معراج خطابت
 
شعائرِ الٰہیہ۳
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَاللّٰہِ فَاِنَّھَامِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب“۔
دو دن بغیر شعائر کے لفظ کے معنی سمجھا ئے ہوئے اور بتائے ہوئے اصولاً عبادت اور تعظیم کے فرق کا بیان ہوا۔ کل تیسرے دن شعائر کے لغوی مفہوم پر تبصرہ ہوا۔ اب آج یہ دیکھنا ہے کہ قرآن مجید نے جو حکم دیا ہے کہ شعائر اللہ کی تعظیم کرو تو خود قرآن مجید سے بھی کچھ رہنمائی ہوتی ہے کہ آخر شعائر اللہ ہوتے کیا ہیں؟ تو یہاں یہ پہلے سے پیش نظر رکھنا چاہئے کہ قرآن مجید نے کہیں کوئی جامع فہرست شعائر اللہ کی بیان نہیں کی ہے۔ اگر کوئی فہرست شعائر اللہ کی بیان کردی جاتی تو پھر کوئی بھی کسی چیز کو شعائر اللہ میں سے کہتا یا بتاتا تو اُس سے اس مطالبے کا حق ہوتا ہر ایک کو کہ قرآن نے تو اس فہرست میں اس چیز کو بیان نہیں کیا ہے، یہ تم اسے کیونکر شعائر اللہ میں قرار دے رہے ہو؟ لیکن اگر قرآن مجید کے اندازِ بیان سے یہ ظاہر ہو کہ اسے شعائر اللہ کی کوئی فہرست پیش کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ انسانی ذہن کی رہنمائی کیلئے بطور مثال کچھ شعائراللہ کا تذکرہ کرنا ہے جس سے تمہیں یہ مددملے، یہ سمجھنے میں کہ کس قسم کی چیزیں شعائر اللہ ہواکرتی ہیں۔ تواس کیلئے مجھے قرآن مجید میں دو آیتیں ملتی ہیں۔ دونوں جگہ ایک ہی جیسے الفاظ ہیں جن سے ہر ایک، اس کیلئے عربی دانی کی ضرورت نہیں۔جب اس کا لفظی ترجمہ کیا جائے تو اسے ہر غیر عربی دان بھی اسی طرح سمجھ سکتا ہے جس طرح کہ میں نے عرض کیا۔تو ایک آیت یہ ہے :
”اِنَّ الصَّفَاوَالْمَرْوَة مِنْ شَعَائِرِاللّٰہِ“۔
”یقینا صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں“۔
یہ ”مِنْ“نہ ہوتا تو یہ معنی ہوتے کہ یہ دونوں شعائر اللہ ہیں۔مگر جیسے اُستاد شاگرد کو سمجھانے کیلئے دو ایک مثالیں دے دیتا ہے۔ تو ارشاد ہوتا ہے کہ صفا او رمروہ شعائر اللہ میں سے ہیں اور یہ جن جمادات میں سے ایک چیز منتخب کی، جیسے حجر اسود کے بیان میں ایک دن کہہ چکا ہوں کہ یہ بت پرستی سے بہت مشابہ تھا۔ وہ بھی پتھروں کو پوجتے تھے اور یہ بھی پتھر تھا۔مگر شباہتوں سے حقیقت کا تعلق نہیں ہوتا۔ یہ پہاڑ کیا ہوتا ہے؟ پتھروں کا مجموعہ، تو انہی جمادات میں سے ایک چیز منتخب کی اور اُسے بیان فرمایا کہ صفا او رمروہ یہ دو پہاڑیاں شعائر اللہ میں سے ہیں۔
اب دونوں آیتیں ایک ساتھ پیش کئے دیتا ہوں ۔ مگر تبصرہ الگ الگ ہوگا۔ یہ جمادات میں سے ایک قسم ، نام دو لے دئیے۔ اس کے بعد نباتات کی صنف کو چھوڑ دیا۔ نباتات کی نوع میں سے کوئی چیز مجھے نہیں ملتی جسے کہا گیا ہو۔ اب حیوانات کو لیا تو حیوانات کیلئے کہا:
”وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاھاَلَکُمْ مِنْ شَعَائِرِاللّٰہِ“۔
جو الفاظ وہاں ، وہی الفاظ یہاں۔ ”دیکھو! یہ قربانی کے جانور، یہ شعائر اللہ میں سے ہیں“۔
تو یہاں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ یہ قربانی کے جانور شعائر اللہ ہیں بلکہ وہی الفاظ استعمال کئے گئے کہ قربانی کے جانور شعائر اللہ میں سے ہیں۔ اب ہمارے لئے دعوتِ فکر ہوگئی کہ ہم غور کریں کہ آخر صفاو مروہ میں کیا بات ہے کہ یہ دونوں شعائر اللہ میں سے ہوگئے اور یہ جانور، ان میں کیا بات ہوگئی کہ یہ شعائر اللہ میں سے ہوگئے اور ان کی تعظیم کو کہا گیا کہ تقویٰ کا جزو ہے جیسے کہا گیا کہ:
”اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَ تْقٰکُمْ“۔
”تم میں سب سے زیادہ عزت اُس کی ہے پیش خدا جو سب سے زیادہ تقویٰ رکھتا ہو“۔
تو میں کہتا ہوں کہ دونوں کو ملائیے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ پیش خدا اس کی عزت زیادہ ہے جوشعائر اللہ کی زیادہ تعظیم کرتاہے۔
اب جناب! یہ صفا اور مروہ میں کیا خصوصیت ہے۔ابتداء سے سنتے رہے کہ کوہِ صفا اور کوہِ مروہ،کوہ کے معنی پہاڑ۔ عربی میں جبل، فارسی میں کوہ، اُردو میں پہاڑ۔ پہاڑوں سے ہمارے ذہن میں تصور عظمت ِجسمانی کا آیا۔پہاڑ تو پہاڑ ہی ہے۔ تو ہم سمجھے کہ کوئی اتنے اونچے پہاڑ ہوں گے کہ ان کی جسامت کے لحاظ سے اللہ نے ان کو شعائر اللہ میں سے قرار دیا۔ لیکن مجمع میں ماشاء اللہ بہت افراد ہوں گے جو فریضہ حج سے سبکدوش ہوئے ہوں یا جو عمرے کو گئے ہوں اور پھر سب نے برابر سنا ہے کہ یہ پہاڑیاں ہیں۔تو پہاڑ ہیں۔ ورنہ ہم نے جیسے جیسے پہاڑ دیکھے ہیں، اس کے لحاظ سے وہ کیا ہیں؟ ہمارے ہاں تو بعض ٹیلے اس سے زیادہ اونچے ہیں،جتنے زیادہ اونچے وہ پہاڑ ہیں۔لہٰذا اگر عظمت ِ جسمانی کا معیار ہوتا شعائر اللہ میں سے ہونے کا تو میں تو ہندوستانی ہوں، ہمارا ہمالیہ زیادہ حقدار تھا جس کی بلندی حد معلوم کرنے کیلئے یا اس کی بلند چوٹی پر پہنچنے کیلئے آجکل دنیائے متمدن مشغول ہے اور اس کو معیار ارتقائے انسانی سمجھتی ہے ۔
تو جناب! اب وہ پہاڑیاں کیاہیں؟ جب گیا ہوں حج کیلئے تو اسی سال ڈائنامائٹ سے وہ پہاڑیاں اڑائی گئی تھیں کیونکہ میں پہلے بھی ہوائی جہاز سے گیا تو اتفاق سے سب سے پہلا جہاز جوجارہا تھا، اسی سے میں گیا تو ڈیڑھ مہینہ پہلے پہنچ گیا۔ تو جب میں گیا ہوں تو اڑائی جارہی تھیں۔ ایک طرف سے ایک حصہ باقی تھا ۔ تو شاید میں یا میرے ساتھ کے چند آدمی آخری فرد ہوں گے جو پہاڑی کی شکل میں اس پر چڑھے ہوں گے اور ان کے بعد پھر میرے ہی سامنے پھر سیڑھیاں بن گئیں۔ اب سنا ہے کہ ڈھلان ہوگئی ہے۔ وہ سیڑھیاں بھی ختم ہوگئی ہیں۔ ایسی باتوں کو کوئی نہیں سوچتا کہ یہ بدعت ہے۔ وہ تو پہاڑ پر چڑھنے کا حکم تھا، اب وہ پہاڑ رہا ہی نہیں۔ اب ان سیڑھیوں پر چڑھ کر وہ چوٹی تصور کرلی کہ آگئی۔ اونچے زینے پر چڑھ کر۔وہاں سے اس ڈھلان پر چڑھ کر وہ ہوگیا کہ جناب یہ بلندی ہے اس کی۔ ہمارے ہاں کا بڑا منبر سات زینوں کا ہوتا ہے۔ تو بس اتنی بلندی کوہِ صفا کی ہے اور اسی کیلئے کبھی ممکن ہے ، کہہ چکا ہوں کہ جب تبلیغِ عام کیلئے رسول کوہِ صفا پر تشریف لے گئے تو یہ کوہِ صفا پر جانا نہ تھا تبلیغِ رسالت کیلئے ایک منبر کی تلاش تھی۔جہاں صفا موجود تھا، وہاں اُسے منبر بنا لیا۔جہاں صفا نہ تھا، وہاں پالانِ شتر کو منبر بنالیا۔
تو اب جسامت کے لحاظ سے تو یہ ہے کہ وہ پہاڑ مجھے تو معلوم نہ ہوتا کہ پہاڑ ہے۔پہلے سے معلوم تھا کہ پہاڑ ہے تو سمجھا کہ پہاڑ ہے۔ اس کے بعد پھر وہ کیوں ہے شعائر اللہ میں سے؟ کیا(معاذاللہ) اللہ تعالیٰ کے جلوہ کا ظہور کبھی اس پر ہوا ہے؟
تو حضورِ والا! ہم اُسے لامکان سمجھتے ہیں، جسم و جسمانیت سے بَری۔ کسی کو اوتار ماننا بھی شرک سمجھتے ہیں ، کسی جگہ اس کے جلوئہ ذات کا ظہور بھی ناممکن سمجھتے ہیں۔ تو یہ بات نہیں ہوسکتی کہ وہاں کبھی اس کا جلوہ نمودار ہوا ہو۔ تو پھر آخر کیا بات ہے کہ یہ پہاڑیاں شعائر اللہ میں سے ہوگئیں۔ اس کا جواب مجھے مذہب کی تاریخ سے ملا اور وہ تاریخ مذہب جو حدیث سے مرتب ہوئی کیونکہ اس دور کی باتیں تاریخ نویسوں کے حدودِ علم سے باہر ہوتی ہیں۔ ماوراء التاریخ کا دَور ہے تو اس لئے دنیا کو جو حدیثوں سے ثابت ہوتا ہو، اسی کو تاریخ ماننا پڑے گا۔
تو جناب! تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ پر توکل کرنے والی ایک بی بی ، وہ کون؟ جنابِ ہاجرہ، خلیل اللہ کی شریک ِ حیات،جنابِ اسماعیل ان کے فرزند۔ ابھی صغر سنی کی منزل میں، دودھ پیتا ہوا بچہ اور اب یہاں دنیا کے عام الفاظ یا عام تصور یہ کہ پہلی بیوی جو تھیں، جنابِ سارہ، انہوں نے کہا کہ میں یہاں ان کا رہنا گوارہ نہیں کرتی، ان کو لے جائیے۔تو گویا بیوی کی فرمائش سے مجبور ہو کر دوسری بیوی کو لے کر نکل آئے اور ہوسکتا ہے کہ اس بیوی کی فرمائش بہانہ بن گئی ہو کسی مقصد ِالٰہی کی تکمیل کا کیونکہ وہ بیوی کوئی معمولی بیوی نہیں تھی۔خاندانِ رسالت سے تھی وہ بیوی اور ایسی بیوی تھی ، قرآن مجید سے پتہ چلتا ہے کہ فرشتوں نے اُسے اہل البیت کہہ کر خطاب کیا۔ بیوی اہل البیت میں داخل ہونے کے قابل نہیں ہوتی۔ اُمِ سلمہ جیسی بیوی اہل البیت میں داخل نہیں کی جاتی مگر اُسے ملائکہ نے اہل البیت کہہ کر خطاب کیا تو وہ اس لئے نہیں کہ رسول کی بیوی ہے بلکہ اس لئے کہ وہ بیت ِ رسالت سے ہے اور کچھ خاص صفات کی حامل ہے۔ میرے پاس ان کی جلالت ِقدر کے شواہد احادیث سے موجود ہیں کہ جس منزل پر مثلاً جنابِ سیدہ عالم کی ولادت میں روایت ہے کہ جنابِ خدیجہ سے پیغمبر اسلام کی شریک ِ حیات ہونے کی وجہ سے تمام خواتین مکہ نے قطع تعلق کرلیا تھا۔ تو اب ان کے ہاں ولادت ہونے والی تھی تو کوئی مکہ کی عور ت تیار نہیں تھی کہ وہ مدد کو آئے۔
تو قدرت کی طرف سے کچھ خواتین بھیجی گئیں۔ ان خواتین میں سارہ کا بھی نام ہے اور اسی طرح سے اور مواقع پر خاندانِ رسالت کے، مثلاً حورانِ جناں آئی ہیں۔ یاوہاں حوا ہیں اور ان کے ساتھ سارہ کا نام بھی ہے۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ سارہ کوئی معمولی عورت نہیں تھیں۔ بلند مرتبہ خاتون تھیں۔ اسی طرح اس بلند مرتبہ فہرست میں کلثوم، خواہر موسیٰ کا نام آیا۔ یہ بھی عام طور پر معلوم نہیں عام لوگوں کو کہ کلثوم نام تھا جنابِ موسیٰ کی بہن کاتو وہ بھی ایسی ہی خواتین میں سے ہیں جوایسے محل پر آئیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ خواتین بھی وہ ہیں جو ایک طرح کی زندگی کی مالک ہیں۔ زندہ نہیں ہیں تو وہ کیونکر آئیں مدد کو۔ وہ آرہی ہیں ، مدد کررہی ہیں خالق کے حکم سے۔
تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواتین بھی بلند پایہ خواتین ہیں۔ ان میں سے ہیں جنابِ سارہ۔ تو بہرحال انہوں نے کہا ہو یا نہ کہا ہو، بہرحال ہے یہی کہ ان کے کہنے سے یہ گئے۔ اب یہ لے جاتے کسی شہر میں، لے جاکر پہنچاتے، مگر یہ انہیں ایک بے آب و گیاہ میدان میں لے آئے، وہ کونسا؟ جہاں کعبہ ہے اور وہاں لاکر انہیں رکھ دیا۔ ایک خاتونِ محترمہ اور ان کا ایک بچہ صغیر، ایک کوزئہ آب اور دو تین روٹیاں پاس رکھ گئے۔ وہ کہاں تک فاقہ کرتیں؟ اب یہاں ایک جملہ جو عرض کروں گا، اُس سے پتہ چلے گا کہ کیا بیوی کے کہنے سے لائے؟ جب چلنے لگے، ہاجرہ نے پوچھا: یا خلیل اللہ! کس پر چھوڑا؟ کہا: جس کے حکم سے لایا ہوں۔
چلے گئے، اب وہ روٹی ختم ہوگئی، پانی ختم ہوگیا۔ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ پہلے ماں پر پیاس کا غلبہ ہوا، بھوک او رپیاس کا اور وہ غلبہ اتنا ہوا کہ بچے کا جو فطری ذخیرئہ غذا ہے، وہ ختم ہوگیا۔ شرو ع میں بچے کی غذا روٹی نہیں ہوتی۔ تو اب جب یہ منزل پہنچی تو بچے پر پیاس کا غلبہ ہوا، بھوک کا غلبہ ہوا۔ جب تک اپنی بھوک اور پیاس رہی، برداشت کیا لیکن جب بچہ تڑپنے لگا تو اب اپنی جگہ سے اٹھیں، ممکن ذریعہ کیا تھا؟ چاروں طرف دیکھا تو کہیں پانی کا نشان نہیں۔ ایک طرف کوہِ صفا نظر آیا اور دوسری طرف کوہِ مروہ نظر آیا۔ چونکہ بلندی پر جانے سے حد ِنظر میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے، لہٰذا پہاڑ پر گئیں کہ کہیں تو چشمہ ہوگا اُدھر تو نظر آئے گا۔ اُدھر گئیں کہ کہیں اِدھر ہوگا تو نظر آئے گا۔ مگر وہاں ہوتا تو نظر آتا ۔کہیں دور دور تک پانی نہیں۔ اب صورتِ واقعہ یہ بتاتی ہے کہ پانی تلاش کرنے کیلئے جاتی ہیں۔ مگر پھر تصور یہ ہوتا ہے کہ بچہ اکیلا ہے تو اُتر کر آجاتی ہیں بچے کے پاس۔ پھر اس کی تڑپ دیکھی نہیں جاتی۔ تو گویا اپنی نگاہ کو جھٹلاتی ہیں کہ پھر جاؤں ، پھر دیکھوں تو چشمہ نظر آئے یا کوئی قافلہ آتا ہوا نظر آئے اتفاق سے تواس سے پانی دستیاب ہو۔
غرض سات مرتبہ گئیں صفا سے مروہ تک اور مروہ سے صفا تک۔ تو جناب! وہ عمل ان کا اللہ کو اتنا پسند آیا کہ قیامت تک کیلئے جزوِ حج بنادیا۔ وہی سعی، سعی کے معنی ہیں دوڑنا۔ ظاہر ہے کہ صورتِ حال یہ ہے کہ اپنی ممکن تیز رفتاری سے چل رہی ہوں گی۔ تو وہ جزوِ حج بنادیا۔ سعی کے نام سے۔ ہر حاجی کسی بھی نقطہ نظر کا ہو لیکن حج اگر کرے گا تو وہ سعی بھی کرے گا۔ تو اب ان حاجی صاحب سے پوچھئے کہ کیا یہ بھی پیاسے ہیں؟ ان سے پوچھئے کہ کیا یہ بھی تلاشِ آب کررہے ہیں؟ تو نہ یہ پیاسے ہیں، نہ یہ تلاشِ آب کررہے ہیں۔اس کے معنی ہیں کہ اصل مقصد کا تعلق پہلے صاحب ِعمل سے ہوتا ہے۔ دوسرے احکام جو ہیںِ وہ اس کی یاد کو قائم رکھتے ہیں اور اگر شعوری طور پر ذہن میں اس کی یاد رہے گی تو پھر اس مقصد کی اہمیت بھی ذہن میں ضرور رہے گی جس کیلئے اس نے وہ کارنامہ انجام دیا۔تو اس کو جزوِ حج بنادیا۔
اب ایک اور پہلو کی طرف بافہم مجمع کو مخاطب کروں ، متوجہ کروں کہ وہ قادرِ مطلق جس نے بعد میں انتظام کیا، جو ابھی عرض کروں گا، وہ کیا اس پر قادر نہیں تھا کہ پہلے ہی وہ انتظام کردیتا سیرابیِ اسماعیل کا؟ کیا اسے اچھا معلوم ہوتا تھا کہ ایک فاقہ زدہ خاتون اتنی تگ و دو کرے، اتنی جدوجہد کرے مگر اسے تو قیامت تک کے افراد کو یہ سبق دینا تھا کہ جب تک سعی نہیں کرو گے، نتیجہ حاصل نہ ہوگا۔ اگر دنیا چاہتے ہو تو بغیر سعی کے نہیں ملے گی اور اگر آخرت چاہتے ہو تو بغیر سعی کے نہیں ملے گی۔ صرف نعرے لگادینے سے ، صرف کچھ نام لے لینے سے یہ اُمید نہ کرو کہ بہتر سے بہتر نتیجہ مل جائے گا۔اس کی راہ میں جدوجہدبھی کرنا ہوگی۔
صورتِ واقعہ یہ بتاتی ہے کہ یہ ہم تروتازہ جاتے ہیں، سات دفعہ چکر لگاتے ہیں۔ تھوڑا سا تھک جاتے ہیں۔چہ جائیکہ وہ بی بی جو نہ جانے کتنے دن سے بھوکی تھی اور کتنے دن سے پیاسی تھی۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ امکانی طاقت اتنی ہی تھی۔ اب جیسے تھکن سے چور ہوگئی تھیں اور اب جیسے کچھ نااُمید سی ہوگئی تھیں۔ تو بس جہاں انسانی طاقت ختم ہوئی، وہاں سے خدا کی قدرت شروع ہوئی۔ بس اب ساتویں دفعہ کے بعد جو پلٹیں تو دیکھا کہ جہاں بچہ ریت پر ایڑیاں رگڑ رہا ہے، وہیں سے پانی اُبل رہا ہے۔ اب یہ تفصیل توقرآن مجید میں نہیں ہے، روایتوں میں ہے۔ اب خلافِ توقع، خلافِ اُمید ایسی مایوسی کے عالم میں پانی نظر آرہا ہے تواب یہ انسانی تصور کی کمزوری ہے۔ اضطراب ہے کہ پانی چلا نہ جائے تو اپنی زبان سے کہا کہ ”زم زم“، یعنی تھم تھم۔ روایت بتاتی ہے کہ اگر زم زم نہ کہا ہوتا تو نہ جانے کہاں تک نہر بن کر جاتا کیونکہ اللہ کی
خاص خاتون جو اس کے ہاں مقبول تھی، اس نے زم زم کہہ دیا تو گویا پانی اس کی اطاعت کررہا ہے۔ اب وہ وہیں رُک گیا۔ کنواں کہا جانے لگا۔ چاہِ زمزم ہوگیا ورنہ وہ چشمہ زمزم ہوتایا نہر زم زم ہوتی۔ خصوصیت زمزم کی کیا ہے؟ ماشاء اللہ حجاج کرام اندازہ کرسکتے ہیں، جو نہیں گئے ہیں، انہوں نے سنا ہوگا۔ اب تو سنا ہے کہ کچھ ایسا کردیا ہے کہ بند ہوگیا ہے، وہاں تک رسائی ہی نہیں ہے۔ لیکن جب تک رسائی تھی، اس وقت تک وہ لاکھوں آدمی، لاکھوں سے کم تو بحمدللہ مردم شماری ہوتی ہی نہیں حاجیوں کی۔ تو وہ لاکھوں آدمی پیتے ہیں ہر وقت، سقّے مشکیں بھرے ہوئے زمزم کا پانی پلاتے پھرتے ہیں جس کے پیسے وہ وصول کرتے ہیں اور لوگ اس زمانہ میں اب نہیں کرسکتے ہوں گے۔ اپنے کپڑے دھوتے ہیں، چادریں دھودھو کر لے جاتے ہیں اس سے۔ کفن اس سے دھوتے ہیں۔ دنیا والی چادریں بھی اور عقبیٰ والی چادریں بھی اور ڈبوں میں ، مشکوں میں جتنا ظرف ہو جس کے پاس، اتنا پانی ہر ایک بھر لیتا ہے۔ لیکن کبھی سننے میں نہیں آیا کہ زمزم نے بخل کیا ہو۔ کسی وقت سنا ہو کہ زمزم خشک ہوگیا۔
اب وہ پانی اس میں سے نہیں نکل رہا ہے؟ میں کہتا ہوں کہ عالم امکان میں اللہ تعالیٰ نے نقشہ پیش کردیا ہے اپنے خزانہٴ عطا کا کہ یہ میرا مخلوق ایک چشمہ فیض ہے کہ اس میں سے جتنا لو گے، وہ دے گا۔ اس میں کمی نہیں ہوگی۔ تو میرا خزانہٴ عطا کہاں ختم ہوتا ہے۔ تو یہ ہے بس جو تاریخ مذہب سے ہمیں ملی۔
اب ہر صاحب ِفہم غور کرے کہ کوئی روایت نہیں بتاتی کہ جنابِ ہاجرہ کے پیر سے خون کا کوئی قطرہ اس زمین پر گر گیا ہومگر اللہ کی راہ میں جو چلی بھی تو اس بی بی کے قدم سے تھوڑی دیر کیلئے جو پہاڑیاں مس ہوگئیں ، وہ شعائر اللہ میں داخل ہوگئیں بنص قرآن۔ تو برائے خدا بتائیے کہ وہ زمین جہاں شہیدوں کا خون جذب ہوجائے، ہم اگر اُسے خاکِ پاک کہیں اور اس کا احترام کریں تو اُسے شرک کہا جائے؟ اگر وہ پہاڑیاں شعائر اللہ میں ہوسکتی ہیں تو پھر کربلا کی زمین بھی شعائر اللہ میں سے ہم کہیں تو اُسے قبول کیجئے۔
اس کے بعد وہ دوسری آیت میں نے پڑھی تھی:
”وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاھاَلَکُمْ مِنْ شَعَائِرِاللّٰہِ“۔
”وہ جانور کون جو قربانی کیلئے رکھے گئے ہیں، وہ شعائر اللہ میں سے ہیں“۔
اب اسی ترجمہ سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ابھی وہ قربان ہوئے نہیں ہیں مگر چونکہ قربانی کی نیت سے وہ رکھے گئے ہیں، اسی غرض سے وہ ساتھ رکھے گئے ہیں، لہٰذا بحالت ِ حیات بھی وہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ بس اب عقل سے کام لیجئے اور یاد رکھئے کہ دین انہی کے لئے ہے جن کے پاس عقل ہو۔ وہ کوئی اور مذاہب ہوں گے جو عقل کے اوپر پہرے لگاتے ہیں۔ قرآن تو ہر جگہ صاحب ِعقل کو پکارتا ہے۔ارے بے عقلوں کو تو اس نے تکلیف ِشرعی سے ہی بری کردیا ہے۔مگر فطری طور پر بے عقل ہو، جان بوجھ کر بے عقل نہ ہو۔ ان کے خلاف وہ عقل ہی حجت ہوگی۔ عقل رکھتے تھے مگر تم نے عقل سے کام نہ لیا۔ تو اب دیکھئے کہ حیوان جو راہِ خدا میں خدا کے حکم سے یعنی حج کی راہ میں ہیں، لہٰذا راہِ خدا ہی کہہ سکتے ہیں۔اس کا قربانی کا حکم ہے، لہٰذا حکمِ خدا ہی ہوا۔حکمِ خدا سے قربان کرنے کیلئے ساتھ رکھے گئے ہوں تو وہ اپنی حیات میں بھی شعائر اللہ ہیں اور اسی سے سمجھ میں آئے گا کہ جب قربانی ہوجائے ، تب بھی وہ قابل احترام ہیں، شعائر اللہ ہیں۔
تو بتائیے حیوان راہِ خدا میں بحالت ِ حیات شعائر اللہ ہوں تو وہ انسان جو راہِ خدا میں قربان ہوجائیں، وہ انسان شعائر اللہ میں نہ ہوں گے؟ ان کی تعظیم کیجئے تو شرک ہوجائے ، جانوروں کی تعظیم خدا کا حکم ہے اور انسانوں کی تعظیم شرک قرار پائے، جنہوں نے اپنی پوری زندگیاں راہِ خدا میں قربان کردی ہوں ۔
ماشاء اللہ صاحبانِ فہم ہیں، ذرا غور کیجئے جو میں عرض کررہا ہوں کہ شہید ہونا اپنے اختیار کی بات نہیں ہے ۔شہید ہونا قسمت سے وابستہ ہے۔ اپنے اختیار کی بات تو میدانِ جنگ میں جمے رہنا ہے۔ تو حضور! وہ جانور شعائر اللہ ہوں اور انسان شعائر اللہ نہ ہوں۔ میں نے کہا کہ وہ جانور ابھی ذبح نہ ہوئے ہوں، بحالت ِ حیات شعائر اللہ ، تو اب نتیجہ نکالئے ، اگر عقل ہو تو پھر وہ انسان جو راہِ خدا میں قربان ہونے والے ہوں، وہ بعد ِشہادت ہی شعائر اللہ نہیں ہیں بلکہ وقت ِ ولادت ہی سے شعائر اللہ ہیں اور اس کے بعد آپ کے جانے پہچانے ہوئے واقعات سب کے ہاں ہیں کہ رسول اللہ بچوں کے بوسے لیتے تھے۔
بلاشبہ ہے، روایت، وہ میں اب نہیں سمجھ سکتا اور فیصلہ نہیں کرسکتا کہ یہ بچوں سے محبت تھی یا شعائر اللہ کا احترام تھا۔ فیصلہ یہ نہیں کرسکتا، اس لئے کہ دین اسلام دین فطرت ہے۔ لہٰذا بچوں سے محبت بھی کوئی خلافِ شان با ت نہیں ہے۔بچوں سے محبت کرنا بھی منظورِ قدرت ہے۔ ہمیں بھی اپنے بچوں سے محبت ہونی چاہئے ۔ تو خلافِ شان ہوتا تو میں شک کا اظہار نہ کرتا، یقین کے ساتھ تو میں فیصلہ نہیں کرسکتا کہ یہ بچوں کی محبت ہے یا شعائر اللہ کا احترام ، مگر اب جو روایتیں گوشِ زد ہیں اور آپ کے بھی گوش زد ہیں او رمیری نظر سے بھی کتابوں میں گزری ہیں، ان کے پیش نظر ابھی تک تو میں شک کا اظہار کررہا تھا لیکن اب میں اعتماد کے ساتھ کہتا ہوں کہ نہیں، بچوں کی محبت محرکِ بوسہ نہ تھی بلکہ شعائراللہ کا احترام ہی مد ِنظر تھا۔
اس کا ثبوت کیا ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اگر بچوں کی محبت ہو تو پیشانی بھی اپنے بچے کی ہے، رخسارے بھی اپنے بچے کے ہیں، ہاتھ بھی اپنے بچے کے ہیں، سینہ بھی اپنے بچے کا ہے۔ مگر کیا بات ہے کہ جب بوسے لیتے ہیں تو ایک کے دہن کے بوسے لیتے ہیں اور ایک کے گلے کے بوسے لیتے ہیں؟ میں پوری ضمانت کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ سند کیسی ہے ، کس درجہ کی روایت ہے مگر بہرحال یہ روایت آپ نے سنی ہوگی کہ بعض وقت بچے کو ذرا یہ بات محسوس ہوئی۔ یہ آپ نے سنا ہوگا۔ ایک دفعہ سیدہ عالم کے پاس گئے اور یہ کہا کہ مادرِ گرامی ! ذرا دیکھئے ہمارے منہ سے کیا بدبو آتی ہے؟
سیدہ عالم نے کہا کہ تمہیں یہ تصور کیوں ہوا؟ تمہارے دہن سے تو مشک و عنبر سے بہتر خوشبو آتی ہے۔ یہ تم پوچھ ہی کیوں رہے ہو؟ تو کہا: بس اس لئے پوچھ رہے ہیں کہ ہم بھی نانا کی گود میں ہوتے ہیں اور جب ہماری باری آتی ہے تو ہم اپنا دہن بڑھاتے بھی ہیں تو نانا ہمارے منہ کو ہٹا کر گلے کے بوسے لے لیتے ہیں۔
سیدہ عالم حقیقت سے تو واقف تھیں مگر فرمایا کہ چلو، تمہیں تمہارے نانا جان سے ابھی پوچھ دیتی ہوں۔حسین کو ساتھ لیا اورآئیں بابا کی خدمت میں اور ممکن ہے بالکل الفاظ نہ ہوں۔اُس دن نقل بالمعنی کے متعلق عرض کرچکا ہوں۔ حقیقت ِ حال وہی ہواور ممکن ہے کہ الفاظ ہمارے ہوں کہ وہ سیدہ عالم نے جیسے فرمایا کہ بابا جان! آپ ہی تو کہتے ہیں کہ حسین کے رونے سے مجھے تکلیف ہوتی ہے ، مگر کیا بات ہے کہ
آپ ہی کے عمل سے کوئی بات ایسی ہوجائے کہ اس کی آنکھیں اشک آلود ہوجائیں؟
فرمایا: کیوں، کیا ہوا؟ کہا: اس نے ابھی جاکر مجھ سے یہ کہا ہے۔
تو میں تو محسوس کرتا ہوں کہ رسول نے فرمایا ہو کہ ارے فاطمہ ! جانے دو، سن کر کیا کرو گی؟ انہوں نے کہا ہو کہ نہیں، میں تو چاہتی ہوں اس کو اطمینان دلانا۔ فرمایا: تو پھر سنو کہ حسن کے لب کے بوسے لیتا ہوں، اس لئے کہ زہردغا متصل ہے اس کے لبوں سے۔ اس کے گلے کے بوسے لیتا ہوں، اس لئے کہ خنجر جفا متصل ہے اس کے گلے سے۔
بس! اس روایت سے سمجھ میں یہی آتا ہے کہ وہی قربانی پیش نظر ہے جس کی بناء پر بوسے لے رہے ہیں۔ اور اب یہ سلسلہ برابر قائم ہے۔ یہ بھی روایت میں ہے کہ حسین آتے ہیں اور رسول فرماتے ہیں کہ یا علی ! ذرا پیرہن اٹھاؤ، حسین کے جسم سے۔
جناب شیخ جعفر شستری نے لکھا ہے ”خصائص حسینیہ“ میں، پیرہن اٹھاتے ہیں، اب جابجا رسول بوسے لیتے ہیں اور علی بھی کہتے ہیں: یا رسول اللہ! یہ آپ کیا کررہے ہیں؟ فرماتے ہیں:
”اُقَبِّلُ مَوَاضِعَ السُّیُوْفِ وَاَبْکِیْ“۔
”جہاں جہاں تلواریں پڑیں گی، وہاں وہاں بوسے لے رہا ہوں“۔
اب وہ تو ہر دن کچھ نہ کچھ اس سلسلہ میں عرض کرنا ہے کہ ہمارے گروہ پر مختلف سوالات ہوتے رہتے ہیں تو ان میں سے ایک یہ سوال بہت بڑا ہے جسے ایک شاعر نے کہا کہ زندہ کو رویا جاتا ہے۔
روئیں وہ جو قائل ہوں مماتِ شہداء کے
ہم زندئہ جاوید کا ماتم نہیں کرتے
یہ گویا بہت مشہور شعر ہے ۔ تو میں کہتا ہوں کہ ہم سے تو بعد میں پوچھنا چاہئے۔ وہ بچہ جب پیدا ہوا اور رسول کی گود میں لاکر دیا گیا ، اسی وقت پیغمبر اسلام کی آنکھوں میں آنسوآگئے اور گریہ فرمانے لگے۔ تو کسی نے کہا کہ رسول اللہ! یہ تو خوش ہونے کا موقع ہے، آپ رو کیوں رہے ہیں؟ آپ فرماتے ہیں: تمہیں نہیں معلوم اس پر مصائب کیا پڑیں گے؟ تو میں کہتا ہوں کہ ہم سے آپ پوچھ رہے ہیں کہ زندہ کو کیوں روتے ہو؟ اسی وقت رسول اللہ سے یہ پوچھتے کہ زندہ کو کیوں رو رہے ہیں؟ ارے یہ زندگی تو عالمِ معنی کی ہے، آنکھوں کے سامنے والی زندگی نہیں ہے اور وہ تو اس وقت حیاتِ عنصری کے ساتھ ،سانس لیتی ہوئی زندگی کے ساتھ رسول کی گود میں تھے اور اس کے باوجود رسول گریہ فرما رہے تھے۔
تو اب تو سمجھے کہ گریہ موت پر نہیں ہوتا، مصائب پر ہوتا ہے۔اگر پیغمبر خدا کو اس کی زندگی میں رونے کا حق تھا تو ہمیں اس
نوعِ زندگی میں رونے کا حق ہے۔ یہ کیا کہ زندہ کاماتم نہیں ہوتا، زندہ کو رویا نہیں جاتا۔ میں کہتا ہوں کہ جنابِ یوسف بھی تو زندہ تھے اور روایت کی بات نہیں ہے، نص قرآن کی بات ہے۔ قرآن سے ثابت ہے کہ انہیں اطلاع مل گئی تھی کہ زندہ ہیں، بعد میں کہا کہ جو میں جانتا ہوں، وہ تم نہیں جانتے۔ تو بتایا جاچکا تھا انہیں کہ زندہ ہیں اور اس کے بعد کتنا روئے ہیں۔
”اَبْیَضَّتْ عَیْنَاہُ“۔
”آنکھیں سفید ہوگئیں روتے روتے“۔
اب وہ ہر وقت رنج و غم سے خامو ش رہتے تھے۔ معلوم ہے کہ زندہ ہیں۔ تو یہ نہیں کہ مرنے کا غم ہوتا، جدائی کا بھی غم ہوتا ہے۔ مصائب پر بھی رونا ہوتا ہے۔ مختلف صورتیں ہیں گریہ کی۔ اب جو چیز عرض کررہا ہوں، وہ چاہے مختصر ہو مگر آپ کیلئے بڑے مرثیے کے برابر ہے۔ میں کہتا ہوں کہ عقلی اصول کے لحاظ سے(میں کہیں عقل کا دامن نہیں چھوڑتا)، کہ اگر ایک بھائی کے لب شعائر اللہ ہیں ، ایک بھائی کی گردن شعائر اللہ میں داخل ہے تو ماننا پڑے گا کہ ایک بہن کے بازو بھی شعائر اللہ میں سے ہیں اور وہ بھی بابِ مصائب میں جو روایات بیان ہوتی ہیں، اس میں ضمانت نہیں ہوتی صحت ِسند کی۔ بس کتاب میں ہوں۔ہاں! وہ چیز روا نہیں ہے کہ منبر پر جاکر بروقت تصنیف ہو۔
گویا ایک چیز جس کا کہیں وجود نہ ہو اور میں نے تو دیکھا کہ زیادہ تر یہی ہوتا ہے ، اس کیلئے کوئی وجہٴ جواز نہیں بلکہ وہ”اِفْتَرَاعَلَی اللّٰہَ وَالرَّسُوْل“میں داخل ہے، جو اگر حالت ِروزہ ہو تو روزے کو باطل کردیتی ہے۔ تو وہ حدیث کربلا میں بیان ہوئی ہے اور بڑے سخت وقت میں بیان ہوئی ہے۔