معراج خطابت
 
شہید کی جو موت ہے
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْافِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًابَلْ اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْن“۔
ارشادِ الٰہی ہے کہ جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو، وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کی بارگاہ میں رزق پاتے ہیں۔ عام طور پر جسے سب زندگی سمجھتے ہیں، وہ اس جسم سے روح کے ظاہری تعلق کا قائم ہونا ہے اور موت اس تعلق کا قطع ہوجانا ہے اور چونکہ موت طبعاً ناپسند ہے اور زندگی پسندیدہ چیز ہے، اس لئے خطروں سے قدم پیچھے ہٹائے جاتے ہیں۔ جب جان جانے کا اندیشہ ہو تو خطرہ سے دامن بچانے کیلئے پیچھے ہٹ جایا جاتا ہے۔ مگر اسلام نے زندگی اور موت کے مفہوم کو بدل دیا۔ اُس نے یہ بتایا کہ جسے تم زندگی سمجھتے ہو، ضروری نہیں کہ وہ زندگی ہو اور جسے تم موت سمجھتے ہو، ضروری نہیں ہے کہ وہ موت ہو۔بہت ممکن ہے کہ جسے تم زندگی سمجھتے ہو، وہ موت ہو اور جسے تم موت سمجھتے ہو، حقیقت میں وہ زندگی ہو۔
قرآن مجید کے مطالعہ سے ہمیں زندگی میں موت کے نقشے بھی نظر آتے ہیں۔ چلتے پھرتے ہوئے انسان، ہنستے بولتے ہوئے انسان، سانس لیتے ہوئے انسان۔مگر قرآن مجید انہیں زندہ تسلیم نہیں کرتا۔ ارشاد ہوتا ہے:
”لَایَسْتَوِی الْاَحْیَاءُ وَالْاَ مْوَاتُ“۔
”جو مردہ ہیں اور جو زندہ ہیں، دونوں برابر نہیں ہیں“۔
یہ زندہ او رمردہ وہ نہیں ہیں جو زندہ یہاں ہیں اور مردہ قبرستانوں میں ہیں بلکہ انہی افراد میں جو سامنے نظر آتے ہیں، کچھ زندہ ہیں اور کچھ مردہ ہیں۔ ایک آیت ہے ، ارشاد ہورہا ہے:
”یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْااسْتَجِیْبُوْالِلّٰہِ وَالرَّسُوْل اِذَادَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ“۔
”اے صاحبانِ ایمان! لبیک کہو اللہ اور رسول کی آواز پرجب وہ تمہیں دعوت دیں اس شے کیلئے جو تمہیں زندہ کردے گی“۔
اس کے معنی یہ ہیں کہ ابھی مردہ ہیں۔ جب اس پیغام کو سنیں گے ، سمجھیں گے تو زندہ ہوجائیں گے۔
”اِنْ ھُمْ اِلَّاکَالْاَ نْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ سَبِیْلَا “۔
مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ اس سے بدتر ہیں۔ چوپائے تو پھر بھی ایک طرح کی زندگی رکھتے ہیں، جیسا کہ لفظ حیوان سے ظاہر ہے مگر سورئہ منافقون میں زندہ انسانوں کے بارے میں ارشاد ہورہا ہے :
”کَاَنَّھُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدُةٌ“۔
”یہ لکڑیاں ہیں جو ہوا میں لگاکر کھڑی کردی گئی ہیں“۔
یہاں زندگی کا نام و نشان بھی نہیں ہے، یہاں تک کہ وہ زندگی جو حیاتِ نباتی کہلاتی ہے، جو پودوں میں ہوتی ہے، وہ بھی نہیں ہے کیونکہ وہ زندگی شاخ میں اس وقت ہوتی ہے جب تک اصل سے متصل ہو۔ جب اصل سے جدا ہوگئی اور خشک لکڑی کی صورت میں وہ کھڑی کر دی گئی تو اس میں اس زندگی کا پتہ بھی نہیں ہے۔ یہ تو زندگی میں موت ہے۔
شہدائے راہِ خدا، ان کی روح اور جسم میں تعلق کیسا؟ سر اور گردن میں بھی ارتباط نہ رہا مگر قرآن مجید کہہ رہا ہے کہ انہیں مردہ نہ کہو۔ دوسرے پارے میں سورئہ بقرہ میں یہی الفاظ ہیں:
”لَا تَقُوْلُوْالِمَنْ یُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتابَل اَحْیَاءٌ وَ لٰکِن لا تَشْعُرُوْن“۔
”جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں، انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں، تمہیں شعور نہیں ہے“۔
یہاں جو الفاظ ہیں ان سے سطحی نظر رکھنے والا دھوکہ کھا سکتا ہے ۔ یعنی یہ کہا گیا ہے کہ مردہ نہ کہو تو اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ ہیں تو مردہ مگر مردہ کہناادب کے خلاف ہے۔ یعنی جیسے تہذیب ِلفظی سکھائی جارہی ہے۔ بہت سے الفاظ کے معنی درست ہوتے ہیں لیکن محاورہ کے لحاظ سے ان کا استعمال غلط ہوتا ہے۔ تمیز کے خلاف ہوتا ہے۔ جیسے کوئی چھوٹابڑے کو یہ لکھ دے ”سَلَّمُکَ اللّٰہُ“۔معنی کے لحاظ سے درست ہے ۔ کیا بڑوں کو سلامتی کی ضرورت نہیں ہے؟ لیکن کسی بڑے کو لکھ کر دیکھئے، ناراض ہوجائے گا کہ یہ صاحبزادے مجھ کو”سَلَّمُکَ اللّٰہُ“لکھتے ہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ معانی کے لحاظ سے درست ہے لیکن محاورہ کے لحاظ سے ان کی شانِ بزرگی کے خلاف ہے کہ ان کو ”سَلَّمُکَ اللّٰہُ“ لکھا جائے۔
کراچی میں ایک مجلس میں ایک صاحب مجھ سے بہت کم عمر تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: اللہ عمر دراز کرے۔اب الفاظ چاہے درست ہوں، بڑا چھوٹے کیلئے کہے گا کہ عمر دراز ہو۔ چھوٹا بڑے کیلئے یہ نہیں کہے گا۔ اسی طرح خیال آتا ہے کہ شاید یہی قرآن مجید نے سکھایا ہو ہم کو کہ شہدائے راہِ خدا کو مردہ نہ کہو۔حالانکہ اسی میں آخر میں ایک لفظ ہے جو اس غلط فہمی کو دور کرتا ہے کہ زندہ ہیں، تمہیں شعور نہیں ہے۔ تو شعور کا تعلق کسی حقیقت سے ہوتا ہے، لفظی تہذیب سے نہیں ہوتا۔مگر جس آیت کو میں نے سرنامہ کلام قرار دیا ہے، اس میں یہ نہیں کہا جارہا کہ انہیں مردہ نہ کہو بلکہ یہ ارشاد ہورہا ہے کہ جو راہِ خدا میں قتل ہوگئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو۔
یہ سمجھنا اور نہ سمجھنا الفاظ سے متعلق نہیں ہے۔ کتابِ حقیقت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہر حقیقت کو حقیقت سمجھنے کی دعوت دے۔ جب اس نے مردہ سمجھنے سے منع کیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حقیقت میں وہ مردہ نہیں ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ زندگی کیا ہے او ریہ موت کیا چیز ہے؟ یہ زندگی اور موت کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ تمام اشیائے کائنات میں یہ زندگی اور موت کارفرما ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ جمادات ہیں، اس کے بعد نباتات ہیں، اس کے بعد حیوانات ہیں، اس کے بعد انسان ہے۔ زمین تو جمادات میں داخل ہے۔ مگر قرآن مجید میں دیکھئے تو زمین کی بھی دو حالتیں ہیں، ایک وہ حالت جب وہ مردہ ہے اور دوسری وہ حالت جبکہ وہ زندہ ہوگئی۔ ایک آیت میں نہیں، بہت سی آیتوں میں ایک ساتھ یہ الفاظ ہیں:
”یُحْیِ الْاَ رْضَ بَعْدَمَوْتِھَا“۔
”اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے“۔
تو ایک وقت میں وہ عالم موت میں ہوتی ہے اور دوسرے وقت میں اللہ اس کو زندہ کرتا ہے تو اس کو حیات مل جاتی ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ وہ، وہ ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے۔
”بَشِیْرًابَیْنَ یَدَیْہِ رَحْمَتَہ“۔
”اپنی رحمت کے آگے آگے خوشخبری دیتا ہوا وہ ہواؤں کو چلاتا ہے“۔
ہوائیں بادلوں کو لاتی ہیں ۔ان بادلوں کو ہم لے جاتے ہیں ایک زمین مردہ کی طرف اور وہاں پانی برساتے ہیں تو وہ زمین نباتات کو روئیدہ کرتی ہے۔ دیکھو! یوں ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں۔
تو زمین ایک وقت میں مردہ ۔ تو زمین مردہ کون؟ وہ بنجر زمین جس میں نباتا کے روئیدہ کرنے کی صلاحیت نہ ہو، جس میں زراعت نہ ہوسکے۔ وہ زمین مردہ اور زمین زندہ کون؟ جس میں نشوونما پیدا ہوجائے۔ قوتِ نامیہ کارفرما ہوجائے۔ سادہ زبان میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ذرا دیکھئے یہ نشوونما کیا چیز ہے؟یہ دانے اور بیج آپ کے ہاتھ میں رہتے تو جتنے تھے، اُتنے ہی رہتے۔ ان میں اضافہ نہیں ہوسکتا تھا۔ کسی صندوق میں رکھ دیتے ، صندوق کو مقفل کردیتے، صندوق کو کمرے میں رکھ دیتے۔ بہت سے قفل کمرے پر ڈال دیتے، پہرے لگا دیتے، یہ سب حفاظت کا سامان کرتے مگر جتنے تھے، اُتنے ہی رہتے۔ مگر یہی دانے اور بیج، زمین کی تھوڑی سی مٹی نکال کراگرزمین کو تہوں میں ان کو چھپا دیا جائے او رپانی سے تر کردیا جائے تو میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ جسے دنیا کے ہاتھ دباتے ہیں، اُسے اللہ اُبھارتا ہے۔ جسے دنیا خاک میں ملاتی ہے، اُسے اللہ پروان چڑھاتا ہے۔ تھوڑے ہی دن میں وہ بیج کونپلوں کی شکل میں زمین سے برآمد ہوتا ہے۔
غور فرمائیے ، یہ نرم و ملائم کونپلیں اور زمین کا سخت جگر۔ ایسی ملائم کونپل جو قطرئہ شبنم کا بار برداشت نہ کر سکے،جو ہوا کی ذرا سی جنبش سے متاثر ہوجائے۔ اتنی سخت زمین میں اس نے شگاف ڈال دیا۔تو یہ زبانِ بے زبانی میں جوا ب دے گی۔ اگر میرے سامعہ فہم میں طاقت ہو تو میں سنوں کہ وہ یہ کہے گی کہ یہ میری ذاتی طاقت نہیں ہے۔ یہ کسی اور طرف کی طاقت ہے جس سے میں نے یہ شگاف ڈال دیا۔
میں کہتا ہوں کہ اگر ایک کونپل میں اللہ کی طاقت کارفرما ہوجائے تو وہ پتھر میں شگاف ڈال دے تو اگر کسی کامل و اکمل و مکمل انسان کی انگلیوں میں اس کی طاقت کارفرما ہوجائے اور وہ لوہے کے در میں در آئیں تو حیرت کی کیا با ت ہے؟
غرض وہ دانے اور بیج تھوڑے عرصہ میں اتنے بڑھے کہ ممکن ہے کہ ایسا سایہ دار درخت ہوگیا کہ قافلے اس کے سائے میں پناہ لیں۔ ممکن ہے ایسی وافر زراعت ہو جائے جو پورے خاندان کی پرورش کرسکے۔ تو سب سے پہلے قابل غور بات یہ ہے کہ یہ اجزاء کہاں سے آئے؟ کہاں یہ اتنی پھیلی ہوئی زراعت اور کہاں وہ بیج! دوسری با ت یہ کہ جب ہم نے وہ دانے اور بیج زمین میں ڈالے تھے تو زمین خاک کے ذرّوں سے پٹی ہوئی تھی۔ اس دانے اور بیج کی خاطر کچھ مٹی ہمیں نکالنا پڑی ، تب اس کی جگہ ہوئی۔ تو بعد میں اس کو گنجائش کیونکر ملی؟ یہ جگہ کیونکر ملی کہ اندر ہی اندر اتنے پاؤں پھیلا لئے۔ جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ تمام اجزاء الگ سے نہیں آئے ہیں۔ زمین ہی میں قدرت نے کچھ ایسے اجزاء ودیعت کئے ہیں جو اپنے سے مافوق یعنی نباتات کے کام آنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ زمین امانت داری کے ساتھ خدا کے ودیعت کئے ہوئے ان ذرّات کو محفوظ رکھتی ہے، ایک حقدار کے آنے کے انتظار میں۔ جب وہ حقدار آجاتا ہے تو زمین اللہ کی ودیعت کی ہوئی اس امانت کو ، ان اجزاء کو پیش کردیتی ہے اپنے سے بالا تر مخلوق کیلئے۔ بنیادی اجزاء وہی ہیں ۔ پھر مجھ کو معلوم ہے کہ کچھ فیض آفتاب سے کچھ فیض ہوا، کچھ فیض آب سے اور ذرات آآکر شریک ہوتے جاتے ہیں۔ مگر بنیادی اجزاء وہی ہیں جو خود زمین پیش کرتی ہے اُس پودے کیلئے ۔
اب ہر صاحب ِفہم غور کرے کہ یہ زمین کے اجزاء جو اس پودے میں شامل ہوگئے، یہ اپنی حدودِ وجود میں فنا ہوئے۔ یعنی اب وہ خاک میں نہیں رہے۔ اب وہ مٹی میں نہیں رہے۔ جو ان کے وجود کا ذریعہ تھا،اس کے لحاظ سے وہ فنا ہوگئے۔لیکن یہ فنا بلند تر بقا کا ذریعہ بنی۔ پہلے وہ خالی زمین تھی، اب جو ذرات خاک کے اس نبات کی ہستی میں شامل ہوگئے تو اب رزق میں اس کے ساتھ شریک ہوگئے۔اب جو اس پودے کی غذا ہوگی، وہ اس تک آپ پہنچائے گا۔
تو معلوم ہوا کہ یہ فنا تمہید ِ بقا بن گئی اور بقا فقط بقا نہیں بلکہ بلند تر بقا۔یعنی جب تک فنا نہیں ہوئے تھے، تب تک وہ جمادات میں داخل تھے اور جب فنا ہوگئے اس بلند تر کی خاطر تو انہوں نے ایک نوع کی سرحد کو طے کرکے دوسری نوع میں قدم رکھ دیا۔ یعنی اب وہ نباتات میں داخل ہوگئے۔ جمادات کی منزل سے آگے بڑھ گئے۔اب یہ درخت کے پتے، یہ چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں، انہیں یونہی چھوڑ دیا جائے تو کیا یہ باقی رہیں گی؟نہیں، تمازتِ آفتاب سے خشک ہوجائیں گی اور اگر ان صورتوں سے ختم ہوگئیں تو ہوگئیں لیکن اگر یہ کسی ذی روح کی غذا بن گئیں ، کسی حیوان یا انسان کے کام آگئیں تو فنا تو اب بھی ہوئیں لیکن یہ فنا بلند تر بقا کا ذریعہ بنی۔ یعنی وہ ایک حیوان کے جسم میں لہو بن کر دوڑنے لگیں۔
معلوم ہوا کہ جب اپنے بالا تر کیلئے فنا ہو تو وہ فنا اپنے سے ترقی یافتہ بقا کی شکل حاصل کرتی ہے۔یہاں تک تو عقلائے زمانہ متفق ہیں۔ زمین نباتات کے کام آئے تو کسی کو اعتراض نہیں، نباتات حیوان کے کام آئیں تو کسی کو اعتراض نہیں۔ اب ہے حوان اور انسان کی منزل۔ یہاں بعض رحم دل جماعتوں کو رحم آتا ہے کہ حیوان کی قربانی انسان کیلئے کیوں ہو؟ یعنی زمین نباتات کے کام آئی، کسی کو رحم نہ آیا۔ نباتات حیوانات کے کام آئے تو کسی کو رحم نہ آیا۔ اب یہ حیوان کی قربانی انسان کی خاطر ہورہی ہے تو اب رحم آنے لگا کہ اس کی یہاں زیادہ ضرورت نہیں ہے۔
میں یہ کہتا ہوں کہ جذبہٴ ترحم قابل قدر ہے ، بحیثیت جذبہ کے رحم یقینا قابل قدر چیز ہے بشرطیکہ اس کا نتیجہ یہ ہو کہ جوجانور کی جان نہ لینا چاہے گا، وہ بھلا انسان کی جان کیوں لینا چاہے گا!بلاشبہ جذبہٴ ترحم قابل قدر ہے لیکن اصول جذبات کے پابند نہیں ہوتے۔اصولاً میرا سوال یہ ہے کہ زمین نباتات کے کام آئی تو ظلم نہ ہوا اور نباتات حیوان کے کام آئے اور انسان کے کام آئے تو ظلم نہ ہوا۔ حیوان انسان کے کام
آجائے گا تو ظلم ہوجائے گا ، کیوں؟وہ سب کیوں ظلم نہیں ہے اور یہ کیوں ظلم ہے؟ اس کاجو جواب ملے گا، وہ مجھے معلوم ہے کہ پتھروں اور زمین میں اذیت کا احساس نہیں ہے، انہیں درد اور دکھ سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ لہٰذا وہ ظلم نہیں ہے اور نباتات کو تکلیف اور درد کا شعور نہیں ہے۔ لہٰذاوہ ظلم نہیں ہے اور یہ حیوان بلبلاتا ہے، تڑپتا ہے، بے چین ہوتا ہے، لہٰذا یہ ظلم ہے۔
تو پہلے میں اصولاً یہ دریافت کروں گا کہ کیا ظلم کی بنیاد احساسِ اذیت پر ہے؟ ایک اصولی سوال ہے کہ کیا ظلم کی بنیاد احساسِ اذیت اور شعورِ تکلیف پر ہے؟ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر کوئی ڈاکٹر ہوش و حواس کے عالم میں آپریشن کردے تو ظلم ہوگا اور کوئی قاتل بیہوش کر کے قتل کردے تو ظلم نہیں ہوگا۔ تو دنیا کے قانونِ تعزیرات میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر قاتل ہوش و حواس کی حالت میں کسی کو قتل کرے تو ظلم ہے اور قابل سزا جرم ہے لیکن اگر کسی کو غشی کی حالت میں بیہوش کرکے قتل کردے تو ظلم نہ ہوگا، جرم نہ ہوگا۔جب ظلم نہیں تو جرم کیوں؟ لیکن دنیا کے قانونِ تعزیرات میں یہ شرط نہیں ہے۔ ہاں! مجھے معلوم ہے کہ ہوش و حواس کی ضرورت ہے جرم کیلئے مگر قاتل کے ہوش و حواس کی ضرورت ہے ، مقتول کے ہوش وحواس کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ سہی زمین کو احساسِ اذیت، نہ سہی نباتات کو شعورِ اذیت، آپ کو تو شعور ہے ، آپ کو کیا حق ہے کہ پھولوں کو جلاوطن کیجئے؟ آپ کیا حق ہے کہ شاخوں کو قلم کیجئے؟آپ کو کیا حق ہے کہ زمین کے سینے پر ہل چلائیے؟ آپ کو کیا حق ہے کہ اس کے اجزائے وجود کو منتشر اور تہہ و بالا کیجئے؟ اُسے اذیت کا احساس نہ ہو ، آپ کو تو ہے۔آپ کیوں ایسا کرتے ہیں؟
دوسری بات یہ ہے کہ کسی وقت میں یہ کہا جاتا تھا کہ پودوں میں احساسِ اذیت نہیں ہے، تو قابل قبول تھا۔ جب ہمارے ہندوستان کے سائنس دان نے یہ انکشاف کردیا کہ پودوں میں احساسِ اذیت ہے، احساسِ تکلیف ہے، پودوں سے بھی رونے کی آواز بلند ہوتی ہے۔ ہاں! ہنسنے کی آواز کسی نے کبھی نہیں سنی، رونے کی آواز پودوں سے بھی سنائی دی اور پودے کو سانس لیتے ہوئے تو میں نے خود ایک نمائش میں دیکھا۔ اب جب ان سے ثابت ہوگیا کہ احساسِ اذیت ہے تو جب تک تو اطلاع نہیں تھی، تب تک تو خیر ، مگر اس کے بعد سے تو نباتات سے بھی غذا حاصل کرنا موقوف ہونا چاہئے۔ اب معلوم ہوگیا کہ انہیں بھی اذیت ہوتی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ جیسی نمایاں اذیت حیوان کو ہوتی ہے، ویسی تو نباتات کو نہیں ہوتی۔ تو جب معلوم ہوگیا کہ ہوتی ہے تو چاہے نمایاں ہو، چاہے غیر نمایاں، اصولاً بات ایک ہی ہے۔
میں عرض کرتا ہوں کہ جب تک خوردبین ایجاد نہیں ہوئی تھی، اس وقت تک کوئی یہ کہہ لیتا کہ ہمارا اصول ہے کہ کسی ذی روح کو صدمہ نہ پہنچائیں۔خوردبین ایجاد ہوئی تو پتہ چل گیا کہ ایک پانی کے قطرے میں کتنے ذی روح ہیں جو ہم پی لیتے ہیں تو اس کے نظامِ حیات میں خلل پڑتا ہے ۔ ایک سانس جو ہم لیتے ہیں، اُس سے فضائے ہوا میں جو ذی روح مخلوق ہے، وہ کس قدر ہمارے ایک سانس کا شکار ہوجاتی ہے ۔ تو اس کے بعد تو اپنی زندگی تج دینا پڑے گی یا میرے ساتھ مل کر اس اصول کا قائل ہونا پڑے گا کہ اس نظامِ کائنات کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ ہر ناقص کامل کے کام آئے اور یہ ناقص کی فنا نہیں ہے بلکہ درحقیقت اس کے مقصد ِ وجود کی تکمیل ہے۔
اب ظلم کا معیار مجھ سے سنئے کہ ظلم کی بنیاد احساسِ اذیت پر نہیں ہے، ظلم کی بنیاد اقدامِ ناحق پر ہے۔ یہ اقدامِ ناحق ذی شعور کے ساتھ ہوگا تو ظلم ہوگا اور غیر ذی شعور کے ساتھ ہوگا تو بھی ظلم ہوگا۔ اب دنیا کو یہ حقیقت خود معلوم نہ ہو تو ہمارے بتانے سے معلوم ہوجانی چاہئے کہ ہمارے نزدیک وہ حیوات ذلیل ہیں جو انسان کی غذا نہیں بنتے اور وہ حیوان عزت دار ہیں ، شریف ہیں ، اپنی نوع میں ، جو انسان
کے کام آتے ہیں۔ یہ تفریق آخر کیوں ہے؟ طب ِ یونانی میں اور روزمرہ کی زندگی میں کہ ہر زمین اس لائق نہیں ہوتی کہ اس میں نباتات روئیدہ ہوسکیں۔ کچھ شورہ دار زمینیں ایسی ہیں کہ اگر ان میں بیج ڈال دئیے جائیں تو جل کر خاک ہوجائیں۔ ہر پودااس لائق نہیں کہ اس سے حیوان کا تغذیہ ہو۔ بعض پودے ایسے زہریلے ہوتے ہیں کہ اگر حیوان اور انسان کھالے تو زندہ نہ رہ سکے۔وہ کسی اور حیثیت سے انسان کے کام آئیں ،دواوغیرہ میں ، یہ اور بات ہے۔ خدا نے بیکارپیدا نہیں کئے ہیں۔
اسی طرح ہر حیوان کو نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ ضرور انسان کی غذا بن سکتا ہے۔ انسان کے علاوہ جتنی چیزیں ہیں، ان سب میں جسمانی پہلو ہے۔ لہٰذا ان میں سے کون مفید ہے، کون مضر، یہ تجربہ سے معلوم ہوسکتا ہے۔ حیوانات کچھ زہریلے ہیں کہ انسان کی زندگی کیلئے مضر ہیں لیکن انسان میں ایک مزاجِ روحانی بھی ہے ۔ روحانی حیثیت سے کون اس کیلئے مفید ہے اور کون مضر، اسے یہ جسمانی اطباء و حکیم اور ڈاکٹر نہیں بتاسکتے۔ جنہوں نے روح ہی کو نہ سمجھا ہو،وہ مزاجِ روح کو کیا سمجھیں گے؟ لہٰذا اس کیلئے طب ِ روحانی کی ضرورت ہے جس کا نام شریعت ہے۔ اس شریعت نے بتایا ہے کہ کون حیوان اس کے مزاجِ اخلاقی کیلئے سازگار ہیں،کون حیوان اس کے مزاجِ روحانی کیلئے مناسب ہیں، کون نامناسب۔ اس لئے حیوانوں میں تفریق ہوگئی ، کچھ حرام جانور ہوئے، کچھ حلال جانور۔ اس کوفقہ کی زبان میں کہتے ہیں کچھ ماکول اللحم ہوئے، کچھ غیر ماکول اللحم ہوئے۔
اس کے بعد وہی دوا اور کیفیت ِ استعمال کے بدلنے سے اثر بدل جاتا ہے۔ بادام مسلّم کھایا جائے تو اور اثر اور اگر پیس کرکھایا جائے تو اور اثر۔ جتنا باریک پیسا جائے، اُتنا زیادہ مقوی، کوئی جز گھٹا بڑھا نہیں، وہی ایک چیز ہے، کیفیت ِ استعمال کے بدلنے سے اثر بدل جاتا ہے۔ اس طرح کوئی تعجب نہ کیجئے کہ حیوان جو ذاتی طور پر حلال لیکن ایک خاص طرح سے اس کے رگ ہائے گردن قطع ہوں، تب وہ حلال رہے گا اور اگر کسی اور طرح چوٹ کھا کر مرجائے تو زندگی میں حلال تھا مگر اب وہ حرام ہوگیا۔ یعنی کیفیت کے بدلنے سے اثر بدل گیا۔
ایک تجربہ مجھے ہندوستان میں ہوا۔ کانپور چمڑے کے کاروبار کا مرکز ہے۔ وہاں چمڑے کا کاروبار کرنے والوں نے ایک بات مجھے بتائی کہ ہم تو چمڑے کو دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ ذبیح کا ہے یا نہیں۔ اب ہر صاحب ِفہم غور کرے کہ خون کا تعلق کھال سے اتنا نہیں ہے جتنا گوشت سے ہے۔ جب ذبح کرنے سے کھال کی کیفیت میں فرق آجاتا ہو تو گوشت کی خاصیت میں فرق ہوجائے تو حیرت کی کیا بات ہے۔ تو جو روح سے واقف تھے، انہوں نے بتایا کہ اس طرح سے ذبح ہو تو حلال ہوگا اور اس طرح سے ذبح ہو تو پھر حرام ہوگا۔ اب اگر وہ ذاتی طور پر بڑا معزز حیوان تھا لیکن چونکہ اس کی موت اس طرح سے نہیں ہوئی کہ وہ اپنے سے مافوق یعنی انسان کے کام آسکے تو اب وہ ذلیل ہوگیا، پھینکنے کے ابل ہوگیا۔
اب ایک حقیقت کی طرف اشارہ کردوں کہ اگروہ اس طرح گیا کہ غذائے انسان بن سکے تو وہ میت نہیں ہے، اس کا نام ہے ذبیحہ۔ موت سے تو میّت کا لفظ ہے مگر میّت کہنا اس کو غلط۔ میّت وہی جس کی خریدوفروخت ناجائز ہو۔ اس کا نام ہے ذبیحہ اور فقط نام کا فرق نہیں ہے، احکام کا بھی فرق ہے۔ اگر ذبیحہ ہے تو طاہر ہے اور حلال ۔ اگر میّت ہے تو جونہی جسم سرد ہوا، نجس ہوگیا۔ چاہے کتنا ہی صاحب ِ اوصاف انسان ہو۔زندگی میں تعظیم کو کھڑے ہوجاتے ہوں لیکن جونہی جسم سرد ہوا، نجس ہوگیااور فقہ جعفریہ کی رُو سے اور نجاستوں سے بڑی
نجاست۔ کسی دوسری نجاست کو اگر چھو لیجئے تو صرف ہاتھ پاک کرنا ہوگا۔ وہ بھی تری کی صورت میں ، لیکن میّت کو اگر چھولیں تو تری کی شرط نہیں ہے، ہاتھ بھی خشک ہے، جسم بھی خشک ہے لیکن پھر بھی وہی حکم اور فقط ہاتھ کا پاک کرنا نہیں بلکہ غسل واجب ہوگا۔
یہ شرفِ انسانی کا رخنہ ہے کہ وہاں بھی نجاست تھی اور یہاں سخت تر نجاست آئی۔ لیکن اس نجاست کے دفع کرنے کی کوئی ترکیب نہیں تھی لیکن یہاں پر قربةً الی اللہ ایک عبادت کردو یعنی غسل دے دو۔ دس دفعہ سمندر میں غوطے دے دیجئے تو پاک نہیں ہوگا، جب تک قربةً الی اللہ کی نیت نہ ہو۔نہلانا نہیں ہے، غسل دینا ہے۔ وہ نہلانا جو قربةًّ الی اللہ ہو اور اسی ترکیب سے ہو جو اُدھر سے مقرر ہوئی ہے، اس طرح سے ہو تو پھر پاک ہو گا۔ پس یہ غسل اس نجاست کو دفع کرتا ہے جو موت کی وجہ سے آئی ہو۔لیکن اگر شہید ہے تو غسل کی ضرورت نہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دم نکلنے کے ساتھ نجاست نے قدم ہی نہیں رکھا۔ جیسے وہ زندگی میں طاہر تھا، ویسے ہی روح نکلنے کے بعد طاہر رہا اور اتنا ہی نہیں کہ غسل ضروری نہیں، کفن بھی ضروری نہیں۔ اسی لباس میں اُسے دفن کردو بلکہ لباس سے اس خون کے چھڑانے کی بھی ضرورت نہیں۔ جو میدانِ جنگ میں بہا تھا کیونکہ یہ خون شہیدارنِ راہِ خدا کی زینت ہے۔
اب مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ جن کے سامنے راہِ خدا میں موت کا یہ انجام ہو، کیا وہ موت سے ڈریں گے؟ اسی کا نتیجہ یہ کہ جوانی کا زمانہ، تئیس(۲۳) سال کی عمر۔ یہ عنفوانِ شباب کہلاتا ہے۔ جب زندگی بہت مرادوں والی ہوتی ہے۔ دل تمناؤں کا مرکز ہوتا ہے۔ مگر اس ۲۳ برس کی عمر میں پیغام ملتا ہے کہ بستر پر سو رہو، نیزوں کے حصار میں اور تلواروں کے محاصرہ میں ،تو فوراً سجدئہ شکرادا کیا جاتا ہے یعنی وہ موت جیسے حاصل حیات ہو۔ تو جو اس موت کو موت سمجھے گا، وہ رنجیدہ ہوگا او رجو اس موت کی حقیقت سے واقف ہے کہ یہ موت بلند تر زندگی ہے تو وہ تو اسے اپنے لئے ایک نعمت نعمت سمجھتا ہے۔کوئی اورہوتا تو صحیح سلامت اٹھنے پر سجدئہ شکر کرتا مگر انہوں نے بڑے بڑے معرکوں سے واپس آنے پر بھی سجدئہ شکر نہیں کیا کیونکہ وہ اس زندگی کو اصل زندگی سمجھتے ہی نہ تھے۔ اصل زندگی وہی تھی جو مقصد ِ زندگی بن سکے۔
یہ زندگی ذریعہ ہے اُس زندگی کا۔ تو جو اُس زندگی کو اصل زندگی سمجھتا ہو، وہ بھلا اس زندگی کی بقا پر کیوں سجدئہ شکر کرے گا!پیغمبر خدا نے ماہِ رمضان کی آمد کے موقع پر خطبہ ارشاد فرمایا :
”قَدْاَقْبَلَ اِلَیْکُمْ شَھْرُاللّٰہِ بَرَکٰتُہ وَرَحْمَتُہ وَمَغْفِرَتُہ“۔
”تمہاری طرف اللہ کا مہینہ آرہا ہے، رحمت کے ساتھ، مغفرت کے ساتھ، مرضیِ الٰہی کے ساتھ“۔
آپ نے ماہِ رمضان کے بارے میں سنا ہوگا:
”شَھْرٌھُوَعِنْدَاللّٰہِ اَفْضَلُ الشَّھُوْرِ“۔
”وہ مہینہ جو اللہ کے نزدیک تمام مہینوں سے افضل ہے“۔
تو اسی طرح بہت سے فضائل ماہِ رمضان کے بارے میں بیان کئے۔ حضرت علی علیہ السلام بھی خطبہ میں موجود تھے۔ انہوں نے ایک سوال کیا تو رسول نے اس کا جواب دیا۔ اس سوال و جواب کی وجہ سے رسولِ خدا حضرت علی کی طرفمتوجہ ہوگئے ۔تو فرمایا:
”کَیْفَ صَبْرُکَ یَاعَلیُّ“۔
یا علی ! تمہارے صبر کا عالم کیا ہوگا،جب اس مہینے میں تمہارے سر کو زخمی کرکے تمہاری ریش کو خضاب کیا جائے گا؟
یہ متفق علیہ ہے، آپ نے قاتل کے بارے میں ارشادفرمایا کہ ”اَشَقُّ الْاُمَّةِ“،اُمت میں سے شقی ترین انسان اٹھے گا اور تمہارے سر کو زخمی کرکے خون سے خضاب کردے گا۔ رسول نے گویا آزمائشی سوال کیا تھاکہ تمہارا صبر کیسا ہوگا؟علی جواب نہیں دیتے بلکہ ایک سوال کرتے ہیں:
”اِذَالِکَ فِیْ سَلَامَۃ مِنْ دِیْنِیْ“۔
کیوں یا رسول اللہ! یہ میرے دین کی سلامتی کے عالم میں ہوگا نا؟
اب ہمیں محسوس کرنا چاہئے سلامتیِ دین کی نزاکت کہ علی پوچھ رہے ہیں”اذالک“۔ یہ اصول کا اعلان ہے کہ ہر موت پسندیدہ نہیں ہے۔ جو موت محبوب ہے، اس کا معیار ظاہر کرنا ہے کہ”اذالک فی سلامۃ من دینی“۔ یہ میرے دین کی سلامتی کے عالم میں ہوگا نا؟ اور رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ ہاں ہاں یا علی !اس میں کیا شک ؟ دین کی سلامتی کے عالم میں ہوگا۔
تو اب علی علیہ السلام جوا ب دیتے ہیں۔ سوال یہی تھا کہ صبر کیسا ہوگا؟ علی جواب دیتے ہیں:
”اَذْلَیْسَ ھُوَمِنْ مَوَاقِعِ الصَّبْرِبَلْ ھُوَمِنْ مَوَاقِعِ الشُّکْرِ“۔
پھر وہ وقت صبر کا نہیں ہوگا بلکہ وہ وقت شکر کا ہوگا۔
دیکھئے! جب قاتل کی تلوار لگی تو
”فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَۃ“۔
شکر کاانداز ہے، قسم کے ساتھ کہا: پروردگارِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوا۔