معراج خطابت
 
فلسفہٴ قربانی
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْ ءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ“۔
تمام سلسلہ انبیاء میں ہمارے پیغمبر سے پہلے سب سے بالا تر ذات حضرتِ ابراہیم خلیل اللہ کی تھی۔اس لئے ان کا امتحان دہرا ہوا۔ ذات کے بارے میں بھی امتحان اور اولاد کے بارے میں بھی امتحان۔ ذا ت کے بارے میں امتحان ہوا کہ بھڑکتے ہوئے شعلوں میں ڈالے گئے۔ اس کا ذکر کل کرچکا۔ اب دوسرا امتحان اولاد کے بارے میں ۔ جب ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو اُس سے ہمیں اس امتحان کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے کہ اتنا عظیم امتحان یعنی آگ میں پھینکا جانا اور اس کا گلزار ہوجانا۔ اس کا ذکر صرف دو جگہ ایک ایک اور دو دو آیتوں میں پیش کیا گیا ہے۔قرآن مجید میں اس کا ذکر اتنے اختصار کے ساتھ ہوا ہے اور یہ امتحان جو اولادکے بارے میں تھا، اس کا ذکر کئی آیتوں میں مسلسل، شروع سے لے کر آخر تک کی ترتیب کے ساتھ اس کی کڑیاں موجود ہیں۔ یہ میں بتاؤں گا کہ درمیان کی کڑیاں اکثر سننے والے کی سمجھ پر چھوڑ کی بنظر اختصار ترک کی گئی ہیں ورنہ آغازِ کار اور انجامِ کار اس سب کو قرآن مجید نے نہایت تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ سلسلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے:
”وَبَشَّرْنَاہُ بِغُلَامٍ حَلِیْم“۔
”ان کو ہم نے ایک متحمل بیٹے کی بشارت دی“۔
اب اس بشارت کے لفظ سے کچھ لوگوں کو دھوکہ ہورہا ہے اور کچھ اس میں یہودونصاریٰ کا نظریہ ہمارے نظرئیے سے مختلف ہے۔ تو چونکہ دوسری جگہ ، دوجگہ اس کے علاوہ، جنابِ اسحاق کی بشارت کا ذکر ہے اور تفصیل کے ساتھ ہے۔ تو اب اہل کتاب یعنی یہودونصاریٰ کہتے ہیں کہ یہ قربانی کا واقعہ جنابِ اسحاق سے متعلق ہے۔مسلمان بظاہر تو سبھی مگر تلاش سے معلوم ہوتا ہے کہ علمائے اسلام بھی، مگر شاذونادر غالباً اسی بشارت کے ذکر سے دھوکہ کھاکے، انہوں نے بھی ایسا قول اختیار کرلیا کہ یہ جنابِ اسحاق سے متعلق ہے۔ طبری نے اپنی تاریخ میں ان علماء کا نام لے لے کر ذکر کیا ہے۔ا بتدائی صدیوں کے متعلق کہ وہ بھی ایسا ہی کہتے تھے کہ جنابِ اسحاق سے متعلق ہے۔مگر زیادہ تر علمائے اسلام کا نظریہ اور عام اسلامی تصور یہ ہے کہ یہ جنابِ اسماعیل سے متعلق ہے۔اب اگر انہی چند علمائے اسلام سے بحث کرتا ہوں جنہوں نے یہ قول اختیار کرلیا تو قرآن مجید کی آیتیں اور ہماری حدیثیں فیصلہ کن ہو سکتی ہیں لیکن یہاں چونکہ سامنے ایک جماعت غیر مسلمین کی ہے، لہٰذا فیصلہ قرآن مجید کی آیتوں سے تو ہو نہیں سکتا کیونکہ وہ قرآن مجید کو مانتے ہی نہیں۔ تو اب ان سے گفتگو میں فیصلہ کن چیزکیا ہو؟ میرے خیال میں دو ذریعے ہیں، ایک انہی کی بائبل اور دوسرے عقلی روایت کیونکہ عقل کسی ایک قوم کی ملکیت نہیں ہے۔ جو قرائن عقلی کا تقاضا ہو،اس میں مذہب و ملت کا سوال نہیں ہوتا۔
تو اب میں پہلے اس بحث کا فیصلہ بائبل سے چاہتا ہوں۔ ان لوگوں کیلئے جو ناواقف ہیں، ان کی واقفیت کیلئے عرض کروں کہ جنابِ اسماعیل پہلے متولد ہوئے تھے اور جنابِ اسحاق بعد میں پیدا ہوئے۔ وہ بڑے بھائی تھے اور یہ چھوٹے بھائی تھے۔ پھر جب بائبل ہی میں دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے اور پورااندازہ ہوتا ہے کہ جنابِ اسماعیل تیرہ برس بڑے تھے جنابِ اسحاق سے۔ اب جب یہ حقیقت سامنے آگئی تو اب جس کا دل چاہے، وہ بائبل کو اٹھا کر دیکھ لے۔ وہ تو ہر زبان میں ہے۔ ہم تو جو اور زبان میں ہیں، ان کو ترجمہ قرآن کہتے ہیں۔ مگر ان کے ہاں ہر زبان والی بائبل اصلی ہے کیونکہ ان کے پاس اصل کوئی اور ہے ہی نہیں۔آپ ان سے جاکر کہئے کہ بائبل دیجئے ، وہ یہی دیں گے ۔آپ کہیں گے کہ یہ تو ترجمہ ہے۔وہ کہیں گے: جی نہیں۔ یہی ہے اصل بائبل۔ تو وہ ہر ایک کیلئے وہی ہے اور دنیا کی سب سے زیادہ زبانوں میں جو ترجمہ ہوا ہے، وہ اسی بائبل کا ہے۔اس لئے کسی زبان کی بائبل دیکھ لیجئے کہ جس وقت جنابِ ابراہیم نے فرزندکی قربانی کرنے کا تہیہ کیا ، اس وقت کی ان کی ایک مناجات بارگاہِ الٰہی میں بائبل میں درج ہے۔اس کی مناجات میں وہ کہہ رہے ہیں:
”پروردگار! میں اپنا اکلوتا بیٹا تیری بارگاہمیں نذر کررہا ہوں“۔
اب ہر صاحب ِعقل سمجھ سکتا ہے کہ چھوٹا بھائی کبھی اکلوتا نہیں ہوتا۔ بڑا بھائی اس وقت تک اکلوتا رہتا ہے جب تک کہ چھوٹا بھائی پیدا نہ ہو۔ یہ اکلوتے کا لفظ قطعی طور پر اس کا ثبوت ہے کہ کہ جنابِ اسماعیل سے متعلق ہے اور جنابِ اسحاق سے متعلق نہیں ہے۔مگر اب یہ تو ان کے مقابلہ میں فیصلہ بائبل سے ہوگیا۔ میں نے کہا تھا کہ عقلی قرائن۔ تو عقلی قرائن یہ ہیں کہ اگر یہ جنابِ اسحاق سے متعلق ہوتا تو اس کی یادگاریں سرزمین شام میں ہوتیں ، اس لئے کہ جنابِ عیسیٰ اور جنابِ موسیٰ سے متعلق مقامات بیت اللحم وغیرہ ، وہ سب موجود ہیں تو انہی میں اس قربانی سے متعلق مقامات ہوتے۔ تو ایک طرف ظرفِ مکاں سرزمین شام ہوتی، دوسرے ان کی دینی رسموں میں کوئی دن اس کی یادگار کا ہوتا، مگر ایسا نہیں ہے۔اس کے متعلقہ مقامات جتنے ہیں، وہ سرزمین مکہ میں ہیں، منیٰ ہے۔ وہ کیا ہے اور وہ عرفات ؟ وہ کیا ہے؟ اور وہ مزدلفہ، وہ کیا ہے؟یہ تمام مقامات اسی قربانی سے متعلق ہیں اور اس لئے منیٰ ہی میں وہ قربانیاں کی جاتی ہیں جو روزِ عید ِقرباں وہاں ہوتی ہیں۔
عام طور پر ہمارے ہاں جو قربانیاں ہوتی ہیں، وہ مستحب ہیں مگر وہاں وہ جزوِ حج ہیں کیونکہ اصل قربانی کا مرکز وہی سرزمین منیٰ کی تھی۔تو وہ تمام مقامات سرزمین مکہ میں ہے۔ ملک شام میں نہیں ہیں۔ پھر یہ کہ اس سے متعلق جو دن ہیں، وہ اسلامی روایات میں ہیں۔ اگر ان کے ہاں کا یہ واقعہ ہے تو انہوں نے اس کی یادگار قائم کیوں نہ کی؟ہمارے ہاں عید ِقرباں ہے تو وہ اس کی یادگارہے۔ پورے حج کے جو مراسم ہیں، وہ اس کی یادگار ہیں۔صفا و مروہ کے درمیان سعی کیا ہے؟ یہ بھی اسی واقعہ کے متعلق یادگار ہے اور سالِ گزشتہ غالباً انہی مجالس میں:
”وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَاللّٰہِ فَاِنَّھَامِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب“۔
یہ سرنامہ کلام تھا تو اس میں اس کو عرض کرچکا ہوں کہ یہ تمام چیزیں حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ سے نسبت رکھتی ہیں۔سب اس واقعہ قربانی سے متعلق ہیں۔ اب یہ توفیصلہ ان کے مقابلہ میں ہوگیا۔ یہ جو چند پرانے علمائے اسلام ہیں، وہ بھی اس کے قائل ہیں۔ تو اب ان کیلئے قرآن مجید پیش کردوں کہ یہ ”بشرناہ بغلام حلیم“، یہ پورا سلسلہ چلا اور قربانی کا ذکر ہوگیا اور اس قربانی کے ذکر کے بعد ہے”و بشرناہ باسحٰق“، پھر ہم نے ان کو اسحاق کی بھی بشارت دی۔ تو اب تو پتہ چل گیا کہ وہ پہلی بشارت کسی اور فرزند کی تھی۔
مگر جناب! یہودونصاریٰ کے اس اختلاف سے میری نظر میں ایک بڑا نتیجہ حاصل ہوا اور وہ یہ کہ یہ قربانی ایسی عظیم شے ہے کہ اسے ہر ایک اپنانا چاہتا ہے۔ آخر یہ شوق کیوں ہے؟ اگر قربانی کوئی عظیم چیزنہیں ہے تو دوسری جماعت کیوں کہہ رہی ہے کہ ہمارے ہاں ہے، ہمارے مورثِ اعلیٰ کا واقعہ ہے؟ معلوم ہوا کہ قربانی اتنی عظیم شے ہے کہ جہاں نہیں ہے، وہ بھی اسے اپنانا چاہتے ہیں۔ ا س کے بعد کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک قوم کے پاس عظیم قربانی ہو اوروہ اس کے ذکر پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرے۔
یہ تو پہلی آیت میں مَیں نے پیش کر دیا ”بشرناہ بغلام حلیم“۔ یہ اختلاف اور اس کا فیصلہ ۔ اب یہ تو تمہید تھی کہ ہم نے بشارت دی ایک متحمل فرزند کی۔ اب یہاں سے قربانی کا تذکرہ شروع ہوتا ہے ۔بشارت یوں دی۔ اب ظاہر ہے کہ درمیان کی کتنی کڑیاں کہ وہ متولد ہوئے۔ اسے سننے والے کے ذہن پر چھوڑا:
”فَلَمَّابَلَغَ مَعَہ السَعْیَ“۔
اب نشوو نما ہوئی اور بڑے ہوئے اور اب وہ لڑکا جو پیدا ہوا، اس عمر کو پہنچ گیا کہ دوڑ دھوپ کرسکے۔ سعی کے معنی دوڑنا۔ تو ”لَمَّابَلَغَ مَعَہ السَعْیَ“۔ جب وہ اس حد تک پہنچ گیا کہ باپ کے ساتھ ذرادوڑ دھوپ کرسکے۔ اس میں دو چیزیں مضمر ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ابھی جوانی کی منزل تک نہیں پہنچا ہے۔ بس اتنا ہی اور ایک یہ کہ بہت کمسن بھی نہیں کہ جو باپ کی کوئی مدد نہ کرسکے۔درمیانی عمر ہے۔ بچپن اور شباب کے درمیان کی۔ بس اتنی کہ ابھی تھوڑا سا وہ چل پھر کر باپ کی خدمت کرسکتا ہے۔ تو جب یہ ہوا تو اب ہمارے علم میں کیا ہے کہ انہوں نے خواب دیکھا۔اب بنظر اختصار قرآن مجید خواب کا ذکر نہیں کرتا کہ انہوں خواب دیکھا اور وہ کیا دیکھا۔نہیں، بلکہ جب وہ سعی کی منزل تک پہنچا تو باپ نے بیٹے سے کہا کہ میں یہ خواب دیکھ رہا ہوں ۔ اب اسی سی سمجھ لیجئے کہ خواب دیکھا اور یہ بھی روایتیں بتاتی ہیں کہ تین روز مسلسل دیکھا۔یہ قرآن کے الفاظ سے نمایاں ہے۔ صیغہ ماضی نہیں ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا۔ اس کیلئے ہوتا:
”رَأیِتُ فِی الْمَنَامْ“۔
اس کے معنی ہوتے کہ میں نے خواب میں دیکھا۔ یہاں مضارع کا صیغہ ہے:
”اِنِّیْ اَریٰ فِی الْمَنَامِ“۔
میں خواب میں دیکھ رہا ہوں۔
دیکھ رہا ہوں کے معنی یہ ہیں کہ کئی دفعہ یہ دیکھا ہے۔ بس اب سمجھ لیجئے کہ خلیل کہہ رہے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا اور دیکھ رہا ہوں ۔ تو اس واقعہ کو جو نہیں بیان ہوا، تو سمجھ لیجئے کہ انہوں نے خواب دیکھا، جبھی تو بیان کیا کہ”یَابُنَیَّ“، اے میرے بچے،”اِنِّیْ اَریٰ فِی الْمَنَامِ“، میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ”اِنِّیْ اَذْبَحُکَ“، کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں۔”فَانْظُرْمَاذَاتریٰ“، ذرا تم دیکھو کہ تمہاری کیا رائے ہے؟
میں بارگاہِ جنابِ ابراہیم میں عرض کروں گا کہ اے خلیل اللہ! خواب دیکھا ہے آپ نے، حکم ہوا ہے آپ کو۔اس کی تعمیل فرمائیے۔ یہ بیٹے سے رائے لینے کے کیا معنی کہ تم دیکھو کہ تمہاری رائے کیا ہے؟
مگر یاد رکھنا چاہئے کہ اگر بیٹے سے یوں ذکر نہ کرتے تو قربانی فقط کارنامہ ابراہیم ہوتی، کارنامہ اسماعیل نہ ہوتی اور جب بیٹے سے اس طرح ذکر کر لیا تو بیٹے نے وہ جواب دیا جو ابھی بیان ہوگا اور پھر قربانی ہوئی۔تو اب وہ دونوں کا کارنامہ ہے۔ باپ کا بھی کارنامہ ے اور بیٹے کا بھی کارنامہ ہے۔
اب جناب! ایک دوسرا سوال میرے ذہن میں پید اہوتا ہے اور وہ یہ کہ حکم اتنا شدید کہ طبیعت ِ انسانی پر گراں ہے کہ اپنے بچے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرے۔ تو حکم اتنا شدید اور ذریعہ حکم اتنا خفیف یعنی خواب۔ ہمیں معلوم ہے کہ کس طرح احکام آتے ہیں، فرشتہ آتا، پیغامِ الٰہی پہنچاتا۔ یہ عام طریقہ ہے۔ خواب بھی ایک وحی کی قسم ہے۔ مگر عام طریقہ تو یہ ہے حکمِ الٰہی پہنچانے کا۔ جی نہیں، اتنا عظیم حکم اور وہ صرف خواب کے ذریعہ؟ تو یہی میرے موضوعِ کلام کا ایک اہم رکن ہوگا۔ میں کہتا ہوں کہ امتحان جب ہے تو اُسے ذریعہ ایسا رکھنا ہے جسے ناقص نفوس خواب کہہ کر ٹال سکتے ہوں۔اب دنیا دیکھے کہ خلیلِ حق اس خواب کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ اچھا! اس نے خواب دکھلایا ، کیا ابراہیم نہیں جانتے کہ یہ حکم ہے۔ مگر وہ بھی بیٹے سے خواب ہی کہہ کر بیان کرتے ہیں۔ یہ نہیں کہتے کہ مجھے حکم ہورہا ہے۔ یہی بیان کررہے ہیں کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں۔ اگر کہہ دیتے کہ حکم ہورہا ہے تو یہ ٹکڑا بے جوڑ ہوا کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ جب حکم ہوگیا تو رائے کا کیا سوال؟
پھر یہ کہ یہاں پر بڑا چھوٹے کا امتحان لیتا ہے۔ خالق اپنے خلیل کا امتحان لے رہا ہے اور اب خلیل اپنے فرزند اسماعیل کاامتحان لے رہے ہیں۔ یاد رکھئے کہ امتحان میں ایک پرچہ سوال کا ہوتا ہے۔ وہ پرچہ درسگاہ کے جو کرتا دھرتا ہیں، ان کے پاس آتا ہے اور وہ طالب علموں میں بانٹا جاتا ہے۔یہ ہوتا ہے سوال کا پرچہ۔ اس کے بعد طالب علم جواب کی کاپی لکھتا ہے۔وہ جواب کی کاپی طالب علم کے پاس سے جاتی ہے پہلے درسگاہ کے سربراہان کے پاس۔ وہاں سے ممتحن کے پاس۔ تو میں کہتا ہوں کہ اللہ نے خواب دکھادیا، یہ تو سوال کا پرچہ ہے جو خالق نے اپنے خلیل کے ہاتھ میں دے دیا۔ انہوں نے بیٹے سے مشورہ لیا، یہ ابھی سوال کا پرچہ ہی ہے جو باپ نے بیٹے کے ہاتھ میں دے دیا۔ جب تک سوال کا پرچہ رہا، تب تک لفظ ِخواب رہا اور جہاں سے جواب کی کاپی شروع ہوئی، اسماعیل نے لفظ بدل دیا، اسماعیل نے یہ نہیں کہا کہ جو خواب دیکھا ہے، اس کی تعبیر آپ سامنے لائیے۔ وہ اب خواب کا لفظ نہیں کہتے۔ وہ کہتے ہیں :
”یَااَبَتِ اِفْعَلْ مَا تُوٴمَرُسَتَجِدُنِیْ اِنْشَاءَ اللّٰہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ“۔
”بابا! جو حکم ہورہا ہے، اس کی تعمیل کیجئے۔ اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے“۔
اب گفتگو کے جو انداز ہوتے ہیں، اس کو ہر صاحب ِ زبان سمجھ سکتا ہے کہ گھبراہٹ کے جواب کا طریقہ اور ہوتا ہے اور اطمینانی جواب کا طریقہ اور ہوتا ہے۔ جنابِ اسماعیل کے جواب کا یہ ٹھہراؤ کہ”اے بابا! جو حکم ہورہا ہے، اس کی تعمیل کیجئے، اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے“، الفاظ کا یہ ٹھہراؤ سکونِ نفس کا پتہ دے رہا ہے۔کوئی اضطراب نہیں ہے۔ نفس مطمئن ہے۔ بے شک بڑا عزم ثابت ہوتا ہے۔ الفاظ ہی سے ثابت قدمی ظاہر ہوتی ہے۔
مگر ایک حقیقت کی طرف توجہ دلاؤں کہ کہہ رہے ہیں:”اللہ نے چاہا تو مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے“۔ یعنی اتنے عظیم امتحان میں کامیابی کے بعد منفرد صابر ہونے کا دعویٰ نہیں ہے بلکہ کہتے ہیں کہ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی جماعت صابرین کی سامنے ہے جس سے ملحق ہوجانا اپنی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ اب عزم کی منزل میں بات طے ہوگئی کہ باپ بھی تیار، بیٹا بھی تیار۔اب جب عمل کی منزل آئی تو اسے قرآن مجید نے کس طرح ادا کیا ، کتنی تفصیل سے تذکرہ کیا مگر یہاں انتہائی اختصار سے”فَلَمَّا اَسْلَمَا“، یہ اس عظیم امتحان کی کامیابی کیلئے جب آئے ہیں باپ اور بیٹے دونوں، ”اسلما“تثنیہ کا صیغہ ہے۔ اگر الف نہ ہوتا تو واحد کا صیغہ ہوتا اور جب ”اَسْلَمَا“ ہوگیا تو دو کا صیغہ ہوگیا۔
مطلب یہ ہے کہ دونوں حکم کی تعمیل کیلئے آگئے۔ مگر اسے کس لفظ سے قرآن مجید نے ادا کیا ہے، وہ قیامت تک کے ہر مسلمان کیلئے قابل لحاظ ہے۔ کتنا عظیم امتحان اور اس کی تیاری کیلئے آنا اور اس کی تعمیل کیلئے آنا اور اس کو ایک لفظ میں”فَلَمَّا اَسْلَمَا“،جب وہ دونوں عملاً مسلم ہوکر آگئے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ قربانی اتنی اہم ہے کہ جزوِ اسلام ہے کہ ایسی عظیم قربانی کیلئے قرآن مجید لفظ ِ اسلام کو منتخب کرتا ہے۔
”لَمَّا اَسْلَمَا“، جبکہ بالکل مسلم ہوکر وہ آگئے۔ پھر اس کے بعد”وَتَلَّہ لِلْجَبِیْنِ“، اس نے یعنی باپ نے اس کو یعنی بیٹے کو پیشانی کے بل زمین پر لٹایا۔خواب میں آپ سن ہی چکے ہیں کہ آپ کیا دیکھ رہے تھے؟”اِنِّیْ اَذْبَحُکَ“، میں تم کو ذبح کررہا ہوں۔ اب یہاں قرآن مجید گویا سننے والوں کے آبگینہٴ خاطر اتنے نازک دیکھ رہا ہے کہ اس منظر کا تذکرہ وہ لفظوں میں بھی نہیں سن سکتے، لہٰذابس یہاں پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ”تَلَّہ لِلْجَبِیْنِ“، پیشانی کے بل لٹایا۔ گویا خلاق یہ کہہ رہا ہے کہ اب ہم سے نہ سنو کہ کیا کیا؟ وہی کیا جو حکم ہوا تھا۔ اب اس کا کوئی ذکر نہیں۔ بس تمہید اس کی جو ہے کہ پیشانی کے بل لٹایا، اسی کا ذکر ہے۔
”تَلَّہ لِلْجَبِیْنِ وَنَادَیْنَاہُ اَنْ یَااِبْرَاہِیْمُ“۔
اور بس جو حکم ہوا تھا، اس کی تعمیل کی اور ہم نے آواز دی کہ بس! اے ابراہیم ۔کیا؟
”قَدْصَدَقْتَ الرُّوْیَاء“۔
”تم نے خواب سچ کردکھایا“۔
بس بس۔ اب یہاں عام طور پر اکثر مقررین ممکن ہے کہ بعض واعظین سے بھی آپ نے سنا ہو ، یہ کہہ دیتے ہیں کہ خالق نے اپنا حکم اٹھا لیا یعنی منسوخ کردیا۔ حکم میں تبدیلی پیدا کردی۔ مگر مجھے اس سے قطعاً تعلق نہیں ہے۔ یہ تصور غلط ہے ،اس کو ازروئے عقل بھی میں آپ کے سامنے پیش کروں گا اور قبل میں جو خطاب ہوا تھا، اس کی بناء پر بھی عقل و قرآن کی شرکت سے بھی پیش کروں گا اور پھر تنہا قرآن سے بھی اس کو پیش کروں گا۔ عقلی بات تو یہ ہے ، ذراغور کیجئے کہ اکثر نتائج غیر اختیاری ہوتے ہیں کیونکہ اسباب کی آخری کڑی اپنے ارادہ سے ہوتی ہے۔لہٰذا آخر تک نتیجہ اس کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ اس کی مثال دینے میں مَیں نے دوسرے کی جان لینے میں آسانی سمجھی تھی جدید طریقے سے کیونکہ وہاں فاصلہ میں دکھا سکتا تھا کہ گولی بندوق سے رہا ہوگئی اور ابھی وہاں تک پہنچی نہیں۔ اب بیچ میں جتنا فاصلہ ہے، ابھی وہ شخص قتل نہیں ہوا مگر بے بس ہے۔
میں نے یہ طریقہ کیوں پسند کیا؟ اس لئے کہ چھری وغیرہ یا تلوار کے طریقہ میں فاصلہ میں نہیں دکھا سکتا تھا۔ وہاں خود کشی میں دریا والا طریقہ اپنے مطلب کا سمجھا کہ وہاں پل سے لے کر دریا تک ایک مسافت ہے اور یہاں میں نے یہ طریقہ اپنے مقصد کیلئے زیادہ مناسب سمجھا ہے ۔ مگر اب یہاں مجھے اس مشکل کو آسان کرنا ہے کہ میں ذبح کی منزل میں دکھاؤں کہ اختیار کہاں سلب ہوتا ہے اور بے اختیاری کی صورت میں نتیجہ کیونکت مرتب ہوتا ہے؟ وہاں میں ا س مشکل میں نہیں پڑا مگر یہاں مجبوراً اس مشکل میں پڑنا ہے۔
تو اب میں آپ سے فیصلہ چاہتا ہوں۔ مگر ایک عقلی بات کہ ہمیشہ تکلیف ِشرع اختیاری فعل سے متعلق ہوتی ہے جو انسان کے ارادے سے متعلق ہو۔تو دیکھئے کہ ذبح کی منزل میں جو افعال ارادے سے ہوں، وہ کیا کیا ہیں؟ جسے ذبح کرنا ہے، اُسے سامنے لٹائیے، ایک یہ کام۔ وہ کوئی دھاردار چیز ہاتھ میں لے جس سے رگ ہائے گردن قطع ہوں، یہ دوسرا کام جو ارادے سے متعلق ہے۔ تیسرا کام ہاتھ کو وہ جنبش دینا جس رگ ہائے گردن قطع ہوتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اب ہر صاحب ِعقل جائزہ لے کہ ان میں سے کونسی بات جنابِ ابراہیم نے نہیں کی۔کیا بیٹے کو سامنے نہیں لٹایا؟کسی اور کولٹایا؟ تو قرآن کہہ رہا ہے کہ اسی کو”تَلَّہ لِلْجَبِیْنِ“، اسی کو سامنے لٹایا۔ کیا چھری ہاتھ میں نہیں لی؟ کوئی نمائشی چیز ہاتھ میں لی؟ نہیںِ یہ غلط۔ پھر چھری ہاتھ میں لی۔ اب زیادہ نازک مرحلہ تیسرا ہے۔ کیا ہاتھ کو وہ جنبش نہیں د ی جس سے رگ ہائے گردن قطع ہوتے ہیں؟ اگر ہاتھ کو وہ جنبش نہیں دی تو وہ گوسفند بھی کیونکر ذبح ہوا جو فدیہ میںآ یا تھا؟اس لئے کہ اس گوسفند کے ذبح کی نیت تھی۔ اسی سے وہ گوسفند ذبح ہوا ہے۔
تو افعالِ ارادی تو سب عمل میں آگئے۔اب حکم منسوخ ہو کر کیا کرے گا؟ تو یہ عقلی بات ہوگئی کہ یہ تصور غلط ہے کہ حکم منسوخ ہوگیا۔ حکم منسوخ کرنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں حکم لفظی تو نہیں تھا کہ فرشتے نے آکر پیغام زبانی لفظوں میں پہنچایا ہو۔ یہاں تو حک بذریعہ خواب تھا۔ تو خواب دیکھئے کیا تھا؟ خواب یہ دیکھا ہوتا کہ میں بیٹے کو ذبح کرچکا ہوں تو عمل میں کچھ رہ گیا؟ اب خواب یہی دیکھا تھا کہ ذبح کررہا ہوں تو جو خواب دیکھا تھا، وہ عمل میں پورے طور پر لے آئے۔ اب اور حکم کہاں تھا جو منسوخ ہوگا؟ اب تیسری بات صاف طور پر قرآن سے پوچھوں کہ صدا کیا آئی؟ تو قرآن یہ کہہ رہا ہے، یہ نہیں کہتا کہ ہم نے پکار کر کہا کہ بس بس۔ اب ہم اپنا حکم اٹھاتے ہیں۔ جی نہیں۔ قرآن کہہ رہا ہے کہ ادھر سے یہ آواز آئی کہ بس بس! تم نے خواب سچ کردکھایا۔ یعنی جو حکم تمہیں ملا تھا، اس کی تعمیل تم نے کردی۔
جناب! دلیل وہ ہوتی ہے جو قطعی ہو اور بہت مستحکم ہو۔ کہاجاتا ہے کہ جنابِ ابراہیم نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی تھی۔ اسے مصائب ِ کربلا کے ساتھ موازنہ میں پیش کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بے شک یہ قربانی پیش کی مگر محبت ِفرزند کی بناء پرآنکھوں پر پٹی باند لی تھی۔ میں کہتا ہوں کہ مجھے اس واقعہ سے انکار کی ضرورت نہیں ہے۔ پٹی باندھ لی ہو تو کیا ہے؟ جو حکم ہوا تھا، اس کی تعمیل کیلئے آئے ہیں۔ اسلام دلوں سے آل اولاد کی محبت نکالنے کیلئے نہیں آیا ہے۔ یہ محبت بھی جزوِ اسلام ہے۔ لہٰذا اگر بیٹے ہی کی محبت میں آنکھوں پر پٹی باندھ لی ہو تو حکم کی تعمیل میں اس سے کیا اثر پڑتا ہے ۔ بہرحال اگر یہ واقعہ صحیح ہے ، اگرچہ مستند ماخذوں میں میری نظر سے نہیں گزرا ہے، اس لئے یہ اگر مگر کررہا ہوں۔ بہرحال یہ چیز جو میں نے بھی سنی ہے اور آپ نے بھی سنی ہوگی، اگر یہ بالکل صحیح ہے تو میں کہتا ہوں ، اب اس کو چاہے محاورہ کے طور پر دیکھ لیجئے، عقلی طور پر دیکھ لیجئے، اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو نتیجہ کو دیکھتے ہوئے میں کہتا ہوں کہ کردارِ ابراہیم اور شاندار ہوگیا۔ اس لئے کہ انہوں نے تو آنکھ بند کرکے چھری چلائی ہے۔ اب کون ذبح ہوا؟ اس کی ذمہ داری ان پر نہیں ہے۔
ارشاد ہورہا ہے :
”یَااِبْرَاہِیْمُ قَدْصَدَقْتَ الرُّوْیَاء“۔
اصل بیانِ واقعہ میں تو اتنا اختصار ہوا تھا مگر اب یہاں قرآن مجید بسیط و تفصیل سے کام لے رہا ہے کہ ہم نے اس کا فدیہ دے دیا، ذبح عظیم کے ساتھ۔ ذبح عظیم کو ہم نے اس کا فدیہ قرار دے دیا۔تو اب مشکل یہ ہے کہ فدیہ میں کیا آتا ہے؟ وہ ہمیں معلوم ہے کہ کیا تھا۔ وہ گوسفند تھا۔ تو اب علمائے جمہور، بڑے بڑے اکابر علماء خواہ علامہ فخر الدین رازی ہوں، حافظ طبری ہوں، علامہ نیشاپوری ہوں، خوا ہ کوئی ہوں، بڑے بڑے علماء۔ دل میں خلش ہے کہ ذبح ہوتا تو نبی زادہ اور آئندہ ہونے والا نبی۔ فقط نبی زادہ نہیں بلکہ وہ جو سلسلہ انبیاء میں ہے، وہ ذبح ہونے والا ہے اور جو چیز فدیہ میں آئی ہے ، وہ ہے گوسفند۔تو گوسفند کو اللہ اس کے مقابلہ میں ذبح عظیم کہہ دے۔ ذہن میں آتا ہے کہ گویا اتنا عظیم نہیں تھا اور ہم نے اس کا فدیہ جو قرار دیا، وہ ذبح عظیم ہے۔ تو اب گوسفند کو ان کے مقابلہ میں عظیم کہا جارہا ہے۔
اب ا س کیلئے یہ بیچارے مفسرین اس گوسفند کی عظمت دکھاتے ہیں اور اس کی عظمت کے اظہار میں مصروف ہوگئے ہیں کہ وہ گوسفند جنت کا تھا اور وہ کوئی ہزار برس سبزہ زارِ جنت میں چرتا رہا تھا اور وہاں اس کی پرورش ہوئی تھی۔اس کو غذا جنت کی دی گئی تھی۔ وہ ایسا تھا ، اس لئے اس کو خالق نے ذبح عظیم کہہ دیا۔ مگر ان اکابرین مذہب اور علماء سے میرا یہ سوال ہے کہ جناب! وہ جنت کا تھا اور جنت کے میوے کھاتا رہا اور جنت کے سبزہ زار میں چرتا رہا، اس سب کے باوجود وہ گوسفند ہی رہا۔ تو پھر سوال تو باقی رہا کہ نبی زادے کے مقابل میں اسے ذبح عظیم کہہ دیا گیا؟یہ ایک پریشانی ہے اور ان بیچاروں کی پریشانی کے دور ہونے کا کوئی سامان نہیں ہے کیونکہ ان کے جتنے واری ہیں، وہ اس سے آگے بڑھتے ہی نہیں۔ اب ہمیں بھی بہرحال پریشانی تو ہونی چاہئے تھی لیکن ہماری پریشانی اپنے ہاں کی تفسیر کو دیکھ کر دور ہوگئی جو آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے وارد ہوئی ہے کہ ذبح عظیم سے مراد قربانیِ کربلا ہے۔ اب وہ خلش تو دورہوگئی۔
دوسرے مسلمان چاہے نہ چاہتے ہوں کہ انبیاء کے مقابلہ میں اور ہستیاں بھی افضل ہوسکتی ہیں مگر ہم تو بحمدللہ مانتے ہیں۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ اور ہستیاں نہیں جو خاتم الانبیاء کے اجزاء ہیں، وہ گزشتہ انبیاء سے افضل ہونے چاہئیں۔ لہٰذا ہمارا دل بالکل قبول کرلیتا ہے کہ بے شک وہ نبی ہیں اور نبی زادے میں سب کچھ ہے۔ لیکن یہاں ”سَیِّدَاشَبَابِ اَہْلِ الْجَنَّۃ“ میں اور ان کی قربانی ہے اور حدیث متفق علیہ ہے ”سَیِّدَاشَبَابِ اَہْلِ الْجَنَّۃ“ ۔ یہ بھی صحاحِ ستہ کی حدیث ہے۔ تو اب دبی زبان سے ان علماء سے جو اس میں تامل کرتے ہیں کہ انبیاء سے کیونکر افضل ہوسکتے ہیں، ان سے میں بس ایک سوال کروں گا کہ انبیاء بھی اہل جنت میں ہیں یا نہیں؟ بس اس سرداری کے دائرے سے بقائدئہ عقل ایک تو متکلم خارج ہوگا جو اس سرداری کا تاج پہنارہا ہے، وہ متکلم خارج ہوگایا بس وہ جسے وہی اپنے الفاظ سے مستثنیٰ کردے کہ اس کے ساتھ ایک تتمہ بھی ہے کہ ”اَبُوْہُمَاخَیْرٌمِنْہُمَا“، ان کا باپ ان دونوں سے بہتر ہے۔ باقی اور کوئی اب اس سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتا۔ جس کو ان کی سرداری کے دائرہ سے نکلنا ہو، وہ جنت سے استعفیٰ دے دے۔یہ پریشانی تو بالکل دور ہوگئی۔ بے شک ان کو اُن کے مقابلہ میں ذبح عظیم کہنا درست ہے۔
مگر جناب! کیا کروں کہ میرے ذہن میں ایک اور پریشانی پیدا ہوگئی، ایک خلش اور پیدا ہوگئی ، وہ یہ کہ جس کا فدیہ ہو، اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ مقصودِ اصلی ہے اور جو فدیہ ہے، وہ ثانوی طور پر مقصود ہے۔ تو یہ پریشانی کسی اور کو نہ ہوتی ، ہم ہی کو ہوسکتی ہے کہ جنابِ اسماعیل بڑے جلیل القدر سہی لیکن ان کا فدیہ سید الشہداء ہوجائیں، یہ کچھ ذہن میں آنے والی بات نہیں ہے۔اب یہ خلش بہت بڑی ہے۔ حقیقت میں یہ خلش ہے ترجمہ کی غلطی کی وجہ سے کہ ”ب“ کو صلہ اور تادیہ قرار دے لیا ہے کہ ذبح عظیم کو ہم نے فدیہ بنایا۔ اس سے یہ پریشانی پیدا ہوئی۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ ہے ہی نہیں۔یہ ”ب“ تادیہ اور صلہ کا نہیں ہے۔ یہ ”ب“ بائے سبب ہے۔ ”فَدَیْنَاہُ“، ہم نے فدیہ بھیج دیا۔ بات پوری ہوگئی۔ ہمیں معلوم ہے کیا ہے؟ وہ وہی گوسفند تھا۔ ”فَدَیْنَاہُ“، یہ جملہ گویا مکمل ہوگیا کہ امتحان ہوگیا، کامیابی حاصل ہوگئی۔ ہم نے کہا کہ ہم نے فدیہ بھیج دیا اور وہ جو بھیجا، وہ ہمیں معلوم ہے کہ گوسفند ہے۔ اب وہ گویا کہتا ہے کہ ہم سے پوچھو کہ ہم نے کیوں وہ فدیہ بھیج دیا؟
چونکہ سنت ِ الٰہیہ یہ نہیں رہی ہے کہ وہ اپنے انبیاء و اولیاء کو خطروں سے بچایا کرے، اگر وہ انبیاء و اولیاء کو خطروں سے بچایا کرتا تو مثالِ استقلال کیونکر قائم ہوتی؟ زکریا کو آرے سے چیر ڈالا گیا تو آرے کو ان کے چیرنے سے نہیں روکا گیا۔اسی طرح یحییٰ کا سر قلم کیا گیا تو تلوار کو کند نہیں کیا گیا۔تو سنت ِ الٰہیہ یہ رہی ہے کہ انبیاء پر اگر حربے ہوں تو وہ کارگر ہوں۔ بچانا اُس کا اصول نہیں ہے۔ تو یہ آخر کیوں بچایا؟ فدیہ کیوں بھیجا؟ وہ کہتا ہے : سنو! ہمارا مقصد تو ہے مثالِ قربانی پیش کرنا۔ یہ اس جملے کی شرح ہے جو میں کررہا ہوں۔ مقصد خالق کا ہے قربانی کی عظیم سے عظیم مثال پیش کرنا۔ اگر یہ انتہائے نقطہ قربانی ہوتا تو ہوجانے دیا ہوتا تاکہ قیامت تک کیلئے مثال رہے۔ فدیہ نہ بھیجا جاتا۔ لیکن چونکہ علم الٰہی میں ایک اس سے عظیم ترقربانی آنے والی تھی اور وہ عظیم تر قربانی اسی کی نسل میں آنے والی تھی، لہٰذا ضرورت تھی کہ اس وقت عبوری دَورِ دنیا میں ایک مثال قربانی کی عزم و جزم کی حد تک لاکر چھوڑ دی جائے تاکہ پھر وہ نسل آئے جو اس سے زیادہ قربانیوں کی تاریخ مرتب کرے گی۔
اس کے معنی یہ ہیں کہ نبی زادے کو عافیت پسندی کیلئے نہیں بچایا بلکہ قربانی کو بلند تر قربانی کی خاطر روکا گیا تاکہ وہ بلند تر قربانی آجائے۔ اس وقت اس بیان سے”حُسَیْنُ مِنِّیْ وَاَنَامِنَ الْحُسَیْنِ“کے ایک خاص معنی سمجھ میں آتے ہیں۔ حسین مجھ سے ہے ، وہ تو نسبی طور پر، اور میں حسین سے ہوں، اگر حسین نہ ہوتے تو اسماعیل ذبح ہوگئے ہوتے یہ نسل ہی کب ہوتی۔تو اب میں’حُسَیْنُ مِنِّیْ وَاَنَامِنَ الْحُسَیْنِ“کا اُردو زبان میں ترجمہ کروں گا کہ حسین مجھ سے ہے ، یعنی میں نہ ہوتا تو حسین نہ ہوتے اور میں حسین سے ہوں یعنی حسین نہ ہوتے تو میں بھی نہ ہوتا۔
بس اہل عزا! اب اس سے الگ ایک خلش جو میرے دل کی تھی، وہ بھی دور ہوگئی۔ وہ خلش کیا تھی کہ اقبال نے تو ہمت کی شکوہ کرنے کی، ہر ایک کی ہمت نہیں ہوتی۔دل میں شکوے آتے ہیں، زبان سے کہنے کی جرأت نہیں ہوتی۔ تو میرے تو ذہن میں تھا ایک احساس شکوہ کا پیدا ہوتا تھا کہ پروردگار! خلیل کے فرزند کا فدیہ بھیج دیا اور حبیب کے فرزند کا فدیہ تو نے نہیں بھیجا۔
اگر آپ محسوس کریں تو آپ کے ذہن میں بھی ، چاہے آپ اس کا اظہار نہ کریں۔ یہ خلش پیدا ہونی چاہئے تھی مگر میری گزشتہ تشریح کی بناء پر یہ خلش بھی ذہن سے دور ہوگئی۔ خلیل کے فرزند کا فدیہ آگیا، اس لئے کہ اس سے بالاتر درجہٴ قربانی اللہ کے علم میں تھا۔ حسین کا فدیہ نہ آیا، اس لئے کہ اس کے بعد اس سے اونچا درجہٴ قربانی اب علمِ الٰہی میں نہ تھا۔بس اب بابِ مصائب ہے۔
اربابِ عزا! وہ ہے قربانیِ اسماعیل اور یہ ہے قربانیِ حسین ۔ دیکھئے ! قربانیِ اسماعیل میں کس کا امتحان ہے؟ باپ کا امتحان ہے کہ وہ قربانی کررہا ہے۔ بیٹے کا امتحان ہے کہ وہ قربان ہورہا ہے۔ کربلا میں حسین بوقت ِ واحد خلیل بھی ہیں اور ذبیح بھی ہیں۔یہ ذبیح ہیں رسول اللہ کی نسبت سے کہ پیغمبر خدا کی طرف سے یہ دین کی طرف سے قربان ہورہے ہیں اور یہ خلیل ہیں اپنے علی اکبر اور اپنے علی اصغر کے لحاظ سے بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ انہوں نے اٹھارہ اسماعیل راہِ خدا میں نذر کردئیے۔ کوئی کہے کہ کیا یہ سب اسماعیل تھے؟میں کہتا ہوں کہ میں کیا کروں؟ سید الساجدین علیہ السلام کی معصوم زبان پر عجیب جملہ ہے۔ جب منہال نے پوچھا کہ مولا کب تک گریہ کیجئے گا۔ تو سید ِسجاد نے فرمایا کہ یعقوب کے بارہ فرزند تھے، ایک فرزند نگاہ سے اوجھل ہوگیا تھا تو اتنا روئے کہ آنکھوں کی بصارت ختم ہوگئی اور میرے سامنے
بس یہ جملہ ہے جو عرض کرنا ہے۔ پوری روایت اس وقت عرض نہیں کرنی ہے۔ فرماتے ہیں: میرے سامنے تو اٹھارہ جوانانِ ہاشمی و عقیلی و جعفری ، جن کی مثل و نظیر روئے زمین پر نہ تھی، وہ سب قربان ہوگئے تو میں گریہ نہ کروں؟
تو اب آپ نے دیکھا کہ وہ اٹھارہ کیسے تھے؟ ایک اور پہلو کی طرف آپ کی توجہ دلاؤں۔ وہاں دکھا چکا ہوں سعی کی منزل میں کہ جب بچہ”فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہ السَعْیَ“، جب وہ سعی کی منزل میں پہنچا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ اس میں دونوں پہلو ہیں۔ کمسنی کا پہلو بھی کہ ابھی وہ جوانی تک نہ پہنچا۔ ایک عمر کے بڑھنے کا بھی پہلو کہ ایسا چھوٹا نہ تھا۔ ایسا تھا کہ چل پھر سکے ، باپ کا مددگار ہوسکے۔ یہ دو پہلو تھے اسماعیل میں جسے قرآن نے ایک لفظ میں جمع کیا تھا۔ میں دو جملوں میں مصیبت کے دو دفتر کھولے دیتا ہوں کہ وہ جو ذرا عمر کے بڑھنے کاپہلو تھا، وہ ترقی کرکے علی اکبر تک پہنچا اور وہ جو کمشنی کا ہے، وہ ترقی کرکے علی اصغر تک پہنچا۔وہ ذرا باپ کے مددگا رہوسکتے تھے کہ چل پھر سکتے تھے اور وہ بیٹا اگر قربان ہو جو باپ کا دست و بازو بن چکا ہو، مکمل جوان ہو! مشہور روایت کے مطابق اٹھارہ برس اور کچھ علماء کے نزدیک پچیس برس اور عباس کی عمربتیس(۳۲) برس یعنی دونوں تقریباً برابر کے جوان۔
میں نے کسی کتاب میں تو نہیں دیکھا ، عراق کے منبروں پر سنا ہے ، انہوں نے کہیں دیکھا ہوگا کہ یہ عباس و علی اکبر دونوں جوان اور نوجوان کیسے تھے کہ جب مدینہ کے بازار میں نکلتے تھے تو جب تک سامنے رہتے تھے، خریدوفروخت موقوف رہتی تھی۔سب کاروبار بند ہوجاتا تھا۔ لوگ دونوں جوانوں کو دیکھنے میں مصروف رہتے تھے۔ چچا بھتیجے ایسے برابر کے جوان تھے۔ اب حسین کے دل کی خبر لیجئے کہ عباس جاچکے اور علی اکبر سامنے کھڑے ہیں۔
عموماً عشرئہ محرم کے بعد وہ اثر نہیں رہتا جو عشرئہ محرم کی مجالس میں رہتا ہے۔ مگر بحمد للہ آپ ہر مجلس میں یہ ثبوت دیتے ہیں کہ آپ کیلئے وقت کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔ ہر وقت آپ ویسا ہی اثر لے سکتے ہیں۔ ایک پہلو عرض کروں کہ خود کسی مصیبت کا ضبط کرنا اور اٹھا لینا آسان ہوتا ہے لیکن کسی تڑپتی ہوئی ماں کو دیکھنا ، کسی بلکتی ہوئی بچی کو دیکھنا، کسی روتی ہوئی بہن کو دیکھنا، یہ وہ ہے کہ جب صبروضبط کا بند ٹوٹ جاتا ہے۔ہم نے ایسے متحمل دیکھے ہیں کہ قبرستان میں جنازہ لے گئے ہیں، نہیں روئے۔ دفن کرکے آئے، نہیں روئے۔ مگر جب گھر پر آکر کسی بچی کو تڑپتا ہوا دیکھا، کسی ماں کو روتا ہوا دیکھ لیا تو اب گریہ طاری ہو گیا۔
اب ذرا غور کیجئے کہ جنابِ ابراہیم بڑے صاحب ِعزم مگر جب جانے لگے تو ماں کو نہیں بتایا کہ کہاں لئے جارہا ہوں۔ جنابِ ہاجرہ نے پوچھا کہ کہاں جارہے ہیں ؟ تو بالکل صحیح کہا کہ ایک دوست کے بلانے پر جارہا ہوں۔ خلیل اللہ تھے، ان کو یہ کہنے کا حق تھا کہ دوست کی فرمائش پر جارہا ہوں۔ اس کے بعد چھری اور رسی مانگی تو اب جنابِ ہاجرہ پریشان ہوئیں۔ کہا کہ یہ چھری اور رسی کیا کیجئے گا؟ کہا کہ دوست کے ہاں جارہا ہوں، ممکن ہے قربانی کی ضرورت پڑے۔پھر ہاجرہ خاموش ہوگئیں۔ اس کے بعد وہاں گئے، فدیہ آگیا۔ واپس آئے تو خیال کیا کہ اب بیا ن کر کے کیاکروں؟ اب تو روزِ قربانیِ اسماعیل عید بن چکا، اب ذکر کرکے کیا کروں!
چند دن کے بعد جنابِ ہاجرہ نے لباس کی تبدیلی کیلئے جو پیرہن اسماعیل کے جسم سے جدا کیا تو گلے پر ایک خط نظر آیا ، پوچھا:
یا خلیل اللہ! یہ خط کیسا ہے؟ اب جنابِ ابراہیم نے خیال کیا کہ اب تو کئی دن گزر گئے، پورا واقعہ بیان کردیا۔صاحب ِعقل بی بی تھیں، متوکل علی اللہ بی بی تھیں، کہا تو کچھ نہیں مگر نفسیاتی اثر یہ پڑا کہ اسی دن بیمار ہوگئیں اور اسی بیماری میں دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ یہ تصور کہ اگر فدیہ نہ آتا تو میرا بچہ ذبح ہوگیا ہوتا۔
میں کہتا ہوں کہ خبر لیجئے لیلیٰ کے دل کی۔ کیا جب علی اکبر چلے تو لیلیٰ کو نہیں بتایا کہ کہاں جارہے ہیں؟ خد اکی قسم! جانتی تھیں کہ جہاں سب گئے ہیں اور واپس نہیں آئے، وہیں علی اکبر بھی جارہے ہیں۔مگر یہ کارنامہ ہے ان کا ۔ ہوائے زمانہ کے خلاف باتیں ہیں۔ دنیا کردار کے ان پہلوؤں پر غو رنہیں کرتی کہ علی اکبر سا بیٹا چلا جائے ، جس کیلئے مولا اپنی جگہ کھڑے نہ رہ سکیں مگر لیلیٰ نے قدم خیمے سے باہر نہیں نکالا۔ ہاں! خیمے کے اندر بھی بیٹھا نہیں گیا، درِ خیمہ پر کھڑی رہیں۔