معراج خطابت
 
شعائرِ الٰہیہ ۲
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَاللّٰہِ فَاِنَّھَامِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب“۔
جو شعائر اللہ کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ کا ایک جزو ہے۔ دو دن اس سلسلہ بیان کے گزر گئے اور شعائر کے معنی میں نے بیان نہیں کئے۔ میں نے پہلے دن ہی کہا تھا کہ چاہے شعائر کے معنی ہمیں معلوم نہ ہوں، تب بھی الفاظ سے کہ اللہ کے شعائر کی تعظیم کرو، یہ پتہ چل گیا کہ ہر تعظیم عبادت نہیں ہے۔ عبادت اور چیز ہے اور تعظیم دوسری چیز ہے۔ دو دن یہی بیان رہا۔ اب آئیے شعائر کے معنی دیکھیں۔ اب شعائر کی تشریح میں یہ کہنا لازمی ہے کہ شعائر جمع ہے شعیرہ کی۔ لیجئے اب اُردو دان طبقے کیلئے او رمشکل ہوگی۔ مجلسوں میں شعائر کا لفظ تو سنا ہوگا کہ کچھ نہ کچھ ذہن میں اس کا مفہوم آجاتا تھا مگر یہ واحد جو اس کا معلوم ہوا شعیرہ۔ تو یہ ذہن کیلئے بالکل اجنبی چیز ہے۔ مگر میں عرض کروں کہ ابھی پتہ چلے گا کہ یہ ذہن سے کچھ زیادہ دو رنہیں۔ شعیرہ کے معنی لغت میں علامت کے ہیں جیسے نقش قدم کسی جانے والے کی علامت ہے۔ جیسے دھواں آگ کی علامت ہے۔ تو ویسے ہی شعیرہ کے معنی علامت کے ہیں۔ اب علامت کو علامت کیوں کہتے ہیں؟ علامت کو علامت اس لئے کہتے ہیں کہ وہ ذریعہ علم ہوتی ہے۔ اب علم کے معنی سب کو معلوم ہیں جاننا۔
تو چونکہ علامت ذریعہ علم ہوتی ہے، اس لئے اُسے علامت کہتے ہیں۔ تو جس طرح علامت کو علامت اس لئے کہتے ہیں کہ وہ ذریعہ علم ہے۔اسی طرح علامت کے معنی ہیں شعیرہ۔ لغت میں آیا ہے کیونکہ یہ ذریعہ شعور ہے کیونکہ شعور کے معنی علم کے ہیں۔ علامت کی جمع ہیں علائم۔ شعیرہ کی جمع ہے شعائر۔ اب علامت کون ہوتی ہے؟ جو جانا پہچانا لفظ ہے، اُسے دیکھیں ۔ شعیرہ ہوتی ہے علامت۔ شعائر یعنی علائم۔ اب علامت کون ہوتی ہے؟ علامت وہ ہوتی ہے جس کے ذریعہ سے ذہن کسی اور کی طرف جائے۔
اب نئے دور کی مثال دے دوں۔ تھرمامیٹر میں پارے کو دیکھا کس نقطے پر ہے؟ کہا کہ اسے اتنا بخار ہے۔ تو اس کا بخار اس تھرمامیٹر میں نہیں آیاہے۔ یہ اس کی علامت ہے، پارے کا وہاں پہنچنا، یہ علامت ہے اس بخار کی۔پرانے زمانے میں حکماء نبض دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ اتنا بخار ہے۔ تو نبض میں بھی اس کا بخار نہیں آتا تھا۔جیسے پارے کے چڑھنے میں ذہن منتقل ہوا بخار کی طرف، اسی طرح نبض کی تیزی نے بخار کا پتہ دیا۔ وہ اسے سمجھتے تھے نبض سے۔ یہ اس کو دیکھتے ہیں تھرمامیٹر میں پارے کی رفتار سے۔اب رفتار کی یہاں ایک اور بات یاد آئی ہے۔ دنیا والے کہتے ہیں کہ ہم کسی چیز کو بغیر دیکھے نہیں مانتے۔ میں کہتا ہوں کہ کس چیز کو آپ دیکھ کر مانتے ہیں؟ بخار کو آپ دیکھتے ہیں جو مانتے ہیں؟ دیکھتے تو پارے کو ہیں اور رائے قائم کرتے ہیں بخار کی۔ اسی طرح دنیا میں آجکل جتنے ذرائع ہیں کسی چیز کو سمجھنے کے۔ تو علامت کو دیکھتے ہیں۔ اب میں تواس چیز کی حقیقت سے واقف نہیں ہوں۔ مگر اخباروں سے کچھ نہ کچھ ذہن میں آیا کہ وہ ہوائی جہاز جو بھیجے گئے ہیں، جن پر بہت سی دنیا احتجاج کررہی ہے تو دشمن کا ہوائی جہاز دکھائی تو نہیں دیتا۔ اس کے اڑنے کی کچھ علامت ہے جو اس میں نمودار ہوتی ہے۔ اس علامت کو دیکھ کر جو چیز نہیں دیکھی، اس کے متعلق رائے قائم کرتے ہیں کہ دشمن کا جہاز اڑا۔ تو دیکھتے نہیں ہیں، بے دیکھے علامات کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ تو میں کہتا ہوں کہ خدا کو بے دیکھے مانئے۔ آفتاب کو دیکھئے ، اُسے مانئے۔ چاند کو دیکھئے، اُسے مانئے۔ کائنات کو دیکھئے، اُسے مانئے۔ میں بھی کہتا ہوں کہ اثر کو دیکھئے ، موٴثر کو مانئے اور اس کے بعد اب ایک او رمنزل ہے۔ میں یہیں سے اس کو عرض کروں گا کہ قرآن مجید میں ہے :
”مَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبُھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ“۔
رسول سے کہا گیا ، قرآن کی آیت ہے کہ”اللہ ان پر عذاب عام نہیں کرے گا“۔
یعنی جیسے دنیا کی قومیں تہس نہس ہوئیں، برباد ہوئیں،، اس طرح یہ قوم برباد نہیں ہوگی، درآں حالیکہ آپ اس میں ہیں۔قرآن نے کہا ہے کہ آپ کے وجود کا اثر ہے کہ یہ قوم قائم ہے۔ اب اگر دکھائی دیتا ہو کہ آج بھی قائم ہے تو سمجھ لیجئے کہ رسول کا کوئی جزو برقرار ہے۔
تو حضورِوالا!علامت، جس کو دیکھ کرکسی طرف ذہن جائے تو وہ اس شے کی علامت۔ تو اب اللہ کے شعائر کون ہوں گے جن کو دیکھ کر ذہن اس کی طرف جائے۔وہ اس کی علامت ہوں گے تو جن جن چیزوں کی نسبت اس کی طرف قائم ہے، اس نسبت کی وجہ سے۔ ان کو دیکھنے سے ذہن اس کی طرف جاتا ہے ، مثلاً اپنے گھر کو دیکھیں گے تو خدا یاد نہیں آئے گا۔ لیکن اگر خانہٴ کعبہ جائیں گے۔ کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: خانہٴ خدا۔ اللہ کا گھر۔ قرآن نے کہا: بیت اللہ۔ تو اللہ کا گھر۔ جب کہا خانہٴ خدا، بیت اللہ ، تو ذہن کس کی طرف گیا؟خدا کی طرف۔
لہٰذا کعبہ ہوا شعائر اللہ میں۔ یہ ان علامتوں میں سے ہوا جو ذہن کو اللہ کی طرف لے جاتی ہیں۔ اب اسی بیت اللہ کا ترجمہ ہے
خانہٴ خدا اور اس میں تو اس دنیا کا آدمی نہیں ہوں۔ مگر اخباروں میں بہت شور تھا کہ ایک فلم آئی ہے خانہٴ کعبہ۔ ہندوستان میں آئی تھی۔ یہاں بھی آئی ہوگی۔ وہ خانہٴ خدا فلم تھی۔ اس میں جناب حج کے مناظردکھائے گئے تھے۔بیت اللہ کا ترجمہ خانہٴ خدا کیا اور فلم کا نام رکھ دیا۔ تو اب کسی فلم کے دیکھنے پر کبھی علماء کا جلسہ نہیں ہوا۔ مگر وہ فلم جو آئی تو بڑی بڑی کانفرنسیں علماء کی ہمارے ہوئیں۔ اب مجھے ذرا تعجب ہوا کہ صاحب! کبھی کسی فلم پر تو احتجاج نہیں ہوا۔ شرعاً تو علماء کسی فلم سے راضی نہیں تھے۔تو اس سے پہلے کبھی کسی فلم پر اعتراض نہیں ہوا۔ یہ آخر اس کے خلاف کیوں احتجاج ہورہا ہے۔ تو میں نے دریافت کیالوگوں سے کہ اس فلم میں کیا بات ہے؟ تو معلوم ہوا کہ اس میںآ لِ رسول کا ذکر ذرا زیادہ ہے اور ہماری نماز ، ہماری جماعت اور ہمارے بہت سے طریقے اس میں نظر آتے ہیں۔
تو اب پتہ چلا کہ یہ احتجاج ہورہا ہے کہ جنہیں ہم دنیا کے ذہنوں سے بھلا دینا چاہتے تھے، یہ فلم انہیں یاد دلاتی ہے۔ یہ احتجاج اس پر ہورہا ہے۔ اب میں نے لوگوں سے اس فلم کی اور خصوصیات دریافت کیں تو لوگوں نے کہ کہا کہ نہیں، اس میں تو گانا بجانا بھی بہت کم ہے۔ مہملات جو فلموں میں ہوا کرتے ہیںِ وہ تو اس میں تقریباً بالکل نہیں ہیں اوربس یہی ہیں۔ تو میں سمجھ گیا کہ بس اسی سے ناراضگی ہے۔
اب جناب! چونکہ بات بہت چل گئی ہے۔ ہمارے پاس بھی سوالات آنے لگے استفتاء کے کہ صاحب! فلم خانہٴ خدا کا دیکھنا جائز ہے یا نہیں؟ اب ان سوال کرنے والوں پر بھی ہنسی آئی کہ کسی اور فلم کے دیکھنے کو کبھی نہیں پوچھا۔ ہمیشہ شوقیہ جاتے اور دیکھتے۔ مگر اس فلم کے بارے میں پوچھ رہے ہیں کہ جائز ہے یا نہیں۔ تو میں آزادی سے یہ لکھ کر دیتا کہ فلم جائز ہے، جائیے دیکھئے۔ تو وہ کہتے کہ انہوں نے فلم دیکھنے کی اجازت دے دی۔ تو اس سے فائدہ پھر اور بھی اٹھاتے کہ صاحب فلم دیکھنا جائز ہے۔ان کا فتویٰ موجود ہے۔
غلط فائدے بھی تواٹھائے جاتے ہیں۔ غلط استعمال ہوتا ہے فتوے کا۔ تو میں نے یہ لکھا جواب میں کہ جو شخص فلم دیکھنے کا عادی نہیں ہے، اس کیلئے بہتر ہے کہ اسے بھی نہ دیکھئے اور جو فلم دیکھنے کا عادی ہے، اس کیلئے بہتر یہ ہے کہ اس کو بھی دیکھے۔
تو اب خانہٴ خدا جب کہا تو خدا کا تصور لازماً ہوا یا نہیں ہوا؟ اور بیت اللہ تو وہی ہے بنص قرآن۔ مگر ہم اپنے ہاں کی مسجد کو بھی خانہٴ خد اکہتے ہیں۔ خانہٴ خدا کا جو محاورہ ہے، وہ مکہ والے کعبہ کیلئے نہیں ہے بلکہ اپنے ہاں کی مسجد کو بھی خانہٴ خدا کہتے ہیں۔
اب میں ایک طبقہ سے پوچھوں گا کہ وہ ہے بیت اللہ اور یہ بھی ہے خانہٴ خدا تو اس میں کونسی بات درست ہے؟ وہ بیت اللہ ہے، یہ خانہٴ خدا ہے اور اسی بیت اللہ کا ترجمہ خانہٴ خدا ہے۔ اسی خانہٴ خدا کی عربی بنائیے تو بیت اللہ ہے۔ تو اب میں لفظ بدل کر کہتا ہوں کہ یہ مسجد بیت اللہ ہے یا نہیں؟ تو وہ کہیں گے کہ عربی کے لحاظ سے تو بیت اللہ ہے۔ اگر ذرا سی بھی عربی جانتے ہوئے تو کہیں گے کہ ہاں خانہٴ خدا ہے۔ اس کے معنی ہوئے کہ بیت اللہ۔ تومیں کہوں گا کہ پھر اتنی دور جانے کی کیا ضرورت ہے؟ اسی کا حج کر لیجئے۔تو وہ کہیں گے کہ نہیں صاحب! حج تو وہیں ہوگا ، یہاں نہیں ہوگا۔میں کہوں گا ، پھر نہیں ہے بیت اللہ۔کھل کر کہہ دیجئے کہ جیسے ہمارا گھر، ویسے وہ بھی ہم نے بنوایا۔ یہ بھی ہم نے بنوایا تو یہ بیت اللہ نہیں ہے۔ آپ نے کہہ دیا کہ نہیں ہے۔ تو جب نہیں ہے تو نجاست اس کے اندر لے جائیے۔ ارے وہ کسی ایک میں اختلاف ہے کہ نجس ہے کہ نہیں۔ اُسے لے گئے ہوں کبھی معلوم ہے لیکن یہ کہ جسے سب نجس سمجھتے ہیں، اُسے تو کوئی نہیں لے جائے گاورنہ یہ ہمارے ہاں ہندوستان میں ابھی ابھی فساد ہوا تھا ، وہ کس چیز پر ہوا تھا۔ ارے ایک جانور ہے جسے سب نجس سمجھتے ہیں، وہ آگیا تھا مسجد میں۔
تو ایک جانورکے چلے جانے سے کتنے آدمیوں کی جان چلی گئی۔ معلوم ہوا کہ جو نجاست ہے، وہ مسجد میں نہیں آسکتی۔تو یہ کیوں؟ اگر یہ نہیں ہے بیت اللہ ، عام گھر ہے تو پھر یہ کیوں؟ آپ کے گھرمیں آجاتا تو خونریزی نہ ہوتی اور مسجد کے اندر آگیا تو خون بہہ گئے۔یہ آخر کیا ہے؟ تو اب اگر ذرا بھی سمجھ ہے تو میری بات کا صرف ایک جواب ہوسکتا ہے کہ اصل بیت اللہ تو وہی ے، خانہٴ کعبہ، مگر یہ بھی گویا اس کی نقلیں ہیں، اس کی شبیہات ہیں جو ہر جگہ ہیں۔ وہ اصل جو ہے، وہ ابراہیم و اسماعیل انبیاء نے بنایا تھا۔ اسے ہم خود بنالیتے ہیں مگر چونکہ بحیثیت
خانہٴ خدا بناتے ہیں، تو احترام اس کا بھی ہے کیونکہ وہ اصل ہے ،لہٰذا یہ نقل۔اس لئے پورے احکام تو اس کے اس پر جاری نہیں ہیں۔ حج تو اس کا نہیں ہوسکتا لیکن طہارت کی ضرورت یہاں بھی ہے۔ نجاست کا لانا بھی ناجائز ہے۔
بس میں کہوں گا کہ اسے یاد رکھئے کہ کچھ اصل ہوتی ہے، کچھ نقلیں ہوتی ہیں۔ اصل احکام جو ہیں، وہ اصل ہی پر جاری ہوتے ہیں مگر وہ نقل بھی قابل احترام ہوتی ہے۔ہمیں بھی معلوم ہے کہ کربلا سرزمین عراق پر ہی ہے ، اس لئے زیارت کا ثواب ہمیں وہاں جاکر ملے گا لیکن کوئی بھی عمارت بنامِ کربلا بن گئی ہے تو احترام اس کا بھی ہے اور وہ جو شبیہات ہم بناتے ہیں، اس میں اب یہ نہ کہئے گا کہ ارے خود ہی تو بنائی ہیں۔ کاغذ ہیں اور کھپچیاں ہیں اور یہ ہے اور وہ ہے۔ اس کا نام رکھ لیا تعزیہ اور اس کا نام ضریح رکھ لیا۔تو خود ہی تو ابھی بنایا ہے اور خود ہی
اُسے مرکز تعظیم سمجھنے لگے کہ اس کا احترام کرنا چاہئے۔ خلافِ احترام کوئی بات نہیں ہونی چاہئے۔ اب ہمارے چڑانے کو اس کو پوجنا کہنے لگے۔ورنہ کون جاہل ہے جو کہے کہ میں تعزیے کو پوجتا ہوں۔ جو کہے گا، وہ کہے گا کہ احترام کرتا ہوں، تعظیم و تکریم کرتا ہوں۔ عبادت کوئی نہیں کہے گاکہ میں عبادت کرتا ہوں۔ عبادت کرے تو کافر۔ وہ چاہے اپنے بنائے ہوئے نہیں، خدا کے بنائے ہوئے کسی آدمی کی عبادت کرے تو کافر۔عبادت تو خالق سے خاص ہے۔ مخلوق جو بھی ہو، چاہے اُسی کی مخلوق ہو، عبادت اس کی بھی نہیں ہے۔ تو اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے کی عبادت کیا ہوگی؟
عبادت کسی کیلئے نہیں ہے۔ مگر یہ کہنے سے احترام ختم نہیں ہوگا کہ ہم ہی نے تو بنایا ہے۔ قرآن بھی تو ہم لکھتے ہیں۔مسجد بھی تو ہم بناتے ہیں۔ ہمارے بنانے سے اس کا احترام ختم نہیں ہوگا۔یہ دیکھئے کہ ہم نے کس نیت سے بنایا ہے۔ ایک لفظ بھی اگر ہم نے اپنی تقریر کی روانی میں کہا جو قرآن میں بھی ہے اتفاق سے، تو وہ لکھا جائے تو وہ قرآن نہیں ہوگا۔ اس کا چھونا بلاوضو جائز ہوگا لیکن وہی لفظ اگر قرآن کے قصد سے لکھ دیا گیا تو پھر بغیر وضو چھونا حرام۔
تو معلوم ہوا کہ حقیقت ایک ہے مگر قصد کے بدلنے سے احکام بدلتے ہیں۔ تو اسی طرح سے یہ بھی بات ہے کہ گھر بھی میں بناتا ہوں مگر اس نیت سے کہ میرا گھر ہے۔مسجد بھی میں بناتا ہوں مگر اس نیت سے یہ خانہٴ خدا ہے۔ اب اس کا احترام ہے۔ فقہ اسلام کی رو سے اس کا احترام واجب ہے۔اس لئے نہیں واجب کہ میں نے بنایا ہے، اس لئے واجب ہے کہ خانہٴ خدا ہے،چونکہ میں نے خانہٴ خدا کے قصد سے بنایا ہے۔ تو اسی طرح سے یہ کہنا بے معنی ہے کہ تعزیہ تم ہی تو بناتے ہو ، ضریح تم ہی تو بناتے ہو ، تابوت تم ہی تو بناتے ہو،خود ہی بناتے ہو اور خود ہی تعظیم کرتے ہو۔تو ہاں! چونکہ بنایا ہے، روضہٴ مقدس کی شبیہ کے قصد سے ،عَلَمِ اسلام کی شبیہ کے قصد سے بنایا ہے، اس لئے اس کا احترام۔ تو ہمارے بنانے سے یہ نہیں ہوگا کہ اس کااحترام ختم ہوجائے۔ تو اب کعبہ بیت اللہ ، اس کی تعظیم ، اس کا احترام بلکہ اس کی طرف رُخ کرکے نماز بنص قرآن اور یہ اجماعِ اہل اسلام جزوِ شریعت۔ یہ اللہ کا گھر ہے۔ یہ ایک دن کسی مجلس میں کہہ چکا ہوں کہ کیا اللہ اس گھرمیں رہتا ہے؟ سکونت تو کوئی نہیں رکھتا۔ کوئی قائل نہیں کہ اللہ اس میں سکونت رکھتا ہے۔ تو پھر کیا نسبت ہے ؟ جیسے مہینے سب اس کے ہیں مگر ایک مہینے کو کہہ دیا ”شہراللہ“، اللہ کا مہینہ۔ وہ ہے ماہِ رمضان۔
اسی طرح گھر بھی اس کا ہے۔ جب ہم اس کے ہیں تو کیا ہمارا گھر اس کا نہیں ہے؟ اور پھر ہم گھر کہاں بنائیں گے؟ گھر کے اجزاء سب اس کے ہیں۔ زمین اس کی ہے، چاہے ملک ظاہر میں اس کے قانون کے مطابق کسی کا کہلائے مگر اصل میں تو سب اسی کا ہے۔ پوری زمین اللہ کی ہے۔ تو جناب! ہر چیز اسی کی ہے۔ میرا گھر بھی اس کا ہے مگر یہ کہ جسے اس نے نسبت دے دی کہ یہ میرا گھر ہے۔
”طَھِرَ بَیْتِیَ لِلطَّائِفِیْن وَالْعَاکِفِیْن وَالرُّکَّعِ السُّجُوْد“۔
ابراہیم و اسماعیل سے کہا کہ میرے گھر کو پاک۔ بس وہ موضوع عرض نہیں کرنا ہے۔ کبھی انشاء اللہ وعدہ ہے۔ اس سفر میں نہیں کرنا ہے۔ مگر ایک جزو اس کا۔ تو میں نے آیت پڑھ دی تو ترجمہ اس کا کرنا ہے۔ تو اب علمائے اسلام سے پوچھوں گا کہ”طَھِرَ بَیْتِیَ“۔
ابراہیم و اسماعیل سے کہا جارہا ہے کہ میر گھر کو ”طَھِرَ بَیْتِیَ“،مصدر اس کا تطہیر۔ اب ان سب سے پوچھوں گا کہ”طَھِرَ بَیْتِیَ“ کے معنی کیا ہیں؟ یہ کہیں گے میرے گھر کو پاک کرو۔ تو کیا نجاست تھی اس میں؟ ارے جس گھر کا معمار خلیل ہو اور بحیثیت مزدور ذبیح نے کام کیا ہو، بت بھی کبھی اور لاکر رکھے گئے، ابھی تو بتوں کا پتہ نہیں تووہاں نجاست کہاں سے آئی؟ تو ماننا پڑے گا کہ”طَھِرَ بَیْتِیَ“ ، اس کا ترجمہ کرنا پڑے گا کہ میرے گھر کو پاک رکھو۔ پاک کرو نہیں، پاک رکھو۔ میں کہوں گا کہ بس جو معنی بیت میں آیہٴ تطہیر کے لیجئے، وہی معنی اہل بیت میں آیہٴ تطہیر کے لیجئے۔
”طَھِرَ بَیْتِیَ“، تم نے معنی کہے کہ میرے گھر کو پاک رکھو تو پھر”یُطَھِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا“۔ وہاں بھی معنی یہ رکھئے کہ اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ تم کواے اہل بیت پاک رکھے۔ یہ کیوں کہتے ہو کہ پاک کرے۔ یہ کہو کہ اللہ کا ارادہ ہے کہ تم کو اے اہل بیت پاک رکھے۔ وہ آیہٴ تطہیر ہے بیت کیلئے، یہ آیہٴ تطہیر ہے اہل بیت کیلئے۔
بس ایک فرق مجھے محسوس ہوتا ہے کہ بیت کی تطہیر انبیاء کے ذمہ کردی اور اہل بیت کی تطہیراپنے ذمہ رکھی۔ بس اسی وجہ سے نتیجہ مختلف ہوگیا۔ اس کی تطہیر انبیاء کے ذمہ کردی تھی اور انبیاء اس کی تطہیر کے ذمہ دار ہوئے اور دنیا اس میں نجاست لانے پر قادر ہوئی۔ لیکن جن کی تطہیر اپنے ذمہ رکھی تھی، سلطنتوں کی طاقت ختم ہوگئی مگر ان کے دامن پر کسی قسم کا داغ نہ لگایا جاسکا۔
تو یہ میرا گھر، جس کی بناء پر آپ کہتے ہیں بیت اللہ۔یہ فقط نسبت ہی تو ہے۔ وہ جاکر وہاں رہتا نہیں ہے۔ بودوباش نہیں رکھتا اور دنیا کے ہر حصے سے دنیا کھنچ کھنچ کر آتی ہے او ریہ خدا کا وعدہ ہے کہ جو پورا ہورہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ دنیا کی آنکھوں کے سامنے جس طرح قرآن زندہ معجزہ ہے، ویسے ہی خانہٴ کعبہ کی مرجعیت بھی ، مرکزیت بھی، یہ زندہ معجزہ ہے۔ابراہیم و اسماعیل سے کہہ دیا گیا تھا ،جنابِ ابراہیم سے مخاطب ہوکر:
”رَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ“۔
”لوگوں میں حج کا اعلان کرو“۔
”اَذِّنْ“کے معنی ہیں اعلان کرنا۔ اسی سے اذان ہے۔ اذان بھی ایک اعلان ہے۔”وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ“، لوگوں میں حج کا اعلان کرو۔ اور لوگوں میں کہاں، مکہ کی سرزمین پر جو بے آب و گیاہ میدان۔ تو وہاں لوگ کہاں رہے؟ اعلان کرو لوگوں کیلئے۔مجازی جملہ ہوگا، کنایہ مگر مجھے تو اس وقت حقیقت نظر آرہا ہے ۔ صدا بصحرا پر محمول کررہا ہے مگر خود وعدہ کرتا ہے کہ تم صدا بلند کرو، پہنچانے کا میں ذمہ دار ہوں۔ اس صدا کو پہنچاؤں گا اور اپنی توحید کیلئے ذمہ داری نہیں لی ہے کہ ہر ایک مان بھی لے گا یا کسی دور میں ہر ایک مان لے گا یا اکثریت مان لے گی۔ مگر یہ جو حکم دیا دیا تھا، اس کی ذمہ داری لے لی۔
میں سوچ رہا ہوں وہ صدا بصحرا۔حضرت ابراہیم کو تصور نہ ہوتا کہ کیا فائدہ یہاں اذانِ حج دینے سے، اعلانِ حج کرنے سے؟تو ضمانت دے رہا ہے۔”یَا تُوکَ“، میں کہتا ہوں کہ آئیں گے اس آواز پر اور حال کیلئے وعدہ نہیں ہے، مستقبل کیلئے ”یَا تُوکَ“، آئیں گے تمہاری آواز پر۔”رِجَالًا“، پاپیادہ بھی آئیں گے۔”وکل علی ضامر“اور ہر دبلے پتلے جانور پر آئیں گے۔ ماشاء اللہ تعلیم یافتہ افراد ہیں، صاحبانِ فہم ہیں، صاحبانِ علم ہیں، تو وہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ دبلے پتلے سے کوئی محبت ہے۔ عرب میں دبلا پتلا ہونا گھوڑے کی تیز رفتاری کی علامت تھا۔ جب گھڑ دوڑ ہوتی تھی تو بھوکا رکھا جاتا تھا گھوڑوں کو او رجہاں مشق کروائی جاتی تھی، اس میدان کا نام تھا”مضمار“ یعنی دبلا کرنے کی جگہ۔ تو یہ دبلا ہونا تیز رفتاری کا کنایہ ہے۔
اب میں کہتا ہوں کہ یہ اجمالِ قرآنی کہ ہر تیز رفتار سواری پر۔ اب جتنا ارتقائے زمانی کے ساتھ تیز رفتاری کی منازل بڑھتی جائیں گی، وہ سب قرآن کی آواز کی تصدیق ہے۔ہر تیز رفتار سواری پر۔ اب موٹرپر سوار ہوئے تو وہ وعدئہ قرآنی کی تکمیل کا ایک درجہ۔ ریل پر سوار ہوئے تو وہ ا س کے وعدہ کا ایک درجہ۔ اب دنیا سوچتی رہے، یہ سواریاں نئی ہیں تو بدعت۔ میں کہوں گا کہ اعلانِ قرآنی کی تصدیق ہے تو عبادت۔ شکل نہ دیکھئے کہ نئی ہے۔ یہ دیکھئے کہ کام وہ ہے یا نہیں؟ تو کہاں تھا کہ ہر تیز رفتار مرکب پر آئیں گے۔ اب یہ تیز رفتاری میں جتنی زیادتی ہو، اتنا ہی سمجھئے کہ اعلانِ قرآنی کی تصدیق ہے۔
ہمارے ہاں تو مجاز تھا، اس وقت تو یہ حقیقت ہے کہ دنیا اُڑ اُڑ کر جارہی ے۔ پرواز کرکے جارہی ہے تو یہ کہہ دیا گیا تھا کہ یہ سب آئیں گے۔ بحمدللہ حجاج کی تعداد جو اخبار میں آتی ہے۔ وہ لاکھوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ تو یہ سب جو جاتے ہیں، تو میں کہتا ہوں کہ کیوں جارہے ہیں؟ کس لئے جارہے ہیں؟ وہاں جاکر کسی کی زیارت ہوگی، وہاں جاکر کسی کی قدم بوسی ہوگی، وہاں جاکر کسی کے دست ِحق پر بوسہ دیں گے۔ایک مکانِ بے مکیں۔ ایسا گھر جس میں رہنے والا کوئی نہیں۔ یہ تمام دنیا جاتی ہے اس مکان کیلئے ۔ تو کیا ہوتا ہے؟ صرف ایک شب کا اعزاز ، صرف ایک شب کا احترام۔ ہمارا ہمدرد بن کر بھی ہمیں بہت سمجھایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں دیکھو! یہ جو سب کچھ تم کرتے ہوتو بہت دولت تمہاری جیبوں سے خرچ ہوجاتی ہے، بیکار، یہ اتنی دولت تم تعمیری کاموں میں لگاؤ۔ادارے قائم کرو او رجو کام کی باتیں ہیں، وہ کرو۔ یہ بیکار اتنی دولت تمہاری جیب سے چلی جاتی ہے۔
میں اس دنیا سے کہتا ہوں کہ یہ جتنی دولت ہمارے ہاں ہر جگہ صرف ہوتی ہے ، کیا وہ اس کے برابر ہے جتنی تمام مسلمانوں کی جیبوں سے دولت صرف ہوجاتی ہے، ہر سال حج کو جاتے ہیں اور وہاں جاکر کیا ملتا ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ نسبتوں کے اعزاز میں معاشی پہلوؤں پر نظر نہیں کرنا چاہئے۔میں کہتا ہوں کہ کچھ نہیں ملتا۔ مگر یہی کیا کم ہے کہ ہم وفادار بندے ثابت ہوتے ہیں۔ فرض کیجئے کہ جس جس چیز پر ہم پیسہ صرف کرتے ہیں، آپ کا دل دکھتا ہے، آپ ہمارے بڑے خیر خواہ ہیں۔ ہمیں خیر خواہی کا پتہ تاریخ سے معلوم ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ ہم چاہے کتنے ہی سادہ لوح ہوں، کند ذہن ہوں، ہم افادیت اپنے ان شعائر کی نہ سمجھیں مگر آپ کی مخالفت سے ہم سمجھ رہے ہیں کہ یہ ہماری زندگی کیلئے کوئی ضروری چیز ہے۔
تو جناب! یہ تمام دولت جو صرف ہوتی ہے، ایک ایسے گھر کو دیکھنے پر جہاں رہتا کوئی نہیں۔ اس کے بعد خیر یہیں تک غنیمت۔لیکن یہ دسویں ذی الحجہ کو عوام منیٰ میں قربانی بھی کرتے ہیں۔ ارے صاحب! حج تو کرلیا، اتنا روپیہ آپ نے صرف کردیا۔ اب یہ ایک بیچارے کی جان بھی لیں اور اپنا پیسہ بھی صر ف کریں۔ آجکل تو حقوقِ حیوانات کیلئے ادارے قائم ہیں، وہ بھی فریادکریں اور آپ بھی مل کر فریاد کریں کہ یہ ایک جانور کی جان بھی جاتی ہے اور ہماری جیب سے روپیہ بھی جاتا ہے۔ تو یہ کتنا پیسہ اس کے خون کے ساتھ زمین پر بہہ جاتا ہے۔
مگر کیا کیا جائے کہ کسی فقہ اسلام کی رو سے اگر حج کرنا ہے تو پھر یہ قربانی بھی کرنا ہے۔ اور میں کہتا ہوں کہ ذرا غو رکیجئے کہ یہ قربانی ہے کیا؟ وہاں تو میں نے کہا تھا کہ ایک نسبت کا احترام ہے، وہ خدا کی طرف کی نص ہے مگر یہ قربانی آخر کیا ہے؟ اور پھر وہ بھی منیٰ میں ہو اور پھر دس ذی الحجہ کو ہو۔
پتہ چلتا ہے کہ یہ اس کے خلیل کی جو قربانی تھی، اُس کی یاد ہے۔ اب یہ اللہ کی یاد نہیں۔ خاص براہِ راست اس کے خلیل کی یاد ہے۔ چونکہ دس ذی الحجہ کو انہوں نے اپنے فرزند کو حکم الٰہی سے ذبح کرنا چاہا تھا تو اب قیامت تک کے مسلمانوں کو حکم ہوگیا اور وہاں تو حج میں واجب ہے۔ لیکن جو حج کو نہیں گئے، تو اپنے اپنے گھروں پر۔ وہ بھی سنت۔ اور پھر اس کے مسلمان ایسے پابند کہ بہت سے واجبات چھوڑ دیں گے مگر اس قربانی کو ضرور کریں گے۔
تو صاحب! اب دیکھئے کہ کتنی دولت جیب سے جارہی ہے اس قربانی کے حکم کی بدولت۔وہ حج کا جزو، جو قربانی ہے، وہ بھی او ریہ جو بقرعید پر اپنے اپنے گھر میں قربانی کرتے ہیں، وہ بھی۔ اس میں کتنی دولت چلی جاتی ہے اور یہ قربانی ہے کیا؟ چونکہ خلیل اللہ نے قربانی کی تھی،تو اب نہ خلیل اللہ ہیں، نہ وہ قربانی اس وقت ہے۔یہ یادگار ہی تو ہے۔ یہ خلیل اللہ کی یادگار میں اتنی قربانیاں اسی تاریخ میں ہوجاتی ہیں۔ اور اب میں آپ سے پوچھوں گا کہ ذرا غور کیجئے۔ ہر نقطہ نظر کے مسلمان کی متفقہ روایت کہ کیا واقعہ وہ قربانی عمل میںآ گئی تھی؟ ہر مسلمان جانتا ہے کہ وہ قربانی عمل میں نہیں آئی۔ بعد میں فدیہ آگیا تو بس ٹھنڈے دل سے غور کیجئے ، ہر مسلمان جو رسول کو مانتا ہے، وہ غور کرے کہ سابق دَور کے رسول کی ملتوی شدہ قربانی تو یاد رکھنے کے قابل ہو اور اپنے رسول کے گھر کی وقوع میںآ ئی ہوئی قربانی ، وہ فراموش کرنے کے قابل ہو۔
ارے میں کہتا ہوں کہ ایک ہی مہینے کا فرق ہے۔ وہ قربانی دس ذی الحجہ کو ، یہ قربانی دس محرم کو۔ اس قربانی کی یادگار پر اتنا زور دیتا ہے اور اس قربانی کے خلاف فتوے دیتا ہے۔ آخر اس کی یادگار نے کیا قصور کیا ؟ اب یہ دیکھئے کہ حسین کی قربانی اور ابراہیم کی قربانی۔ادھر سے ابراہیم کی قربانی پہلے اور حسین کی قربانی بعد میں۔یوں کہہ دیجئے ، ان میں اتنا بڑا فرق ہے ، وہاں ابراہیم کا کردار اور ہے، اسماعیل کا کردار اور ہے۔ ابراہیم کا کردا رہے قربانی کرنا اور اسماعیل کا کردا رہے قربان ہونا۔ اور کربلا میں حسین بیک وقت واحد خلیل بھی ہیں اور ذبیح بھی۔
یہ ذبیح ہیں رسول اللہ کی نسبت سے اور خلیل ہیں علی اکبر و علی اصغر اور سب قربانیوں کے لحاظ سے جو انہوں نے پیش کیں۔تو یہ اہمیت ہے اس قربانی کی۔
اب یہاں سے ایک سوال کا میں جواب دوں، دنیا کہتی ہے کہ ہاں صاحب! یادگار قائم کی جائے مگر غم کیوں کیا جائے؟ ارے اونچے درجہ پر فائز ہوئے شہادت کے تو اس پر خوش ہونا چاہئے۔ یہ غم کیوں کیا جائے؟ میں کہتا ہوں اصول بدلتا نہیں ہے۔ نتیجہ دیکھئے ، اسماعیل کی قربانی اور حسین کی قربانی میں فر ق ہے۔پہلے جو منطقی صورت ہے، وہ عرض کروں، پھر تشریح کروں گا۔ ماشاء اللہ اربابِ فہم تو اُسی سے سمجھ جائیں گے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر روزِ عید ِقرباں غم کیا جاتا، مسلمانوں میں تو پھر ہم عاشور کے دن خوشی کرتے۔ مگر روزِ قربانیِ اسماعیل عید ہے۔ نئے کپڑے پہنے جاتے ہیں، عیدیں ملی جاتی ہیں۔ تو میں کہتا ہوں کہ یہ عید کس چیز کی ہے؟ اب مصائب کے انداز میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ
عید کس چیز کی ہے؟ اس کی ہے کہ نبی زادہ بچ گیا۔ تو عاشور کے دن غم کیجئے کہ رسول زادہ قتل ہوگیا۔اور رسول زادہ نہیں، ارے پیغمبر کا پورا گھر لوٹ لیا گیا۔ پورا باغ قطع کرلیا گیا۔
بس ہوسکتا تھا کہ میں یہیں مصائب عرض کروں مگر ایک ضروری پہلو اور عرض کرنا ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر یہ روزِ عید ِقرباں یاد رکھنا ہے تو مسلمان جمع ہوتے ، تذکرئہ قربانیِ اسماعیل ہوجاتا۔ جن قرآنی آیت میں یہ ذکر ہے، ان کی تلاوت ہوجاتی۔ خطبہ عید الاضحی میں وہ آیتیں پڑھی جاتی ہیں جن میں ذکر قربانی ہے۔ یہ کافی تھا لیکن آخر یہ اتنے جانور کیوں ذبح کئے جاتے ہیں؟ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ لفظی تذکرہ کا ذہن پر اتنا اثر نہیں پڑتا جتنا اثر عملی شبیہ کا پڑتا ہے۔تو جس شرع نے یہ حکم دیا ہے، اُسی اصول پر آپ قائم رہتے۔ پھر ہم سے نہ کہتے کہ تذکرئہ حسین میں بس مجالس کافی ہیں۔ یہ سب مظاہرات کیوں ہوتے ہیں؟ یہ سب شبیہات کیوں بنائی جاتی ہیں؟ عید ِقرباں کے دن جس لئے جتنی قربانیاں کی جاتی ہیں، وہ منیٰ میں جزوِ حج کی حیثیت سے۔
بس اسی لئے شبیہات بنائی جاتی ہیں کہ لفظی بیان میں وہ طاقت نہیں ہے جتنی کہ شبیہ میں ہوتی ہے۔ اب ماشاء اللہ اس سوال کا جواب تو ہوگیا ۔ آپ حضرات مطمئن ہوگئے۔ اب آخر میں ایک پہلو کی طرف توجہ دلاؤں گا کہ یہ شبیہ کس چیز کی ہے؟ کس کی شبیہ ہے؟ یہ رواروی میں کہہ دیجئے گا کہ جنابِ اسماعیل کی۔میں کہوں گا کہ ذرا غور کر کے بتائیے کہ یہ شبیہ جنابِ اسماعیل کی ہے؟وہ تو ذبح نہیں ہوئے، پھر یہ شبیہ کس کی ہے؟ اگر غور کیجئے تو یہ جنابِ اسماعیل کی شبیہ نہیں ہے،یہ اُس گوسفند کی شبیہ ہے جو جنابِ اسماعیل کے بدلہ میں آیا۔وہی تو ذبح ہوا تھا۔
تو بس ایک اصول یاد رکھئے کہ اگر جانور بھی نبی زادے کے کام آئے تو وہ یاد رکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ اب اگر ہم ذوالجناح نکالیں تو نہ کہئے گا کہ اس کے کیا معنی ہیں؟ ہم وفادار ہیں، ہم اُس جانور کو بھی یاد رکھتے ہیں جو آلِ رسول کے کام آیا۔ اب انسان اگر نہ کام آئے ہوں اس وقت پر تو ہم انسانوں کو بھول جائیں گے مگر اس جانور کو یاد رکھیں گے جو آلِ رسول کے کام آیا۔ ذوالجناح نے کس نازک وقت پر حسین کا ساتھ دیا۔