معراج خطابت
 
ہوجاو سچوں کے ساتھ۱
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاا تَّقُواللّٰہَ وَکُوْنُوْامَعَ الصَّادِقِیْنِ“۔
اے اہل ایمان! اللہ کی عظمت کے تقاضوں کو محسوس کرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ پہلے جزو کے متعلق عرض ہوچکا کہ سچوں کے ساتھ رہو، ایک ہی لفظ ہوتا ہے مگر متکلم بدلنے سے اس کی سطح مختلف ہوجاتی ہے۔ ہم جس وقت کسی آدمی کو کہیں کہ وہ سچا ہے تو ہمارا علم محدود، ہماری نگاہ محدود۔ لہٰذا بس اُس کی دو چار خبروں کو دیکھا کہ جو کچھ اُس نے بتایا تھا اور جو اُس نے اطلاع دی تھی، وہ صحیح نکلی۔ ہم نے کہہ دیا کہ آدمی سچا ہے۔ مگر ہمیں نہیں معلوم کہ جو وعدہ وہ کرتا ہے ، اُسے پورا بھی کرتا ہے یا نہیں۔ تو ہمیں صادق مخبر کہنے کا حق تھا، صادق القول کہنے کا حق نہیں ، چہ جائیکہ پورے آدمی کو سچا کہہ دیں۔
فرض کیجئے کہ وعدوں کو بھی دوچار مرتبہ دیکھ لیا کہ جو وعدہ کیا، وہ ٹھیک نکلا۔ اب ہم نے کہا کہ سچا ہے مگر ہمیں یہ نہیں معلوم کہ اس کے عمل میں ظاہروباطن یکساں ہے یا نہیں۔ اگر ظاہر وباطن اس کے عمل میں یکساں نہیں ہیں تو کردار کی سچائی کہاں رہی اور یہ ہمارے بس کی بات بھی نہیں کیونکہ ظاہر ہمارے حدودِ ادراک میں ہے اور باطن ہمارے حدودِ ادراک سے خارج ہے۔ تو ہم ظاہر و باطن میں کیونکر مطابقت کریں؟ مگر ہم اس پر غور ہی نہیں کرتے ، ہم آدمی کو سچا کہہ دیں گے۔ اس سے بحث نہیں کہ اس کے کردار میں ظاہروباطن کی یک رنگی ہے یا نہیں ہے۔ فرض کیجئے کہ کچھ قرائن سے بھی محسوس کرلیا کہ یہ بے لوث آدمی ہے اور اس کے کردار میں دو رنگی نہیں ہے۔ لیکن ہمیں کیا معلوم کہ اس کے تصورات کیا ہیں؟ اس کے خیالات کیا ہیں؟ اس کے ذہن کی تمام گردشیں صحیح خطوط پر جاتی ہیں یا نہیں؟ جب تک ہم نے یہ محسوس نہیں کیا، اس وقت تک ہمارا یہ کہنا کہ یہ آدمی سچا ہے، کہاں قیمت رکھتا ہے؟ مگر یہ تو اس وقت ہے جب ہم کسی کو سچا کہیں اور وہ جو عالم الغیب ہے، وہ کسی کو سچا کہے تو اس کے معنی ہیں کہ اپنے علم غیب کے آئینہ میں اس نے اس کے قول کو بھی آزما لیا ، اس کے عمل کو بھی دیکھ لیا اور اس کے ذہن کی گردشوں کو بھی اس نے پیش نظر رکھا۔ اس کے بعد اُس کو سچا کہا۔
اب جب اُس نے سچا کہا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی گفتار بھی بالکل صحیح ، اس کا کردار بھی بالکل صحیح، اس کا پندار بھی بالکل صحیح۔ نہ اُس کو کوئی قول ایسا ہے جو حقیقت سے جدا ہو، نہ اس کا کوئی قول و عمل، نیت، تصور اور عقیدہ ایسا ہے جو نقطہ حقیقت سے جدا ہو۔ یہ صادق کہنا اس کے قول و عمل و تصورات سب کی صحت کا ضامن ہوگا۔ اب اگر وہ ایک کو کہے گا صادق تو وہ ایک ایسا ہوگا ۔ اگر وہ کسی جماعت کو کہے صادقین تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ پوری جماعت ایسی ہوگی جن کے قول و عمل اور تصور و خیال کی صحت کا وہ ضامن ہے۔ اب وہ جتنے ہوں، چاہے پانچ ہوں، چاہے بارہ ہوں، چودہ ہوں اور اس منزل میں اس سے زیادہ مجھے یاد نہیں ہے۔
اب عقلی حیثیت سے ایک پہلو پر غور کیجئے، وہ یہ کہ دو اشخاص ہوں اور ان میں اختلا ف ہو۔ ایک کچھ کہتا ہو، دوسرا کچھ کہتا ہو۔ ایک کچھ سوچتا ہو، دوسرا کچھ سوچتا ہو۔ ان میں باہم قول و عمل و تصور میں اختلاف ہو تو یہ تو ہوسکتا ہے کہ دونوں غلط ہوں، نقظہ صحت کچھ اور ہو مگر یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ دونوں صحیح ہوں۔یہاں پوری ایک جماعت ہے جسے وہ کہہ رہا ہے ”صادقین“۔ تو ماننا پڑے گا کہ وہ جماعت جتنے آدمیوں کی ہے، جتنے افراد اس جماعت کی کڑی میں منسلک ہیں، وہ سب ایسے ہیں کہ نہ ان کے قول میں اختلاف ہے، نہ ان کے عمل میں اختلاف ہے۔ صورتِ حال میں اختلاف ہوسکتا ہے ، حقیقت ِعمل میں اختلاف نہیں ہوسکتا۔
حضورِ والا! جب ایسے چودہ ہوں گے کہ جن کے قول و عمل و فعل میں اختلاف نہ ہوا، اس کا مطلب یہ کہ آنکھیں چودہ ہوں گی مگر نگاہ ایک ہے۔ ہاتھ چودہ کے ہیں مگر کام ایک ہے۔ قدم چودہ کے ہیں مگر اقدام ایک ہے اور دل چودہ کا ہے مگر ارادہ و مقصد ایک ہے۔ اب ایسے چودہ جب ہوں گے تو چودہ ہونے کی وجہ سے ان میں کثرت ہے۔ لہٰذا رنگ بھی کچھ الگ الگ ان میں ہوسکتا ہے۔مختلف رنگت میں بھی ہر ایک معیارِ حسن میں کامل ہوسکتا ہے۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ اسب کی رنگت ایک ہو۔قدوقامت بھی الگ ہوسکتا ہے۔ شکل و شمائل بھی اپنے معیار پر کمال کے ساتھ الگ ہوسکتے ہیں۔ جب شکلیں الگ الگ اور صورتیں الگ الگ ہیں ، شخصیات جدا جدا ہیں تو نام بھی الگ الگ ہوں گے اور ذاتی و طبعی حیثیت سے کچھ مزاج بھی الگ الگ ہوسکتا ہے مگر کردار کا وہ سانچہ جسے صادق کہتے ہیں، سب کا ایک ہوگا۔
اب نام الگ الگ اور بہ اعتبارِ ظرفِ زمانہ جس کو جس صفت کے اظہار کا زیادہ موقع ملا، اس کے اعتبار سے لقب بھی الگ الگ۔ کسی کو علوم کے باطنی اسرارورموز کے نمایاں کرنے کا موقع زیادہ ملا، اس کا لقب باقر ہوگیا۔ کسی کی سچائی کا دشمنوں کو بھی اعتراف ہوا، اس کا نام صادق ہوگیا۔ کسی کو عمر بھر غصے ہی کو ضبط کرنا ہوا، اس کا لقب کاظم ہوگیا۔تو نام بھی الگ الگ، کنیت بھی الگ الگ اور لقب بھی الگ الگ۔ مگر وہ کردار کا ایک سانچہ ، اس کے لحاظ سے جب رسول نام بتائیں گے تو کہیں گے:
”اَوَّلُنَامُحَمَّدٌوَاَوْسَطُنَامُحَمَّدٌوَآخِرُنَامُحَمَّدٌوَکُلُّنَامُحَمَّدٌ“۔
مگر یہ تو مجھے کہیں سے کچھ تعداد بھی معلوم ہے ، کچھ نام بھی معلوم ہیں، کچھ کنیت بھی معلوم ہے جو میں نے اتنا آپ کے سامنے عرض کیا۔ مگر میں نے تو کہا کہ ایک صادق کی شناخت ہم نہیں کرسکتے کیونکہ عالم الغیب نہیں ہیں اور ظاہر و باطن میں مطابقت نہیں کرسکتے اور تصورات و خیالات کا جائزہ نہیں لے سکتے۔ تو ایک صادق کو ہم نہیں پہچان سکتے، چہ جائیکہ ایک جماعت ِصادقین ، تو اب جس نے کہا کہ سچوں کے ساتھ رہو، اسی کو بتانا چاہئے کہ وہ سچے کون ہیں؟ ورنہ کہہ دیا کہ سچوں کے ساتھ رہو اور ہم سچوں کی تشخیص نہیں کرسکتے۔ وہ بتاتا نہیں تو پھر تو آیت بس تلاوت و حفظ کیلئے رہ سکتی ہے، عمل کیلئے نہیں ہوسکتی۔
حکیم علی الاطلاق کہہ رہا ہے ہم سے، مخاطب ہم ہیں، یوں ہیں ، ایسے اجزاء مقطعاتِ قرآن ہیں، ہمارے نزدیک کچھ پیغام ہیں جو خاص رسول کے لئے تھے۔ ہم سے صیغہ راز میں ہیں۔ پھر اس کے مخاطب بھی ہم نہیں ہیں۔ مگر ایک چیز ہے کہ مخاطب ہم کو کیا جارہا ہے:
”یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا“۔”اے صاحبانِ ایمان“۔
اب وہی ترجمہ کروں گا کہ اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ہم سے کہہ رہا ہے کہ سچوں کے ساتھ رہو اور بتاتا نہیں ہے کہ سچے کون ہیں؟ تو حکیم علی الاطلاق کے تقاضائے حکمت کے مطابق یہ نہیں ہے ۔ پھر میں چودہ سو برس اور ساڑھے چودہ سو برس کے بعد یہ سوچ رہا ہوں کہ وہ اگر نہ بتائے تو ہم کیونکر عمل کریں گے۔آخردورِ رسالت کے مسلمان بھی تو سمجھدار تھے اور براہِ راست انہی کو پکار کر کہا جارہا تھا تو آخر انہوں نے کیوں نہیں پوچھا کہ یہ سچے کون ہیں جن کے ساتھ رہنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے؟ تو اگر پوچھا ہو تو کوئی روایت بتائے ، کوئی دکھائے کہ کیا پوچھا؟ کب پوچھا؟ اور پھر رسول نے کیا کہا؟ ہماری بھی معلومات میں اضافہ ہو، کوئی ہمیں ایسی روایت بتائے اور اگرکوئی ایسی روایت نہ ملے کہ لوگوں نے پوچھا تو ماننا پڑے گا کہ بتایا لیکن عام لوگوں نے بھلا دیا۔
تو اب دنیا بھلا دے ، بہرحال اگر ہمیں یاد ہے تو ہم دیکھیں کہ یہ بتایا۔ یاد رکھئے کہ بتانے کے دو طریقے ہیں۔یہ دونوں طریقے مقصد کے حصول میں کارگر ہیں۔ پہلی صورت تو سیدھی سادی یہ ہے کہ جو صادقین ہیں، کہیں پر لاکر ان کی صورتیں دکھائی جائیں کہ دیکھو! یہ ہیں۔ یہ ایسا طریقہ ہے کہ کند ذہن آدمی بھی سمجھ لے گا۔ اس میں کوئی غوروفکر اور نکتہ رسی کی ضرورت نہیں ہے۔ بالکل صاف ، آنکھوں کے سامنے لاکر دکھایا جائے کہ یہ صادقین ہیں۔ کم سے کم اس سلسلہ کے جتنے افراد ہیں، اس وقت موجود ہیں، ان کو ایک جگہ پر دکھایا جائے ۔ پھر ہر صادق اپنے بعد والے کا تعارف کرواتا رہے گا اور سلسلہ قیامت تک قائم رہے گا۔
مجھے زیادہ کدوکاوش کے بغیر مل گیا ہے۔ رسول نے آفتابِ نیم روز کی روشنی میں ان افراد کو سامنے لا کر دکھادیا اور قرآن کی آیت نے اور رسول کے عمل نے مل کر بتادیا کہ یہ افرا دہیں جو صادقین ہیں۔ نصاریٰ یمن کا نجران ایک مرکز تھا۔ وہاں جو پیغامِ اسلام پہنچا تو انہوں نے تحقیق کیلئے ایک وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا کہ ان کا پیغام کیا ہے۔ چنانچہ ستر آدمیوں کا وفد آیا جس میں تمام علمائے راہب شامل تھے اور میں ان کی معقولیت کی داد دوں گا کہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ دین کا معاملہ ہے، فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو اس میدان کے شہسوار ہیں، انہیں بھیجا جائے۔ جو مزاجِ دین سے واقف ہیں، جو کھوٹے اور کھرے اور سچے اور جھوٹے کا امتیاز نگاہ سے کرسکیں، ان کو بھیجا جائے۔ عام تصور تو یہ ہے کہ یہ لوگ تحقیق کیلئے بھیجے گئے تھے اور اس قوم کو تحقیق کا شوق ہے مگر صورتِ واقعہ پر غور کیجئے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر وہ صرف تحقیقاتی وفد ہوتا تو اُسے کوئی سمجھوتہ کرنے کا حق نہ ہوتا، کسی معاہدے کا حق نہ ہوتا۔ ان کا کام صرف یہ ہوتا کہ جاکر رپورٹ دے دیں۔ لیکن صورتِ واقعہ بتا تی ہے کہ وہ معاہدہ کرکے واپس ہوئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ بااختیار وفد تھاکہ جو مناسب سمجھنا، وہ تم کرنا۔صرف حالات کا جائزہ لینے کیلئے تم نہیں بھیجے گئے تھے مگر جو جائزہ لینے کے بعد ان کی رائے ہو، اس کے مطابق عمل بھی ان کے ذمہ تھا۔
وہ روانہ کئے گئے۔ میں نے ان کی معقولیت کی تعریف کی مگر میں اب اس قوم کو پکار کر کہتا ہوں کہ تم اتنے معقول تھے اور میں نے تمہاری معقولیت کی تعریف کی۔ لیکن اب اس معقولیت کا دامن کیوں چھوڑ دیا؟ تم ہی نے اس رسول کی تصویر کھینچی کہ ایک ہاتھ میں تلوار، ایک ہاتھ میں قرآن۔ میں کہتا ہوں یہ کیوں معقولیت کا دامن چھوڑا؟ اگر ان کا کام یہی ہوتا کہ یہ تلوار سے دین کو پھیلاتے تو تمہارے مقابلہ میں تلوار کیوں نہ کھینچی؟ تمہارے مقابلہ میں تلوار کا نہ آنا اس کا ثبوت ہے اور تمہاری معقولیت کا تقاضا ہے کہ تم اس کو مانو کہ تلوار اُن کے مقابلہ میں کھنچتی تھی جو تلواریں لے کر آئیں۔ تم تلواریں لے کر نہیں آئے تو تمہارے مقابلہ میں تلوار نہیں کھینچی۔
بہرحال وہ مدینہ آئے اور تمام تفصیلات اس کی آپ کی نظر میں ہیں۔ انہوں نے یہ سنا تھا کہ ہم تاجدارِ مدینہ کے پاس جارہے ہیں او ریہ ہزاروں برس کا محاورہ سینہ بہ سینہ ہم تک پہنچا ہے اور گویا پیغمبر کے انقلاب میں یہ بڑی فضیلت والا لقب ہے ”تاجدارِ مدینہ“۔اسی سے مسلمانوں کی ذہنیت ظاہر ہوجاتی ہے۔
جناب! یہ تصور اس وقت تھا اور وہ یہ تصور کیوں نہ کرتے جب تک مسلمانوں کے درمیان آج تک یہ تصور باقی ہے۔ تو انہوں نے ایسے لباس بنائے جوبادشاہوں کے دربار میں جانے کیلئے موزوں ہوں۔ حریرودیبا کے کپڑے پہن کر آئے۔ وہ جو آئے تھے تو سن چکے تھے چرچے کہ رسول کے اخلاق ایسے ہیں۔ مگر پیغمبر خدا مصروفِ گفتگو رہے۔ آپ نے ادھر رُخ ہی نہیں کیا۔ تھوڑی دیر کھڑے رہے ۔ یہ خیال کرکے کہ شاید اتفاقاً نظر نہ پڑی ہو۔ جب اتفاق کی گنجائش نہ رہی ، سمجھے کہ ارادی بات ہے تو واپس ہوئے۔ آپس میں یہ بات کرتے ہوئے کہ ہم نے تو ان کے اخلاق بہت بلند سنے تھے مگر ہمیں جو تلخ تجربہ ہوا ہے، اس کی تو ہمیں کسی بد اخلاق سے بھی اُمید نہ تھی۔ مگر حسن اخلاق کے چرچوں کا تواتر اتنی قوت رکھتا تھا کہ مشاہدہ ان کے مقابلہ میں ٹک نہیں رہا تھا ورنہ رکنے کی ضرورت کیا تھی؟ اسی وقت واپس جاتے اور جاکر کہتے کہ اب کیا تحقیق کریں؟یہی خبر غلط نکلی ۔ ان کے تو اخلاق ایسے ہیں۔ مگر حسن اتفاق کے چرچوں کا دباؤ ذہن پر تھا کہ محسوس ہورہا تھا کہ نہیں ، کوئی بات ہے ۔ وہ بات کیونکر معلوم ہو؟ تو جو ان کے مزاج شناس ہوسکتے ہیں، ان کے دربار کے حاضر باش ہوسکتے ہیں، ان سے دریافت کیا جائے کہ اس میں راز کیا ہے؟
اب کئی اصحاب سے پوچھا اور آخر میں اس ذات کے پاس پہنچ گئے جس کیلئے دنیا کا گویا مقدر تھا کہ ہر طرف سے ٹھوکریں کھا کر وہاں پہنچے۔ جو لوگ جواب نہیں دے سکتے تھے، وہ بھی ساتھ ساتھ تھے کہ جب جواب نہیں ملے گا تو ہماری بھی سمجھ میں آجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ان سے پوچھو۔ یہ بچپن سے رسول کے ساتھ ہیں۔ آپ سے دریافت کیا۔وہاں سے سیدھے آئے تھے۔ لباس کی تبدیلی کا موقع بھی نہیں ملا تھا۔آپ نے غور سے ان کے لباس کو دیکھا اور ارشاد فرمایا کہ کیا یہی کپڑے پہن کر تم گئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی، یہی تو کپڑے پہن کر ہم گئے تھے۔ یعنی کوئی خلافِ شانِ دربار بات ہم نے نہیں کی، یہی کپڑے پہن کر گئے تھے۔
آپ نے ارشاد فرمایا: تم تو راہب ہو، تارک الدنیا ہو۔ یہ تم نے کیا سوانگ رچایا ہے؟ جو اصلی کپڑے ہیں، ان میں جاؤ اور دیکھو۔ اوّل تو ان کے ذہن نے قبول کرلیا کہ ہاں، یہ بات ہوسکتی ہے۔ دوسرے یہ کہ عقل نے کہا ہوگا کہ انہوں نے ایک نسخہ تو بتایا، اسے آزما کر دیکھو۔ چنانچہ گئے او روہ کپرے بیچاروں نے پھینکے اور وہیں سے اپنے کپڑے پہنے اور دوسرے دن پیغمبر خدا کے پاس آئے اور دیکھتے ہی رسولِ خدا تعظیم کو کھڑے ہوگئے۔
ایک جملہ کہہ کر آگے بڑھوں، دیکھئے قرآن کا کیا ذکر، عملِ رسول بھی کافی نہیں ہوتا، جب تک شرح کرنے والا نہ ہو۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ کیسے آپ لوگ آئے؟ انہوں نے بتایاکہ تحقیق کرنے کیلئے آئے ہیں اور آپ کے پیغام کو سننا چاہتے ہیں ۔ جو جو آپ نے کہا، وہ ان کی عقل قبول کرتی گئی کہ ہاں! بالکل صحیح ہے۔ہر چیز کو اُن کا ذہن مان رہا تھا لیکن آخر میں بات یہ آگئی کہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
سورئہ آلِ عمران اس سلسلہ میں نازل ہوا۔ ان کی ولادت کا تذکرہ رفعت و بلندی وغیرہ اس میں تھی۔ انہوں نے کہا: صحیح ہے۔ آپ ان کو نبی مانتے ہیں، رسول مانتے ہیں۔ صاف صاف یہ بتائیے کہ خدا کا بیٹا مانتے ہیں یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ جواب یہی تھا کہ نہیں، ہم نہیں مانتے۔انہوں نے اپنے نزدیک یہ بہت بڑی دلیل پیش کردی کہ اگر آپ خدا کا بیٹا نہیں مانتے تو بتائیے کہ وہ کس کے بیٹے ہیں؟گویا لاجواب کردیا۔
میں کہتا ہوں کہ اگررسولِ خدا ہمارے اصولِ مناظرہ کے پابندہوتے توبائبل میں حضرت عیسیٰ کاپورا شجرہ موجود ہے۔یوسف نجار کے ذریعہ سے حضرت آدم تک ان کے نسب کو پہنچا دیا گیا ہے۔ فرمادیتے کہ ہم سے کیا پوچھتے ہو، تمہاری کتابوں میں ان کا پورا شجرہ لکھا ہوا ہے۔ مگر حضور! یہ مناظرہ کا فن ہوتا ہے۔ حقیقت شناسی یہ نہیں ہوتی کہ باطل کو باطل سے رَد کیا جائے۔ جب ہم اُسے صحیح تسلیم نہیں کرتے تو اس کو ان کے مقابلہ میں سند میں کیوں پیش کریں۔ جو اصل واقعہ ہے، اس کو پیش کرنا ہے۔ اس پر یہ آیت اُتری:
”اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَاللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ خَلَقَہُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہُ کُنْ فَیَکُوْنَ“۔
ان سے کہہ دیجئے کہ مثال حضرت عیسیٰ کی مثل حضرت آدم کے ہے، یہاں تو کم از کم ایک فریق موجو دہے جس سے ولادت ہوئی ہے، وہاں تو نہ ماں اور نہ باپ۔ تو جو خدا اس پر قادر ہے ، وہ اس پر بھی قادر ہے کہ بغیر باپ کے وہ پیدا کرے۔ جہاں تک دلیل کا تعلق ہے تو جواب تو کوئی نہیں تھا۔ اس کو وہ رَد نہیں کرسکتے تھے کیونکہ آدم کی خلقت مسلّم ہے ۔ اُسے عیسائی بھی مانتے ہیں، اُسے یہودی بھی مانتے ہیں۔ ان کا طریقِ خلقت سب کے نزدیک ایک ہی ہے۔ اب جواب تو کوئی نہیں تھا، مگر جو نہ ماننا چاہتاہو، اُسے خدا اور رسول بھی قائل نہیں کرسکتے۔ اب آیت تیور بدل کر اُتری۔ آیت کی اٹھان بڑی ہی ہولناک ہے:
”فَمَنْ حَاجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَاجَاءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ“۔
اب اتنے علمی دلائل آنے کے بعد نہ مانے تو اب معلوم ہوتا ہے کہ ”ہمیں گوو ہمیں میدان“۔مگر وہ میدان دوسرا ہے۔ ارشاد ہورہا ہے کہ پھر بھی نہ مانے تو آپ یہ کہہ دیجئے:
”قُلْ تَعَالَوْانَدْعُ اَبْنَاءَ نَاوَاَبْنَاءَ کُمْ وَنِسَاءَ نَاوَنِسَاءَ کُمْ وَاَنْفَسَنَاوَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ“۔
ان سے کہہ دیجئے کہ پھر آجاؤ، ہم اپنے بیٹوں کو لائیں، تم اپنے بیٹوں کو لاؤ، ہم اپنی عورتوں کو لائیں ،تم اپنی عورتوں کو لاؤ، ہم اپنے نفوس کو لائیں ،تم اپنے نفوس کو لاؤ، پھر مباہلہ کرلیں۔مباہلے کے معنی ہیں اللہ سے لَو لگانا، رجوع الی اللہ۔اللہ کی طرف رجوع کریں اور پھر فیصلہ ہوجائے۔ یہ انداز اختیار کیا گیا کہ اگر یہ اب بھی نہ مانیں، علمی دلائل آنے کے بعد، یہ علمی دلائل کیا ہیں؟ یہ قرآن ہے۔ اگر مگر کا سوال نہیں ہے۔ اب واقعہ قرآنی ہے کہ جب قرآن کافی نہیں ہوتا تو یہ لوگ لائے جاتے ہیں۔
آخر کا جملہ میں نے نہیں پڑھا کہ ”نَبْتَھِلْ“۔اللہ سے لَو لگائیں، رجوع کریں۔
”فَنَجْعَلْ لَعْنَۃ اللّٰہِ“۔
”پھر اللہ کی لعنت قرار دیں“۔
کن پر؟ یاد رکھئے، ضد سے ضد پہچانی جاتی ہے۔ اگر کہا جاتا”فَنَجْعَلْ لَعْنَۃ اللّٰہِ عَلَی الْکَافِرِیْنَ“، تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ جو اِدھر سے لائے جارہے ہیں، وہ موٴمنین ہیں ۔ اگر کہا جاتا”فَنَجْعَلْ لَعْنَۃ اللّٰہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ“، تو پتہ چلتا کہ ادھر سے جو آئے ہیں، وہ سب عادلین ہیں۔ حالانکہ قرآن میں لعنت ظالمین پر بھی ہے۔ قرآن میں لعنت کافرین پربھی ہے۔ اب یہ الگ بات ہے ۔ یہ مسلمانوں کے سوچنے کی بات ہے کہ خدا سے بڑھ کر کس کی تہذیب ہوگی۔ خدا سے بڑھ کر کون مہذب ہے اور خدا سے بڑھ کر سنجیدہ کلام اور دشنام کے امتیازات کو جاننے والا کوئی دوسرا ہوسکتا ہے؟
بہرحال قرآن میں کافرین پر لعنت ہے، ظالمین پر بھی لعنت ہے مگر یہاں نہ کافرین کہا جارہا ہے، نہ ظالمین کہا جارہا ہے۔یہاں کہا جارہا ہے:
”فَنَجْعَلْ لَعْنَۃ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ“۔
”اللہ کی لعنت قرار دیں کاذبین پر“۔
میں کہتا ہوں کہ اب نظر جما دیجئے میدانِ مباہلہ پر کہ جو ادھر سے لائے جائیں گے، وہ صادقین ہوں گے ۔ تو اب میرے بیان کا خلاصہ یہ ہوا کہ یہ منزل تعارفِ صادقین کی ہے۔ وہ آیت کہہ رہی ہے کہ صادقین کے ساتھ رہو اور یہاں لاکر دکھا دیا گیا ہے کہ صادقین اس وقت یہ ہیں۔ اب منطق میں اس کی کیا تعریف ہے، جب یہ سوال کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ کیا شے ہے؟ تو اس کے جواب میں جو شے حقیقت ہو، بتانے کیلئے اُسے تعریف کہتے ہیں۔ تو تعریف کی شے کی جامع و مانع ہونی چاہئے۔جامع کے معنی ہیں کہ کوئی فرد چھوٹ نہ جائے اور مانع کے معنی یہ ہیں کہ کوئی غیر مرد شامل نہ ہوجائے۔
مثلاً پوچھا جائے کہ انسان کون ہوتا ہے؟ اور کوئی کہے کہ جو گورا چٹا ہو، اس کے معنی یہ ہیں کہ بیچارے جتنے کالے ،سانولے ہیں، وہ تو سب خارج ہوگئے اور یورپ کی زبان میں تو ہم سب خارج ہوگئے کیونکہ ہمارا گورا بھی ان کے نزدیک کالا ہے۔تو وہ تو قوم کا نام گورا ہے اور ہمارا نام ہی کالا ہے۔ بہرحال اس کے معنی یہ ہیں کہ تعریف جامع نہیں ہے ۔ یعنی سب انسان اس میں نہیں ہیں اور اگر کہا جائے کہ جو زمین پر چلتا پھرتا ہو، تو لیجئے جتنے کیڑے مکوڑے تھے، وہ سب داخل ہوگئے۔زمین پر چلنے والے سب جانور داخل ہوگئے۔ تو تعریف مانع نہ رہی۔ تو تعریف غلط ہوجائے گی۔تعریف کو جامع ہونا چاہئے اور مانع ہونا چاہئے۔
یہاں میں نے کہا کہ یہ درحقیقت صادقین کے تعارف کی منزل ہے ۔ تو جامع ہونے کیلئے تو یہ اہتمام کیا گیا کہ کوئی فردچھوٹ نہ جائے۔ یہاں تک کہ جس کا گھر سے نکلنے کا دستور تک نہ ہو، وہ بھی اس منزل میں ضرور آئے اور بچے اگرہیں تو انہیں بھی نہ چھوڑا جائے۔ اگر وہ اس سلسلہ کے افراد ہیں تو وہ بھی لائے جائیں۔ یہ تو جامع ہونے کا اہتمام ہے اور مانع ہونے میں۔ مانع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پتہ چلے کہ بس یہی ہیں، کوئی دوسرا نہیں ہے کہ جو یہاں آسکے۔صرف یہی افراد ہیں جن کو پیغمبر خدا لائے۔ اس کیلئے خدا ورسول دونوں نے اہتمام کیا، مانع ہونے کے ثبوت کیا۔ دونوں نے یوں کیا کہ اس کا قول اور ان کا عمل۔دونوں نے مل کر اس مقصد کو پورا کیا کہ خالق نے ہر جگہ جمع کا لفظ استعمال کیا۔
ہمارے ہاں اُردو میں تو بس دومنزلیں ہیں، واحد اور جمع۔فارسی میں بھی آمد اور آمدند۔ آیا اور آئے۔ مگر عربی میں تین منزلیں ہیں۔ سنسکرت میں بھی تین منزلیں ہیں۔ واحد، تثنیہ اور جمع واحد۔ ایک تثنیہ دو اور جب دو سے زیادہ ہوں تو جمع۔ یہاں جتنے الفاظ ہیں، ان کا واحد بھی مجھے معلوم ہے، تثنیہ بھی مجھے معلوم ہے کہ ایک ہو تو ابن ، دو ہوں تو ابنان اور دو سے زیادہ ہوں تو ”اَبْنَاء“۔ اس کے بعد ایک عورت ہو تو امراة، دو ہوں تو امراتان۔ یہاں تو لفظ وہی رہا۔ جب کئی ہوں تو نساء۔ سب حرف بدل گئے۔ جمع ہو، تب نساء ۔ اسی طرح ایک عدد ہو تو نفس، دو ہوں تو نفسان۔ جب دو سے زیادہ ہوں تو ”انفس“۔ تو خالق نے ہر جگہ جمع کا لفظ استعمال کیا اور رسول کسی ایک جگہ بھی جمع نہ لے گئے۔ ابناء کی منزل میں دو عدد، تثنیہ کی حد تک پہنچے ، جمع تو نہیں ہوئے اور نساء کی منزل میں بس ایک فردِ فرید اور انفس کی منزل میں بس ایک نفس نفیس۔ تو کیا مجھ ایسا جاہل تو عربی کے لفظ کے تقاضے جانتا ہے اور پیغمبر عرب ، عربی کے لفظ کے تقاضوں کو نہیں جانتے۔ اب دوسرا رُخ کہ کیا خالق اپنے پیغمبر کے پیمانہٴ عمل کو نہیں جانتا تھا؟اب یہ اس کے لفظوں کی حدود سے واقف، وہ ان کے عمل کی حدود سے واقف۔ تو پھر لازماً ماننا پڑے گا کہ کوئی اس میں حکمت ِ ربانی ہے کہ وہ ہر جگہ جمع استعمال کرے۔ مگر یہ ایک جگہ بھی جمع نہ لیجائیں او روہ حکمت جو میری سمجھ میں آتی ہے، وہ یہی ہے کہ اگر وہ اس میں واحد کے الفاظ استعمال کرتا تو سوچنے والا سوچ سکتا تھا کہ لانے کے قابل اور بھی لوگ تھے۔
لہٰذا اتفاق سے جو پاس تھے، اور وہ تو رہے ہی تھے پاس، ان کو لے گئے۔ ضرورت کیا تھی کسی کو بلواکر لے جانے کی؟ تو مانع ہونے کا یعنی انحصار کا مقصد واضح نہ ہوتا کہ بس یہی ہے ۔ لہٰذا خالق نے جمع کے الفاظ صرف کئے جن کی تعمیل بشرطِ امکان دو ایک سے ہو ہی نہ سکے۔ اب اگر فرض شناس رسول جمع کہیں نہ لے گئے بلکہ دو اور ایک لے گئے تو پھر تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ ظرفِ وجود کی کوتاہی تھی کہ ان سے بڑھ کر موجود ہی نہ تھے ورنہ فریضہ آئینی و قانونی ہوتا کہ یہ آدمی بھیج بھیج کر بلوائیں تاکہ تعمیل حکمِ الٰہی ہو۔
اب جو نہیں لے گئے تو ماننا پڑے گا کہ بس یہی تھے اور کوئی تھا ہی نہیں ا س معیار پر۔ اسی کیلئے خالق نے ایک اور طریقہ بھی اختیار کیا کہ ”ابناء نا“، یہ لفظ تو رشتہ کا نمائندہ ہے۔ بیٹا ایک رشتہ ہے مگر اس کے بعد معلوم ہے ہمیں کہ واحد کو اگر جمع بھی بنانا تھا تو سیدہ عالم بیٹی تھیں، ”بَنَا تُنَا“کہہ دیا جاتا۔مناسب مراة النظیر بھی تھی کہ ”اَبْنَاء نا وبناتنا“۔ جوڑ تھا ، مناسبت ِلفظی بھی تھی مگر”اَبْنَاء“ لفظ رشتے کا نمائندہ۔اس کے بعد لفظ بدل دیا”نِساء نَا“۔اب ”نِساء نَا“ لفظ رشتہ کا نمائندہ نہیں ہے،صنف کا نمائند ہ ہے۔اس میں حکمت ِربانی دیکھئے ۔ اگر کہا جاتا ”بَنَا تُنَا“۔ ایک مطلب تو ہمارا پھر بھی نکل ہی آتا کہ خالق نے بنات کہا ہے تو اگر ایک کے علاوہ کوئی اور بیٹی ہوتی تو رسول کو لازم تھا کہ لے جائیں۔ یہاں اُس نے ”بَنَا تُنَا“ نہیں کہا، ”نساء نا“کہا۔عورتوں کی منزل میں اگر اُس نے ”بَنَا تُنَا“ کہا ہوتا تو دنیا سوچ سکتی تھی کہ خالق نے رشتہ مقرر کردیا تھا۔ اس لئے دوسرے رشتہ کی خواتین میں لانے کے قابل افراد تھے۔ مگر کیا کیا جائے کہ جو رشتہ وہاں مقرر کردیا گیا تھا، جو فرد اس رشتہ کا نمائندہ تھا، وہی لایا گیا۔ لہٰذا خالق نے یہاں ممکن بندوں کا منہ بند کرنے کیلئے قیامت تک لفظ بدل دیا۔”بَنَا تُنَا“ نہیں۔ یعنی
کوئی رشتہ یہاں پر نہیں چاہتا۔”نساء نا“، ہم اپنی عورتوں کو بلائیں۔ اب اگر ایک ہی آئے تو سمجھ لو کہ کسی رشتہ کا کوئی اس صنف کا فرد کہیں نہیں ہے جو اس منزل میں آنے کے قابل ہو۔
معلوم ہوا کہ اب یہ افراد لاکر بالکل صادقین کی تعریف مکمل کردی گئی۔ جامع اور مانع کہ اس وقت ان کے علاوہ کوئی دوسرا فرد موجود نہیں ہے جو اس منزل پر آئے۔ جو آنے کے قابل تھے، ان میں سے کسی کو چھوڑا نہیں گیا اور جو نہیں لے گئے، بس سمجھو کہ اس منزل میں خدا اور رسول کی نگاہ میں وہ نہیں ہیں جو آسکیں۔یوں تمہاری نگاہ میں صادق بنیں۔ اس سے بڑھ کر بھی کوئی لفظ ہوسکتا ہے؟ لیکن اللہ کی زبان میں جو اس کا معیار ہے، وہ بس انہی افراد میں ہے کہ جو منزلِ مباہلہ میں آئے ہیں۔ ان کے سوا اور کوئی دوسرا اس منزل میں نہیں ہے۔
تو معلوم ہوا کہ صادقین کا تعارف اب مکمل ہوگیا۔ بس اس کے علاوہ ہر اقدام میں بہت سے مصالح ہوتے ہیں کہخالق کا مقصد پورا ہوکہ ایک آیت اس کی جو ابھی تک تشنہ تکمیل رہتی، اس کی تشخیص ہوگئی۔ ان افراد کا تعارف ہوگیا ۔ تو ایک آیت کے ساتھ دوسری آیت بھی کارآمد ہوگئی۔ تو اس کا مطلب بھی پورا ہوا اور پھر پیغمبر خدا نے ان افراد کو اپنے ساتھ لاکر یہ دکھادیا کہ دیکھو! جو میراکارِ تبلیغ ہے، اس وقت تو میں ہوں، میں نے اپنے ساتھ شریک کرکے تمہیں دکھا دیا۔ جب میں نہ ہوں تو بس یہی افراد ہوسکتے ہیں جو میرے مشن کوآگے بڑھائیں۔ یہی افراد ہوسکتے ہیں جو میرے مقصد کی تکمیل کریں۔
دوسرے الفاظ میں کہوں کہ شریک ِمنصب نہیں ہیں مگر شریک ِکار ہیں۔بس اب چشم دل سے دیکھئے کہ میدانِ مباہلہ میں سب سے آگے کون ہے؟ اگر کہئے تو لفظ بدل دوں ، یہ نہ کہوں کہ سب سے آگے کون ہے؟ یہ کہوں کہ یہ دیکھئے کہ سب سے آگے کس کا چہرہ ہے؟روایت بتاتی ہے کہ یہی چہرے تھے جن کو دیکھ کر ادھر کے سردار نے کہا : ہرگز مباہلہ نہ کرنا:
”اِنِّیْ اَریٰ وُجُوْھًا“۔
میں وہ چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر خدا کی طرف رُخ کرکے کہہ دیں تو پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائے۔اگر ان سے مباہلہ کرو گے تو کوئی عیسائی روئے زمین پر باقی نہیں رہے گا۔اسی وجہ سے مباہلہ نہیں ہوا۔ میں نے کہا کہ آگے کونسا چہرہ ہے؟ بے شک پیغمبر خدا، سیدہ عالم سلام اللہ علیہا بے شک ہیں، مگر یہی کیا کم ہے کہ تعمیل حکمِ الٰہی کیلئے کہ وہ بیت الشرف سے باہر آئی ہیں؟ لیکن کوئی ضرورت نہیں کہ وہ برقعہ و چادر میں نہاں نہ ہوں۔ سر سے پیر تک برقعہ و چادر میں نہاں نہ ہوں۔ پھر آگے آگے حجابِ رسالت، پیچھے پیچھے حجابِ امامت۔ درمیان میں یہ عصمت ِکبریٰ، اس شان سے آئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کا چہرہ کہاں سامنے ہے؟ میں تو کہتا ہوں کہ پردہ کی ضرورت کے تحت فاطمہ سب سے پیچھے، عقب میں امیرالموٴمنین ہیں۔
تواب آگے کونسا چہرہ ہے؟ ہاں! رسول اللہ آگے ہیں۔ ہاں! حسن مجتبیٰ بھی ہیں ان کے ساتھ ساتھ۔ مگر قد چھوٹا ہے، انگلی تھامے ہوئے نانا کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ وہی دیکھے گا جو قریب آئے لیکن ایک بچہ ہے جسے رسول گود میں لئے ہوئے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ اس ستارئہ سحری کی طرح جو آمد ِآفتاب کی خبر دیتا ہے، حسین کا چہرہ ہے جو دشمن کی نگاہ کے سامنے آگے ہے اور یہ حسین ہی کو سب سے آگے کیوں رکھا ہے؟ میرا دل تو یہ کہتا ہے کہ آج کی مثال کو دُہرانے کا وقت انہی پر آئے گا۔یہ جب جارہے تھے تو لوگ کہہ رہے تھے کہ جب آپ جاتے ہیں تو عورتوں اور بچوں کو کیوں لئے جاتے ہیں؟اس کیلئے جواب میں ان کے پاس بدر کی مثال نہ تھی، اُحد کی مثال نہ تھی، خندق و خیبر کی مثال نہ تھی۔ بس مباہلہ کی مثال تھی کہ نانا نے بھی ا س جہاد میں کسی صنف کی نمائندگی نہیں چھوڑی تو میں بھی کسی صنف کی نمائندگی نہیں چھوڑوں گا۔
اگر نانا اپنے ساتھ میرے بابا علی علیہ السلام کو نہ لائے ہوتے تو میں اپنے بھائی ابوالفضل العباس کو نہ لاتا۔اگر میرے نانا مجھے اور میرے بھائی حسن مجتبیٰ کو نہ لائے ہوتے تو میں علی اکبر و علی اصغر کو نہ لاتا۔ اگر میرے نانا میری والدہ فاطمہ زہرا کو نہ لائے ہوتے تو میں اپنی بہنوں زینب و اُمِ کلثوم کو نہ لاتا۔ نہ وہاں کسی کی نمائندگی چھوڑی گئی، نہ یہاں کسی کی نمائندگی چھوٹے گی۔
مثال وہی تھی جسے دُہرایا۔ مگر میں کہتا ہوں کہ وقت کے بدلنے سے بڑا ارتقاء ہوگیا۔ مباہلہ پُرامن مقابلہ تھا ۔ ارے خطرہ انہیں ہوگا جنہیں حقانیت میں شک ہو۔ آنے والے ان افراد میں سے کسی کو خطرہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ اس کا تصور بھی کفر ہے کہ انہیں خطرہ ہو۔تو پُر امن مقابلہ مگر پھر بھی لانے کیلئے کوئی غیر نہ ملا اور کربلا جہاں تباہی و بربادی کا یقین، وہاں کم سے کم بہتر(۷۲) ساتھ آگئے۔ ان میں انساب کی حقیقت ہے جو غیر کہتا ہوں ورنہ جہاں تک کربلا کا تعلق ہے، مجھے تو یگانہ و بیگانہ کا فرق نہیں معلوم ہوتا۔
بس ایک پہلو اور ، میدانِ مباہلہ میں جو آئے تھے، کوئی روایت نہیں بتاتی کہ وہ سیروسیراب نہ ہوں مگر کربلا کے میدان میں تین دن کے بھوکے اور پیاسے تھے۔