹے ہیں۔ عموماً بھیس وہ بدلا جاتا ہے جو خطرہ سے دور ہو، مثلاً مرد عورتوں کا لباس پہن کر مجمعوں سے نکلا کرتے ہیں۔ لیکن یہ نیا بھیس بدلنا دیکھا کہ جس کے قتل کا منصوبہ ہو، اس کی چادر اوڑھی جائے، اس کے بستر پر لیٹا جائے۔
اُس نے حکم دیا تھا کہ لیٹو اور کیوں لٹایا تھا؟ اس لئے کہ رسول کا جانا پردے میں رہے ، یعنی دنیا یہ نہ سمجھے کہ رسول چلے گئے ہیں ورنہ اسی وقت چلے جائیں گے تلاش کرنے کیلئے۔ یہ انتظام کیا گیا تھا کہ رسول جب تک اس جگہ تک نہ پہنچ جائیں جہاں خدا نے حفاظت کا انتظام کر دیا ہے، اس وقت تک مشرکین اُلجھے رہیں اور سمجھتے رہیں کہ پیغمبر خدا بستر پر ہیں۔
اس لئے رسول نے لٹایا تھاخدا کے حکم سے۔تو جب خدا کے حکم سے تھے تو کہوں گا کہ خدا نے لٹایا تھا اور اس لئے بستر پر لٹایا تھا۔ مگر شعراء کی زبان میں دو ایک جملے کہنا چاہتا ہوں کہ جو گھیرے ہوئے تھے، وہ اجنبی لوگ نہیں تھے، اسی قوم و قبیلہ کے لوگ تھے جس میں ۵۳ برس وہ زندگی گزار چکا، جو گیا ہے اور ۳۲ برس یہ زندگی گزار چکا جو لیٹا ہے۔یعنی جو گھیرے ہوئے ہیں، وہ خوب اندازِ قد سے واقف اور پھر شمائل دونوں کے کتابوں میں موجود ہیں کہ دونوں بزرگوں کا قد یکساں نہیں تھا، قامت ِعصمت ایک تھامگر قدوقامت ِجسمانی میں فرق تھا۔ تو یہ بیوقوف رات بھر سمجھتے رہے اور حقیقت نہیں سمجھے تو بیوقوف نہیں تھے تو اور کیا تھے؟واقعتا بیوقوف نہ ہوتے تو اسلام کیوں نہ لے آتے؟ تو بیوقوف رات بھر سمجھتے رہے کہ رسول لیٹے ہوئے ہیں۔ یہ کیا راز ہے؟
حضور! میری سمجھ میں تو دو باتیںآ تی ہیں ورنہ اسی وقت چلے گئے ہوتے۔ یہ تو ہر ایک روایتاً،درایتاً اصول سے ماننے پر مجبو رہے۔ وہ کیوں نہیں سمجھے؟ دو وجوہات ذہن میں آتی ہیں۔ جو واقعہ کو سمجھے، وہ اگر یہ دو وجوہات نہ سمجھے تو تیسری سائنسی وجہ میرے سامنے پیش کردے۔میری سمجھ میں دو وجوہات آئی ہیں ، دونوں بہرحال سائنس کی حدود سے آگے ہیں۔
ایک پہلو یہ ہے کہ خدا نے حکم دیا کہ بستر پر لیٹ جائیں۔ تو پھر رات بھر کیلئے اس نے ہوبہو رسول بنا بھی دیا ورنہ اس کے مقصد کو شکست نہ ہوجاتی؟ ہوبہو رسول بنا بھی دیا۔ میں کہتا ہوں کہ قرآن کے ماننے والے کو اس میں عذر نہیں ہونا چاہئے۔ اگر عیسیٰ کی حفاظت کیلئے ایک دشمنِ خدا کو ایک دشمنِ عیسیٰ کی صورت دی جاسکتی ہے تو ان سے افضل ذات محمد مصطفےٰ کی حفاظت کیلئے غیر کو نہیں، ان کے نفس کو ان کی صورت کیوں نہیں دی جاسکتی؟
حضورِ والا! یہ ایک پہلو ہے جو میری سمجھ میں آتا ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ میں کہتا ہوں کہ یہ اس چادر کی کرامت ہے ، حضور کی طرف سے کرامت ہوگی ، مگر یہ چادر کی کرامت ہے کہ جب پیغمبر اوڑھیں تو ان کے جسم پر بالکل صحیح اور جب علی اوڑھیں تو ان کے جسم پر بالکل راست اور جب پانچوں آجائیں اور پھر بھی گنجائش رہے! ورنہ اُمِ سلمہ آنے کی کوشش ہی کیوں کرتیں اور جبرئیل امین کیوں داخل ہوجاتے؟ تو یہ چادر کی کرامت تھی اور دوجملے کہتا ہوں ، یہ بہرحال چادر کی خصوصیت معلوم ہوتی ہے، اس لئے میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ بہرحال چادر کی خصوصیت معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے میں محسو س کرتا ہوں کہ یہ چادر قدموں پر نہیں ناپی گئی تھی، یہ نورِ واحد پر بیونتی گئی تھی۔
تو اتنا بڑا فداکاری کاکارنامہ، اس پر سند ِقبولیت لے کر جو آیت اُتری، وہ آیت کیا ہے”من الموٴمنین“نہیں،
”وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَامَرَضَاتِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ رَوٴفٌ بِالْعِبَادِ“۔
دیکھو! انسانوں میں ایک یہ بھی ہوتا ہے جو اپنی جان کو رضائے پروردگار کیلئے فروخت کردیتا ہے۔اصولِ قرآنی یہ ہے کہ فرد کی مدح کرنی ہوتی ہے مگر صیغے جمع کے صرف کئے جاتے ہیں۔ رکوع میں انگوٹھی دینے والا ایک فرد تھا مگر قرآن کی آیت کے صیغے سب جمع کے۔
”وَالَّذِیْنَ اٰمَنُواالَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰة وَیُوٴتُوْنَ الزَّکوٰة وَھُمْ رَاکِعُوْنَ“۔
سب جمع کے صیغے، اصولِ قرآنی یہی ہے واحد کی مدح ہوگی ، جمع کے صیغے ہوں گے۔مگر یہ خاص وہ محل ہے کہ خالق نے بھی انفرادیت نمایاں کی ہے۔
”مِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْریْ“۔
انسانوں میں ایک وہ بھی ہے یعنی اس مقامِ فداکاری میں کہیں پر بھی کوئی دوسرا نہیں ہے۔ انسانوں میں ایک یہ بھی ہے۔ یہ ایک اتنی اونچی منزلِ کردار پر بھی جاکر کہتا ہے کہ انسانوں میں ایک یہ بھی ہے۔ اس کے بعد کون ہے جو مقامِ انسانیت کو پست سمجھے؟ میں کہتا ہوں کہ یہ وحدت نمایاں ہوگئی کہ دیکھو! انسانوں میں ایک ایسا بھی ہے ۔ میں کیا کروں کہ اس کے بعد وحی کا دروازہ بند ہوگیا۔ میں کوئی آیت اُترتی ہوئی دکھلا نہیں سکتا ، مگر میرا تصور یہ ہے کہ اگر دس محرم ۶۱ھ کو کوئی آیت اُترتی تو شاید واحد کا صیغہ جمع کا لباس اختیارکرتا۔اُس روز کہا جاتا کہ دیکھو! ایسے بھی انسان ہوتے ہیں۔ کچھ کی جبینِ عقیدت پر شاید شکن آجائے اور ذرابارِ خاطرہوجائے کہ کہاں امیرالموٴمنین کی منزل او رکہاں کربلا میں جتنے ہیں، سب کو کہہ دیا کہ اگر آج آیت اُترتی تو سب کو کہتی ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ مجھے بھی فرقِ مراتب معلوم ہے۔ ارے سب عرب بھی نہیں، غیر عرب بھی ہیں، سب قرشی نہیں ، غیر قرشی بھی ہیں، سب آزاد بھی نہیں، غلام بھی ہیں۔ اتنا زمین وآسمان کا فرق بہ اعتبارِ صفات و افعال ہے، قومیت کے اعتبار سے فرق ہے۔
مگر جہاں تک کردارِ کربلاکا تعلق ہے، قرشی و غیر قرشی کا کیا ہاشمی و غیر ہاشمی کا کیا؟ میں تو کہتا ہوں کردارِ کربلا میں مجھے معصوم و غیر معصوم کا فرق نظر نہیں آتا۔ ایک بے داغ مرقعِ کردار ہے ورنہ معصوم اپنی پاک زبان سے سب کو یکساں طور پر کیوں کہتے:
”بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ طِبْتُمْ وَطَابَتُ الْاَ رْضِ الَّتِیْ دُفِنْتُمْ فِیْھَا وَفُزْتُمْ فَوْزًاعَظِیْمًا“
میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، تم بھی پاک ہوئے اور وہ سرزمین بھی پاک ہوئی جس میں تم دفن ہوگئے۔ اب معصوم اپنی تمام کارنامہ ہائے عصمت والی زندگی کے ساتھ کہہ رہے ہیں:
”یَالَیْتَنِیْ کُنْتُ مَعَکُمْ فَاَفُوْزُفَوْزًاعَظِیْمًا“۔
کاش! میں تمہارے ساتھ اس کامیابی میں شریک ہوتا اور اس عظیم کامیابی کو حاصل کرتا۔
ہمیں بھی سکھایا یہی گیا ہے کہ تم جب واقعہ کربلا کو یاد کرو تو یہ کہو:
”یَالَیْتَنِیْ کُنْتُ مَعَکُمْ فَنَفُوْزُفَوْزًاعَظِیْمًا“۔
”کاش! ہم آپ کے ساتھ ہوتے اور اس عظیم کامیابی کو حاصل کرتے“۔