معراج خطابت
 
ہوجاوٴ سچوں کے ساتھ
بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ
”یَااَیُّھَاالَّذِینَ اٰمَنُواا تَّقُواللّٰہَ وَکُونُوامَعَ الصَّادِقِینِ“۔
ارشادِ حضرتِ اقدس ہے کہ اے صاحبانِ ایمان! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو“۔”ا تَّقُواللّٰہَ“کا عام ترجمہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ سے ڈرو۔ یعنی تقویٰ کا ترجمہ ڈرنے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ مگر جب دوسرے محل پر ان الفاظ کو دیکھتے ہیں جو اس سے ملتے جلتے ہیں تو ترجمے مختلف سامنے آتے ہیں کہ ڈرنے کے ساتھ اس کا ترجمہ نہیں ہوتا، مثلاً”ا تَّقُوا“، یہ فعل امر ہے جس کا ہم نے ترجمہ کیا کہ ڈرو، مگر اب اسی کے ہم معنی یعنی اسی لفظ کا اسم فاعل اور اس کی جمع”ھُدًی لِّلمُتَّقِینَ الَّذِینَ“، یہ قرآن ہدایت ہے ان متقین کیلئے جو، یہ متقین وہی چیز ہے ، وہاں”ا تَّقُوا“تھا، یہاں متقین کا لفظ ہے۔ اسم فاعل کی جمع ہے۔ اس کا ترجمہ یہ نہیں کیا جاتا کہ ہدایت ہے ڈرنے والوں کیلئے۔
”ا تَّقُوا“کا ترجمہ اگر تھا کہ اللہ سے ڈرو تو پھر”ھُدًی لِّلمُتَّقِینَ“کا ترجمہ ہونا چاہئے کہ ہدایت ہے ڈرنے والوں کیلئے۔ مگر یہاں لفظ بدلا جاتا ہے۔ یہاں یہ آتا ہے کہ ہدایت ہے پرہیزگاروں کیلئے۔ اب متقین کا ترجمہ اگر پرہیز گار ہے تو پھر”ا تَّقُوا“کے معنی ہیں پرہیزگاری اختیار کرو۔ مگراس ”ا تَّقُوا“کے ساتھ اللہ کا لفظ جو ہے،تو اُردو نہیں بنتی ، یعنی اللہ کا لفظ مفعول ہے۔ تو” پرہیزگاری اختیار کرو“ کے ساتھ اللہ کا جوڑ کس طرح لگے؟ اللہ سے پرہیزگاری اختیار کرو۔ اس لئے وہاں پرہیزگاری نہیں لائی جاتی بلکہ ”ڈرو“ لایا جاتاہے تاکہ اللہ کے ساتھ اس لفظ کا ربط قائم ہوسکے۔ وہاں پر چونکہ لفظ ”متقین“ تھا، اس کا کوئی متعلق نہیں تھا، اس لئے وہاں پرہیزگاری بن گیا۔
یہاں ”ا تَّقُوا“ سے مطالبہ ہے کہ اللہ سے کرو، کیا کرو؟ پرہیزگاری اختیار کرو یا اللہ سے پرہیز کرو۔ کیا مطلب؟ پس وہاں پرہیزگارکے ساتھ ترجمہ تھا اور یہاں ”اللہ سے ڈرو“ ترجمہ ہوگیا۔ اب جن سے”ا تَّقُوا“ اور متقین کے الفاظ بنے ہیں، اسی سے تقویٰ ہے۔ اب تقویٰ کے معنی پرہیزگاری ہوجاتے ہیں۔
”اِنَّ اَکرَمَکُم عِندَاللّٰہِ اَتقٰکُم“۔
”تم میں سب سے زیادہ عزت اُس کی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو“۔
سب سے زیادہ عزت اُس کی ہے جو سب سے زیادہ فرض شناس ہو۔سب سے زیادہ عزت اُس کی ہے جو سب سے زیادہ فرائض کا ادا کرنے والا ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایک عربی لفظ ہے اور اس کا ترجمہ نہیں بنتا یعنی ترجمہ کا خواب پریشان ہورہا ہے او رکوئی ایک متعین ترجمہ اس کا ہر محل پر نہیں ہوتا۔ ایک لفظ کا ترجمہ کرنا تو مشکل ہورہا ہے اور پھر قرآن کافی ہے۔
میں جب عرب کے محاورات دیکھتا ہوں تو پتہ چلتاہے کہ نہ ڈرنا اس کا صحیح ترجمہ ہے اور نہ پرہیز کرنا اس کا صحیح ترجمہ ہے۔ اس لفظ کے جو استعمال کے مقامات ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز سے بچنا۔ اس کیلئے عربی اشعار کے شواہد پیش کئے جاسکتے ہیں۔ اس سے ”وَقَایَہ“کا لفظ بھی آتا ہے جو بچاؤ کا ذریعہ ہو، اُس کو کہتے ہیں۔ اس بناء پر میں نے کبھی کبھی متقین کا ترجمہ کیا ہے”فکر نجات رکھنے والے“۔ یعنی آخرت کے برے نتائج سے بچاؤ کی فکر تقویٰ ہے۔
اب معیارِ نظر کے اعتبار سے محل بدل جائے گا۔ جو سزا کے خو ف سے متاثر ہوتاہے، اس کیلئے سزا سے بچاؤ کی فکر اور جو اتنا بلند نظر ہے کہ اس کو سزا کی فکر نہیں ہے، ناراضگی کی فکر ہے ، تو پھر معنی ہوں گے ”اُس کی ناراضگی سے بچاؤ کی فکر“۔ اب ”ا تَّقُوااللّٰہ“کے معنی ہیں ”اُس کی ناراضگی سے بچو“۔
”یَااَیُّھَاالَّذِینَ اٰمَنُواا تَّقُوااللّٰہ“کے معنی ہوں گے:”اے صاحبانِ ایمان! اللہ کی ناراضگی سے بچو، اللہ کے غضب سے بچو“۔
اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کی سزا سے بچو اور اب جو یہ کہا گیا کہ”ھُدًی لِّلمُتَّقِینَ“، ہدایت ہے متقین کیلئے ، جس کا ترجمہ ہم کررہے ہیں”ہدایت ہے پرہیزگاروں کیلئے“۔ مطلب یہ ہے کہ جن کو آخرت کی فکر ہی نہیں ہے، وہ قرآن میں غورکیوں کریں گے؟ یہ اترا تو سب کیلئے ہے لیکن اس سے صحیح فائدہ اٹھائیں گے وہی جو فکر نجات رکھتے ہیں۔
”ھُدًی لِّلمُتَّقِینَ“، ہدایت ہے متقین کیلئے۔ قرآن مجید نے کہنا شروع کیا، کون متقین؟”ھُدًی لِّلمُتَّقِینَ الَّذِینَ“، سب سے پہلے”یُوٴمِنُونَ بِالغَیبِ“، جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں،”وَیُقِیمُونَ الصَّلوٰة“، اور نماز کو قائم رکھتے ہیں،”وَمِمَّارَزَقنٰھُم یُنفِقُونَ“، او ر جو ہم نے ان کو عطا کیا ہے، اس میں سے خیرات کرتے ہیں۔
پھر ایک سلسلہ شروع ہوا اوصاف کا کہ:
’وَالَّذِینَ یُوٴمِنُونَ بِمَااُنزِلَ اِلَیکَ وَمَااُنزِلَ مِن قَبلِکَ وَبِالآخِرَة ھُم یُوٴقِنُونَ‘
”اور وہ جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ پر نازل ہوا اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل ہوا اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں“۔
”اُولٰئِکَ عَلٰی ھُدًی مِن رَّبِّھِم وَاُولٰئِکَ ھُمُ المُفلِحُونَ“۔
”وہ لوگ جو راہِ ہدایت پر ہیں اپنے پروردگار کی طرف سے اور یہ لوگ فلاح پانے والے ہیں“۔
یہ جو کہا گیا ہے کہ ہدایت ہے ان متقین کیلئے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں، یہ ان متقین کیلئے۔ صفت دو طرح کی ہوتی ہے، ایک صفت ہوتی ہے جو دائرہ کو محدود بناتی ہے، مثلاً ایسے معالج کا علاج کرو جو تجربہ کار ہو، یہ وصف ہے کہ جو تجربہ کار ہو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو تجربہ کار نہیں ہے، اناڑی ہے، اس کا علاج نہ کرو۔ اسے قید ِ احترازی کہتے ہیں۔ یعنی ایک دوسری چیز کو الگ کرنے کیلئے یہ قید لگتی ہے،دائرہ کو محدود بنانے کیلئے۔اسے قید ِ احترازی کہتے ہیں۔ پس یہاں جو صفات ہیں کہ ان متقین کیلئے ہدایت ہے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں، اگر اس طرح کی قید ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ متقین کچھ ایسے ہیں جو غیب پر ایمان نہیں رکھتے مگر ہیں متقین۔متقین ایک وہ ہیں جو غیب پر ایمان نہیں رکھتے مگر ہیں متقین۔ وہ ہیں تو متقین مگر قرآن سے انہیں فائدہ نہیں پہنچتا۔
اسے کوئی اپنے مطلب کی بات سمجھے کہ ہاں! ہم ایسے ہی متقین ہیں جو غیب پر ایمان نہیں رکھتے۔ ہم سے غیب کا مطالبہ نہ کیجئے مگر ہیں ہم متقین۔ خیر! اگر اسے کوئی اپنے مطلب کی سمجھے۔ آپ آگے بڑھئے کہ ہدایت ہے ان متقین کیلئے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ یعنی کچھ متقین ایسے ہیں جو سرے سے نماز ہی نہیں پڑھتے اور پھر بھی متقین ہیں۔ اب وہ غیب سے بے نیازہوکرمتقین بننے والے سوچیں گے کہ پھر نماز کو بھی چھوڑیں کیونکہ متقین ہونے میں تو کوئی کمی نہیں ہوگی۔ہم ویسے متقین بنیں جو نماز نہیں پڑھتے۔ اب اسے کوئی طبقہ اپنے مطلب کی بات سمجھے جو نماز سے بے توجہی اختیار کرنا چاہتا ہے، وہ کہے کہ ہمیں ویسے ہی متقین سمجھے کہ جو نماز نہیں پڑھتے۔پھر بھی ہمارے تقویٰ میں تو کمی نہیں ہے۔تو اب آگے بڑھئے:
”مِمَّارَزَقنٰھُمُ یُنفِقُونَ“۔
”جو کچھ ہم نے عطا کیا ہے، اس میں سے خیرات کرتے ہیں“۔
یہ محبت ِ زر رکھنے والے اپنے مطلب کی بات سمجھیں کہ صاحب! ٹھیک ہے کچھ متقین ہیں جو خیرات کرتے ہیں۔ ہم وہ متقین ہیں جو پیسے کو عزیز رکھتے ہیں، لہٰذا خیرات کا ہم سے مطالبہ نہ کیجئے۔ آگے بڑھئے:
”اَلَّذِینَ یُوٴمِنُونَ بِمَااُنزِلَ اِلَیکَ وَمَااُنزِلَ مِن قَبلِکَ“۔
”وہ جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ پر اترا اوراس پر بھی جو پہلے اترا ہے“۔
اس کے معنی یہ ہیں کہ کچھ متقین وہ ہیں جو نہ آپ پر نازل شدہ چیز پر ایمان رکھتے ہیں ، نہ اس پر جو آپ سے پہلے نازل ہوا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آدم سے لے کر خاتم تک جتنے انبیاء کی تعلیمات ہیں، سب کے منکر ہیں، کسی پر ایمان نہیں رکھتے اور پھر بھی ہیں متقین۔ اس کے بعد:
”بِالآخِرَةِ ھُم یُوٴقِنُونَ“۔
”آخرت کا یقین رکھتے ہیں “۔
یعنی کچھ متقین وہ ہیں جو آخرت کا یقین بھی نہیں رکھتے او رپھر بھی متقین ہیں۔ تو اب اچھے متقین ہوئے کہ نہ وہ غیب پرایمان رکھتے ہیں، نہ وہ نماز پڑھتے ہیں، نہ خیرات دیتے ہیں، نہ رسالت پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں، پھر بھی متقین ہیں۔تو اب کسی کا بھی ضمیر اس کو گوارہ نہیں کرے گا۔ ہر ایک سمجھے گا کہ نہیں، اس کا مفہوم یہ نہیں ہوسکتا۔
تو اب معلوم ہوا کہ یہ قید ویسی نہیں ہے ، اوریہ وصف ایسا نہیں ہے جو احترازی ہو یعنی بچاؤ کا ہو۔
دوسری قید ہوتی ہے تشریحی۔اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو پہلے ایک مجمل لفظ ہے، اس کی تفصیلات بیان ہورہی ہیں۔ اس کی تشریح کی جارہی ہے۔ اس کی علمی مثال یہ ہے کہ:
”اَلجِسمُ طَوِیلٌ عَرِیضٌ عَمِیقٌ یَحتَاجُ اِلَی المَکَانِ“۔
”جسم جو طول بھی رکھتا ہے، عرض بھی رکھتا ہے، گہرائی بھی رکھتا ہے، اُسے بہرحال ٹھہرنے کیلئے کسی جگہ کی ضرورت ہے“۔
اب جسم کہتے ہی اُسے ہیں جس میں طول بھی ہو، عرض بھی ہو، عمق بھی ہو۔ اگر طول ہی طول ہے، عرض نہیں ہے تو وہ خط ہے، جسم نہیں ہے۔ اگر طول اور عرض ہے لیکن موٹائی نہیں ہے، تو وہ سطح ہے، جسم نہیں ہے۔ اگر طول ، عرض، عمق کچھ نہیں ہے، تو نہ وہ نقطہ ہے، نہ خط ہے، نہ سطح ہے، نہ وہ جسم ہے۔جسم وہی ہے کہ جس میں طول بھی ہو، عرض بھی ہو، عمق بھی ہو۔ تو جسم ایک مجمل لفظ تھا ، یہ طویل ، عریض، عمیق۔ جو طویل ، جو عریض، جو عمیق۔ یہ جو”جو“ کا لفظ ہے، یہ اس جسم کے بیان کرنے کیلئے ہے کہ جسم یہ ہوتا ہے۔
اب دیکھئے کیا مطلب ہوتا ہے”ھُدًی لِّلمُتَّقِینَ“، یہ قرآن متقین کیلئے ہدایت ہے۔ اب گویا متکلم قرآنی کہتا ہے کہ ہم سے پوچھو۔ متقین کون ہوتے ہیں، ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ متقین کون ہوتے ہیں؟ متقین وہ ہوتے ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہوں۔ تمام اوصاف کا سرنامہ سب سے پہلے غیب پر ایمان ہے۔جو غیب پر ایما ن نہ رکھتا ہو، وہ قرآن سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔وہ متقین کا مصداق نہیں ہوتا۔ اس کے بعد متقین وہ ہیں جو نماز قائم کرتے ہوں۔ متقین وہ ہیں جو خیرات بھی کرتے ہوں۔ متقین وہ ہیں جو ازل سے لے کر رہنمایانِ دین پر جو نازل ہوا ہے، اس سب پر ایمان رکھتے ہوں اورآخرت پر ایمان رکھتے ہوں۔ یہ ہیں متقین۔
معلوم ہوا کہ متقین کی تشریح ان الفاظ سے ہورہی ہے ۔ تو اب متقین کے معنی نہ تو ڈرنے والے ہوئے، نہ پرہیز کرنے والے ہوئے، متقین کے معنی ہوئے فکر نجات رکھنے والے۔
تواب میری تشریح کے لحاظ سے آیت کے معنی یہ ہوئے کہ اے ایمان لوانے والو! غضب ِالٰہی سے بچاؤ کی فکر رکھو۔غضب ِالٰہی سے بچنے کا سامان کرو۔وہ جو عام ترجمہ ہے، اللہ سے ڈرو، یہ ڈرنے کا لفظ ہزار طریقہ سے ہماری اور آپ کی زبانوں پر روزمرہ آتا ہے۔ کسی کو نصیحت کرنا ہو، کہا اللہ سے ڈرو۔کسی کی مذمت کرنی ہوئی، کہا:اُسے خوفِ الٰہی بالکل نہیں ہے۔اللہ سے بالکل نہیں ڈرتا۔بہرحال لفظ بدل کر خوف کے لفظ کا استعمال بھی اللہ نسبت قرآن اور حدیث میں ہے۔ معصومین کے خوفِ الٰہی کے واقعات بیان ہوتے ہیں۔ یہ خوف کے لفظ کی نسبت اللہ کی طرف صرف ”اِتَّقُوا“کے ترجمہ کے سلسلہ میں تھی۔ یہ بات کہ اللہ سے ڈرو، بالکل قابل اعتراض نہیں ہے مگر اب سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ اللہ سے ڈرنے کا مطلب کیا ہے؟
حضور! یہ ڈر کا لفظ جس جس محل پر استعمال ہوتا ہے، وہ اس چیز کی کسی بلندی اور رفعت کا پتہ نہیں دیتا۔دیکھئے کن کن چیزوں سے ڈرتے ہیں! ایک تو ڈراجاتا ہے ان چیزوں سے جن کی طبیعت میں ایذارسانی ہوتی ہے۔ مثلاً سانپ اور بچھو سے آدمی ڈرے گا۔ شیر اور بھیڑئیے سے ڈرے گا۔ ایسی چیز سے ڈرے گا جس کی فطرت میں ایذارسانی ہو۔ ایک ڈر کا محل استعمال یہ ہے کہ جو اجنبی ہو، جس سے سابقہ نہ پڑا ہو،نیا حاکم آیا ہے، ڈر معلو م ہوتا ہے ، نہ جانے کس بات پر خفا ہوجائے۔ معیارِ طبیعت نہیں معلوم۔ تو جس سے کوئی سابقہ نہ ہو، اس سے آدمی ڈرتا ہے۔تیسرا محل ڈر کے استعمال کا کیا ہے؟ مہیب او رکریہہ المنظر چیز سے ڈر لگتا ہے جس سے بنا”ڈراؤنی چیز“۔یہ ڈراؤنا پن یا پہلے بیان کردہ چیزوں میں سے کوئی ایسی ہے جسے اللہ کی طرف نسبت دی جاسکے۔ کوئی معنی ڈر کے ایسے نہیں ہیں جن کو بغیرمعاذاللہ کے خدا کے ساتھ کہہ سکیں۔ان چیزوں سے ڈراجاتا ہے جوایذارساں ہوں اور وہ کہ:
”سَبَقَت رَحمَتُہ غَضَبَہ“۔
”جس کی رحمت غضب کے آگے آگے ہے“۔
اس کے کہنے والے نے کہہ دیا کہ رحمت ِحق بہانہ می جوید۔ تو جو ایسی کریم ذات ہو، اُس سے ڈرنا کیسا۔یا معاذاللہ وہ عقرب صفت ہو کہ نیش زنی اس کا کام ہو یا وہ معاذاللہ شیر اور بھیڑئیے کی طرح پھاڑ کھانے والا ہے؟ کیا وہ معاذاللہ سانپ کی طرح سے ڈسنے والا ہے؟ یہ تو وہ مفہوم ہے جو کسی طرح سے خدا کے شایانِ شان نہیں ہے کہ اس کی طرف ڈر کی نسبت دی جائے۔ وہ تو بارگاہِ الٰہی میں (رحمت ِحق سے) مایوس ہونے کو بھی کفر قرار دیتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ رحمت ِحق سے مایوس ہونا بھی کفر ہے۔ تو جو ایسی رحیم اور کریم ذات ہو اور جس کیلئے مذہبی روایات میں واقعات موجود ہیں۔
قارون نے سرکشی کی، جنابِ موسیٰ نے دعائے بد کی اور اس پر غضب ِ الٰہی نازل ہوا اور وہ مع اپنے خزانوں کے ، اپنی دولت سمیت، جس پر اُسے ناز تھا، زمین میں دھنسنے لگا توا للہ نے اُسے عذاب لانے کے بعد بھی موقع دیا کہ اب بھی اس کی آنکھیں کھل جائیں۔ پہلے گھٹنوں تک دھنسا۔ اُس نے کہا: ارے موسیٰ ! رحم کرو۔اب میں باز آیا۔ جنابِ موسیٰ نے کہا: اب جبکہ پوری عمر سرکشی میں گزار دی۔ خالق نے زمین کو جنابِ موسیٰ کے قبضہ میں دیا اور کہا کہ اس سے جو مرضی ہو، کام لو۔انہوں نے پھر کہا: نگل لے۔اب زمین نے کمر تک نگلا۔ اس نے پکار کر کہا: موسیٰ! رحم کرو۔انہون نے زمین سے کہا کہ نگلتی کیوں نہیں؟ آخر میں جا کر پورا غرق ہوا۔ یہی چیزیں ہیں جو گناہ نہیں ہیں مگر ترکِ اولیٰ انہی کا نام ہوتا ہے۔ جو گناہ نہ ہوں مگر کسی بلند شخصیت کے تقاضے کے خلاف ہوں۔
اب جب کوہِ طور پر مناجات کیلئے جاتے ہیں تو ایک دفعہ صدا دیتے ہیں ، جواب نہیں آتا۔ دوسری دفعہ آواز دیتے ہیں، تیسری دفعہ تڑپ کر آواز دی کہ میں نے کیا قصور کیا؟ جواب آیا کہ موسیٰ! وہ ہر مرتبہ تمہیں پکارتا رہا، اگر ایک مرتبہ مجھے پکار لیتا تو کبھی رَد نہ کرتا۔
معصومین نے یہ سب واقعات اُس کی رحمت کو نمایاں کرنے کیلئے ہمارے سامنے بیان کئے ہیں ورنہ ہمیں کیونکر معلوم ہوتے اور پھر آخرت کے بہت سے واقعات بیان کئے ہیں کہ یوں ہوگا، یوں ہوگا۔ یہ صرف دلچسپی کیلئے نہیں بیان کئے گئے۔ ہمیں متاثر کرنے کیلئے بیان کئے ہیں کہ مایوس ہونا بھی آدمی کو بیباک بنادیتا ہے کہ جب ہمیں دوزخ میں جانا ہی ہے تو اب جو چاہیں کریں۔نا اُمیدی بھی اصلاح کیلئے مضر ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے:
”اَ لاِیمَانُ نِصفَانِ نِصفٌ خَوفٌ وَنِصفٌ رِجَاءٌ“۔
”ایمان کے برابر کے دو ٹکڑے ہیں، آدھا خوف ہے، آدھا اُمید ہے“۔
اسے روزمرہ کی مثال سے واضح کرتا ہوں کہ کوئی طالب علم ہے اور اُسے یقین ہے کہ چاہے جتنی محنت کروں مگر میرا فیل ہونا ضروری ہے۔ تو وہ کیوں محنت کرے گا؟ سمجھتا ہے کہ محنت کرے گا ، تب بھی فیل ہوگا۔ ایک ہے جسے کچھ اسباب سے یقین ہے کہ میں چاہے کچھ نہ کروں، لیکن میں فیل ہو ہی نہیں سکتا۔تو بھی کیوں محنت کرے گا؟ وہ محنت نہ کرے گا بیکار سمجھ کر، یہ محنت نہ کرے گا، بے ضرورت سمجھ کر۔ یونہی سمجھ لیجئے کہ اگر کسی بندے نے اللہ کی رحمت کو سامنے رکھا اور یہ کہا کہ مجھے سزا مل ہی نہیں سکتی، بھلا وہ مجھے کہاں سزا دے گا؟ تو اس کے معنی یہ ہیں کہ پھر جو دل چاہے گا، کرے گا کہ مجھے سزا مل ہی نہیں سکتی۔ مجھے تو بہرحال جنت میں جانا ہے۔ ہمارے بہت سے عوام اسی خیال میں ہیں کہ جنت کے دروازے ہمارے منتظر ہیں۔ بس ادھر پہنچے ، اُدھر دروازے خودبخود کھل گئے۔
تو جب اتنا اعتماد کرلیا کہ بہرحال ہماری بخشش ہونی ہے تو پھر کیوں ضبط ِنفس کریں؟ کیوں اپنے من مانے کام نہ کریں؟ کیوں اپنی نفسانی خواہشات کو پورا نہ کریں؟یہ چیز بھی اصلاحِ نفس کیلئے سمِ قاتل ہے اور اگر کسی واعظ نے آکر اتنے دوزخ کے عذاب دکھا دئیے اور اتنا نااُمید بنادیا کہ سننے والے یہ سمجھے کہ ہمیں کو کسی طرح نجات مل ہی نہیں سکتی، لہٰذا کوئی نیک عمل کرکے کیا لیں گے۔
پہلے کی مثال اُس طالب علم کی ہوگئی جسے کامیابی کے یقین کی بناء پر محنت نہیں کرنا تھی، یہ اس طالب علم کی طرح ہوگیا جسے کامیابی سے نا اُمیدی کی وجہ سے محنت بیکا رمعلوم ہوئی۔ لہٰذا وہ نہ اپنے کو اچھا آدمی بنا سکا، نہ یہ بنا سکا۔تو اُس کی رحمت کا اُمیدوار رہنا چاہئے اور اپنے گریبان میں منہ ڈال کر اپنے کردار پر تھوڑا سا غور کرنا چاہئے۔ تھوڑا سا اندیشہ بھی ہونا چاہئے ۔ میں کہتا ہوں کہ بے شک بڑی ہستیاں ہیں جو ہماری سفارش کرنے والی ہیں لیکن اپنے کردار کی وجہ سے منہ ایسا رکھئے کہ ان سے کہہ سکیں۔
بہرحال خوف کا لفظ اس کیلئے ناقابل انکار ہے مگر مطلب تو سمجھنا چاہئے ۔ جس جس قسم کے ہم نے خوف دیکھئے، سب اللہ کی شان کے خلاف ہیں۔ اُس چیز سے ڈرتے ہیں جو ایذارساں ہو۔ تو میں نے کہا کہ اس کی رحمت اس کے غضب سے آگے ہے۔ اس سے ڈرنا کیسا؟ اُس سے ڈرتے تھے جس سے سابقہ نہ پڑا ہو، جیسے نیا حاکم آگیا۔مگر جس کی آغوشِ رحمت میں آنکھ کھولی ہو، جس کے گہورائہ تربیت میں پرورش پائی ہو، ارے ماں باپ کے دل میں اولاد کی محبت بھی اُس نے پیدا کی ، پرورش کا جذبہ بھی اُس نے پیدا کیا ۔لہٰذا اصل مربی تو وہ ہے ۔
اسی لئے ایک فرق ہے مسلمانوں اور عیسائیوں کی اصطلاح میں کہ عیسائی اُسے اَب کہتے ہیں یعنی باپ اور مسلمان اُسے رَب کہتے ہیں یعنی پروردگار۔یہ اَب یعنی باپ کہنا صرف سبب ِ وجود کو بتاتا ہے، سبب ِ بقا کو نہیں بتاتا۔سبب ِ وجود رشتہٴ ماضی ہے۔ بہت سے افرا دہیں جو پید اہوئے ہیں اور باپ ان کے بچپن میں دنیا سے اٹھ گئے۔ خود ہمارے پیغمبر نے باپ کے اٹھنے کے بعد اس دنیا میں قدم رکھا۔ آپ کی ولادت باپ کی وفات کے بعد ہوئی۔ تو باپ صرف سبب ِ وجود ہوتاہے، سبب ِ بقا نہیں ہوتا۔
لیکن رب کے معنی ہیں پرورش کرنے والا۔ اَب ماضی کا رشتہ تھا، رَب حال کا رشتہ ہے۔ یعنی ہر سانس اُس کی ممنونِ احسان ہے۔ ایک ذرا سی اس کی نگاہ توجہ ہٹے تو ہم ہست سے نیست ہوجائیں۔ ہمارا وجود ختم ہوجائے۔ پس ربوبیت رشتہٴ حال ہے۔ اب جس کے گہوارئہ تربیت میں سانس لے رہے ہیں، وہ کوئی اجنبی زات ہے کہ اُس سے ڈریں؟
اور پھر اُس سے ڈرتے تھے جو کریہہ المنظر ہو، ڈراؤنی شکل رکھتا ہواور وہ جو کمالِ مطلق ہے، جمالِ محض ہے، جہاں حسن کے سوا قبح کا گزر نہیں ، جہاں خیر کے سوا کسی کشر کی آمیزش کا کوئی پہلو نہیں۔
حضورِ والا! ایسی ذات سے ڈرنا کیسا؟ معلوم ہوتا ہے کہ ڈر کالفظ ہم کہہ رہے ہیں مگر ڈر کے معنی نہیں سمجھتے۔میں جو تلاش کیا تو صرف ایک محل استعمال ڈر کے لفظ کا مجھے ملا، اس لئے ہم سمجھ سکتے ہیں اس ڈر کے معنی جو اللہ کی ذات کے ساتھ ہے۔یہ بھی ہماری زبان کا محاورہ ہے کہ فلاں بیٹا اپنے باپ سے بہت ڈرتا ہے۔ یہ بیٹا جو باپ سے ڈرتا ہے، یہ طبعاً ایذا رساں ہونے کی وجہ سے ڈرتا ہے، نہ اس لئے ڈرتا ہے کہ کبھی سابقہ نہیں پڑا ، نہ اس لئے ڈرتا ہے کہ کریہہ المنظر ہے۔ اس ڈر کا سبب ہے احساسِ عظمت۔
بس جس مفہوم کے لحاظ سے سعادت مند بیٹا اپنے باپ سے ڈرتا ہے، جو نیک بیٹا ہو، وہ کس طرح اپنے باپ سے ڈرتا ہے، اس کی عظمت کے احساس کی وجہ سے۔ بس اس کا کمال ہے جس کی وجہ سے بندے کو اپنے پروردگارسے ڈرنا چاہئے۔ اسی لئے جو بڑے سے بڑے مجرم اور گناہگار ہیں، وہ بالکل نہیں ڈرتے لیکن جن کے دامن عصمت پر کسی قسم کے گناہ کا داغ نہ تھا، وہ سب سے زیادہ ڈرتے تھے۔
خوفِ الٰہی میں ان کے مظاہر ہیں جو آنکھوں کے سامنے آئے۔ خوفِ الٰہی کے واقعات ہیں ، یہاں تک کہ بعض اوقات ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کی نوعیت کیا ہے؟ امام زین العابدین علیہ السلام کی دعائیں صحیفہٴ سجادیہ میں، امیرالموٴمنین علیہ السلام کے کلام میں دعائے کمیل کی نوعیت، الفاظ دیکھئے۔ صحیفہٴ کاملہ کی دعائیں دیکھئے۔ یعنی مجھے تو اُردو زبان میں اس کیفیت کے بیان کرنے میں جو عربی الفاظ سے نمایاں ہوتی ہے، دقت ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جبار و قہار حاکم کے سامنے کوئی مجرم کھڑا ہو ،تھر تھر کانپ رہا ہو۔ وہ تضرع و زاری اور بارگاہِ الٰہی میں التجا اپنی خطاؤں کے معاف کرنے کیلئے۔اس کی نوعیت بعض اوقات سمجھ میں نہیں آتی، یہاں تک کہ لوگ سوال کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ سائل کی تسلی ہوجاتی ہو، ممکن ہے کہ تسلی نہیں بھی ہوئی اور وہ لاجواب ہوجاتا ہو، چپ ہوگیا ہو۔مگر کیا واقعی جو ہم نے اسے سمجھایا ہے، تو ہم خود بھی اُسے سمجھے ہیں۔
میں کہتا ہوں اس کا تجزیہ کیجئے۔ اس جواب کا کہ ہمارے بتانے کیلئے، ہمارے سمجھانے کیلئے یہ باتیں ہیں۔تو تجزیہ کیجئے۔ تجزیہ اُس کا یہ ہوتا ہے کہ حقیقت میں یہ کیفیات طاری نہیں ہوتی تھیں۔ امیرالموٴمنین علیہ السلام کیلئے ہے کہ مارگزیدہ کی طرح تڑپتے تھے اور نوحہ کرتے تھے اور اس طرح روتے تھے ۔ تو اس جواب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ کیفیات واقعی نہیں پیدا ہوتی تھیں، یہ مصلحتاً ہمارے سکھانے کیلئے، ہمارے سمجھانے کیلئے اپنے میں پیدا کی جاتی ھتیں۔ یہ تجزیہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔یہ گویا مصنوعی کیفیات ہوتی تھیں، ہمیں سکھانے کیلئے، ہمیں بتانے کیلئے۔
ایک تو یہ پہلو اس وقت عرض کررہا ہوں کہ ہمیں سکھانے کیلئے (معاذاللہ) یہ کیفیت انہوں نے پیدا کرلی اور وہاں ہمارے اصولِ دین میں شبہ پیدا ہوگیا جو آج بے چین ہوکر لوگ پوچھنے لگے کہ یہ کیا کہا؟ اس نفع کے ساتھ یہ نقصان بھی تو ہوا اس مصنوعی کیفیت کی وجہ سے۔
صاحب! میں کہتا ہوں کہ واقعات کا جائزہ لیجئے۔ ابودردا نے دیکھا کہ امیرالموٴمنین سجدئہ خالق میں ہیں اور جسم مثل چوبِ خشک بے حس و حرکت ہے۔ وہ روتے ہوئے خانہٴ سیدہ عالم پر آئے او رکہا کہ امیرالموٴمنین نے دنیا سے رحلت فرمائی۔حضرتِ سیدہ عالم پریشان نہیں ہوئیں لیکن اس کا سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رسول کے ارشادات سے معلوم تھا کہ آپ کی شہادت کس طرح ہوگی! آپ نے یہ کہلوایا کہ یہ تو
تم نے رائے قائم کی ہے، یہ اطلاع جو تم دے رہے ہو کہ وفات ہوگئی ہے، کیفیت جو دیکھی ہے، وہ بتاؤ۔تب انہوں نے کہا کہ کیفیت یہ ہے کہ سجدئہ خالق میں ہیں، جسم مثل چوبِ خشک ہے، بے حس و حرکت ، سانس بھی بالکل بند ہے۔
جب انہوں نے یہ کیفیت بتائی تو سیدہ عالم نے فرمایا کہ ابوالحسن کی محرابِ عبادت میں اکثر یہ حالت ہوجاتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ابودردا نے عمر میں ایک مرتبہ دیکھا اور سیدہ عالم جیسی صدیقہ نے گواہی دی کہ اکثر محرابِ عبادت میں یہ حالت ہوجاتی ہے۔تو اب کیا حقیقت رہی اس جواب کی کہ ہمارے سکھانے کو، سمجھانے کیلئے ایسا تھا؟دیکھنے والے نے تو عمر میں ایک مرتبہ دیکھا اور اکثر وہ حالت ہوجاتی ہے جس کی رازدار صرف سیدہ عالم ہیں۔ تو اب کیا حقیقت رہی اس جواب کی کہ یہ ہمارے سمجھانے کیلئے تھا؟ ہمارے بتانے کیلئے، ہمارے دکھانے کیلئے تھا؟
دوسرا واقعہ اس کا عکس ہے یعنی سیدہ عالم کا جب وقت ِ رحلت قریب پہنچا اور امیرالموٴمنین علیہ السلام تشریف لائے ہیں تو جو وصیتیں سیدہ عالم نے کی ہیں، ان میں سے ایک وصیت بیان نہیں ہوتی ہے کہ سیدہ عالم نے ایک بوتل امیر الموٴمنین علیہ السلام کے سپرد کی اور یہ وصیت کی کہ اسے میرے ساتھ قبر میں رکھ دیجئے گا۔ دیکھئے! علم امامت الگ چیز ہے لیکن عام طور پر نظامِ حیات اسبابِ ظاہری والے علم پر مبنی تھا۔اس لئے دریافت کی جاتی تھی ، تحقیق کی جاتی تھی ، گواہیاں لی جاتی تھیں۔ یہ سب آئین کے تحت میں تھا۔
تو امیرالموٴمنین نے پوچھا کہ شیشے میں کیا ہے؟ تو سیدہ عالم نے فرمایا کہ میں نے اپنے پدرِ بزرگوار سے سنا تھا کہ آخرت میں ایک منزل ہے جس سے وہی لوگ گزریں گے جو خوفِ خدا میں روئے ہوں۔تو اے ابوالحسن !یہ میرے وہ آنسو ہیں جو میں نے خوفِ خدا میں بہائے ہیں۔
اب ہر صاحب ِعقل غو رکرے کہ فطری طور پر جو آنسو بہیں گے، وہ سب شیشی میں نہیں آسکتے۔ کچھ رواں ہو کر چلے جائیں گے اور شیشی میں بہت تھوڑے آئیں گے۔ تو جو محفوظ ہوسکے، وہ اتنے ہیں کہ شیشی میں ان کا ذخیرہ ہے اور یہ آنسو اس طرح بہائے گئے تھے کہ اسبابِ ظاہری سے امیرالموٴمنین تک سے راز تھے ورنہ آپ پوچھتے کیوں کہ اس میں کیا ہے!
تو اب میں کیونکر کہوں کہ یہ کیفیات فقط ہمارے دکھانے کیلئے ہوتی تھیں، یہ کیفیات ہمارے سمجھانے کیلئے ہوتی تھیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحیح تجزیہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چونکہ عظمت ِ الٰہی کا احساس ان میں تھا، تو اپنے تمام سرمایہٴ عصمت کے ساتھ جو اطاعت ہے، اس کو اس کی بارگاہ میں کم سمجھتے تھے۔ لہٰذا اس طرح تڑپتے تھے جس طرح کوئی مجرم اپنی کوتاہیوں پر تڑپتا ہے۔ یہ احساسِ عظمت ِ الٰہی ہے جس سے یہ کیفیات پیدا ہورہی ہیں۔