معراج خطابت
 
دینِ اسلام۴
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامْ“۔
کل اس پر گفتگو ہورہی تھی کہ کہاجاتا ہے کہ دین آزادی سلب کرتا ہے۔ اب میں اس وقت ایک پہلو کی طرف اس سلسلہ میں توجہ دلاتا ہوں کہ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ آزادی انسان کا حق ہے۔ میں کہتا ہوں کہ انسان ایک آدمی کا تو نام نہیں ہے۔ انسان ایک پوری نوع ہے جس میں ہر فرد آدمی ہے، ہر فرد انسان ہے اور آزادی کا مطلب آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ جو چاہیں، وہ کرلیں۔ جو دل چاہے، وہ عمل میں لے آئیں۔ یہ ہیں آپ کے نزدیک آزادی کے معنی جس کا مطالبہ کررہے ہیں؟ تو یاد رکھنا چاہئے کہ انسان کی خواہشیں ہیں لامحدود۔ کسی نقطہ کے اوپر انسان کی خواہش نہیں ٹھہرتی۔ اسے میں روزمرہ کی دو تین مثالوں سے واضح کروں گاجو ماشاء اللہ سن رسیدہ افرا دہیں، میں خود الحمدللہ اسی جماعت میں داخل ہوں تو اس جماعت پر طنز و تعریض میرا نصب العین تو ہو نہیں سکتا، مگر یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ کچھ دن بڑے بوڑھوں کے پاس رہئے اور ان کی بات چیت سنئے تو اکثر یہ کہتے ہوئے وہ آپ کو ملیں گے کہ خدا نے سب حسرتیں پوری کردیں، بس یہ ایک حسرت اور ہے ۔ اب مثلاً کوئی صاحبزادے ابھی کمسن ہیں، آخری عمر کی اولاد تھی، اس لئے ابھی وہ چھوٹے ہی ہیں۔ کہتے یہ سنا کہ الحمد للہ سب حسرتیں پوری ہوگئیں، بس اس بچے کو، اب یہ ہمارے ہاں کی اُردو ہے،کہ ہاتھ منہ کا دیکھ لیں یعنی خود مکتفی ہوجائے۔ اچھا! خدا کا شکر اللہ نے عمر میں برکت عطا کی۔ یہ حسرت پوری ہوگئی مگر اب ہم نے سنا کہ سب حسرتیں پوری ہوگئیں۔ بس اب اس کے سر پر سہرا بھی دیکھ لیں۔ الحمدللہ تھوڑے دنوں میں سہرا بھی بندھ گیا۔ تو اب یہ کہتے سنا کہ الحمد للہ ، اللہ نے ساری حسرتیں پوری کردیں، بس اب سہرا تو بندھ ہی چکا ہے،شادی ہوچکی ہے تو بس اللہ اس کا ہنستا کھیلتا بچہ دکھادے۔
اب یاد رکھئے کہ یہ حسرت اگر پوری ہوگئی تو اس بچے میں وہی سلسلہ شروع ہوگا۔ غرض پوری عمر گزر جائے گی اور یہ ایک عدد حسرت رہ جائے گی۔ اسی کو معاشیات کے دائرے میں لے جائیں تو وہ کلرک جس کو کسی زمانہ میں ۵۰ روپے تنخواہ ملتی تھی اور اس زمانہ میں ۵۰ روپے اچھی تنخواہ ہوتی تھی، تو اس کو ہم نے کہتے سنا کہ خداکا شکر ہے گزر بسر ہوجاتی ہے مگر ایک دس روپے اور بڑھ جائیں تو آرام سے گزر ہونے لگے۔ اب ظاہر ہے دفتروں میں ترقیاں ہوتی ہیں۔ کچھ دن میں وہ دس روپے بڑھ گئے تو پھر یہی سنا کہ خداکا شکر ہے، گزر بسر ہوجاتی ہے ، بس ایک دس روپے اور بڑھ جائیں ۔ غرض کتنی دفعہ ۱۰ روپے بڑھے مگر وہ دس روپے کی کمی باقی رہی۔ اب جن کی آمدنی دسوں کے لحاظ سے ہے، ان کو دس کی کمی محسوس ہوتی ہے اور جن کی آمدنی سینکڑوں کے لحاظ سے ہے، ان کو پورے سو کی کمی محسوس ہوتی ہے اور جہاں بحمد للہ ہزاروں کے وارے نیارے ہیں، وہاں پورے ایک ہزار کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
غرض یہ وہ پیاس ہے جو جتنی بجھتی ہے، اُتنی بھڑکتی ہے۔ یہی چیز جب اونچے حلقوں میں جاتی ہے تو فتح ممالک کے جذبہ کے تحت اُبھرتی ہے ۔ جس کے پاس ایک ملک ہے، اب وہ یہ کیا کہے کہ میری ضروریات کیلئے ناکافی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میری رعایا کیلئے یہ ناکافی ہے۔ خواہ خود کتنا رعایا کا خون چوس لے۔ اس وقت رعایا کی ہمدردی پر زور ہوتا ہے۔ تو اس لئے اب وہ اپنی رعایا کی خاطر پاس والے ملک پر حملہ کرتا ہے۔ پھر جب ایک حصہ لے لیتا ہے تو اتنی ہی کمی اور محسوس ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جہاں میں جہاں تک جگہ پائیے، عمارت بناتے چلے جائیے اور وہ بڑی طاقتیں جن کا اس دنیا میں کسی نہ کسی طرح سے اثر ہر طرف چھاگیا، معاہدوں سے سہی، میثاقوں سے سہی، کسی صورت سے یہاں ہر طرف اثر چھاگیا تو اب نگاہ گئی کہ چاند میں بھی آبادی ہے یا نہیں۔مریخ میں بھی آبادی ہے یا نہیں۔ کوئی کہے کہ یہ تو بیچارے تحقیقات کیلئے جارہے ہیں، اس میں فتح کے جذبے کا کیا سوال ہے؟ میں کہتا ہوں کہ یہ تو سابق زمانہ کا غیر سیاست دان حملہ آور ہوتا تھا جو حملہ حملے کے نام سے کرتا تھا۔ فتح فتح کے نام سے کرتا تھا۔ آج کی سیاست تو کسی نہ کی بھیس میں اپنے اقتدار کو بڑھاتی ہے۔
ہمیں اور اس ہم میں دونوں ملکوں کے عوام داخل ہیں کیونکہ اس وقت تو سب ہی ایک تھا۔ ہمیں اس کا پورا تجربہ ہے۔ صاحب بہادر آئے تھے تجارت کرنے مگر تجارت کرنے آئے اور یہاں کی مخلوق نابالغ نظر آئی ۔ ولی بننے کا شوق ہوا اور یہ لاکھ کہیں ہمیں ضرورت نہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ تمہیں ہماری ضرورت ہے۔جب اس لائق ہوجاؤ گے تو چلے جائیں گے۔ حالانکہ جب تک رہے، ممکن ہے یہ کام کیا ہو کہ چلے بھی جائیں تو بغیر ہمارے یہ حکومت نہ کرسکیں۔ ہمارے ہمیشہ محتاج رہیں۔ یہ ہے اس دنیا کا سیاست دان کہ اگر عالم بالا پر گیا تو میں کہتا ہوں کہ جیسے شاعر نے اسی دن کیلئے یہ شعر کہا تھا:
توکارز میں رانکو ساختی
کہ باآسماں نیز پرداختی
اس دنیا میں آپ نے امن کے بادل خوب برسائے ہیں، جو اب عالم بالا پر جائیے اور وہاں سے خیروبرکت کی بارش کی اُمید کریں۔ توغرض یہ کہ انسانی خواہشات لامحدود ہیں اور آزادی کے معنی یہ آپ سمجھتے ہیں کہ ہر ایک کی خواہش پوری ہو تو اب یا تو ایک کو آزاد کردیاجائے اور باقی سب کو قید تو یہ تو وہ کرے گا جس کی اس ایک سے کوئی رشتہ داری ہو اور یا پھر یہی صورت ہے کہ آزادی کے حق کو تقسیم کردیا جائے۔ یعنی ہر ایک اس حد تک آزاد جہاں تک دوسروں کے حقوق کو صدمہ نہ پہنچے اور جہاں سے دوسروں کے حقوق کو صدمہ پہنچے، وہیں سے مقیّد۔ یہ قید فرد کیلئے قید ہے مگر تمام نوع کیلئے آزادی ہے۔یہ تمام نوع کو جنس آزادی سے بہرہ ور بنانے کا ذریعہ ہے ۔
مگر یہ حقوقِ آزادی کو تقسیم کون کرے؟ یاد رکھئے کہ اگر اس تقسیم کا مرکز کوئی مادی ہوا، یعنی کسی خاندان کا آدمی، کسی نسل کا آدمی، کسی ملک کا آدمی تو ایک تو جو اس سے قریب ہیں، اُن کی ضرورتوں کا احساس زیادہ ہوگا، دوسروں کی ضروریات کی اس کو خبر نہ ہوگی۔ دوسرے اس کو ہمدردی بھی ایک سے زیادہ ہوگی۔ دوسروں سے وہ ہمدردی نہ ہوگی۔ لہٰذا عدلِ کلی قائم نہیں ہوسکتا۔
توضرورت ہے کہ مرکز تقسیم آزادی ایک ایسی ذات ہو جو خود کسی ملک کا نہیں، جو خود کسی خاندان کا نہیں ہے، جو خود کسی نسل کا نہیں ہے۔جب اس کی طرف سے حقوقِ آزادی کا قانون بنے گا تو ہر ایک کا ضمیر مطمئن ہوسکے گا کہ میرے ساتھ انصاف ہوا ہے۔ اور یاد رکھئے کہ مذہب وہی قانون پیش کرتا ہے کہ جس سے تمام نوعِ انسانی کو اطمینان پیدا ہو کہ یہ اس کی طرف سے ہے جو ہم سب کا خالق ہے، ہم سب کا پیدا
کرنے والا ہے۔اس لئے اس میں کسی کسی کے ساتھ ناانصافی کا سوال نہیں اور ظاہر ہے کہ یہ موضوع ایسا ہے جو مشترک مجمعوں میں بیان ہوتا ہے کیونکہ مذہب و ملت کا سوال نہیں ہے۔ مذہب کی جنگ ہرطبقے میں ہیں تو وہاں میں یہ چیز پیش کرتا ہوں۔
غور کیجئے ، میں کہتا ہوں کہ تمام دنیا کی قوموں کو مسلمانوں کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہئے کہ جس جس چیز کو خدا کی طرف سے مان لیا، پھر اس میں اختلا ف نہیں ہوا۔ قبلہ کو خدا کی طرف سے مان لیا تو دو کعبے نہیں ہوئے۔کتاب کو خدا کی طرف سے مان لیا تو دو قرآن نہیں ہوئے۔ رسول کو خدا کی طرف سے مان لیا تو دو پیغمبر نہیں ہوئے۔ جس جس چیز کو خدا کی طرف سے مان لیا، اس میں اختلاف نہیں ہوا۔ جہاں سے انسانوں نے اپنا اختیار صرف کردیا۔
اس کی طرف سے جو قانون پیش ہوتا ہے، اسی کا نام شریعت ِ اسلام ہے۔میں نے پہلے کہا تھا کہ کچھ دن دین اور کچھ دن اسلام۔ اب حساب سے تقریباً برابر کی تقسیم ۔ آج پانچویں مجلس ہے تو پانچ دن تک دین ہی دین رہا اور آج پانچویں دن سے اسلام شروع ہوا۔ تو جب اس کی طرف سے کوئی قانون ہوگا تو ہر ایک کا ضمیر مطمئن ہوسکتا ہے اور یاد رکھئے کہ بے چینی سب ضمیر کے عدمِ اطمینان سے پیدا ہوتی ہے۔ گھر والوں میں ہر ایک کو اطمینان ہو کہ ہمارے ساتھ انصاف ہوگا تو آپس میں کوئی رنجش نہیں ہوگی۔ محلے والوں کو سب کو اطمینان ہو کہ ہمارے ساتھ انصاف ہوگا کہ محلے کے اندر کوئی کشمکش نہیں ہوسکتی۔ اب قرآن مجید کو دیکھیں، وہ کیا کہہ رہا ہے:
”اَ لَا بِذِکْرِاللّٰہِ تَطْمَعِنَّ الْقُلُوْبُ“۔
یاد رکھو کہ اللہ کو یاد رکھنے سے دلوں میں سکون ہوتا ہے۔
جب تک اس ایک کو یہ نہ مانیں گے، اس وقت تک اس مرکز کا تصور نہیں ہوگا جس سے سب کو رشتہ ہے۔ میں نے کہا کہ مرکز اگر کوئی محدود ہوا، کسی ایک سے قریب ، ایک سے دور تو عدلِ کلی قائم نہیں ہوسکتا۔ آجکل تو سکول اور کالج میں ابتدائی درجوں میں بھی کچھ نہ کچھ ریاضی پڑھائی جاتی ہے۔ریاضی کے بہت سے شعبے ہیں۔ کچھ گنتی سے متعلق ہیں، کچھ مقدا ر سے متعلق ہیں۔ ہر ایک کے الگ الگ نام ہیں۔ تو ریاضی کا ابتدائی مسئلہ کہ مختلف شکلیں ہوتی ہیں، کوئی مثلث، کوئی مربع، کوئی مسدس، جتنی بھی شکلیں ہوتی ہیں، ان میں جو نکتہ مانئے گا، وہ کسی طرف سے قریب ہوگا، ایک طرف سے دور ہوگا۔بس ایک شکل ہے دنیا میں کہ جس میں ایک نکتہ ایسا مانا جاسکتا ہے کہ جتنے خطوط کھینچے جائیں، وہ سب برابر ہوں۔اس میں کوئی فرق نہ ہو۔ وہ شکل دائرہ کی ہے۔ اس جسم کو کرہ کہتے ہیں اور اس نقطہ کو جس سے سب خط برابر ہوں، مرکز
کہتے ہیں۔
اب یہاں بچے بھی جتنی تھوڑی سی ریاضی پڑھے ہوئے ہیں اور بڑے بھی اپنے معیار پر ، جنہوں نے ریاضی پڑھی ہے، سمجھ سکتے ہیں کہ یاد رکھئے مرکز سے ہٹے ہوئے نقطے بے شمار ہوسکتے ہیں مگرمرکز دائرہ کا ایک سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔اگر مرکز کئی ہوں تو دائرے کئی ہوں گے۔ ایک دائرہ کا مرکز ایک سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔ اب یہیں سے ایک اور حقیقت پر توجہ کیجئے اور وہ کیا ہے کہ مرکز ایک اورصرف ایک ہوتا ہے اور ایسا ایک جو ناقابل تقسیم ہو۔واحد غیر منقسم، اس لئے کہ اگر اس کے اجزاء ہوئے تو کوئی جزو کسی طرف سے قریب ہوگا ، کسی طرف سے دور ہوگا تو وہ مرکز نہ بن سکے گا۔ لہٰذا مرکز ہوتا ہے وہ نقطہ جو واحد غیر منقسم ہو ۔ اب اسی کا ایک اور نتیجہ اور وہ یہ کہ مرکز آنکھ سے نہیں دکھائی دیتا،
اس لئے کہ میری اور آپ کی باریک سے باریک نب سے جو نقطہ بنے، وہ نقطہ نہیں ہوتا، جسم ہوتا ہے۔ اس میں اجزاء ہوتے ہیں اور مرکز وہ نقطہ ہے جس میں اجزاء نہ ہوں۔ لہٰذا یہ فقط مرکزی کبھی آنکھ سے نہیں دکھائی دیتا۔ مگر دائرہ کا وجود بے دیکھے مرکز کو منواتا ہے۔
اب میں یہ کہتا ہوں کہ یہ چھوٹا سادائرہ جو میرے یا آپ کے پرکار سے بن جائے، اس کا مرکزبھی دکھائی نہ دے مگر بے دیکھے اُسے ماننا پڑے اور اس دائرئہ کائنات کیلئے مطالبہ ہے کہ مرکز کو آنکھ سے دیکھیں گے تو مانیں گے۔دنیا میں امن کے جھنڈے بلند رہتے ہیں اور ہر ایک امن عالم کا علم بلند کئے رہتا ہے۔ آج دنیا میں کوئی ایک نہیں جو بدامنی کا داعی ہو، جتنے ہیں سب امن کے علمبرداراور امن کے داعی۔اس کیلئے امن کانفرنس ہوتی ہے۔ اس کیلئے بڑے بڑے افراد کی گفتگو ئیں ہوتی ہیں۔ مجھے بھی دیکھتے دیکھتے اخباروں سے بہت سے الفاظ یاد ہوگئے ہیں ۔ دو طاقتی کانفرنس، سہ طاقتی کانفرنس، چار طاقتی کانفرنس اور ایک محاورہ یہ کچھ عرصہ سے نکلا کہ چوٹی کانفرنس اور اس کے بعد گول میز کانفرنس۔ کوئی کہے بھلاے یہ گول میز کیا ہوتی ہے؟ یہ بھی اسی لئے ہوتی ہے کہ اگر میز گول نہ ہوتی تو سوال اوّل و آخر کا پیدا ہوگا کہ کون پہلے بیٹھا ہے ، کون بعد میں؟
جب گول میز ہوگی تو ہر اوّل آخر ہے ۔ جہاں سے خط چلے گا، وہیں گھوم کر آئے گا۔ اس کے معنی ہیں کہ ضرورت مرکز کی سب کے ذہن میں ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ جسمانی طور پر میز گول بنالی مگر ذہن میں مرکز کا تصور نہیں ہے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ زیادہ تر گفتگوئیں ناکام ہوتی ہیں بلکہ میں تو دیکھتا ہوں ، جہاں تک میرے تجربے ہیں، ایسی کانفرنسوں کے زمانے کے ، کہ ہرامن کی ہر کوشش تمہید ِ جنگ ہوتی ہے۔ یہ کیوں جنگ کی تمہید بنتی ہے؟ اس صرف اس لئے کہ جو لوگ گفتگو میں شریک ہوتے ہیں، وہ چاہے گول میز پر بیٹھے ہوں، ان کے پہلو سے پہلو ملے ہوئے ہوں، کاندھے سے کاندھا جڑا ہوا ہے، مگر دل و دماغ سب کے الگ ہیں۔ کاغذ پر امن ہے۔
ماشاء اللہ اُردوزبان ہے، میں تجربہ کرلیا کرتا ہوں ، یہاں کا مجمع واقف ہے کہ زبان پر امن ہے، کاغذ پر امن ہے، تقریر میں امن ہے،تحریر میں امن ہے اور دل میں ہر ایک کے امن ہے۔یہ جو امن کی کوشش ہوتی ہے، امن کی گفتگو ہوتی ہے، عموماً یہ بھی ایک نوعیت کی جنگ ہوتی ہے۔ کوئی کہے کہ یہ جنگ کس طرح ہے؟ یہ جنگ اس طرح ہے کہ کون اتنا بڑا سیاست دان ہے کہ اپنی ذاتی قومی ، اپنی پارٹی کے مفاد پر اتنا گہرا ملمع چڑھاسکے کہ دوسرے بیوقوف بن کر مان لیں اور جناب جب تک گفتگوئیں ہوتی رہیں، تو اتنے الفاظ اخباروں میں دیکھے ہیں کہ مجھے حفظ ہوگئے ہیں۔
یہ اطلاع آتی رہی کہ معاملات ترقی پذیر ہیں۔ فلاں صاحب نکلے تو مسکرا رہے تھے، فلاں صاحب نکلے تو ہنس رہے تھے۔ اخبار نویسوں کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ارے ابھی جلدی کیا ہے؟ بتائیں گے۔ انہوں نے ہنس کر کہا تھا۔ یہ سب قرائن ہیں اور کچھ عرصہ میں یہ آیا کہ اب ایک فریق نے دوسرے کے معاملے کو ، باتوں کو سمجھ لیا ہے ۔غنیمت ہوئی کہ اتنی دیر میں بھی سمجھا۔ جب تک کانفرنس ہوتی رہی، یہ خبریں آتی رہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی ایسا شاطر سیاست دان ثابت ہوا کہ اُس نے بڑا گہرا ملمّع چڑھادیا تو یہ ہوا کہ ہوگیا، ہوگیا، ہوگیا۔مگر ملمع کتنے دن رہے گا؟ تھوڑے عرصہ میں دوسرے کو محسوس ہوا کہ ارے اس سے تو ایک زیادہ فائدہ اٹھا لے گا۔ بس اب وہیں سے معاہدہ شکنی کی فکر ہوئی مگر اس طرح کہ الزام دوسرے پر آئے، ہمارے اوپر الزام نہ آئے اور اگر فرض کیجئے کہ دونوں شاطر سیاست دان ہوئے، برابر کی جوڑی
ہوئی تو اعلان ہوا کہ کچھ طے نہیں پایا۔ پھر ملیں گے، گفتگو ہوگی۔
اب یہ سنی سنائی کشتی کا ایک لفظ مجھے یاد ہے حالانکہ میں نے تمام عمر دنگل ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا کہ یہ اعلان ہوگیا کہ کچھ نہیں طے ہوا، اس کے معنی یہ ہیں کہ کشتی برابر کی ہوئی۔ کوئی ایک دوسرے کو مغلوب نہیں کرسکا۔ یہ کیو ں ہے؟ اس لئے کہ کوئی مشترک مقصد سامنے نہیں ہے۔ بہبودیٴ خلق کا کوئی نقطہ نظر سامنے ہو تو سب اس نقطہ پر جمع ہوسکیں۔ ہر ایک کو اپنے مقاصد کی فکر ہے۔ لہٰذا کوئی کوشش بارآور نہیں ہوئی۔ لہٰذاامن عالم کا پیغام لے کر جو اسلام آیا تھا اور ہمارے نزدیک تو اسلام شروع ہی سے تھا، آدم بھی جسے لے کر آئے تھے، وہ اسلام ہی تھا۔ نوح بھی جسے لے کر آئے تھے، وہ اسلام ہی تھا۔ حضرتِ ابراہیم اور تمام انبیاء اسلام ہی کی دعوت دیتے رہے۔ یہ اور بات ہے کہ قرآن مجید نے کہا ہے کہ نام اسلام تھا، حضرت ابراہیم کے وقت سے شروع ہوا۔
”ھُوَسَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ“۔
مگر یہ کہ حقیقت ِ اسلام ہر ایک نبی کے دور میں تھی۔ شریعت بدلتی رہی، دین تبدیل نہیں ہوتا۔ دین سب کے دَور میں ایک ہی تھا اور وہ اسلام تھا۔ سب سے آخر میں اس کی تکمیل کیلئے اس کو پورے طور پر قوت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنے کیلئے حضرت پیغمبر اسلام محمد مصطفےٰ تشریف لائے۔ اب آپ نے دنیا کے سامنے آکر یہ پیغام جو پہنچایا تو اس کے بنیادی اصول کیا تھے؟ ہر ایک مسلمان کو میں دعوت دیتا ہوں کہ آپ نے کھڑے ہوکر جو کلمہ پڑھوایا، وہ محمد رسول اللہ نہیں تھا۔ یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ :
”قُوْلُوْا مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ“۔
وہ تو ان کے کہنے سے جب اسے پڑھ لیں گے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ مان لیا۔ مگر انہوں نے یہ نہیں کیا ، ان کی آواز تو یہ تھی:
”قُوْلُوْالَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ تُفْلِحُوْا“۔
بالکل جیسے ایک نصیحت کرنے والے کی صدا ہوتی ہے کہ”لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ“، کہو تمہارابھلا ہوگا او رکہو کے یہ معنی نہیں ہیں کہ زبان سے کسی وقت کھڑے ہوکر نعرہ لگا لو، نہیں۔ یہ کہو وہ ہے کہ جیسے آپ کہتے ہیں کہ میرا قول یہ ہے ۔ میں تو اس کا قائل ہوں یعنی تمہارا نقطہ نظر یہ ہونا چاہئے کہ کوئی خدا نہیں ہے، سوائے اللہ کے۔
اگر عرب سے یہ کلمہ پڑھواتے کہ”اللّٰہ اِلٰہٌ “، اللہ خدا ہے تو پورا عرب کلمہ پڑھ لیتا، اس لئے کہ اللہ کو تو وہ مانتے تھے۔ خود قرآن کہہ رہا ہے مگر اللہ کے سوا بھی بہت سوں کو مانتے تھے۔ تو یہاں یہ نہیں کہاجارہا ہے کہ کلمہ پڑھو اللہ الٰہ ہے۔ یعنی فقط اللہ کی دعوت نہیں دی جارہی ہے،یہ نہیں کہاجارہا کہ کہو اللہ خدا ہے۔ کہاجارہا ہے کہ”لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ“کوئی خدا نہیں ہے سوائے اللہ کے،”تُفْلِحُوْا“، تمہارا بھلا ہوگا۔ اب اس وقت کے جاہل عرب کیا سمجھتے کہ بھلا ہوگا تو اس کا ہوگا جس کے رقیبوں کا خاتمہ کریں گے ۔ مگر رسول فرما رہے تھے کہ اللہ کو ایک کہو تو تمہارا بھلا ہوگا ۔ تو اس وقت کے جاہل عرب نہ سمجھے۔ اب نئی روشنی والے تو سمجھیں ، اب بجلی کی روشنی والے تو سمجھیں کہ نوعِ انسانی کا کیا بھلا ہے؟ یاد رکھئے کہ اس وقت دنیا تڑپ رہی ہے دو چیزوں کیلئے، ایک اخوت اور ایک مساوات۔ اخوت کے معنی برادری اور مساوات کے معنی برابری۔ تمام دنیا ان دوچیزوں کیلئے تڑپ رہی ہے اور اس لئے مختلف ”ازم“ چل رہے ہیں۔یہ دولت کی برابر تقسیم کس لئے ہے؟ اسی لئے کہ دولت مند غریب کو دباتا ہے۔ لہٰذا برابر سے تقسیم کردو کہ نہ غریب رہے، نہ فقیر۔ نہ دولت مند رہے، نہ غریب۔ تو سب ایک ہوجائیں۔ سب برابر ہوجائیں۔
مگر ماشاء اللہ صاحبانِ فہم ہیں، تعلیم یافتہ ہیں، میں کہتا ہوں کہ یہ جو علاج تجویز کیا جارہا ہے ، کیا یہ واقعی مرض کا صحیح علاج ہے؟ یاد رکھئے کہ نوعِ انسانی میں تفرقہ اگر دولت اور غربت کاہوتا تو آپ دولت کو برابر تقسیم کرکے سمجھ لیتے کہ مساوات قائم ہوگئی۔ مگر نوعِ انسانی میں تفرقہ فقط دولت کا تو نہیں ہے، بازوؤں کی طاقت میں بھی فرق ہے۔ ایک قوی ہیکل ہوتا ہے، دوسرے لوگ ناتواں ہوتے ہیں۔وجاہت اور اثر میں بھی فرق ہوتا ہے۔ ایک بااثر ہوتا ہے، دوسرے لوگ بے اثر ہوتے ہیں۔ قوم و قبیلے کی کثرت میں بھی فرق ہوتا ہے۔ ایک کا خاندان بڑا ہے، اس کی آواز پر بہت لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں، ایک بیچارہ یوسف ِ بے کارواں ہے، اس کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ دماغی فوقیت میں بھی فرق ہوتا ہے۔ ایک آدمی ذہین ہوتا ہے، باقی لوگ کند ذہن ہوتے ہیں۔ جس طرح دولت مند اپنی دولت سے غریبوں کو دباتا ہے، اسی طرح سے صاحب ِ طاقت اپنے بازوؤں کی قوت سے دوسرے کمزوروں کو دباتا ہے۔ کسی محلہ میں اگر کوئی پہلوان صاحب ہوں تو دیکھئے کہ سب ان کے رحم و کرم پر ہوجاتے ہیں۔ ایک صاحب ِقوم و قبیلہ اپنے قبیلے کی کثرت سے دوسروں کو دباتا ہے۔
ارے کسی زمانہ میں خاندان و قبیلہ ہوتا تھا، اب پارٹی سہی ۔ جس کی پارٹی بڑی ہوتی ہے، وہ ان کو دباتا ہے جن کی پارٹی چھوٹی ہوتی ہے اور دماغی فوقیت! ذہین افراد ایسی سکیمیں بناتے ہیں کہ دوسرے لوگ بیوقوف بن کر ان کے قبضہ میں آجائیں۔ وہ اپنا مطلب پورا کریں۔
تو حضور! دولت تو ہے باہر کی چیز ۔ اسے آپ چھین کر برابر تقسیم کردیں۔ وہ تو دولت کی تصویر حضرت امیرالموٴمنین علیہ السلام فرما چکے ہیں:
”اِنْ کَانَ بَقِیَ لَکَ فَلا تَبْقٰی لَھَا“۔
اگر یہ تمہارے لئے رہ بھی جائے تو تم اس کیلئے نہیں رہو گے“۔
یہ دولت تو چور لے جاتے ہیں، ڈاکو لے جاتے ہیں۔ ہم آپ اگر قانون بنا کر چھین لیں گے تو کارنامہ کیا ہوگا؟ لیکن بازوؤں کی طاقت کا کیا کیجئے گا، اسے بھی کیا طاقتوروں کے بازوؤں سے کھینچ کر کمزوروں کے جسم پر تقسیم کیجئے گا اور خاندان اور قبیلے کا کیا کیجئے گا؟ کیا افرادِ خاندان کو بھی تقسیم کیجئے گا کہ کسی کے حصہ میں باپ چلا جائے، کسی کے حصہ میں بیٹا چلا جائے۔ دماغی فوقیت کا کیا کیجئے گا ؟ کیا اُسے بھی ذہین افراد کے دماغوں سے نکال کر سادہ لوحوں پر ، بھولے بھالوں پر تقسیم کیجئے گا۔ آپ سمجھئے گا کہ برابرسے سب عقلمند ہوگئے اور میں سمجھوں گا کہ سب برابر کے بیوقوف ہوگئے۔ جب یہ سب نہیں ہوسکتا تو دولت کو برابر تقسیم کرکے یہ سمجھ لینا کہ مساوات ہوگئی اور عدالت قائم ہوگئی۔ یہ طفل تسلی نہیں تو کیا ہے؟ اسلام جو نباضِ فطرتِ بشر تھا او رکیوں نہ ہوتا جبکہ خالق بشر کی طرف کا پیغام تھا ۔ اس نے محسوس کیا کہ بیرونی مساوات تو قائم نہیں ہوسکتی ، ارے زمینیں سب برابر نہیں ہوسکتیں، کوئی سخت ہے، کوئی نرم۔ پہاڑ سب برابر نہیں ہیں۔ کوئی اونچا ہے، کوئی نیچا۔درخت سب برابرنہیں ہیں، دریا سب برابر نہیں ہیں۔ کوئی گہرا ہے، کوئی اتھلا۔ تو اسی طرح سے انسانوں میں صلاحیتیں مختلف ہیں، قابلیت مختلف ہے
اور انہی صلاحیتوں کا اختلاف ہے جو دولت و غربت کی شکل میں ابھرا ہے۔
تو خارجی مساوات تو قائم نہیں ہوسکتی لیکن ذہنیت کی تعمیر ایسی کرو کہ ایک بازوؤں کی طاقت والا اپنے بازوؤں کی طاقت کو دوسروں کو دبانے میں صرف نہ کرے بلکہ کمزوروں کا محافظ بن جائے۔ ایک صاحب ِقوم و قبیلہ اپنے قبیلے کی کثرت یا پارٹی کی کثرت سے دوسرے بے نوا افراد کو دبانے کا کام نہ لے بلکہ ان کا پاسبان بن جائے، ان کا حامی بن جائے اور ایک ذہین فرد اپنے ذہن کو تعمیری کاموں میں صرف کرے، تخریبی کاموں میں صرف نہ کرے۔
اگر یہ بات ہوجائے تو ایک فرد کو دی ہوئی اللہ کی نعمت پوری قوم کا سرمایہ بن جائے او رپھر دولت مندی بھی لعنت نہ رہے اور اگر اس ذہنیت کی تعمیر نہیں ہوتی تو لاکھ دفعہ دولت کو برابر سے تقسیم کردیجئے، عدلِ کلی قائم نہیں ہوگا اور ظلم کا خاتمہ نہیں ہوگا۔
لہٰذا یہ ذہنیت بننے کی ضرورت ہے ۔ اب یہ ذہنیت کیونکر بنے۔ اس ذہنیت کو بنانے کی صورت اخوت ہے۔ دنیا مساوات قائم کرکے اخوت لانا چاہتی ہے۔ ذہن میں اخوت پیدا کرو۔ احساسِ اخوت، پھر مساوات کیلئے قانون کے دباؤ کی ضرورت نہ ہوگی۔ خود ذہنیت تعمیر پسند ہوجائے گی۔ تو اب اخوت کیونکر ہو؟ اب جناب یہ اخوت عربی کا لفظ ہے۔ ماشاء اللہ آپ اتنی عربی جانتے ہیں مگر اب اس کو اردو میں کہیں تو بھائی چارہ ، فارسی میں لے جائیں تو برادری۔کتنی دفعہ یہ زبانوں سے آپ کہیں،یہ زبانوں پر آپ کی آئے ۔تقریر کیلئے کھڑے ہوئے۔ ارے روزمرہ کی گفتگو میں بھیا، بھائی صاحب اور پھر تقریر کیلئے کھڑے ہوئے تو وہاں بھی کہاکرتا ہوں کہ بھائیو، بہنو۔ آجکل کے دستور کے مطابق بہنو، بھائیو، چاہے وہ ہو، چاہے یہ، مجھے اس وقت اس سے بحث نہیں ۔ تو یہ بھائی کا لفظ اتنی دفعہ زبان پر آتا ہے لیکن کبھی آپ نے سوچا بھی ہے کہ یہ بھائی ہوتا کیونکر ہے؟
جو میں کہتا ہوں ، دیکھئے اور فرصت کے لمحات میں غور کیجئے۔ مجلس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ بس خوش ہوئے، چلے گئے۔ اپنی جگہ بھی سوچئے، دیکھئے کہ بھائی آخر کیونکر ہوتے ہیں؟ ایک کلیہ میں کہتا ہوں کہ ابھی شاید عربی کے الفاظ اکثریت نہ سمجھیں۔ لیکن جب تشریح کروں گا تو سمجھیں گے کہ جب کوئی کثرتِ وحدت سے منسوب ہو تو اُس کے اجزاء میں برادری بھی پیدا ہوجائے گی، برابری بھی پید اہوجائے گی۔ کثرت کے معنی ایک سے زیادہ ہونا۔ وحدت کے معنی ایک ہونا۔جب کوئی کثرت کسی وحدت سے منسوب ہو، اب مثالوں سے واضح ہوجائے گا۔ یہ سگے بھائی بہن کیوں بھائی بہن ہیں؟ کیونکہ ایک ماں باپ کی اولاد ہیں تو ایک ماں باپ کی اولاد دس ہوئی تو دس بھائی بہن ، پچاس ہوئی تو پچاس بھائی بہن۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ نہ دیکھئے کہ کثرت کتنی بڑ ی ہے۔ یہ دیکھئے کہ وحدت نے کتنوں کو سمو دیا ہے۔
اب ہمارے ہندوستان کے دیہاتوں میں یہ محاورہ ہے ، شاید یہاں بھی ہو کہ کہاجاتا ہے کہ یہ ہماری برادری کے ہیں۔ تو برادری کا کیا مطلب ہے؟ یعنی اپنا ۔ اپنا باپ تو الگ مگر پانچ پشت پر ، چھ پشت پر جاکر کوئی ایک مورثِ اعلیٰ ہے جس کی اولاد میں ہم بھی ہیں اور آپ بھی ۔ مثلاً ماشاء اللہ خواجگان نارووالی سب ایک برادری۔ تواب محسوس کیجئے کہ کتنی ہی دور جاکر ایک کاتصور پید اہو، وہیں سے برادری قائم ہوتی ہے۔
اب جناب! دنیانے اور ترقی کی ، اب یہ خیال پید اہواکہ یہ ہمارے ہم وطن ہیں۔ ہم وطن کے کیا معنی ؟ ایک دیس کے باشندے۔ اس میں کتنا جذب ہوتا ہے کہ پردیس میں کبھی اپنے ہم وطن کو دیکھ لیا تو جب وہاں تھے تو کبھی صاحب سلامت نہ تھی۔ اب دوسرے ملک میں دیکھا تو دل چاہا کہ جائیں او رکچھ اپنی کہیں، کچھ اُن کی سنیں۔ یہ ہوتا ہے جذب ہم وطن ہونے کا۔ ہم وطن ایک معلوم ہوا، ایک کا قدم آیا اور الفت پیدا ہوئی۔ اب دنیا نے اور ترقی کی۔ احساس ہوا سمتوں کا، یہ ایشیا ہے، وہ یورپ ہے۔ یہ مشرق ہے، وہ مغرب ہے۔اب مسائل پر غور ہونے لگا کہ کون مغرب کیلئے زیادہ مفید اور کون مشرق کیلئے زیادہ مفید۔ حالانکہ ملک اپنے الگ الگ ، لیکن چونکہ سمت ِ آفتاب کے لحاظ سے ایک، لہٰذا سب کے مفادات ایک ۔ معلوم ہوتا ہے جیسے دنیا تڑپ رہی ے اُس ایک کیلئے جو زیادہ سے زیادہ افرا د کو ایک بنا سکے۔
مگر یاد رکھئے کہ ہر اتحاد افتراق کا پیش خیمہ ہوتا ہے کیونکہ جب ایک باپ کی اولاد میں ایکا ہوگا تو دوسرے باپ کی اولاد کے مقابلہ میں محاذ ہوگا۔ جب ایک برادری کا ایکا ہوگا تو دوسری برادری کے مقابلہ میں ایکا ہوگا۔ جب ایک ملک والوں میں ایکا ہوگا تو دوسرے ملک والوں کے مقابلہ میں محاذ ہوگا۔ جب ایک سمت والوں میں اتحاد ہوگا تو دوسری سمت والوں کے مقابلہ میں محاذ ہوگا۔کیوں؟ اس لئے کہ اتحاد کی دیواریں عالم انسانیت کے بیچ میں سے کوئی اٹھائی جارہی ہیں۔ لہٰذا ہر دیوار اِدھر والوں کو ایک کرتی ہے، اُدھر والوں سے جدا کرتی ہے۔
اسلام جو کہ ایک عالمگیر برادری کا پیغام لے کر آیا تھا، اس نے یہ کام کیا کہ درمیان کی اتحادکی دیواروں کو ڈھاکر اور ڈھاکرنہیں تو بلند مقاصدکیلئے نظر اندا زکرکے ایک ایسا احاطہ اتحاد قائم کیا جائے جس میں نہ نسل کی تفریق ہو ، نہ رنگ کی تفریق ہو۔ نہ ملک کی تفریق ہو اور آخر میں جس میں سمت کی تفریق بھی نہ ہو اور وہ خدائے واحد کا ایکا ہے۔ اب کسی بھی مذہب و ملت کا آدمی ہو، میں اس کے سامنے کہتا ہوں کہ کونسی منطق ہے کہ ایک باپ کی اولاد بھائی بھائی ہوگئی ۔ ایک مورثِ اعلیٰ کی نسل کے آدمی بھائی بھائی ہوگئے۔ ایک دیس کے باشندے بھائی بھائی ہوگئے۔ایک سمت کے رہنے والے بھائی بھائی ہوگئے تو ایک خدا کے پیدا کئے ہوئے بھائی بھائی کیوں نہ ہوئے؟
مگر یاد رکھئے کہ بھائی کے حقوق فقط وہی سمجھے گاجو باپ کو یاد رکھے۔ جو باپ کو بھول جائے تو بھائی کے حقوق کیسے؟ اب سمجھ میں آیا کہ اسلام نے پوری طاقت اس پر کیوں صرف کردی کہ اللہ کو ایک مانو اور یاد رکھئے کہ یہ مقصد صرف اللہ کے ماننے سے پورا نہیں ہوسکتا۔ جب تک کہ اُسے ایک ہی نہ مانا جائے، اس لئے یہ کہا:
”قُوْلُوْالَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ“۔
”کہو کہ کوئی خدا نہیں سوا ئے اللہ کے“۔
پس ایک جملہ کہہ کر آگے بڑھوں گا ، صرف اس جملے کو یاد رکھئے تو پورا بیان یاد رہے گا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ توحید خالق کا پیغام ، اتحاد خلائق کا سنگ ِ بنیاد ہے اور اب اس کے ذیل میں اشارتاً کہہ چکا کہ اگر کلمہ پڑھوایا جاتا”اللّٰہ اِلٰہٌ“، اللہ خدا ہے تو پورا عرب کلمہ پڑھ لیتا مگر یہاں اللہ کو اِلٰہ کہنے سے مسلمان نہیں ہوتا ۔ یہاں تو یہ ہے”لااِلٰہ اِلَّااللّٰہ“۔
وہ اللہ کو مانتے تھے۔ قرآن میں ہے اور ان سے عام طو رپر میں کہہ دوں جو تین سو ساٹھ کو مانتے تھے، ان کیلئے تین سو اکسٹھ کو ماننے میں کیا عذر تھا؟ یہاں ایک سادہ سا اُردو کا جملہ کہتا ہوں، الٹ پھیر سے مطلب میں فرق ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ایک خدا کے ماننے میں عذر نہ تھا، خدا کو ایک ماننے میں عذر تھا۔یہی قرآن کہہ رہا ہے:
”اَجَعَلَ اَلِھَۃَ اِلَہً وَاحِدًااِنَّ ھٰذَالَشَیٴ عُجَابْ“۔
انہوں نے بہت سے خداؤں کو ایک کردیا۔ یہ عجیب بات ہے“۔
بس وہ نفی ان کیلئے بہت دشوار تھی۔ تو اب میں ایک حقیقت کی طرف توجہ دلاؤں گا کہ قربانیاں جو رسول نے اتنی پیش کیں، وہ ”اِلَّا“ کے بعد جو اللہ ہے، اس کی راہ میں نہیں ہیں بلکہ”اِلَّا“ سے پہلے جو اِلٰہ ہے، اس کی راہ میں تمام قربانیاں ہیں۔ پورا جہادِ پیغمبر اس کے لئے ہے اور اب خواجہ غریب نواز کے ایک شعر کے معنی سمجھ میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا:

حقا کہ بنائے لاالٰہ است حسین

آجکل لوگ ہر ایک پر اعتراض کردیتے ہیں کہ انہوں نے لااِلٰہ کیا کہا؟ لااِلٰہ اکیلا تو کلمہ کفر ہے۔ لااِلٰہ کی بنیاد بنا دیا حالانکہ فقط ان بیچارے نے تو نہیں کہا تھا۔ ڈاکٹر اقبال صاحب نے بھی تو کہا:

پس بنائے لا اِلٰہ گردیدہ است

انہوں نے بھی تو آدھا لیا۔ پس بنائے لااِلٰہ گردیدہ است تو وہ تو چھ صدی پہلے تھے۔ یہ تو ابھی کل تھے اور زندہ۔ گویا اپنی نیک نامی کے لحاظ سے زندہ شاعر ہیں۔ تو جناب! ان کے ہاں ہیں یہ الفاظ”پس بنائے لااِلٰہ گردیدہ است“۔ تو لوگ یوں بھی کہہ دیتے ہیں کہ صاحب وہ تو شعر کی مجبوری تھی کہ پورا کلمہ موزوں نہیں ہوتا تھا۔ تو کسی صاحب نے کہا ضرورتِ شعری سے میں نے کہا ہے ۔ کسی نے کہا کہ شعر کہنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ تو میں نہیں مانتا۔ ہاں! ضرورتِ شعر بھی ہے لیکن ضرورتِ شعر کفر کو ایمان نہیں بناسکتی۔ ایک کلمہ کفر کو کلمہ ہدایت نہیں بناسکتی۔ تو یہ نہیں ہے۔
میں کہتا ہوں کہ ۶۰ھ میں بھی لااِلٰہ خطرہ میں نہیں تھا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ مسجدیں تو آباد تھیں،اذانیں ہورہی تھیں۔ خانہٴ کعبہ میں حج تو ہورہے تھے۔ وی لااِلٰہ جس کیلئے رسول نے قربانیاں پیش کیں، وہی لااِلٰہ خطرہ میں تھا۔ جب دنیا پتھر کے بتوں کو پوج رہی تھی، اب گوشت پوست سے بنیا ہوا یزید حکمِ الٰہی کے خلاف لوگوں سے اپنی اطاعت لے رہا تھا۔ حقیقت میں وہی لااِلٰہ خطرہ میں تھا اور حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی جو اتنی قربانیاں پیش کیں، وہ اسی لااِلٰہ کی خاطر تھیں۔
اب کوئی کہتا ہے کہ قربانیوں کا نتیجہ کیا ہوا؟ میں آنکھوں سے دکھا سکتا ہوں اور آپ کے موچی دروازے کے باہر وہ شاندار حسین ڈے ہوا تھا جو دونوں حکومتوں کے اہتمام سے ہوا تھا۔ حکومت ِ ہند نے بھی اس میں حصہ لیا تھا اور حکومت ِ پاکستان نے بھی۔ ان دونوں ملکوں کے تعلقات قریب لانے کیلئے ہوا تھا۔ کاش! اس نسخے کو چھوڑا نہ گیا ہوتا تو مستقل طور پر تعلقات خوشگوار ہوجاتے۔ تواس میں مَیں نے ، بعض حضرات ایسے ہوں گے جو اس میں موجود تھے، اس میں ہر مکتب ِ خیال کے علماء موجود تھے اور آپ کو تو یاد ہوگا کہ سٹیج اس کا اتنا بڑا تھا جتنا یہ ہمارا ھال ہے۔اس میں تمام مذاہب کے علماء موجود تھے اور جب علماء ہر مذہب کے موجود تھے تو ہر نقطہ نظر کے مسلمان موجود تھے۔
تو میں نے اس پورے مجمع سے پوچھا تھا کہ بتاؤ آج یزید جیسا کوئی شخص رسول کا جانشین ہونے کا دعویٰ کرے تو مانو گے؟ اور
حد ِ نظر کے سامنے جتنا مجمع تھا، سب چیخ اٹھا تھا کہ ہرگز نہیں مانیں گے۔ میں نے کہا تھا کہ ۶۰ھ میں مان رہے تھے۔ میں نے سب علماء کو گواہ کیا۔ ان سے پوچھ لیجئے ۶۰ھ میں تمام مسلمان مان رہے تھے۔ اگر نہ مان رہے ہوتے تو تاریخ شمار کرکے کیوں بتاتی کہ کس کس نے نہیں مانا؟ یہ تاریخ کا شمار کرلینا بتاتا ہے رسول کے اتنے بعد ۶۰ ھ میں صرف پچاس برس بعد سب مان رہے تھے یزید جیسے شخص کواور آج تیرہ چودہ سو برس گزرنے کے بعد آپ نہیں مان رہے ۔
تو ماننا پڑے گا کہ حسین نے اپنے خونِ ناحق سے بیہوش احساساتِ اسلامی پر جو چھینٹا ڈالا تھا، وہ مٹنے پر بھی آج تک اس طرح باقی ہے اور اس طرح ، بس ایک جملہ کہوں، وہ بھی یاد رکھنے کا ہے اور اس کے بعد آگے بڑھوں گا مصائب کی طرف آؤں گا کہ حضورِ والا! حضرت امام حسین علیہ السلام نے صرف اس یزید کے مقابلہ میں فتح حاصل نہیں کی جو ایک خاص باپ کا بیٹا تھا ، جو ایک خاص شہر کے تخت پر متمکن تھا، اس یزید کے مقابلہ میں فتح حاصل نہیں کی ہے بلکہ قیامت تک ہریزید کے مقابلہ میں فتح حاصل کی ہے۔