معراج خطابت
 
شعائرِ الٰہیہ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَاللّٰہِ فَاِنَّھَامِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب“۔
ارشادِحضرتِ احدیت ہے، سورئہ حج میں ارشاد ہوا کہ جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے، تو یہ عمل دلوں کی پرہیزگاری کا ایک جزو ہے۔ ابھی فرض کیجئے کہ اللہ کے شعائر کے معنی معلوم نہ ہوں کیونکہ شعائر کا لفظ ان عربی الفاظ میں سے نہیں ہے جو اُردو کا جزو بن گئے ہیں۔ بہت سے عربی کے الفاظ اُردو میں اس طرح استعمال ہوتے ہیں جیسے اصلاً وہ اُردو ہوں مگر شعائر کا لفظ ایسا ہے جو بس مجالس وغیرہ میں اور اہل علم سے سنا ہوگا۔عام طور پر اردو میں استعمال نہیں ہوتا۔ تو ہوسکتا ہے کہ کوئی اس ترجمہ سے شعائر کے معنی نہ سمجھے۔ میں بھی اسے شاید آج بیان نہیں کروں گا، کل اس کی نوبت آئے گی کہ میں شعائر کے مفہوم کی تشریح کروں ۔ مگر جب یہ الفاظ سنے کہ جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے، تو یہ عمل تقویٰ و پرہیزگاری کا جزو ہے، تو اسی سے ہر صاحب ِفہم مسلمان کو یہ نتیجہ نکال لینا چاہئے کہ تعظیم میں عبادت نہیں ہے، اس لئے کہ عبادت کیلئے کہا گیا ہے :
”لَا تَعْبُدُ وْااِلَّااِیَّاہُ“۔
”سوا اللہ کے کسی اور کی عبادت کبھی نہ کرنا“۔
اور تعظیم کیلئے کہاجارہا ہے کہ اللہ کے شعائر کی تعظیم تقویٰ کا جزو ہے۔ اور یہ ہر زبان کے لحاظ سے صاف ظاہر ہے کہ اضافت جس سے اُردو میں”کا، کے اور کی“ پیدا ہوتے ہیں، یہ اضافت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ تو وہ اضافت خود پتہ دیتی ہے کہ مضاف اور ہے اور مضاف علیہ اور ہے۔ میں کہوں میرا لباس تو میں اور ہوں ، لباس اور ہے۔ میرا مکان تو میں اور ہوں ، مکان اور ہے۔ میرا عزیز، میں اور ہوں، عزیز اور ہے۔ اور یہاں میرے بھی نہیں۔ میرے یعنی اللہ کے شعائر تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے، شعائر اس کے ایک سے زیادہ ہیں۔ بہرحال وہ چاہے دوچار ہوں، چاہے دس بیس ہوں، چاہے سو پچاس ہوں ، لیکن ایک سے بہرحال زیادہ ہیں جبھی تو جمع ہیں۔
تو جب یہ کہا گیا کہ جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تعظیم اللہ سے مخصوص نہیں ہے، عبادت اللہ سے مخصوص ہے۔تو جو مخصوص ہو اللہ سے، وہ اور چیز ہے ، جو عام چیز ہے۔ اللہ کے سوا بھی ہوسکتی ہے اور اس سے الگ چیز ہے تو عبادت کیلئے قرآن میں نہیں آسکتا کہ اللہ کے سواکسی اور کی عبادت کرو کیونکہ غیر اللہ کی عبادت شرک ہے اور شرک کیلئے کہا گیا ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ تو اللہ شرک کا نہ حکم دے گا، نہ شرک کی اجازت دے گا۔ اللہ اپنے بندوں کے کفر سے راضی نہیں ہے تو شرک سے کہاں راضی ہوگا؟یعنی اللہ کے سوا کسی کی عبادت کی دعوت تو دی ہی نہیں جاسکتی۔ مگر اللہ کے سوا اور کچھ ہے۔
میں نے ابھی کہا کہ شعائر کے معنی نہیں معلوم، تو اللہ کے سوا کچھ چیزیں ہیں کہ جن کی تعظیم کو اس نے جزوِ تقویٰ کہا ہے۔ تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہر قسم کی تعظیم کو شرک سمجھنا غلط ہے۔ ادھر کسی چیز کی تعظیم ہوئی اور کہا کہ یہ شرک ہے۔اسے میں فطرت کے تقاضے پر بھی جانچنا چاہتا ہوں۔ فطرت کسی مذہب کی بھی ملک نہیں ہے۔ پھر قرآن کے معیار پر جانچنا چاہتا ہوں جو تمام مسلمانوں کی مشترک ہے، ایک مرکز ہے۔پھر حدیث کے معیار پرجانچنا چاہتا ہوں۔ حدیث میں کچھ متفق علیہ ہیں، کچھ مختلف بھی ہوسکتی ہیں۔ مگر قرآن کا تو کوئی جزو ایسا نہیں جس میں اختلاف ہو۔ مفہوم میں اختلا ف ہو وہ اور بات ہے ۔ اصل قرآن کی آیت میں کسی مسلمان کو یہ حق نہیں کہ وہ اُسے(معاذاللہ) غیر معتبر کہے۔
تو اب پہلے فطرت کے تقاضے پر غور کیجئے کہ کیا تعظیم شرک ہے؟ تعظیم کا مطلب کیا ہوتاہے؟ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہئے لیکن کسی ایک کے ساتھ ایسا برتاؤ کہ جو اس کے امتیاز کا، بلندی کا، بزرگی کا پتہ دے تو وہ تعظیم ہے۔ اب کوئی ادنیٰ درجہ کی تعظیم ہوگی، کوئی اعلیٰ درجہ کی تعظیم ہوگی۔ ادنیٰ درجہ کی تعظیم ہے تو چھوٹا شرک ہوگا۔ اونچے درجہ کی تعظیم ہے تو بڑا شرک ہوگا۔ لیکن شرک تو پھر ہر ایک کا ہوگا۔تو اب یہ اصول کہ ادھر اپنے عمل سے کسی کے ساتھ امتیاز نمایاں کیا اور بس شرک ہوگیا۔
تو اب جناب! جو صاحب جس نقطہ نظر کے حامی، جس مکتب ِ خیال کے آدمی یہ کہتے ہوں کہ تعظیم مطلق تعظیم شرک، میں کہتا ہوں کہ خود ان کے گھر پر جاکر پہلے ان سے تعلقات قائم کیجئے، بلاوجہ کے مہمان ہوجائیے گا۔ان سے پہلے کچھ دوستانہ بڑھائیے، پھر جاکر ان کے ہاں مہمان ہوجائیے۔ کسی بات کے غلط ہونے کا سب سے بڑا معیار یہ ہے کہ جو اس کا علمبردار ہے، وہ خود اس پر عمل نہ کرسکے۔ جو خلافِ فطرت بات ہوگی، اس پر کوئی عمل نہیں کرسکے گا۔
تو کسی بھی شرک شرک کی آواز بلند کرنے والے کے ہاں جاکر مہمان ہوجائیے ، دوچار دن اور یہ اندازہ لگائیے کہ جس انداز سے وہ اپنے نوکر سے بات کرتا ہے، اسی انداز سے اپنے والد ماجد سے بھی بات کرتا ہے۔ اگر ذرا سا بھی اس نے فرق کیا تو وہیں سے پھر شرک شروع ہوا کیونکہ وہ فرق ظاہر ہے اظہارِ بزرگی کیلئے ہی ہوگا۔ وہ فرق احساسِ عظمت کیلئے ہی ہوگا۔ لہٰذا وہ تعظیم ہوگا اور جب تعظیم ہوگا تو شرک ہو جائے گا۔ اب یہ چیزیں رواج کے لحاظ سے بدل سکتی ہیں۔ میں یوپی کا ہوں، وہ بھی لکھنوٴ کا رہنے والا۔ یہاں مجمع میں بہرحال ، وہ ہجرت کی جو ہوا چلی تھی،اُس کے لحاظ سے بہت سے یوپی کے بھی حضرات ہوں گے اور ممکن ہے لکھنوٴ کے بھی ہوں۔ممکن ہے کچھ باتیں وہاں رائج ہوں، پنجاب میں ان پر عمل نہ ہوتا ہو مگر کچھ باتیں تو ضرور مشترک ہوں گی دونوں جگہ۔
تو حضور! میں اپنے ہاں کے جو محاورات ہیں، ان کے لحاظ سے پہلے کہوں، جس پر بہت سے یہاں کے بھی حضرات عامل ہوگئے کہ جناب کوئی چھوٹا بچہ آیا، اس سے تُو کہہ کر بات کی، اب اپنے برابر کے ساتھ کے رفیق آئے، سکول کالج کے، ان سے تم کہہ کر بات کی۔ بس ادھر تُو سے تم کی تبدیلی ہوئی اور شرک شروع ہوا۔ جب تم سے آپ ہوا تو شرک میں اضافہ ہوا اور جب جناب، قبلہ و حضرت و سرکار ہوگیا تو لیجئے شرکِ عظیم ہوگیا۔
بچہ اپنا آیا، پیر پھیلائے ہوئے لیٹے تھے ، لیٹے رہے ۔ اب آگئے اپنے بزرگوار کوئی اُستاد، ارے اُستاد نہ سہی، حاکمِ ضلع آگیا، کمشنر صاحب آگئے۔ تو اب اسی طرح لیٹے رہیں گے؟ اب اگر ان کو آتے ہوئے دیکھ کر ذرا بھی اپنی جگہ سے جنبش کی تو شرک ہوگیا۔ یہ اٹھ کے بیٹھ گئے یا کھڑے ہوگئے تو بہت بڑا شرک ہوگیا۔
تو اب دیکھنا یہ ہے کسی بھی نقطہ نظر کا آدمی، کسی بھی متمدن ماحول میں، کسی بھی مہذب فضا میں اس اصول کا پابند ہے کہ سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کرے، سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔ ذرا بھی امتیاز کسی کے ساتھ، اپنے قول و عمل میں، اندازِ گفتگو میں، طریق معاشرت میں ظاہر نہ ہونے دے تو یہ ایسی چیز ہوگی جس پر اس مہذب دنیا کا کوئی فرد عامل نہیں ہے۔ اور میں تو سمجھتا ہوں ، ہم ان میں رہے سہے نہیں ہوں، اس لئے نہیں بتاسکتے کہ شاید جنگلوں میں، پہاڑوں کے رہنے والوں میں بھی اپنے اندازِ معاشرت کے لحاظ سے کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہو، چھوٹے اور بڑے کا۔ کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہو ایسے کا جس کی نظروں میں عزت زیادہ ہو۔
اب چونکہ ہم اس معاشرت سے واقف نہیں ہیں، ہم نہیں بتا سکتے ورنہ جہاں سے شعور کی ابتداء ہوئی، وہیں سے یہ فرق مراتب لازمی طور پر پید اہوجائے گا۔تو معلوم ہوا کہ یہ ایک ایسا تصور ہے کہ مطلق تعظیم شرک ہو کہ جو دوروحشت کے ساتھ شاید سازگار ہو لیکن دورِ تہذیب و تمدن کے ساتھ یہ سازگار نہیں۔ فطرتِ بشری اور شعورِ انسانی کے تقاضوں کے خلاف ہے کہ سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کیا جائے۔
اب آئے قرآن مجید میں دیکھیں کہ قرآن مجید کیا کہہ رہا ہے ماں باپ کیلئے دیکھئے۔ آغاز وہی ہے جو خود اس اصول کو تقویت
پہنچاتا ہے:
”قَضٰی رَبُّکَ اَنْ لَا تَعْبُدُوْااِلَّا اِیَّاہُ“۔
”تمہارے لئے اللہ کا یہی فیصلہ ہے عبادت تو سوا اس کے کسی اور کی نہ کرو“۔
تو اب جو جو کہا گیا ہے، وہ عبادت تو ہے نہیں، اب اسے سمیٹ کر یوں کہا کہ تمہارے رب کا فیصلہ ہے کہ عبادت سوا اس کے کسی کی نہ کرو مگر ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ احسان کے معنی وہ نہیں ہیں کہ کسی کو اپنا ممنونِ کرم بنا کر اس کی گردن کو جھکائیں۔ احسان کے معنی ہیں اچھا سلوک، حسن عمل۔
تو والدین کے ساتھ حسن سلوک سے کام لو۔ اب یہ ان کے حسن سلوک کی اہمیت ہے کہ عبادتِ الٰہی کے بعد بلافاصلہ اس کا حکم دیا جاتا ہے۔ یعنی اب حقیقی کے بعد ذہن کو مجازی کی طرف موڑاجاتا ہے۔ دیکھو! عبادت تو بس اس کی ہے جو حقیقی ہے۔ مگر یہ ماں باپ، ان کے ساتھ حسن سلوک، مگر حسن سلوک کو مبہم نہیں چھوڑا جاتا۔
”وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرُاَحْدُھُمَااَوْکِلَا ھُمَا فَلَا تَقُلْ لَھُمَااُفٍ وَلَا تَنْھَرْھُمَاوَقُلْ لَھُمَاقَوْلًا کَرِیْمًا“۔
دیکھو! ان میں سے دونوں یا ایک کبرسنی کی منزل تک پہنچ جائیں تو ان سے اُف بھی نہ کرو۔ اب ماشاء اللہ صاحبانِ عمل ہیں او راہل فہم ہیں۔ یہ جو کہا گیا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی کبرسنی کی منزل تک پہنچ جائے ، یہ درحقیقت قید حکم نہیں ہے یعنی کوئی صاحب ہوں کہ ان کے والد صاحب ابھی بوڑھے نہیں ہوئے ہوں،بعض ہوتے ہیں کہ ابتدائے عمر میں صاحبزادے متولد ہوئے تھے، اب بعد میں اتنا فرق نمایاں نہیں ہوتا دیکھنے والے کو کہ وہ رشتہ بھی محسوس کرے کہ وہ باپ ہیں ، یہ بیٹے ہیں۔ بعض جگہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ بڑے بھائی ہیں۔ اسی طرح یہ خواتین میں زیادہ ہوتا ہے، بعض اوقات ان میں فرق اتنا کم محسوس ہوتا ہے کہ ماں بیٹی معلوم نہیں ہوتیں۔ ناواقف آدمی سمجھتا ہے کہ وہ بڑی بہن ہیں، یہ چھوٹی بہن ہیں۔ تو اب اگر ایسے صاحبان ہیں جن کے ماں باپ میں کچھ زیادہ فرق پید انہیں ہوا ہے تو وہ کہیں کہ جناب قرآن مجید میں جو کلیہ ہے، وہ تو انہیں یاد تھا کہ جو ماں باپ سن رسیدہ ہوجائیں۔ ہمارے ماں باپ یا مادرِ محترمہ تو ابھی کبرسنی کی منزل تک نہیں پہنچے ہیں تو اس لئے ہم جو چاہیں کریں۔
تو حقیقت میں یہ قید شرط نہیں ہے۔ نفسیاتی طور پر غور کیجئے کیونکہ کبر سنی میں یہ زیادہ ہوا کرتا ہے کہ ان کی باتیں تکلیف دہ ہو جائیں۔ضعیف العمری کی وجہ سے بے جا خفا بھی ہونے لگتے ہیں۔ کبر سنی کی وجہ سے بے بات کے غصہ بھی کرنے لگتے ہیں۔ یہ چونکہ انسان میں کبرسنی کی وجہ سے ہوتا ہے، تو اس لئے کہا گیا کہ اگر کبرسنی کی وجہ سے یعنی ایسی باتیں ہونے لگی ہیں کہ تمیں ناگوار گزرتی ہیں تو دیکھو، ہم جانتے ہیں کہ تمیں تکلیف پہنچتی ہے، تمہیں اذیت ہوتی ہے مگر چونکہ ماں کے ہاتھ سے ہے ، باپ کے ہاتھ سے ہے، لہٰذا خبردار! اُف بھی نہ کرو۔
اب اہل فہم غور کریں کہ اُف کہنا کوئی اذیت پہنچانا نہیں ہے۔ اپنی اذیت کااظہار ہے مگر چونکہ ماں باپ کے ہاتھ سے وہ سلوک ہورہا ہے تو اپنی اذیت کا اظہار بھی نہ کرو۔ اب اس دَور کے تعلیم یافتہ اور ترقی پسند جوانانِ روزگار غور کریں کہ وہ ماں باپ سے کس کس طرح بات کرتے ہیں۔ ایک ادنیٰ انداز تو یہ ہے ، مشاہدات میں ہر ایک کے، ایک ادنیٰ انداز یہ ہے کہ آپ ان باتوں کونہیں سمجھتے۔ ہمارے معاملات میں آپ دخل نہ دیا کیجئے۔یہ والد ماجد سے بہت ہلکی بات ہے جو کہہ دی جائے اور اس سے آگے آپ جس زمانہ کے آدمی ہیں، آپ کیا جانیں ہمارے معاملات کو؟لہٰذا آپ جو ہر چیز میں دخل دیا کرتے ہیں، یہ ٹھیک نہیں ہے۔
اور دَور تو وہ آگیا ہے کہ صاحبزادیوں کو، اگر فرض کیجئے کہ کسی کے آنے جانے کو وہ روکیں تو وہ کہہ دیتی ہیں کہ ہمارے نجی معاملات میں آپ کو دخل دینے کا حق نہیں ہے۔ تو یہ دنیا کا تقاضا جو ہے، مجھے اس سے بحث نہیں مگر قرآن تو یہ کہہ رہا ہے کہ ماں باپ سے اذیت بھی پہنچ رہی ہے، کبر سنی کی وجہ سے تو خبردار! اُف نہ کرواور ان سے جھڑک کر بات نہ کرو۔
اب یہ جھڑکنا کیا ہے؟ اس کے معنی یہ ہیں کہ الفاظ سخت نہیں ہیں، بس کہنے کا انداز سخت ہے۔ کاغذ پر وہ الفاظ آئیں توان میں کوئی برا نہیں ہے۔ مگر اندازِ گفتگو میں درشتگی ہے اور سختی ہے۔ اسے منع کیا جارہا ہے:
”لَا تَنْھَرْھُمَا“۔
”انہیں جھڑکو نہیں“۔
”وَقُلْ لَھُمَا“۔
یہ تو منفی احکام تھے اور اب اس کے مقابل میں ”قُلْ لَھُمَا قَوْلًاکَرِیْمًا“، ان سے بات کرو اس طرح جس سے ان کی بزرگی نمایاں ہوتی ہو اور دیکھو ، ان کے ساتھ عاجزی کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکائے رکھو۔ یعنی بیٹھو تو اس انداز سے کہ تمہارے بیٹھنے سے ظاہر ہو کہ چھوٹا بڑے کے سامنے بیٹھا ہے۔ ان کے ساتھ کھڑے ہو تو اس طریقہ سے کہ تمہارے کھڑے ہونے کے انداز سے پتہ چلے کہ تم اپنے کو چھوٹا سمجھتے ہو۔ ان کے ساتھ راستہ چلو تو اس طرح کہ معلوم ہو کہ چھوٹا بڑے کے ساتھ راستہ چل رہا ہے۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی نہ سمجھو کہ حق ادا ہوا، تو اب ہم سے کہو”وَقُلْ“، اور یہ کہو کہ :
”رَبِّ ارْحَمْھُمَاکَمَارَبَّیَانِیْ صَغِیْرا“۔
اور اب یہ قرآن مجید کے الفاظ کے وہ پہلو ہیں جن پر بغیر تدبر کے انسان کی توجہ نہیں ہوسکتی۔ آغاز ہوا ہے آیت کا”قَضٰی ربک“، ”قَضٰی اللّٰہُ“ نہیں کہا گیا ہے،”قَضٰی رَبُّکَ“۔ رب کے معنی ہیں تربیت کرنے والا۔ تمہارے پروردگار نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ عبادت بس اسی کی کرو مگر ماں باپ کے ساتھ یہ سلوک کرو اور جب مناجات بتائی تو کہا: اب ہم سے کہو کہ ”رَبِّ“، اے ہمارے حقیقی رب۔
بھئی یہ رب یہاں کیوں آیا؟”وَارْحَمْھُمَا“، ان پر رحمت شامل حال فرما۔”کَمَارَبَّیَانِیْ صَغِیْرا“۔جیسا کہ انہوں نے بچپن میں ہماری تربیت کی، اس کا مطلب یہ ہے مناجات کا کہ پروردگار! یہ تربیت کرنا اصل میں تیرا کام تھا جو ان کے ہاتھوں انجام کو پہنچا۔ لہٰذا ہم انہیں کہاں صلہ دے سکتے ہیں تو تُو ہی ہے جو انہیں صلہ عطا فرمائے گا۔
تو خیر جھڑکو نہیں، اُف نہ کہو اور قول میں بھی ان کی بزرگی مد ِنظر رکھو۔عملاً بھی ان کے سامنے جھکے رہو۔ یہ تعظیم کی دعوت نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ اور شروع میں کہہ دیا کہ عبادت سوائے اس کے کسی اور کی نہ کرو۔ تو اسی سے صاف ظاہر ہے کہ عبادت اور ہے اور تعظیم اور ہے۔ عبادت اس سے مخصوص ہے اور تعظیم ہر ایک کی ہے جس کو وہ کہے۔
اس کے بعد یہ عجیب بات ہے کہ کوئی کسی گورنر کی تعظیم کو کھڑا ہوجائے تو کوئی شرک کی آواز بلند نہیں کرے گا اور دوسرے جو حکام ہوں ، کوئی ان کے لئے کھڑا ہوتو کوئی شرک کی آوازبلند نہیں کرے گا۔لیکن یہ بات زیادہ تر رسول اور آلِ رسول ہی کے بارے میں صرف ہوتی ہے۔ہمارے ہاں تو زیادہ رواج نہیں ہے۔مگر ہمارے مسلمانوں کی اکثریت میں میلاد شریف اور سیرت کے جلسوں میں ایک بڑا مسئلہ قیام کا ہوگیا ہے۔ یہ ایک رواج بن گیا ہے کہ ایک خاص محل پر جب حضرت کا نام آتا ہے ، سلام کے موقع پر تو تہذیب قرار دی گئی ہے کہ مجمع کھڑا ہو جائے۔ اب وہ بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے کہ ایک پورا گروہ اسے بہت بڑی اورعظیم معصیت قرار دیتا ہے اور معصیت نہیں بلکہ وہی شرک۔ وہاں کوئی معصیت نہ شرک سے ادھر اُدھر تو رہتی ہی نہیں۔
تو جناب! یہ شرک پیغمبر خدا کا نام سن کر کھڑا ہونا، یہ تعظیم ہے اور اگر تعظیم جائز نہیں ، یہ شرک ہے۔ تو حضور! تعظیم کاہر درجہ واجب تو نہیں ہوا کرتا۔ اس لئے ہم اس پر عامل نہیں ہیں مگر میں یہاں وکالت کرتا ہوں اس جماعت کی جو اس پر عامل ہے کہ وہ جو یہ کررہے ہیں، وہ عبادت ہے یا تعظیم ہے۔ عبادت ہے تو شرک ہے۔ لیکن اگر تعظیم ہے تو شرک نہیں ہے۔تو آپ یہ رسول ہی کے بارے میں سب سے زیادہ جو شرک کا مسئلہ پیدا کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کے ساتھ وہ برتاؤ کیا جائے جو سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ یعنی حضور کی بزرگی کے اظہار کیلئے جو طریقہ اختیا رکیا جائے تو وہ شرک ہوجائے گا۔ تو اس کا یہ مطلب ہے کہ رسول کے ساتھ وہی برتاؤ ہو جو سب کے ساتھ ہوتا ہے۔
میں کہتا ہوں کہ یہ توحید آپ نے کس سے سیکھی ہے؟ قرآن کے علاوہ کسی اور کتاب سے؟ توحید کا ذکر آپ نے قرآن و حدیث ہی سے سنا۔انہی کے خلاف انہیں صرف کررہے ہیں۔ تو جناب! یہ کھڑا ہونا توحید کے خلاف ہے ، شرک ہے۔ یعنی رسول کے ساتھ کوئی برتاؤ ایسا نہیں کرنا چاہئے جو دوسروں کے علاوہ ہو۔ جو سب کے ساتھ برتاؤ ہو، وہی رسول کے ساتھ ۔ میں کہتا ہوں کہ آپ کی بات مانیں یا قرآن کی؟
آپ کہتے ہیں وہی برتاؤ کرو جیسا سب کے ساتھ اور قرآن کہہ رہا ہے :دیکھو! ہمارے پیغمبر کو اس طرح نہ پکارا کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ وہ کہتا ہے جیسا دوسروں کے ساتھ سلوک کرتے ہو، ویسا پیغمبر کے ساتھ سلوک نہ کرو۔آ پ کہتے ہیں جو سب کے ساتھ سلوک کرو، وہی رسول کے ساتھ سلوک کرو۔تو اب قرآن کی بات مانیں یا آپ کی بات مانیں؟ صاف کہہ رہا ہے قرآن۔ نہ قرار دو ہمارے رسول کے پکارنے کا طریقہ وہ جو آپس میں ایک دوسرے کا طریقہ قرار دو۔
اور جناب! ہم سے یہ کہا کہ اس طرح نہ پکارو جیسے سب کو پکارتے ہو۔ تو خود بھی اس طرح کبھی نہیں پکارا جس طرح اوروں کو پکارتا ہے۔ ارے وہ ہر کس و ناکس کو پکارنے ہی کیوں لگا؟ وہ انبیاء کو پکارتا ہے، مرسلین کو پکارتا ہے۔ماشاء اللہ مجمع میں ممکن ہے کہ حافظ ِقرآن بھی ہوں، جو حافظ ِقرآن ہوں، وہ حافظہ کی مدد سے دیکھ لیں، جو ناظرہ خواں ہوں، وہ ورق گردانی کرکے تلاش کرلیں ، جو عرض کررہا ہوں، اس کی تصدیق جتنی تلاش کریں گے، مکمل ہی ہوگی۔ اس کے خلاف ثابت نہیں ہوگا کہ وہ بس انبیاء کو پکارتا ہے مگر جس نبی کو پکارا، بلا استثنیٰ نام لے کر پکارا او رجب بلا استثنیٰ میں نے کہہ دیا تو مجھے آیتیں پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ مگرجتنی رواروی میں یاد ہیں، اتنی پڑھ بھی دوں گا۔
”یَاآدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ“۔
”ارے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو“۔ نام لے کر پکارا۔
”یَانُوْحُ اِھْبِطْ بِسَلامٍ “۔
”اے نوح! چلو سلامتی کے ساتھ“۔نام لے کر پکارا۔
”یَااِبْرَاھِیْمُ قَدْ صَدَقْتَ رُوٴْیَاکَ“۔
”اے ابراہیم ! تم نے خواب سچ کردکھایا“۔ نام لے کر پکارا۔
”یَادَاوٴُداِنَّاجَعَلْنٰکَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ“۔
”اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں حاکم بنایا“۔ نام لے کر پکارا۔
جس نبی کو پکارا، نام لے کر پکارااور ہمارے رسول کو بلااستثنیٰ ، کبھی نام لے کر نہیں پکارا۔ جتنی طاقت سے وہاں بلااستثنیٰ کہہ سکتا تھا، اتنی ہی طاقت سے یہاں بلا استثنیٰ کہہ سکتا ہوں کہ ان کو بلا استثنیٰ کبھی نام لے کر نہیں پکارا بلکہ کبھی تو صفات کو مرکز خطاب قرا ردیا ہے۔”اے طیب و طاہر“، ”اے یٰسین“، ”اے سید و سردار“۔کبھی جو عہدہ تھا، اسی کو مرکز خطاب بنا لیا،”یَااَیُّھَاالنَّبِیُّ“،”یَااَیُّھَاالرَّسُوْلُ“، نبی اور رسول ان کا عہدہ ہے۔ اسی عہدے کو عنوانِ خطاب بنا کر جب ایک تبلیغِ خاص کا حکم آیا تو پھر وہاں نہ طٰہٰ کہا گیا، نہ یٰسین کہا گیا۔ وہاں کہا گیا:”یَااَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ“، ”اے رسول! “
”بَلِّغْ مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ“۔
جو آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے، اس کی تبلیغ کردیجئے۔
یہاں ”یَااَیُّھَاالرَّسُوْلُ“ہے اور اس خطاب ہی سے نمایاں ہے کہ سرکاری فرمان ہے۔ لہٰذا ضابطہ کا اندازِ خطاب، جو عہدہ ہے ان کا ، اسی عہدے کو سرنامہ کلام قرار دے دیا اور کبھی تقاضائے محبوبی، جو لباس پہنے ہوئے ہیں،اسی اندا ز کو عنوانِ خطاب بنا لیا۔”یَااَیُّھَا الْمُزَمِّلُ“،”یَااَیُّھَاالْمُدَثِّرْ“، اے چادرمیں لپٹے ہوئے، اے عبا اوڑھے ہوئے۔
معلوم ہوتا ہے کہ ذات اتنی محبوب ہے کہ اس کے لباس پر بھی نظرمحب پڑرہی ہے۔
صاحبانِ فہم محسوس کریں گے کہ لباس کا تعلق جسم کے ساتھ عارضی ہوتا ہے۔ خصوصاً اوپر کا لباس جیسے عبا، جیسے چادر۔ یہ تعلق تو بالکل وقتی ہوتا ہے۔ لباس تو ہوسکتا ہے کہ چند دن جسم پر رہے یا ہرروز بدلتا ہو آدمی ، تو ایک دن تو رہے گا لیکن یہ اوپر کا لباس جیسے ہماری عبا وغیرہ، تو وہ تو بس تھوڑی دیر کیلئے زیب جسم ہے اور اس کے بعد اُتار دی۔ تو جسم کے ساتھ عارضی تعلق ہوتا ہے۔ تو جو ذات اتنی محبوب ہو کہ عارضی تعلق اس کے جسم کے ساتھ جو ہو، وہ مرکز نظرپروردگار ہوجائے تو قبر مطہر جس سے جسم کا مقام تصور میں دائمی تعلق ہوتا ہے، وہ قبر مطہر مرکز نظر پروردگار نہیں ہوگی اور کیا اس کی ذرا سی بھی تعظیم و تکریم شرک ہوجائے گی؟
”لَا تَرْفَعُوْااَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ“۔
”دیکھو! رسول کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کیا کرو۔ یہ تعظیم سکھانا نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ ہاں! میں نے کہا یہ میں دوسرے حضرات کی وکالت کررہا ہوں۔ میں تو عادی نہیں ہوں اور ہمارے مجمع میں اکثر وہ طریقہ نہیں ہے۔ یعنی ایک خاص محل پر اسم شریف سن کر کھڑا ہونا ، ہم اس جذبہٴ تعظیم کو بآوازِ بلند درود کے وسیلہ سے انجام دیتے ہیں۔ لیکن میں تو اس وقت وکالت کررہا ہوں اس طبقہ کی جو اس پر عمل کرتا ہے ۔ تو جسے وہ بات ناگوار گزرتی ہے، وہ طرح طرح کی باتیں کرتا ہے تو وہاں یہ کہاجاتا ہے۔ یہ کیا کہ ایک خاص محل پر حضرت کا نام آئے تو وہاں کھڑے ہو یعنی ایسا ہی ہے تو پھر جب بھی آپ کا نام آئے تو کھڑے ہوجایا کرو۔
بعض چیزیں ایسی ہیں کہ پرانے زمانہ میں اس کا نمونہ یا مثال دوسرے کے سمجھانے کو ہم بھی پیش کرسکتے تھے مگر جو جدید مشاہدات ہیں، اس سے بہت سی چیزوں کا سمجھانا آسان ہوگیا ہے۔ اب میں اپنے ہاں کا جانتا ہوں، وہاں میں نے دیکھا ہے مگر ظاہر ہے جو ایک جگہ ہوتا ہے، وہ دوسری جگہ بھی ہوتا ہے۔ ایک دن ہم بینک گئے۔ وہ دن ہمارے علم میں ایسا نہیں تھا کہ بینک بند ہو، کام نہ ہورہا ہو۔وہاں جاکر دیکھا، مثلاً کہ سب اپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں۔کوئی کام نہیں ہورہا۔ ہم نے کہا: ارے صاحب! کیا آج کوئی چھٹی ہے؟ کہا: نہیں چھٹی تو نہیں ہے۔ ہم نے کہا: پھر کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ آج علامتی ہڑتا ہے۔ علامتی ہڑتال کیا ہے؟کہا کہ اصل ہڑتال تو بعد میں ہوگی، اگر مطالبات پورے نہ ہوئے۔ یہ آج تھوڑی دیر کیلئے علامتی ہڑتا ل ہے یعنی اپنی ناراضگی کا ثبوت دینے کیلئے،مثلاًدوپہر تک کام نہیں کریں گے۔یہ ابھی ہڑتال مکمل نہیں ہے۔یہ علامتی ہڑتال ہے۔
اب میں نے وہاں سے یہ لفظ یاد کرلیا۔ ایک دفعہ یہ لفظ سنا تو مجھے اپنے مطلب کا معلوم ہوا۔ میں نے اُسے یاد کرلیا۔ اب جناب! یہ سوال جو قیام کا ہے، قیام بوقت ِسلام، انہوں نے یہ کہا کہ یہی کیا خصوصیت ہے؟جس وقت بھی حضرت کا نام آیا کر ے تو کھڑے ہوجایا کرو۔ تو میں کہتا ہوں کہ بے شک اگر ہر وقت کھڑے ہواکریں تو بہت اچھا مگر یہ اپنے امکان کی کمی ہے کہ ہر دفعہ کھڑے ہوا کریں۔ میں کہتا ہوں یہ تعظیم نہیں ہے، علامتی تعظیم ہے۔ (اگر ہر مرتبہ ان کا نام آنے پر کھڑے ہوں) تب بھی حقِ تعظیم کہاں ادا ہوگا؟
معلوم ہوا کہ پیغمبر خدا کیلئے قرآن دعوتِ تعظیم دے رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کرو جو ان کی عظمت ِ شان کے لائق ہے۔ ان کو اس طرح پکارا نہ کرو۔اپنی آواز کو ان کی آواز پر بلند نہ کیا کرو۔ یہ سب تعظیم کی دعوت ہے۔ اب کچھ ان کا عمل، میں نے عرض کیا تھا کہ فطرت پھر قرآن ، پھر سنت۔
تو حضورِ والا! متفق علیہ تاریخ ہے اور تاریخ کے ذیل میں جو ارشادِ رسول آئے،وہ حدیث ہے، اس لئے جو عرض کرتا ہوں، وہ تاریخ بھی ہے اورحدیث بھی ہے۔ جنگ ِخندق کے بعد پیغمبر واپس ہوئے، جنابِ سعد ابن معاذ ، وہ انصارِ مدینہ میں سے بڑے سابق الایمان تھے، یعنی جبکہ ابھی ہجرت نہیں فرمائی تھی ،جو لوگ مکہ معظمہ گئے تھے اور حضرت کی خدمت میں شرفیاب ہوچکے تھے، ان میں سے یہ سعد بن معاذ تھے اور وہ جو ان کے ہاں دو قبیلے تھے اوس اور خزرج، ان میں سے یہ ایک کے سردار تھے۔ وہاں سے دو قبیلے نکالے جاچکے تھے، بنی قریظہ وہاں رہ گئے تھے مدینہ میں۔ تو یہودیوں نے بڑے بڑے قلعے اپنے بنالئے تھے۔ نیت تو ان کی اچھی نہیں تھی۔ جنگ کا ارادہ پہلے ہی سے تھا۔ کچھ دن محصور رہے قلعوں میں اور اس کے بعد اب کچھ انہوں نے کہا کہ اب ہم قلعہ سے باہر آئیں گے ، ہمیں اطمینان دلایا جائے کہ ہمارے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
تو جناب! سعد ابن معاذ کے ان سے زمانہٴ قبل اسلام سے بڑے اچھے تعلقات تھے، بہت روابط تھے۔ تو آپ نے فرمایا کہ تم کسی کو ثالث بنادو۔ وہ طے کردے گا کہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے!۔ تو آپ نے سعد ابن معاذ سے فرمایا کہ تم طے کردو۔ وہ بڑے خوش ہوئے کہ یہ تو ہمارے بڑے پرانے دوست ہیں۔ وہ اپنی حماقت سے یہ نہیں سمجھے کہ ایمان میں پرانی اور نئی دوستی کچھ نہیں ہوتی، ایمان کے تقاضے جو ہیں، وہ تو پورے ہوں گے اور تھے وہ بڑے جلیل المرتبہ صحابی۔انہوں نے کہا کہ سعد ابن معاذ جو فیصلہ کردیں، ہمیں وہ منظور ہے۔
آپ نے سعد کے بلوانے کیلئے آدمی بھیج دیا۔ وہ ایک مرکب پر سوار ہوکر آئے پیغمبر خدا کی خدمت میں،وہ جو آئے تو یہ ایک جملہ ہے، پورا واقعہ نہیں عرض کرنا ہے، جسے دیکھنا ہے تاریخ اسلام میں دیکھ لے کہ وہ جو آئے تو حضرت نے انصار کے اس قبیلے سے فرمایا کہ دیکھو! تمہارا سردار آیا ہے، کھڑے ہوجاؤ۔ یہ دعوتِ تعظیم نہیں تو اور کیا ہے؟
یہ پیغمبر نے حکم دیا کہ تمہارا سردار آیا ہے، کھڑے ہوجاؤ۔ تو معلوم ہوا کہ رسول کی تعظیم یہ نہیں ہے کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرو۔ بس اب ایک جزوعرض کروں گا۔آج تو اس سلسلہ کی پہلی مجلس ہے۔ پھر انشاء اللہ اور اجزاء تفصیل کے ساتھ بیان ہوں گے کہ یہ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم کھڑے ہوجاؤاور اب فوراً آپ کا عمل۔ حضور معتبر ترین کتابیں صحاحِ ستہ مانی جاتی ہیں۔ اس صحاحِ ستہ میں ایک صحیح ترمذی ہے ، چونکہ صحاح میں ہے، اس لئے ترمذی شریف کہلاتی ہے۔ جیسے بخاری شریف، مسلم شریف، ویسے ترمذی شریف۔تو وہ بھی ادنیٰ درجہ کی روایت نہیں ہے۔ صحیح ترمذی میں ہے تو صحاحِ ستہ میں ہے۔ اس میں دیکھئے کہ صحیح ترمذی میں رسول کا عمل کیا ہے:
”اِذَادَخَلَتْ فَاطِمَة“۔
”جب بھی فاطمہ زہرا آتی تھیں“۔
ایک دفعہ کی بات نہیں ہے کہ راوی نے دیکھا ہو کہ فاطمہ زہرا آئیں او رپیغمبر خدا کھڑے ہوگئے۔ایک دفعہ کھڑے ہوں تو بہت سے اسباب ہوسکتے ہیں ، خلافِ توقع کوئی آجائے تو آدمی کھڑاہوجاتا ہے۔ یہ نہیں کہ آئیں اور پیغمبر خدا کھڑے ہوگئے۔جب بھی آتی تھیں فاطمہ زہرا ، تو:
”قَامَ اِلَیْھَارَسُوْلُ اللّٰہِ“۔
”حضرت پیغمبر خدا ان کی تعظیم کو کھڑے ہوجاتے تھے“۔
یہی جملہ ایسا اونچا تھا کہ ہماری تحریروتقریر کی ساری قوتوں کو اس نے جذب کرلیا۔ ہم ہمیشہ اتنا ہی بیان کرتے رہے کہ حضور حضرتِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی تعظیم فرماتے تھے۔ مگر ارشادِ رسول اور آگے بڑھتا ہے۔ جو تیسرا جملہ آئے گا، وہ اگر پہلے جملے سے بالاتر نہیں ہے تو اس سے کمتر بھی نہیں ہے۔ارشاد ہورہا ہے یعنی راوی کہہ رہا ہے،”قام الیھارسول اللّٰہ“، حضرت رسولِ خدا کھڑے ہوجاتے تھے۔
”رَحَبَھَا“،مرحبا فرماتے تھے یعنی خوش آمدید کہتے تھے۔
”وَاَجْلَسَھَا فِیْ مَکَانِہ“۔
”اور انہیں اپنی جگہ بٹھاتے تھے“۔
اب اس عظمت کا میں تو تصور بھی نہیں کرسکتا۔ تجزیہ اگر کریں تو اس جملے کے مفہوم کے سوااس کے اور کوئی معنی ثابت ہی نہیں ہوں گے کہ جب تک فاطمہ زہرا بیٹھی ہیں، پیغمبر خدا نہیں بیٹھیں گے۔ جب فاطمہ زہرا اٹھ کر جائیں گی، تب اپنی جگہ حضرت تشریف فرما ہوں گے۔ تو یہ فاطمہ زہرا کی تعظیم نہیں ہے تو اور کیا ہے؟اور میں کہتا ہوں کہ اس عملِ رسول سے ثابت ہے کہ فاطمہ فقط بیٹی نہیں ہیں، کچھ اور بھی ہیں۔فاطمہ علاوہ بیٹی کے کچھ اور بھی ہیں ورنہ بیٹی ہونے کا تو تقاضا ہی نہیں ہے کہ باپ تعظیم کو کھڑا ہو اور ماشاء اللہ صاحبانِ علم ہیں آپ حضرات میں اور ممکن ہے کہ ہر نقطہٴ نظر کے کچھ اصحاب ہوں۔ غور فرمائیے کہ اصول یہ ہے کہ جو عملِ رسول ہے، وہ جزوِ سنت ہے۔ جو تقریر رسول ہے، وہ بھی جزوِ سنت ہے۔ تقریر کے معنی عام لوگ نہیں سمجھیں گے یعنی کوئی دوسرا رسول کے سامنے کوئی عمل کرے ، رسول اس کو منع کردیں، وہ بھی جزوِ سنت اور یہ اصول ہے کہ سنت ِ رسول کی پیروی یا واجب ہوگی یا مستحب۔
ہوسکتا ہے کہ واجب ہوا ور ہوسکتا ہے کہ مستحب ہو۔ ہم جسے واجب کے مقابلہ میں سنت کہتے ہیں، وہ واجب نہ ہو، سنت ہو یعنی مستحب ہو۔ یہ ایک عملِ رسول ہے جو بالاتفاق موجود ہے اور اصول ہے کہ عملِ رسول کی پیروی سنت۔ مگر مجھے کسی فقہ میں نظر نہیں آیا کہ باپ کیلئے سنت ہو کہ وہ بیٹی کی تعظیم کیلئے کھڑا ہوا کرے۔ کسی کتاب میں آپ نے دیکھا ، کسی عالم سے سنا کہ باپ کے لئے مستحب ہو۔ واجب نہ ہو، مستحب ہو کہ اپنی بیٹی کی تعظیم کرے۔ تحفة العوام وغیر ہ ہی نہیں، دنیا کی کسی کتابِ فقہ میں۔ مطالعہ کی پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ میں نے دنیا کی کسی فقہ کی کتاب میں نہیں دیکھا کہ باپ کیلئے سنت ہو کہ بیٹی کی تعظیم کرے۔
آجکل آسان ہے یہ کہہ دینا۔ کوئی کہے کہ ان سب علماء نے غلطی کی۔ ارے صاحب! ریسرچ کا تقاضا یہ ہے کہ ایک بات آج سمجھ میں آئی۔ تو چاہے ہم سے کسی نے پہلے نہیں کہا ہو، ابھی تک کسی نے نہیں لکھا۔ اب ہم جو کتاب لکھیں گے،کیونکہ دلیل ہمارے سامنے موجود ہے۔ صحیح ترمذی کی حدیث شریف ہے۔ اب سے ہم لکھا کریں گے اور خصوصاً ہمارے طبقہ کے لوگ ، فضیلت کا ایک پہلو بھی ہے تو ہم کہاں بھول سکتے ہیں۔ لہٰذا ہم کہیں گے کہ واقعی ہم نے اس طرف ابھی تک توجہ ہی نہیں کی تھی۔اب سے ضرور ہم اپنی بیٹی کی تعظیم کیا کریں گے۔
تو صاحب! اب تک تو یہ علماء کا عمل ہے کہ کتابوں میں نہیں لکھا۔ بیچارے علماء غیرمعصوم ہیں،کہہ دیجئے کہ غلطی کی سب نے۔ لیکن اب اس سے بالاتر ہے، مشترک اسلامی نقطہ نظر سے۔اور خود ہمارے معتقدات کی روشنی میں کسی نے بھی ، جو سنت ِ رسول کی پیروی کرنے کا دعویدار تھا۔ کبھی اس سنت ِ رسول پرعمل نہیں کیا۔حضور کے صحابہ کرام میں کیسے کیسے لوگ تھے جو سنت ِپیغمبر ایک ایک یاد رکھتے تھے۔ خود حالاتِ صحابہ کی کتابوں میں یہ بھی ہے کہ عبداللہ ابن عمر، انہیں کسی نے دیکھا کہ اس درخت کے نیچے جاکر نمازپڑھی۔اس درخت کے نیچے نماز پڑھ رہے ہیں، اِدھر اُدھر پھر کر نمازیں پڑھ رہے ہیں۔ کسی نے کہا کہ آپ یہ کیا کررہے ہیں؟کہا: جہاں جہاں کبھی رسول کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا، وہاں نماز پڑھ رہا ہوں۔ یہ اتباعِ سنت کی مثال میں پیش کیا جاتا ہے۔ تو اتباعِ سنت کا اتنا ذوق و شوق۔ یہ ویسے بڑی اچھی بات ہے۔ ایک ایک ہزار صفحہ کی کتابیں حالاتِ صحابہ میں ہیں لیکن کسی صحابی کے حالات میں نظر نہیں آتا کہ وہ اپنی صاحبزادی کی تعظیم کرتے ہوں او ر کھڑے ہوجاتے ہوں۔
ماشاء اللہ صاحبانِ فہم ہیں۔ ارے ایسی ایسی صاحبزادیاں جو کسی حیثیت سے واجب التعظیم بھی ہوچکی ہیں مگر ان کے پدرانِ نامداران کی تعظیم کیلئے نہیں کھڑے ہوتے۔ تو یہ کیا معاملہ ہے؟ حالانکہ صحاحِ ستہ ، صحیح ترمذی میں حدیث موجود اور برابر نقل بھی ہوتی رہی۔ یہ نہیں کہ اسے بھول گئے ہوں۔ اچھا صحابہ تو غیر معصوم تھے۔ کوئی مسلمان نہیں مانتا کہ اصحاب معصوم تھے۔ عام مسلمانوں کے نقطہ نظر سے جیسے رسالت ختم ہوگئی، عصمت بھی ختم ہوگئی۔ یا یوں کہئے کہ جتنی حد تک رسول کے لئے عصمت مانی ، اتنی رسول کے بعد ختم ہوگئی۔ مگر ہمارے ہاں نبوت ختم ہوگئی، رسالت ختم ہوگئی، عصمت ختم نہیں ہوئی۔ اب جو خدا کی طرف کا رہنما ہو، چاہے بنامِ امام ہو، وہ امامت جو اصولِ دین میں ہے، اس امامت کا حامل جو بھی ہو، وہ معصوم ہے۔ عصمت ختم نہیں ہوئی ، وہ تاقیامِ قیامت قائم ہے ، تو صحابہ کے بارے میں تو ہمارے افراد بے جھجک کہہ دیں گے کہ ان کا عمل ہمارے لئے سند نہیں ہے۔ لیکن بحمدللہ! آپ اور ہم معصوم مانتے ہیں۔جن کی سیرت ہمارے نزدیک
جزوِ سیرتِ رسول ہے۔اُن میں سے کوئی اپنی صاحبزادی کی تعظیم کو کیوں نہیں کھڑا ہوتا۔حالانکہ کیسی کیسی صاحب ِ صفات صاحبزادیاں ، میں کہتا ہوں کہ امیرالموٴمنین علیہ السلام حضرت زینب کی تعظیم کیوں نہیں فرماتے؟
کوئی روایت آپ نے سنی ہے، مجھے معلوم ہے کبھی یہ سنا ہوگا کہ امام حسین بہن کی تعظیم کو کھڑے ہوتے تھے۔ اگر ایسا ہے تو ہے اونچی بات یہ بھی۔ مگر وہ بات تو نہ ہوئی، بھائی بہن تو ایک برابر کا رشتہ ہے۔باپ بیٹی کی تعظیم کیلئے کھڑا ہوجاتا ہو، وہ نظیر نہیں ملتی۔اس کی مثال نہیں ملتی۔امیرالموٴمنین علیہ السلام تعظیم کیلئے کیوں نہیں کھڑے ہوتے؟ امام حسین نے جنابِ سکینہ کیلئے اظہارِمحبت میں جو جملے ارشاد فرمائے ہیں، وہ ہم تک پہنچے ہیں۔لیکن یہ بات ہم تک نہیں پہنچی کہ حضرت امام حسین جنابِ سکینہ و فاطمہ کی تعظیم کو کھڑے ہوتے تھے اور جنابِ معصومہٴ قم، باوجودیکہ فہرست معصومین میں ہیں لیکن جلالت ِ قدر وہ ہے کہ آپ معصومہ کہنے لگے۔معصومہ قم کا محاورہ آپ کے درمیان رائج ہے۔ مگر یاد رکھئے کہ معصومہ کہہ دینے سے فہرست ِمعصومین میں داخلہ نہیں ہوجاتا۔تو معصومہ قم کہنے لگے، وہ الگ بات ہے۔لیکن چودہ معصوم وہ ہیں کہ دلیلِ عصمت جن پر قائم ہے۔
بہرکیف کچھ ایسا جذبہٴ احترام پیش نظر ہے کہ امام رضا علیہ السلام کی بہن کو معصومہ قم کہاجانے لگا۔میں کہتا ہوں کہ امام رضا کی بہن ہیں تو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ان کی تعظیم کو کھڑے ہوں۔ جنابِ حکیمہ خاتون جو اتنی محل اعتماد تھیں کہ رازِمنتظر کی امانت دار قرار پائیں مگر امام محمد تقی علیہ السلام ان کی تعظیم کو نہیں کھڑے ہوتے تھے۔ تو اب یہ معمہ ہوگیا کہ ایک عملِ رسول مسلماً موجود اور چودہ سو برس کا کوئی عالم نہیں لکھ رہا کہ یہ مستحب ہے۔صحابہ عمل نہیں کررہے۔ جن کے گھر کی بات ہے، ان میں سے بھی کوئی عمل نہیں کررہا۔تو کیا وہ اصول ٹوٹ گیا؟ عملِ رسول کی پیروی میں فضیلت نہیں رہی۔
تو بس جو میں جواب دوں، اُسے دنیا قبول کرے ورنہ جو حل اس کے سامنے ہو، وہ پیش کردے۔میں کہتا ہوں کہ چودہ سو برس کے علماء نے یہی سمجھا ، صحابہٴ رسول یہی سمجھے۔ جن کے گھر کی بات تھی، ان آئمہ معصومین نے یہی جانا کہ فاطمہ کی یہ تعظیم بحیثیت بیٹی کے نہیں ہے۔ یہ شخصیت فاطمہ کے لحاظ سے ہے، عظمت ِفاطمہ کے لحاظ سے ہے۔اب میں کہتا ہوں کہ اصول قائم ہے۔ سنت ِرسول کی پیروی لازم ہے مگر قیامت تک کے مسلمان کیلئے فاطمہ کی تعظیم واجب ہے۔ اپنی بیٹی کی تعظیم سے سنت ادا نہیں ہوگی۔
اب سیدہ عالم کی اتنی تعظیم کس بناء پر ہے اور کس حیثیت سے ہے؟ وہ بہت تشریح طلب ہے اور آفتاب کی کرنیں مجھ کو پیغامِ الوداع دے رہی ہیں ۔لہٰذا میں آگے نہیں بڑھوں گا۔ سیدہ عالم کی تعظیم پیغمبر خدا فرمارہے ہیں۔ سیدہ عالم کی منزل کیا ہے کہ رسول نے فرمایا:
”فَاطِمَۃ بَضْعَۃ مِنِّیْ“۔
”فاطمہ میراایک جزو ہے“۔
یہ جزو جسم کا جزو نہیں ہے۔مجھے معلوم ہے کہ بعض ذاکر یہ ترجمہ کردیتے ہیں لخت ِ دل، پارئہ جگر۔ اس سے بات محبت پر ڈھل جاتی ہے۔ رسول نے جو فرمایا ہے، ا س میں نہ دل ہے، نہ جگر۔پیغمبر نے فرمایا :”میرا ٹکڑا“،تو ”میرا ٹکڑا ہے“، اس کے معنی یہ ہیں کہ میرے فرائض کی تکمیل نہ ہوتی بغیر فاطمہ کے۔او رپھیلا کے عرض کرنے کا موقع نہیں۔ مگر یاد رکھئے کہ فرمانِ رسول جو زبانی ہے، وہ تو ہدایت ِخلق کرسکتے تھے اقوال سے۔ سیرتِ رسول مقامِ اتباع میں کافی نہیں ہوسکتی، اس لئے کہ رسول مردوں کیلئے نمونہ بن سکتے تھے، خواتین کیلئے نمونہٴ عمل نہیں بن سکتے تھے۔ لہٰذا ضرورت تھی کہ خزانہٴ رسالت میں ایک گہر بے بہا ہو جس کا کردار خواتین کیلئے ویسا ہی معصوم نمونہ ہو جیسا رسولکا کردار مردوں کیلئے معصوم نمونہ ہے۔ اس کیلئے خالق نے فاطمہ زہرا جیسی بیٹی کرامت فرمائی اور میرے نزدیک تو رسول اسی لئے تعظیم کو کھڑے ہوتے تھے۔ وہ فاطمہ کی تعظیم نہیں تھی،اس منصب کی تعظیم تھی جو فاطمہ کے سپرد تھا اور میں نے عرض کیا کہ تفصیل سے عرض کرنا کا موقع نہیں ہے۔مگر ایک خیال میرے ذہن میں مدتوں رہا ہے، میں انکار نہیں کرتا۔اپنی کوتاہیِ علم کا اقرار کرتا ہوں کہ حضرت امیرالموٴمنین کے فضائل بے شمار مگر مجھے کہیں نہیں ملاکہ رسول اللہ حضرت علی علیہ السلام کی تعظیم کو کھڑے ہوئے ہوں۔ کسی اور کا کیا ذکر ، علی کیلئے نہیں ملا کہ رسولِ خدا تعظیم کو کھڑے ہوتے ہوں۔ مگر فاطمہ کیلئے مل رہا ہے۔
میں نے اس پر غور کیا ہے کہ آخر یہ کیا بات ہے؟ نہیں، فضائل کا زیادہ ہونا اور چیز ہے،اوصاف کا بلند تر ہونااور چیز ہے۔ تو یقینا امیرالموٴمنین علیہ السلام کی جو منزل ہے، وہ ان کے ساتھ مخصوص ہے۔ مگر جو عرض کررہا ہوں، اُس پر غور کیجئے۔ خود اپنے معتقدات کی روشنی میں۔ بھئی اوصاف اور چیز کمالات اور چیز مگر علی کاجو منصب ہے، وہ بعد ِرسول ہوگااور فاطمہ کا جو منصب ہے، وہ رسول کی موجودگی میں ہے۔
گزشتہ دور میں ہمیں ایک معصومہ معلوم ہیں حضرتِ مریم۔ مگر حضرتِ مریم کی زندگی رہنمائیِ خلق کیلئے کافی نہیں ہے کیونکہ وہ کسی کی شریک نہیں۔ عورتوں کیلئے جو اصل زندگی ہے، اُس کیلئے مثال نہیں بن سکتیں۔ تو مریم کے بعد فاطمہ کی ضرورت تھی۔تعلیم یافتہ طبقے میں بہت مقبول ہے ڈاکٹر اقبال کا کلام۔تو انہوں نے کہا:
مریم از یک نسبت عیسیٰ عزیز
از سہ نسبت حضرتِ زہرا عزیز
تو انہوں نے تو عزت کے اعتبار سے کہا، میں دوسری حیثیت سے کہہ رہا ہوں کہ بحیثیت نمونہٴ عمل کے حضرتِ مریم بیٹی ہونے کا نمونہ بن سکتی ہیں، ماں ہونے کا نمونہ بن سکتی ہیں مگر شریک ِ حیات کی حیثیت سے جو فرائض ہیں، اس کا نمونہ نہیں بن سکتیں۔ اس کیلئے ضرورت تھی حضرتِ فاطمہ زہرا کی۔ یہاں تینوں پہلو مکمل ۔ بحیثیت بیٹی باپ کے ساتھ شریک، عملِ مباہلہ میں بحیثیت زوجہ کے امیرالموٴمنین کی شریک ِ حیات عمر بھر اور بحیثیت ماں کے چاہے حسن وحسین کا نام لے لیجئے،زینب و اُمِ کلثوم کا۔ یہاں تینوں شعبے مکمل مگر اب مصائب عرض کرنا ہیں۔ میں خود بارگاہِ سیدہ عالم میں عرض کروں گا کہ بے شک آپ کی زندگی مکمل(معاذاللہ) آپ کی سیرت میں کوئی نقص نہیں۔ مگر قدرت نے آپ کو بھائی عنایت نہیں کیا تھا۔ لہٰذا اس رشتے کے تقاضے کیا ہوتے ہیں؟ وہ آپ نہیں ظاہر فرماسکیں۔ جس طرح مریم کے بعد آپ کی ضرورت تھی، وہاں آپ کے بعد مخدومہ عالم ، آپ کی بیٹی کی ضرورت تھی۔ آپ شریک ِ جہادِ مباہلہ، یہ شریک ِ جہادِ کربلا۔