معراج خطابت
 
امربالمعروف،نہی عن المنکر
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”وَالْعَصْرِ۔اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۔اِلَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْابِالْحقِّ۔وَتَوَاصَوْبِالصَّبْرِ“۔
قسم ہے عصر خاص کی کہ یقینا انسان خسارہ میں ہے۔ اگر بات اتنے پر ختم ہوجاتی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ سبھی خسارے میں ہیں۔ چاہے انبیاء ہوں، چاہے اصفیاء ہوں، چاہے اولیاء ہوں، معصومین ہوں، سبھی خسارے میں ہیں۔ لیکن کلامِ الٰہی اتنے پر ختم نہیں ہوا بلکہ اس سے آگے بڑھا:
’اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۔ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُواالصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْابِالْحَقِّ۔
وَتَوَاصَوْبِالصَّبْرِ“۔
سب خسارے میں ہیں مگر جو ایمان لائیں، نیک اعمال کریں اور ایک دوسرے کو حق کی ہدایت کریں اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کریں۔ اب جب”اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ“کہنے کے بعدبلا فاصلہ یہ جملہ آگیا”اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا“کا، تو ہمیں اس ”اِلَّا“کی خصوصیت بہت شروع سے معلوم ہے کہ یہ ”اِلَّا“کا لفظ عربی میں کیا کام کرتا ہے۔ وہ یہ کام کرتا ہے کہ زمین نفی و اثبات میں انقلاب پیدا کردیتی ہے۔ یعنی اگر قبل میں نفی ہے تو بعد میں ثبوت ہوجاتا ہے اور اگرقبل میں ثبوت ہے تو بعد میں نفی ہوجائے گی۔ شروع سے میں نے کہا، کیوں؟ دین کی پہلی منزل”لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ“۔ اب اگر بات اتنے پر ختم ہوجائے ،ماویین کا کلمہ ہو، دہریوں کا کلمہ ہو تو خاص الخاص سات سمندر پار کے کمیونسٹوں کا کلمہ ہو اور یہ قیدیں اتنی کیوں لگائیں ،اس لئے کہ وہ ہیں خاص الخاص کمیونسٹ اور باقی اور جگہ جو ہوتے ہیں، وہ بربنائے فیشن ہوتے ہیں۔ یعنی ایک وضع اب چلی ہوئی ہے، گویا ترقی پسندی کی علامت ہے تو اس بناء پر اصل منکر خدا تو وہی ہوتے ہیں جو وہاں خاص الخاص ہیں۔تو ان سب کا کلمہ یہ ہوتا۔ مگر جب اس کے ساتھ آگیا ”اِلَّااللّٰہ“، تو اب نفی ثبوت سے بدل گئی او رمعنی یہ ہوگئے کہ خدا ہے اور وہ کون ہے؟ اللہ ہے۔ اور آگے بڑھئے:
”وَمَااَرْسَلْنٰکَ اِلَّارَحْمَۃ لِّلْعٰالَمِیْن“۔
اگر بات اتنے پر ختم ہوجائے تو رسالت کی نفی ہوجائے۔ جس کا کام نبیوں کا بھیجناہے، وہ کہتا ہے کہ ہم نے آپ کو بھیجا ہی نہیں ہے لیکن جب اس کے ساتھ آگیا ”اِلَّارَحْمَةً لِّلْعَالَمِیْن“، نہیں بھیجا ہے ہم نے آپ کو مگر رحمت بنا کر تمام جہانوں کیلئے۔تو معلوم ہوا کہ بھیجا بھی ہے اور ہمہ گیر رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
اس کے بعد آگے بڑھئے:
”لَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا“۔
”میں تم سے کوئی اجر چاہتا ہی نہیں“۔
تو اگر بات اتنے پر ختم ہوجائے تو بس کوئی اجر نہیں چاہئے۔ مگر جب ”اِلَّاالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی“، سوائے صاحبانِ قرابت کی محبت کے ، تو معلوم ہوا کہ اجر چاہتے ہیں مگر خود نہیں ، خدا کے حکم سے۔مگر وہ ہے کیا؟ صاحبانِ قرابت کی محبت۔ تو اب ایک ہی ساخت کے تینوں جملے آپ کے سامنے آگئے۔ ”لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ“، کلمہ توحید۔ اس میں بھی نفی کے بعد ”اِلَّا“ کے ساتھ ثبوت۔”وَمَااَرْسَلنٰکَ اِلَّارَحْمَۃ لِّلعٰالَمِیْنَ“،کلمہ رسالت۔ اس میں بھی نفی کے بعد”اِلَّا“کے ساتھ ثبوت۔”لَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا“، کلمہ ولایت۔ اس میں بھی نفی کے بعد ”اِلَّا“ کے ساتھ ثبوت۔
اب ان سب میں تو پہلے نفی تھی تو ”اِلَّا“ کے ساتھ ثبوت ہوگیا۔یہاں پہلے ثبوت ہے:
”وَالْعَصْرِ۔اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ“۔
بے شک انسان خسارہ میں ہے۔ تو اب ”اِلَّا“ آیا تو اگر آگے سنیں بھی نہیں تو پتہ چل گیا کہ کچھ تو ہیں جو خسارے میں نہیں ہیں ورنہ ”اِلَّا“ آتا ہی نہیں۔اب وہ کون ہیں؟وہ یہ ہیں۔ تو اس ”اِلَّا“ کا قاعدہ ہوتا ہے کہ یہ آجائے تو نتیجہ پورے جملے کا نکالا جائے تو ہدایت ہوتی ہے اور”اِلَّا“ کے پہلے سے نکالا جائے تو ضلالت ہوتی ہے۔”اِلَّا“ کے پہلے بات ختم ہوجائے تو کفر ہوتا ہے،”اِلَّا“ کے بعد والی بات ملائی جائے تو ایمان ہوتا ہے۔ تو اب یہاں نتیجہ قبل والے سے نہیں نکالا جاسکتا کہ انسان خسارے میں ہے جب تک اس کے ساتھ ”اِلَّا“ نہ رکھا جائے۔تو اب”اِلَّا“ کے بعد نتیجہ یہ ہے کہ تمام نوعِ انسانی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ کچھ وہ ہیں جو خسارے میں ہیں، کچھ وہ ہیں جو خسارے میں نہیں ہیں۔خسارے میں وہ ہیں جو”اِلَّا“ کے بعد والے لوگوں کے علاوہ ہوں اور جو ”اِلَّا“ کے بعد ہیں، وہ خسارے میں نہیں ہیں۔
تو اب جب دو قسم کے لوگ ہیں تو ذہن یہ کہتا ہے کہ پھر یوں کیوں ہوا کہ خسارہ میں ہیں؟ مگر وہ جو ایمان لائیں، نیک اعمال کریں وغیرہ وغیرہ۔یوں ہوجاتا کہ سب انسان نفع میں ہیں، سوائے ان کے جو کافر ہوں، جو بداعمال ہوں ، جو باطل کی طرف لے جائیں، جو بے صبری کی دعوت دیں۔ کوئی کہے جب بات ایک ہی ہے، دونوں کا مطلب ایک ہے تو دل یہ کیوں چاہ رہا ہے کہ یوں ہوتا۔ یعنی کچھ خواہش ہے کہ یوں ہوتا ، جبھی تو یہ تصور پیدا ہوا۔تو یہ آخر دل کیوں چاہ رہا ہے کہ یوں ہوتا؟
تو اب یاد رکھئے کہ ذرا سی تبدیلی میں کلام کا نفسیاتی اثر بہت بدل جاتا ہے۔ اگر اس طرح ہوتا کہ سب نفع میں ہیں سوائے ان کے جو باطل کی طرف لے جائیں اور بداعمال ہوں ، تو اصل کلام ہوتا بشارت۔جونہی ہم سنتے کہ سب نفع میں ہیں، دل خوش ہوجاتا، طبیعت کھِل جاتی اور بالیدہ ہوجاتے۔ اب آیا کرتا کہ وہ جو کافر ہیں اور بداعمال ہیں تو ہم اسے غور سے سنتے بھی نہیں کہ وہ کوئی ہوں گے۔ہم سے کیا مطلب؟ لیکن جب یہ ہوا کہ سب انسان خسارے میں ہیں تو طبیعت بجھ گئی، دل افسردہ ہوگیا، ذہن پریشان ہوگیا۔اب بعد میں آرہا ہے کہ مگر جو ایمان لائیں، نیک اعمال کریں، جو حق کی ہدایت کریں، جو صبر کی تلقین کریں۔ وہ سب بعد میں آگیا تو وہ جو افسردگی پیدا ہوئی، وہ جو پژمردگی چھاگئی، وہ جو غم کے بادل اُمڈ آئے، وہ ایک دم کہاں دور ہوئے۔ کہنے والے نے کہہ دیا۔تھمتے تھمتے تھمیں گے آنسو۔ رونا ہے ، کوئی ہنسی نہیں ہے۔ ہنستی تو ایک دم سے ختم ہوجاتی ہے مگر رونا جو ہے، وہ ایک دم سے ختم نہیں ہوتا۔
تو اب جو غم طبیعت پر چھا گیا، تو بعد میں استثنیٰ ہوا بھی تو کیا؟ تو آخر وہ کیوں نہ ہوا؟ تو جو انسان کا دل چاہتاہے، اس کیلئے دلائل بھی اس کے ذہن میں آجاتے ہیں۔اب قرآن کی ایک آیت بھی جیسے ہمت بڑھارہی ہے کہ ہاں ! اگر یوں ہوتا تو جیسے زیادہ مناسب تھا۔ کیوں؟ اس لئے کہ قرآن میں ہے:
”سَبَقَتْ رَحْمَتُہ غَضَبَہ“۔
”اُس کی رحمت غضب سے آگے آگے ہے“۔
تو جو تقاضائے رحمت ہے، وہ پہلے بیان ہونا چاہئے اور جو تقاضائے غضب ہے، وہ بعد میں بیان ہونا چاہئے۔ مگر صاحب! اب کیا کیا جائے کہ یوں نہیں ہے۔ اسی طرح ہے۔ کلام اس کا ہے جس کے بارے میں یہ کہہ نہیں کستے کہ (معاذاللہ) غلط ہے۔ ارے بھئی! انبیاء کی منزل تک ترکِ اولیٰ بھی ہوسکتا ہے۔ خداکے ہاں تو ترکِ اولیٰ کی گنجائش بھی نہیں ہے۔
تو جو ہے، وہی سب سے بہتر ہے۔ یہ سوچنا ہی غلط ہے او ریہ تو عرفِ عام میں کچھ جملے ہیں ۔ تو یاد رکھئے وہ اگر سمجھ کر کہے جائیں، ارادتاً، تو وہ کفر بن جائیں۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بطورِ تکیہ کلام ہے۔یہ جیسے ایک محاورے کے طور پر ہے۔ بے سمجھے ہے، اس لئے کوئی فتویٰ جاری نہیں ہوتا۔ مثلاً بہت سی باتوں کو کہہ دیتے ہیں کہ کیا بے وقت یہ چیز ہوئی ہے۔ کسی کی موت کو کہہ دیا ، کیا بے وقت یہ موت ہوئی ہے۔ بارش کو کہہ دیا کہ یہ بے وقت بارش ہوئی ہے۔ یاد رکھئے کہ یہ بے وقت اور با وقت کا جائزہ ہمارا کام نہیں ہے۔ جو فاعل حکیم ہے اور اُسے باوقت سمجھ رہا ہے، اُسے ہمیں بے وقت سمجھنے کا کیا حق ہے؟
تو اب یہ تصور نہیں ہوسکتا۔ کلامِ الٰہی سمجھنے کے بعد یہ سوچنے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ اب یقینا پھر کوئی بات ہے کہ اس طرح نہ کہنا اور اُس طرح کہنا۔ تو اب جو میں نے سوچا تو سمجھ میں آیا کہ جو کہا گیا ہے، وہ بالکل عام اصول کے مطابق ہے۔ عام اصول یہ ہے کہ جو اکثریت کیلئے بات ہو، وہ بطورِ عموم بیان ہوتی ہے۔ جو اقلیت کیلئے ہو، وہ بطورِ استثنیٰ بیان ہوتی ہے۔ اگر یہ ہوتا کہ کفر کے مقابلہ میں ایمان زیادہ اور بداعمالی کے مقابلہ میں حسنِ عمل زیادہ اور باطل کے مقابلہ میں حق زیادہ اور بے صبری کے مقابلہ میں صبر کے نمونے زیادہ ہوتے تو اس طرح ہوتا۔ لیکن اس طرح اس لئے نہیں ہوا کہ کفر کے مقابلہ میں ایمان کم، بد اعمالی کے مقابلہ میں حسنِ عمل کے نمونے کم، باطل کے مقابلہ میں حق کم اور بے صبری کے مقابلہ میں صبر کم۔
میں کہتا ہوں کہ اس سے یہ فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اکثریت حقانیت کی دلیل نہیں ہے کیونکہ اگراکثریت حقانیت کی دلیل ہو تو ایمان کے مقابلہ میں کفر حق، حسنِ عمل کے مقابلہ میں بد اعمالی حق، حق کے مقابلہ میں باطل حق اور صبر کے مقابلہ میں بے صبری حق۔ ہاں غلط فہمی نہ ہو۔ یہ میں نہیں کہنا چاہتا کہ اقلیت حقانیت کی دلیل ہے کہ کوئی ایسا باطل جسے اتفاق سے ماننے والے کم ملے ، وہ اسے اپنی دلیل بنالے۔میں کہتا ہوں کہ حق حق ہے،چاہے ماننے والے زیادہ ہوں ، چاہے کم ہوں۔ یہ اکثریت اور اقلیت تو ہوا کے جھونکوں کی طرح بدلتی ہے۔ ایک دفعہ جسے زیادہ رائے ملتی ہے، دوسری دفعہ اُسی کو کم ملتی ہے۔یا اُس دفعہ اکثریت غلطی پر تھی یا اِس دفعہ غلطی پر ہے۔تو یہ تو ہوا کے جھونکوں کی طرح بدلتی ہیں اور حق وہ شے ہے جس میں تبدیلی نہیں ہے۔تو یاد رکھئے کہ جو بدلنے والی چیز ہے، اس کا معیار وہ ہونا چاہئے جو برقرار ہو۔ جو برقرار چیز ہے، اس کا معیار بدلتی ہوئی چیز نہیں ہوسکتی۔
اسی لئے یہ تصور غلط ہوگا کہ بہت سے لوگ دینی تعلیمات کو سائنس کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں اور بعض حامیانِ دین، دین کی خدمت یہی سمجھتے ہیں کہ جو سائنس کا نظریہ ہو، ثابت کرو کہ دین بھی یہی کہہ رہا ہے۔ مگر یہ بالکل غلط ہے، اس لئے کہ ہر سائنس دان کو معلوم ہے کہ سائنس کتنی کروٹیں بدلتی ہے۔سائنس میں کتنی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایک وقت اگر قرآن نے اس وقت کی سائنس کی تائید میں آپ کے ثابت کرنے سے سمجھا کہ وہ اس کے حق میں ہے تو جب وہ نظریہ بدل جائے گا تو اب آپ کو قرآن بدلنا پڑے گا اور قرآن وہ ثابت حقیقت ہے جس میں تبدیلی ممکن نہیں اورسائنس وہ چیز ہے جو بدلتی رہتی ہے۔ لہٰذا جو بدلنے والی چیز ہے، اس کو ثابت حق کی کسوٹی پر پرکھئے۔
یہ اندازِ بیانِ قرآنی خود بتارہاتھا کہ یہ جماعت کتنی کم ہے کہ اس کا بیان بطورِاستثنیٰ ہوتا ہے ۔اب اس کے بعد عربی میں دو حرفِ عطف ہیں۔ ہیں تو بہت سے مگر مجھے جن سے مطلب ہے، وہ دو ہیں۔ ایک” اَوْ“ اور ایک”واؤ“، بغیر الف کے۔ ان دونوں کے کیا معنی؟ ”اَوْ“ معنی یا۔ یا یہ یا یہ۔ واؤ کے معنی اور۔ آپ کے ہاں بھی بہت مثالیں ہیں۔ تو ان میں اگر کسی صورت سے یوں ہوتا۔ وہاں دل چاہ رہا تھا اس طرح۔ اب یہاں دل چاہ رہا ہے کہ اس طرح ہوتا:
”اِلَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْااَوْعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ اَوْتَوَاصَوْابِالْحَقِّ اَوْتَوَاصَوْابِالصَّبْرِ“۔
سب خسارے میں ہیں سوا ان کے جو ایمان لائیں یا نیک اعمال کریں یا حق کی ہدایت کریں یا صبر کی تلقین کریں۔
تو یوں ہوتا تو پھر بھی اتنی اقلیت نہ رہتی۔ دوسرے لفظوں میں کہوں کہ بہشت اتنی خالی نہ رہتی۔اس کی آبادی میں کچھ تو اضافہ ہو جاتا، اس لئے کہ ہر جگہ ایمان لائیں یا نیک اعمال کریں یا حق کی ہدایت کریں۔ تو میری تو چونکہ عمر درسگاہ میں گزری ہے، ۲۷ برس لکھنوٴ یونیورسٹی میں رہا، ۱۵برس مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ میں رہا۔ تو میرا سابقہ طلباء ہی سے رہا ہے۔ ان کی مثالیں بھی یاد آتی ہیں۔تو جناب بی اے وغیرہ کے امتحان میں بعض مضامین لازمی ہوتے ہیں، بعض اختیاری ہوتے ہیں اور وہ مضامین جو اختیاری ہوتے ہیں، ان میں ہر ایک کو لینے کا بھی حق ہے، ہر ایک کو چھوڑنے کا بھی حق ہے۔ اب ان اختیاری مضامین میں سے کسی نے اس کو لیا اور کسی نے اُس کو نہیں لیا۔ تو کسی کو اعتراض کا حق نہیں کہ تم نے اسے کیوں لیا اور کسی نے اُس کو کیوں نہیں لیا۔کہا کہ ہمیں یہی پسند ہے، یہی آسان ہے۔کسی نے اس کو لیا، اس کو نہیں لیا تو کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے، اُس کیلئے وہی آسان ہے، اس کو وہی پسند ہے۔
اس طرح سے پرچے جو دئیے جاتے ہیں، تو چونکہ مقصود تو اساتذہ کا یونیورسٹی کے کرتا دھرتا حضرات کا یہ نہیں ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ فیل ہوں، اس میں ادارہ کی بھی بدنامی ہے اور پھر طلباء کیلئے آسانیاں پیدا کی جاتی ہیں۔ دس سوال دئیے جاتے ہیں کہ ان میں سے کم سے کم پانچ سوالوں کے جواب مطلوب ہیں۔ اب وہ طالب علم اس وقت دیکھتا ہے کہ میرے لئے کون سے آسان ہیں یا مجھے کون سے یاد ہیں۔اب جو آسان ہوئے یا جو یاد ہوئے ، ان پر اس نے لال پنسل سے نشان بنا دیا کہ مجھے یہ کرنے ہیں۔ دوسرے طالب علم نے کسی دوسرے پر نشان بنادئیے جو اُسے یاد ہیں۔ نہ اُسے اس سے جھگڑا کرنے کا حق، نہ اُسے اس پر اعتراض کرنے کا حق۔اسے وہ پسند ہیں، اسے یہ پسند ہیں۔اس کو اس میں آسانی ہے، اُسے اس میں آسانی ہے۔
تو اگر یہ ہوتا کہ ایمان لائیں یا نیک اعمال کریں یا حق کی دعوت دیں یا صبر کی تلقین کریں، تو جناب میں تو اپنی کہتا ہوں، اس میں غور آپ بھی کریں کہ آپ اس میں شریک ہیں یا نہیں۔ میں تو لال پنسل سے”اٰمَنُوْا“پر نشان بنادیتا۔ یہی زیادہ آسان ہے کیونکہ دل کو شگافتہ کرکے کون دیکھے گا کہ ایمان ہے یا نہیں؟ تو ایمان کا مضمون لے لیتا۔ اب جب ایمان کا مضمون لے لیا تو اب کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ نماز کیوں نہیں پڑھتے کیونکہ وہ تو عملِ صالح کا جزو ہے۔ ہم نے وہ مضمون لیا ہی نہیں ہے۔ اب آپ ہم سے کیوں کہہ رہے ہیں کہ نماز بھی پڑھو؟ آپ ہم سے نہ کہئے کہ روزہ کیوں نہیں رکھتے، اس لئے کہ وہ بھی عملِ صالح ہے۔ ہم نے عملِ صالح چھوا ہی نہیں ہے۔ہم نے اس پر نشان ہی نہیں لگایا ہے اور اسی طرح اور منھیات۔یہ نہ کہئے کہ دوسرے کا مال کیوں لیتے ہو؟ یہ تو سب عملِ صالح کا جزو ہیں۔ کچھ منفی ہیں، کچھ مثبت ہیں۔کچھ اوامر ہیں، کچھ نواہی ہیں۔ ہم نے وہ شعبہ ہی نہیں لیا ہے جو اس مصیبت میں پھنسیں۔ لہٰذا بس یہ دیکھ لیجئے کہ”اٰمَنُوْا“۔
بحمدللہ! ہماری پوری جماعت کا لقب ہے موٴمنین کرام۔ تو ادھر مردم شماری کے رجسٹر میں اس فرقہ میں نام آیا۔خانہٴ مذہب میں اپنا نام آیا۔ ادھرموٴمنین تو ہوگئے او رجب موٴمنین ہوگئے تو پھر عملِ صالح سے کیا واسطہ۔ لیکن اگر آپ نے یہ جزو پسند کرلیا اور اپنے ذمہ لے لیا تو پھر دوسرے کو حق ہے کہ وہ نشان عملِ صالح پر لگائے۔ پھر اب اس سے ایمان کا مطالبہ نہ کیجئے گا۔ یہ دیکھ لیجئے کہ مسجدیں تو خالی نہیں رہتیں۔ یہ دیکھئے کہ نماز کے وقت کیسی تیزی سے دوڑتے ہیں۔ یہ دیکھئے کہ حج میں کتنے آدمی جاتے ہیں۔ اب یہ نہ کہئے گا کہ کیا فائدہ؟ ایمان تو ہے نہیں، جی! آپ کو ایمان سے فائدہ ہوگیابغیر عملِ صالح کے او رکسی کو عمل صالح سے فائدہ نہ ہوا بغیر ایمان کے۔اصول تو ایک ہوتا ہے۔ آپ کو یہ مضمون پسند ،کسی کو دوسرا مضمون پسند۔ اس نے عمل صالحات لے لیا ہے، ایمان سے بحث نہیں ہے۔ اگر بحث نہیں ہے تو آپ کو کیا ہے؟ اور ابھی بات ختم نہیں ہوئی ہے۔
”اَوْتَوَاصَوْابِالْحَقِّ“۔
اب ہمارے جیسے واعظانِ بے عمل کیلئے بڑی آسانی ہے جس کو اللہ نے قوتِ تقریر عطا کی، وہ گیا اورد عوتِ حق دینا شروع کردی، اس لئے کہ اللہ نے زبان عطا کی ہے اور زبان میں قوتِ تقریر ہے اور دعوتِ حق تو زبان سے ہوتی ہے۔ دیکھ لو کہ ہماری زبان دعوتِ حق دینے سے رُکتی تو نہیں ہے ۔اب یہ نہ دیکھو کہ ہم بھی حق پر ہیں یا نہیں۔ اب ہم میں ایمان تلاش نہ کیجئے گا اور ہم میں عمل صالح بھی تلاش نہ کیجئے گا کہ ہم نے تیسرے مضمون پر لکیر لگائی ہے۔ ہم نے اسے اپنایا ہے۔ اب جب”تَوَاصَوْابِالْحَقِّ“ہے اور اس پر ہمارا عمل ہے تو ہمیں نہ ”اٰمَنُوْا“ سے مطلب نہ ”عَمِلُوْاالصّٰلِحٰت“سے غرض، نہ ”تَوَاصَوْابِالصَّبْرِ“سے مطلب۔ صرف”تَوَاصَوْابِالْحَقِّ“دیکھئے۔کتنا عمدہ ہوجاتا ہے ، کتنی عمدہ ہم تقریر کرلیتے ہیں، حق کی دعوت دیتے ہیں۔
اب اس کے بعد جانچ نہ کیجئے گا ہمارے کسی اعتقاد و عمل کی۔ اب اس کے بعد”تَوَاصَوْابِالصَّبْرِ“۔ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ اب جو مطلب صبر کا ہم سمجھیں۔ کسی کو آنسو بہاتے ہوئے دیکھا ، کہا: خبردار! صبر کرو، آنسو بہانا خلافِ صبر ہے۔زبان سے آہ سنی، انہوں نے کہا: ہائیں! خلافِ صبر ہوگیا۔اب عمر گزری دعوتِ صبر دیتے ہوئے۔ اب آپ ہم سے ایمان بھی چاہتے ہیں، عمل صالح بھی چاہتے ہیں، وصیت ِحق بھی چاہتے ہیں۔ اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ہم نے تو صبر کے شعبہ کو لیا ہے۔ وصیت ِصبر دوسروں کو کرتے ہیں، چاہے خود کتنے ہی بے صبرے کیوں نہ ہوں۔
تو اب جب یہ سب میں نے عرض کردیا تو آپ میں سے کسی کا ضمیر یہ قبول نہیں کرتا کہ یہ ٹھیک ہے۔ ”اَوْ“، ”اَوْ“ کہنے کے بعد تو یہ آسانیاں ہوتیں لیکن اب میں کیا کروں کہ وہاں تو ہے:
”اٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْبِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْابِالصَّبْرِ“۔
سب خسارہ میں ہیں سوا ان کے جو ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں اور ایک دوسرے کو حق کی ہدایت کریں اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کریں۔
اب ”اور“ کے معنی ہوتے ہیں مطالبہ اجتماع۔ میں کہوں کہ آپ اور آپ کل تشریف لائیے گا تو میں آپ سے ایک خاص بات کہوں گا۔ اب دوسرے دن اکیلے آپ آئے ہیں۔ میں کہوں گا جناب! میں نے تو کہا تھا کہ آپ اور آپ ۔اب وہ شرط تو پوری نہیں ہوئی۔
وصیت ِحق بھی ہو بقدرِ ضرورت۔ یہ ضرورت نہیں ہے کہ وہ منبر پر جاکر ہی خطبہ پیش کرسکے، نہیں۔جیسی زبان سے ، جیسے انداز سے وہ حق کی طرف دعوت دے سکتا ہو، اس انداز سے وہ دعوت دے اور”تَوَاصَوْابِالصَّبْرِ“، دوسروں کو بھی صبر کی دعوت دے۔ اگر مزید کہیں بیان ہوا تو عرض کروں گا کہ صبر کی دنیا کتنی وسیع ہے۔ اس میں کتنی چیزیں داخل ہوتی ہیں۔ تو اب یہ تمام چیزیں ہوں تو خسارے سے بچاؤ اور اگر ان میں سے ایک بھی نہ ہو تو آئینی طور پر تو حکمِ سابق بحال۔ ہاں تفضل خالق پر مجھے پہرہ لگانے کا حق نہیں۔ خسارے سے بچنے کا استحقاق نہیں ہوسکتا۔
تو چاروں ہوں ،ایمان بھی، عمل صالح بھی، ایک دوسرے کو حق کی ہدایت بھی اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین بھی، یہی ”تَوَاصَوْابِالصَّبْر“جو ہے، وہ امربالعمروف اور نہی عن المنکر ہے کہ جس راستے کو تم صحیح سمجھتے ہو، تو دوسرے کو بھی اس کی دعوت دو۔دوسرا کوئی غلط راستے پر جارہا ہے تو اُس کو بتاؤ کہ یہ غلط راستہ ہے۔ اُسے روکنے کی کوشش کرو۔ یہ سب چیزیں ”تَوَاصَوْابِالصَّبْر“کے تحت ہیں۔ تو یہ سب باتیں ہر آدمی کا فریضہ عینی ہیں کہ ایمان بھی شرط، عمل صالح بھی شرط، حق کی طرف ہدایت بھی شرط اور صبر کی تلقین بھی شرط۔ یہ تمام چیزیں بحیثیت مجموعی شرائط میں سے ہیں، خسارے سے بچنے کیلئے۔
جب میں غور کرتا ہوں تو یہ سب اوصاف آپس میں دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ ایمان اور عمل صالح میں باہمی تعلق کیا ہے؟وہ تو وہ ہے کہ ہمارے علماء نے بچوں تک کو سکھانے کے واسطے محاورہ قائم کیا ہے،اصولِ دین اور فروعِ دین۔کیا معنی؟ بچوں کو معنی بھی اس کے بتائے جاتے ہیں۔اصولِ دین: دین کی جڑیں۔ فروعِ دین: دین کی شاخیں۔اب جڑ اور شاخ میں جو باہمی تعلق ہے، وہ اصولِ دین اور فروعِ دین میں ہے۔ اصولِ دین کو دیکھئے تو وہ نمایاں طور پرعقائد کا مجموعہ ہے اور فروعِ دین کو دیکھئے تو وہ تمام اعمال کا مجموعہ ہے۔ گویا وہ ”اٰمَنوْا“کے لفظ کی تشریح ہے اور یہ ”عملواالصلحٰت“کے لفظ کی تمثیل ہے۔دونوں جیسے وہاں برابر کے جملے، ویسے ہی یہ دونوں برابر کے حکم، اصولِ دین اور فروعِ دین۔
تو اب یہ جڑیں اور شاخیں۔ ان کی خصوصیات دیکھئے۔ جڑیں عموماً پردئہ زمین میں تہہ خاک پھیلتی ہیں۔ اس کے رگ و ریشے زیر زمین پھیلتے ہیں ۔ آنکھوں کے سامنے جو ہوتی ہیں، وہ شاخیں ہوتی ہیں۔ یونہی عقائد ِحقہ دل و دماغ کی اندرونی زمین میں ، ان کے رگ و ریشہ میں پھیلتے ہیں اور اعمالِ صالحہ ہے جو شاخوں کی صورت میں اعضاء و جوارح سے نمودار ہوتے ہیں۔ تو اب صدقِ دل سے سوچئے کہ اگر شاخیں خشک ہیں یا وجود ہی نہیں رکھتیں تو کیا اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جڑیں ہی کمزور ہیں یا وجود ہی نہیں رکھتیں۔
ارے جناب! آثار سے موٴثر پہچانا جاتا ہے۔ نتائج کو دیکھ کر اسباب کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ جب شاخیں نظر نہیں آرہی ہیں تو لازمی طور پر ماننا پڑے گا کہ دل و دماغ کی زمین میں اصول نہیں ہیں۔ اب اگر عقائد حفظ ہیں تو یہ باپ دادا کے سکھائے ہوئے زبان پر ہیں اور اگر افعال اس کے مطابق ہیں ، وہ رسم و رواج کے ماتحت ہیں۔ ورنہ اگر دل و دماغ کی تہوں میں وہ تصورات مضمر ہوں تو ممکن ہی کیونکر ہے کہ اعضاء و جوارح سے اس کی زندگی کا اثر نمودار نہ ہو۔
اب ہر ایک اندازہ کرے کہ جب شاخیں افسردہ ہوں ، پژمردہ ہوں تو کیا پانی لا کر اس میں شاخوں کو ڈبویا جاتا ہے؟ کچھ نہیں ہوگا۔ شاخیں اگر کمزور ہیں تو جڑ کی خبر لیجئے۔ جو کچھ پانی دینا ہو تو جڑ کو دیجئے۔ جب اس میں زندگی ہوگی تو خود بخود شاخیں پید اہوجائیں گی۔ یاد رکھئے کہ اگر صحیح مصرف میں استعمال ہوں تو یہ ہماری مجالس جڑوں ہی میں پانی دینے کیلئے ہیں۔
مگر وہی بات ہے کہ اگر ہم مجالس بھی کررہے ہیں او رپھر بھی شاخیں خشک ہی نظر آرہی ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہماری مجالس رسمی طور پر ہیں۔ ہماری مجالس بھی اس مقصد کو حاصل نہیں کررہی ہیں جو مقصد اِن مجالس کا تھا۔ یہ تو اس صور ت میں ہے کہ جب اصل پژمردہ ہے۔ یہ ثابت ہوگیا کہ شاخوں کے پژمردہ ہونے سے یا شاخوں کے نہ ہونے سے اور اگر اصل نہیں ہے یعنی ایمان دل و دماغ کے اندر نہیں ہے اور شاخیں ہیں بڑی تروتازہ، بڑی گھنی، تو یاد رکھئے کہ پھر یہ شاخیں نمائشی ہوں گی۔ وہ شاخیں جو اصل سے متصل نہیں ہیں، وہ شاخیں نمائشی ہوں گی اور نمائشی شاخوں کی خاصیت ہے کہ بیکار نہیں ہوتیں۔وہ نمائشی شاخیں بھی زینت ِچمن کا کام دیتی ہیں۔ رونق گلزاراِن سے ہوجاتی ہے۔ لیکن یاد رکھئے کہ وہ حوادثِ زمانہ کے تیز و تند جھکڑکو برداشت نہیں کرسکتیں۔ متوازن حالات رہیں تو وہ شاخیں لگی رہیں گی، برقرار رہیں گی اور ذراا گرکٹھن منزل ہوئی ، کوئی انقلاب کا سخت جھونکا آیا تو وہ شاخیں تتر بتر ہوجائیں گی۔کوئی کہیں ، کوئی کہیں ۔ معلوم ہوگیا کہ شاخیں تھیں
مگر جڑیں نہیں تھیں۔
تو حضورِ والا! یہ ہوں گی وہ شاخیں جو بغیر اصول ہوں اور دوسری خاصیت یہ ہے کہ چمن کی رونق ہو جائے گی، زینت ِکاشانہ ہو جائے گی لیکن ان شاخوں سے ثمرحاصل نہیں ہوسکتا۔ ثمر انہی شاخوں سے حاصل ہوسکتا ہے جن کا تعلق جڑوں سے ہو۔ پھر جیسی شاخیں ہوں، اگر پژمردہ ہیں تو ثمر بھی اس کے پژمردہ ہوں گے۔ اگر زندہ شاخیں ہیں تو ثمر بھی زندہ ہوں گے۔تو ثمر ان شاخوں سے نہیں مل سکتے جو بغیر اصول ہوں۔ مگر اصل سے بھی ثمر ملے گا تو شاخوں کے ذریعہ ہی ملے گا۔
اسی بناء پر دیکھئے جو جو چیزیں ہیں۔ جنت ہے، ہر مسلمان کی تمنا اور نعماتِ جنت ، وہ سب جنت کے ساتھ ، حوروقصور ، کوثر و تسنیم۔ جو کچھ بھی ہے، سب کچھ۔ جنت بھی ہری بھری چیز ہے اور تمناؤں کے سبز باغ بھی ہرے بھرے ہیں۔ توکون مسلمان ہے جو ان سبز باغوں کو نہیں دیکھ رہا ہے۔ جنت وہاں دیکھے گا، سبز باغ یہاں دیکھ رہا ہے۔ وہاں کی خبر خدا جانے، یہاں کی خبر خود اس کے ہاتھ میں ہے کہ تمنائیں ہیں، آرزوئیں ہیں، ہر ایک مسلمان کی۔بہشت، عنبر، سرشت، کس مسلمان کی آرزو نہیں مگر میری ایک کتاب بھی نکلی ہے”وعدئہ جنت“۔ اس میں ۹۳ آیتیں قرآن مجید کی جمع کرکے میں نے پیش کی ہیں کہ ہر جگہ جنت کا وعدہ عمل صالح کے ساتھ مشروط ہیں اور کوئی ایک آیت مجھے نہیں ملی جس میں تنہا ایمان پر عمل صالح کے بغیر جنت کا وعدہ ہو۔
تو صاحب! جس کے ہاتھ میں جنت ہے، اُس نے وعدہ تو ان دو شرائط کے ساتھ کیا ہے۔ اب ہم کس دستاویز سے جنت کا مطالبہ کریں گے؟ تو ایمان اور عمل صالح دونوں درکار ہیں۔ اب مسلمان بہرحال سہولت پسند آدمی ہے۔ لہٰذا تمام مسلمانوں نے متفقہ طور پر اپنا لقب اُمت ِمرحومہ رکھ لیا ہے۔بحیثیت مسلمان ہمارا محاورہ ہے۔ بحمدللہ اُمت ِمرحومہ میں سے ہونے کا میں بھی دعویدار ہوں۔تو سب اُمت ِ مرحومہ۔پوری اُمت، اُمت ِمرحومہ۔تو دل کو لگتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ رحمة للعالمین کی بدولت ہم سب اُمت ِمرحومہ قرار پاتے ہیں۔ تو یہ جبھی تو ہوگا کہ جب ہمارا اور رحمة للعالمین کا راستہ ایک ہو۔ یعنی جس طرح ان کا رُخ ہے، ہمارا رُخ بھی اسی طرف ہو۔ تب تو جو رحمت ِالٰہی کی گھٹا اُٹھے گی اور ان پر برسے گی، تو کچھ نہ کچھ ہم تک بھی آجائے گی۔لیکن اگر خدانخواستہ ہمارا اور ان کا راستہ الگ ہوگیا ، وہ اُدھر جارہے ہیں اور ہم اِدھر جارہے ہیں، تو اب بتائیے رحمت ِ الٰہی آئے گی تو اُدھر جائے گی یا اِدھر آئے گی؟پھر یہ کہ اُمت ہونا ایک رشتہ ہی تو ہے۔ تو اگر ہم خود کو رسول کی اُمت کہیں تو رسول بھی تو ہمیں اپنی اُمت مانیں ورنہ یک طرفہ دعویٰ ہوگا۔ ہم لاکھ کہہ رہے ہیں کہ ہم رسول کی اُمت ہیں اور پیغمبر ہمیں اپنی اُمت نہیں سمجھتے۔رسول کی زبانی ایک اعلان ہے:
”مَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہ مِنِّی“۔
”جو میری پیروی کرے، وہ مجھ سے تعلق رکھتا ہے“۔
اس کے معنی یہ ہیں کہ جو پیروی نہ کرے، وہ مجھ سے تعلق ہی نہیں رکھتا۔ تو اُمت ہونے کا کیا ذکر؟ اس کے بعد ایک سخت تر منزل ہے۔ نازک تر منزل۔وہ یہ کہ پیغمبرخدا فرمابھی دیں ”میری اُمت“، تو اللہ بھی تو مانے پیغمبر کی اُمت۔چونکہ نجات اُس کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی کہے کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ پیغمبر خدا فرمائیں میری اُمت اور اللہ اس کونہ مانے۔ اُن کی اُمت نہ سمجھے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر یہ نہیں ہوسکتا تو حضرت نوح بھی تو پیغمبر تھے اور اولوالعزم پیغمبر تھے۔ وہ بارگاہِ الٰہی میں کہہ رہے تھے:
”اِنَّ اِبْنِیْ مِنْ اَھْلِیْ“۔
”میرا بیٹا میرے اہل سے ہے“۔
دُہری دُہری نسبتیں اپنی طرف دے رہے تھے۔ بیٹا ہونے ی نسبت بھی، میرا بیٹا۔ دوسری نسبت اہل کی کہ میرا اہل۔ تو خالق نے پہلی نسبت کی نفی نہیں فرمائی،یہ نہیں فرمایا کہ :
”اِنَّہ لَیْسَ بِاِبْنِکَ“۔
”یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے“۔
وہ نسبت برقرار۔ یعنی بے شک ہے تمہارا بیٹا لیکن:
”اِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُصَالِحٍ“۔
”یہ اعمال اچھے نہیں رکھتا“۔
معلوم ہوا کہ عمل غیر صالح ایسی چیز ہے جو بیٹے کو اہل سے خارج کردیتا ہے۔ تو اُمت ہونا کیا چیز ہے؟ اب یوں ماشاء اللہ آپ کی محبت اور توجہات اور پھر احساس اور شعور بھی ایک حد تک بیدار ہوگیا ہے۔کارآمد چیزیں بھی کبھی کبھی سن لینی چاہئیں اور آپ سن رہے ہیں۔ لیکن یہ کہ وہ بہت تلخ باتیں ہیں جو ابھی تک کرتا رہا ہوں۔ اب ذرا ذہن آپ کا متوجہ کردوں، آپ کے ایک مطلوبہ شیعہ بیان کی طرف،وہ بھی حقیقت ہے اور حق ہے۔ میں کہتا ہوں جس رسول کی زبانی یہ اعلان ہوا کہ بیٹااس لئے اہل نہیں ہے کہ اس کے اعمال صحیح نہیں ہیں، تو اب رسول اگر سبز چادر کے نیچے لے کر کسی کو اگر کہے گا کہ پروردگار! یہ میرے اہل ہیں تو وہ صرف رشتہ داری کی بناء پر نہیں ہوگا۔ وہ ان کے عمل کے معیار کو دیکھ کر ہوگا۔
تو حضورِ والا! میں نے قرآن سے مثال پیش کردی ہے اور ہم میں ہر فرد بحمدللہ مسلمان ہے اور قرآن کو مانتا ہے۔لہٰذا شاید لاجواب تو ہوجائے، کہے کچھ نہیں۔ لیکن یہ بات حلق سے اُترے گی نہیں یعنی دین میں کچھ ایسے ہوگا کہ ہاں!حضرت نوح تک تو یہ ہوگیا۔ اب کیا کریں قرآن میں ہے تو ماننا پڑے گا کہ ایسا ہوگیا۔ لیکن ہمارے رسول کہیں میری اُمت اور پھر اللہ نہ مانے ان کی اُمت۔ یہ کیونکر ہوسکتا ہے؟ایک مسلمان کا دل شاید اب بھی قبول نہ کرے۔ مگر آئیے ہمارے اور آپ کے رسول ، صحاحِ ستہ میں، یہ لفظ اعتما دکیلئے کافی ہے۔ اس کی وقعت جمہورِ اُمت میں مسلّم ہے۔ پھر صحیحین ، اور مرتبہ اونچا ہوا اور ان میں بھی صحیح بخاری۔ یوں تو تمام صحاح کی متفقہ ہے مگر صحیح بخاری میں مختلف ابواب میں بمناسبت، تیرہ جگہ یہ حدیث موجود ہے۔ اب میں الفاظِ حدیث پڑھ رہا ہوں، چونکہ تیرہ جگہ ہے یہ حدیث،لہٰذا کسی راوی نے کسی لفظ کو کسی طرح کہا ہے، کسی نے کسی طرح۔ مگر مضمون ایک ہی ہے اور جو الفاظ مجھے یاد ہے، وہ صحیح بخاری میں بھی ہیں۔ وہ پڑھ رہا ہوں کہ پیغمبر خدا ارشاد فرمارہے ہیں:
”یَرِدُ عَلَیَّ اُنَاسٌ مِنْ اُمَّتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ“۔
صحاحِ ستہ کا لفظ تو وقعت پیدا کرنے کیلئے ہے ور نہ شہرتِ عام کے لحاظ سے کہہ رہا ہوں کہ مشکوٰة شریف میں بھی ہے جو نصاب میں بھی داخل ہے۔اُمت کے کورس میں ہے۔
”میرے پاس روزِ قیامت میری اُمت کے کچھ افراد لائے جائیں گے“،
اُمتی کا لفظ سب کیلئے ہے۔ بلا استثنیٰ پوری جماعت کیلئے اُمتی کا لفظ ہوگیا۔ رسول کی طرف سے نسبت ہوگئی۔ مگر اب کیا ہوتا ہے؟
”میری اُمت میں سے کچھ لوگ میرے پاس لائے جائیں گے“۔
یاد رکھئے وہ عام برتاؤ جو ہے مسجد میں آنے دینا، اپنے پہلو میں بیٹھنے کی اجازت دینا، اپنے گردوپیش انہیں وقت دینا، جتنا وقت چاہیں، صرف کریں، وہ سب رسالت کے فریضہ کا آئین ہے جس میں اسبابِ ظاہری پر حکم مبنی ہوتا ہے اور یہ قیامت کے سلسلہ میں جو بات ہے، وہ علم غیب پر مبنی ہے جو اللہ کا دیا ہوا ہے۔ٹکرائیے گا کہ یہاں تو یہ کہہ رہے ہیں ، وہاں اپنی جماعت میں شامل کئے ہوئے تھے۔ وہ ان کے آئین کا تقاضا ہے، یہ ان کے علم کا تقاضا ہے۔ فرمارہے ہیں:”میرے پاس روزِ قیامت میری اُمت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے“، کہاں؟ حوضِ کوثر پر۔ جس اُمید سب کو ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی کسی کو ساقی کہے، کوئی کسی کو کہے۔ مگر پیاس سب کو ہے، تشنگی بھی سب کو ہے۔تو جناب! حوضِ کوثر پر میرے پاس میری اُمت میں سے کچھ لائے جائیں گے۔ آئیں گے یا آنا چاہیں گے؟ظاہر ہے کہ حوضِ کوثر پر کیوں آئیں گے؟ اس لئے کہ پیاسے ہیں۔ اس لئے کہ پانی کے طلبگار ہیں۔
”فَیُحَالَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَھُمْ“۔
”لیکن میرے اور ان کے درمیان حائل ہوجایا جائے گا“۔
یعنی کچھ رکاوٹیں بیچ میں ڈال دی جائیں گی۔ اب پردے پڑجائیں۔ فرشتوں کی صفیں بیچ میں حائل ہوجائیں، کیا ہو؟ اللہ جانے۔
پیغمبر نے صحیفہٴ مجہول استعمال فرمایا ہے ۔”فیحال“حائل سے۔ سد ِ راہ۔”بینی و بینھم“، میرے اور ان کے درمیان حائل ہوجایا جائے گا۔ نتیجہ یہ ہے کہ پہنچنے نہ دیا جائے گا۔
”فَاَقُوْلُ یَارَبِّ اَصْحَابِیْ اَصْحَابِیْ“۔
”میں کہوں گا: پروردگار! یہ تو میرے اصحاب ہیں، میرے اصحاب ہیں“۔
او ر کہوں گا:
”یَارَبِّ اَصْحَابِیْ اَصْحَابِیْ ثَلا ثاً“۔
تین مرتبہ کہوں گا”فَیُقَالُ“، مگر کہا جائے گا:
”آپ تو آئین کے پابند رکھے گئے تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا ہے؟یہ لوگ پچھلے پیروں اپنے پرانے طریق پر پلٹ گئے تھے“۔
اب دیکھا آپ نے رسول دہری دہری نسبت دے رہے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہیں، یہ اس لائق نہیں ہیں کہ آپ تک پہنچیں۔تو اب رسول ہمیں اپنی اُمت کہہ دیں ، اللہ اسے نہیں مانتا، کیا کیا جائے؟ تو یہ تو اُمت ِمرحومہ کے تصورات کا جائزہ تھا۔ اب اُمت ِ مرحومہ میں سے ایک فرقہ نے اپنا لقب ناجیہ قرار دے لیا ہے۔ وہ فرقہ جو بحیثیت جماعت نجات کا حقدار ہے۔ تو میں نے اُمت ِ مرحومہ سے جرح کی۔فرقہ ناجیہ ہونے کا بھی بحمد للہ مجھے ادعا ہے۔اس کو یونہی چھوڑدوں، ان سے جرح نہ کروں کہ آپ کو کیا حق ، صرف آپ فرقہ ناجیہ کیسے ہوگئے؟ جیسے اُمت ِمرحومہ کی نمائندگی میں مَیں نے اس کی وجہ بیان کی تھی۔لہٰذا اس کی وجہ بیان کرنے کا بھی حق ہے اور یہ بہت طاقتور وجہ ہے۔ میرے سامنے پیغمبر خدا کی دو حدیثیں ہیں اور دونوں متفق علیہ۔ ایک حدیث میرے گزشتہ بیان کی بھی دلیل ہے اور وہ متواتر ہے:
”سَتَفْتَرِقُ اُمَّتِیْ عِلٰی ثَلاثٍ وَسَبْعِیْنَ فِرْقِةِ کُلُّھُمْ فِی النَّارِاِلاَّوَاحِدَةٌ“۔
”میری اُمت کے تہتر فرقے ہوں گے“،
دیکھئے! اُمتی کی نسبت سب کیلئے ہے۔ گزشتہ حصہ بیان سے بھی متعلق ہے۔یہ نہیں ہے کہ آدمیوں کے تہتر گروہ ہوں گے۔ اُمتی۔
”میری اُمت کے تہتر فرقے ہوں گے”کُلُّھُمْ فِی النَّارِ اِلَّاوَاحِدَةٌ“، سب دوزخ میں ہوں گے سوائے ایک کے“۔
ایک کون؟ یعنی ایک فرقے کے ۔ ۷۳ فرقے ہوں گے، سب آگ میں ہوں مگر بس ایک۔اس حدیث سے بھی ہم سمجھے کہ صرف اُمت ہونا کافی نہیں ہے۔ اُمت کا وہ ایک فرقہ ہونا چاہئے۔ یہاں سے تو فرقہ کا لفظ آیا۔ خود ساختہ نہیں ہے۔
اب ہر صاحب ِعقل غور کرے کہ جس رسول نے یہ بتا دیا کہ ۷۳ فرقے ہیں اور سب دوزخ میں مگر ایک۔ اسی رسول کا تو یہ فرض بھی ہے کہ اس ایک کی کچھ پہچان بتائے۔ صدقِ دل سے ہر مسلمان۔ صبروسکون کے لمحات میں غور کرے جو عرض کررہا ہوں کہ اگر پیغمبر نہ بتائیں تو ہر مسلمان کو دامن تھام کر اس مطالبہ کا حق ہے کہ آپ نے یہ تو بتا دیا کہ ۷۳ فرقے ہیں، ڈرا تو دیا کہ بس ایک نجات کا حقدار ہے اور اس ایک کی پہچان اب بتا نہیں رہے۔یہ کہہ دیا کہ چوراہا ہ اور ایک راستہ کی پہچان نہ بتائی، چہ جائیکہ ہفتاد و سہ راہا۔ آپ وہاں ہمیں چھوڑ کر جارہے ہیں اور یہ بتاکر نہیں جاتے کہ وہ ایک آخر کون ہے؟ تو یہ ہر مسلمان کو حق ہے کہ وہ پیغمبر سے پوچھے اور اگر کوئی ضعیف روایت بھی نہ ملے کہ کسی نے پیغمبر سے نہ پوچھا ہو تو ماننا پڑے گا کہ پیغمبر نے بتایا۔
اب جو بحمدللہ مجھے معلوم ہے ، وہ میں بتاؤں تو یا دنیا اُسے تسلیم کرے یا خود بتائے کہ کیا بتایا۔ مجھے جو معلوم ہے، وہ بھی متفق علیہ حدیث ہے کہ پیغمبر نے اس ایک کی پہچان بتائی:
’مَثَلُ اَھْلُبَیْتِیْ کَمَثَلِ سَفِیْنَۃنُوْحٍ مَنْ رَکَبَھَانَجٰی وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْھَاغَرِقَ وَھَوَا‘
”میرے اہل بیت کی مثال نوح کی کشتی کی سی ہے ، جو اس پر سوار ہوا، اُس نے نجات پائی اور جس نے تخلف کیا، وہ ڈوبا اور گیا“۔
کوئی کہے کہ یہ کیا ترجمہ ہوا؟ ”تَخَلُّفْ“ کا ترجمہ”تَخَلُّفْ“، عربی سے عربی۔ میں عرض کروں گا کہ میں کیا کروں ، مجھے اُردو میں لفظ نہیں ملا۔ لہٰذا جملوں سے سمجھاؤں گا کہ جو کشتی پر بیٹھاہی نہیں یا بیٹھ کر کہیں اُتر گیا۔اب میں ”تَخَلُّفْ“کا منفی لفظوں میں اس تشریح کے بعد ترجمہ بھی کرسکتا ہوں کہ ”مَن تَخَلُّفْ“جو اس کشتی پربیٹھانہ رہا، وہ غرق ہوا، وہ ڈوبا اور ختم ہوا۔جو بھی تفسیر کرلیجئے۔
تو جناب! وہاں سے فرقہ کا لفظ آیا اور یہاں سے ناجیہ کا لفظ آیا۔ جو کشتیِ اہل بیت پر سوار ہوا، اس جماعت کو یقینا فرقہ ناجیہ کہلانے کا حق حاصل ہے۔ مگر اب سوال یہ ہے کہ کشتی پر بیٹھنے کے کیا معنی ہیں؟ یہاں کوئی جسمانی کشتی تو ہے نہیں، نہ (معاذاللہ) اس طرح کابیٹھنا ہے۔ وہ تو مذمت کا پہلو ہے۔ یہ تو کوئی عمل ہے جس کو استعارہ کے طور پر کشتی میں بیٹھنا کہا گیا ہے۔استعارہ کی بنیاد تشبیہہ پر ہوتی ہے۔ تشبیہہ میں ایک مشبہ ہوتا ہے۔ جس کو تشبیہہ دی اور ایک مشبہ بہ ہوتا ہے جس سے تشبیہہ دی اور ایک مشترک چیز ہوتی ہے دونوں میں کہ جو اس میں بھی ہے ، اُس میں بھی ہے۔ وہ وجہ شبہ کہلاتی ہے۔ آدمی کو کہہ دیا شیر تو یہ آدمی حقیقت میں شیر تو ہے نہیںَ شیر کیوں کہا؟ استارہ کے طور پر کہا ہے۔ یعنی شجاعت ایک مشترک چیز ہے۔ جو شیر کی بھی نمایاں چیز ہے اور اس انسان میں بھی نمایاں چیز ہے۔ لہٰذا شیر کہہ دیا۔تو مشترک جو چیز ہو ،وہ وہ ہوتی ہے شبہ۔ تو اب کوئی بات ایسی ہے جو ہمارے کسی عمل اور کشتی پر بیٹھنے میں مشترک ہے۔۔
اب تلاش کرنا ہے۔ کشتی پر بیٹھنے میں کیا خاص بات ہوتی۔ تو کوئی کہے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ جاتے ہیں، کشتی پربیٹھ جاتے ہیں۔ جہاز ہو، کچھ بھی ہو۔ بہ اختلافِ زمانہ جو چیز بھی ہو، اس پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس میں کیا ہوتا ہے؟ یہ عجیب سوال ہے۔ میں کہتا ہوں کہ میرے اس تجزیہ سے شاید آپ محسوس کریں کہ میرا مطلب کیا ہے۔ کشتی پر بیٹھنے سے کیا ہوتا ہے؟ آپ ساحل پر کھڑے ہیں اور کشتی دریا میں جارہی ہے۔ آپ ساحل ہی سے کھڑے کھڑے کہنے لگے کہ کتنی اچھی کشتی ہے! کتنی عمدہ کشتی ہے! کتنی حسین کشتی ہے، کتنی جمیل کشتی ہے! اگر واقعی حسین ہے تو یہ آپ کی تعریف اس لئے صحیح ہے کہ آپ اچھے کو اچھا کہہ رہے ہیں۔ اچھا نہ کہتے تو ظلم ہوتا۔اس ظلم سے بحمدللہ بری ہیں۔ اچھے کو اچھا کہہ رہے ہیں۔ لیکن یہ تعریفیں کرنا کشتی پر بیٹھنا تو نہیں ہے۔ساحل پر کھڑے ہوکر کہنے لگے کہ ہم اس کشتی کو بہت چاہتے ہیں۔ ہمیں اس سے بہت محبت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ محبت نہ ہوتی تو آپ کی تعریف صحیح نہ ہوتی۔ محبت ہونا اس کا تقاضائے حسن ہے، آپ کا کمال نہیں ہے۔اگر کشتی حسین ہے تو آپ کو محبت ہونی چاہئے۔ یہ محبت بھی بالکل صحیح ہے لیکن ساحل پر کھڑے کھڑے کشتی سے محبت رکھنا بھی کشتی میں بیٹھنا تو نہیں ہے۔
تیسری نازل تر منزل آئی۔ وہ جزو تو محفوظ ہے کہ ہم ساحل پر کھڑے ہیں اور کشتی دریا میں ہے۔ اب وہ کشتی بادِ مخالف کے تھپیڑوں میں پڑی، وہیں ساحل پر کھڑے کھڑے ہم آنسو بہانے لگے کہ افسوس! ایسی حسین کشتی تباہ ہورہی ہے۔میں کہتا ہوں یہ آنسو قابلقدر ہیں، اس لئے کہ دردِ دل کی دلیل ہیں۔ یہ مقتضائے انسانیت ہیں۔ مگر ساحل پر کھڑے کھڑے یہ آنسو بھی کشتی پر بیٹھنا نہیں ہیں۔وہ سوال اپنی جگہ پر رہا کہ کشتی پربیٹھنے میں کیا ہوتا ہے۔ جو میری سمجھ میں آیا ہے، وہ یہ کہ جب جاکر کشتی پر بیٹھ گئے تو اپنی ذاتی حرکت کچھ نہ رہی اور اپنا ذاتی سکون بھی کچھ نہ رہا۔ کشتی چلے تو ہم چلے، کشتی رُکی تو ہم رُکے۔یہ معنی ہیں کشتیِ اہل بیت پر بیٹھنے کہ کہ اپنے حرکت و سکون کو تابعِ اہل بیت بنادیا۔اگر اس معنی سے کشتیِ اہل بیت پر بیٹھنا ہے تو ممکن ہی نہیں ہے کہ کشتی منزل پر پہنچے او ریہ شخص نہ پہنچے، اگر کہیں اُتر نہیں گیا ہے۔
میں کہتا ہوں نجات تو ایک عام لفظ ہے، نجات سے انسان کو پورا تصور کہاں ہوتا ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر کشتیِ اہل بیت پر سوار ہیں تو جہاں کشتی پہنچے گی، وہاں ہم پہنچیں گے۔ یہ کہا ہے معصوم نے کہ:
”شِیْعَتُنَافِیْ دَرَجَتِنَایَوْمَ الْقِیَامَةِ“۔
”ہمارے شیعہ یومِ قیامت ہمارے درجہ میں ہوں گے“۔
اب ظاہر ہے کہ کوئی عظیم آدمی کہیں جاتا ہے تو اس کے ساتھ بہت سے اس کے تابعین ہوتے ہیں،اس کے ہمراہی کے طور پر۔ تو جس مکان میں اس کا قیام ہوگا، اسی مکان میں ان کا قیام کروایا جائے گا۔یہ اس کے اعزاز کا تقاضا ہے۔ وہاں جاکر یہ اس کے برابر نہیں ہو جائیں گے۔ جب اس کی بدولت یہ ٹھہرائے جارہے ہیں تو پھر بھی اصل تو وہی رہے گا۔ ان کا اعزاز تو تابع ہونے کا ہے۔ ان کا متوسل ہونے کا اعزاز ہے۔ شیعہ کے معنی ہی ہیں اتباع کرنے والے۔
تو جناب بس! ایک عام بات کہ پانی پیاس بجھاتا ہے، کاغذ پر پانی کا نقش نہیں۔ روٹی پیٹ بھرتی ہے، روٹی کا نام نہیں۔اسی طرح بلا شبہ محبت ِ اہل بیت نجات کی ضامن ہے۔مگر محبت ِاہل بیت ہوتو۔ جس کا نام محبت ہے، حقیقت وہ ہے۔ اب دیکھئے کہ ہم محب ِ اہل بیت زیادہ یا سلمان فارسی؟ ہم محب ِاہل بیت زیادہ یا ابوذر غفاری۔ہم محب ِاہل بیت زیادہ یا حبیب ابن مظاہر۔خدا کی قسم! ہم میدانِ محبت میں ان کے قدموں کی خاک تک بھی تو نہیں پہنچ سکتے۔ مگر یہ دیکھئے کہ جتنا محبت ِاہل بیت کادعویٰ زیادہ تھا، اتنا ہی انہماک عبادتِ الٰہی میں ان کا زیادہ تھا یا نہیں؟ اتنی ہی عبادتِ الٰہی میں ان کی سرگرمی زیادہ تھی یا نہیں؟ یہاں تک کہ وہ عام زندگی تو ایک طرف، نماز بھی جیسی کربلا میں ہوئی ہے، ایسی تاریخ عالم میں کہیں نہیں ہوئی۔
یوں تو ایک عام اصول یہ ہے کہ ذرا پریشانی کا وقت ہو تو آدمی کچھ شرع کی رعایتوں کا فائدہ اٹھائے گا۔ آدمی اوّل وقت نماز پڑھنے کا عادی ہے تو خدا نخواستہ اگر کسی مریض کی طبیعت گھر میں خراب ہوئی، ابھی ڈاکٹر آیا ہے، آج اوّل وقت نماز نہیں ہوئی، قضا نہیں ہونے پائی۔دیر سے ہوئی۔ بعد میں افسوس کیا کہ دیکھو! اتنے برس سے میں اوّل وقت نماز کا پابند تھا لیکن آج اس وقت پڑھ رہا ہوں۔تو کوئی معترض نہیں ہوگا۔ ہر ایک ہمدرد ہی ہوگا کہ بے شک ہنگامی حالات کا تقاضا یہی تھا۔ کوئی شخص ہے نوافل کا پابند ہے،خدانخواستہ کوئی جنازہ گھر سے نکل رہا ہے، اس دن واجب نماز ہی پر اکتفا ہوگئی۔ بعد میں افسوس کیا کہ دیکھو! آج نوافل نہیں پڑھ سکا۔ کوئی ہرگز معترض نہیں ہوگا۔ ہمدردی محسوس کرے گا۔
مگر امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں یہ مثال قائم کی کہ جتنا وقت سخت ہو، اُتنا عبادتِ الٰہی میں اضافہ کردو، کمی نہ ہونے پائے۔یوں تو یہ آلِ رسول تھے۔ ہر ایک ان میں سے نمازِ تہجد کا پابند تھا مگر خود پیغمبر خدا کو خالق کی ہدایت یہ ہے کہ پوری رات جاگنے کی ضرورت نہیں:
”قُمِ اللَّیْلِ اِلَّا قَلِیْلًا “۔
نصف شب یا کم و بیش عبادت کیجئے، باقی آرام کیجئے۔عموماً آلِ رسول کا بھی یہی عمل تھا۔ لیکن جو زندگی کی آخری رات ہے، اور ابھی اس رات کی مزید قدر بتاؤں کہ وہ رات جو مانگ کر حاصل کی گئی ہے۔ پہلے ہی امام نے اس رات کے مانگنے کا مقصد بتادیا تھا۔ جب ابوالفضل العباس سے کہا کہ جاؤ، ان سے ایک رات کی مہلت لو۔ طبری کے صفحات پر بھی یہ الفاظ ہیں:
”اَللّٰہُ یَعْلَمُ اِنِّیْ اُحِبُّ الصَّلوٰة وَذِکْراً لَہ“۔
”خدا ہی جانتا ہے کہ اس کی نماز اور عبادت سے مَیں کتنی محبت رکھتا ہوں“۔
یاد رکھئے کہ فطرتِ محبت ہے کہ اپنا محبوب جس شے سے محبت رکھتا ہو، اُس سے اس کو بھی محبت ہو۔یہ تو نئی محبت ہماری ہوگی کہ ہم حسین سے محبت کا دعویٰ کریں اور نماز سے ہم کو محبت نہ ہو۔ نماز سے فرار ہو۔ اس کے معنی ہیں کہ محبت کا بھی دعویٰ ہمارا غلط ہے۔ فرماتے ہیں کہ دیکھو! اللہ گواہ ہے کہ اس کی نماز اور اس کی عبادت کو میں کتنا دوست رکھتا ہوں۔
اس کے بعد پوری رات یونہی گزری اور یہ خصوصیت ہے اور میرا مستقل موضوع ہے۔ گنگا پرشاد میموریل ہال میں تقریر ہوئی تھی کہ ”واقعہ کربلا کی تاریخی اہمیت“۔اس میں مَیں نے تفصیل سے اس کو کہا ہے۔ اب وقت نہیں ہے۔ واقعہ کربلا کی یہ خصوصیت ہے کہ جو چیز کبھی جزوِ تاریخ نہیں بنتی،اس نے اسے جزوِ تاریخ بنا دیا۔ میں کہتا ہوں کہ ایک دم کم ۵۷ برس کی عمر میں امام حسین علیہ السلام نے کتنی نمازیں پڑھی ہیں؟ مگر کوئی نماز جزوِ تاریخ نہیں بنی۔ مگر کربلا کی نمازیں جزوِ تاریخ ہیں۔ یعنی حسین نے رزمِ کربلا کو شریعت ِ اسلام کی یادگار بنا دیا کہ جب تک میرا یہ معرکہ یاد ہے، تب تک خدا کی عبادتیں بھی یاد رہیں گی۔
اب یہ ہمارے ذہن کا تضاد ہوگا کہ ہم معرکہ کربلا کو یاد رکھیں اور وہ سجدے ہمیں یاد نہ رہیں ، وہ نمازیں یاد نہ رہیں، وہ عبادتیں یاد نہ رہیں۔ تو یہ کچھ عجیب ذہنی تضاد ہوگا۔
اربابِ عزا! یہ پوری رات کس طرح گزاری جارہی ہے، تاریخ کا جزو ، کبھی تاریخ نے یہ صدائیں کیوں نہ سنیں؟ کبھی تاریخ نے یہ منظر کیوں نہ دیکھے اور محسوس نہ کئے؟ یہ کربلا کا صدقہ ہے جو یہ تمام مناظر جزوِ تاریخ بن رہے ہیں۔ طبری کا موٴرخ لکھتا ہے:
”بَا تُوْابَیْنَ رَاکِعٍ وَقَائِمٍ وَسَاجِدٍ“۔
”پوری جماعت نے یوں رات گزاری کہ کوئی رکوع میں ہے، کوئی قیام میں ہے ، کوئی سجدے میں ہے“۔
”لَھُمْ دَوِیٌ کَدَوی النَّحْلِ“۔
”اس رات کے سناٹے میں ان کی تسبیح و تہلیل و مناجات کی آوازیں یوں گونج رہی ہیں جیسے شہد کی مکھی کے چھتے سے آوازیں آیا کرتی ہیں“۔
کبھی تاریخ نے نہ یہ آوازیں سنیں، نہ تاریخ نے یہ سجدے دیکھے، نہ یہ رکوع دیکھے۔ رکوع کرنے والے بھی یہی تھے، سجدے کرنے والے بھی یہی تھے۔ کوئی بھی ان کا رکوع و سجود جزوِ تاریخ نہیں بنا۔ مگر آج کا سجدہ بھی ، آج کا رکوع بھی جزوِ تاریخ بن گیا۔ پوری رات یوں گزاری جارہی ہے۔ ذرا دلوں کے تقاضے دیکھ لیجئے ۔ سب کو معلوم ہے کہ کل روزِ قربانی ہے تو بہنوں کی تمنا ہوگی کہ بھائی آج زیادہ سے زیادہ وقت ہمارے پاس گزاریں۔ مائیں جن کے بچے کل تہہ تیغ ہوجائیں گے، ان کی آرزو ہوگی کہ ہمارے بیٹے آج رات بھر ہماری آنکھوں کے سامنے رہیں۔ وہ خواتین جو کل بیوہ ہوجائیں گی، اُن کی تمنا ہوگی کہ آج وارث ہمارے پاس بیٹھ کر بعد کیلئے ہمیں کچھ ہدایات کرجائیں۔
اور اہل دل! وہ بیٹی جو باپ کے سینے پر سونے کی عادی ہوگی، اس کا تو دل چاہ رہا ہوگا کہ آج پوری رات باپ کے سینے پر گزار دے۔ مگر ان تمام تمناؤں کے بالکل برخلاف یہاں پوری جماعت یوں رات گزار رہی ہے کہ رکوع و سجود میں مصروف ہے،نمازوں میں مصروف ہے۔مجھے معلوم ہے کہ ایک روایت آپ سنتے رہے ہوں گے۔ یہ نہیں ہے کہ بے بنیاد ہے، بعض کتابوں میں بھی ہے لیکن میرے دل نے کبھی قبول نہیں کی ہے اور اس کیلئے قرائن بھی ابھی پیش کروں گا۔میرا دل تو یہ کہتا ہے کہ لیلیٰ رات بھر انتظار میں رہیں کہ میرا علی اکبر آجائے تو میں جی بھر کر صورت دیکھ لوں۔ مگروہاں پوری جماعت اس طرح رکوع و سجود میں مصروف ہے تو ممکن کہاں تھا کہ علی اکبر تو سیرت میں بھی نبی کی تصویر ہیں۔یہ کب ممکن تھا کہ وہ سب مصروفِ عبادت ہوں او ریہ مصروفِ خواب ہوں۔ہرگز میرا دل قبول نہیں کرتا۔
اب اس کا قرینہ میرے پاس موجود ہے کہ جو رات بھر مصروفِ عبادت رہے ہوں، وہ نماز کو بالکل اوّل وقت میں پڑھیں گے۔ یعنی تہیہ نماز کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ کچھ وقت وضو میں صرف ہوتا ہے، اسبابِ نماز میں۔ نہیں نہیں، فوراً نماز پڑھیں گے اور آج کی صبح کی نماز میں مولا نے خصوصیت یہ برتی کہ روز کے موٴذن حجاج بن مسروق اور آپ آج کی نمازِ صبح کے وقت فرماتے ہیں: بیٹا علی اکبر ! آج کیاذان تم دو۔
دیکھا آپ نے،بیٹا باپ کے پاس موجود ہے۔ فرماتے ہیں: آج صبح کی اذان تم دے دو۔ اس میں نفسیاتی احترام بھی ہوسکتا ہے۔ خدا کی قسم! اسلام دین فطرت ہے۔ یہ اولاد کی محبت کو دل سے نکالنے کیلئے نہیں آیا۔ یہ بھائیوں کے دل سے بھائیوں کی محبت نکالنے کیلئے نہیںآ یا ہے۔ حسین کو خبر ہے کہ لیلیٰ کے دل کی تمنائیں کیا ہوں گی۔ رات بھر صورت نہیں دیکھی تو اس وقت آواز ہی اپنے جوان کی سن لیں۔
ماشاء اللہ،اَجْرُکُمْ عَلَی اللّٰہ۔میں کہتا ہوں ایک بڑی مصلحت ہے امام کی۔ اور وہ کیا ہے؟ امام جانتے ہیں کہ میرا علی اکبر بھولنے کی چیز نہیں ہے۔دنیا علی اکبر کو یاد رکھے گی۔امام عالمِ نفسیات بھی ہیں۔ جانتے ہیں کہ تمام نمازوں سے زیادہ امتحانی نماز صبح کی ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ جو نمازوں کے عادی بھی ہیں، وہ اکثر صبح کی نماز، نمازِ ظہر کے ساتھ قضا پڑھتے ہیں۔ شرع کی رعایتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
تو جنابِ والا! حسین نے صبح کی نماز کی اذان علی اکبر سے دلوائی ہے۔دنیا میں جوانی کی نیند مشہور ہے۔ مولا کا یہ مقصدہے کہ اگر کسی نوجوان کی بستر پر آنکھ اس وقت کھل جائے اور اُسے تصور ہو جائے کہ میرا شہزادہ اس وقت کہہ رہا ہے”حَیَّ عَلَی الصَّلوٰة“ تو دیکھنا ہے کہ علی اکبر کی آوازپر کون کون آتا ہے!(ہاں جناب! یہ صبح کی نماز ہے) جس کی تعقیبات میں کربلا کا جہاد ہے۔
ادھر صف ِنمازمنتشر ہوئی، اُدھر صف ِ جہادمرتب ہوگئی اور اب راہِ خدا میں جدال و قتال ہے۔ راہِ خدا میں قربانیاں پیش ہورہی ہیں۔ اس عالم میں ظہر کی نماز کا وقت آتا ہے اور ظہر کی نماز کے وقت ابوثمامہ ساعدی حاضر ہوتے ہیں ، کوئی عزیز نہیں آیا ہے، ایک صحابی ہیں۔ محبت ِ اہل بیت کے ایک دعویدار ہیں۔وہ آئے ہیں۔ یہ کیا ہے؟ یہ ، یہ ہے کہ جہاد ہورہا ہے اور نگاہ آفتاب پر ہے۔ کوشش یہ ہے کہ مولا حکم نہ دینے پائیں کہ ہم اپنے ذوقِ عبادت کا نذرانہ پیش کردیں۔ عرض کرتے ہیں: مولا ! دشمن بہت قریب آگئے ہیں اور تمنا یہ ہے کہ یہ نماز آپ کے ساتھ با جماعت ادا ہوجائے۔ امام فرماتے ہیں:
”ذَکَرْتَ الصَّلوٰة جَعَلَکَ اللّٰہُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ“۔
”تم نے اس وقت نماز کو یاد کیا، اللہ تعالیٰ تمہارا شمار نمازیوں میں کرے“۔
یہ اوّل وقت نماز ہے۔ ا س کے معنی یہ ہیں کہ اس سے پہلے تو وقت آیا ہی نہیں تھا۔ادھر وقت آیا اور ادھر انہوں نے درخواست پیش کردی۔ مولا نے فرمایا کہ یہ اوّل وقت نماز ہے۔ مولا دعائیں دے رہے ہیں کہ تم نے نماز کو خود سے یاد کیا، اللہ تعالیٰ تمہارا شمار نمازیوں میں کرے۔