معراج خطابت
 
ہوجاوٴ سچّوں کے ساتھ۲
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاا تَّقُواللّٰہَ وَکُوْنُوْامَعَ الصَّادِقِیْنِ“۔
اے صاحبانِ ایمان! اللہ سے ڈر و اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ ہم ایک سچے کی شناخت نہیں کرسکتے، چہ جائیکہ ایک جماعت کی شناخت کریں۔ لہٰذا جس نے کہا ہے کہ سچوں کے ساتھ رہو، اسی کی طرف سے سچوں کا تعارف ہونا چاہئے۔ اس کے سمجھنے کے دو ذرائع ہیں۔ پہلا ذریعہ یہ ہے کہ ان اشخاص کو جو اس وقت صادقین کے مصداق ہیں، ہمارے سامنے لاکر دکھادیا جائے کہ یہ صادقین ہیں۔ دوسرا ذریعہ یہ ہے کہ جس میں ذہن کے صرف کرنے کی ضرورت ہے، غوروفکر سے کام لینے کی ضرورت ہے کہ جس نے یہ کہا کہ صادقین کا ساتھ دو، اسی کے اور کلام اور اس کی طرف سے آئے ہوئے الفاظ کو ملا کر پتہ چلایا جائے کہ صادقین کون ہوسکتے ہیں۔
اس کیلئے ایک مختصر تمہید یہ ہے کہ کلامِ الٰہی میں آپس میں تضاد نہیں ہوسکتا، ٹکراؤ نہیں ہوسکتا کہ ایک دفعہ کچھ کہے اور پھر اس کے خلاف کوئی بات کہے۔ کیا کلامِ الٰہی میں ایسا ہوسکتا ہے؟ نہیں،ہرگز نہیں۔ہر صاحب ِعقل کہے گا کہ کلامِ الٰہی میں ایسا نہیں ہونا چاہئے اور ایسا نہیں ہوسکتا۔ ارے ہمارے اور آپ کے کلام میں بھی ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ اگر ہم کہتے ہیں اور بھول جاتے ہیں اور ہمیں یاد نہیں رہتا کہ پہلے کیا کہا تھا تو اس کے بعد دوسرے وقت ایسی بات کہہ دی جو اس سے مختلف ہو، اس سے ٹکراجائے۔ یہ ہمارے ہاں امکان ہے۔ ایک اور قسم ہے سیاست دانوں کی کہ وہ جان بوجھ کر بھولتے ہیں۔ اکثر باتیں بھولنے کی خاطر ہی کہتے ہیں۔ جس وقت کہہ رہے ہوتے ہیں، اسی وقت معلوم ہوتا ہے کہ اسے بھول جائیں گے۔ہمارا خدا نہ بھولنے والا ہے، نہ اس معنی کا سیاست دان ہے۔ جب میں خدا کیلئے یہ کہنے کو تیار ہوں کہ وہ اس معنی کا سیاست دان نہیں ہے تو اگر اس کے کسی مقرب بارگاہِ خاص بندے کیلئے دنیا کہے کہ سیاست نہیں جانتے تھے تو میں برا نہیں
مانوں گا۔
اس قسم کی سیاست سچائی کے ساتھ جمع ہو ہی نہیں سکتی جو بھی صادقین کا فرد ہوگا، وہ ایسا سیاست دان نہیں ہوگا۔صادقین کا کوئی فرد ایسا نہیں ہوسکتا تو اصدق الصادقین بھلا ایسا کیوں ہونے لگا؟ لہٰذا اس کے کلام میں تضاد نہیں ہوسکتا۔
اچھا! اب دوسرا جزو کہ کیا پیغمبر اسلام کے کلام میں تضاد ہوسکتا ہے کہ رسول ایک وقت میں کچھ کہیں اور دوسرے وقت میں کچھ؟ روایتوں میں یہ ہوتا ہے۔ رسول نے ان میں سے ایک ہی بات کہی ہے۔راویوں نے حضرت کی طرف دوسری بات منسوب کردی۔ لیکن واقعی جو حضرت کا کلام ہے، میرے نزدیک اُس میں تضاد نہیں ہوسکتا۔
اب وہ ایک جماعت جو رسول کو کہتی ہے کہ چونکہ بشر تھے تو بھولنا چوکنا بشریت کا تقاضا ہے جبکہ بنص قرآن حضرت بشر تھے تو پھر بھولنے کا امکان بھی ہے، چوکنے کا امکان بھی ہے۔تو حقیقت میں ان لوگوں نے منزلِ بشریت کو سمجھا ہی نہیں ہے۔یہ بشر ناشناسی کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ بھولنا چوکنا بشریت اور انسانیت کا لازمہ ہے۔ یہ زیادہ تر اپنی بھول چوک کو حق بجانب بتانے کیلئے بیچاری انسانیت پر حرف لایا جاتا ہے کہ چونکہ انسان ہیں، لہٰذا بھولیں گے بھی۔اپنی غلطیوں کو غیر اہم قرار دینے کیلئے کہ وہ زیادہ قابل اعتراض نہیں ہیں، اس استدلال کا استعمال ہے۔ایسے افراد کو جنہیں خود کوگھٹانا منظور نہیں ہے، بڑھانا منظور ہے، لیکن ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ غلطیاں کرتے ہیں۔
میں کہتا ہوں کہ کیا واقعی بھول چوک انسانیت کا لازمی حصہ ہے کہ جو انسان ہو، اُسے بھولنا ضرور چاہئے؟ جو انسان ہو، اُسے غلطی ضرور کرنی چاہئے؟ جو چیز کسی چیز کا لازمہ ہو، تو جتنی وہ چیز زیادہ کامل ہو، اتنا اس لازمہ کو بڑھنا چاہئے۔ روشنی کا کام ہے تاریکی کو دور کرنا تو جتنی روشنی زیادہ کامل ہوگی، تاریکی اتنی ہی زیادہ دور ہوگی۔ تو اگر یہ تصور صحیح ہو کہ بھولنا چوکنابشریت کا لازمہ ہے ، لوازمِ انسانیت میں سے ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جتنا کامل انسان ہو، اُتنا زیادہ بھولے گا ، حالانکہ ہر بڑے آدمی کے حالات میں یہ لکھا جائے گا کہ حافظہ بہت قوی تھا، بھولتے بہت کم تھے۔ صاحب الرائے تھے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسانیت کی بڑائی ان چیزوں کے بڑھنے میں نہیں ہے، گھٹنے میں ہے۔
تو اب سمجھ میں ااتا ہے کہ بھولنا چوکنا لوازمِ انسانیت میں سے نہیں ہے، ناقص انسانیت کے لوازم میں سے ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسانیت کا نقص ہے۔لہٰذاجتنی انسانیت نقطہ کمال پر ہوگی، اتنی ہی بھول بھی ختم ہوگی، چوک بھی ختم ہوگی۔یہاں تک کہ اس کا کامل نقطہ وہ ہوگا جہاں ایک شائبہ بھی بھول کا نہ ہو۔ اسی کو ہم معصوم کہتے ہیں۔
جنابِ پیغمبر اسلام کے کلام میں بھی بھول کا سوال نہیں۔ آپ کے کلام میں بھی تضاد نہیں ہوسکتا۔ ایک دوسری بات یہ کہ جو بھول کا تصور بھی کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسالت کے کام میں بھول نہیں ہوتی۔بشری باتیں جو ہیں، اس میں بھول ہوسکتی ہے، رسالت کے فرائض ادا کرنے میں بھول کا سوال نہیں ہے۔ اب جو بات خدا کی طرف سے کہی جائے، وہ تو رسالت کا کام ہے۔ لہٰذا اس میں تو کسی کے نزدیک بھی بھول نہیں ہونی چاہئے تو اس میں تضاد نہیں ہوسکتا۔میرے خیال میں تو یہ کوئی الگ بات نہیں ہے ۔ یہ پیغامبر ہیں تو جو اُن کی زبان پر آتا ہے، وہ خدا کا پیغام ہوتا ہے۔ جب خدا کے کلام میں تضاد نہیں ہوسکتا تو اس کے پیغمبر کے کلام میں تضاد کس طرح ہوگا!
تیسرا سوال یہ کہ کیا قرآن اور حدیث میں ٹکراؤ ہوسکتا ہے؟تضاد ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں ہوسکتا، اس لئے کہ قرآن اس کا کلام اور حدیث اس کا پیغام۔جب اُس کے کلام میں تضاد نہیں، اُس کے پیغام میں تضاد نہیں تو اس کے کلام اور پیغام میں تضاد کیونکر ہوگا؟ لہٰذا معلوم ہوا کہ نہ قرآن میں تضاد ہوسکتا ہے اور نہ حدیث ِ رسول میں تضاد ہوسکتا ہے اور نہ قرآن اور حدیث میں آپس میں تضاد ہوسکتا ہے۔
دوآیتیں پڑھتا ہوں۔شروع میں ممکن ہے کہ ایک دوسرے سے ربط یا تعلق سمجھ میں نہ آئے تو سمجھئے کہ بنظر ثواب قرآن کا پڑھنا بھی ثواب اور حدیث ِ رسول کاپڑھنا بھی باعث ِثواب۔تو دو آیات پڑھنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں اور دو حدیثیں پڑھنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔آیت ایک یہی ہے جو سرنامہ کلام ہے:
”یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاا تَّقُواللّٰہَ وَکُوْنُوْامَعَ الصَّادِقِیْنِ“۔
”اے صاحبانِ ایمان! اللہ کی عظمت کے تقاضوں کو محسوس کرو اور سچوں کے ساتھ رہو“۔
یہ ایک آیت ہے، دوسری آیت:
”یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْااَطِیْعُوااللّٰہَ وَاَطِیْعُواالرَّسُوْلَ وَاُوْلِی الْاَ مْرِمِنْکُمْ“۔
”اے صاحبانِ ایمان! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اولی الامر جو تم میں سے ہیں“۔
یہ دوسری آیت۔ حدیث ایک یہ ہے کہ:
”اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ کِتَابَ اللّٰہِ وَعِتْرَتِیْ اَہْلُبَیْتِیْ مَااِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِھِمَا لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدِیْ“۔
”میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں، ایک اللہ کی کتاب اور ایک میری عترت جو میرے اہل بیت ہیں۔ جب تک ان دونوں سے تمسک رکھو گے، گمراہ نہیں ہوگے“۔
یہ ایک حدیث، دوسری حدیث:
مَثَلُ اَھْلُبَیْتِیْ کَمَثَلِ سَفِیْنَۃ نُوْحٍ مَنْ رَکَبَھَانَجٰی وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنَّاغَرِقَ وَھُویٰ
”میرے اہل بیت کی مثال نوح کی کشتی کی سی ہے، جو اس پر سوار ہوا ، اُس نے نجات پائی اور جس نے تخلُّف کیاوہ ڈوبا اور گیا“۔
دو وہ آیتیں اور دو یہ حدیثیں ہیں۔ اب ذرا مضمون کو دیکھئے کہ وہ آیت کہتی ہے کہ سچوں کے ساتھ رہو، بلاقید، کوئی اس میں شرط نہیں، کوئی قید نہیں۔وہ آیت کہتی ہے کہ اللہ اور رسول کے بعد اولی الامر کی اطاعت کرو۔ یہ بھی بلا قید، بلا شرط۔وہ حدیث کہتی ہے کہ میرے اہل بیت سے تمسک رکھو۔ قرآن کے ساتھ ساتھ میرے اہلِ بیت تمسک رکھو۔ اس میں بھی کوئی شرط، کوئی قید نہیں ۔ یہ حدیث کہتی ہے کہ میرے اہلِ بیت ، میری عترت کی کشتی پر سوار ہو اور اگر سوار نہ ہوئے تو ڈوب جاؤ گے۔ اس میں بھی کوئی قید نہیں، کوئی شرط نہیں کہ اگر ایسا ہو تو کشتی پر سوار اور اگر ایسا نہ ہو تو کشتی پر سوار نہ ہو۔ ایسی کوئی قید نہیں بلکہ یہ کہ جو کشتی پر سوار ہوگا، وہ نجات پائے گا۔
بس اب ہر صاحب ِعقل غو رکرے اور مسلمان کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جو عقل کو خیر باد کہہ دے ۔ تو ہر صاحب ِعقل اس پر غور کرے بلکہ میں اس منزل میں غیر مسلم کے فیصلہ پر بھی عمل کرنے کیلئے تیار ہوں۔ میں اس سے بھی فیصلہ کروانے کیلئے تیار ہوں۔ کوئی کہے کہ قرآن و حدیث کا معاملہ ہے، کوئی غیر مسلم کیا فیصلہ دے گا؟ میں کہتا ہوں کہ مجھے تو الفاظ کا تقاضا پوچھنا ہے۔ جج وقف نامہ کے الفاظ کو دیکھتا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ واقف کا ہم مذہب بھی ہو۔ وہ کہتا ہے کہ اس وقف نامہ کے الفاظ کا نتیجہ یہ ہے۔ وصیت نامہ دیکھتا ہے، اُس کا مذہب کچھ اور، اِس کا مذہب کچھ اور۔ یہ بھی اس کی وصیت کے لحاظ سے کہتا ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ قرآن اور حدیث کو صحیح مانتا ہو یا نہیں، میں کہتا ہوں کسی نے اک دفعہ یہ کہا ہو ، ایک دفعہ یہ پیغام دیا ہو تو آپ فیصلہ کردیجئے کہ اس کا نتیجہ کیا ہونا چاہئے۔ اس میں مذہب اور ملت کا سوال نہیں۔ میں اس کے سامنے بھی یہ مقدمہ پیش کرسکتا ہوں۔
تو اب ہر صاحب ِعقل غور کرے، چاہے مسلمان ہو، چاہے غیر مسلم کہ اگر صادقین کوئی اور ہوں اور اولی الامر کوئی اور ہوں، عترت کوئی اور ہو اور اہل بیت کوئی اور ہوں تو کیا عقلاً یہ ہوسکتا ہے کہ ہم ان کے ساتھ رہیں؟ ان کی اطاعت کریں؟ ان سے تمسک رکھیں؟ ان کی کشتی پر سوار ہوں؟
اب دنیا میں لوگ اولی الامر کے کچھ بھی معنی سمجھیں، اس کے پیش نظر یہ کہہ رہا ہوں کہ یا تو ”صادقین کے ساتھ رہو “ میں کوئی قید ہوتی کہ صادقین کے ساتھ رہو، جب تک اولی الامر کے احکام کے خلاف نہ ہو اور جب اولی الامر کے احکام کے خلاف ہونے لگے تو صادقین کا ساتھ چھوڑ دو۔وہاں قید ہوتی یا یہاں قید ہوتی کہ اولی الامر کی اطاعت کرو جب تک صادقین کا ساتھ نہ چھوٹے اور جب صادقین کا ساتھ چھوٹنے لگے تو اولی الامر کی پروانہ کرو، وہ کچھ بھی کہتے ہیں، یہاں قید ہوتی۔اب جس کو جو پسند ہو، صادقین کا ساتھ منظور ہے۔ تو اولی الامر کو بلاقید نہ رکھے اور اولی الامر کی اطاعت کرنا ہے تو پھر صادقین کا ساتھ چھوٹنے کی پروا نہ کرے ، جسے جو پسند ہو ۔مگر وہاں تو نہ اُس میں قید ہے اور نہ اِس میں قید ہے۔
اسی طرح یہ حکم کہ عترت کے ساتھ تمسک رکھو، جب تک اولی الامر کے احکام کے خلاف نہ ہو اور جب اولی الامر کے احکام کے خلاف ہونے لگے تو عترت کا ساتھ چھوڑ دو، چاہے گمراہ ہوجائے کیونکہ گمراہ ہونا تو پھر یقینی ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ جب تک تمسک رکھو گے، گمراہ نہیں ہوگے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمسک چھوڑا اور گمراہ ہوئے۔ مگر اولی الامر کی خاطر گمراہ ہونا پسند کرلیں ۔ تو یہاں قیدہوتی، شرط ہوتی یا وہاں قید ہوتی کہ میرے اہل بیت کی کشتی میں شوار ہو، جب تک اولی الامر کے احکام کے خلاف نہ ہو اور جب اولی الامر کے احکام کے خلاف ہونے لگے تو کشتی سے اُتر جاؤ، چاہے ڈوب جاؤ کیونکہ ڈوبنا پھر یقینی ہے۔مگر اولی الامر کی خاطر اگر ڈوب جائیں تو کیا بُرا ہے۔لہٰذا ڈوب جاؤ۔ مگر نہ وہاں شرط نہ قید، نہ یہاں شرط نہ قید۔چاروں حکم بلا قید۔ وہ آیت کہتی ے کہ سچوں کے ساتھ رہو۔ وہ آیت کہتی ہے کہ اولی الامر کی اطاعت کرو۔ یہ حدیث کہہ رہی ہے کہ عترت سے تمسک رکھو اور یہ حدیث کہہ رہی ہے کہ اہل بیت کی کشتی پرسوار ہو۔
قرآن کی آیتوں میں تو کہنے کی ضرورت نہیں کہ متفق علیہ لیکن حدیثوں کیلئے میں ضمانت دیتا ہوں کہ متفق علیہ یعنی ایک ہی فرقے کے علماء کی بیان کی ہوئی نہیں ہیں بلکہ فریقین کے علماء کی درج کردہ ہیں۔ تو اب یہ متفق علیہ حدیثیں اور بلا قید۔ یہ آیتیں اور حدیثیں ٹکراؤ سے بچ نہیں سکتیں۔ جب تک کہ یہ نہ مانئے کہ جوصادقین ہیں، وہی اولی الامر ہیں، وہی عترت ہیں، وہی اہل بیت ہیں۔
کہئے کہ الفاظ بدل بدل کر کیوں کہا جارہا ہے؟میں اس کی مثال دوں کہ کسی وقت میں کہوں کہ سمیع و بصیر کی عبادت کرو، کسی وقت کہوں کہ رحمٰن و رحیم کی عبادت کرو، کسی وقت کہوں کہ خالقِ سماوات و ارضین کی عبادت کرو، کسی وقت کہوں کہ رب العالمین کی عبادت کرو۔ تو کے میں نے شرک کی دعوت دی؟کوئی نہیں کہے گا کہ یہ شرک ہوا۔ وہ ایک ہی ذات ہے جس کو اس کے کمالات اور کارناموں کے مختلف رُخوں کے لحاظ سے مختلف الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے۔ مختلف اسمائے حسنیٰ سے۔ بس یہی سمجھ لیجئے کہ بہت وسیع مفہوم کو سمیٹ کر دوچار الفاظ میں آپ کے سامنے کہنا چاہتا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ وہ ایک ہی جماعت ہے جس کو اس کی صفاتِ ذات کے لحاظ سے دیکھا گیا تو صادقین کہا۔ اللہ کے دئیے ہوئے منصب کے لحاظ سے دیکھا تو اولی الامر کہا، پیغمبر کے رشتے سے دیکھا تو ذریت و عترت کہا۔ اصل چیز وہی ہے کہ”کُوْنُوْامَعَ
الصَّادِقِیْنَ“۔ یعنی وہ ذاتیں کیسی ہیں، ان کو صادقین بتا رہا ہے۔ یہی کمالِ ذات جو معیار ہے صادقین کا، یہی سبب ہے اولی الامر ہونے کا اور اسی بناء پر ذریت اور اہل بیت کہہ کر سندیں دی گئی ہیں۔ یعنی ذریت ہونے کی وجہ سے انہیں یہ عہدے نہیں ملے، صادقین ہونے کی وجہ سے ملے ہیں۔
یہ آیتیں سب کے پیش نظر ہیں۔ سچوں کے ساتھ رہو، صاحبانِ ایمان سے کہا جارہا ہے ۔ تو اب کیا کیا جائے ، الفاظِ قرآن بدلے نہیں جاسکتے تو کہہ دیا کہ صادقین کے ساتھ رہو۔ تو کیا اجماع کے ساتھ رہو؟ میں صاحب ِعقل کو دعوت دیتا ہوں، ہر ذی فہم غور کرے کہ اہل ایمان سب ہیں جن سے الگ الگ کہا جارہا ہے ۔ یہ نہیں ہے کہ غیر اہل ایمان سے کہا جارہا ہے۔ اہل ایمان ہی کو پکارا کر کہا گیا ہے کہ تم سچوں کے ساتھ رہو اور جن کے ساتھ رہو، وہ صادقین ہیں۔ تو کیا صادقین غیر اہل ایمان ہیں؟اہل ایمان کا ہی مجموعہ ہے صادقین۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ فرداً فرداً اہل ایمان تو مخاطب ہیں، ان میں سے ہر ایک بیچارہ غیر صادق ہے لیکن جو مجموعہ ان کا ہے جس کا نام ہے اجماع، وہ وہ ہے جس کو کہا گیا ہے کہ سچوں کے ساتھ رہو۔ تو ہر صاحب ِفہم غور کرے کہ غیر صادق افراد کا مجموعہ۔غیر صادق کے معنی ہیں صادق کی نفی۔نفی کو ظاہر کرنے والی چیز ہے زیرو۔ تو جتنے افراد ہیں، ان میں سچائی کے لحاظ سے زیرو رکھا گیا ہے۔اب ہر بچہ غور کرے کہ دس لاکھ زیرو بھی جمع ہوں تو کیا کوئی عدد بنے گا؟ اب فرض کیجئے کہ میں اس ریاضی کے مسئلہ کو بھول جاؤں۔ چاہے زیرو بہت سے ہوں، ان کے اجتماع سے کوئی عدد نہیں بنے گا۔ اچھا! بن جائے گا ایک عدد خواہ مخواہ۔ جب طے کرناہے ، حدیثوں سے بن جائے گا۔
”لَا تَجْتِمَعُ اُمَّتِیْ عَلَی الضَّلالَةِ“۔
”میری اُمت ضلالت پر اکٹھی نہیں ہوسکتی“۔
الگ الگ تو گمراہ ہوسکتے ہیں مگر اکٹھے نہیں ہوسکتے۔دوسرا پہلو ہے کہ یہ بھی سوچنے کی بات نہیں ہے۔اس کا جواب بہت صاف ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جب سب غیر صادق ہیں، ان سب کا مجموعہ بقول آپ کے صادق ہے۔ تو وہ سب کا مجموعہ ایک عدد صادق ہوا یا صادقین ہوئے؟ افراد صادقین ہوتے تب وہ صادقین ہوسکتے تھے۔ صادقین کے ساتھ رہو۔ معلوم ہوا کہ کسی مکسچر کو نہیں کہہ رہا ہے، وہ ہر ہر جزو کیلئے حکم دے رہا ہے۔ اب زورِ علم صرف ہوا یہاں تو انجام ظاہر ہوگیا ۔زورِ علم صرف ہوا۔
”اَطِیْعُوااللّٰہَ وَاَطِیْعُواالرَّسُوْلَ وَاُوْلِی الْاَ مْرِمِنْکُمْ“۔
”اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اولی الامر کی جو تم میں سے ہیں“۔
یہ بڑے مطلب کی بات ”منکم“، تم میں سے ہیں۔ تم میں سے ہیں یعنی ہمارے بھائی بند ہیں۔ ٹھیک ہے، تم میں سے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول کو بھی تو کہا گیا ہے”منھم“۔
”بَعَثَ فِی الْاُمِّیِیْنَ رَسُوْلًامِنْھُمْ“۔
اُمیین میں سے رسول بھیجا، انہی میں سے۔ وہی انہی میں سے۔ یہاں تم ہی میں سے۔ بس دونوں کا کم فرق ہے ورنہ ”من“تو دونوں میں ہے۔ تو رسول انہی میں سے تھا مگر ان کا منتخب کیا ہوا نہیں تھا۔ اسی طرح میں بھی کہتا ہوں اولی الامر تم ہی میں سے ہیں مگر تمہارے چنے ہوئے نہیں ہیں۔
اب باری آئی”انی تارک فیکم الثقلین“، اس میں ان الفاظ کے ہوتے ہوئے کام نہیں چل رہا تھا ،لہٰذا ڈھونڈ ڈھونڈ کر لفظ کو بدلاگیا۔
”اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنَّتِیْ“۔
”میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑتا ہوں ، ایک کتاب اللہ اور ایک میری سنت“۔
مجھے خیر سنت کے مضمون سے اختلاف تو نہیں ہے مگر جو روایتی حیثیت ہے، اُسے عرض کردوں کہ جتنے طرق ہیں اس کے، ان سب میں”عِتْرَتِیْ“ ہے۔ صرف ایک راوی ہے ، ایک طریقہ ہے جس میں”سُنَّتِیْ“درج ہے اور باقی جتنے ہیں، ان سب نے ”عِتْرَتِیْ“ لکھا ہے۔بہت سے طرق ہیں اس کے۔ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ میں ، جو ردِ شیعہ میں لکھی گئی ہے، اس میں ان طرق کو اکھٹا کیا ہے اور مختلف مواقع پر، جن پر حضرت نے ارشادفرمایا ہے، وہ مواقع درج کئے ہیں۔ اچھا! اگر کسی حدیث کا راوی صرف ایک ہو تو اُسے احاد کہا جاتا ہے۔ شہرت و تواتراس کو مانا جاتا ہے جو کئی راویوں نے بیان کیا ہو اور ایک راوی نے کوئی لفظ کہا ہے تو اس کو شاذ مانا جاتا ہے، یہ اُس کے مقابلہ میں معتبر نہیں ہوتا۔
اس کے بعد میں کہتا ہوں کہ اچھا صاحب! آپ کی خاطر میں کہتا ہوں ”کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنَّتِیْ“۔ اللہ کی کتاب اور میری سنت۔ تو یہ تو پھر بھی بات رہی کہ کتاب کافی نہیں ہوئی۔ کتاب اگر کافی ہوتی تو اس کے بعد”سُنَّتِیْ“ کیوں آتا؟”سُنَّتِیْ“ کی ضرورت کیوں ہوتی؟ لہٰذا کتاب کافی تو پھر بھی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد ذرا ہیر پھیر کر منزل کی طرف آنا پڑاکہ اگر ”سُنَّتِیْ“ ہے تو ”سُنَّتِیْ“ میں وہ اور سب حدیثیں بھی ہیں جو عترت اور اہل بیت کے بارے میں ہیں۔
ارے بھئی!”سُنَّتِیْ“ ہے تو کیا اس میں ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ“ نہیں ہے؟آپ نے ہماری ذرا سی مسافت بڑھا دی، نتیجہ تو پھر بھی وہی رہے گا۔
جناب! چوتھی چیز یعنی دوسری حدیث کہ میرے اہل بیت کی مثال نوح کی کشتی کی سی ہے ، جو اس پر سوار ہوا، اُس نے نجات پائی اور تخلف کا ترجمہ ہی نہیں ہوا۔ جس نے تخلف کیا۔ یہ تخلف کیا ترجمہ ہوا؟یہ تو عربی ہی رہی۔اس میں تھا”مَنْ تَخَلَّفَ“، آپ نے یہ کہہ دیا جس نے تخلف کیا۔ آپ نے یہ ترجمہ کرکے کونسا تیر مارا۔ یہ میری اُردو زبان کی کوتاہی ہے کہ میں ایک مفرد لفظ میں اس کا ترجمہ نہیں کرسکتا۔ ”جو تخلف کرے“، ا س کے معنی میں لفظوں میں نہیں بلکہ جملوں میں بتا سکتا ہوں۔ ”جو تخلف کرے“ یعنی یا تو کشتی پر بیٹھے نہیں یا بیٹھنے کے بعد کہیں اُتر جائے۔ کسی منزل پر اُتر جائے یعنی کہا گیا کہ تخلف کرے یعنی جو شروع سے نہ بیٹھے، اس کا بھی وہی انجام ہے کہ ڈوب گیا اور بیٹھا مگر چھٹی منزل پر اُتر گیا، ساتویں منزل پر اُتر گیا، کہیں بھی اُتر گیاتو سمجھئے کہ ڈوب گیا۔
اب تخلف کے معنی ہوئے جس کو میں نے دو جملوں میں کہا کہ جو بیٹھے ہی نہیں یا بیٹھ کر اُتر جائے۔ مگر اب یہ تشریح کردی تو ایک لفظ میں ذرا سے تصرف کے ساتھ کہ مثبت کو منفی بنا کر، ثبوت کو نفی بنا کر، میں ایک جملہ میں بھی ترجمہ کرسکتا ہوں کہ کیا معنی ہوئے:”مَنْ تَخَلَّفَ“، جو اس کشتی پر بیٹھا نہیں رہا، اب بیٹھا نہیں رہا۔ یا تو شروع ہی سے نہیں بیٹھا یا بیٹھا مگر بیچ میں اُتر گیا۔ یہ مطلب ہے کہ بیٹھا نہیں رہا ، وہ ڈوبا اور گیا ۔ یہ تو تشریح تھی۔ یہاں پر زورِ علم کیا صرف ہوا؟ زورِ علم یہ صرف ہوا کہ الفاظ بھی سب صحیح اور اس کا مطلب بھی یہی ہے لیکن یہ کہا ہے کہ میرے اہل بیت کی مثال نوح کی کشتی کی سی ہے۔ بے شک کشتیِ نوح کی سی ہے۔ جو اس میں بیٹھا، اس نے نجات پائی لیکن کشتی ستاروں کے سہارے سے چلتی ہے۔ ایک معزز جماعت کو پیغمبر نے فرمایا ہے کہ ان کی مثال ستاروں کی سی ہے۔
لہٰذا بس کشتی ذریعہ ہدایت ہے۔لیکن ستارے اس کے ساتھ ضروری ہیں۔ حدیث میں مانے لیتا ہوں ، اس پر بحث نہیں کرنا ہے حالانکہ متفق علیہ نہیں ہے، ایک طبقہ میں ہے یہ حدیث، لیکن میں یہاں اس پر بحث نہیں کروں گا۔ کہا جاتا ہے کہ کشتی ستاروں کے سہارے سے چلتی ہے، لہٰذا یہ کشتی ہے، وہ ستارے ہیں۔ تو ستاروں کی ضرورت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ میرا کلام ہوتا تو ٹھیک ہے مگر پیغمبر خدا نے یہ نہیں کہ کہ میرے اہل بیت کی مثال کشتی کی سی ہے، انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ میرے اہل بیت کی مثال کشتیِ نوح کی سی ہے۔ اب کشتیِ نوح کو یہ دیکھنا ہے کہ ستاروں کے سہارے چلی تھی یا نہیں؟
پہلے تو بالکل کھلا ہوا پہلو یہ ہے کہ یہ دیکھنا ہے کہ کشتیِ نوح دن کو چلی تھی یا رات کو۔اگر گرات کو چلی ہو تو ستاروں کا سوال ہے۔ اگر دن کو چلی ہو تو دن کو تارے کس کو نظر آئیں گے؟ دوسری بات یہ ہے کہ دن اور رات سے قطع نظر کیجئے۔ مگر کشتیِ نوح جب چلی ہے تو قرآن سے پوچھئے کہ آسمان سے موسلا دھار بارشک ہورہی تھی۔ گھٹا چھائی ہوتی تھی، ستارے تو خود غائب تھے۔ ستاروں کے سہارے کیونکر چلتی؟ پھر آئیے قرآن سے پوچھیں کہ کشتیِ نوح کس کے سہارے چلی تھی؟قرآن نے کشتی بنانے کا ذکر بھی کیا ہے، کشتی کے چلنے کا ذکر بھی کیا ہے۔ ارشاد ہورہا ہے:
”وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَاوَبِوَحْیِنَا“۔
”اے نوح! کشتی بناؤ ہماری نگاہوں کے اشارے پر اور ہماری وحی کے مطابق“۔
معلوم ہوا کہ جو کشتیِ نجات ہو، اسے پیغمبر اپنی رائے سے بھی نہیں بناتا۔ یہ تو کشتی کے بنانے کا حال ہوگیا اور کشتی کے چلنے کا حال بھی قرآن میں موجود ہے۔ ارشاد ہورہا ہے:
”تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا“۔
”وہ کشتی ہماری نگاہوں کے اشارے سے چلتی تھی“۔
تو اب جنہیں کشتیِ نوح کہا ہے، ایسی ہی ان کی کیفیت ہوگی۔ اب یہ کشتی دنیا کے علم میں بنائی جائے گی تو کہا جائے گا:
”بَلِّغْ مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ“۔
وہ کشتی وہ تھی کہ”تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا“ہماری نگاہوں کے اشارے سے چلتی تھی۔ اب جنہیں کشتیِ نوح کہا جائے گا انہیں وہی کہے گا:
”وَمَاتَشَاءُ وْنَ اِلَّا یَشَاءَ اللّٰہُ“۔
”تم تو چاہتے ہی نہیں ہو سوائے اس کے جسے اللہ چاہے“۔
جناب! لذیذ غذا کے ساتھ تلخ دوا کی بھی ضرورت ہوتی ہے، بقائے زندگی کیلئے۔ہم سنا کرتے ہیں یہ سب چیزیں”کُوْنُوْامَعَ الصَّادِقِیْنَ“، سچوں کے ساتھ رہو۔ پورا زورِ بیان ہمارا صرف ہوگیا اور آپ کا ذوقِ سماعت کہ سچے کون ہیں؟مگر یہ بھی تو دیکھئے کہ ہم سے کیا کہا گیا ہے ۔ اسی طرح اولی الامر پر زورِ بیان صرف ہوگیا کہ اولی الامر کون ہے؟ لیکن یہ بھی دیکھئے کہ اولی الامر ہمیں معلوم ہوگیا کہ یہ ہیں۔ اب ہم سے کہا گیا ہے کہ عترت سے تمسک ضروری ہے، گمراہی سے بچانے والا ہے۔ تو ہم پر کیا ذمہ داری ہے؟ اور کشتیِ اہل بیت پر سوار ہونا چاہئے۔اہل بیت یہ ہیں اور یہ ستاروں کے محتاج نہیں ہیں۔
یہ سب تو ٹھیک ہوگیا لیکن اب ہم سے کہا گیا ہے، جناب! اس پہلو سے ہم کتراتے ہیں ، اس کو سوچنے کیلئے تیار ہی نہیں اور ہمارا خطیب ، ہمارا مقرر بھی اس جزو سے نکل جاتا ہے کہ یہ بیان کروں گا تو نعرے موقوف ہوجائیں گے۔ پھر لوگ مراقبے میں چلے جائیں گے۔ میرے نزدیک یہ جزو نہ ہو تو بیان لاحاصل اور اصل میں اس آیت کا پیغام وہی ہے۔ یہ سچے ہیں مگر قرآن کیا کہہ رہا ہے”کُوْنُوْامَعَ الصَّادِقِیْنَ“، سچوں کے ساتھ رہو۔ اب ہر آدمی غور کرے کہ کیا جھوٹے ہوکر سچوں کے ساتھ ہوں گے؟مانا کہ ہم ا س معیار کے سچے نہ سہی، یہ اس میں بھی سوال ہوتا ہے کہ رسول کی زبانی یہ پیغام پہنچوایا گیا کہ میرے نقش قدم پر چلو تو ہم سوچتے ہیں کہ ہم ان کے نقش قدم پر کہاں چل سکتے ہیں۔ بھلا کہہ کر چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے بس چند جملے کافی ہیں۔
میں کہتا ہوں کہ دیکھئے! اگر رفتار سست ہو مگر سمت ِسفرصحیح ہوتو کبھی نہ کبھی منزل تک پہنچنے کی اُمید ہے۔ لیکن اگر سمت ِسفر غلط ہوگئی تو جتنا چلیں گے، اُتنا ہی منزل سے دور ہوجائیں گے۔ منزل سے قریب نہیں ہوسکتے۔مانا کہ ہم ویسے سچے نہ سہی لیکن جھوٹ کو کارنامہ تو نہ سمجھیں۔محفلوں میں بیٹھ کر فخریہ تو نہ کہیں کہ دیکھو! فلاں کو کیسا چکمہ دیا اور اسے کیسی چوٹ دی۔ جب چوٹ دینے پر فخر کررہے ہیں ، چکمہ دینے پر ناز کررہے ہیں تو اس کے معنی ہیں کہ ان کے ساتھ ہیں جو ویسے سیاست دان تھے۔ ان کے ساتھ نہیں ہیں جوواقعی سچے تھے۔ اس کے بعد”یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا“پورا بیان ہوگیا کہ اولی الامر یہ ہیں۔
میں کہتا ہوں کہ اگر یہ نہ جانتے کہ اولی الامر کون ہیں تو شاید یہ کہہ کر چھوٹ بھی جاتے کہ ہمیں پتہ نہیں تھا ۔ لیکن جتنا زیادہ سنتے رہے کہ اولی الامر کون ہیں یعنی خوب پہچان لیا کہ اولی الامر یہ ہیں اور پھر ہم سے کہا گیا تھا کہ اطاعت کرو۔اطاعت میں رہ گئے صفر، تو بتائیے کہ وہ جاننا ہمارے خلاف حجت بن گیا کہ تم جانتے تھے کہ یہ اولی الامر ہیں، پھر بھی تم نے اطاعت نہ کی اور وہاں کہا گیا تھا:
”مَااِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِھِمَالَنْ تَضِلُّوْابَعْدِیْ“۔
”جب تک ان دونوں سے تمسک رکھو گے، گمراہ نہیں ہوگے“۔
میں کہتا ہوں کہ برابر کی دوچیزیں تھیں، قرآن اور اہل بیت ۔دونوں سے جب تمسک رکھو گے تو وہاں سوچ لیجئے ، وہاں آزادی کے ساتھ فیصلہ کیجئے گا۔ میں کہتا ہوں قرآن حفظ کرلیاتو کیا تمسک ہوگیا؟آپ کہیں گے کہ نہیں تمسک نہیں ہوا۔ یہ نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ کوئی کہتا رہے قرآن میری کتاب ہے۔ میں قرآن کو مانتا ہوں، تویہ کہنے سے کیا تمسک ہوگیا؟آپ کہیں گے کہ نہیں ہوا۔ قرآن دن رات روزانہ پابندی سے کوئی تلاوت کرتا رہے تو کیا تمسک ہوگیا؟آپ کہیں گے کہ قرآن پر عمل بھی تو کرے۔
تو جناب! میٹھا میٹھاھپ ھپ ،کڑواکڑوا تھوتھو۔ یہ تو نہیں ہونا چاہئے، اصول تو اصول ہے۔ جو غیر کے بارے میں فیصلہ سنائیے، وہی اپنے بارے میں سنئے۔اگر قرآن کو کہنا کہ میری کتاب ہے، تمسک نہیں ہے تو ان کو کہنا کہ یہ ہمارے امام ہیں، یہ تمسک کب ہے؟ اگر قرآن کا حفظ کرلینا تمسک نہیں ہے تو اماموں کے ناموں کا یاد کرنا تمسک کب ہے؟اگر صرف اس کی تلاوت کرنا تمسک نہیں ہے تو پھر ان کے فضائل کو سننا یا بیان کرنا، یہ کیسے تمسک ہوگیا؟وہاں تو سب کو کہہ دیا کہ یہ نہیں تمسک، یہ نہیں تمسک، عمل کرنا چاہئے اور یہاں اصول بدل گیا۔ یہاں بھی کہئے کہ اس وقت تک تمسک نہیں ہے، جب تک ہم قرآن کی تعلیمات پر عمل نہ کریں۔
اب چوتھی منزل بیان کی کہ حدیث ِسفینہ۔کہا گیا ہے کہ جو اس کشتی پر سوار ہوا؟ تو کیا یہاں اس قسم کی کشتی ہے اور اس قسم کا سوار ہونا ہے؟غور کیجئے یہ یہ استعارہ ہے۔ استعارہ کی بنیاد تشبیہہ پر ہے۔ جس سے تشبیہہ دیں وہ مشبہ بہ کہلاتا ہے اور جسے اس کے مثل قرار دیں، وہ مشبہ کہلاتا ہے۔ وہ بات جو دونوں میں پائی جاتی ہو، وہ وجہٴ شبہ کہلاتی ہے۔ یہاں کوئی چیز ہے جسے کشتی پر بیٹھنا کہا گیا یعنی کشتی پر بیٹھنا مشبہ بہ ہے اور ہمارا کوئی عمل شبہ ہے اور کوئی چیز مشترک ہے دونوں میں، اس کی وجہ سے اسے کشتی پر بیٹھنا کہا گیا ہے۔حضور! کشتی پربیٹھنے میں کیا ہوتا ہے؟ اس کا پتہ لگائیے کہ وہ چیز کیا ہے؟ کیونکہ وہی مشترک ہوگی دونوں میں۔ کہئے ہماری سمجھ میں جواب نہیں آتا۔ کشتی پر گئے اور بیٹھ گئے۔ میں کہوں گا کہ وہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ بیٹھ گئے لیکن بیٹھنے سے بات کیا پیدا ہوئی؟
میں تجزیہ کرتا ہوں۔ ہم ساحل پر ہیں اور کشتی دریا میں ہے۔ساحل ہی سے کھڑے کھڑے کہنے لگے کہ کتنی اچھی کشتی ہے! کتنی عمدہ کشتی ہے! کتنی حسین کشتی ہے، کتنی جمیل کشتی ہے! اگر واقعی حسین ہے تو یہ آپ کی تعریف اس لئے صحیح ہے کہ آپ اچھے کو اچھا کہہ رہے ہیں۔ اچھا نہ کہتے تو ظلم ہوتا۔اس ظلم سے بحمدللہ بری ہیں۔ اچھے کو اچھا کہہ رہے ہیں۔ لیکن یہ تعریفیں کرنا کشتی پر بیٹھنا تو نہیں ہے۔ساحل پر کھڑے ہوکر کہنے لگے کہ ہم اس کشتی کو بہت چاہتے ہیں۔ ہمیں اس سے بہت محبت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ محبت نہ ہوتی تو آپ کی تعریف صحیح نہ ہوتی۔ محبت ہونا اس کا تقاضائے حسن ہے، آپ کا کمال نہیں ہے۔اگر کشتی حسین ہے تو آپ کو محبت ہونی چاہئے۔ یہ محبت بھی بالکل صحیح ہے لیکن ساحل پر کھڑے کھڑے کشتی سے محبت رکھنا بھی کشتی میں بیٹھنا تو نہیں ہے۔
تیسری نازک تر منزل آئی۔ وہ جزو تو محفوظ ہے کہ ہم ساحل پر کھڑے ہیں اور کشتی دریا میں ہے۔ اب وہ کشتی بادِ مخالف کے تھپیڑوں میں پڑی، وہیں ساحل پر کھڑے کھڑے ہم آنسو بہانے لگے کہ افسوس! ایسی حَسِین کشتی تباہ ہورہی ہے۔میں کہتا ہوں یہ آنسو قابل قدر ہیں، اس لئے کہ دردِ دل کی دلیل ہیں۔ یہ مقتضائے انسانیت ہیں۔ مگر ساحل پر کھڑے کھڑے یہ آنسو بھی کشتی پر بیٹھنا نہیں ہیں۔وہ سوال اپنی جگہ پر رہا کہ کشتی پربیٹھنے میں کیا ہوتا ہے۔ جو میری سمجھ میں آیا ہے، وہ یہ کہ جب جاکر کشتی پر بیٹھ گئے تو اپنی ذاتی حرکت کچھ نہ رہی اور اپنا
ذاتی سکون بھی کچھ نہ رہا۔ کشتی چلے تو ہم چلے، کشتی رُکی تو ہم رُکے۔یہ معنی ہیں کشتیِ اہل بیت پر بیٹھنے کہ کہ اپنے حرکت و سکون کو تابعِ اہل بیت بنادیا۔اگر اس معنی سے کشتیِ اہل بیت پر بیٹھنا ہے تو ممکن ہی نہیں ہے کہ کشتی منزل پر پہنچے او ریہ شخص نہ پہنچے، اگر کہیں اُتر نہیں گیا ہے۔
میں کہتا ہوں کہ نجات تو ایک عام چیز ہے،نجات تو ایک مبہم چیز ہے۔ اگر کشتی پر بیٹھا رہا تو جہاں کشتی پہنچے گی، وہاں یہ پہنچے گا۔ یہی کہا گیا ہے اپنے خاص ماننے والوں کو:
”فِیْ دَرَجَتِنَایَوْمَ الْقِیَامۃ“۔
”ہمارے شیعہ یومِ قیامت ہمارے درجہ میں ہوں گے“۔
مگربندہ پرور! پانی پیاس بجھاتا ہے، کاغذ پر لکھا ہوا پانی کا نام نہیں ۔ غذا بھوک کو ختم کرتی ہے، غذا کا نام نہیں۔اسی طرح سے بے شک محبت ِاہل بیت نجات کی ضامن ہے مگر محبت ہو بھی تو۔ جن سے ہمیں محبت ہے، وہ اصولِ کافی میں کہہ رہے ہیں:
”مَنْ اَطَاعَ اللّٰہَ فَھُوَلَنَا مُحِبٌّ وَمَنْ عَصَی اللّٰہَ فَھُوَ لَنَاعَدُ وٌّ“۔
”جو اللہ کی اطاعت کرے، وہ ہمارا دوست ہے اور جو اللہ کی نافرمانی کرے، وہ ہمارا دشمن ہے“۔
جن سے محبت کا دعویٰ ہمیں ہے، وہ ہم کو مخاطب کرکے کہہ رہے ہیں:
”کُوْنُوْالَنَازَیْنًاوَلَا تَکُوْنُوْالَنَاشَیْنًا“۔
”دیکھو! ہمارے لئے سبب ِ آرائش بنو، ہمارے دامن کا داغ نہ بنو“۔
حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ ذمہ داری ہماری ہے کردار کے لحاظ سے۔ اس کی ایک عام مثال دیتا ہوں کہ سکول کے مختلف درجے ہوتے ہیں اور درجوں میں ترقی کرتا ہوا آدمی بالآخر یونیورسٹی تک پہنچتا ہے۔ چھوٹے درجہ کا طالب علم کوئی غلطی کرے تو بڑے درجہ کے طالب علم کو ہنسنے کا حق نہیں ہے کیونکہ اس کا معیارِ تعلیم ہی پست ہے۔ لیکن اگر اونچے درجہ کا طالب علم ،بڑے اُستاد کا شاگرداگر کوئی غلطی کرے تو بچے تک کو ہنسنے کا حق ہے۔اسی طرح آدم کے وقت سے ایک درس گاہِ تعلیماتِ الٰہی قائم ہوئی تھی۔ آدم کے بعد نوح آئے۔ تو جس نے نوح کو نہ مانا یعنی کافر رہا، وہ گویا درسگا ہ سے نام کٹوا کر نکل گیا۔ جس نے نوح کو بھی تسلیم کیا، اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کا معیارِ تعلیم اونچا ہوا۔ اب اس پرآدم کی تعلیمات کی بھی ذمہ داری تھی اور نوح کی تعلیمات کی بھی ہے۔حضرت ابراہیم خلیل اللہ آئے، جنہوں نے ان کو تسلیم نہیں کیا، ایمان نہیں لائے، اس کے معنی ہیں کہ پھر درس گاہ سے وہ نکل گئے۔ ان پر ان کی تعلیمات کی ذمہ داری نہیں رہی۔ جو حضرتِ ابراہیم پر ایمان لائے، ان کا نصابِ تعلیم اور اونچا ہوا ، یہاں تک کہ جب حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفےٰ تشریف لائے تو نصابِ تعلیم کیا ہے کہ:
”یُوٴمِنُوْنَ بِمَااُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَااُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ“۔
آدم سے لے کر خاتم تک جتنے انبیاء کی تعلیمات ہیںِ سب کے ورثہ دار یہ ہیں، ان تمام درجوں کو طے کر کے یہاں تک آئے ہیں۔ جب ایمان اختیار کیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خاتم الانبیاء کے حلقہ درس میں داخل ہوئے۔ افضل المرسلین کے درس میں شامل ہوئے۔
تو اب اس کے معنی یہ ہیں کہ دنیا کی جتنی قوتیں ہیں، جتنے مذاہب ہیں، وہ سب مسلمانوں کے نزدیک ناقص تعلیمات کو لئے ہوئے ہیں او ریہ ہیں جنہوں نے مکمل تعلیم حاصل کی اور افضل المرسلین کے نصاب میں داخل ہوئے ہیں۔ تو ان کو یہود کے کردار کا جائزہ لینے کا حق نہیں ہے، ان کو نصاریٰ پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، ان کو بت پرستوں پر اعتراض کا حق نہیں ہے۔ مگر خود ان کے عمل پر اعتراض کرنے کا دنیا کو حق ہے۔
میں خاتم الانبیاء کے نظام تک پہنچ گیا تو کہتا ہوں کہ جب ایک طبقہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ رسول کے بعد کوئی معصوم نہیں ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے نزدیک تعلیمی کلاسیں ختم ہوگئیں۔ اب درسگاہ کا کوئی درجہ اس کے نزدیک ہے ہی نہیں۔ لہٰذا اب اس کی ذمہ داری بس یہیں تک رہی لیکن اگر کوئی طبقہ اس کا قائل ہے کہ نظامِ ہدایت قیامت تک ہے اور ان کے بعد بھی ایک سلسلہ ہے معصوم رہنماؤں کا، اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کیلئے درسگاہ کے ابھی اور درجے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ علی سے کیا حاصل کیا، حسن سے کیا حاصل کیا، حسین سے کیا حاصل کیا؟ اگر کچھ لوگ ہیں جو چھ درجوں کے بعد چلے گئے تو پھران کی ذمہ داری ختم ہوگئی اور جنہوں نے کہا کہ ہم بارہ کو الحمدللہ مانتے ہیں ، اب ان پر پورے نظامِ تعلیم کی ذمہ داری ہے کہ اپنے کردار سے ثابت کریں کہ اتنے رہنماؤں سے انہوں نے کیا حاصل کیا!
میرے سامنے ایک روایت ہے ، یہ شاہد ہے کہ جب جنابِ مسلم ہانی کے گھر میں تھے اور ابن زیاد آیا ہے ، اس کو فکر تھی کہ جنابِ مسلم کہاں ہیں؟ اس نے اپنے غلام معقل کو چارہزار دینار دئیے۔ یہ طبری سے بھی مقدم ایک تاریخ ہمارے ہاتھ میں ہے”الاخبارالطوال“، اس میں یہ واقعہ درج ہے کہ اس نے چار ہزار دینار دے کر کہا کہ جاکر پتہ لگاؤ کہ مسلم کہاں ہیں۔ اس دشمنِ اہل بیت معقل کا بیان ہے کہ میں مسجد میں آیا، اتفاق سے جنابِ مسلم ابن عوسجہ اس وقت مصروفِ نماز تھے تواس نے ان کے شکل و شمائل کو دیکھا اور بیٹھ کر ان کی نماز کو دیکھا۔
نمازوں کاسلسلہ تھا جو جاری تھا۔اس معقل کا بیان ہے کہ:
”قُلْتُ فِیْ نَفْسِیْ“۔”میں نے اپنے دل میں کہا“۔
یہ غیر شیعہ کی کتاب میں ہے، جملہ دشمن اہل بیت کا کہ یہ شیعہ لوگ نمازیں بہت پڑھتے ہیں اور رکوع و سجود بہت طولانی کرتے ہیں۔لہٰذا ہوں نہ ہوں، یہ اس جماعت کے ہیں۔ اس بناء پر وہ آیا اور پہنچا جنابِ مسلم تک اسی ذریعہ سے۔میں کہتا ہوں کہ ایک وقت میں کثرتِ نماز ہماری پہچان تھی، اس کے بعد نہ جانے کس وقت ہوائے انقلاب ایسی چلی کہ ہم ان صفات سے عاری ہوگئے۔ ہر ایک کو فکر ہوتی ہے کہ جس سے ہمیں محبت ہے، سب سے آخری جملہ اس نے کیا کہا؟اس کو یاد رکھنا چاہئے اور اس پر عمل کرنا چاہئے۔ یہ اہل بیت ہیں جنہوں نے تعلیماتِ الٰہی کو اور شریعت ِ اسلام کو اپنی زندگی کا جزو بنایا تھا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے حالات میں ہے کہ جب آپ کا وقت ِ وفات قریب پہنچا ہے اور اردگرد اصحابِ خاص ، اولاد اور عزیز تھے تو آخری لفظ جو مولا کی زبان سے نکلا ہے، جس کے بعد قرآنِ ناطق خاموش ہوگیا ہے، وہ یہ تھا کہ تین مرتبہ فرمایا:
”اَلصَّلوٰة، اَلصَّلوٰة، اَلصَّلوٰة“۔
دیکھو! نماز کو نہ بھولنا۔ جس سے محبت کا دعویٰ ہے، وہ آخری وقت تک نماز کو یاد رکھتے ہیں۔ اس کے بعد ہم فراموش کردیں۔ دیکھئے کربلا سے بڑھ کر مصائب اور پریشانیوں کا وقت کیا ہوگا؟ مگر کربلا میں کیا اہتمام کیا گیا کہ روز کے موٴذن حجاج ابن مسروق اور عاشور کی نمازِ صبح کے وقت مولا فرماتے ہیں: بیٹا علی اکبر ! آج تم اذان دو۔ مولا جانتے ہیں کہ میرا علی اکبر بھولنے کی چیز نہیں ہے۔جب تک دنیا علی اکبر کو یاد رکھے، تب تک اس نماز کو بھی یاد رکھے۔
میں کہتا ہوں کہ مولا نے بھی صبح کی اذان دلوائی ہے کیونکہ جو نمازی بھی ہیں، ان کیلئے سب سے زیادہ دشوار صبح کی نماز ہوتی ہے۔ اکثر پڑھتے بھی ہیں تو قضا کرکے پڑھتے ہیں۔ مولا نے صبح کی نماز کی اذان اس لئے دلوائی کہ کوئی جوان و نوجوان علی اکبر کا ماتم کرنے والا، علی اکبر کا نوحہ پڑھنے والااگر بستر پر یاد کرے کہ میرا شہزادہ کہتا ہے:”حَیَّ عَلَی الصَّلوٰة“،تو شاید علی اکبر کی آوا ز پرآجائے۔ یہ صبح کی نماز ہے۔ اور خدا کی قسم! کربلا میں نماز بھی جیسی ہوئی ہے، ویسی تاریخ عالم میں کبھی نہیں ہوئی۔ ظہر کی نماز میدانِ جنگ میں، تیر برس رہے ہیں اور گرمی ہے، آگ برس رہی ہے، خون کی بارش ہے۔ اس عالم میں ظہر کی نماز کس وقت آیا۔ اصحاب جو گردوپیش ہیں، ان کی کوشش یہ ہے کہ مولا خود حکم نہ دینے پائیں کہ ہم اپنے ذوقِ عبادت کا نذرانہ پیش کردیں۔
ابوتمامہ ساعدہ، اگر یہ واقعہ نہ ہوتا توہم ان کا نام بھی نہ جانتے ، یہ ویسے ممتاز صحابہ میں نہیں ہیں، ان کا نام صرف ا س نماز کی بدولت ہم نے سنا، کہتے ہیں : مولا ! دشمن بہت قریب آگئے ہیں، تمناہے کہ یہ نماز آپ کے ساتھ با جماعت ہوجائے۔ امام دعائیں دینے لگتے ہیں۔ فرماتے ہیں:
”ذَکَرْتَ الصَّلوٰة جَعَلَکَ اللّٰہُ مِنَ الْمُصِلِّیْنَ الذَّاکِرِیْنَ“۔
”تم نے خود سے نماز کو یاد کیا، اللہ تمہارا شمار نمازیوں میں کرے“۔
عزادارانِ حسین ! میں کہتا ہوں کہ اگر مولا کی دعائیں لینی ہیں تو نماز کو نہ بھولئے۔ کیا کہنا اس نماز کا کہ ادھر نماز ہورہی ہے، اُدھر دو صحابی تیر کھارہے ہیں۔ سعیدابن عبداللہ اور زہیر ابن قین۔ انہیں کھڑا کیا ہے کہ جو تیر آئے، اپنے اوپر روکو۔یوں تو کربلا کا پورا جہاد نماز کی خاطر ہے، عبادت کی خاطر ہے، شریعت کی خاطر ہے مگر یہ وہ قربانیاں ہیں جو بلاشائبہ مجاز، نماز کی خاطر ہوئی ہیں۔ اب جس نماز پر مولا اپنے دو جاں بازوں کو قربان کردیں، اس نماز کو ہم اپنے عمل سے پامال کریں تو مولا ہمیں اپنا دوست سمجھ سکتے ہیں؟اپناصحیح عزادار سمجھ سکتے ہیں؟
اربابِ عزا! عصر کی نماز کا وقت ہے۔ میری مجال نہیں ہے کہ میں اس نماز کی خصوصیات عرض کروں کہ کس عالم میں رکوع تھا، کس عالم میں سجود تھا، کس عالم میں قیام تھا؟ مگر سجدہ تو تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ کہنے والے نے بھی کہہ دیا کہ :
اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے
اِک ضربِ یداللّٰہی اِ ک سجدئہ شبیری
تو سجدئہ شبیری تو یادگار ہے مگربڑی تلخ حقیقت ہے، بڑی سخت بات ہے کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمیں خنجر یاد رہے اور سجدہ یاد نہ رہے۔ ارے خنجر تو شمر کا تھا، سجدہ ہمارے مولا حسین کا تھا۔
بس ایک پہلو کہ یہ سجدہ طولانی کتنا ہوا، ارے ان کی نظر میں تھا کہ میرے نانا نے میری خاطر سجدہ کو طول دیا تھا، تو میں اپنے عمل سے یہ ثابت کروں کہ میں آپ کے دین کی خاطر کب سجدہ کرتا ہوں۔ میں کہتا ہوں دیکھئے! نماز کا ہر عمل کب تک طولانی ہوگا؟ رکوع اس وقت تک طولانی ہوگا جب تک انسان کھڑا نہ ہو۔ اگر کھڑا نہیں ہوا تو اس کے یہ معنی کہ رکوع باقی ہے۔ یہ قیام کب ختم ہوگا؟ جب سجدہ ہوجائے، اگر سجدہ نہیں ہوا تو قیام ہی قیام ہے۔سجدہ کا اس وقت اختتام ہوگا جب سجدے سے سر اٹھایا جائے۔ اگر سر نہیں اٹھایا تو سجدہ قائم ہے۔ رسول نے اتنا طولانی سجدہ کیا کہ ستّر مرتبہ ذکر سجود کی نوبت آئی۔ حسین نے کہا کہ میں ایسا سجدہ کروں گا کہ سر اٹھاؤں گا ہی نہیں۔خدا کی قسم! حسین نے سجدہ سے سر نہیں اٹھایا، کوئی اور تھا جس نے سر جدا کردیا۔